وَالْغَلَبَةُ عَلَى الْعَقْلِ بِالْإِغْمَاءِ وَالْجُنُونِ لِأَنَّهُ فَوْقَ النَّوْمِ مُضْطَجِعًا فِي الِاسْتِرْخَاءِ، وَالْإِغْمَاءُ حَدَثٌ فِي الْأَحْوَالِ كُلِّهَا وَهُوَ الْقِيَاسُ فِي النَّوْمِ إِلَّا أَنَّا عَرَفْنَاهُ بِالْأَثَرِ، وَالْإِغْمَاءُ فَوْقَهُ فَلَا يُقَاسُ عَلَيْهِ۔ گزشتہ سبق میں ہم نواقضِ وضو کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ وہ نیند جو مُضْطَجِعًا ہو یا مُتَّكِئًا ہو یا مُسْتَنِدًا إِلَى شَيْءٍ ہو تو وہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے۔ اور اس کی وجہ ذکر ہوئی تھی حدیث میں بھی جیسا آیا تھا کہ جب انسان اس طریقے پر سوتا ہے تو اس کے جوڑ وغیرہ جو ہیں وہ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور انسان کی اپنے بدن پر گرفت ختم ہو جاتی ہے، تو اس صورت میں عادۃً جو ہے بدن سے کچھ خروجِ نجاست ہوتا ہے، انسان کو پتہ بھی نہیں چلتا، یعنی ہوا وغیرہ خارج ہو گئی اور اسے پتہ بھی نہیں چلا۔ تو چونکہ عادۃً ان حالتوں میں خروجِ نجاست ہوتا ہے، تو جو چیز عادۃً ثابت ہے اس کو کس کی طرح کر لیا گیا؟ یقینی کا حکم دے دیا گیا، وہ یقینی چیز کی طرح ہی ہو گئی، اور لہٰذا اس وجہ سے جو ہے اس کو، نَوْم کو نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ قرار دیا گیا۔ تو اصل میں وضو کو توڑنے والی چیز وہ نَوْم نہیں ہے بلکہ وہ خروجِ نجاست ہے لیکن چونکہ نیند میں خروجِ نجاست کا علم ہو نہیں سکتا کہ خروجِ نجاست پایا گیا ہے یا نہیں پایا گیا، اگر پایا گیا ہو تو پھر وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں، نہ پایا گیا ہو تو وضو ٹوٹنے کا حکم نہ لگائیں، چونکہ اس کا علم ہو ہی نہیں سکتا، انسان پر اس وقت غفلت طاری ہوتی ہے تو لہٰذا نیند ہی کو اس کے قائم مقام کر دیا گیا۔ نیند ہی کو جو چیز نیند میں جس کا احتمال تھا، اس نیند ہی کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا اور نیند ہی سے وضو کے ٹوٹنے کا حکم لگا دیا گیا، لیکن ہر نیند نہیں، وہ نیند جس کے اندر بدن پر قابو انسان کا ختم ہو جائے، بدن پر انسان کی گرفت ختم ہو جائے۔ اور اس کی صورتیں ذکر کیں کہ ایک ہے پہلو پر لیٹنا، میں نے بتایا پہلو پر لیٹنا، ”وَالنَّوْمُ مُضْطَجِعًا“ آیا، یہ کوئی احترازی قید نہیں، اس کا یہ معنی نہیں کہ پہلو پر صرف لیٹے پھر اور سو جائے تو وضو ٹوٹے گا اور کوئی چت لیٹ جائے یعنی کمر زمین پر رکھ کر سیدھا لیٹ جائے یا سینہ زمین پر رکھ کر لیٹ جائے اور سو جائے تو ان سے وضو نہیں ٹوٹے گا، ایسا نہیں ہے بھئی، بلکہ مُضْطَجِعًا سے مراد لیٹ کر نیند ہے، لیٹ کر نیند۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مُضْطَجِعًا کو بالخصوص کیوں ذکر کیا؟ جواب یہ کہ چونکہ حدیث کے اندر مُضْطَجِعًا کا ذکر آیا تھا اس لیے برکت حاصل کرنے کے لیے اسی حدیث کے لفظ کو ذکر کر دیا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی حدیث کل کے سبق کے آخر میں آپ نے پڑھی تھی اس میں مُضْطَجِعًا کا لفظ آیا تھا تو یہاں پر بھی انہوں نے متن میں مُضْطَجِعًا کا لفظ ذکر کر دیا۔ تو جو بھی نیند، جس حالت میں بھی لیٹ کر انسان سو جائے تو وہ نَوْم نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے۔ اسی طرح اِتِّكَاء آیا، اِتِّكَاء میں نے بتلایا کہ کسی چیز کے ساتھ پہلو پر ٹیک لگانا اس طریقے پر کہ انسان کی مقعد زمین سے اٹھ جائے، ایک پہلو پر ہو جائے بھئی۔ تو اب اس صورت میں بھی چونکہ خروجِ نجاست کا احتمال ہے جب سو جائے تو لہٰذا یہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے۔ اور اِسْتِنَاد، اِسْتِنَاد میں نے بتلایا تھا کہ کسی چیز سے ٹیک لگائے اور کمر لگائے اس چیز کے ساتھ۔ تو اِتِّكَاء اور اِسْتِنَاد میں کیا فرق ہوا؟ اِتِّكَاء میں پہلو پر ہوگا انسان اور اِتِّكَاء میں کمر لگائی ہوئی ہوگی ٹیک کے اندر بھئی، یہ فرق ہے بھئی۔ اِتِّكَاء کے اندر، اِتِّكَاء کے اندر پہلو لگایا ہوگا ٹیک میں اور اِسْتِنَاد میں کمر لگائی ہوئی ہوگی بھئی ٹیک کے اندر بھئی۔ جبکہ اس کے علاوہ وہ حالتیں جس میں بدن پر کچھ گرفت اور کچھ قابو باقی ہو، اس حالت میں انسان سو بھی جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اس لیے کیونکہ بدن پر گرفت پورے طور پر ختم نہیں ہوئی بھئی، پورے طور پر اِسْتِرْخَاءِ مَفَاصِل نہیں ہے۔ تو جہاں اِسْتِرْخَاءِ مَفَاصِل کامل طور پر ہوگا وہاں اس نیند سے وضو ٹوٹے گا اور جہاں اِسْتِرْخَاء کامل نہیں اس نَوْم سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ لہٰذا کوئی کھڑے کھڑے سو گیا یا بیٹھے بیٹھے سو گیا یا رکوع کی حالت میں سو گیا یا سجدے کی حالت میں سو گیا، چاہے نماز میں ہو یا خارجِ نماز میں ہو تو اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ بدن پر پوری گرفت ختم نہیں ہوئی، کھڑے ہوئے سو گیا، اگر پوری گرفت ختم ہوتی تو یہ تو کھڑا رہ ہی نہیں سکتا تھا، یہ گر جاتا۔ بے ہوش آدمی کو آپ کھڑا نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے بدن پر گرفت ہی نہیں ہے لیکن یہ آدمی کھڑے ہوئے سو رہا ہے، معلوم ہوا اِسْتِرْخَاء تو ہے لیکن کامل نہیں، پوری گرفت ابھی ختم نہیں ہوئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ نَوْم جس میں اِسْتِرْخَاء کامل ہو اس میں وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر آگے بھئی: ”وَالْغَلَبَةُ عَلَى الْعَقْلِ بِالْإِغْمَاءِ“ اور اسی طرح غلبہ آنا عقل پر بِالْإِغْمَاءِ، بے ہوشی کی وجہ سے۔ بے ہوشی کی وجہ سے عقل پر جو عقل جو مغلوب ہو جائے یہ بھی نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے بھئی، یہ بھی کیا ہے نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے۔ بھئی بے ہوش آدمی، یہ بے ہوشی تو نیند سے بھی بڑھ کر ہے، نیند کوئی آدمی سویا ہوا ہو اس کو آپ متنبہ کریں گے، ہلائیں گے وہ جاگ جائے گا لیکن بے ہوشی کے اندر ہلانے سے بھی وہ نہیں جاگتا، معلوم ہوا اس میں جو غفلت ہے وہ نیند سے بھی بڑھ کر ہے بھئی، بڑھ کر ہے۔ ”وَالْجُنُونُ“ اس کو مرفوع پڑھنا بھئی، اس کا عطف ”الْغَلَبَةُ“ پر ہے بھئی، اغماء پر نہیں۔ کیونکہ اغماء پر عطف ہو تو پھر پڑھیں گے: ”وَالْجُنُونِ“ ”بِالْإِغْمَاءِ“ باء جارہ داخل ہوئی تھی، پھر ترجمہ یوں بن جائے گا: ”وَالْغَلَبَةُ عَلَى الْعَقْلِ بِالْجُنُونِ“ اور عقل پر غلبہ آئے کس کی وجہ سے؟ عقل مغلوب ہو جائے کس کی وجہ سے؟ جنون کی وجہ سے، اور یہ ترجمہ درست نہیں کیونکہ جنون کے اندر عقل مغلوب نہیں ہوتی عقل بالکل ہی ختم ہو جاتی ہے بھئی۔ عقل بالکل ہی ختم ہو جاتی ہے تو لہٰذا اس کا عطف اغماء پر نہیں ہے، ”الْغَلَبَةُ“ پر ہے بھئی۔ اور اسی طرح جنون بھئی، کوئی پاگل ہو گیا تو جنون بھی کیا ہے نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے بھئی۔ ”لِأَنَّهُ فَوْقَ النَّوْمِ مُضْطَجِعًا فِي الِاسْتِرْخَاءِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ہے یہ نیند سے بڑھ کر ہے... یہ نَوْم... ”فَوْقَ النَّوْمِ مُضْطَجِعًا“ پہلو پر جو نیند ہے اس سے بڑھ کر ہے ”فِي الِاسْتِرْخَاءِ“ کس کے اندر؟ اِسْتِرْخَاء کے اندر بھئی، اِسْتِرْخَاء کے اندر۔ یہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ بے ہوشی کی وجہ سے جو غلبہ عقل پر آیا، یہ بے ہوشی کی وجہ سے جو عقل مغلوب ہوئی، یہ پہلو پر جو نیند ہے اس سے بڑھ کر ہے ”فِي الِاسْتِرْخَاءِ“ کس چیز میں؟ اِسْتِرْخَاءِ مَفَاصِل کے اندر، اعضاء کے ڈھیلا پڑنے میں۔ ”وَالْإِغْمَاءُ حَدَثٌ فِي الْأَحْوَالِ كُلِّهَا“ اور اغماء، بے ہوشی جو ہے یہ حدث ہے تمام احوال کے اندر۔ بھئی نیند تو تھی ایسی حالت میں، جو اوپر جیسے بیان ہوا، پہلو پر نیند ہو یا اِتِّكَاء کی صورت میں نیند ہو یا اِسْتِنَاد کی صورت میں نیند ہو، یہ نَوْم تو ناقض ہے۔ کھڑے ہوئے کوئی سو جائے، بیٹھے ہوئے سو جائے، رکوع میں سو جائے، وہ حدث نہیں آپ نے پڑھا، اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن جو اغماء ہے یہ تمام احوال میں حدث ہے بھئی، تمام احوال میں حدث۔ جس طرح بھی ہو بے ہوشی آ گئی تو اس صورت میں وضو ٹوٹنے کا حکم لگائیں گے۔ ”وَهُوَ الْقِيَاسُ فِي النَّوْمِ“ اور یہی قیاس ہے نیند میں بھی۔ یہی قیاس کس میں ہے؟ نیند میں۔ قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے نیند کے اندر بھی کہ نیند جس حالت میں بھی آ جائے وضو ٹوٹنا چاہیے، وہ حدث ہونی چاہیے وہ نَوْم بھئی۔ کھڑے ہوئے سو جائے، بیٹھے ہوئے سو جائے، رکوع میں سو جائے، سجدے میں سو جائے، لیٹ کر سو جائے، تکیہ لگا کر، جو بھی صورت ہو، نَوْم کو کیا ہونا چاہیے؟ عقل کیا کہتی ہے؟ غفلت آ گئی ہے نا انسان پر، غفلت تو آ گئی ہے، تو اس کو حدث ہونا چاہیے، نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہونا چاہیے، لیکن حدیث سے ہمیں پتہ چلا کہ کوئی کھڑے ہوئے سو جائے، نماز کی حالت میں سو جائے، بیٹھے ہوئے، رکوع کرتے ہوئے، اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، تو اس وجہ سے ہم نے یہاں پر قیاس کو ترک کر دیا کیونکہ حدیث جو ہے وہ مقدم ہے ہر حال میں عِنْدَ الْأَحْنَافِ قیاس سے بھئی۔ ایک بات حدیث میں آ جائے اور ایک بات جو قیاس سے معلوم ہو رہی ہے تو قیاس تو رائے کا نام ہے، عقلی دلیل کا نام ہے، اور رائے اور عقل حدیث کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تو یہاں پر بھی قیاس تو یہی بتلا رہا تھا کہ وضو ٹوٹنا چاہیے ہر نیند سے لیکن حدیث سے پتہ چلا کہ قیام، قعود وغیرہ کی صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا اس لیے ہم نے بھی یہی کہا کہ ان صورتوں میں وضو نہیں ٹوٹے گا جیسا کہ حدیث میں آیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ الْقِيَاسُ فِي النَّوْمِ إِلَّا أَنَّا عَرَفْنَاهُ بِالْأَثَرِ“ اور یہی قیاس ہے نیند میں بھی، مگر یہ کہ ہم نے اس کو جانا بِالْأَثَرِ، حدیث سے۔ اثر یہ حدیث کا نام ہے، میں نے بتلایا تھا اصولِ فقہ میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ حدیث کے کئی نام ہیں، خبر بھی کہتے ہیں حدیث کو، اثر بھی کہتے ہیں، سنت بھی کہتے ہیں اور اسی طرح حدیث بھی، تو چار نام ہیں حدیث کے معروف بھئی۔ تو ”إِلَّا أَنَّا عَرَفْنَاهُ بِالْأَثَرِ“ مگر اس کو ہم نے جانا حدیث سے۔ ”وَالْإِغْمَاءُ فَوْقَهُ“ اور اغماء جو ہے، بھئی حدیث سے تو نیند کا پتہ چلا تھا کہ نیند جو ہے وہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے لیکن کھڑے ہوئے نیند وہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں اور بیٹھے ہوئے نیند یہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں، رکوع کی صورت میں نیند یہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں۔ تو آپ اس پر بے ہوشی کو کیوں نہیں قیاس کرتے؟ بے ہوشی میں بھی عقل پر انسان کیا ہوتا ہے غافل ہو جاتا ہے ہر چیز سے، نیند میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی بے ہوشی نیند سے بڑھ کر ہے جیسا میں نے ابھی ذکر کیا، سوئے ہوئے کو متنبہ کریں گے وہ جاگ جائے گا لیکن بے ہوش آدمی نہیں جاگتا، معلوم ہوا یہ اس سے بڑھ کر ہے تو یہ تمام احوال میں حدث ہوگی، وضو ٹوٹ جائے گا بھئی۔ ”وَالْإِغْمَاءُ فَوْقَهُ“ اور بے ہوشی جو ہے نیند سے بڑھ کر ہے ”فَلَا يُقَاسُ عَلَيْهِ“ تو اس پر، نیند پر قیاس نہیں کیا جائے گا اسے۔ ”وَالْقَهْقَهَةُ فِي صَلَاةٍ ذَاتِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ“ اور قہقہہ ”فِي صَلَاةٍ“ ایسی نماز میں ”ذَاتِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ“ جو رکوع اور سجدے والی ہو۔ بھئی ایک لفظ ہے ”ذُو“ اور ایک ہے ”ذَاتُ“۔ ”ذُو“ استعمال ہوتا ہے مذكر کے لیے۔ مال والا آدمی آپ کیا کہتے ہیں: ”رَجُلٌ ذُو مَالٍ“۔ ”رَجُلٌ ذُو مَالٍ“۔ تو مذكر کے لیے ”ذُو“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے کہ وہ اسم جنس کو کسی کی صفت بناتا ہے۔ تو ”ذُو“ نے کیا فائدہ دیا؟ مال کو کس کی صفت بنا دیا کہ یہ مال والا کون ہے؟ رجل ہے، یہ فائدہ ”ذُو“ نے۔ اور مؤنث میں ”ذَاتُ“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو یہاں بھی ”صَلَاةٍ“ کا لفظ چونکہ مؤنث ہے تو اس کے لیے ”ذُو رُكُوعٍ“ نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ ”ذَاتِ رُكُوعٍ“۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی۔ ”وَالْقَهْقَهَةُ فِي صَلَاةٍ ذَاتِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ“ اور قہقہہ ایسی نماز میں جو رکوع اور سجدے والی ہے۔ ”وَالْقِيَاسُ أَنَّهَا لَا تَنْقُضُ“ اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ وضو کو نہ توڑے، قہقہہ جو ہے وضو کو نہ توڑے ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ“ قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ قہقہے سے وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے کیونکہ وضو ٹوٹتا ہے خروجِ نجاست سے اور قہقہہ لگانے کی صورت میں تو خروجِ نجاست نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْقِيَاسُ أَنَّهَا لَا تَنْقُضُ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور قیاس یہ ہے کہ یہ وضو کو نہ توڑے، اور یہی قول ہے امام شافعی رَحِمَهُ اللَّهُ کا، وہ فرماتے ہیں قہقہے سے وضو نہیں ٹوٹے گا ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِخَارِجٍ نَجِسٍ“ اس لیے کیونکہ یہ کوئی ایسی نکلنے والی چیز نہیں ہے جو ناپاک ہو، کوئی ناپاک نکلنے والی چیز نہیں ہے قہقہہ بھئی۔ وضو تو کس سے ٹوٹے گا؟ خارجِ نجس سے اور قہقہہ تو خارجِ نجس نہیں ہے بھئی، نہیں ہے۔ ”وَلِهَذَا لَمْ يَكُنْ حَدَثًا فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ وَسَجْدَةِ التِّلَاوَةِ وَخَارِجِ الصَّلَاةِ“ اور اسی وجہ سے یہ قہقہہ جو ہے یہ حدث نہیں ہے یعنی اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا ”فِي صَلَاةِ الْجِنَازَةِ“ کس میں؟ نمازِ جنازہ میں اور سجدۂ تلاوت میں ”وَخَارِجِ الصَّلَاةِ“ اور نماز سے خارج۔ امام شافعی رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں کہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے کیونکہ یہ خارجِ نجس نہیں ہے اور اسی وجہ سے تو نمازِ جنازہ میں کوئی قہقہہ لگائے تو وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگا... لگایا جاتا، احناف آپ بھی وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگاتے، سجدۂ تلاوت میں کوئی قہقہہ لگائے آپ بھی وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگاتے، نماز سے باہر کوئی قہقہہ لگائے آپ بھی وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں لگاتے، تو معلوم ہوا قہقہہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں ہے بھئی کیونکہ وضو ٹوٹتا ہے خارجِ نجس سے اور یہ خارجِ نجس نہیں ہے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل، ہم نے کیا ذکر کیا تھا؟ قہقہہ مطلقاً نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے یا ایسی نماز جو رکوع اور سجدے والی ہو؟ ہم کہتے ہیں کہ ایسی نماز جو رکوع اور سجدے والی ہے اس میں قہقہہ وضو کو توڑے گا۔ نمازِ جنازہ، نماز تو ہے لیکن اس کے اندر رکوع اور سجدہ نہیں، سجدۂ تلاوت اس کے اندر وہ بھی کامل نہیں ہے بھئی نماز، اور اسی طرح نماز سے باہر، تو ان میں وضو نہیں ٹوٹے گا۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَلَا مَنْ ضَحِكَ مِنْكُمْ قَهْقَهَةً فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ جَمِيعًا“ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا یہ قول ہے: ”أَلَا مَنْ ضَحِكَ مِنْكُمْ قَهْقَهَةً فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ جَمِيعًا“ ”أَلَا“ آگاہ رہو، حرفِ تنبیہ ہے، یا خبردار کے ساتھ ترجمہ بات کرتے ہیں یا سنو، جو بھی مناسب آپ کو لگے۔ ”أَلَا“ سنو! ”مَنْ ضَحِكَ مِنْكُمْ قَهْقَهَةً“ جو تم میں سے قہقہہ لگا کر ہنسا ہے ”فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ جَمِيعًا“ پس اسے چاہیے کہ وضو اور نماز دونوں کو لوٹا لے۔ وضو اور نماز دونوں کو لوٹا لے۔ دیکھا! اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قہقہے سے وضو ٹوٹ گیا ہے اسی لیے حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صرف نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دے رہے بلکہ وضو کے بھی لوٹانے کا حکم دے رہے ہیں۔ بھئی یہ ایک صحابی تھے، ان کی نظر کمزور تھی تو مسجد کے اندر یہ تشریف لائے، نماز کھڑی ہو چکی تھی، یہ اندر تشریف لائے نظر کمزور تھی کوئی گڑھا وغیرہ تھا اس کے اندر پاؤں آیا اور یہ گر گئے تو پچھلی صفوں میں چند صحابہ جو تھے وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے، قہقہہ لگا کر۔ تو نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے جب نماز مکمل فرمائی تو ان صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم میں سے جو جو قہقہہ لگا کر ہنسا تھا وہ اپنے نماز کو بھی لوٹائے اور اپنے وضو کو بھی لوٹائے، پھر وضو کرے اور پھر نماز پڑھے۔ تو یہ بطورِ ڈانٹ کے حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ڈانٹ کے طور پر کہ نماز جیسی عظیم الشان عبادت کے اندر قہقہہ لگایا، لہٰذا اب کیا کرو؟ وضو بھی دوبارہ کرو بھئی، بطورِ زجراً فرمایا، ڈانٹتے ہوئے فرمایا بھئی۔ اور نماز بھی کون سی تھی بھئی؟ رکوع اور سجدے والی، کامل نماز تھی تو معلوم ہوا کامل نماز کے اندر جو شخص قہقہہ لگائے اس کا اس کی نماز تو ٹوٹتی ہی ہے، وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے، وہ دوبارہ کرنا پڑے گا۔ اس پر آپ کے ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ بھئی، ان کا مقام تو بڑا اونچا ہے، بڑا اونچا مقام ہے۔ تمام دنیا کے اولیاء مل جائیں، ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں بھئی۔ صحابہ کو وہ مقام اللہ نے نصیب فرمایا کہ انسان حیران رہتا ہے، اور یہ مقام ان کا کیوں تھا؟ کیونکہ انہوں نے سرورِ کونین صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی زیارت کی تھی۔ تو وہ لمحہ جو اللہ نے ان کو نصیب فرما دیا سرورِ کونین کی زیارت کا، اس ایک لمحے کی بدولت ہی ان کا اتنا اونچا مقام بن گیا کہ اب اور کوئی ولی جو ان کے علاوہ ہو وہ اس مقام اور مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ تو ایک لمحے کا جب یہ اثر ہے تو جنہوں نے تمام زندگیاں حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے ساتھ گزاریں، ان کا کیا مقام ہوگا ان صحابہ کا، آپ خود اندازہ لگا لیجیے بھئی۔ صحابہ عجیب لوگ ہیں، ان کا ذکر بھی آتا ہے تو دل کے اندر حلاوتِ ایمانی محسوس ہوتی ہے بھئی، عجیب لذت محسوس ہوتی ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحابہ جن کو جن کا اتنا اونچا مقام تھا، انہوں نے کس طرح نماز جیسی عظیم الشان عبادت کے اندر قہقہہ لگایا؟ تو جواب یاد رکھیے بھئی، بھئی یہ پچھلی صفوں کے کچھ صحابہ تھے اور نو مسلم تھے، نئے نئے لوگ آتے تھے، مسلمان ہوتے تھے، ابھی ایمان پوری طرح دل میں بسا ہی نہیں اور ابھی انہیں نماز وغیرہ کے پورے احکامات کا علم ہی نہیں کہ نماز میں قہقہہ نہیں لگانا یا بات وغیرہ نہیں کرنی، تو یہ نئے نئے جو مسلمان تھے وہ صحابہ تھے بھئی۔ اب دیکھیے آگے کتاب پر: ”وَبِمِثْلِهِ يُتْرَكُ الْقِيَاسُ“ اور اس جیسی احادیث جو ہے، اس کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس جیسی حدیث، خبرِ مشہور وغیرہ کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ”وَالْأَثَرُ وَرَدَ فِي صَلَاةٍ مُطْلَقَةٍ“ اور حدیث جو وارد ہوئی ہے یہ مطلق صلاۃ کے بارے میں ہے یعنی کامل صلاۃ کے بارے میں، کامل نماز کے بارے میں یہ حدیث آئی ہے، یعنی یہ کون سی نماز تھی جس میں یہ واقعہ پیش آیا اور وضو لوٹانے کا حکم دیا؟ کامل نماز۔ تو اس کے بارے میں یہ حدیث آئی ہے۔ ”فَيَقْتَصِرُ عَلَيْهَا“ تو لہٰذا یہ بند رہے گی، یہ حکم بند رہے گا اسی نماز پر۔ یعنی قہقہے سے وضو ٹوٹنے کا حکم کب لگایا جائے گا؟ جب وہ کس قسم کی نماز میں قہقہہ انسان لگائے؟ رکوع اور سجدے والی میں۔ ”وَالْقَهْقَهَةُ مَا يَكُونُ مَسْمُوعًا لَهُ وَلِجِيرَانِهِ“ یہاں سے فرق بیان کر رہے ہیں کہ ایک ہے قہقہہ، ایک ہے ضِحْك بھئی اور ایک ہے تَبَسُّم بھئی، تَبَسُّم کو انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ یاد رکھیے تین چیزیں ہیں بھئی، تین قسم کا ہنسنا: ایک ہے قہقہہ، ایک ہے ضِحْك اور ایک ہے تَبَسُّم۔ تَبَسُّم جس میں آواز نہ ہو بھئی، آواز نہ ہو۔ اور زیادہ سے زیادہ اس میں دانت انسان کے نظر آ جائیں لیکن آواز بالکل نہ ہو۔ اس سے بڑھ کر ہے ضِحْك، ضِحْك وہ ہے جس میں کچھ آواز ہو لیکن اتنی ہلکی آواز ہے کہ صرف خود سنی، باقی نے نہیں سنی بھئی، باقی جو باقیوں کو جو سنائی نہ دے، تو یہ کیا ہے؟ ضِحْك۔ بالکل کوئی آپ کے ساتھ ہے وہ اگر بمشکل سن لے اور کوئی سنا... کسی کو عام جو سامنے بیٹھے ہیں یا کچھ ان کو سنائی نہ دے، یہ ہے ضِحْك بھئی۔ اور قہقہہ جس میں پاس بیٹھے ہوئے بھی ہنسی کی آواز سن لیں اس کو قہقہہ کہا جاتا ہے۔ تو یاد رکھیے قہقہہ جس میں پاس والوں کو بھی آواز سنائی دیتی ہے، اس کے اندر نم... اگر نماز میں لگائے تو وضو... نماز بھی ٹوٹے گی اور وضو بھی ٹوٹے گا۔ اور اگر ضِحْك ہو، صرف خود آواز سنی ہے اوروں کو سنائی نہیں دی، تو اس کے اندر نماز تو ٹوٹے گی لیکن وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور اگر تَبَسُّم ہے تو اس میں وضو بھی نہیں ٹوٹے گا اور نماز بھی نہیں ٹوٹے گی۔ تو اب بیان کر رہے ہیں قہقہہ، ضِحْك کسے کہتے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالْقَهْقَهَةُ مَا يَكُونُ مَسْمُوعًا لَهُ وَلِجِيرَانِهِ“ اور قہقہہ وہ ہے جو اس اس شخص کو خود بھی سنائی دے اور اس کے پڑوسی یعنی اس کے ساتھ والوں کو بھی۔ ”وَالضِّحْكُ مَا يَكُونُ مَسْمُوعًا لَهُ دُونَ جِيرَانِهِ“ اور ضِحْك وہ ہے کہ جو سنائی دے اس شخص کو ہی، نہ کہ اس کے اس کے ساتھ والوں کو۔ ”وَهُوَ عَلَى مَا قِيلَ يُفْسِدُ الصَّلَاةَ دُونَ الْوُضُوءِ“ اور یہ جو ضِحْك جو ہے، جیسا بنا بر اس قول کے جو کیا... جو کہا گیا ہے یہ نماز کو فاسد کرتا ہے نہ کہ وضو کو۔ ”وَالدَّابَّةُ تَخْرُجُ مِنَ الدُّبُرِ نَاقِضَةٌ فَإِنْ خَرَجَتْ مِنْ رَأْسِ الْجُرْحِ أَوْ سَقَطَ اللَّحْمُ مِنْهُ لَا يَنْقُضُ“ ”وَالدَّابَّةُ تَخْرُجُ مِنَ الدُّبُرِ“ دابہ کہتے ہیں، یاد رکھیے زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو دَابَّة کہا جاتا ہے، لیکن یہاں مراد ہے کیڑا بھئی۔ آگے صاحبِ ہدایہ بھی بتلائیں گے آگے شرح میں: ”وَالْمُرَادُ بِالدَّابَّةِ الدُّودَةُ“ کہ دابہ سے کیا مراد ہے؟ کیڑا۔ ”وَالدَّابَّةُ تَخْرُجُ مِنَ الدُّبُرِ“ اور وہ کیڑا جو نکلے دبر سے، یعنی انسان کے پاخانے کے مقام سے ”نَاقِضَةٌ“ یہ کیا ہے؟ وضو کو توڑنے والا ہے، اس سے وضو ٹوٹ جائے گا بھئی۔ ”فَإِنْ خَرَجَتْ مِنْ رَأْسِ الْجُرْحِ أَوْ سَقَطَ اللَّحْمُ“ اگر کیڑا نکلا ”مِنْ رَأْسِ الْجُرْحِ“ زخم سے، بدن پر کہیں اور زخم تھا، اس سے کیڑا نکلے ”أَوْ سَقَطَ اللَّحْمُ مِنْهُ“ یا اس زخم سے گوشت گر پڑے، گوشت کٹ کر کچھ گوشت کا ٹکڑا اس سے کٹ کر گر پڑا ”لَا يَنْقُضُ“ تو یہ وضو کو نہیں توڑے گا بھئی، یہ وضو کو نہیں توڑے گا۔ ”وَالْمُرَادُ بِالدَّابَّةِ الدُّودَةُ“ اور دابہ سے مراد جو ہے وہ دُودَة، کیڑا ہے بھئی۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، بھئی یہ انہوں نے ذکر کیا کہ اگر زخم سے کیڑا نکلا یا زخم سے گوشت کا ٹکڑا کٹ کر گر پڑا تو اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا۔ کیوں نہیں ٹوٹے گا؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وہ کیڑا خود نجس نہیں، ناپاک نہیں، ہاں اس کے اوپر کچھ خون یا پیپ وغیرہ لگی ہوئی ہے وہ نجس ہے لیکن کیڑا خود نجس نہیں۔ اور جو کیڑے پر لگی ہوئی ہے نجاست وہ تو تھوڑی سی ہے بھئی، وہ قلیل ہے، اور آپ نے پڑھا ہے قلیل نجاست وہ بدن سے خارج ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، الّا یہ کہ سبیلین سے خارج ہو، سبیلین کے اندر قلیل نجاست بھی کیا ہے؟ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ۔ اسی لیے کہا کہ سبیلین سے اگر... دبر سے اگر کوئی کیڑا نکلے اب اس پر بھی قلیل نجاست ہے لیکن قلیل نجاست اگر سبیلین سے خارج ہوگی تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ النَّجِسَ مَا عَلَيْهَا وَذَلِكَ قَلِيلٌ“ اور یہ حکم اس وجہ سے کیونکہ ناپاک وہ چیز ہے ”عَلَيْهَا“ جو اس کیڑے پر ہے ”وَذَلِكَ قَلِيلٌ“ اور وہ تو قلیل ہے، وہ نجاست تو تھوڑی سی ہے ”وَهُوَ حَدَثٌ فِي السَّبِيلَيْنِ دُونَ غَيْرِهِمَا“ اور وہ تھوڑی نجاست وہ حدث ہے سبیلین کے اندر ”دُونَ غَيْرِهِمَا“ نہ کہ ان دونوں کے علاوہ میں۔ ”فَأَشْبَهَ الْجُشَاءَ وَالْفُسَاءَ“ ”جُشَاءٌ“ جُشَاء کہتے ہیں ڈکار کو بھئی، ڈکار۔ ”فُسَاءٌ“ فُسَاء کہتے ہیں بھئی پاخانے کے مقام سے جو ہوا خارج ہو اگر بغیر آواز کے ہو اسے عربی میں فُسَاء کہتے ہیں۔ اگر آواز کے ساتھ ہو اس کے لیے عربی میں لفظ ہے ”ضُرَاطٌ“ بھئی، ضاد، را، الف، طا، ضُرَاط، ضاد، را، الف، طا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَأَشْبَهَ الْجُشَاءَ وَالْفُسَاءَ“ تو یہ مشابہ ہو گیا جُشَاء اور فُسَاء کے۔ یعنی اگر یہ کیڑا نکلا ہے دبر سے تو یہ مشابہ ہوا فُسَاء کے، اور فُسَاء میں بھی اگرچہ قلیل نجاست خارج ہوئی ہے لیکن وہ کیا ہے نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ، لہٰذا یہاں بھی اگر دبر سے خارج ہوا یہ کیڑا تو یہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ۔ اور اگر یہ کیڑا بدن کے کسی اور حصے، زخم وغیرہ سے نکلا ہے تو یہ، یا اسی طرح جو گوشت کٹ کر گر... گرا ہے، یہ مشابہ ہو گئے جُشَاء کے، کس کے؟ جُشَاء کے۔ اور جُشَاء کے اندر جو ہوا انسان ڈکار لیتا ہے، یہ ہوا کہاں سے آئی بھئی؟ معدے سے، اور معدہ کیا ہے؟ محلِ نجاست ہے، لہٰذا اس ہوا کے ساتھ بھی کچھ نجاست خارج ہوئی لیکن وہ قلیل ہے اور اس کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ دونوں مشابہ ہوئے جُشَاء اور فُسَاء کے۔ ”بِخِلَافِ الرِّيحِ الْخَارِجَةِ مِنَ الْقُبُلِ وَالذَّكَرِ“ بخلاف اس ہوا کے جو نکلے ”مِنَ الْقُبُلِ وَالذَّكَرِ“۔ بھئی مرد اور عورت کی جو آگے والی شرمگاہ ہے، عورت کے لیے قُبُل کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مرد کے لیے ذَكَر کا، تو وہ ہوا جو خارج ہوئی قُبُل سے اور ذَكَر سے یعنی مرد اور عورت کے آگے والی شرمگاہ سے اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ اس سے... ”لِأَنَّهَا لَا تَنْبَعِثُ عَنْ مَحَلِّ النَّجَاسَةِ“ ”انْبَعَثَ“ کے معنی چلنا، روانہ ہونا۔ اس لیے کیونکہ وہ ہوا جو ہے وہ محلِ نجاست میں سے نہیں چلی، محلِ نجاست سے نہیں اٹھی بھئی۔ کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے، بھئی اگلے حصے سے تو ہوا خارج ہی نہیں ہوتی لیکن کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے اگر ہوا خارج ہوئی تو وہ معلوم ہوا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اور وہ محلِ نجاست سے نہیں چلی، وہاں سے نہیں اٹھی تو لہٰذا اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ ”لِأَنَّهَا لَا تَنْبَعِثُ عَنْ مَحَلِّ النَّجَاسَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ نہیں اٹھی محلِ نجاست سے۔ ”حَتَّى لَوْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ مُفْضَاةً“ یہاں تک کہ اگر عورت مُفْضَاة ہوئی ”يُسْتَحَبُّ لَهَا الْوُضُوءُ“ بھئی مُفْضَاة، مُفْضَاة وہ عورت کہ کسی بیماری کی وجہ سے اس کے سبیلین مل گئے ہوں، ایک ہی راستہ بن گیا ہو بھئی، اس عورت کو کیا کہیں گے؟ مُفْضَاة۔ اگر کوئی عورت مُفْضَاة ہے اور اس کے قُبُل سے یعنی اگلے حصے سے ہوا خارج ہوئی تو اس عورت کے لیے مستحب ہے کہ وضو کر لے۔ اگلے حصے سے جو ہوا خارج ہو وہ تو نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں لیکن چونکہ اس یہ عورت تو مُفْضَاة ہے تو اس میں احتمال ہے چونکہ شاید یہ ہوا اگلے مقام سے نہ خارج ہوئی ہو بلکہ کہاں سے آئی ہو؟ پچھلے مقام سے، تو اس احتمال کی وجہ سے اس کے لیے مستحب ہے، واجب نہیں بلکہ کیا ہے؟ مستحب ہے۔ ”لَوْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ مُفْضَاةً يُسْتَحَبُّ لَهَا الْوُضُوءُ“ اور اگر عورت مُفْضَاة ہو تو اس عورت کے لیے وضو کرنا مستحب ہے وہ کون سی ہوا کی بات ہو رہی ہے جو کہاں سے خارج ہو؟ اگلے حصے سے، اس میں اس کے لیے مستحب ہے کہ وضو کر لے ”لِاحْتِمَالِ خُرُوجِهَا مِنَ الدُّبُرِ“ اس لیے کیونکہ یہ احتمال موجود ہے کہ یہ ہوا خارج ہوئی ہو دبر سے۔ ”فَإِنْ قُشِرَتْ نَفْطَةٌ فَسَالَ مِنْهَا مَاءٌ أَوْ صَدِيدٌ أَوْ غَيْرُهُ“ ”فَإِنْ قُشِرَتْ نَفْطَةٌ“ ”نَفْطَةٌ“ کہتے ہیں آبلے کو، آبلہ، چھالا بھئی چھالا۔ بھئی کہیں کچھ بدن کا کوئی حصہ کچھ جل جائے، آپ دیکھتے ہیں وہاں جلد پھول جاتی ہے، اس کے اندر پانی جمع ہو جاتا ہے، یہ ہے آبلہ اور چھالا بھئی، آبلہ اور چھالا۔ تو ”فَإِنْ قُشِرَتْ نَفْطَةٌ“ اگر آبلے کو چھیل دیا گیا ”فَسَالَ مِنْهَا مَاءٌ“ تو اس سے پانی بہہ نکلا ”أَوْ صَدِيدٌ“ یا پیپ بہہ نکلی ”أَوْ غَيْرُهُ“ یا ان کے علاوہ کوئی اور چیز بہہ نکلی ”إِنْ سَالَ عَنْ رَأْسِ الْجُرْحِ نَقَضَ“ اگر وہ پیپ یا پانی جو ہے اگر بہہ جائے زخم کے سر سے، ”نَقَضَ“ تو کیا کرے گا؟ وضو کو توڑ دے گا۔ ”وَإِنْ لَمْ يَسِلْ لَا يَنْقُضُ“ اور اگر وہ نہ بہے زخم کے منہ سے، زخم کے اس چھالے کے منہ پر ہی رہتا ہے، ”لَا يَنْقُضُ“ تو پھر یہ پانی یا پیپ جو ہے وضو کو نہیں توڑے گا۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَنْقُضُ فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور امام زفر رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں کہ یہ پانی یا پیپ وغیرہ جو چھالے سے نکلے ہیں یہ توڑ دیں گے وضو کو ”فِي الْوَجْهَيْنِ“ دونوں صورتوں میں، یعنی چاہے چھالے کے اوپر ہی رہیں، چاہے چھالے سے بہہ جائیں، دونوں صورتوں میں یہ وضو کو توڑ دے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَنْقُضُ فِي الْوَجْهَيْنِ“ امام شافعی رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں یہ وضو کو نہیں توڑیں گے۔ امام زفر فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں وضو کو یہ توڑ دیں گے۔ امام شافعی رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے ہیں چاہے زخم کے منہ اس چھالے کے منہ پر رہے وہ پانی چاہے بہہ جائے، دونوں صورتوں میں یہ وضو کو نہیں توڑیں گے۔ ”وَهِيَ مَسْأَلَةُ الْخَارِجِ مِنْ غَيْرِ السَّبِيلَيْنِ“ اور یہ خارج من غیر السبیلین کا مسئلہ ہی ہے بھئی۔ یہ وہی مسئلہ ہے بھئی، پیچھے ذکر ہو چکا کہ نجاست بدن سے جہاں سے بھی نکلے، چاہے پیپ ہو، چاہے خون ہو یا قئے ہو، جہاں سے بھی نکلے وہ سبیلین کے علاوہ، امام شافعی رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے تھے سبیلین کے علاوہ جہاں سے بھی نجاست نکلے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اور امام زفر رَحِمَهُ اللَّهُ فرماتے تھے کہ چاہے وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو وہ نجاست، اس سے کیا ہوگا؟ وضو ٹوٹ جائے گا۔ جبکہ ہمارے نزدیک تفصیل تھی کہ اگر قلیل ہو تو پھر وہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں اور کثیر ہو تو نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے۔ یہ کہاں پر؟ غیرِ سبیلین میں، اور سبیلین میں تو قلیل بھی کیا ہے؟ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے۔ تو یہ وہی مسئلہ ہے۔ ”وَهَذِهِ الْجُمْلَةُ نَجِسَةٌ“ اور یہ سب نجس ہیں بھئی، یہ جو پانی یا پیپ وغیرہ چھالے سے نکلے ہیں یہ سب کیا ہیں؟ نجس ہیں۔ بھئی پیپ کی تو بات سمجھ میں آئی، یہ پانی جو اس سے نکلا ہے یہ کیسے نجس ہے؟ یہ ناپاک کیسے؟ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الدَّمَ يَنْضَجُ فَيَصِيرُ قَيْحًا“ اس لیے کیونکہ اولاً جو ہے خون ہوتا ہے اور وہ خون پک جاتا ہے تو وہ کچ لہو بن جاتا ہے۔ ”نَضَجَ يَنْضَجُ“ کے معنی پک جانا، اور قَیْح کہتے ہیں کچ لہو کو بھئی، کچ لہو۔ بھئی زخم کے اندر خون اور پیپ ملی ہوئی ہو اس کو کہتے ہیں کچ لہو، کیا کہتے ہیں؟ کچ لہو۔ تو اولاً کیا ہوگا زخم وغیرہ میں؟ خون ہوگا۔ پھر وہ خون پک کر کیا بن جائے گا؟ کچ لہو، کچھ پیپ بن گئی اور کچھ خون ہے۔ پھر اس کے بعد اور پکے گا اور سارا ہی پیپ میں بدل جائے گا، وہ ہے صَدِيد بھئی، وہ کیا ہے؟ صَدِيد، پیپ بن جائے گی۔ اب خون نہیں ہے صرف پیپ ہے۔ اور پھر اس کے بعد اور پکے گا اور پھر صرف پانی رہ جائے گا بھئی پانی، تو یہ اسی کی صورتیں بدل گئیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ الْجُمْلَةُ نَجِسَةٌ لِأَنَّ الدَّمَ يَنْضَجُ فَيَصِيرُ قَيْحًا ثُمَّ يَزْدَادُ نَضْجًا فَيَصِيرُ صَدِيدًا ثُمَّ يَصِيرُ مَاءً“ اور یہ سب ناپاک ہیں، اس لیے کیونکہ خون جو ہے وہ پکتا ہے تو وہ قیح وہ کچ لہو بن جاتا ہے، پھر وہ اور بڑھ جاتا ہے پکنے کے اعتبار سے یعنی اور پک جاتا ہے تو وہ پیپ ہو جاتا ہے، پھر وہ پانی بن جاتا ہے۔ ”هَذَا إِذَا قَشَرَهَا فَخَرَجَ بِنَفْسِهِ“ یہ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ کیا ذکر کیا اوپر متن کے اندر مسئلہ؟ کہ دانے کو چھالے کو چھیل دیا گیا اور اس میں سے پانی یا پیپ نکلی اور وہ پانی اور پیپ اگر زخم کے چھالے کے منہ پر رہے تو نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں اور اگر بہہ گئے تو نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہیں۔ کہتے ہیں یہ اس صورت میں ہے یہ حکم: ”إِذَا قَشَرَهَا فَخَرَجَ بِنَفْسِهِ“ جب اس نے چھالے کو چھیلا تو یہ پانی یا پیپ خود بہے، خود نکل آئے۔ اس نے دبایا نہیں صرف کیا کیا اوپر سے؟ چھیل دیا تو وہ خود بہے۔ ”وَأَمَّا إِذَا عَصَرَهَا فَخَرَجَ“ باقی اگر اس نے اس کو نچوڑا یعنی دبایا ”فَخَرَجَ بِعَصْرِهِ“ پھر وہ پیپ یا پانی نکلا اس کے نچوڑنے سے یعنی اس کے دبانے سے ”فَلَا يَنْقُضُ“ پھر یہ وضو کو نہیں توڑے گا۔ وہ پانی یا پیپ خود نکلے تو یہ وضو کو توڑ دے گا، اس کے دبانے سے نکلا ہے خود نہیں نکل رہا تھا لیکن اس نے دبایا تو نکل آئے، تو اس صورت میں یہ وضو کو نہیں توڑے گا۔ کیوں؟ کیوں نہیں توڑے گا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُخْرَجٌ“ کیونکہ یہ جو دبانے سے نکلا ہے یہ مُخْرَج ہے، مُخْرَج کا معنی نکالا گیا، اسمِ مفعول کا صیغہ ہے۔ اور وضو ٹوٹتا تھا جب کیا ہو؟ خَارِج، خود نکلنے والی چیز ہو خود، تو خارج... یہ تو یہ خارج ہے ہی نہیں، یہ تو کیا ہے؟ مُخْرَج ہے، نکالا گیا ہے، نکلنے والا نہیں بلکہ نکالا گیا ہے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُخْرَجٌ وَلَيْسَ بِخَارِجٍ“ کیونکہ یہ مُخْرَج ہے نکالا گیا ہے، اور یہ خود نکلنے والا نہیں۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ یہ صاحبِ ہدایہ نے فرمایا، یہ ان کا قول ہے بھئی یاد رکھیے، کہ اگر دبانے سے وہ پیپ یا پانی نکلا ہے تو پھر نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ نہیں چاہے بہہ ہی کیوں نہ جائے اور اگر بغیر دبائے نکلا ہے تو پھر یہ نَاقِضٌ لِلْوُضُوءِ ہے۔ یہ کس کے نزدیک؟ صاحبِ ہدایہ کے نزدیک بھئی صاحبِ ہدایہ، لیکن یاد رکھیے فتویٰ اس قول پر نہیں ہے۔ فتویٰ اسی دوسرے قول پر ہے کہ چاہے وہ پانی اور پیپ خود نکلے یا اس کے دبانے سے نکلے اور تجاوز کر جائے بڑھ جائے اس جگہ کی طرف جس کے بارے میں پاک کرنے کا حکم ہے یعنی بہہ جائے تو بس اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا، چاہے وہ خارج ہو چاہے وہ مُخْرَج ہو نکالا گیا ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ جب دبانے سے بھی نکلا، مُخْرَج نکالا گیا ہے، جب نکالا گیا ہے تو خارج ہو گیا یا نہیں بھئی؟ خارج تو ہو گیا، تو ہر صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا، فتویٰ اس قول پر ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔