وَالْغَسْلُ هُوَ الْإِسَالَةُ، وَالْمَسْحُ هُوَ الْإِصَابَةُ، وَحَدُّ الْوَجْهِ مِنْ قِصَاصِ الشَّعْرِ إِلَى أَسْفَلِ الذَّقَنِ، وَإِلَى شَحْمَتَيِ الْأُذُنَيْنِ، لِأَنَّ الْمُوَاجَهَةَ تَقَعُ بِهَٰذِهِ الْجُمْلَةِ، وَهُوَ مُشْتَقٌّ مِنْهَا، وَالْمِرْفَقَانِ وَالْكَعْبَانِ يَدْخُلَانِ فِي الْغَسْلِ عِنْدَنَا، خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى۔ گزشتہ سبق میں کتاب الطہارات ہم نے شروع کی تھی، اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ وضو کے فرائض چار ہیں: تین اعضاء کا دھونا—یعنی چہرے کا، ہاتھوں کا، اور پاؤں کا—اور چوتھی چیز سر کا مسح ہے، یہ بھی وضو میں فرض ہے، اور دلیل یہ آیت ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: وَالْغَسْلُ هُوَ الْإِسَالَةُ: اور غسل یعنی دھونا جو ہے وہ پانی کا بہانا ہے—أَيِ: إِسَالَةُ الْمَاءِ—وَالْمَسْحُ هُوَ الْإِصَابَةُ: اور مسح جو ہے وہ پانی کا پہنچانا ہے—أَيِ: إِصَابَةُ الْمَاءِ۔ تو دھونا کس کو کہتے ہیں؟ پانی کو کسی چیز پر بہا دیا جائے، یہ ہے دھونا۔ اور مسح کرنا: پانی کو اس تک پہنچا دیا جائے۔ اب غسل اور مسح ان کا معنی تو ظاہر تھا، ہر ایک جانتا ہے، پھر صاحبِ ہدایہ نے اس کو ذکر کیوں کیا؟ جواب یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ دراصل اس کے ذریعے رد کرنا چاہتے ہیں اور جواب دینا چاہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کو۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دھونے میں ملنا بھی شرط ہے، اعضاء کو دھوتے ہوئے صرف پانی کا بہانا کافی نہیں بلکہ ہاتھ سے ملنا (دَلْک) بھی ضروری ہے۔ صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ غسل کا ذکر قرآن میں آیا ہے اور غسل صرف پانی بہا دینے کا نام ہے، اس میں دَلک کی شرط نہیں، لہٰذا ملنا ضروری نہیں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسح جو ہے وہ تین مرتبہ کیا جائے گا، سر کا مسح تین مرتبہ کیا جائے گا۔ صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں کہ مسح جو ہے وہ صرف پانی کا پہنچا دینا ہے، اس میں تین دفعہ کی شرط نہیں ہے۔ اور یاد رکھیے، غسل پانی کا بہانا ہے اور اس میں تقاطر ضروری ہے، اس عضو سے کم از کم چند قطرے پانی کے ٹپک جائیں تو پھر ہم کہیں گے کہ اس عضو کو اس نے دھویا ہے۔ اگر اتنا قلیل پانی استعمال کیا کہ چند قطرے بھی نہیں ٹپکے تو پھر غسل نہیں ہوا اور وضو نہیں ہوگا۔ اگر چند قطرے بھی نہیں ٹپکے یہ تو مسح ہو گیا، غسل تو نہ ہوا، حالانکہ غسل ضروری ہے اور غسل کے اندر چند قطروں کا ٹپکنا ضروری ہے۔ وَحَدُّ الْوَجْهِ مِنْ قِصَاصِ الشَّعْرِ إِلَى أَسْفَلِ الذَّقَنِ: اب چار فرائض ذکر ہوئے، ان چار فرضوں میں سے پہلا فرض کیا ہے؟ چہرے کا دھونا۔ اب چہرے کے کتنے حصے کو دھونا فرض ہے؟ چہرے کی حد کیا ہے؟ صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں: چہرے کی حد جو ہے وہ بالوں کے اگنے کی جگہ سے—"قِصَاص" کہتے ہیں بالوں کے اگنے کی جگہ، جہاں ماتھے پر بال سر کے شروع ہوتے ہیں—یہاں سے لے کر ٹھوڑی کے نچلے حصے تک—"ذَقَن" کہتے ہیں ٹھوڑی کو، اسفل نچلا حصہ—ٹھوڑی کے نچلے حصے تک، یہ لمبائی کے اندر چہرے کی حد ہے۔ ماتھے پر جہاں بال اگنا شروع ہوتے ہیں سر کے، یہاں سے لے کر ٹھوڑی کے نچلے حصے تک یہ لمبائی میں چہرے کی حد ہے۔ وَإِلَى شَحْمَتَيِ الْأُذُنَيْنِ: اور چوڑائی میں دونوں کانوں کی جو لو ہیں ان تک۔ "شَحْمَة" کہتے ہیں کان کا جو نچلا نرم حصہ ہے، اس کو شحمہ کہتے ہیں، کان کی لو۔ اور دونوں کانوں کی لو یعنی دونوں جانب، تو ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک یہ سارا چہرے کے اندر داخل ہے، یہ چوڑائی میں چہرے کی حد ہو گئی۔ تو چہرے کی حد لمبائی میں بھی بیان کر دی اور چوڑائی میں بھی، اور اس درمیان والے سارے حصے کو دھونا فرض ہے کیونکہ یہ "وَجْه" کے اندر داخل ہے، اور قرآن میں بھی چہرے کے دھونے کا حکم ہے۔ "قِصَاص" مثلث القاف ہے: قِصاص، قَصاص، قُصاص، تینوں حرکتیں جائز ہیں، اور معنی وہی بالوں کے اگنے کی جگہ ہے۔ لِأَنَّ الْمُوَاجَهَةَ تَقَعُ بِهَٰذِهِ الْجُمْلَةِ: دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ چہرے کی آپ نے یہ حد کیوں بیان کی؟ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مواجہت جو ہے—مواجہت کہتے ہیں آمنا سامنا کرنا—کسی سے آمنا سامنا اس سارے حصے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور اسی سے "وَجْه" مشتق ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ مواجہت باب مفاعلہ ہے اور یہ مزید فیہ ہے، اور وجہ ثلاثی مجرد ہے، اور ثلاثی مجرد سے مزید فیہ کا اشتقاق ہوتا ہے، نہ کہ مزید فیہ سے ثلاثی مجرد کا۔ جواب یہ ہے کہ اگر ثلاثی مزید فیہ ایک معنی کے اندر ثلاثی مجرد سے زیادہ مشہور ہو، تو وہاں ثلاثی مجرد کو ثلاثی مزید فیہ سے مشتق کہہ دیا جاتا ہے، جیسے علامہ زمخشری نے تفسیر کشاف میں رَعْد کو اِرْتَعَدَ سے مشتق قرار دیا۔ وَالْمِرْفَقَانِ وَالْكَعْبَانِ يَدْخُلَانِ فِي الْغَسْلِ عِنْدَنَا خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: اور کہنیاں اور دونوں ٹخنے یہ داخل ہیں دھونے میں ہمارے نزدیک، بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ﴾، اور آگے فرمایا: ﴿وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾۔ تو الیٰ کے بعد مرافق اور کعبین کا ذکر ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کہنیوں اور ٹخنوں کا دھونا بھی فرض ہے یا ان سے نیچے تک دھونا فرض ہے؟ ہمارے فقہاء کے نزدیک کہنیاں اور ٹخنے دھونے کے حکم میں داخل ہیں، ان کا دھونا بھی فرض ہے۔ اگر ان کو نہیں دھوئیں گے تو وضو ہی نہیں ہوگا، اور وضو نہیں ہوا تو نماز بھی نہیں ہوگی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرافق اور کعبین غایہ ہیں، اور غایہ مغیا کے حکم میں داخل نہیں ہوتا، جیسے قرآن میں ہے: ﴿ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ﴾، تو الی اللیل میں رات غایہ ہے اور بالاتفاق رات روزے کے حکم میں داخل نہیں، روزہ دن کا ہوتا ہے رات کا نہیں۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ غایہ دو قسم پر ہے: غایۂ اسقاط، اور غایۂ اثبات۔ اگر غایہ مغیا کی جنس میں سے ہو، تو وہ مغیا کے حکم میں داخل رہتا ہے۔ اور اگر غایہ مغیا کی جنس میں سے نہ ہو، تو وہ مغیا کے حکم سے خارج رہتا ہے۔ عربی زبان میں "يَد" کا اطلاق انگلیوں سے لے کر کندھے تک پورے بازو پر ہوتا ہے۔ تو کہنی ہاتھ کی جنس میں سے ہے، اگر ﴿إِلَى الْمَرَافِقِ﴾ نہ ہوتا تو پورا بازو کندھے تک دھونا پڑتا۔ تو ﴿إِلَى الْمَرَافِقِ﴾ نے غایۂ اسقاط کا فائدہ دیا کہ کہنی سے اوپر والے حصے کو ساقط کر دیا، لیکن کہنی خود دھونے میں داخل رہی۔ اسی طرح "رِجْل" کا اطلاق پوری ٹانگ پر ہوتا ہے، ﴿إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ نے ٹخنے سے اوپر والے حصے کو ساقط کر دیا، لیکن ٹخنے خود دھونے میں داخل رہے۔ اور روزے کے باب میں ﴿إِلَى اللَّيْلِ﴾ غایۂ اثبات ہے، کیونکہ امساک تو تھوڑی دیر کے لیے بھی ہوتا ہے، الی اللیل نے اس کو کھینچ کر رات تک پہنچا دیا، لیکن رات خود روزے میں داخل نہیں ہوئی۔ وَالْكَعْبُ هُوَ الْعَظْمُ النَّاتِئُ، وَهُوَ الصَّحِيحُ: کعب وہ ابھری ہوئی ہڈی ہے، پاؤں کے دونوں طرف جو دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں ان کو عربی زبان میں کعب کہتے ہیں۔ اور اسی کعب سے "کاعب" کا لفظ بھی ہے، وہ لڑکی جس کی چھاتی ابھر آئے اسے کاعب کہتے ہیں، جیسے قرآن میں ہے: ﴿وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا﴾۔ اور یہی قول صحیح ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت تھی کہ تسمہ باندھنے کے مقام پر جو ہڈی ہے وہ کعب ہے، لیکن وہ قول درست نہیں کیونکہ آیت میں ﴿إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ تثنیہ آیا ہے، یعنی ہر پاؤں میں دو ٹخنے ہیں، اور تسمہ باندھنے کے مقام پر ہڈی ہر پاؤں میں ایک ہی ہوتی ہے۔ تو دو ٹخنے وہی ہیں جو پاؤں کے اطراف میں ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں۔ وَالْمَفْرُوضُ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ مِقْدَارُ النَّاصِيَةِ وَهُوَ رُبُعُ الرَّأْسِ: اور سر کے مسح میں جو فرض مقدار ہے وہ ناصیہ کی مقدار ہے، اور ناصیہ سر کا چوتھائی حصہ ہے۔ ناسیہ سر کا اگلا حصہ ہے جو پیشانی کے اوپر ہوتا ہے، اور یہ چوتھائی سر بنتا ہے۔ دلیل: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کی سباطہ (کوڑے کرکٹ کی جگہ) پر تشریف لائے، پیشاب کیا اور وضو فرمایا، اور اپنی ناصیہ پر اور اپنے دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھائی سر پر مسح کیا، اس سے کم مقدار پر مسح کسی حدیث میں ثابت نہیں۔ معمول تو پورے سر کا تھا، لیکن جواز بتلانے کے لیے کم سے کم چوتھائی پر فرمایا، معلوم ہوا کہ چوتھائی فرض ہے۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ خبرِ واحد سے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں اور قرآن میں ناصیہ کا ذکر نہیں، تو جواب یہ ہے کہ کتاب اللہ میں سر کے مسح کا حکم مجمل تھا کہ کتنے حصے پر کیا جائے، اور حدیث نے اس اجمال کا بیان کیا ہے، اور مجمل کے لیے خبرِ واحد بیان بن سکتی ہے۔ اور یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف حجت ہے جو تین بالوں پر مسح کو کافی سمجھتے ہیں، اور امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی حجت ہے جو پورے سر کے استیعاب کو فرض کہتے ہیں۔ اور بعض روایات میں ہمارے فقہاء نے ہاتھ کی تین انگلیوں کی مقدار کو بھی فرض کہا ہے کیونکہ تین انگلیاں پانچ کا اکثر ہیں اور اکثر کل کے حکم میں ہوتا ہے۔ وَسُنَنُ الطَّهَارَةِ: غَسْلُ الْيَدَيْنِ قَبْلَ إِدْخَالِهِمَا الْإِنَاءَ إِذَا اسْتَيْقَظَ الْمُتَوَضِّئُ مِنْ نَوْمِهِ۔ فرائض کے بعد اب صاحبِ ہدایہ وضو کی سنتیں بیان فرما رہے ہیں۔ سنت شریعت کا وہ طریقہ ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پابندی فرمائی ہو اور کبھی جواز بتلانے کے لیے ترک بھی کیا ہو۔ پہلی سنت: وضو کرنے والا جب نیند سے بیدار ہو تو برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو دھو لے۔ حدیث: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ"۔ جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ ہرگز اپنے ہاتھ کو برتن میں نہ ڈالے یہاں تک کہ اس کو تین مرتبہ دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے۔ عقلی دلیل: ہاتھ آلۂ تطہیر ہے، باقی اعضاء کو اسی کے ذریعے دھونا ہے، تو عقل کا تقاضا ہے کہ پہلے آلے کو صاف کیا جائے پھر باقی اعضاء کو۔ طریقہ: اگر برتن چھوٹا ہو تو بائیں ہاتھ سے برتن اٹھا کر پہلے دایاں ہاتھ دھوئے، پھر بایاں۔ اگر برتن بڑا ہو تو کسی لوٹے یا پیالے کے ذریعے پانی لے کر دھوئے۔ اگر چھوٹا برتن نہ ہو تو بائیں ہاتھ کی انگلیاں ملا کر تھوڑا پانی نکال کر دایاں ہاتھ دھوئے، پھر بایاں۔ اور یہ دھونا کلائی کے جوڑ (رُسْغ) تک ہوگا، کیونکہ صفائی کے لیے اتنے حصے کا دھونا کافی ہے۔ انگوٹھی، چھلا اور نیل پالش کا حکم: اگر کسی نے انگوٹھی یا چھلا پہنا ہو تو وضو کرتے ہوئے اسے ہلانا ضروری ہے تاکہ نیچے پانی پہنچ جائے۔ اور اگر عورت نے نیل پالش لگائی ہو تو چونکہ اس کی تہ بن جاتی ہے اور پانی نیچے نہیں پہنچتا، لہٰذا نیل پالش کی موجودگی میں وضو نہیں ہوگا۔ البتہ تیل لگا ہو تو تیل کے باوجود وضو ہو جائے گا۔ چلیے بس بھئی، هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔