الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعْلَى مَعَالِمَ الْعِلْمِ وَأَعْلَامَهُ، وَأَظْهَرَ شَعَائِرَ الشَّرْعِ وَأَحْكَامَهُ، وَبَعَثَ رُسُلًا وَأَنْبِيَاءَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ هَادِينَ، وَأَخْلَفَهُمْ عُلَمَاءَ إِلَى سَنَنِ سُنَنِهِمْ دَاعِينَ۔ یہ خطبہ ہے ہدایہ کا۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعْلَى مَعَالِمَ الْعِلْمِ: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے بلند کیا علم کی نشانیوں کو۔ "أَعْلَى، يُعْلِي، إِعْلَاءً" کا معنی: بلند کرنا۔ "مَعَالِم" جمع ہے "مَعْلَم" کی، اور مَعْلَم کہتے ہیں نشانِ راہ کو، اسی طرح نشانی کو بھی۔ تو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے بلند کیا، اونچا کیا علم کی نشانیوں کو، وَأَعْلَامَهُ: "أَعْلَام" جمع ہے "عَلَم" کی، علم علامت کو بھی کہتے ہیں، جھنڈے کو بھی کہتے ہیں، پہاڑ کو بھی کہتے ہیں، اور اسی طرح قوم کے سردار کو بھی۔ "وَأَعْلَامَهُ" میں ہا ضمیر راجع ہے علم کو۔ وہ اللہ جس نے بلند کیا علم کی نشانیوں کو اور علم کے جھنڈوں کو۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے بلند کیا علم کی نشانیوں کو اور علم کے جھنڈوں کو۔ علم کی نشانیوں کو بلند کیا یعنی اللہ نے علم کو فضیلت نصیب فرمائی، علم کی پیروی کی جاتی ہے اور اس کا اتباع کیا جاتا ہے۔ اور اعلام، علم کے جھنڈے، اس سے مراد علماء ہیں بھئی۔ علم کے جھنڈوں سے کیا مراد ہیں؟ علماء ہیں، کہ ان کو بھی اللہ نے بلند کیا ہے، ان کو فضیلت نصیب فرمائی ہے، بلند مقام نصیب فرمایا ہے۔ وَأَظْهَرَ شَعَائِرَ الشَّرْعِ: "أَظْهَرَ" کا عطف "أَعْلَى" پر ہے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ظاہر کیا شَعَائِرَ الشَّرْعِ۔ "شَعَائِر" یہ جمع ہے "شِعَارَة" کی، اور بعض علماء لکھتے ہیں یہ جمع ہے "شَعِيرَة" کی۔ شِعَارَة یا شَعِيرَة علامتی کام کو کہا جاتا ہے، وہ کام جسے بطورِ علامت کے کیا جاتا ہے۔ یہاں شِعَارَة اور شَعِيرَة کا معنی ہے شریعت کی وہ علامتی عبادت جس کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہو۔ ایک عام عبادت ہے، ایک وہ عبادت جو علامت ہے بھئی، دیکھنے والوں کو بھی پتہ چلتا ہے یہ مسلمان ہے۔ ایک آپ گھر کے اندر نماز پڑھتے ہیں، ایک مسجد کے اندر باجماعت نماز پڑھتے ہیں۔ باجماعت نماز کو سب دیکھتے ہیں اور یہ کفر اور اسلام میں فرق کرنے والی ہے۔ جو بھی آپ کو یہ نماز پڑھتا ہوا دیکھے گا، کفار بھی دیکھیں گے وہ سمجھ جائیں گے کہ آپ مسلمان ہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح اذان ہے بھئی، اذان بھی شعائرِ اسلام میں سے ہے۔ اذان کسی بستی میں ہوئی، آپ کو اذان سنتے ہی پتہ چل گیا معلوم ہوا یہ مسلمانوں کی بستی ہے یا یہاں مسلمان رہتے ہیں بھئی۔ اسی طرح عید کی نماز ہے بھئی، جمعے کی نماز ہے جس میں بڑا جمِ غفیر ہوتا ہے، دیکھنے والوں کو بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ لوگ اہلِ اسلام ہیں بھئی۔ اسی طرح حج ہے وغیرہ بھئی۔ تو شعائرِ اسلام وہ عبادات جو اسلام کے لیے علامت ہیں، بطورِ اشتہار کے، بطورِ شہرت کے یہ فرق کرنے والی ہیں کفر اور اسلام کے اندر بھئی، ان کو دیکھتے ہی پتہ چل جاتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو شعائرِ اسلام وہ عبادتیں جو بطورِ شہرت کے کفر اور اسلام کے اندر فرق کرنے والی ہیں۔ وَأَظْهَرَ شَعَائِرَ الشَّرْعِ: اور وہ اللہ جس نے ظاہر کیا شریعت کے شعائر کو، شریعت کی علامتوں کو، وَأَحْكَامَهُ: ہا ضمیر شرع کو راجع ہے، اور شریعت کے احکام کو۔ ظاہر فرمانے کا معنی ہے غالب کرنا، ان کو اللہ نے کیا کر دیا؟ غالب کر دیا۔ آج کل اگرچہ اسلام مغلوب ہے، کفر غالب ہے، مسلمان کمزور ہو چکے، تو اگرچہ ظاہری طور پر مسلمان یا اسلام مغلوب بھی ہو جائے، لیکن یاد رکھیے، دلائل کے میدان میں اسلام ہمیشہ غالب ہے بھئی۔ دلائل کے میدان میں اسلام ہمیشہ غالب ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ کے زمانے میں وہ تو ابتدائی زمانے کے قریب تھے، اور اس وقت اسلام کو دنیا کے اندر بڑی قوت حاصل تھی، بڑی قوت اللہ نے نصیب فرمائی تھی کیونکہ مسلمان اسلام پر چلتے تھے، اس پر عمل کرتے تھے۔ آج جب کہ ہم اسلام سے دور ہو گئے تو اللہ نے کفار کو ہم پر غالب کر دیا۔ اگر مسلمان پھر اللہ کے دین کی طرف لوٹ جائیں، اس پر اسی طرح عمل کرنے لگیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ چند دنوں کے اندر ہی اسلام پھر پوری دنیا پر غالب ہو جائے گا بھئی۔ اللہ ہم سب کو پھر اپنے دین کی طرف کامل طور پر لوٹا دیں، اس پر عمل کرنے والا ہمیں بنا دیں۔ وَأَظْهَرَ شَعَائِرَ الشَّرْعِ وَأَحْكَامَهُ، وَبَعَثَ رُسُلًا وَأَنْبِيَاءَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ: اور بھیجا—وہ اللہ جس نے بھیجا، "بَعَثَ" کا عطف "أَظْهَرَ" پر یا "أَعْلَى" پر ہے—وہ اللہ جس نے بھیجا رسولوں کو اور نبیوں کو۔ ایک ہے رسول اور ایک نبی، فرق دونوں میں آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ رسول وہ پیغمبر جس کو اللہ نے کتاب دی ہو، اور نبی عام ہے بھئی۔ تو رسول ہوا خاص اور نبی ہوا عام۔ ہر رسول نبی ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں۔ بعض علماء نے اس کا عکس قول کیا بھئی، وہ کہتے ہیں رسول عام ہے، نبی خاص ہے۔ نبی صرف انسانوں میں سے ہو سکتا ہے، غیر انسان نبی نہیں، جبکہ رسول فرشتوں میں سے بھی ہو سکتا ہے۔ فرشتوں پر بھی رسل کا اطلاق کیا گیا ہے قرآن کے اندر۔ تو رسول عام ہوا، وہ انسان بھی ہو سکتا ہے اور فرشتہ بھی، جبکہ نبی صرف کیا ہوگا؟ خاص ہے صرف انسان کے۔ اور بھیجا رسولوں کو اور انبیاء کو، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ: اللہ کی رحمتیں ہوں ان سب پر، یہ درمیان میں دعا ہے، جملہ معترضہ ہے بھئی۔ اللہ کی رحمتیں ہوں ان پر سب کے سب پر۔ إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ هَادِينَ: راہِ حق کی طرف ہادین۔ ہادی کسے کہتے ہیں؟ رہنمائی کرنے والا۔ یہ "هَادِينَ" یاد رکھیے، صفت ہے رسل اور انبیاء کی۔ اور بھیجا ایسے رسولوں اور انبیاء کو جو ہدایت دینے والے ہیں، جو رہنمائی کرنے والے ہیں۔ کس طرف رہنمائی کرنے والے ہیں؟ إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ: راہِ حق کی طرف۔ تو یہ "إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ" جار مجرور ہے اور یہ متعلق ہے "هَادِينَ" کے ساتھ۔ ہدایت دینے والے ہیں، رہنمائی کرنے والے ہیں کس طرف؟ راہِ حق کی طرف۔ تو یہ "هَادِينَ" کو مقدم ہونا چاہیے تھا "إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ" پر، لیکن اس کو مؤخر کر دیا رعایتِ سجع کے لیے۔ کس کے لیے؟ رعایتِ سجع کے لیے۔ رعایتِ سجع اس کو کہتے ہیں—آپ ان شاء اللہ مختصر المعانی میں بھی پڑھیں گے—کہ یہ جو نثر، ایک ہوتی ہے نظم (اشعار وغیرہ) اور ایک یہ نثر ہے عام کلام۔ عام کلام کے اندر چھوٹے چھوٹے حصے جملے کے لانا جن کا اختتام ایک جیسے وزن پر اور حروف پر ہو رہا ہو بھئی، تو یہ جو چھوٹے چھوٹے حصے ہیں جملے کے ان کو کہتے ہیں فقرے۔ اور ان کا اختتام ایک جیسے وزن اور حروف پر ہو، یہ ہے رعایتِ سجع۔ تو یہاں پر دیکھیے: "إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ هَادِينَ"، "وَأَخْلَفَهُمْ عُلَمَاءَ إِلَى سَنَنِ سُنَنِهِمْ دَاعِينَ"۔ دیکھیے یہاں پر "دَاعِينَ" آیا تو پہلے کیا آیا تھا؟ "هَادِينَ"۔ تو یہ جو چھوٹے چھوٹے حصے ہیں یہ فقرے کہلاتے ہیں اور ان کا اختتام ایک جیسے وزن اور حروف وغیرہ پر ہو۔ تفصیل ان شاء اللہ مختصر المعانی میں پڑھیں گے، میں نے آسان لفظوں میں بیان کر دیا۔ اس کو کہتے ہیں رعایتِ سجع۔ تو ہادین کو اگر یہ مقدم رکھتے تو پھر رعایتِ سجع حاصل نہ ہوتی، اس لیے اس کو مؤخر کر دیا۔ إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ هَادِينَ: رہنمائی کرنے والے ہیں راہِ حق کی طرف۔ وَأَخْلَفَهُمْ: اور ان انبیاء اور رسولوں کا خلیفہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسولوں کو بھیجا اور ان کا خلیفہ بنایا، تو ہم ضمیر یہ رسل اور انبیاء کو راجع ہے۔ کس کو خلیفہ بنایا؟ عُلَمَاءَ: علماء کو۔ إِلَى سَنَنِ سُنَنِهِمْ دَاعِينَ: یہاں پھر وہی ترکیب، یہ جار مجرور "إِلَى سَنَنِ سُنَنِهِمْ" اس کا تعلق کس سے ہے؟ "دَاعِينَ" سے ہے، اور داعی کا کیا معنی ہوتا ہے؟ دعوت دینے والا۔ اور یہ "دَاعِينَ" صفت ہے علماء کی۔ اور ان کا خلیفہ اور انبیاء کا خلیفہ بنایا ایسے علماء کو جو دعوت دینے والے ہیں إِلَى سَنَنِ سُنَنِهِمْ۔ "سَنَن" بفتح السین، اس کا معنی ہوتا ہے طرز اور طریقہ۔ اور "سُنَن" یہ سین کے ضمہ کے ساتھ، یہ جمع ہے "سُنَّة" کی، اور سنت کہتے ہیں طریقۂ خاص کو۔ کسی کا خاص طریقہ ہو کہتے ہیں یہ اس کی سنت ہے، خاص طریقہ بھئی۔ اور اسی طرح سیرت کو بھی کہتے ہیں بھئی سنت۔ تو سنن کا کیا معنی ہوا؟ طرز اور طریقہ، اور سنن کا معنی کر لیں عادات یا سیرت کے طریقے کی طرف۔ ترجمہ یوں کر لیجیے: اور خلیفہ بنایا ان کا ایسے علماء کو جو دعوت دینے والے ہیں ان انبیاء کی سیرت کے طریقے کی طرف، یا ان انبیاء کی عادات کے طریقے کی طرف۔ يَسْلُكُونَ فِيمَا لَمْ يُؤْثَرْ عَنْهُمْ مَسْلَكَ الِاجْتِهَادِ: "سَلَكَ، يَسْلُكُ" کے معنی ہوتے ہیں چلنے کے، راستے پر چلنا۔ لیکن یہ عام راستے پر چلنا، ظاہری راستے پر چلنا یہ سلوک نہیں کہلاتا۔ ایک عام آدمی راستے پر چل رہا ہے، سڑک پر چلنا، گلی میں چلنا، یہ سلوک نہیں کہلاتا۔ سلوک کا معنی ہے راستے پر چلنا، لیکن عملی راستہ مراد ہے، جس کا تعلق عمل سے ہو۔ مثلاً استاد آپ کو کوئی باتیں بتلاتا ہے دین کی اور آپ انہی پر چلتے ہیں، تو یہ ہے آپ کا اس راستے پر چلنا جو استاد نے آپ کو بتلایا، یہ سلوک کہلائے گا بھئی۔ تو یہ ظاہری راستے پر چلنا یہ سلوک نہیں ہے، بلکہ عملی راستے پر چلنا یہ سلوک کہلاتا ہے بھئی۔ "يَسْلُكُونَ": یہ یاد رکھیے، صفتِ ثانیہ ہے علماء کی۔ پہلی صفت آئی "دَاعِينَ"، دوسری صفت کیا آئی؟ "يَسْلُكُونَ"۔ اور علماء اسم ہے، داعین اس کے لیے اسم صفت آئی۔ یسلکون فعل ہے، آپ حیران ہوں گے یہ کیسے صفت ہے؟ علماء لفظ جو آیا یہ ہے نکرہ، اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور یہ فعل جب اپنے فاعل سے مل جائے تو جملہ بن جاتا ہے، اور جملہ بھی نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت۔ تو جملہ چاہے جملہ اسمیہ ہو مبتدا خبر سے مل کر بنا ہو یا جملہ فعلیہ ہو فعل فاعل وغیرہ سے مل کر بنا ہو، وہ نکرہ کے حکم میں ہے اور لہٰذا نکرہ کی صفت بن سکتا ہے۔ تو علماء کا لفظ بھی نکرہ اور یسلکون یہ جملہ فعلیہ یہ بھی نکرہ کے حکم میں اس کی صفتِ ثانیہ بھئی۔ اور ان کا خلیفہ بنایا ایسے علماء کو جو چلتے ہیں فِيمَا لَمْ يُؤْثَرْ عَنْهُمْ: ان احکام کے اندر، ان مسائل کے اندر—ما سے کیا مراد ہے؟ مسائل—ان مسائل کے اندر جن کے بارے میں کوئی بات نقل نہیں کی گئی، کوئی روایت نہیں کی گئی عنہم ان انبیاء سے۔ علماء ان مسائل میں جن مسائل کے بارے میں انبیاء سے کوئی روایت نہیں ہے، اس میں چلتے ہیں مَسْلَكَ الِاجْتِهَادِ: اجتہاد کے راستے پر چلتے ہیں بھئی۔ اس عبارت کے اندر اشارہ کر دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ علماء جو ہیں وہ ہمیشہ انبیاء کے راستے پر چلتے ہیں، ان کی پیروی کرتے ہیں، دوسرے لوگوں کو بھی انبیاء کے طریقے کی طرف بلاتے ہیں، اور اجتہاد صرف وہاں کرتے ہیں جہاں پر انبیاء سے کوئی روایت نہ ہو، منقول نہ ہو۔ اگر انبیاء سے ایک بات ذکر ہو چکی ہے پھر وہاں اجتہاد نہیں کرتے بھئی۔ چلتے ہیں وہ ان مسائل کے اندر جن کے بارے میں کوئی روایت منقول نہ ہو انبیاء سے، اس میں اجتہاد کے راستے پر چلتے ہیں۔ مُسْتَرْشِدِينَ مِنْهُ فِي ذَٰلِكَ: یہ حال ہے بھئی، یسلکون کی واو ضمیر سے۔ یہ نہ کہیں یسلکون میں ہم ضمیر ہے، وہ ابتدا میں آپ کو سمجھانے کے لیے بتلایا جاتا تھا، اس کے اندر ہم ضمیر نہیں ہے بلکہ یہ واو جمع مذکر غائب کی ضمیر ہے۔ تو یہ اس سے حال ہے۔ اس حال میں کہ وہ چلتے ہیں اجتہاد کے راستے پر، اس حال میں کہ مُسْتَرْشِدِينَ: "اِسْتَرْشَدَ" کے معنی ہوتے ہیں رہنمائی لینا۔ اس حال میں کہ وہ رہنمائی لیتے ہیں مِنْهُ: ہا ضمیر راجع ہے لفظِ اللہ کو، اللہ سے رہنمائی لیتے ہیں وہ علماء فِي ذَٰلِكَ: ذلک کے ذریعے اشارہ ہے "مَا لَمْ يُؤْثَرْ" کی طرف، یا ذلک اشارہ ہے مسلک الاجتہاد کی طرف۔ اس اجتہاد کے راستے میں وہ کس سے رہنمائی لیتے ہیں؟ اللہ سے۔ یا ان مسائل کے اندر وہ کس سے مدد لیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ سے، جن میں انبیاء سے روایت نہ ہو۔ وَهُوَ وَلِيُّ الْإِرْشَادِ: اور اللہ ہی—ارشد، یرشد کے معنی رہنمائی کرنا، استرشد کا معنی رہنمائی لینا اور ارشد کے معنی رہنمائی کرنا۔ اور ولی کا معنی صاحب، مالک بھئی۔ اللہ ہی رہنمائی کے صاحب ہیں، رہنمائی کے مالک ہیں، یعنی رہنمائی کرنے والے ہیں، یعنی ہدایت دینے والے ہیں۔ اور اللہ ہی ہدایت دینے والے ہیں۔ "وَهُوَ وَلِيُّ الْإِرْشَادِ": ہوا مبتدا، ولی الارشاد خبر، اور خبر بھی آ گئی معرفہ۔ اور خبر معرفہ ہو تو وہ عموماً تخصیص کا فائدہ دیتی ہے۔ تو یہ ترجمہ نہ کریں اللہ رہنمائی ہدایت دینے والے ہیں، بلکہ اب تخصیص کے ساتھ: اللہ ہی ہدایت دینے والے ہیں۔ اور اللہ ہی ہدایت دینے والے ہیں۔ وَخَصَّ أَوَائِلَ الْمُسْتَنْبِطِينَ بِالتَّوْفِيقِ: "وَخَصَّ" اس کا بھی اسی پر "أَعْلَى" پر عطف ہے بھئی۔ اور اللہ نے خاص فرمایا أَوَائِلَ الْمُسْتَنْبِطِينَ: "أَوَائِل" جمع ہے "أَوَّل" کی، اول کہتے ہیں پہلے کو۔ اور خاص کیا اللہ نے پہلے استنباط کرنے والوں کو۔ استنباط کے معنی ہوتے ہیں کسی بات میں غور و فکر کر کے نئی بات معلوم کرنا، جیسے شریعت کے اندر قرآن و حدیث میں غور و فکر کر کے احکام معلوم کرنا بھئی، یہ کیا ہے؟ استنباط ہے۔ قرآن و حدیث میں غور و فکر کرنا اور اس سے مسائل نکالنا، یہ ہے استنباط بھئی۔ اور اللہ نے خاص فرمایا پہلے استنباط کرنے والوں کو—پہلے استنباط کرنے والے متقدمین مجتہدین مراد ہیں بھئی، صحابہ میں سے جو گزرے، تابعین میں سے جو گزرے، ائمہ فقہاء میں سے جو گزرے بھئی، اسی میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی آ گئے بھئی۔ بین السطور لکھا ہے یعنی ابا حنیفۃ واصحابہ، اوائل المستنبطین سے کیا مراد ہیں؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے ساتھی یعنی آپ کے شاگرد جو ہیں وہ مراد ہیں۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس کو عام ہی رکھا جائے بھئی۔ عام ہی رکھا جائے تو اس میں مجتہدین صحابہ بھی آ گئے، تابعین بھی آ گئے، اور دیگر متقدمین مجتہدین وہ سب اس کے اندر داخل ہو گئے۔ اور خاص کیا اللہ نے پہلے استنباط کرنے والوں کو توفیق کے ساتھ، ان کو خاص کیا یعنی اللہ نے ان کو خاص طور پر یہ توفیق نصیب فرمائی، حَتَّى وَضَعُوا مَسَائِلَ: یہاں تک کہ انہوں نے مسائل بنائے بھئی، مسائل وضع کیے۔ یہ جو فقہ کی کتابوں میں آپ مسائل پڑھتے ہیں، یہ ترتیب، یہ طریقہ، اس کی ابتدا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کی۔ صحابہ بھی اجتہاد کرتے تھے، تابعین بھی، لیکن وہ کوئی مسئلہ پیش آتا عموماً تو پھر اس کے بارے میں اجتہاد کرتے۔ امام صاحب اور آپ کے فقہاء نے ہر ممکنہ صورت کے بارے کو پہلے ہی سے کیا کر دیا؟ اس میں استنباط کیا کہ یہ صورت اگر ایسا ہوا تو پھر کیا حکم ہوگا، قرآن و حدیث میں غور کر کے اس کا بھی حکم نکالا۔ پھر اگر اس طرح ہوئی صورت تو پھر کیا ہوگا، اس کا بھی حکم۔ تو یہ اس طریقے سے یہ ترتیب دی۔ حَتَّى وَضَعُوا مَسَائِلَ مِنْ كُلِّ جَلِيٍّ وَدَقِيقٍ: یہاں تک کہ انہوں نے مسائل مدون کیے۔ "جَلِيّ" کہتے ہیں ظاہر کو، واضح کو، اور "دَقِيق" گہری بات جو آسانی سے سمجھ میں نہ آئے بھئی۔ یہاں تک کہ انہوں نے مسائل مدون کیے ہر قسم کے ظاہر اور گہرے، ہر قسم کے مسائل مدون کیے، ظاہری مسائل بھی مدون کیے اور گہرے مسائل بھی مدون کیے۔ غَيْرَ أَنَّ الْحَوَادِثَ مُتَعَاقِبَةُ الْوُقُوعِ... بس بھئی، میرا خیال آج اتنا ہی کافی ہے۔ ایک مرتبہ پھر ترجمہ ذرا دیکھ لیں بھئی، یہ ذرا مشکل ہے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے علم کی نشانیوں کو اور علم کے جھنڈوں کو اونچا کیا، اور شریعت کے احکام اور اس کے شعائر کو، اس کی علامتی عبادات کو غالب فرمایا، اور بھیجا رسولوں کو اور انبیاء کو—ان سب پر اللہ کی رحمت نازل ہو—بھیجا ایسے رسولوں اور انبیاء کو جو ہدایت دینے والے ہیں، رہنمائی کرنے والے ہیں حق راستے کی طرف، اور ان انبیاء اور رسولوں کا خلیفہ ایسے علماء کو بنایا جو ان انبیاء کی سیرت کے طریقے کی طرف دعوت دینے والے ہیں، اور چلنے والے ہیں ان مسائل کے اندر جس میں ان انبیاء سے کوئی روایت نہیں ہے اجتہاد کے راستے پر، اس حال میں کہ یہ علماء رہنمائی لینے والے ہیں اللہ سے اس اجتہاد کے راستے میں، اور اللہ ہی ہدایت دینے والے ہیں، اور اللہ نے پہلے استنباط کرنے والوں کو خاص طور پر یہ توفیق دی یہاں تک کہ انہوں نے مسائل کو وضع کیا ہر قسم کے ظاہر بھی اور گہرے بھی۔ چلیے بس بھئی، هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔