وَإِنْ مَاتَتْ فِيْهَا فَأْرَةٌ أَوْ عُصْفُوْرَةٌ أَوْ صُدَانِيَّةٌ أَوْ صَعْوَةٌ أَوْ سَامُّ أَبْرَصَ نُزِحَ مِنْهَا عِشْرُوْنَ دَلْوًا إِلَى ثَلَاثِيْنَ بِحَسَبِ كِبَرِ الدَّلْوِ وَصِغَرِهَا، يَعْنِي بَعْدَ إِخْرَاجِ الْفَأْرَةِ، لِحَدِيْثِ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْفَأْرَةِ إِذَا مَاتَتْ فِي الْبِئْرِ وَأُخْرِجَتْ مِنْ سَاعَتِهِ يُنْزَحُ مِنْهَا عِشْرُوْنَ دَلْوًا۔ کنویں کے مسائل چل رہے ہیں۔ آج آپ کو بتلا رہے ہیں: ”وَإِنْ مَاتَتْ فِيْهَا فَأْرَةٌ أَوْ عُصْفُوْرَةٌ“ اگر مر جائے کنویں کے اندر ”فَأْرَةٌ“، ”فَأْرَةٌ“ کہتے ہیں چوہے کو بھئی۔ ”عُصْفُوْرَةٌ“ چڑیا بھئی، چڑیا۔ ”صُدَانِيَّةٌ“ یہ بھی ایک قسم کی چڑیا ہے لیکن یہ جو عام چڑیا ہوتی ہے اس سے کچھ چھوٹی ہوتی ہے بھئی۔ ”أَوْ صَعْوَةٌ“ یہ بھی ایک قسم کی چڑیا ہے لیکن یہ جو عام چڑیا ہے اس سے معمولی سی بڑی ہوتی ہے بھئی، ”صَعْوَةٌ“۔ ”أَوْ سَامُّ أَبْرَصَ“ میم مشدد ہے بھئی، اور جز ثانی جو ہے وہ غیر منصرف۔ ”أَوْ سَامُّ أَبْرَصَ“، سام ابرص یہ چھپکلی کی ایک قسم ہے بھئی۔ چھپکلی کی ایک قسم ہے، یہ جو گھروں میں عام چھپکلی پائی جاتی ہے اس سے معمولی سی بڑی ہوتی ہے۔ وہ وہ خاص نوع ہے، خاص قسم ہے اس کو سام ابرص کہتے ہیں عربی میں بھئی۔ تو صاحب قدوری فرما رہے ہیں کہ اگر کنویں کے اندر چوہا گر کر مر جائے یا چڑیا مر جائے ”أَوْ صُدَانِيَّةٌ أَوْ صَعْوَةٌ“ یا یہ اس جو چڑیا کی دو قسمیں یہ، ”أَوْ سَامُّ أَبْرَصَ“ یا یہ جو چھپکلی کی قسم ہے یہ گر کر مر جائے ”نُزِحَ مِنْهَا عِشْرُوْنَ دَلْوًا إِلَى ثَلَاثِيْنَ“ تو نکالے جائیں گے اس کنویں سے بیس ڈول سے لے کر تیس تک ”بِحَسَبِ كِبَرِ الدَّلْوِ وَصِغَرِهَا“ بڑے اور چھوٹے ڈول کے اعتبار سے بھئی۔ یعنی اگر بڑے ڈول ہیں کنویں پر تو پھر بیس ڈول نکال لیے جائیں اور اگر چھوٹے ہیں تو پھر کتنے نکال لیں گے؟ تیس ڈول تک نکال لیں گے بھئی۔ ”يَعْنِي بَعْدَ إِخْرَاجِ الْفَأْرَةِ“ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ چوہا نکالنے کے بعد۔ بھئی وہ چیز جو گری ہے کنویں کے اندر وہ جانور اور جس کی وجہ سے یہ پانی نکالنے کا حکم دیا گیا تو پہلے اس نجاست کو نکالا جائے گا، اس جانور کو نکالا جائے گا اور پھر اس کے بعد یہ بیس یا تیس ڈول نکالے جائیں گے بھئی، بیس یا تیس ڈول۔ اور اگر وہ چوہا یا چڑیا وغیرہ نکالنے سے پہلے بیس یا تیس ڈول نکالے تو یاد رکھیے ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ پہلے اس کو نکالیں گے اور اس کے بعد پانی نکالا جائے گا۔ اور دلیل اس کی کہہ رہے ہیں: ”لِحَدِيْثِ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْفَأْرَةِ إِذَا مَاتَتْ فِي الْبِئْرِ وَأُخْرِجَتْ مِنْ سَاعَتِهِ“، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے کہ وہ فرماتے ہیں اس چوہے کے بارے میں جب وہ مر جائے کنویں کے اندر اور نکال لیا جائے ”مِنْ سَاعَتِهِ“ اسی گھڑی کے اندر بھئی۔ اسی فوراً ہی کو فوراً ہی کیا کر لیا گیا اسے؟ نکال لیا گیا۔ اس اس بارے میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ”يُنْزَحُ مِنْهَا عِشْرُوْنَ دَلْوًا“ کہ اس سے کتنے ڈول نکالے جائیں گے؟ بیس ڈول بھئی۔ تو حدیث کے اندر تو صرف چو چوہے کے بارے میں ذکر ہوا، تو پھر یہ چڑیا وغیرہ ان کا حکم؟ تو وہ صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہتے ہیں: ”وَالْعُصْفُوْرَةُ وَنَحْوُهَا تُعَادِلُ الْفَأْرَةَ فِي الْجُثَّةِ“ کہ چڑیا اور اس جیسی جو چیزیں ہیں جو اوپر ذکر ہوئیں ”تُعَادِلُ الْفَأْرَةَ“ وہ چوہے کے برابر ہیں ”فِي الْجُثَّةِ“ کس کے اندر؟ جث جثہ کے اندر یعنی جسامت کے اندر ”فَأَخَذَتْ حُكْمَهَا“ تو انہوں نے اسی کا حکم لے لیا۔ یعنی یہ بھی اسی حکم کے اندر ہیں تو ان میں بھی اسی لیے ہم نے کہا کہ ان میں بھی اتنے ہی ڈول نکالے جائیں گے۔ ”وَالْعِشْرُوْنَ بِطَرِيْقِ الْإِيْجَابِ وَالثَّلَاثُوْنَ بِطَرِيْقِ الِاسْتِحْبَابِ“ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ بیس ڈول جو ہیں وہ ایجاب کے طریقے پر ہیں اور تیس ڈول جو ہیں وہ استحباب کے طریقے پر ہیں۔ یعنی بیس ڈولوں کا نکالنا تو واجب ہے اور تیس نکال لے تو بہتر ہے، مستحب ہے بھئی۔ یاد رکھیے یہ جو چوہے وغیرہ کا ذکر آیا اس میں یہ ضروری ہے کہ چوہے پر کوئی اس کے بدن پر کوئی نجاست وغیرہ نہ لگی ہوئی ہو بھئی۔ اگر اس کے بدن پر کوئی نجاست لگی ہوئی ہے یا مثلاً وہ بلی اس کے پیچھے دو بھاگ رہی ہے اور اس کا بدن زخمی ہے بھئی، یا ویسے ہی بدن زخمی ہے اور خون لگا ہوا ہے اور وہ پانی کے اندر گر گیا تو یاد رکھیے اس صورت میں بیس یا تیس ڈول کا حکم نہیں ہے بلکہ پھر سارا پانی نکالنا پڑے گا، تفصیل آگے آ رہی ہے بھئی۔ تو یہ اس صورت میں جب بدن پر کوئی نجاست ان کے نہ لگی ہو۔ اور نیز فقہاء فرماتے ہیں بھئی کہ چوہا بلی سے ڈر کر نہ بھاگا ہو بھئی۔ کیونکہ اگر بلی سے ڈر کر بھاگا ہے تو پھر یقیناً وہ پانی میں گرا اور بلی سے ڈر کر بھاگا ہے خوف کی حالت میں ہے تو وہ ضرور پانی میں پیشاب کر دے گا بھئی، تو لہٰذا اس صورت میں کیا کرنا پڑے گا؟ سارا پانی نکالنا پڑے گا بھئی۔ ”فَإِنْ مَاتَتْ“، اب چوہے وغیرہ سے جو بڑے جانور ہیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ”فَإِنْ مَاتَتْ فِيْهَا حَمَامَةٌ أَوْ نَحْوُهَا“ اگر کنویں میں گر کر مر جائے کبوتر ”أَوْ نَحْوُهَا“ یا اس جیسا کوئی پرندہ، جانور وغیرہ ”كَالدَّجَاجَةِ“ جیسے کہ مرغی ہے ”وَالسِّنَّوْرِ“ اور بلی ہے ”نُزِحَ مِنْهَا“ تو نکالے جائیں گے اس کنویں سے ”مَا بَيْنَ أَرْبَعِيْنَ دَلْوًا إِلَى سِتِّيْنَ“ چالیس سے لے کر ساٹھ ڈول تک بھئی۔ چالیس سے لے کر ساٹھ ڈول تک نکالے جائیں گے۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيْرِ أَرْبَعُوْنَ أَوْ خَمْسُوْنَ“ اور جامع صغیر کے اندر آیا ہے کہ چالیس یا پچاس نکل ڈول نکالے جائیں گے بھئی۔ متن میں تو کیا آیا چالیس سے ساٹھ، جبکہ جامع صغیر کے اندر چالیس سے (یرحمک اللہ) چالیس سے پچاس کا ذکر آیا ہے ”وَهُوَ الْأَظْهَرُ“ اور یہ قول زیادہ ظاہر ہے۔ جو جامع صغیر کے اندر آیا بھئی، یہ زیادہ ظاہر اس لیے کیونکہ یہ امام محمد رحمہ اللہ کی آخری تصنیف ہے۔ آخری تصنیف ہے۔ معلوم ہوا اس قول کی طرف انہوں نے رجوع کیا ہے آخر میں بھئی۔ تو لہٰذا یہ قول زیادہ ظاہر ہے۔ اور دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ یہ کبوتر، بلی وغیرہ کے اندر چالیس ڈول چالیس یا پچاس ڈولوں کا ذکر جو آیا اس کی کیا وجہ ہے؟ دلیل کہتے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے ”أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَاجَةِ“ کہ انہوں نے فرمایا مرغی کے بارے میں ”إِذَا مَاتَتْ فِي الْبِئْرِ“ جب وہ مر جائے کنویں کے اندر، اب وہ آگے حدیث کے ان کا الفاظ آ رہے ہیں قول ان کا، کہ ”يُنْزَحُ مِنْهَا أَرْبَعُوْنَ دَلْوًا“ اس کنویں سے چالیس ڈول نکالے جائیں گے۔ حدیث میں چالیس ڈولوں کا ذکر آیا اور جامع صغیر میں کتنا آیا تھا؟ چالیس یا پچاس۔ تو صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں ”هَذَا لِبَيَانِ الْإِيْجَابِ“ یہ جو حدیث میں چالیس ڈول آئے یہ ایجاب کے بیان کے لیے ہیں، یعنی چالیس ڈول نکالنا واجب ہیں ”وَالْخَمْسُوْنَ بِطَرِيْقِ الِاسْتِحْبَابِ“ اور پچاس ڈول جو ہیں وہ استحباب کے طریقے پر ہیں یعنی مستحب ہے ان کا نکالنا۔ ”ثُمَّ الْمُعْتَبَرُ فِي كُلِّ بِئْرٍ دَلْوُهَا الَّذِي يُسْتَقَى بِهِ يُسْتَقَى بِهِ مِنْهَا“ پھر جو ہے معتبر جو ہے ہر کنویں کے اندر اس کا وہ ڈول ہے ”الَّذِي يُسْتَقَى بِهِ“ کہ جس کے ذریعے پانی نکالا جاتا ہے ”مِنْهَا“ اس کنویں سے۔ تو یاد رکھیے ہر کنویں کے اندر اسی کے ڈول کا اعتبار ہے۔ جس کنویں پر جو ڈول استعمال ہوتا ہے اسی کے ساتھ چالیس یا پچاس ڈولوں کا حساب کیا جائے گا بھئی۔ ”وَقِيْلَ“ اور کہا گیا یہ دوسرا قول ذکر کر رہے ہیں لیکن ”قِيْلَ“ کے ساتھ ذکر کیا اس کے ضعف کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ ضعیف قول ہے۔ ”وَقِيْلَ“ اور کہا گیا ہے ”دَلْوٌ يَسَعُ فِيْهِ صَاعٌ“ ایسا ڈول ”يَسَعُ فِيْهِ صَاعٌ“ کہ گنجائش ہو جس کے اندر ایک صاع کی۔ ”يَسَعُ فِيْهِ“ کہ اس میں گنجائش ہو۔ یا یوں ترجمہ کر لیں: ”دَلْوٌ يَسَعُ فِيْهِ صَاعٌ“ ایسا ڈول کہ جس میں سماتا ہو صاع بھئی، جس میں ایک صاع سماتا ہو بھئی۔ صاع کا یہاں ذکر آیا بھئی، صاع بھئی۔ یہ اوزان شرعیہ وغیرہ اور شرعی مقداریں جو مختلف چیزوں کے اندر بیان ہوتی ہیں ان کا آپ کو علم ہونا چاہیے بھئی، علم ہونا چاہیے۔ یاد رکھیے صاع جو ہیں تین قسم کے ہیں بھئی، تین قسم کے۔ ایک صاع ہاشمی کہلاتا ہے، ایک صاع حجازی کہلاتا ہے، اور ایک صاع عراقی کہلاتا ہے، اور تینوں کی مقداریں مختلف ہیں بھئی۔ تینوں کی مقداریں مختلف ہیں بھئی۔ یاد رکھیے صاع ہاشمی جو ہے وہ بتیس رطل کا ہوتا ہے۔ بتیس رطل، را، طا، لام۔ را، طا بھئی، طا، ظا۔ را، طا، لام، رطل۔ صاع ہاشمی کتنا ہے؟ بتیس رطل کا ہے۔ اور صاع حجازی جو ہے، صاع حجازی جو ہے، پانچ رطل اور ثلث رطل کا ہے۔ صاع حجازی، پانچ رطل اور ثلث رطل، یعنی رطل کا تیسرا حصہ، یعنی سوا پانچ سے کچھ زائد بھئی، سوا پانچ رطل سے کچھ زائد ہوتا ہے صاع حجازی۔ اور صاع عراقی جو ہے، یہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے بھئی، آٹھ رطل بھئی۔ اور یہ ہے صاع حنفی بھئی۔ یہ کیا ہے؟ صاع حنفی بھئی۔ دراصل علماء میں اختلاف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ کے اندر کون سا صاع رائج تھا بھئی۔ صاع کا ذکر تو آتا ہے لیکن صاع تو مقدار ہے اور یہ دو تین قسم کے ہیں تو کون سا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا بھئی؟ تو عند الاحناف یہ صاع عراقی رائج تھا بھئی۔ جبکہ اور علماء دوسرے صاع کے بھی بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ رائج تھے، تو البتہ احناف کے نزدیک یہ صاع مراد ہے۔ اب یہاں پر رطل کا ذکر آیا بھئی۔ بھئی میں نے یہ تو ذکر کر دیا صاع عراقی آٹھ رطل کا ہے، لیکن آپ کو ابھی بھی پتہ نہیں چلا ہوگا یہ پہلے پتہ تو چلے رطل کتنا ہوتا ہے۔ یاد رکھیے رطل برابر ہے پونے چونتیس تولے بھئی، پونے چونتیس تولے، یعنی اگر ہندسوں میں لکھنا چاہیں 33.75 تولے۔ پونے چونتیس تولے۔ اور دو رطل ہوں تو یہ بنتا ہے ایک مد بھئی۔ میم، دال بھئی، میم پر پیش ہے، مد۔ دو رطل برابر ہیں ایک مد کے۔ اور چار مد ہوں تو یہ بنتا ہے ایک صاع۔ اور یہ برابر ہے یہ ایک صاع جو ہے برابر ہے دو سو ستر تولے بھئی۔ یہ صاع برابر کتنے کے ہو گیا؟ دو سو ستر تولے۔ اور آج کل کے وزن کے اعتبار سے یہ بنتا ہے تین سیر چھ چھٹانک بھئی۔ یہ صاع کی بات ہو رہی ہے۔ چار مد برابر کتنے کے؟ ایک صاع، اور یہی ایک صاع جو ہے یہ کتنا ہے؟ دو سو ستر تولے، اور یہی آج کل کے اعتبار سے کتنا ہے وزن؟ آج کل کا ہمارے ہاں سیر رائج ہے تو یہ کتنے سیر ہوا؟ تین سیر چھ چھٹانک، یعنی یوں کہو تین سیر ڈیڑھ پاؤ بھئی، تین سیر ڈیڑھ پاؤ، یہ ہے ایک صاع کی مقدار بھئی۔ جی؟ چار مد وہی صاع ہے نا۔ چار مد وہی صاع ہے۔ مد کے اندر کہیں گے صاع کو کہیں گے چار مد ہے۔ تولوں میں کوئی پوچھے تو کہیں دو سو ستر تولے ہے۔ سیروں میں کوئی پوچھے تو کہو تین سیر ڈیڑھ پاؤ ہے، یہ ساری صاع ہی کی مقدار ہے بھئی صاع کی مختلف اعتبارات سے۔ اور یاد رکھیے ساٹھ صاع ہوں تو یہ ایک وسق بنتا ہے۔ واؤ، سین، اور قاف دو نقطوں والا، وسق بھئی۔ یہ بڑا پیمانہ ہے بھئی چیزوں کے پیمائش کا بڑا پیمانہ ہے، وسق بھئی۔ ساٹھ صاع ہوں تو ایک وسق بنتا ہے۔ تو وسق کتنا ہوا؟ ساٹھ صاع میں۔ اور آج کل سیروں کے اعتبار سے اگر حساب لگائیں صاع کا وسق کا وسق، ایک وسق برابر ہے پانچ من اڑھائی سیر بھئی۔ پانچ، بھئی چالیس سیر ہو تو ایک من بنتا ہے، تو وسق کی مقدار میں بیان کر رہا ہوں منوں کے اندر بھئی۔ وسق کتنا ہے؟ پانچ من اڑھائی سیر، ڈھائی سیر کہہ لیں، پانچ من ڈھائی سیر۔ اور بارہ وسق ہوں تو یہ بنتا ہے ایک کر بھئی۔ ایک کر، کاف چھوٹا اور را مشدد، ”كُرٌّ“، ”كُرٌّ“، بارہ وسق ہیں بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے ایک سیر برابر ہوتا ہے اسی تولے کے بھئی۔ تو میں نے آپ کو بتایا ایک صاع برابر ہے کتنے کے؟ دو سو ستر تولے کے برابر ہے، دو سو ستر تولے کے برابر۔ یہ وہ صاع حنفی کی بات ہو رہی ہے یعنی صاع عراقی کی بات ہو رہی ہے، باقیوں کا آپ کو پتہ چل گیا۔ صاع عراقی کتنا ہے؟ آٹھ رطل کا، اور صاع ہاشمی کتنا ہے؟ بتیس رطل کا، یعنی چار گنا بڑا ہے اس سے چار گنا، اور صاع حجازی وہ تقریباً پانچ رطل اور ثلث رطل یعنی سوا پانچ رطل سے کچھ زائد ہے، معلوم ہوا یہ سب سے چھوٹا صاع ہے۔ تو علماء کا اختلاف ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کون سا صاع رائج تھا مدینہ منورہ کے اندر؟ بعض علماء صاع ہاشمی کی طرف گئے ہیں، بعض علماء صاع حجازی کی طرف گئے ہیں لیکن عند الاحناف بھئی راجح قول یہ ہے کہ کون سا؟ احناف کے نزدیک اس زمانے میں وہ صاع عراقی رائج تھا بھئی، صاع عراقی رائج تھا۔ اور آج کل آپ کے ہاں کلو رائج ہے، کلو۔ تو میں نے سیر کی بات کی کہ ایک صاع برابر ہے تین سیر ڈیڑھ پاؤ۔ اگر کلو میں کرنا چاہیں کلو میں تو اس کا بھی آپ حساب لگا سکتے ہیں کیونکہ ایک تولہ برابر ہوتا ہے گیارہ اعشاریہ چھ چھ تین آٹھ گرام کے۔ ایک تولہ برابر ہے گیارہ اعشاریہ چھ چھ تین آٹھ گرام بھئی، گرام۔ بھئی آپ کو حساب کی بھی ایک قیمتی بات بتاؤں بھئی، یاد رکھنا یہ جو اعشاریہ کے بعد ہندسے ہوتے ہیں ان کو الگ الگ بولا جاتا ہے۔ گیارہ اعشاریہ چھیاسٹھ اس کو اگر کوئی پڑھے تو غلط پڑھتا ہے بھئی۔ تو اس کو کیسے پڑھیں گے؟ گیارہ اعشاریہ چھ چھ تین آٹھ بھئی۔ گیارہ اعشاریہ چھ چھ تین آٹھ۔ تو لہٰذا اعشاریہ کے بعد ہندسے الگ الگ پڑھے جاتے ہیں، ملا کر بھی بعض لوگ پڑھتے ہیں وہ غلط ہے۔ بھئی اس اعتبار سے تو وہ یوں پڑھے گا گیارہ اعشاریہ چھ ہزار چھ سو اڑتیس، حالانکہ اس طرح پڑھنا غلط ہے بھئی، اور عام لوگ کثرت سے یہ غلطی کرتے ہیں بھئی۔ اچھا، تولہ گیارہ اعشاریہ چھ چھ تین آٹھ گرام کے برابر ہوا۔ تو اب آپ حساب لگا رہے تھے کس کے اندر؟ کلو کے اندر، کلو کے اندر۔ یاد رکھیے کلو جو ہوتا ہے وہ ایک ہزار گرام کا ہوتا ہے بھئی، ایک ہزار گرام کا۔ اب آپ آسانی سے حساب لگا سکتے ہیں۔ بھئی ایک صاع میں ہیں دو سو ستر تولے (یرحمک اللہ)، ایک صاع میں کتنے تولے ہیں؟ دو سو ستر تولے۔ دو سو ستر کو گیارہ اعشاریہ چھ چھ تین آٹھ سے ضرب دیں تو گراموں کے اندر صاع کا وزن آپ کے پاس آ جائے گا۔ کسی کے پاس کیلکولیٹر ہے تو جلدی کرے بھئی۔ دو سو ستر کو ضرب دیں، دو سو ستر تولے ہیں نا، اور ایک تولہ گیارہ اعشاریہ چھ چھ تین آٹھ کے برابر ہے تو دو سو ستر تولے کو اس کے ساتھ دو سو ستر کو ضرب دے دیں گے تو کتنا جواب آیا؟ تین ہزار ایک سو انچاس اعشاریہ دو دو چھ بھئی۔ یہ گرام آ گئے۔ تو تین ہزار ایک سو، معلوم ہوا تین کلو پورے ہیں۔ تین کلو پورے اور ایک سو انچاس اعشاریہ دو دو پانچ، یہ ایک سو انچاس تو اگر دو سو پچاس ہوتا تو یہ پاؤ ہوتا تو یہ تقریباً آدھے پاؤ کے برابر ہے، آدھے پاؤ کے تھوڑا سا زیادہ۔ تو تین کلو اور آدھے پاؤ کے قریب قریب یہ ایک صاع ہوتا ہے بھئی، ایک صاع۔ سیروں میں تھا تین سیر ڈیڑھ پاؤ اور کلو کے اندر تین کلو اور آدھ پاؤ تقریباً بھئی، آدھ پاؤ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اوزان آپ کو یاد ہونے چاہئیں بھئی، اور اس میں آپ نے دیکھا تو وسق کا بھی ذکر آیا۔ بعض جگہ وسق کا لفظ آتا ہے، قدیم پیمانے ہیں، اس کا بھی آپ کو پتہ چل گیا کہ یہ ساٹھ صاع کے برابر ہے اور آج کل کے اعتبار سے جو سیر رائج ہے پانچ من اڑھائی سیر یہ وزن بنتا ہے، اور سب سے بڑا پیمانہ جو ذکر ہوا وہ ”كُرٌّ“ ذکر ہوا۔ آپ نے نحو کی کتابوں میں پڑھا ہوگا: ”اَلْبُرُّ الْكُرُّ بِسِتِّيْنَ دِرْهَمًا“ بھئی، ”اَلْبُرُّ الْكُرُّ بِسِتِّيْنَ دِرْهَمًا“ کہ گندم جو ہے بُرٌّ گندم کو کہتے ہیں، گندم جو ہے ”اَلْكُرُّ مِنْهُ“ (یرحمک اللہ) ”اَلْكُرُّ مِنْهُ“ اس میں سے ایک کر، ایک کر پیمانہ جو ہے ”بِسِتِّيْنَ دِرْهَمًا“ وہ کتنے کے بدلے میں ہے؟ ساٹھ درہم کے بدلے ہے یعنی ساٹھ درہم کا ہے وہ بھئی۔ جی، دیکھیے بھئی اب کتاب پر: ”وَقِيْلَ دَلْوٌ يَسَعُ فِيْهِ صَاعٌ“ اور کہا گیا ہے ایسا ڈول کہ جس میں گنجائش ہو ایک صاع کی۔ ”وَلَوْ نُزِحَ مِنْهَا بِدَلْوٍ عَظِيْمٍ مَرَّةً مِقْدَارُ عِشْرِيْنَ دَلْوًا جَازَ لِحُصُوْلِ الْمَقْصُوْدِ“ صاحب ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ اگر ایک ہی بڑے ڈول کے ذریعے یہ مقدار نکال دی جائے تو بھی کافی ہے کیونکہ مقصود حاصل ہو گیا۔ مقصد کیا تھا مثلاً؟ بیس ڈول یا چالیس ڈول جتنے بھی نکالنا تھے وہ نکالنا مقصد تھا، تو اب اگر بڑا ڈول ڈالا اور اس بڑے ڈول کے اندر وہ اتنا بڑا ہے کہ ایک ہی ڈول کے اندر وہ عام استعمال والے چالیس ڈول آ جاتے ہیں تو وہ بڑا ڈول ایک ہی مرتبہ بھر کر نکال لیا جائے تو کنواں پاک ہو جائے گا کیونکہ مقصود حاصل ہو گیا۔ مقصد کیا تھا؟ چالیس ڈول کی مقدار پانی نکالنا اور وہ پانی ایک ہی مرتبہ میں نکال لیا بھئی، وہ نکل آیا تو کنواں پاک ہوا۔ یہ معنی ہے ”وَلَوْ نُزِحَ مِنْهَا بِدَلْوٍ عَظِيْمٍ“ اور اگر نکالا گیا کنویں سے بھئی بڑے ڈول کے ساتھ ”مَرَّةً“ ایک ہی مرتبہ میں، کیا نکالا گیا؟ ”مِقْدَارُ عِشْرِيْنَ دَلْوًا“ بیس ڈول کی مقدار ”جَازَ“ تو یہ بھی جائز ہے ”لِحُصُوْلِ الْمَقْصُوْدِ“ کیونکہ مقصود کیا ہوا؟ مقصد حاصل... مقصد کیا تھا؟ چالیس ڈول نکالنا اور وہ مقصد پورا ہو گیا۔ اور یہ بھی یاد رکھیے، اکٹھے نکالنا بھی نہیں ضروری بھئی۔ اگر متفرق طور پر بھی نکل جائیں بیس ڈول تو کنواں پاک ہو جائے گا۔ دو ڈول آپ نے ابھی نکال لیے، پھر دو چار ڈول تھوڑی دیر بعد نکال لیے، پھر دو چار ڈول کچھ دیر بعد نکال لیے، اس کے بعد دو چار ڈول کل نکال لیے آپ نے۔ بس جب وہ مقدار نکل آئے گی پوری ہو جائے گی چاہے متفرق طور پر ہی کیوں نہ ہو پھر کنواں پاک ہو جائے گا، اس سے پہلے پاک نہیں بھئی۔ اور اسی طرح یاد رکھیے، اگر بے وضو آدمی کنویں کے اندر اتر گیا بھئی، بے وضو تھا تو کنویں میں اترا پانی میں اور پھر نکل آیا تو وضو ہو گیا یا نہیں ہوا بھئی؟ ہو گیا، تو ماء مستعمل بن گیا۔ لہٰذا اب بھی یہی حکم ہے کہ چالیس ڈول نکال لیے جائیں بھئی۔ کتنے نکال لیے جائیں؟ چالیس ڈول وجوباً نکال لیے جائیں گے پھر کنواں پاک ہو جائے گا بھئی، پاک ہو جائے گا۔ یہ کب؟ جب بے وضو تھا، بے وضو تھا۔ یا باوضو تھا لیکن وضو کی بھی نیت کر لی اندر اترتے ہوئے بھئی، تو بھی قربت کی نیت ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ ماء مستعمل بن جائے گا تو لہٰذا اس صورت میں بھی وہ چالیس ڈول نکالنے پڑیں گے۔ اور اگر باوضو تھا اور اندر اترتے ہوئے نیت نہیں کی وضو کی، تو اب حدث بھی دور نہ ہوا کیونکہ حدث تو تھا ہی نہیں اور قربت کی نیت بھی نہ پائی گئی لہٰذا ماء مستعمل نہ ہوا، جب ماء مستعمل نہیں تو اب چالیس ڈول نکالنے کی ضرورت بھی نہیں ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ تعالیٰ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں ان فقہائے کرام پر بھئی! مسائل کو کتنا آسان کر دیا سب کے لیے بھئی، سب کچھ مرتب کر کے دلائل کے ساتھ کتابوں کے اندر پیش کر دیا ہمارے سامنے اور اب ہم اس سے اس طرح نفع اٹھا رہے ہیں جس طرح کسی آدمی کے سامنے تیار روٹی رکھ دی جائے اور وہ اس کو کھائے بھئی۔ اتنا آسان کر دیا۔ تو یہ تھا بے وضو کے بارے میں۔ ہاں اگر جنبی اترا جنابت کی حالت میں تھا تو پھر یاد رکھیے اس صورت میں سارا پانی نکالنا پڑے گا بھئی۔ ”وَإِنْ مَاتَتْ فِيْهَا شَاةٌ أَوْ آدَمِيٌّ أَوْ كَلْبٌ نُزِحَ جَمِيْعُ مَا فِيْهَا مِنَ الْمَاءِ“ اور اگر کنویں کے اندر مر گیا، مر گئی کنویں کے اندر ”شَاةٌ“ کیا چیز؟ بھیڑ بکری۔ ہاں شاباش، بھیڑ بکری۔ اگر کنویں کے اندر بھیڑ بکری گر کر مر گئی ”أَوْ آدَمِيٌّ“ یا کوئی آدمی ”أَوْ كَلْبٌ“ یا کوئی کتا ”نُزِحَ جَمِيْعُ مَا فِيْهَا“ تو نکالا جائے گا وہ سارا جو اس کے اندر ہے ”مِنَ الْمَاءِ“ یعنی کہ پانی بھئی۔ اس میں سے سارا پانی نکالا جائے گا۔ تو یہ ”مِنَ الْمَاءِ“، یہ عبارتیں اس قسم کی آتی ہیں جگہ جگہ بھئی کہ ماقبل میں مثلاً ”مَا“ موصولہ ذکر ہے اور ”فِيْهَا“ اس کا صلہ ہے۔ ”فِيْهَا“ کیا ہے اس کا؟ صلہ ہے۔ وہ جو اس کنویں میں ہے، وہ کیا ہے بھئی؟ آگے ”مِنْ“ کے ساتھ اس کو بیان کیا جاتا ہے: ”مِنَ الْمَاءِ“ یعنی کہ پانی۔ تو اس میں ترجمہ کرتے ہوئے پھر یوں کیا جائے کہ وہ جو بیان تھا اس کو اٹھا کر ”مَا“ کی جگہ لے آئیں۔ ”جَمِيْعُ مَا فِيْهَا مِنَ الْمَاءِ“، تو نکالا جائے گا وہ سارا پانی جو اس کنویں کے اندر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ بامحاورہ ترجمہ ہو جائے گا۔ ”لِأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَفْتَيَا بِنَزْحِ الْمَاءِ كُلِّهِ حِيْنَ مَاتَ زَنْجِيٌّ فِي بِئْرِ زَمْزَمَ“ اس لیے کیونکہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم نے ”أَفْتَيَا“ فتوی دیا ”بِنَزْحِ الْمَاءِ كُلِّهِ“ سارے پانی کے نکالنے کا ”حِيْنَ مَاتَ زَنْجِيٌّ“ زنجی کہتے ہیں حبشی کو بھئی، جس وقت کہ ایک حبشی مر گیا ”فِي بِئْرِ زَمْزَمَ“ زمزم کے کنویں میں۔ بھئی زمزم کے کنویں میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم کے زمانے میں ایک حبشی گر کر مر گیا تو انہوں نے اس زمزم کے سارے پانی کو نکالنے کا فتوی دیا۔ معلوم ہوا کہ اس صورت میں کیا کیا جائے گا؟ سارے پانی کو نکالا جائے گا بھئی، جی۔ اور یہی حکم ہے انسان اور اس کے برابر جو جانور ہیں یا اس سے جو بڑے ہیں سب کا پھر یہی حکم ہو گیا اسی لیے ”شَاةٌ“ بھی ذکر کر دیا، ”أَوْ كَلْبٌ“ بھی ذکر کر دیا بھئی۔ یہ تو وہ صورتیں تھیں جب یہ جانور گر کر مرے اور پھر ان کو نکال لیا گیا بھئی۔ لیکن اگر وہ جانور پانی کے اندر پھول گیا اور پھٹ گیا تو پھر اس صورت میں چاہے وہ چھوٹا جانور حیوان تھا یا بڑا حیوان تھا سارا پانی نکالنا پڑے گا کیونکہ اس کے نجاست کے جو اجزاء تھے، جو اس کی تری تھی وہ سارے پانی کے اندر پھیل گئی بھئی۔ یہی ذکر کر رہے ہیں بھئی: ”فَإِنِ انْتَفَخَ الْحَيَوَانُ فِيْهَا“ انتفخ کے معنی پھول جانا بھئی، پھول جانا۔ ”أَوْ تَفَسَّخَ“، تفسخ کے معنی ہیں گل جانا بھئی گل جانا، ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا۔ ”فَإِنِ انْتَفَخَ الْحَيَوَانُ فِيْهَا“ اگر حیوان اس میں کنویں کے اندر پھول گیا یعنی اس کے پانی میں ”أَوْ تَفَسَّخَ“ یا گل گیا ”نُزِحَ جَمِيْعُ مَا فِيْهَا“ تو وہ سارا جو پانی اس کنویں میں ہے وہ نکالا جائے گا ”صَغُرَ الْحَيَوَانُ أَوْ كَبُرَ“ چھوٹا ہو حیوان یا بڑا ہو، کیوں نکالا جائے گا سارا پانی؟ ”لِانْتِشَارِ الْبَلَّةِ فِي أَجْزَاءِ الْمَاءِ“ بوجہ پھیل جانے کے، بلۃ کہتے ہیں تری کو۔ تری، گیلا پن بھئی۔ تو تری جو ہے یعنی اس نجاست کی تری اس حیوان کی جو تری ہے وہ پھیل گئی، اس کے پھیل جانے کی وجہ سے ”فِي أَجْزَاءِ الْمَاءِ“ پانی کے اجزاء کے اندر، تو پھر سارا پانی نکالنا پڑے گا چاہے چڑیا گر کر مری ہے اور پھول گئی ہے یا گل گئی ہے تو سارا پانی نکالنا پڑے گا بھئی، سارا پانی نکالنا پڑے گا۔ اور یہ بھی مسئلہ یاد رکھیے بھئی، یہ بھی مسئلہ یاد رکھیے اگر کوئی حیوان کنویں کے اندر گرا اور مثلاً پھول گیا ہے پھٹ گیا ہے اب کیا کریں گے؟ سارا پانی نکالیں گے، لیکن پہلے اس حیوان کو نکالیں گے اس کے بعد پھر پانی نکالا جائے گا بھئی۔ اگر وہ حیوان بیچ میں ہی ہے تو پھر کوئی فائدہ نہیں بھئی، کوئی فائدہ نہیں۔ لہٰذا پہلے اس کو نکالیں گے۔ تو اگر ایسی صورت پیش آ گئی کوئی حیوان گرا ہے اور پھر وہ مل ہی نہیں رہا بھئی کنویں کے اندر، بہت تلاش کیا مل ہی نہیں رہا۔ اب کیا کریں گے بھئی؟ حیوان کا تو پہلے نکالنا ضروری تھا بھئی۔ تو فقہاء فرماتے ہیں کہ پھر اس صورت میں پاک کرنے کی فی الحال کوئی صورت نہیں ہے۔ ہاں یہ ہے کہ انتظار کیا جائے گا، اس کنویں کو کچھ مدت تک ایسے ہی چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ یقین ہو جائے کہ وہ جانور وہ حیوان جو ہے وہ گل کر مٹی گارا بن گیا ہوگا، تو پھر اس کے بعد پھر سارا پانی نکال لیا جائے تو پھر کنواں پاک ہو جائے گا۔ تو اتنی مدت تک اس کنویں کو چھوڑ دیا جائے، اور اس کی مدت پھر بعض فقہاء نے چھ ماہ لکھی ہے۔ چھ ماہ تک اس کو ایسے ہی چھوڑ دو، چھ ماہ میں وہ یقیناً وہ حیوان جو ہے وہ مٹی گارا بن چکا ہوگا بھئی، چھ ماہ۔ اور اگر کوئی حیوان چھوٹا ہے تو اور اس میں کسی طریقے سے یہ معلوم ہو ہے کہ یہ جلدی مٹی گارا بن گیا ہوگا تو پھر چھ ماہ سے کم کے اندر بھی پاک قرار دیا جا سکتا ہے کہ اتنی مدت گزر جائے تو پھر کنویں کا سارا پانی نکال لیں اب سارا پانی کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا بھئی، پاک ہو جائے گا۔ ”وَإِنْ كَانَتِ الْبِئْرُ مَعِيْنَةً بِحَيْثُ لَا يُمْكِنُ نَزْحُهَا أَخْرَجُوْا مِقْدَارَ مَا كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمَاءِ“ اور اگر ”وَإِنْ كَانَتِ الْبِئْرُ مَعِيْنَةً“ اور اگر کنواں جو ہے وہ چشمے والا ہے، کون سا کنواں ہے؟ چشمے والا ہے بھئی۔ انہوں نے پیچھے بتایا کہ اگر یہ آدمی یا بکری وغیرہ گر کر مر جائیں یا کوئی حیوان پھول جائے پھٹ جائے کنویں کے اندر تو پھر سارا پانی نکالنا پڑے گا۔ اب اگر کوئی کنواں چشمے والا ہے اور اس میں سے جتنا پانی نکالتے جائیں نیچے سے اور پانی آتا جاتا ہے تو کنویں کو خالی کرنا ممکن ہی نہیں ہے، پھر اس کو کیسے خالی کیا جائے گا بھئی؟ کیسے اس کو پاک کیا جائے گا؟ وہ طریقہ بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَتِ الْبِئْرُ مَعِيْنَةً“ اور اگر کنواں چشمے والا تھا ”بِحَيْثُ لَا يُمْكِنُ نَزْحُهَا“ اس حیثیت سے کہ ممکن ہی نہیں تھا اس کو نکالنا یعنی اس کو خالی کرنا ”أَخْرَجُوْا“ تو وہ کنویں والے نکالیں گے ”مِقْدَارَ مَا كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمَاءِ“ وہ مقدار جو اس کے اندر ہے پانی کی، جتنی مقدار اس میں پانی کی ہے وہ نکال دیں تو کنواں پاک ہو جائے گا۔ بھئی خالی تو ہو نہیں سکتا کنواں، جتنا پانی نکالیں نیچے سے اور پانی آتا جا رہا ہے تو بس پھر یوں کیجیے جس جتنی مقدار وہ جانور گرا ہے اور پانی کی جتنی مقدار اس وقت کنویں کے اندر ہے وہ اتنی مقدار پانی نکال دو تو کنواں کیا ہو جائے گا؟ پاک۔ خالی تو پھر بھی نہیں، آپ اتنی مقدار نکال بھی دیں وہ پانی نیچے سے مسلسل آ رہا ہوگا پانی تو اتنا ہی رہے گا لیکن اتنی مقدار پانی کی نکال دیں تو کنواں کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ بھئی اب اتنا پانی کیسے نکالیں گے؟ کس طرح ہمیں پتہ چلے گا؟ فقہاء اس کا بھی طریقہ ذکر فرماتے ہیں تو بتلا رہے ہیں: ”وَطَرِيْقُ مَعْرِفَتِهِ“ اور اس کے جاننے کا طریقہ یہ ہے ”أَنْ تُحْفَرَ حَفْرٌ“، ”أَنْ تُحْفَرَ حَفْرٌ“، ”أَنْ تُحْفَرَ“ کہ کھودا جائے گا کھود... حفر کے معنی کھودنے کے بھئی۔ ”أَنْ تُحْفَرَ“ کہ کھودا جائے گا ”حَفْرٌ“ گڑھا بھئی، کیا کھودا جائے گا؟ ایک گڑھا کھودا جائے گا ”مِثْلُ مَوْضِعِ الْمَاءِ مِنَ الْبِئْرِ“ جو کنویں کے اندر پانی کی جگہ جو ہے اس کے مثل ہو۔ کہ ایک ایسا گڑھا کھودا جائے جو کنویں میں جو پانی کی جگہ ہے اس کے مثل ہو۔ مثلاً دیکھیے بھئی، کنویں جتنا گڑھا گہرا گڑھا کھودنے کی ضرورت نہیں، مثلاً کنواں تو ساٹھ فٹ گہرا ہے، ساٹھ فٹ گہرا، اور اس کے اندر پانی جو کھڑا ہے وہ تیس فٹ پانی کھڑا ہے۔ کتنا پانی کھڑا ہے؟ تیس فٹ۔ تو ساتھ کنویں کے پاس ایک گڑھا کھود لیا جائے گا یا قریب اور اس کو وہ کتنا گہرا ہوگا؟ پانی کی مقدار کے برابر، پانی کتنا گہرائی پر تھا؟ کتنا تھا؟ تیس فٹ، تو یہ گڑھا بھی تیس فٹ کھود کھودا جائے گا بھئی، اور اسی کے برابر کنویں کے برابر ہی اس کی چوڑائی وغیرہ ہو گئی بھئی اس گڑھے کی بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے: ”أَنْ تُحْفَرَ حَفْرٌ مِثْلُ مَوْضِعِ الْمَاءِ مِنَ الْبِئْرِ“، یہ ”مِثْلُ“ یہ صفت ہے ”حَفْرٌ“ کی کہ کھودا جائے گا ایسا گڑھا جو مثل ہوگا پانی کی جگہ کے ”مِنَ الْبِئْرِ“ کس میں سے؟ کنویں، کنویں میں سے جو پانی کی جگہ ہے، پانی کا جو مقام ہے اس کے مثل ایک گڑھے کو کھود لیا جائے گا۔ ”وَيُصَبَّ فِيْهَا مَا يُنْزَحُ مِنْهَا“ اور اس کے اندر پانی بہایا جائے گا، کنویں سے نکالتے جائیں گے اور اس گڑھے میں بہائیں گے تو کہتے ہیں: ”وَيُصَبَّ فِيْهَا“ اور بڑھایا جائے گا اس کے اندر ”مَا يُنْزَحُ مِنْهَا“ جو اس کنویں سے نکالا گیا ہے ”إِلَى أَنْ تَمْتَلِئَ“ یہاں تک کہ وہ بھر جائے، وہ گڑھا کیا ہے؟ بھر جائے۔ پانی تیس فٹ تھا تو یہ گڑھا بھی آپ نے تیس فٹ کھودا ہے تو اس کو جب یہ پورا بھر جائے گا تو اتنی مقدار پانی کی آپ نے نکال لی جو کنویں کے اندر موجود تھی۔ ”أَوْ تُرْسَلَ“ دوسرا طریقہ بھئی۔ بھئی یہ طریقہ بھی مشکل تھا فقہاء نے ایک طریقہ تو بتلایا لیکن یہ طریقہ بھی مشکل، کنویں جتنا اس کے پانی کے برابر ایک پورا گڑھا کھودنا پڑے گا تو وہ کھدائی الگ اور پانی کا پھر نکالنا الگ بھئی، دگنی مشقت ہے۔ تو دوسرا آسان طریقہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کنویں کے اندر کوئی بانس وغیرہ ڈالیں بھئی اور اس بانس کے ذریعے پانی کی اونچائی معلوم کر لی جائے گی۔ مثلاً کنویں کے اندر تیس فٹ پانی کھڑا ہے، کتنا ہے؟ تیس فٹ پانی کھڑا ہے۔ اب ہم پانی نکالتے ہیں تو پانی نیچے سے اور مسلسل آتا رہتا ہے اور ایک وقت میں کتنا پانی کھڑا رہتا ہے؟ تیس فٹ بھئی، تو آپ نے بانس ڈالا اور نشان لگا لیا، دیکھ لیا کہ تیس فٹ پانی کھڑا ہے اس وقت کنویں کے اندر۔ پھر آپ یوں کیجیے بانس نکال کر جلدی جلدی کنویں سے مثلاً پچاس ڈول نکال لیے، جلدی جلدی نکال لیے بھئی، اس میں وقفہ نہیں کرنا کیونکہ نیچے سے پانی آئے گا لیکن وہ نیچے سے پانی ذرا آہستہ آتا ہے اتنی رفتار سے نہیں آتا، تو آپ نے جلدی سے جب پچاس ڈول نکالے اور پھر فوراً دوبارہ آپ بانس ڈالیں اور دیکھیں کتنا کم ہوا ہے۔ فرض کریں وہ ایک فٹ پانی نیچے چلا گیا۔ اس سے آپ کو پتہ چل گیا کہ ایک فٹ کے اندر کتنا پانی آتا ہے؟ پچاس ڈول آتے ہیں، تو تیس فٹ میں کتنے آئیں گے؟ کتنے ڈول؟ تیس کو پچاس سے ضرب دیں۔ پندرہ سو۔ پچاس آپ نکال چکے، کتنے رہ گئے؟ چودہ سو پچاس ڈول پانی آپ نکال دیں تو کنواں کیا ہو جائے گا؟ کہ آپ نے گویا اس کا سارا پانی نکال لیا۔ تو دیکھو اس میں آسانی ہو گئی بھئی، گڑھا کھودنے سے آپ بچ گئے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دوسرا طریقہ ذکر کر رہے ہیں: ”أَوْ تُرْسَلَ فِيْهَا قَصَبَةٌ“ یا ڈالا جائے اس کنویں کے اندر ”قَصَبَةٌ“، قصبہ کہتے ہیں بھئی یہ جو آپ قلم آپ نے اگر دیکھے ہوں کتابت کے بھئی وہ جو کانے سے بنائے جاتے ہیں، کانے یا بانس سے چھوٹے تو اس کو قصبہ کہتے ہیں اور اس کی بہت سی اقسام ہیں اس پودے کی، بانس بھی اسی نسل کا ہے۔ بانس بھی اسی کانے کی طرح ہی ہوتا ہے لیکن دیکھو جسامت بانس کی بڑی ہے تو یہ ایک ہی نوع کے پودے ہیں ان میں مختلف... تو مراد بانس ہے بھئی۔ ”تُرْسَلَ فِيْهَا قَصَبَةٌ“ ڈالا جائے گا اس میں بانس ”وَتُجْعَلَ لِمَبْلَغِ الْمَاءِ عَلَامَةٌ“ اور لگا دی جائے گی پانی کے پہنچنے کی جگہ پر کوئی علامت کہ اتنا پانی ہے۔ ”ثُمَّ يُنْزَحَ مِنْهَا مَثَلًا عَشْرُ دِلَاءٍ“ پھر نکالا جائے اس کنویں سے مثال کے طور پر دس ڈول مثلاً دس نکال لیے ”ثُمَّ تُعَادَ الْقَصَبَةُ“ پھر لوٹایا جائے اس بانس کو یعنی دوبارہ ڈالا جائے ”فَيُنْظَرَ“ یہ آپ کی کتابوں میں ”تُنْظَرَ“ ہے؟ جی؟ ہاں، ”فَتُنْظَرَ“ نہیں ہونا چاہیے یہ کتابت کی غلطی ہے، ”فَيُنْظَرَ“ بھئی اور ہدایہ کے دیگر نسخوں میں ”يُنْظَرَ“ ہی ہے یا ہے یہاں پر۔ ”فَيُنْظَرَ“ پھر دیکھا جائے ”كَمِ انْتَقَصَ“ کتنا وہ کم ہوا ہے۔ دس ڈول میں نے ذکر کیا پچاس ڈول، انہوں نے کیا کہا؟ دس ڈول، بس مثال ذکر کر رہے ہیں کہ پھر دیکھا جائے گا ”كَمِ انْتَقَصَ“ کہ وہ کتنا کم ہوا ہے ”فَيُنْزَحَ لِكُلِّ قَدْرٍ مِنْهَا عَشْرُ دِلَاءٍ“ تو نکالا جائے گا ہر اس مقدار کے لیے کنویں میں سے دس ڈول، جتنا کم ہوا ہے۔ مثلاً کتنا کم ہوا تھا؟ ایک فٹ۔ کتنے ڈول مثلاً نکالے انہوں نے؟ کتنے ذکر کیے؟ دس ڈول، تو ایک فٹ اور کنواں کتنا ہے؟ تیس فٹ۔ تو ہر فٹ کے لیے اتنی ہی مقدار ڈولوں کی نکالتے جائیں یہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”فَيُنْزَحَ لِكُلِّ قَدْرٍ مِنْهَا عَشْرُ دِلَاءٍ“ پس نکالا جائے گا ہر اس مقدار کے لیے اس کنویں سے دس ڈول ”وَهَذَانِ عَنْ أَبِي يُوْسُفَ“ جی، اور یہ دونوں طریقے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت کیے گئے ہیں ان کے نزدیک اس طرح کیا جائے گا۔ ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جو ہے ”نُزِحَ مِائَتَا دَلْوٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ“ کہ دو سو ڈول سے لے کر تین سو ڈول تک نکال لیے جائیں گے بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ یہ نہیں فرماتے سارا پانی نکالا جائے گا، کتنے نکال لیے جائیں گے؟ دو سو سے تین سو ڈول تک نکال لیے جائیں گے۔ ”فَكَأَنَّهُ بَنَى قَوْلَهُ عَلَى مَا شَاهَدَ فِي بَلَدِهِ“ تو گویا کہ امام محمد رحمہ اللہ نے بنیاد رکھی اپنے قول کی اس چیز پر جس کا انہوں نے مشاہدہ کیا تھا اپنے شہر میں۔ کس میں؟ اپنے شہر میں جس چیز کا مشاہدہ کیا تھا اس پر اپنے قول کی بنیاد رکھی۔ ان کے شہر میں وہ دریائے دجلہ کے کنارے تھا اور دجلہ کے کنارے تو اس میں تقریباً کنوؤں کے اندر دو تین سو ڈول پانی ہوتا تھا اور یہ اچھی خاصی مقدار ہے پانی کی بھئی کیونکہ دریا کے کنارے تھا بھئی۔ یہ تو میں نے ویسے آپ کو کہا کہ تیس فٹ پانی گہرا ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کنوؤں کے اندر ہر جگہ اس طرح پانی نہیں ہوتا بعض علاقوں میں پانی زیادہ ہوتا ہے اور بعض علاقوں میں تو اتنا کم پانی ہوتا ہے کہ کنویں کے اندر بمشکل چند بالٹی پانی ہوتا ہے۔ بلکہ اگر سندھ کے صحرائی علاقے کی طرف چلے جائیں تو وہاں پر کنویں جو وہ کھودتے ہیں انتہائی گہرے کنوئیں ہوتے ہیں اور اس کے اندر بمشکل سارے دن کے اندر شاید دو تین یا چار بالٹیاں پانی آتا ہوگا بھئی، اور وہ بھی کوئی چشمہ وغیرہ نیچے نہیں ہوتا اسی کنویں کی دیواروں سے آہستہ آہستہ پانی رستا رہتا ہے اور کنویں کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے، کنویں کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔ چنانچہ وہ زیادہ پانی استعمال بھی نہیں کر سکتے، اگر زیادہ پانی نکال لیا وہی چار پانچ بالٹی یا جتنا تھا وہ تو پانی نکل آیا اب اس کنویں کے اندر دوبارہ پانی آنے میں کئی گھنٹے لگیں گے بھئی، کئی گھنٹے لگیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ چونکہ جس شہر میں تھے دریا کے کنارے تھا، دریائے دجلہ کے، اور وہاں پانی کثیر ہوتا تھا تو دو تین دو سو سے لے کر تین سو ڈول تک پانی ہوتا تھا اور وہ پانی نکال لیتے تھے تو دو تین سو ڈول ہی سارا پانی ہوتا تھا تو اسی پر بنیاد رکھی اور کیا فرمایا؟ کتنے ڈول نکال لو؟ دو سو سے لے کر تین سو ڈول تک نکال لو۔ دو سو وجوب کے طریقے پر اور تین سو استحباب کے طریقے پر۔ تو دو سو سے لے کر تین سو ڈول نکال لیے جائیں تو کنواں پاک ہو جائے گا بھئی۔ اب یہ ضروری تو نہیں کہ ہر کنویں کے اندر دو سو سے یا تین سو ڈول ہی ہوں، بعض میں اس سے زیادہ بھی ہوگا لیکن امام محمد رحمہ اللہ نے اس مشاہدے کی پر اپنے قول کی بنیاد رکھی اور کیا فرمایا؟ دو سو سے تین سو ڈول نکال لیے جائیں اس کنویں میں سے۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيْرِ فِي مِثْلِهِ“ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے جامع صغیر کے اندر اس قسم کی محل میں وہ فرماتے ہیں: ”يُنْزَحُ حَتَّى يَغْلِبَهُمُ الْمَاءُ“ کہ نکالا جائے گا پانی یہاں تک کہ غالب آ جائے ان لوگوں پر الماء، پانی، ”اَلْمَاءُ“۔ غالب کیا آ جائے؟ ”اَلْمَاءُ“ یہ فاعل ہے یغلب کا۔ ”حَتَّى يَغْلِبَهُمُ الْمَاءُ“ یہاں تک کہ پانی ان پر غالب آ جائے یعنی پانی ان کو تھکا دے۔ کیا مراد ہے؟ پانی ان کو امام صاحب فرماتے ہیں امام صاحب نے کوئی حد نہیں بیان کی کہ دو سو سے یا تین سو ڈول تک بلکہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ پانی نکالتے رہو، نکالتے رہو، نکالتے رہو یہاں تک کہ پانی آپ کو خوب تھکا دے اور اور آپ اتنے تھک جائیں کہ اور نکالنے کی ہمت نہ رہے بھئی تھک جائیں، پانی آپ پر غالب آ جائے۔ اتنی مقدار۔ تو وہ فرماتے ہیں اس قسم کے مقام میں: ”يُنْزَحُ حَتَّى يَغْلِبَهُمُ الْمَاءُ“ نکالا جائے گا پانی یہاں تک کہ پانی ان پر غالب آ جائے یعنی ان کو تھکا دے ”وَلَمْ يُقَدِّرِ الْغَلَبَةَ بِشَيْءٍ“ اور امام صاحب نے اندازہ نہیں لگایا غلبے کا کسی چیز کے ساتھ ”كَمَا هُوَ دَأْبُهُ“ جیسے کہ ان کا معمول ہے، جیسے کہ ان کا طریقہ ہے بھئی۔ دأب کہتے ہیں معمول کو بھئی، عادت کو۔ جیسے کہ امام صاحب کی عادت ہے ان کا معمول ہے کہ وہ اس قسم کے مواقع میں مبتلیٰ بہٖ کی رائے کے سپرد کر دیتے ہیں کوئی حد وغیرہ بیان نہیں فرماتے، جیسے گزشتہ مسئلوں میں بھی بیان ہوا کہ کنویں کے اندر اگر مینگنیاں گر جائیں تو امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ کوئی حد نہیں بیان فرمائی بلکہ کہا تھا یہ مبتلیٰ بہٖ کے رائے کے سپرد ہے۔ اگر وہ ان کو کثیر سمجھتا ہے تو کثیر ہیں، اگر قلیل سمجھتا ہے تو قلیل ہیں بھئی۔ اور اسی طرح اور پیچھے کون سا مسئلہ گزرا تھا؟ قلیل اور کثیر ماء کس کو کہیں گے؟ امام صاحب نے کوئی حد بیان نہیں کی تھی بلکہ فرمایا تھا کہ مبتلیٰ بہٖ کے رائے کے سپرد ہے۔ اگر وہ کسی ماء کو قلیل سمجھتا ہے کہ اس اس میں نجاست کا اثر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا تو معلوم ہوا وہ اس کی نظر میں قلیل ہے اور اگر اس کے خیال میں نجاست کا اثر دوسری طرف نہیں پہنچا تو پھر اس کے نزدیک معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ ماء کثیر ہے بھئی۔ تو وہ مبتلیٰ بہٖ کی رائے کا اعتبار کرتے ہیں تو یہاں بھی انہوں نے غلبے کا اندازہ کسی چیز کے ساتھ نہیں لگایا جیسے کہ ان کی عادت ہے۔ ”وَقِيْلَ“ اور کہا گیا ہے ”يُؤْخَذُ بِقَوْلِ رَجُلَيْنِ لَهُمَا بَصَارَةٌ فِي أَمْرِ الْمَاءِ“ کہ لیا جائے گا ”بِقَوْلِ رَجُلَيْنِ“ دو ایسے آدمیوں کا قول ”لَهُمَا بَصَارَةٌ فِي أَمْرِ الْمَاءِ“ جن کو بصارت ہو پانی کے معاملے میں، یعنی جن کو پانی کے معاملات کا اندازہ ہو، کیا ہو؟ ہاں اس پانی کے معاملے کو وہ جو جاننے والے ہیں ان کے ایسے دو آدمیوں سے رائے لے لی جائے اور پھر اس کے مطابق عمل کیا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بھئی دیکھیے، اب تک میں آپ کو بتلاتا آیا ہوں نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا، کیوں؟ وجہ اس کی کیا؟ کیونکہ نکرہ آیا اس کے بعد فعل آیا اور فعل کس کو چاہے گا؟ فاعل یا نائب فاعل، اور فعل اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ بن جائے گا اور جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے تو گویا نکرہ کے بعد نکرہ آ گیا اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ اس کے لیے کیا وہ آپس میں کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت بنتے ہیں۔ یہاں پر بھی دیکھیے بھئی: ”بِقَوْلِ رَجُلَيْنِ“، رجلین نکرہ آیا اور اس کے بعد ”لَهُمَا بَصَارَةٌ فِي أَمْرِ الْمَاءِ“، تو یہ ”لَهُمَا بَصَارَةٌ“ میں ”لَهُمَا“ خبر مقدم اور ”بَصَارَةٌ“ ہے مبتدا مؤخر۔ مبتدا اپنے خبر مقدم سے مل کر کیا ہوا؟ جملہ اسمیہ ہوا اور تو جملہ بن گیا اور جملہ کس کے حکم میں ہے؟ نکرہ کے حکم میں۔ تو رجلین نکرہ تھا اس کے بعد نکرہ آیا تو یہ آپس میں کیا بنیں گے؟ موصوف صفت۔ تو ترجمہ کیسے کریں گے؟ موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آئیں گے؟ ایسا یا ایسی کا لفظ۔ دیکھیے یہاں اس طرح پھر ترجمہ ہوگا کہ ”يُؤْخَذُ بِقَوْلِ رَجُلَيْنِ لَهُمَا بَصَارَةٌ فِي أَمْرِ الْمَاءِ“ کہ لیا جائے گا دو ایسے آدمیوں کے قول کو کہ جن کو بصارت ہو پانی کے معاملے کی۔ ”وَهَذَا أَشْبَهُ بِالْفِقْهِ“ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہ قول جو ہے یہ فقہ کے زیادہ مشابہ ہے کیونکہ شریعت بھی بہت سے مقامات پر عادل دو عادل آدمیوں کے قول کا اعتبار کرتی ہے جیسے گواہی بھی کس کی معتبر ہے؟ دو عادل آدمیوں کی گواہی بھئی۔ اسی طرح بھئی، اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں ہے اور اس حالت میں تو شکار کرنا منع ہے لیکن اگر کسی نے شکار کر لیا تو اس صورت میں اس پر جزا آئے گی اور اسے اس جیسا ہی ایک جانور اس پر آئے گا تو اس میں بھی شریعت کیا کہتی ہے؟ کہ دو عادل آدمیوں سے کیا کیا جائے گا؟ رائے لے لی جائے گی وہ قیمت وغیرہ اس کی لگائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے یہ قول فقہ کے زیادہ مشابہ ہے بھئی۔ تو فقہ جو ہے، فقہ کس چیز کا نام ہے بھئی؟ قرآن و حدیث سے قرآن، حدیث وغیرہ دلائل شرعیہ سے احکام جاننے کا نام کیا ہے؟ فقہ ہے، ان سے احکام نکالنے اور جاننے کا نام فقہ ہے۔ تو تو یہ قول فقہ کے زیادہ مشابہ ہے یعنی وہ معانی جو قرآن و حدیث وغیرہ سے معلوم ہوتے ہیں یہ قول اس کے زیادہ مشابہ ہے کیونکہ وہاں پر بھی بہت سی چیزوں کے اندر دو عادل آدمیوں کا اعتبار کیا گیا جیسے کہ اس قول کے اندر دو آدمیوں کا دو عادل آدمیوں کے قول کا اعتبار کیا جا رہا ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔