گزشتہ سبق میں ہم نے مولانا پڑھا تھا استعارہ کے بارے میں دو مذاہب ہیں بھئی۔ ایک جمہور کا مذہب ہے کہ استعارہ مجازِ لغوی ہے یعنی استعمال ہے لفظ کا کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ کے اندر۔ اور علماء کا ایک دوسرا گروہ ہے جو کہتا ہے استعارہ مجازِ عقلی ہے بھئی۔ مجازِ عقلی ہے یعنی عقل نے تصرف کیا ایک امر کے اندر کہ غیر موضوع لہ کو موضوع لہ کی جنس میں سے بنا دیا اور پھر اس پر جب لفظ کا اطلاق ہوا تو گویا کہ لفظ اپنے موضوع لہ ہی میں استعمال ہو رہا ہے۔ اور دلیل اس بات کی، پہلے مذہب جمہور کی، کہ استعارہ مجازِ لغوی ہے، وہ کہتے ہیں کہ بھئی یہ استعارہ کا لفظ موضوع تھا مشبہ بہٖ کے لیے، لیکن استعمال کس کے اندر ہوا؟ مشبہ کے اندر۔ تو یہ نہ مشبہ کے لیے وضع ہے اور نہ ہی کسی عام معنی کے لیے، جو مشبہ اور مشبہ بہٖ دونوں سے عام ہو، تاکہ اس صورت میں دونوں پر اس کا اطلاق کیا بن جاتا؟ حقیقت بن جاتا۔ جیسے حیوان کا اطلاق مولانا انسان پر اور اسی طرح حیوان کا اطلاق مولانا گدھے پر اور گھوڑے پر اور دوسرے جانوروں پر سب کیا ہے؟ حقیقت ہے، کیونکہ وہ وضع ہے عام جو ان سب کو شامل ہے۔ تو یہاں پر استعارہ مشبہ بہٖ کے لیے وضع ہے، مشبہ کے لیے بھی وضع نہیں اور ان دونوں سے کسی عام معنی کے لیے بھی وضع نہیں۔ اگر یہ مشبہ کے لیے وضع ہوتا یا کسی عام معنی کے لیے، تو پھر یہ حقیقت ہوتا بھئی۔ اور دوسرے مذہب والوں نے کہا کہ استعارہ جو ہے مجازِ عقلی ہے کہ عقل نے تصرف کیا مولانا ایک امر کے اندر یعنی معانیِ عقلیہ کے اندر بھئی۔ اس غیر موضوع لہ کے بھی کس کے افراد میں سے بنا دیا؟ موضوع لہ کے افراد میں سے بنا دیا بھئی۔ کہتے ہیں اس لیے کہ استعارہ کے اندر اطلاق نہیں ہوتا مشبہ بہٖ کا مشبہ پر مگر بعد اس کے کہ دعویٰ کیا جائے کہ مشبہ کس کی جنس میں ہے؟ مشبہ بہٖ۔ مثلاً آپ نے رجلِ شجاع پر اسد کا اطلاق کیا بھئی۔ تو یہ جو کہتے ہیں مجازِ عقلی ہے وہ کہتے ہیں کہ دراصل آپ نے گویا دعویٰ کر دیا کہ رجلِ شجاع بھی کس کی جنس میں سے ہے؟ اسد کی جنس میں سے ہے۔ تو اسد کے دو افراد ہیں: ایک متعارف، ایک غیر متعارف۔ متعارف تو حیوانِ مفترس ہے اور غیر متعارف کیا ہے؟ رجلِ شجاع ہے۔ تو چنانچہ یہ بھی اس کے افراد میں سے ہے اور جب یہ اس کے افراد میں سے ہے تو اب اس پر لفظ کا اطلاق کس میں ہے؟ معنی موضوع لہ ہی میں گویا لفظ استعمال ہوا بھئی۔ کہتے ہیں کہ یہ جو استعارہ میں آپ نے غیر موضوع لہ پر لفظ کا اطلاق کیا، حقیقت میں جو کیا تھا؟ غیر موضوع لہ، اس میں اگر دعویٰ نہ ہو مشبہ کے مشبہ بہٖ میں داخل ہونے کا، تو اس صورت میں تین باتیں لازم آئیں گی۔ کیا نہ ہو؟ دعویٰ نہ ہو۔ اگر یہ دعویٰ نہ ہو کہ یہ مشبہ بہٖ کی جنس میں سے ہے تو تین باتیں لازم آئیں گی اور وہ تینوں کی تینوں کیا ہیں؟ باطل۔ تو معلوم ہوا ملزوم بھی باطل یعنی بغیر دعویٰ کے اطلاق بھی باطل ہے۔ پہلی بات کیا لازم آئے گی کہ اگر کہ اس صورت میں یہ استعارہ ہوتا ہی نا مولانا۔ بغیر دعویٰ کے کہ مشبہ مشبہ بہٖ کی جنس میں سے ہے، اس دعویٰ کے بغیر ہی اگر اس پر اس اسم کا اطلاق کر دیا جاتا تو پھر یہ استعارہ ہی نہ ہوتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس صورت میں صرف ایک اسم کو آپ نے نقل کیا ہے اور صرف اسم کو نقل کرنے سے وہ استعارہ نہیں بن جاتا، بلکہ اس صورت میں تو کہتے ہیں تمام اسمائے منقولہ جو ہیں اعلامِ منقولہ وہ بھی کیا بن جاتے؟ اس میں بھی کیا کیا جاتا ہے؟ ایک اسم جو وضع تھا مثلاً زید کا لفظ ہے بھئی، مصدر ہے، اس کو کسی کا کیا بنا دیا؟ نام بنا دیا۔ یا جیسے مولانا جعفر ہے، وہ معنیٰ کے لیے وضع ہے لیکن بعد میں اس کو کیا بنا دیا؟ تو پھر اس کو بھی کیا کہنا چاہیے تھا؟ کہ یہ استعارہ ہے بھئی، کیونکہ بغیر دعویٰ کے ایک لفظ کا اطلاق ہو رہا ہے دوسرے معنیٰ پر۔ لیکن اس کو استعارہ کوئی بھی نہیں کہتا۔ دوسری خرابی یہ لازم آتی کہ مشہور بات ہے علماء کے ہاں کہ "الاستعارة أبلغ من الحقيقة"، استعارہ حقیقت سے زیادہ بلیغ ہے۔ اگر صرف اسم کا اطلاق ہوتا بغیر دعوائے دخول کے تو اس صورت میں استعارہ حقیقت سے زیادہ بلیغ نہ ہوتا، اس لیے کہ آپ نے ایک خالی اسم کا اطلاق کیا ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کا کیا نام رکھ دے؟ اسد رکھ دے بھئی۔ تو استعارہ کے اندر استعارہ کے اندر کیا کیا جاتا ہے مولانا؟ جب آپ نے رجلِ شجاع پر اسد کا لفظ بولا تو گویا آپ نے رجلِ شجاع کو ملحق کر دیا کس کے ساتھ؟ اسد کے ساتھ۔ اسی وجہ سے استعارہ کے اندر کیا ہے؟ وہ زیادہ بلیغ ہے کس کی بہ نسبت؟ حقیقت کی بہ نسبت۔ اگر ایسا نہ ہوتا، مطلق اسم کا اطلاق ہوتا اور وہ معنیٰ مراد ہوتا، تو جیسے موضوع لہ اس پہ دلالت کرتا یہ اسم بھی اس پر دلالت کرتا تو دونوں میں کوئی فرق نہ ہوتا، حالانکہ دونوں میں فرق ہے بھئی۔ اور تیسری بات یہ لازم آتی کہ ایک شخص جس نے زید کو دیکھا اور پھر کہنے لگا: "رأيت أسداً"، میں نے کس کو دیکھا ہے؟ شیر کو دیکھا ہے۔ تو اس صورت میں کوئی شخص یہ کہتا کہ فلاں نے زید کو اسد بنا دیا ہے، فلاں نے زید کو اسد بنا دیا ہے، یہ کہنا درست نہ ہوتا۔ حالانکہ یہ کہنا تو صحیح ہے، جب کوئی اس طرح کہے تو کہا جاتا ہے فلاں نے کیا کیا؟ معلوم ہوا اس نے زید کو کس کی جنس میں داخل کر دیا ہے؟ اسد کی جنس میں داخل کر دیا ہے، اسی وجہ سے تو ہم نے کہا کہ اس نے زید کو کیا بنا دیا ہے؟ شیر بنا دیا ہے۔ جیسے ایک شخص اپنے بیٹے کا نام اسد رکھتا ہے تو وہاں صرف اسم کا اطلاق ہوتا ہے مولانا، بیٹے کو اس کی جنس میں داخل کرنا مقصود نہیں، اس کا دعویٰ نہیں ہوتا، لہٰذا اس وقت جیسے کوئی نہیں کہتا کہ اس نے اپنے بیٹے کو کیا بنایا ہے؟ شیر، تو اس صورت میں بھی کوئی نہ کہتا کہ اس نے اپنے بیٹے کو، اس نے زید کو شیر بنا دیا ہے۔ حالانکہ اس صورت میں کہتے ہیں کہ اس نے زید کو کیا بنا دیا ہے؟ شیر بنا دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ بغیر دعوائے دخول کے اطلاق نہیں ہوا بلکہ دعوائے دخول کے ساتھ اطلاق ہوا ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یہاں دو باتیں تھیں مولانا: ایک تھا کہ دعوائے دخول کے بعد اطلاق کیا جائے، ایک تھا دعوائے دخول کے بغیر اطلاق کیا جائے۔ یہ جن کا مذہب ہے ان کا کیا کہنا تھا؟ کہ دعوائے دخول کے بعد اطلاق ہوا ہے۔ کہتے ہیں اگر اس کی نقیض لے لو، دعوائے دخول کے بغیر اطلاق ہوا، تو تین باتیں لازم آتیں: اس صورت میں استعارہ رہتا ہی نہ، دوسری بات اس صورت کے اندر استعارہ حقیقت سے زیادہ بلیغ نہ ہوتا، تیسرا اس صورت کے اندر یہ کہنا درست نہ ہوتا کہ فلاں نے فلاں کو شیر مثلاً بنا دیا ہے، اور یہ تینوں باتیں تو باطل ہیں۔ تینوں باتیں تو باطل ہیں، یہ استعارہ بھی ہے، استعارہ ابلغ من الحقیقت بھی ہے اور اس صورت میں یہ کہنا بھی صحیح ہوتا ہے کہ فلاں نے فلاں کو شیر بنا دیا، معلوم ہوا یہ نقیض یعنی جو دعوائے دخول کے بغیر اطلاق ہے یہ کیا ہے؟ یہ ملزوم بھی جب لازم باطل تو ملزوم بھی باطل اور ہمارا دعویٰ کیا ہو گیا؟ ثابت ہو گیا۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں جب ہم نے کیا کیا اس دوسرے معنیٰ کو مولانا، اس کو بھی داخل کر دیا پہلے اس لفظ کے معنیٰ کی جنس کے اندر داخل کر دیا اور اس کا فرد بنا دیا تو لفظ کا استعمال کس کے اندر ہوا؟ موضوع لہ میں ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ تو موضوع لہ میں استعمال ہوا تو یہ مجازِ لغوی رہا ہی نہیں بلکہ یہ کیا ہے؟ یہ تو حقیقت بن گیا۔ تو یہ صرف مجازِ عقلی ہے، عقل نے تصرف کر کے اس معنیٰ کو داخل کر دیا اس اس لفظ کے افراد میں بھئی۔ اور اسی وجہ سے کہتے ہیں چونکہ مشبہ کو مشبہ بہٖ کی جنس میں داخل کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے کہتے ہیں شاعر کے یہ دو اشعار بطورِ دلیل کے ذکر کر رہے ہیں مولانا دو مختلف اشعار، ایک کے اندر شاعر تعجب کر رہا ہے، ایک کے اندر تعجب سے منع کر رہا ہے۔ تعجب کس کے اندر؟ کہتا ہے، شاعر کہتا ہے کہ میرا غلام کھڑا ہوا اور میرے اوپر سایہ کرنے لگا اور وہ غلام کیا ہے؟ سورج ہے، اور حیرت کی بات ہے کہ ایک سورج مجھ پر سورج سے کیا کر رہا ہے؟ سایہ کر رہا ہے۔ اگر سورج سے کہتے ہیں مراد کیا ہو؟ ایک عام انسان مراد ہے مولانا، یا حسین انسان مراد ہے۔ شمس بولا اور مراد کیا ہے؟ یعنی غیر موضوع لہ میں، تو پھر تو یہ حیرت کی کوئی بات نہیں تھی، انسان کیا دوسرے انسان کے اوپر سایہ کرے تو کوئی حیرت کی بات ہے؟ معلوم ہوا اس نے اس حسین غلام کو سورج کی جنس میں داخل کر دیا اور وہ حکم جو سورج پر لگنا تھا کیا؟ کہ سورج سے اگر سایہ ہو تو تعجب کی بات ہے، وہی حکم اس نے کس پر لگا دیا؟ اس غلام پر بھی لگا دیا۔ معلوم ہوا اس نے اس کو اس کی جنس میں داخل کیا ہے اسی لیے تعجب کرنا بھی صحیح، ورنہ تو تعجب کرنا صحیح نہ ہوتا۔ اگلے شعر کے اندر دیکھیے تعجب سے منع کیا گیا ہے کہ تم تعجب نہ کرو اس کی بنیان کی بوسیدگی سے اس لیے کہ تحقیق باندھے گئے ہیں اس کے بٹن چاند پر بھئی۔ چاند کی روشنی سے جو ہے قتان کا کپڑا کیا ہے؟ بڑی جلدی بوسیدہ ہو جاتا ہے۔ تو شاعر کہتا ہے کہ یہ جو میرا ممدوح ہے جس کی بنیان بڑی بوسیدہ ہے، اس سے تعجب نہ کرو کیونکہ یہ بھی چاند ہے اور چاند کے ساتھ کپڑا کیا ہوتا ہے؟ بوسیدہ ہو جاتا ہے، تو یہ کپڑا بھی اسی وجہ سے بوسیدہ ہے۔ تو تعجب سے منع کر رہا ہے، کیونکہ یہ تو عام بات ہے مولانا کہ آپ کو بھی پتہ ہے کہ چاند کی روشنی سے کیا ہے؟ فلاں کپڑا بوسیدہ ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا اس نے اس ممدوح کو چاند کی جنس میں داخل کیا اور وہ حکم جو چاند پہ مرتب ہوتا تھا کیا؟ کہ اس کی وجہ سے کپڑے کا بوسیدہ ہونا باعثِ تعجب نہیں، تو اس شخص پر بھی وہی حکم لگا دیا کہ اس شخص کے جسم سے لگنے کی وجہ سے اس کپڑے کا بوسیدہ ہونا بھی باعثِ تعجب نہیں۔ معلوم ہوا کہ اس رجلِ حسین کو چاند کی جنس میں داخل ہونے کے بعد جو ہے یہ حکم لگایا جا سکتا ہے، ویسے یہ حکم لگانا صحیح نہیں ہے۔ وَرُدَّ هَذَا الدَّلِيلُ بِأَنَّ الِادِّعَاءَ، جی، یہاں سے کہہ رہے ہیں مصنف رد کر رہے ہیں مولانا۔ جمہور کا مذہب کیا تھا؟ استعارہ ہے مجازِ لغوی، لفظ کا استعمال ہے کس کے اندر؟ غیر موضوع لہ میں۔ اور دوسرے علماء فرماتے ہیں بعض کہ یہ مجازِ عقلی ہے یعنی لفظ کا استعمال معنی موضوع لہ ہی میں ہے، البتہ عقل نے تصرف کیا معانیِ عقلیہ کے اندر اور ایک معنیٰ کو فرد بنا دیا کس کا؟ دوسرے معنیٰ کے ساتھ اس کو ملا دیا بھئی۔ تو مصنف فرماتے ہیں کہ آپ کا یہ کہنا کہ ہم نے رجلِ شجاع پر اسد کا اطلاق تب کیا، توجہ سے سنو بھئی، ہم نے اسد پر رجلِ شجاع کا اطلاق تب کیا جب اس رجلِ شجاع کو کیا کیا؟ کس کا فرد بنا دیا؟ اسد کے افراد میں سے ایک فرد بنا دیا، یہ ہم نے پہلے دعویٰ کیا، اس کے بعد اس پر اسد کے لفظ کا اطلاق کیا۔ کہتے ہیں یہ دعویٰ کرنا ہی بتلاتا ہے کہ یہ معنی موضوع لہ نہیں۔ اگر معنی موضوع لہ ہوتا تو دعویٰ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، وہ تو خود بخود داخل ہو جاتا مولانا اس کے اندر، اس میں دعوے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن یہ آپ کا دعویٰ کرنا یہ بتلاتا ہے کہ یہ تو معنی موضوع لہ ہے ہی نہیں بلکہ کیا ہے؟ معنی غیر موضوع لہ ہے۔ تو مصنف صرف اس بات میں رد کر رہے ہیں مولانا، یہ اس سے مصنف نے بھی انکار نہیں کیا کہ ٹھیک ہے ہم نے رجلِ شجاع کو کس میں داخل کر دیا؟ اسد کی جنس میں داخل کیا، اس کے افراد میں بنا دیا، یہ بات آپ کی ٹھیک ہے، اس سے ہمیں بھی انکار نہیں کہ رجلِ شجاع کو کیا بنا دیا گیا؟ اسد کے افراد میں سے۔ ہاں، یہ کہنا کہ داخل کرنے کے بعد اب جب اس پر اسد کا اطلاق ہوا تو یہ اطلاق معنی موضوع لہ میں ہے، یہ بات آپ کی درست نہیں ہے، یہ پھر بھی استعمال کس کے اندر ہے لفظ کا؟ غیر موضوع لہ ہی کے اندر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں یہ آپ کا دعویٰ کرنا ہی بتلاتا ہے کہ یہ اس کے افراد میں سے نہیں ہے، آپ نے ادعاء کیا اور اس کو کیا کیا؟ اس کے افراد میں سے بنایا۔ جب آپ کے دعوے کی وجہ سے یہ اس میں داخل ہوا ہے، حقیقتاً اس میں داخل نہیں، تو پھر اس کے اندر لفظ کا استعمال کیا ہے؟ غیر موضوع لہ ہی کے اندر ہے، موضوع لہ میں نہیں۔ وَرُدَّ هَذَا الدَّلِيلُ، اور رد کیا گیا ہے اس دلیل کو، بِأَنَّ الِادِّعَاءَ أَيِ ادِّعَاءَ دُخُولِ الْمُشَبَّهِ فِي جِنْسِ الْمُشَبَّهِ بِهِ، یعنی مشبہ کا مشبہ بہٖ کی جنس میں داخل ہونے کا جو دعویٰ ہے، لَا يَقْتَضِي، یہ تقاضا نہیں کرتا، كَوْنَهَا أَيِ الِاسْتِعَارَةِ مُسْتَعْمَلَةً فِيمَا وُضِعَتْ لَهُ، کہ یہ جو استعارہ ہے وہ استعمال ہو رہا ہے کس کے اندر؟ معنی موضوع لہ کے اندر، لِلْعِلْمِ الضَّرُورِيِّ، اس لیے کہ ضروری بدیہی مولانا یقینی طور پر، اس لیے کہ یقینی طور پر یہ بات معلوم ہے، بدیہی طور پر یہ بات معلوم ہے، بِأَنَّ أَسَدًا فِي قَوْلِنَا رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي مُسْتَعْمَلٌ فِي الرَّجُلِ الشُّجَاعِ، کہ اسد جو ہے ہمارے اس قول کے اندر "رأيت أسداً يرمي"، یہ استعمال ہے کس کے اندر؟ رجلِ شجاع کے لیے استعمال ہو رہا ہے، وَالْمَوْضُوعُ لَهُ هُوَ السَّبُعُ الْمَخْصُوصُ، اور اس کا موضوع لہ کیا ہے؟ وہ سبعِ مخصوص ہے بھئی۔ کیونکہ یہ بات بدیہی طور پر معلوم ہے جب آپ نے کہا: "رأيت أسداً يرمي"، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، اور اسد سے آپ کیا مراد لے رہے ہیں مولانا؟ رجلِ شجاع کا ارادہ کرتے ہیں، تو بدیہی بات ہے کہ یہ لفظ تو وضع ہے کس کے لیے؟ حیوانِ مفترس کے لیے، معلوم ہوا یہ موضوع لہ میں استعمال نہیں۔ تو آپ کا یہ کہنا کہ یہ موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، درست نہیں۔ وَتَحْقِيقُ ذَلِكَ، تحقیق اس مسئلے کی یہ ہے مولانا، علامہ تفتازانی کہتے ہیں دیکھیے یہ دعویٰ دراصل یوں کیا تھوڑی سی تاویل پر مبنی ہوتا ہے، یہ جو ہم نے کیا کہا؟ رجلِ شجاع کس کی جنس میں سے ہے؟ اسد کی جنس میں سے ہے اور پھر اس پر اسد کا اطلاق کیا۔ کہتے ہیں دراصل یہ اسد جو ہے اس لفظ کے اندر ہم تاویل کر لیتے ہیں، اسد لفظ اصل میں تو وضع حیوانِ مفترس کے لیے ہے لیکن ہم کہتے ہیں یہ حیوانِ مفترس کے لیے نہیں وضع، بلکہ یہ حیوانِ مجتری کے لیے وضع ہے۔ کس کے لیے؟ یعنی حیوانِ شجاع کے لیے وضع ہے۔ وضع تو وہ جو درندہ ہے، شیر ہے، اس کے لیے وضع ہے، لیکن تاویل کر کے کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ یہ بہادر حیوان کے لیے وضع ہے۔ دیکھا؟ اب اس کا معنی کیا: بہادر حیوان، تو اب شیر بھی داخل ہوا، رجلِ شجاع بھی، کیونکہ شیر بھی بہادر حیوان ہے اور رجلِ شجاع بھی کیا ہے؟ بہادر حیوان ہے۔ تو دیکھو تاویل کی اور اس کے معنی کو کیا کر دیا؟ عام کر دیا بھئی۔ وَتَحْقِيقُ ذَلِكَ، تحقیق اس مسئلے کی ہے، یہ جو عدم اقتضاء ہے اوپر گزرا، انہوں نے جو کہا نا کہ یہ تقاضا نہیں کرتا کہ یہ مستعمل ہے غیر موضوع لہ میں، اس کی تحقیق یہ ہے: أَنَّ ادِّعَاءَ دُخُولِ الْمُشَبَّهِ فِي جِنْسِ الْمُشَبَّهِ بِهِ مَبْنِيٌّ عَلَى أَنَّهُ جُعِلَ أَفْرَادُ الْأَسَدِ بِطَرِيقِ التَّأْوِيلِ، کہ یہ دعویٰ کرنا کہ مشبہ داخل ہے مشبہ بہٖ کی جنس میں، یہ مبنی ہے اس بات پر کہ بنا دیے گئے افرادِ اسد بطریقِ تاویل، تاویل کے طریقے پر بھئی، بِقِسْمَيْنِ، کتنے قسم کے؟ دو قسم کے۔ أَحَدُهُمَا الْمُتَعَارَفُ، ایک تو مشہور ہے مولانا، وَهُوَ الَّذِي لَهُ غَايَةُ الْجُرْأَةِ، وہ وہ جانور ہے جس کی بے انتہا جرات ہوتی ہے، جو بے انتہا جری ہوتا ہے، فِي مِثْلِ تِلْكَ الْجُثَّةِ الْمَخْصُوصَةِ، اس مخصوص جثے اور بدن، جثہ کا معنی جسم اور بدن مولانا، اس مخصوص بدن میں بھئی، شیر کا بدن بھئی جانتے ہیں بھئی کیسا اس کا بدن ہوتا ہے، اس مخصوص بدن کے اندر، وَالْهَيْكَلِ الْمَخْصُوصِ، اور اس مخصوص ڈھانچے میں بھئی۔ تو ایک فرد تو اس کا آپ جانتے ہیں، وہ کیا ہے؟ فردِ حیوانِ مفترس بھئی، اس کا ایک مخصوص ڈھانچہ ہے، مخصوص بدن ہے، بے انتہا جرات والا ہے، ایک تو یہ فرد ہے آپ جانتے ہیں۔ وَالثَّانِي غَيْرُ الْمُتَعَارَفِ، اور دوسرا کیا ہے؟ یہ ہم تاویل کر کے ہم نے بنایا، غیر متعارف ہے، وَهُوَ الَّذِي لَهُ تِلْكَ الْجُرْأَةُ، کہ اس کے لیے بھی وہی جرات اور بہادری ہے، لَكِنْ لَا فِي تِلْكَ الْجُثَّةِ وَالْهَيْكَلِ الْمَخْصُوصِ، لیکن اس جثے، اس بدن میں اور اس ڈھانچے میں یعنی انسان، رجلِ شجاع۔ تو دیکھو ہم نے اسد میں تاویل کی اور اس کو کس کے لیے بنا لیا بھئی؟ حیوانِ شجاع کے لیے، اور حیوانِ شجاع کے دو افراد ہیں: ایک وہ جو آپ جانتے ہیں مولانا، کون سا؟ وہ حیوانِ مفترس مخصوص ڈھانچہ ہوتا ہے مولانا، گردن پر بڑے بال ہیں مولانا اور دانت نوکیلے ہیں اور دم ہے اور بڑا بدن ہے۔ اور ایک اس کا غیر متعارف فرد بھی ہے جو آپ نہیں جانتے، جس کو اب ہم نے تاویل کے ذریعے کیا کیا آپ کو؟ اور وہ کون ہے؟ انسان، جس میں اتنی ہی جرات تو ہے لیکن اس ڈھانچے میں یہ نہیں ہے۔ وَلَفْظُ الْأَسَدِ، یہ حال ہے مولانا، اوپر نہیں گزرا مبنی؟ ہم نے کیا کہا تھا؟ یہ جو دعویٰ ہے یہ کیا ہے؟ یہ دعویٰ مبنی ہے اس تاویل پر مبنی ہے اور حال یہ ہے کہ اسد وضع ہے متعارف کے لیے نہ کہ ہم نے دعویٰ کر کے داخل تو کر دیا لیکن حقیقت ایسی ہے؟ نہیں، تو حال یہ ہے مولانا کہ یہ تو وضع ہے متعارف کے لیے، فَاسْتِعْمَالُهُ فِي غَيْرِ الْمُتَعَارَفِ اسْتِعْمَالٌ فِي غَيْرِ مَا وُضِعَ لَهُ، پس استعمال کرنا اس کا غیر متعارف میں پھر بھی استعمال کس کے اندر ہے؟ غیر ما وضع لہ ہی میں ہے بھئی۔ وَالْقَرِينَةُ مَانِعَةٌ عَنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى الْمُتَعَارَفِ، اور قرینہ جو ہے وہ مانع ہے کس سے؟ ارادہ معنی، معنی متعارف کے ارادے سے مانع ہے، فَيَتَعَيَّنُ الْمَعْنَى غَيْرُ الْمُتَعَارَفِ، پس متعین ہو گیا کون سا معنی؟ جو غیر متعارف ہے۔ بھئی: "رأيت أسداً يرمي"، یہ يرمي کیا بتلا رہا ہے؟ اسد سے حیوانِ مفترس یعنی متعارف کا ارادہ نہیں ہے، تو معلوم ہوا اب اس سے کس کا ارادہ کیا جائے گا؟ غیر متعارف ہی کا ارادہ کیا جائے گا۔ وَبِهَذَا يَنْدَفِعُ، یہ کہتے ہیں ہماری اس تقریر سے علامہ سکاکی کا اعتراض بھی دفع ہوا بھئی۔ علامہ سکاکی نے اعتراض کیا تھا وہ اعتراض بھی کیا ہوا؟ ختم ہوا۔ ہم نے کہ کیا علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ ہم نے غیر متعارف کو کس بھی کس میں داخل کر دیا؟ متعارف کی جنس میں داخل کر دیا، تو ایسے قرینہ کا ہونا جو معنی متعارف سے مانع ہو، اب "رأيت أسداً يرمي"، يرمي کی وجہ سے اب اسد کا وہ متعارف معنی آپ مراد لے سکتے ہیں؟ معنی مراد نہیں لے سکتے، تو یہ منافی ہے استعارے کے۔ ایسے قرینے کا ہونا منافی ہے کس کے؟ کیونکہ بھئی استعارہ کے اندر آپ نے کیا دعویٰ کیا کہ رجلِ شجاع بھی کس کے اندر داخل ہے؟ اسد کے افراد میں داخل ہے، تو اسد کے افراد کتنے ہوئے؟ دو: متعارف اور غیر متعارف، معلوم ہوا استعارہ کا لفظ عام ہے اور اس کے افراد دو ہیں۔ تو دونوں پر اطلاق ہو، اس کے ساتھ کوئی قرینہ ایسا ا رہا ہے جو قرینہ منع کر رہا ہے، روک رہا ہے کہ معنی متعارف کا آپ ارادہ نہیں کر سکتے، تو پھر یہ مولانا دونوں میں منافات آ گئی۔ ایک آپ اس میں عموم بھی پیدا کر رہے ہیں اور ایک اس معنی سے مانع قرینہ بھی موجود ہے جو اس کا ارادہ بھی نہیں کرنے دیتا۔ یہ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں بھئی ہماری اس تقریر سے وہ اشکال بھی دفع ہوا۔ ہم نے کیا تقریر کی؟ ہم نے کہا کہ اس میں تاویل کر کے اس کے افراد دو بنا دیے جاتے ہیں: ایک متعارف ایک غیر متعارف۔ تو متعارف حقیقت ہے اور غیر متعارف کیا ہے؟ مجاز ہے مولانا، اور یہ قرینہ اسی لیے قائم کیا جاتا ہے کہ ہم نے یہاں اس سے ارادہ کس کا کرنا ہے؟ غیر متعارف کا کرنا ہے، متعارف کا ارادہ جب متعارف کا ارادہ نہیں ہے تو قرینہ مانعہ بھی ساتھ ہونا چاہیے جو دلالت کرے کہ معنی متعارف یہاں مراد نہیں ہے، لہٰذا اشکال ہی ختم ہوا وہاں۔ انہوں نے تو کیا کہا تھا بھئی؟ لفظِ اسد وضع ہے کس کے لیے؟ متعارف کے لیے بھی اور غیر، تو جب اسد کا لفظ بولا جائے تو متعارف کا ارادہ بھی صحیح ہونا چاہیے اور غیر متعارف کا ارادہ بھی، لیکن یہاں تو قرینہ موجود ہوتا ہے جو متعارف کا معنی کرنے نہیں دیتا۔ تو مصنف کہتے ہیں یہ تو ہماری ان کی تقریر سے یہ اشکال لازم آئے گا، ہماری تقریر سے کیا ہے یہ اشکال لازم نہیں، کیونکہ ہم نے تو یہ کہا ہے کہ ہم نے تاویل کر کے اس کے دو افراد بنائے: ایک متعارف اور ایک غیر، اور یہاں پر جب ہم نے استعارہ کے اندر استعمال کیا تو کون سا مراد ہے؟ غیر متعارف، یہاں پر متعارف کا ارادہ ہی نہیں، لہٰذا ایسا قرینہ ہونا جو کہ متعارف کے منافی ہو، یہ استعارہ کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ استعارہ تو لفظ کا استعمال ہی کس کے اندر ہے؟ غیر متعارف کے اندر ہے نہ کہ متعارف کے اندر۔ وَبِهَذَا يَنْدَفِعُ مَا يُقَالُ، اور اس سے ہماری تقریر سے دفع ہو گیا وہ جو اعتراض کہا جاتا ہے: إِنَّ الْإِصْرَارَ عَلَى دَعْوَى الْأَسَدِيَّةِ لِلرَّجُلِ الشُّجَاعِ، کہ اصرار کرنا اسدیت کے دعوے پر کس کے لیے؟ رجلِ رجلِ شجاع کے لیے، شیر ہونے کا دعویٰ کرنے پر جو اصرار کیا جاتا ہے، يُنَافِي نَصْبَ الْقَرِينَةِ الْمَانِعَةِ، وہ منافی ہے قرینہ مانعہ کے نصب کرنے پر، عَنْ إِرَادَةِ السَّبُعِ الْمَخْصُوصِ، کس سے؟ سبعِ مخصوص سے، یعنی اس کا سبعِ مخصوص کا ارادہ نہیں کیا جا سکتا، اس قسم کا قرینہ نصب کیا جائے پھر تو یہ تو منافی ہے استعارہ کے، تو یہ اشکال ختم ہوا بھئی۔ وَأَمَّا التَّعَجُّبُ وَالنَّهْيُ عَنْهُ كَمَا فِي الْبَيْتَيْنِ، کہتے ہیں باقی بھئی وہ جو آپ نے دلیل کے طور پر دو شعر پیش کیے تھے ان علماء نے، ایک میں کیا تھا؟ ایک میں تعجب کیا گیا تھا، ایک میں نہی عن تعجب۔ تو بھئی پھر وہ تو اسی صورت میں صحیح تھا کہ اس کو کیا کیا جاتا؟ اس کی جنس میں داخل کیا جاتا۔ کہتے ہیں بھئی دراصل وہاں شمس کا لفظ بولا گیا ہے کس پر؟ غلام پر بھئی، غلام پر شمس کا لفظ بولا گیا ہے اور اس پر تعجب کا حکم لگایا گیا اور تعجب اصل شمس ہو تو پھر تو ہو سکتا ہے، اگر اس سے رجلِ حسین مراد ہو تو پھر تعجب تعجب صحیح نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں دراصل تشبیہ میں یہاں مبالغہ ہے اور مبالغے کا حق ادا کرنے کے لیے کیا کیا گیا بھئی؟ جو حکم شمس پر مرتب ہوتا تھا وہی حکم کس پر لگا دیا گیا؟ یعنی یہاں دی تو تشبیہ ہی گئی ہے کہ وہ رجلِ حسین کس کی طرح ہے؟ سورج، لیکن بطورِ مبالغہ کے شاعر اظہارِ تناسی کر رہا ہے کہ میں نے تشبیہ کو بھلا ہی دیا ہے، میں نے تشبیہ کو میں بھول ہی گیا ہوں بلکہ یہ تو حقیقتاً ہی گویا کیا ہے؟ بالکل اسی کی جنس میں ہے بھئی، تو وہ مبنی ہے تناسی پر یعنی اظہارِ نسیان پر، تشبیہ کو بھول گیا گویا۔ دیکھیے: وَأَمَّا التَّعَجُّبُ وَالنَّهْيُ عَنْهُ أَيْ عَنِ التَّعَجُّبِ كَمَا فِي الْبَيْتَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ، باقی تعجب اور نہی جو آئی ہے اس سے یعنی تعجب سے جیسے کہ مذکورہ دو اشعار کے اندر تھی، فَلِلْبِنَاءِ عَلَى تَنَاسِي التَّشْبِيهِ، بناء کرتے ہوئے کس پر مولانا؟ تناسیِ تشبیہ یعنی بھلانے کی اظہار کرتے ہوئے تشبیہ کا، قَضَاءً لِحَقِّ الْمُبَالَغَةِ، مبالغے کے حق کو ادا کرتے ہوئے، مبالغہ کیا گیا تھا کہ دونوں متحد بتلائے گئے مولانا۔ وَدَلَالَةً، اور دلالت کرتے ہوئے عَلَى أَنَّ الْمُشَبَّهَ بِحَيْثُ لَا يَتَمَيَّزُ عَنِ الْمُشَبَّهِ بِهِ أَصْلًا، کہ مشبہ اس طور پر ہے کہ مشبہ بہٖ سے قطعاً ممتاز ہی نہیں، دونوں میں اتنا اتحاد ہے، اتنا اتحاد ہے گویا کہ دونوں میں فرق ہی نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ تو اس یہ جو غلامِ حسین ہے اور اسد سورج ہے دونوں میں فرق ہی نہیں کیا جا سکتا، یہ بطورِ مبالغہ کے شاعر یوں کہہ رہا ہے بھئی۔ کیونکہ گویا میں نے تشبیہ دی ہی نہیں بلکہ یہ غلام ہے ہی کس کے افراد میں سے؟ سورج کے افراد میں سے ہے۔ تو دونوں ایک دوسرے سے ممتاز ہوتے ہی نہیں تو جو جو حکم ایک کے لیے ثابت ہے وہ دوسرے کے لیے بھی حَتَّى أَنَّ كُلَّ مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى الْمُشَبَّهِ بِهِ مِنَ التَّعَجُّبِ وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعَجُّبِ، یہاں تک کہ ہر وہ چیز جو مرتب ہوتی ہے مشبہ بہٖ پر، یعنی کہ تعجب اور نہی عن التعجب یہ مرتب ہو رہی تھی مشبہ بہٖ پر، يَتَرَتَّبُ عَلَى الْمُشَبَّهِ أَيْضًا، یہ مشبہ پر بھی مرتب ہوتی ہے۔ وَالِاسْتِعَارَةُ تُفَارِقُ الْكِذْبَ، یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں مولانا، استعارہ میں کیا کیا آپ نے لفظ کو موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ، تو یہ تو کذب ہوا، کیا ہوا؟ جھوٹ ہوا بھئی۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، کذب سے فرق ہے استعارہ کا دو چیزوں کے اندر بھئی: ایک تو یہ استعارہ کی بنیاد کس پر ہوتی ہے؟ تاویل پر۔ تاویل کر کے غیر متعارف کو بھی ہم نے کس کی جنس میں داخل کیا؟ متعارف کی جنس میں داخل کیا۔ دوسرے مولانا استعارہ میں ہم قرینہ بھی قائم کرتے ہیں کہ یہاں متعارف نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ غیر مراد، جیسے مولانا "رأيت أسداً يرمي"، یہاں اسد سے کیا مراد ہے؟ رجلِ شجاع، تو رجلِ شجاع کو بھی تاویل کر کے آپ نے اسد کے افراد میں سے بنا دیا۔ دوسری بات آپ نے يرمي کا قرینہ بھی قائم کیا، اس قرینے نے بتلایا کہ یہاں حیوانِ مفترس نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ رجلِ شجاع۔ وَالِاسْتِعَارَةُ تُفَارِقُ الْكِذْبَ بِوَجْهَيْنِ، اور استعارہ جو ہے وہ جدا ہو جاتا ہے کذب سے دو وجہ سے: بِالْبِنَاءِ عَلَى التَّأْوِيلِ، ایک تو اس کی بناء کس پر ہوتی ہے؟ تاویل پر ہوتی ہے، فِي دَعْوَى دُخُولِ الْمُشَبَّهِ فِي جِنْسِ الْمُشَبَّهِ بِهِ، اور تاویل کیا ہے کہ دعویٰ کیا جاتا ہے مولانا کہ مشبہ داخل ہے کس کے اندر؟ مشبہ بہٖ کی جنس میں، بِأَنْ يُجْعَلَ أَفْرَادُ الْمُشَبَّهِ بِهِ قِسْمَيْنِ، بسب بنانے افرادِ مشبہ بہٖ کو دو قسم پر، متعارف اور غیر متعارف، كَمَا مَرَّ، جیسے کہ گزرا، وَلَا تَأْوِيلَ فِي الْكِذْبِ، اور کذب میں ایسی تاویل نہیں ہوتی۔ وَنَصْبِ، أَيْ وَبِنَصْبِ الْقَرِينَةِ، بتلایا کہ اس کا عطف بالبناء پر ہو رہا ہے مولانا، اور دوسری وجہ کہ قرینہ قائم کرنے کے ساتھ عَلَى إِرَادَةِ خِلَافِ الظَّاهِرِ، کہ آپ کا ارادہ کیا ہے؟ ظاہر نہیں ہے بلکہ خلافِ ظاہر ہے۔ اسد سے حیوانِ مفترس نہیں مراد بلکہ رجلِ شجاع مراد ہے تو یہ فِي الِاسْتِعَارَةِ، استعارہ میں مولانا، لِمَا عَرَفْتَ، بوجہ اس کے جو آپ نے جان لیا، أَنَّهُ لَا بُدَّ لِلْمَجَازِ مِنْ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ عَنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى الْحَقِيقِيِّ الْمَوْضُوعِ لَهُ، کہ ضروری ہے مجازات کے اندر ایسے قرینہ کا ہونا جو مانع ہو اس معنی حقیقی کا جو موضوع لہ ہے، دَالَّةٍ، اور وہ قرینہ دلالت کرتا ہے عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ خِلَافُ الظَّاهِرِ، کہ مراد کیا ہے؟ خلافِ ظاہر ہے۔ بھئی وہ قرینہ يرمي کیا بتلاتا ہے کہ اسد سے ظاہر حیوانِ مفترس نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ خلافِ ظاہر یعنی رجلِ شجاع مراد ہے۔ بِخِلَافِ الْكِذْبِ، بخلاف کذب کے، فَإِنَّ قَائِلَهُ لَا يَنْصِبُ قَرِينَةً عَلَى إِرَادَةِ خِلَافِ الظَّاهِرِ، اس لیے کہ اس کا کہنے والا وہ نصب نہیں کرتا کوئی ایسا قرینہ کہ اس کا ارادہ کیا ہے؟ خلافِ ظاہر ہے۔ بھئی جھوٹ بولنے والا کوئی قرینہ قائم کرتا ہے کہ میرا ارادہ خلافِ ظاہر کا ہے؟ نہیں، بلکہ وہ تو کیا کرتا ہے؟ پوری کوشش کرتا ہے کہ ظاہرِ کلام ہی کو دوسرے کو سمجھائے اور اسی کی کیا کرے؟ اشاعت کرے۔ بَلْ يَبْذُلُ الْمَجْهُودَ فِي تَرْوِيجِ ظَاهِرِهِ، بلکہ وہ تو خرچ کرتا ہے اپنی طاقت اور کوشش کذب کے ظاہر ہی کے ترویج میں۔ فرق سمجھ میں آیا دونوں میں بھئی؟ دو وجہ سے فرق ہے۔ وَلَا تَكُونُ الِاسْتِعَارَةُ عَلَمًا، کہتے ہیں استعارہ علم بھی نہیں ہو سکتا بھئی۔ استعارہ علم بھی نہیں ہو سکتا۔ بھئی دیکھیے استعارہ کا جنس ہونا ضروری ہے بھئی۔ مثلاً میں نے کہا: "رأيت أسداً يرمي"، میں نے ایک شیر دیکھا جو کیا کر رہا تھا؟ تیر چلا رہا تھا، یہاں اسد سے کیا مراد ہے؟ رجلِ شجاع، کیسے پتہ چلا آپ کو؟ يرمي سے، يرمي نے بتلایا کہ حیوانِ مفترس نہیں مراد بلکہ رجلِ شجاع مراد ہے۔ تو آپ نے اسد کے دو افراد بنائے: ایک متعارف اور ایک غیر متعارف، معلوم ہوا اس کے افراد کثیر ہیں، اور کثیر افراد ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ اسد کا لفظ کلی ہے، جزئی نہیں ہے، کیونکہ جزئی ہوتا تو پھر اس میں تعدد آ سکتا تھا؟ جزئی کے اندر تو علم ہوتا مثال کے طور پر، تو علم کے اندر تو تعین ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ اسد کا جنس ہونا ضروری یعنی استعارے کا جنس ہونا ضروری تاکہ اس کے افراد میں تعدد پیدا کیا جا سکے۔ اگر افراد میں تعدد نہیں پیدا کر سکتے جیسے کہ علم ہوتا ہے، تو اس صورت میں استعارہ صحیح نہیں۔ اور تعدد جنس کے اندر ہے یا علم کے اندر ہے؟ جنس کے اندر ہے بھئی۔ دیکھیے بات سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ دیکھو ہم نے اسد کے دو افراد بنانے ہیں اور دو افراد اسی صورت میں بن سکتے ہیں کہ اسد علم نہیں ہونا چاہیے یعنی استعارہ علم نہ ہو، کیونکہ علم تو مثلاً آپ زید بولتے ہیں تو ایک خاص شخص مراد لیا جا سکتا ہے، اس میں تعدد آ سکتا ہے؟ تعدد نہیں آ سکتا، اور استعارے میں تو ہم نے لانا ہی تعدد ہے ہر صورت میں، اس میں تعدد پیدا ہونا چاہیے، کس طرح؟ ایک فرد بنانا ہے متعارف، ایک فرد کون سا بنانا ہے؟ غیر متعارف، تو تعدد آیا یا نہیں آیا؟ اور علم میں تعدد آ سکتا ہے؟ معلوم ہوا علم کے اندر استعارہ جائز نہیں، استعارہ ہمیشہ کس میں ہوگا؟ جنس میں ہوگا کیونکہ اس میں تعدد ہے۔ وَلَا تَكُونُ الِاسْتِعَارَةُ عَلَمًا، اور استعارہ علم نہیں ہو سکتا، لِمَا سَبَقَ، اس وجہ سے جو گزر گئی، مِنْ أَنَّهَا، یعنی کہ یہ تقاضا کرتا ہے، إِدْخَالَ الْمُشَبَّهِ فِي جِنْسِ الْمُشَبَّهِ بِهِ، کہ داخل کر دیا مشبہ کو مولانا، یہ پہلا لفظ مشبہ ہونا چاہیے، بہٖ غلط ہے مولانا، کہ داخل کیا جائے کس کو مولانا؟ مشبہ کو داخل کیا جائے فِي جِنْسِ الْمُشَبَّهِ بِهِ، مشبہ بہٖ کی جنس میں، بِجَعْلِ أَفْرَادِهِ قِسْمَيْنِ مُتَعَارَفًا وَغَيْرَ مُتَعَارَفٍ، بسب بنانے اس کے افراد کو دو قسم پر: ایک متعارف اور ایک غیر متعارف، وَلَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي الْعَلَمِ، اور علم میں یہ ممکن نہیں کہ اس کے افراد دو قسم پر بنا لیے جائیں، لِمُنَافَاتِهِ الْجِنْسِيَّةَ، کیونکہ اس کی منافات ہے کس کے ساتھ؟ جنس کے ساتھ، وہ جمع نہیں ہو سکتا، لِأَنَّهُ يَقْتَضِي التَّشَخُّصَ، اس لیے کہ علم تو تقاضا کرتا ہے کس چیز کا؟ تعین کا یعنی، تعین کا یہ تقاضا کرتا ہے، وَمَنْعَ الِاشْتِرَاكِ، اور اشتراک کے منع کرنے کا، یرحمک اللہ۔ وَالْجِنْسِيَّةُ تَقْتَضِي الْعُمُومَ، اور جنسیت کس کا تقاضا کرتی ہے؟ عموم کا، وَتَنَاوُلَ الْأَفْرَادِ، اور افراد کے شمول کا ارادہ کرتی ہے، تو معلوم ہوا یہ جنس ہے۔ إِلَّا إِذَا تَضَمَّنَ الْعَلَمُ نَوْعَ وَصْفِيَّةٍ، ہاں اس صورت میں علم کے اندر استعارہ ہو سکتا ہے مولانا جب علم متضمن ہو وصف کو، جب علم کیا ہو؟ متضمن ہو وصف کو۔ بھئی محض علم ہو، کوئی کسی وصف پر دلالت نہ کر رہا ہو، تو پھر اس صورت میں استعارہ نہیں ہو سکتا کیونکہ علم کے اندر ہے تشخص اور استعارہ میں کیا ہے؟ تعدد اور عموم ہے۔ إِلَّا إِذَا تَضَمَّنَ الْعَلَمُ نَوْعَ وَصْفِيَّةٍ، مگر جس وقت کہ متضمن ہو علم ایک نوع وصفیت کو، بِوَاسِطَةِ اشْتِهَارِهِ بِوَصْفٍ مِنَ الْأَوْصَافِ، بسب اس کے مشہور ہونے کے کسی وصف کے ساتھ، کسی وصف کے ساتھ مشہور ہونے کی وجہ سے یہ متضمن ہو کس کو؟ جیسے مولانا حاتم ہے۔ حاتم کس کا نام ہے بھئی؟ ایک سخی شخص تھا مولانا قبیلہ طے کا بھئی، بڑا سخی شخص۔ اب جب بھی لفظِ حاتم بولا جائے، فوراً کیا ہے؟ سخاوت کا تصور ذہن میں آ جاتا ہے۔ تو دیکھو سخاوت کے اندر یہ نام بے انتہا شہرت کو پہنچ گیا کہ جیسے کوئی حاتم کا نام لیتا ہے فوراً سخاوت کا تصور بھی آ جاتا ہے۔ تو اب اس صورت میں جب یہ متضمن ہو وصف کو یہ علم، اب اس میں استعارہ ہو سکتا ہے۔ اس میں؟ استعارہ ہو سکتا ہے۔ تو تاویل کر لی جاتی ہے، مثلاً آپ کہتے ہیں: "رأيت اليوم حاتماً"، میں نے اج کس کو دیکھا؟ حاتم کو دیکھا۔ یہ اليوم بتلا رہا ہے مولانا کہ حاتم جو ہے یہ وہ والا حاتم اصل شخص نہیں مراد بلکہ یہ کوئی اور شخص مراد ہے جو اسی کے مثل ہے کس چیز کے اندر؟ سخاوت کے اندر۔ تو گویا تاویل کی ہم نے حاتم کے اندر کہ یہ مخصوص شخص کے لیے وضع نہیں ہے بلکہ یہ تو مطلق سخی شخص کے لیے وضع ہے۔ مطلق سخی، اور اليوم نے بتلایا قرینے نے کہ وہ متعین فرد نہیں مراد بلکہ کیا ہے؟ دوسرا مراد۔ تو اس کے بھی افراد کتنے ہوئے مولانا؟ دو ہو گئے بھئی: ایک متعارف وہ جو مشہور آپ جانتے ہیں قبیلہ طے میں گزرا ہے، ایک غیر متعارف جس پر اطلاق کیا آپ نے بھئی۔ كَحَاتِمٍ، جیسے حاتم کا لفظ، الْمُتَضَمِّنِ لِلِاتِّصَافِ بِالْجُودِ، جو سخاوت کے ساتھ متصف ہونے کو متضمن ہے، وَمَادِرٍ بِالْبُخْلِ، اور جیسے مادر مولانا بخل کے ساتھ مشہور ہے بھئی عرب کے اندر۔ جیسے مولانا عرب میں کہتے ہیں: "أجود من حاتم"، فلاں شخص کیا ہے؟ حاتم سے زیادہ سخی ہے۔ یا کہتے ہیں مولانا بخل کی بات آئے تو کہتے ہیں: "فلان أبخل من مادر"، مادر سے بھی زیادہ بخیل ہے۔ یہ بڑا بخیل شخص گزرا ہے مولانا عرب کے اندر بھئی، ضرب المثل بن گیا یہ بھئی۔ اتنا بخیل تھا، اتنا بخیل تھا کہتے ہیں کہ یہ حوض پر گیا اونٹنی کو پانی پلانے کے لیے، تو اونٹنی کو اس نے پانی پلایا بھئی، پانی پلانے کے بعد حوض میں تھوڑا سا پانی رہ گیا، کچھ پانی رہ گیا، تو اتنا بخیل تھا کہ یہ کہیں کسی اور کے کام نہ آ جائے مولانا، تو اس نے اس میں پیشاب پاخانہ کر دیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اتنے بخل، تو اس کا نام ہی مولانا کیا پڑ گیا؟ مادر پڑ گیا بھئی۔ مَذَرَ کے معنی ہوتے ہیں پاخانے کرنے کے بھئی، تو یہ اس نے چونکہ اس میں پاخانہ کر دیا اور اس کو پانی میں پھیلا دیا تھا کہ کوئی اس سے اور نفع نہ اٹھائے۔ تو یہ دیکھو مادر اب بخل کے ساتھ بھئی مشہور ہو گیا۔ تو یہ متضمن ہوا کس کو؟ وصف کو، لہٰذا آپ کہہ سکتے ہیں: "رأيت اليوم مادراً"، بھئی بے انتہا بخیل شخص۔ اسی طرح سحبان ہے مولانا، سحبان وائل فصاحت کے اندر بڑا فصیح و بلیغ گزرا ہے مولانا۔ اتنا فصیح و بلیغ، اتنا فصیح و بلیغ کہ ضرب المثل بن گیا، کسی کی فصاحت کی تعریف کرنی ہو تو کہا جاتا ہے: "فلان أفصح من سحبان"، فلاں کیا ہے؟ سحبان سے زیادہ فصیح ہے، زیادہ فصیح ہے۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لائے بھئی، ان کے زمانے میں بھئی، مسلمان۔ انہی کے بارے میں آتا ہے، ایک روایت یہ ہے کہ "أما بعد" کا لفظ سب سے پہلے انہوں نے استعمال کیا، گو یہ قول کیا ہے؟ ضعیف ہے بھئی۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے بھئی، بہت بڑے خطیب تھے مولانا، پورے عرب میں ان کی دھوم تھی مولانا۔ حضرت معاویہ کے پاس اس وقت بڑے بڑے بلیغ، اس زمانے کے لوگ تو بڑے فصیح و بلیغ تھے، سردار لوگ تھے کافی جمع، فصیح و بلیغ لوگ جمع تھے، لیکن جب انہوں نے سحبان وائل کو دیکھا کہ یہ آ گیا ہے سارے چپکے سے خاموشی سے نکل گئے وہاں سے بھئی۔ اس کا مقابلہ تو ہم نہیں کر سکتے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ بھئی کچھ ہمارے سامنے بھی خطاب کرو، ہم بھی سنیں آپ کو بھئی۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میرے لیے ایک عصا تلاش کرو بھئی، عصا لے کر آؤ میرے لیے۔ چنانچہ عصا لایا گیا، لاٹھی پکڑی اور لاٹھی پکڑ کر کہتے ہیں ظہر کے بعد انہوں نے اسی وقت ظہر کے تو انہوں نے تقریر شروع کی بھئی۔ اتنی فصیح و بلیغ، اتنی فصیح و بلیغ مولانا تقریر جاری رہی، جاری رہی، جاری رہی یہاں تک کہ قریب تھا عصر کا نماز کا وقت فوت ہو جاتا، تب حضرت معاویہ پکارے کہ الصلوۃ، نماز کا وقت ہو گیا، نماز فوت ہو جائے گی۔ اور کہتے ہیں یہ کئی گھنٹے بولتے رہے، درمیان میں ایک لمحہ توقف نہیں کیا، درمیان کھنکھارے نہیں مولانا، کھانسے نہیں، بات کو شروع کرتے تھے اس کو ختم ہی کرتے تھے جب تک دوسری بات کی طرف نہیں جاتے تھے، اور جس بات کو شروع کرتے تھے اس کو جب تک انتہا تک نہیں پہنچاتے تھے اس کو چھوڑتے نہیں تھے۔ تو مسلسل اتنے گھنٹے تقریر کرنا، درمیان میں ایک لمحے کا توقف نہ کرنا، نہ کھنکھارنا تو اور نہ روکنا، تو پھر حضرت معاویہ نے فرمایا مولانا: "أنت أخطب العرب"، بھئی آپ تو عرب کے سب سے بڑے خطیب ہیں، عجیب تقریر کی آپ نے تو۔ حضرت سحبان نے فرمایا: صرف عرب کا خطیب ہوں میں؟ "بل أنا أخطب الجن والإنس"، میں جن اور انسانوں میں سب سے بڑا خطیب ہوں۔ عجیب لوگ تھے مولانا، کتنا اعتماد! تو یہ ان کا نام ضرب المثل بن گیا بھئی۔ وَبَاقِلٍ بِالْفَهَاهَةِ، اسی طرح باقل کا نام مولانا مشہور ہے کس کے اندر؟ زبان کی بندش کے اندر بھئی۔ باقل ایک شخص تھا، بات نہیں ہوتی تھی بھئی۔ کوئی معنیٰ، کوئی اپنے دل کی بات کوئی بیان نہیں کر سکتا تھا بھئی، بولا نہیں جاتا تھا اس سے بالکل بھئی۔ تو مشہور ہو گیا "أعيا"، کسی کے بارے میں کہتے ہیں: "أعيا من باقل"، بھئی کہ یہ باقل سے بھی زیادہ زبان بند ہے، اس سے بات نہیں ہو سکتی، یہ کوئی چیز بیان نہیں کر سکتا۔ اتنی زبان بند تھی، اتنی زبان بند تھی، ایک مرتبہ یہ ہرن خرید کر لا رہا تھا بھئی۔ تو گیارہ درہم میں ہرن خریدا۔ ہرن خرید کر لا رہا ہے، ایک گاؤں والوں کے پاس سے گزرا، انہوں نے پوچھا بھئی کتنے کا ہرن خریدا؟ اس سے بات تو ہوتی نہیں تھی، اس نے فوراً جھٹ سے دونوں ہاتھ یوں کیے اور زبان ساتھ نکال کے اشارہ کیا کہ کتنے کا خریدا ہے؟ گیارہ کا خریدا ہے، یوں کیا تو ہرن ہاتھ میں تھا ہرن ہاتھ سے نکل گیا بھئی۔ تو اتنی زبان، یعنی گیارہ کہنا بھی اس کے لیے عذاب تھا، تو یہ مشہور ہوا مولانا، "أعيا من باقل" کہتے ہیں۔ فَحِينَئِذٍ، تو اس صورت میں دیکھو یہ تمام اسماء متضمن ہیں اوصاف کو اور مشہور ہیں، يَجُوزُ أَنْ يُشَبَّهَ شَخْصٌ بِحَاتِمٍ، جائز ہے کہ ایک شخص کو تشبیہ دی جائے کس کے ساتھ؟ حاتم کے ساتھ فِي الْجُودِ سخاوت کے اندر، وَيُتَأَوَّلَ فِي حَاتِمٍ، اور تاویل کی جاتی ہے حاتم کے اندر، فَيُجْعَلَ كَأَنَّهُ مَوْضُوعٌ لِلْجَوَادِ، گویا کہ وہ وضع ہے کس کے لیے؟ سخی کے لیے وضع ہے، سَوَاءٌ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلَ الْمَعْهُودَ أَوْ غَيْرَهُ، چاہے وہ وہی مع متعین شخص ہو، معہود کیا معنیٰ؟ متعین، چاہے وہی متعین شخص ہو یا غیر متعین ہو، یہ محض جواد کے لیے وضع ہے، تو ہر سخی پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے، كَمَا مَرَّ فِي الْأَسَدِ، جیسے کہ گزرا کس کے اندر؟ اسد میں کہ وہ حیوانِ معہود کے لیے بھی وضع ہے اور یعنی متعارف کے لیے بھی اور غیر متعارف کے لیے بھی۔ فَبِهَذَا التَّأْوِيلِ، اس تاویل کے ساتھ يَتَنَاوَلُ الْحَاتِمُ الْفَرْدَ الْمُتَعَارَفَ الْمَعْهُودَ، حاتم شامل ہے مولانا اس فرد کو جو متعارف ہے، المعہود جو متعین ہے، وَالْفَرْدَ غَيْرَ الْمُتَعَارَفِ، اور فردِ غیر متعارف کو بھی شامل ہے، وَيَكُونُ إِطْلَاقُهُ عَلَى الْمَعْهُودِ، اور اس کا اطلاق وہ جو متعین شخص پر ہے، أَعْنِي حَاتِمَ الطَّائِيَّ، یعنی حاتمِ طائی جو ہے، حَقِيقَةً، یہ کیا ہے؟ اس پر اس کا اطلاق کیا ہے؟ حقیقت ہے، وَعَلَى غَيْرِهِ مِمَّنْ يَتَّصِفُ بِالْجُودِ، اور اس کے علاوہ پر جو متصف ہیں جود کے ساتھ، ان پر اس کا اطلاق جو ہے اسْتِعَارَةً، وہ کیا ہے؟ استعارہ ہے، نَحْوُ: رَأَيْتُ الْيَوْمَ حَاتِمًا، جیسے آپ کہتے ہیں: میں نے اج حاتم دیکھا۔ وَقَرِينَتُهَا أَيْ أَنَّ الِاسْتِعَارَةَ، یہاں سے آپ کو یہ بتلائیں گے مولانا کہ قرینہ کبھی استعارے کا ایک ہوگا، کبھی ایک سے زیادہ ہوں گے اور کبھی مولانا کئی چیزیں مل کر مرکب ہوں گی، وہ سارا مل کر کیا بنے گا؟ قرینہ بنے گا بھئی۔ وَقَرِينَتُهَا أَيْ أَنَّ الِاسْتِعَارَةَ لِكَوْنِهَا مَجَازًا، یعنی مجاز جو ہے، لَا بُدَّ لَهَا مِنْ قَرِينَةٍ مَانِعَةٍ، اس کے لیے ضروری ہے کسی ایسے قرینہ کا ہونا، مَانِعَةٍ عَنْ إِرَادَةِ الْمَعْنَى الْمَوْضُوعِ لَهُ، جو معنی موضوع لہ کے ارادے سے کیا ہو؟ مانع ہو، تو اس کا وَقَرِينَتُهَا إِمَّا أَمْرٌ وَاحِدٌ، تو اس کا قرینہ یا تو امرِ واحد ہوگا، كَمَا فِي قَوْلِكَ: رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي، جیسے آپ کہتے ہیں: میں نے ایک شیر کو دیکھا تیر چلاتے ہوئے، تو دیکھیے قرینہ کیا ہے مولانا؟ يرمي، اور یہ ایک ہے یا زیادہ؟ ایک۔ أَوْ أَكْثَرُ، یا قرینے زیادہ ہوں گے ایک سے، أَيْ أَمْرَانِ أَوْ أُمُورٌ، یعنی یہ دو ہوں گے یا زیادہ، يَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا قَرِينَةً، ان میں سے ہر ایک کیا ہوگا؟ قرینہ ہوگا، كَقَوْلِهِ جیسے یہ قول ہے مولانا عرب کا: فَإِنْ تَعَافُوا أَيْ تَكْرَهُوا الْعَدْلَ وَالْإِيمَانَا فَإِنَّ فِي أَيْمَانِنَا نِيرَانًا اگر تعافو کا کیا معنیٰ بھئی؟ ناپسند کرنا معنیٰ، تم ناپسند ناگوار تمہیں گزرتا ہے، "العدل والإيمانا"، عدل و ایمان تمہیں ناگوار ہے، "فإن في أيماننا نيراناً"، پس بیشک ہمارے داہنے ہاتھوں میں کیا ہیں؟ اَیمان جمع ہے کس کی؟ یمین کی، تو یہ پہلا لفظ ہے ایمان، دوسرا ہے اَیمان۔ تو ہمارے داہنے ہاتھوں کے اندر آگ ہے، نِیران نار کی جمع ہے مولانا۔ اور یہاں نِیران بول کر تلوار مراد ہے بھئی۔ نِیران بول کر کیا مراد ہے؟ تلوار، کیوں؟ اس لیے کہ عدل اور ایمان کا تذکرہ آیا۔ عدل اور ایمان کا تذکرہ آیا، اور عدل کی ضد کیا ہے؟ ظلم، اور ایمان کی ضد کیا ہے؟ کفر، اور ظلم اور کفر میں کیا استعمال کی جاتی ہے؟ تلوار استعمال کی جاتی ہے۔ تو نِیران سے کیا مراد ہوا مولانا؟ آگ بول کر کیا مراد؟ تلوار، تو یہ استعارہ ہے نِیران کے اندر، اور دونوں میں مناسبت کیا ہے؟ چمک مولانا، جیسے تلوار میں چمک اسی طرح آگ میں چمک، تو دونوں میں مناسبت ہے۔ اے مخالفین! ناگوار ہے تمہیں عدل اور ایمان، "فإن في أيماننا نيراناً"، بیشک ہمارے داہنے ہاتھوں کے اندر تلواریں ہیں، أَيْ سُيُوفًا تَلْمَعُ كَشُعَلِ النِّيرَانِ، اور چمک رہی ہیں جیسے آگ کے شعلے ہوتے ہیں، شُعَل جمع ہے شعلہ کی، تَلمَعُ کا معنی چمکنا بھئی، جو چمکتی ہیں آگ کے شعلوں کی طرح۔ فَتَعَلُّقُ قَوْلِهِ: "تَعَافُوا" بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْعَدْلِ وَالْإِيمَانِ قَرِينَةٌ، پس تعلق ہونا تَعَافُوا کا ایمان اور عدل میں سے ہر ایک کے ساتھ، یہ کیا ہے؟ قرینہ ہے اس بات پر أَنَّ الْمُرَادَ بِالنِّيرَانِ السُّيُوفُ، کہ نِیران سے مراد سیوف ہیں، لِدَلَالَتِهِ عَلَى أَنَّ جَوَابَ هَذَا الشَّرْطِ، اس لیے کہ یہ دلالت کر رہا ہے اس بات پر کہ اس شرط کا جواب، فإِنْ، اِنْ کس کے لیے آتا ہے؟ شرط، شرط کیا چاہتی ہے؟ جزا، تو کہتے ہیں جزا یہ جو آیا نا "فإن في أيماننا نيراناً" یہ جزا نہیں ہے، یہ علت ہے کس کے لیے؟ جزا کے لیے۔ جزا محذوف ہے اور وہ یہ ہے: تُحَارَبُونَ وَتُلْجَئُونَ إِلَى الطَّاعَةِ بِالسُّيُوفِ، اگر تم نا تمہیں ناگوار ہے عدل اور ایمان تو تُحَارَبُونَ، تم سے کیا کی جائے گی؟ جنگ کی جائے گی مولانا، حَارَبَهُ کسی سے جنگ کرنا، تو تُحَارَبُونَ تم سے جنگ کی جائے گی، وَتُلْجَئُونَ اور تمہیں مجبور کیا جائے گا إِلَى الطَّاعَةِ اطاعت پر، بِالسُّيُوفِ کس کے ساتھ؟ تلواروں کے ساتھ۔ استعارہ کس کے اندر ہے؟ نِیران کے اندر، نِیران بول کر کیا مراد؟ تلوار، تو یہ استعارہ، اور دونوں میں مناسبت کیا ہے؟ چمک ہے مولانا۔ اور قرینہ کیا ہے؟ عدل اور ایمان، عدل اور ایمان، اور عدل اور ایمان ایک ہیں، دو ہیں، تین ہیں مولانا؟ تو دیکھو قرینے دو ہوئے، پچھلے يرمي کے اندر قرینہ ایک تھا اب قرینے کتنے ہوئے؟ دو ہوئے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ نِیران آگ سے مراد آگ ہی لے لیں، آپ نے کیوں استعارہ بنایا؟ شاعر کہتا ہے ہمارے داہنے ہاتھوں میں آگ ہے، ہم تمہیں اس سے جلا کر ختم کر دیں گے، تو تلوار لینے کی کیا ضرورت ہے؟ آگ سے بھی کیا کیا جاتا ہے؟ دوسرے کو ختم کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں اس لیے کہ شریعت کے اندر کیا ہے؟ آگ کے ساتھ جلانا جائز نہیں اور یہاں شاعر مومن ہے، بتلا رہا ہے کہ عدل اور ایمان کو اے مخالفین تم پسند نہیں کرتے ہم تمہیں کس سے؟ آگ کے ساتھ سزا دیں گے، اور معلوم ہوا آگ کے ساتھ تو شرعاً سزا دینا جائز نہیں بلکہ کیا مراد ہے؟ تلوار، جس پر نیز قرینہ عدل اور ایمان ہے اس لیے کہ ظلم اور کفر کے اندر مولانا کیا کس کو استعمال کیا جاتا ہے؟ تلوار کے ساتھ سزا دی جاتی ہے، آگ کے ساتھ سزا نہیں دی جاتی۔ أَوْ مَعَانٍ مُلْتَئِمَةٍ، یا مولانا کبھی قرینہ ایسا ہوگا جو معانٍ ملتمہ یعنی مربوط بعضھا ببعض، ایسے معانی جو ملے ہوئے ہوں گے، یعنی مربوط بعضھا ببعض وہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہوں گے، ملے ہوں گے، يَكُونُ الْجَمِيعُ قَرِينَةً أَيِ الْمَجْمُوعُ، یعنی سارے کے سارے کیا ہوں گے؟ مل کر بھئی، ابھی تو گزرا پہلے میں ایک قرینہ تھا، دوسرے میں دو قرینے تھے، کبھی کبھار کئی چیزیں مل کر پھر کیا بنتا ہے؟ ایک قرینہ، چیزیں تو کئی ہوتی ہیں لیکن وہ سارے مل کر ایک قرینہ بنتا ہے، لَا كُلُّ وَاحِدٍ، یعنی ہر ایک ان میں سے قرینہ نہیں۔ اس پر بعض لوگوں نے اشکال کیا تھا کہ اے مصنف نے جب یہ کہہ دیا کہ قرینہ یا ایک ہوگا یا قرینہ اکثر ہوگا تو اب معانٍ ملتمہ کہنے کی ضرورت نہیں، کہ ایک بھی آ گیا اور ایک سے زیادہ بھی آ گئے۔ تو کہتے ہیں نہیں بھئی، میں نے فرق آپ کو علامہ تفتازانی فرماتے ہیں سمجھا دیا کہ پہلی صورت میں قرینہ ایک، دوسری صورت میں قرینے ایک سے زیادہ لیکن ہر ایک الگ الگ قرینہ، اور اب جو یہ معانٍ ملتمہ ہے اس کے اندر کئی چیزیں مل کر کیا بنتی ہیں؟ ایک ہی قرینہ بنتی ہیں، ہر ایک چیز الگ الگ نہیں ہوتی۔ وَبِهَذَا ظَهَرَ، اور اس ہماری اس تقریر سے ظاہر ہو گیا مولانا، فَسَادُ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ، ان لوگوں کے قول کا فساد جو یہ گمان کرتے ہیں أَنَّ قَوْلَهُ أَوْ أَكْثَرَ، کہ یہ جو ماتن نے "أو أكثر" فرمایا تھا، شَامِلٌ، یہ شامل ہے لِقَوْلِهِ مَعَانٍ، یہ جو معانٍ تیسری کی چیز ذکر ہوئی اس کو شامل تھا، فَلَا يَصِحُّ جَعْلُهُ مُقَابِلًا لَهُ وَقَسِيمًا، لہٰذا اس کو اس کا مقابل اور قسیم بنانا صحیح نہیں ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، دونوں میں فرق ہے بھئی۔ كَقَوْلِهِ، دیکھیے مولانا اس شعر کے اندر کئی چیزیں مل کر ایک قرینہ بنے گا: وَصَاعِقَةٍ مِنْ نَصْلِهِ تَنْكَفِي بِهَا عَلَى رُؤُوسِ الْأَقْرَانِ خَمْسُ سَحَائِبِ صاعقہ کہتے ہیں آسمانی بجلی کو مولانا، آسمانی کڑک دار بجلی بھئی۔ نصل کہتے ہیں دھار کو بھئی، تلوار کی دھار۔ تَنْكَفِي بِهَا، بھئی ذَهَبَ کا کیا معنیٰ؟ جانا، ذَهَبَ بِهِ کا کیا معنیٰ؟ لے جانا۔ اسی طرح تَنْكَفِي کا معنی الٹنا اور تَنْكَفِي بِهَا کا الٹانا ہوگا بھئی، یہ با تعدیہ کے لیے ہے، الٹانا۔ رُؤُوس جمع ہے رَأْس کی، سر بھئی۔ اَقران جمع ہے قِرن کی، قرن کہتے ہیں ہم پلہ، برابر کا، ہم پلہ برابر کا۔ سحائب جمع ہے سحاب بھئی، بادل کو کہتے ہیں بھئی۔ واؤ بمعنی رُبَّ کے ہے مولانا: "وَصَاعِقَةٍ مِنْ نَصْلِهِ"، بہت سی آسمانی بجلیاں اس کی تلوار کی دھار سے، اس کی تلوار کی دھار سے نکلنے والی بہت سی آسمانی بجلیاں، "تَنْكَفِي بِهَا"، الٹاتے ہیں اس کو، "عَلَى رُؤُوسِ الْأَقْرَانِ"، اس کے ہم رتبہ لوگوں کے سروں پر الٹاتے ہیں، "خَمْسُ سَحَائِبِ"، کتنے؟ پانچ بادل۔ پانچ بادل ہیں جو اس کی تلوار کی دھار سے نکلنے والی بجلیوں کو الٹا دیتے ہیں کس پر؟ اس کے ہم رتبہ، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اس کی تلوار کی دھار سے کیا نکلتی ہیں بجلی؟ آسمانی بجلی ہے، اور ان آسمانی بجلیوں کو الٹا دیتی ہیں، پانچ بادل ہیں وہ الٹاتے ہیں، کن پر الٹاتے ہیں؟ اس کے جو ہم رتبہ ہیں، اس کے جو برابر ہیں ان کے سروں پر بھئی۔ تو پانچ بادل گر یہ گراتے ہیں۔ اب کہتے ہیں یہ سحائب سے مراد کیا ہیں؟ پورے ہیں، انگلیوں کے پورے مراد ہیں مولانا، اور پورے بھی یہ اوپر والے بھئی۔ تو یہ کتنے ہوئے؟ پانچ بھئی، کیونکہ تلوار ایک ہاتھ میں ہے تو کتنے پورے اس کو استعمال کر رہے ہیں؟ تو وہ مبالغے کے طور پر یہ بھی نہیں کہتا کہ انگلیوں سے تلوار پکڑی ہے بلکہ کس سے پکڑی ہے؟ پورے ہی اس کی اتنا قوت ہے اس کے اندر یہی قادر ہے، اس کے پورے بھی کافی ہیں ان کو اڑانے کے لیے دشمنوں کو۔ تو جتنے اس کے ہم سر ہوتے ہیں جنگ کے اندر سامنے اتا ہے اتے ہیں تو اس کی تلوار سے کیا ہے؟ بجلیوں کی کڑک جو ہے ان کے سروں پر یہ پورے الٹاتے ہیں اور ان لوگوں کو کیا کر دیتے ہیں؟ ختم کر دیتے ہیں۔ تو استعارہ ہے مولانا سحائب کے اندر، پانچ بادل ذکر ہوئے اور مراد کیا ہیں؟ پورے ہیں، پورے ہیں پانچ۔ تو یہ جیسے مولانا بادل بارش برساتا ہے ہر شخص اس سے فیضیاب ہوتا ہے، اسی طرح اس کے پورے جو ہیں ان سے عطایا جاری ہوتے ہیں جس سے ہر شخص کیا ہوتا ہے؟ فیضیاب ہوتا ہے بھئی۔ "وَصَاعِقَةٍ مِنْ نَصْلِهِ"، اور آسمانی بجلی اس کی تلوار کی دھار سے، أَيْ نَصْلِ سَيْفِ الْمَمْدُوحِ، یعنی نصل سیف الممدوح، ھا ضمیر کس کو راجع؟ ممدوح کو، اور ممدوح بتلایا من سیف الممدوح بھئی، ضمیر سے پہلے کیا محذوف ہے؟ مضاف سیف محذوف ہے، یعنی ممدوح کی تلوار کی دھار سے، "تَنْكَفِي بِهَا"، الٹاتا ہے ان کے ساتھ، مِنْ اِنْكَفَأَ أَيْ اِنْقَلَبَ، یہ انکفأ سے ہے، انقلب الٹنے کے معنی میں، وَالْبَاءُ لِلتَّعْدِيَةِ، اور با کس لیے ہے؟ تعدیہ کے لیے ہے، وَالْمَعْنَى: رُبَّ نَارٍ، اور معنی یہ ہے: بہت سی آگ، یعنی وہ بجلی آسمان سے کیا اتی ہے؟ بھئی وہ بجلی اگ کی شکل میں ہوتی ہے، "مِنْ حَدِّ سَيْفِهِ"، جو نکلتی ہے کس سے؟ اس کی تلوار کی دھار سے، "تُقَلِّبُهَا"، الٹاتی ہے اس آگ کو، "عَلَى رُؤُوسِ الْأَقْرَانِ"، کس پر؟ اس کے ہم سروں کے سروں پر۔ کیا الٹاتے ہیں بھئی وہ بجلی کون الٹاتے ہیں؟ "خَمْسُ سَحَائِبِ"، کتنے بادل؟ پانچ بادل، أَيْ أَنَامِلِهِ الْخَمْسِ، یعنی کہ اس کے پوروں، پانچ پوروں، الَّتِي هِيَ فِي الْجُودِ، یہ وہ پورے جو مولانا سخاوت کے اندر، وَعُمُومِ الْعَطَايَا، اور عطایا کے عموم کے اندر، "سَحَائِبُ"، کیا ہیں؟ بادل ہیں، أَيْ يَصُبُّهَا عَلَى أَكْفَائِهِ فِي الْحَرْبِ، یعنی یہ بہاتی ہیں یعنی برساتی ہیں اس کے ہم سروں پر جنگ کے دوران، بھئی یہ پورے کیا ہیں؟ جنگ کے دوران بجلی کی کڑک کیا کرتے ہیں ان کے سروں پر؟ برسات، فَيُهْلِكُهُمْ بِهَا، پس ان کو ہلاک کرتے ہیں اس کے سبب سے۔ لَمَّا اسْتَعَارَ السَّحَائِبَ، جب شاعر نے استعارہ کیا کس سے؟ سحائب سے، لِأَنَامِلِ الْمَمْدُوحِ، کس کے لیے؟ ممدوح کے بھئی سحائب سے بول سحائب بول کر شاعر نے کیا مراد لیا؟ پورے مراد لیے، وَذَكَرَ أَنَّ هُنَاكَ صَاعِقَةً، اور ذکر کیا کہ وہاں پر کیا ہے؟ کڑک بجلی کی بھی ہے، وَبَيَّنَ أَنَّهَا مِنْ نَصْلِ سَيْفِهِ، اور یہ بھی بیان کیا کہ بجلی کی کڑک کہاں سے پیدا ہو رہی ہے؟ تلوار کی دھار سے، ثُمَّ قَالَ: "عَلَى رُؤُوسِ الْأَقْرَانِ"، پھر کہا علی رؤوس الاقران، یہ بجلی کی کڑک واقع کس پر ہوتی ہے؟ اس کے ہم رتبہ لوگوں کے سروں پر، ثُمَّ قَالَ: "خَمْسُ"، فَذَكَرَ الْعَدَدَ الَّذِي هُوَ عَدَدُ الْأَنَامِلِ، پھر ذکر کیا اس عدد کو جو عدد ہے کس کا؟ پوروں کا، پورے بھی کتنے ہیں؟ پانچ، اوپر والے پورے، ورنہ تو زیادہ ہیں، فَظَهَرَ مِنْ جَمِيعِ ذَلِكَ أَنَّهُ أَرَادَ بِالسَّحَائِبِ الْأَنَامِلَ، ان ساری باتوں سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اس کا ارادہ بادلوں سے کیا ہے؟ پورے ہیں۔ تو یہ سارے مل کر کہ یہ جو ہیں تلوار کی دھار سے کیا نکل رہی ہیں؟ بجلی کی کڑک، بجلی آسمانی بجلی ہے، اس کو مخالفین کے سروں پر پانچ بادل برساتے ہیں، کیا برساتے ہیں؟ پانچ بادل برساتے ہیں۔ تو یہ جو تلوار سے کڑک نکلی اور تلوار کا ہونا اور تلوار دشمن کے سر پہ جو برستی ہے اور پھر پانچ کا ہونا، یہ ساری چیزیں مل کر بتلا رہی ہیں کہ یہ کہ سحائب سے کیا مراد ہیں؟ پورے مراد ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ تلوار کس میں ہوگی؟ ہاتھ میں ہوگی اور اسی کے ذریعے برسائے گا بھئی۔ تو یہ معانی جو ہیں مل کر کیا بنا رہے ہیں؟ ایک قرینہ بنا رہے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ استعارہ دو قسم پر ہے مولانا، کس اعتبار سے؟ مستعار منہ، مستعار لہ کے اعتبار سے۔ اسد کا لفظ مولانا کس کے لیے وضع ہے؟ حیوانِ مفترس، اور کس پر اطلاق ہوا؟ رجلِ شجاع، تو حیوانِ مفترس ہے مستعار منہ اور رجلِ شجاع کیا ہے؟ یہ دونوں ایک ہی ذات میں جمع ہو سکتے ہیں یا جمع نہیں ہو سکتے؟ اگر دونوں ایک ذات میں جمع ہو سکیں تو اس کو کہتے ہیں استعارہ وفاقیہ۔ اگر دونوں ایک ذات میں جمع نہیں ہو سکتے تو اس کو کہتے ہیں استعارہ عنادیہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب آپ بتلائیے مولانا، حیوانِ مفترس اور رجلِ شجاع ایک ذات میں جمع ہو سکتے ہیں؟ ایک ہی شخص وہ حیوانِ مفترس بھی ہو اور رجلِ شجاع بھی ہو؟ نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس کے مقابلے میں قرآن میں آیا ہے: "أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ"، پس وہ شخص جو مردہ ہو پس ہم نے اس کو زندہ کر دیا، تو زندہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ ہدایت دے دی، ہدایت دے دی۔ تو زندہ کرنا ہے مستعار منہ اور معنی کس میں استعمال کیا؟ ہدایت دینے میں، یہ کیا ہے؟ مستعار لہ ہے بھئی۔ تو مستعار منہ اور مستعار لہ یہ ایک ذات میں جمع ہو سکتے ہیں کہ نہیں ہو سکتے؟ زندہ بھی کرے اور ہدایت بھی دے، جی؟ اللہ تعالی کی ذات میں جمع ہیں، اللہ تعالی کیا کرتے ہیں؟ زندہ بھی کرتے ہیں اور تو دیکھو مستعار لہ اور مستعار منہ کیا ہوئے؟ ایک ہی ذات کے اندر جمع ہوئے۔ اور کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے ایک ذات میں جمع نہیں ہوتے جیسے مولانا اسی کے اندر میتاً کا لفظ آیا بھئی، اور مردہ سے کیا مراد ہے؟ گمراہ مراد ہیں، اور مردہ اور گمراہی یہ دو چیزیں جمع ہو سکتی ہیں؟ جی؟ نہیں بھئی، یہ ہدایت پر ہونا یا گمراہی پر ہونا یہ زندہ شخص کے بارے میں ہوتا ہے، مردہ شخص کے بارے میں نہیں بھئی۔ ہاں، مردہ میں ہوگا اس کی زندگی کے اعتبار سے کہ زندگی میں وہ کیا تھا؟ ہدایت پر تھا یا گمراہی پر تھا۔ وَهِيَ أَيِ الِاسْتِعَارَةُ بِاعْتِبَارِ الطَّرَفَيْنِ، استعارہ طرفین کے اعتبار سے یعنی مستعار منہ، مستعار لہ کے اعتبار سے، قِسْمَانِ، دو قسم پر ہے، لِأَنَّ اجْتِمَاعَهُمَا أَيِ اجْتِمَاعَ الطَّرَفَيْنِ فِي شَيْءٍ إِمَّا مُمْكِنٌ، یعنی طرفین کا اجتماع ایک چیز کے اندر یا تو ممکن ہوگا، نَحْوُ: "أَحْيَيْنَاهُ"، جیسے احییناہ کا لفظ فِي "أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ" کے اندر، أَيْ ضَالًّا فَهَدَيْنَاهُ، یعنی گمراہ تھا پس ہم نے اس کو ہدایت دی، أَيِ اسْتُعِيرَ الْإِحْيَاءُ مِنْ مَعْنَاهُ الْحَقِيقِيِّ، مستعار لیا گیا کس کو مولانا؟ لفظِ احیاء کو معنی حقیقی سے، معنی حقیقی کیا تھا احیاء کا؟ وَهُوَ جَعْلُ الشَّيْءِ حَيًّا، کسی چیز کو زندہ کرنا، لِلْهِدَايَةِ، کس کے لیے لیا گیا مستعار؟ ہدایت کے لیے، الَّتِي هِيَ الدَّلَالَةُ عَلَى طَرِيقٍ تُوصِلُ إِلَى الْمَطْلُوبِ، یعنی دلالت کرنا ایسے طریقے راستے پر جو پہنچانے والا ہو مطلوب تک، وَالْإِحْيَاءُ وَالْهِدَايَةُ مِمَّا يُمْكِنُ اجْتِمَاعُهُمَا فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ، احیاء اور ہدایت ان اوصاف میں سے ہیں کہ ممکن ہے ان کا جمع ہونا ایک چیز کے اندر، وَهَذَا أَوْلَى مِنْ قَوْلِ الْمُصَنِّفِ، یہ کہتے ہیں یہ جو علامہ تفتازانی نے کیا بھئی، مستعار منہ کیا بتلایا؟ احیاء، زندہ کرنا، اور مستعار لہ کیا بتلایا؟ ہدایت دینا بھئی۔ تو احیاء کس کے معنی میں استعمال ہے؟ ہدایت دینے، اور احیاء کا حقیقی معنی کیا؟ زندہ کرنا، تو یہ ہے مستعار منہ اور ہدایت دینا مستعار لہ ہے۔ تو کہتے ہیں میں نے احیاء اور ہدایت ترجمہ کیا، مصنف نے اپنی کتاب اسی کی جو شرح لکھی ایضاح، انہوں نے کیا ذکر کیا؟ حیات اور ہدایت، کس کو؟ حیات اور ہدایت کہ یہ دونوں چیزیں آپس میں جمع ہو سکتی ہیں۔ تو کہتے ہیں مصنف کی بات سے ہماری بات زیادہ بہتر ہے، اس لیے کہ اس کے اندر احیینا ذکر ہے مولانا، حیات کا لفظ نہیں ذکر بھئی۔ وَهَذَا أَوْلَى مِنْ قَوْلِ الْمُصَنِّفِ، اور یہ اولیٰ ہے، وَهَذَا، تو مصنف نے مولانا کہتے ہیں ہم نے دو چیزیں مستعار منہ کیا بیان کیا؟ احیاء، اور مستعار لہ کیا بیان کیا؟ ہدایت۔ مصنف نے جو ہے اپنی کتاب ایضاح جو انہوں نے تلخیص کی شرح لکھی انہوں نے مستعار منہ جو ہے وہ حیات ذکر کیا اور مستعار لہ ہدایت، تو مستعار منہ کہتے ہیں میں نے احیاء ذکر کیا اور مصنف نے کیا ذکر کیا تھا؟ حیات، اور کہتے ہیں میری بات اولیٰ ہے کیونکہ یہاں احیاء کا ذکر ہے، حیات کا ذکر صرف حیات۔ وَهَذَا أَوْلَى مِنْ قَوْلِ الْمُصَنِّفِ، اور یہ اولیٰ ہے مصنف کے اس قول سے کہ: إِنَّ الْحَيَاةَ وَالْهِدَايَةَ مِمَّا يُمْكِنُ اجْتِمَاعُهُمَا فِي شَيْءٍ، کہ حیات اور ہدایت جو ہے ان چیزوں میں سے ہیں کہ ایک چیز میں ان کا جمع ہونا ممکن ہے، لِأَنَّ الْمُسْتَعَارَ مِنْهُ هُوَ الْإِحْيَاءُ لَا الْحَيَاةُ، اس لیے کہ مستعار منہ جو ہے وہ احیاء ہے نہ کہ حیات۔ وَإِنَّمَا قَالَ: نَحْوُ "أَحْيَيْنَاهُ"، کہتے ہیں مصنف نے متن میں یہ کیوں فرمایا: نحو "أحييناه"، یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ "أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ"، میتاً کو کیوں نہیں ساتھ ذکر کیا؟ میتاً میں بھی تو استعارہ ہے، مردہ بول کر کیا مراد ہے؟ گمراہ مراد ہے، تو اس کو ذکر ہی نہیں کیا انہوں نے الگ۔ کہتے ہیں اس لیے کہ ابھی بات کر رہے ہیں استعارہ وفاقیہ کی، استعارہ وفاقیہ میں کیا ہوتا ہے؟ مستعار منہ اور مستعار لہ دونوں جمع اور جو استعارہ میتاً کے اندر ہے وہ استعارہ وفاقیہ نہیں ہے، وہ تو دونوں ایک جمع مستعار لہ اور مستعار منہ مولانا، موت اور مردہ اور گمراہی یہ دو چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ وَإِنَّمَا قَالَ نَحْوُ "أَحْيَيْنَاهُ"، مصنف نے نحو احییناہ فرمایا، لِأَنَّ الطَّرَفَيْنِ فِي اسْتِعَارَةِ الْمَيِّتِ لِلضَّالِّ مِمَّا لَا يُمْكِنُ اجْتِمَاعُهُمَا، اس لیے کہ دونوں طرفین جو ہیں میت کے استعارہ میں، میت الضال جو استعارہ کیا گیا میت کا کس میں مولانا؟ گمراہ میں، یہ ان چیزوں میں سے ہے کہ ممکن نہیں ان دونوں کا جمع ہونا، إِذِ الْمَيِّتُ لَا يُوصَفُ بِالضَّلَالِ، اس لیے کہ میت کا وصف بیان نہیں کیا جاتا کس کے ساتھ؟ گمراہی کے ساتھ، وہ متصف نہیں ہوتی بھئی۔ وَتُسَمَّى الِاسْتِعَارَةُ الَّتِي يُمْكِنُ اجْتِمَاعُ طَرَفَيْهَا فِي شَيْءٍ وِفَاقِيَّةً، مصنف فرماتے ہیں کہ چاہیے کہ نام رکھا جائے، نام رکھا جائے اس استعارے کا کہ جس کے اندر ممکن ہو دونوں طرفین کا جمع ہونا ایک چیز میں، اس کا کیا نام رکھا جائے؟ وفاقیہ رکھا جائے۔ معلوم ہوا یہ تسمیہ مصنف کی طرف سے ہے پہلے کی نہیں، یہ جو نام وفاقیہ رکھا ہے یہ مصنف رکھ رہے ہیں، لِمَا بَيْنَ الطَّرَفَيْنِ مِنَ الِاتِّفَاقِ، اس لیے کہ دونوں طرفین میں کیا ہے؟ اتفاق اور موافقت ہے، جمع ہو جاتے ہیں۔ وَإِمَّا مُمْتَنِعٌ، یا دونوں ممتنع ہوں گے، عَطْفٌ عَلَى إِمَّا مُمْكِنٌ، یہ اما ممکناً پر عطف ہے، یعنی دو چیزوں کا جمع ہونا ممکن ہوگا یا ممتنع ہوگا، كَاسْتِعَارَةِ اسْمِ الْمَعْدُومِ لِلْمَوْجُودِ، جیسے اسمِ معدوم کا استعارہ کرتے ہیں کس کے لیے؟ موجود کے لیے۔ زید آپ کے پاس ایا لیکن زید بالکل ایک بیکار شخص ہے، آپ کو اس نے کبھی کوئی نفع نہیں پہنچایا تو آپ نے کیا کہا: "جاء المعدوم"، کون ایا؟ معدوم، اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ تو معدوم سے آپ نے استعارہ کیا کس سے؟ موجود سے، اور معدوم اور موجود ایک ہی چیز کے اندر یہ ایک ہی چیز معدوم بھی ہو موجود بھی ہو یہ ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ كَاسْتِعَارَةِ اسْمِ الْمَعْدُومِ لِلْمَوْجُودِ، جیسے استعارہ کیا جائے معدوم کے اسم کا موجود کے لیے، لِعَدَمِ غَنَائِهِ، یہ استعارہ کیوں کیا جائے استعارہ بھئی؟ عدمِ فائدے کی وجہ سے کہ اس چیز کا فائدہ نہیں۔ خود بتلا رہے ہیں غناء کا معنی ہے فائدہ، بالفتح، غین کے فتحہ کے ساتھ ہے، النفع، یہ کیا ہے؟ نفع ہے، یا النفعِ کر لیں مولانا، أَيِ انْتِفَاءِ النَّفْعِ فِي ذَلِكَ الْمَوْجُودِ، بوجہ منتفی ہونے نفع کے اس موجود کے اندر، كَمَا فِي الْمَعْدُومِ، جیسے کس کے اندر منتفی ہے نفع؟ معدوم میں، فَلَا شَكَّ أَنَّ اجْتِمَاعَ الْوُجُودِ وَالْعَدَمِ فِي شَيْءٍ مُمْتَنِعٌ، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جمع ہونا وجود اور عدم کا ایک ہی چیز کے اندر ممتنع ہے، یہ ممکن نہیں ہے۔ وَكَذَلِكَ، اس کا عکس کر لیں مولانا، چیز معدوم ہے آپ اس کے لیے کیا لفظ لے کر اتے ہیں؟ موجود۔ ایک شخص ہے مر گیا ہے لیکن اس کے نیک کام ابھی تک جاری و ساری ہیں اور اس کے دوام پر دلالت کر رہے ہیں، تو آپ اس معدوم کے لیے کیا ذکر کر دیتے ہیں اس کو؟ موجود، کیا کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو موجود ہے، تو آپ نے موجود سے کیا مراد لیا؟ معدوم ہے وہ شخص۔ تو یہ بھی مولانا وجود اور عدم جو ہیں دونوں جمع نہیں ہو سکتے تو یہ بھی کیا ہے؟ یہ بھی استعارہ عنادیہ ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ وَكَذَلِكَ اسْتِعَارَةُ الْمَوْجُودِ لِمَنْ هُدِمَ وَفُقِدَ، اسی طرح موجود کا استعارہ اس شخص کے لیے جو معدوم اور مفقود ہے، لَكِنْ بَقِيَتْ آثَارُهُ الْجَمِيلَةُ، لیکن باقی ہیں اس کے اچھے آثار، اچھی نشانیاں اس کی باقی ہیں، الَّتِي تُحْيِي ذِكْرَهُ، جو زندہ کرتی ہیں اس کے ذکر کو، وَتُدِيمُ فِي النَّاسِ اسْمَهُ، اور دائم رکھتی ہیں لوگوں میں اس کے نام کو بھئی۔ وَتُسَمَّى الِاسْتِعَارَةُ الَّتِي لَا يُمْكِنُ اجْتِمَاعُ طَرَفَيْهَا فِي شَيْءٍ عِنَادِيَّةً، کہتے ہیں اس قسم کا استعارہ جس کے اندر طرفین کا اجتماع ممکن نہ ہو اس کا نام عنادیہ رکھنا چاہیے۔ عنادیہ کیوں؟ لِتَعَانُدِ الطَّرَفَيْنِ، کیونکہ طرفین کیا ہیں؟ اپس میں مخالف ہیں، ان میں مخالفت ہوتی ہے، وَامْتِنَاعِ اجْتِمَاعِهِمَا، جی، اور ان دونوں کا اجتماع ممتنع ہونے کی وجہ سے اس کا نام کیا رکھنا چاہیے؟ عنادیہ رکھنا چاہیے۔ وَمِنْهَا، اور عنادیہ ہی میں سے ہے، التَّهَكُّمِيَّةُ وَالتَّمْلِيحِيَّةُ، استعارہ تہکمیہ اور استعارہ تملیحیہ، یہ بھی کس میں سے ہے بھئی؟ عنادیہ میں سے۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا تشبیہ کے اندر، کبھی کبھار ضد کو ضد پر اطلاق کر دیا جاتا ہے مولانا۔ زید اتنا بزدل ہے، اتنا بزدل ہے کہ چھپکلی کو دیکھ لے تو اچھل پڑتا ہے۔ جیسے ہی وہ اتا ہے آپ کہتے ہیں لو بھئی شیر ا گیا، شیر ا گیا بھئی۔ اب حالانکہ وہ تو بزدل ہے، تو آپ کہتے ہیں زید شیر ہے، تو آپ نے زید کو تشبیہ دی مولانا کس کے ساتھ؟ شیر کے ساتھ، حالانکہ وہ تو متصف بالشجاعت نہیں ہے، وہ تو متصف بالجبن ہے۔ سمجھ میں ایا؟ تشبیہ میں آپ نے پڑھا تھا کہ یہ کبھی کبھار بطورِ مذاق کے اس طرح کیا جاتا ہے، کبھی ویسے ہی بات کو خوشگوار بنانے کے لیے اس طرح کیا جاتا ہے ساتھیوں کو ہنسانے کے لیے، کہ وہ جو جبن تھا اس جبن کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ شجاعت کے درجے میں اتار لیا اور پھر دونوں میں کیا کر دی؟ تشبیہ دے دی آپ نے۔ تو اب بتائیے بزدلی اور بہادری یہ دونوں جمع ہو سکتی ہیں؟ نہیں، تو کون سا یہ جو استعارہ تہکمیہ اور تملیحیہ یہ کون سی کس میں سے ہوئے؟ عنادیہ میں سے ہوئے بھئی۔ وَهُمَا مَا اسْتُعْمِلَ فِي ضِدِّهِ، اور وہ دو استعارے ہیں مولانا وہ استعمال ہوں کس کے اندر؟ ضد کے اندر، أَيِ الِاسْتِعَارَةُ الَّتِي اسْتُعْمِلَتْ فِي ضِدِّ مَعْنَاهَا الْحَقِيقِيِّ، یعنی وہ استعارہ جو استعمال ہو معنی حقیقی کی ضد میں، أَوْ نَقِيضِهِ، یا کس میں استعمال ہو؟ نقیض میں۔ بھئی ایک ہوتی ہے ضد، ایک نقیض، دونوں میں فرق جانتے ہیں؟ یاد رکھو ضدین بھی مخالف ہوتی ہیں، نقیضین بھی ایک دوسرے کے مخالف ہوتی ہیں۔ لیکن نقیضین کا نہ اجتماع ممکن ہوتا ہے نہ ارتفاع ممکن ہوتا ہے، جبکہ ضدین کا ارتفاع ممکن ہوتا ہے۔ مثلاً سفید اور کالا، یہ ضدین ہیں مولانا، نقیضین نہیں۔ ایک چیز یا تو سفید ہو سکتی ہے یا کالی ہو سکتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ضدین ہیں، دونوں کا ارتفاع بھی ممکن ہے، ہو سکتا ہے نہ سفید ہو نہ کالی ہو بلکہ کیا ہو؟ سرخ ہو، تو دونوں اٹھ گئیں۔ لیکن نقیضین میں دونوں کا اٹھنا ممکن نہیں، ایک ضرور ہوگی، اور نقیضین ایک وجودی ہوتی ہے ایک عدمی۔ مثلاً کتاب، لا کتاب، یہ اپس میں کیا ہیں؟ نقیضین۔ دنیا کی کوئی چیز آپ اٹھا لیں، یا تو وہ کتاب ہوگی یا لا کتاب ہوگی۔ قلم، لا قلم، دنیا کی کوئی چیز آپ اٹھا لیں یا تو وہ قلم ہوگی یا لا قلم۔ دونوں نہیں اٹھ سکتیں کسی سے بھی، نہ تو وہ قلم ہو نہ لا قلم ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو یہ مولانا ضدین بھی مخالف اور نقیضین بھی مخالف، لیکن ضدین میں ارتفاع ممکن نہیں جبکہ نقیضین میں ارتفاع بھی ممکن نہیں، اجتماع بھی۔ أَيْ لِتَنْزِيلِ التَّضَادِّ أَوِ التَّنَاقُضِ مَنْزِلَةَ التَّنَاسُبِ، اس وجہ سے جو گزرا یعنی اتارنا تضاد یا تناقض کو کس کے درجے میں اتارنا؟ بھئی ہم نے کیا کیا تھا؟ بزدلی کو کس کے درجے میں اتارا؟ شجاعت کے درجے میں اتارا بھئی۔ تو اسی طرح یہاں وہ جو تضاد اور تناقض تھا ہم نے اس کو تناسب کے درجے میں اتارا، بِوَاسِطَةِ تَمْلِيحٍ، کس کے واسطے سے؟ تملیح، کلام کو خوشگوار بنانے کے لیے، أَوْ تَهَكُّمٍ، یا کس طریقے پر؟ تہکم، استہزاء، کسی کا مذاق اڑانے، عَلَى مَا سَبَقَ تَحْقِيقُهُ فِي بَابِ التَّشْبِيهِ، بناء پر اس کے جس کی تحقیق گزر چکی ہے تشبیہ کے باب میں، نَحْوُ: "فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ"، قرآن میں ایا ہے مولانا: خوشخبری سنا دیجیے ان کو کس چیز کی؟ دردناک عذاب کی۔ بھئی دردناک عذاب کی خوشخبری ہوتی ہے یا بری خبر ہے بھئی؟ بری خبر ہے، لیکن تو اس کو انذار کہنا چاہیے ہونا چاہیے تھا بھئی کہ "أنذرهم"، ان کو ڈرائیے کس سے؟ دردناک عذاب کے ساتھ۔ لیکن یہاں مولانا کیا؟ استعارہ تہکمیہ کے طور پر انذار کے لیے کیا لفظ ذکر کر دیا گیا؟ "بشرهم" مولانا، یعنی انذار کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ بشارت کے درجے میں اتار لیا اور پھر اس پر بشارت کے لفظ کا اطلاق ہوا۔ تو بشارت تو وہ ہے مولانا جس سے خبر دی جائے تو دوسرے کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہو جائیں، اور انذار وہ ہے کہ جس سے دوسرے کو خبر دی جائے تو اس کے چہرے پر خوف چھا جائے، غم چھا جائے۔ أَيْ أَنْذِرْهُمْ، اسْتُعِيرَتِ الْبِشَارَةُ، مستعار لیا گیا بشارت کو، الَّتِي هِيَ الْإِخْبَارُ بِمَا يُظْهِرُ سُرُورًا، یہ خبر دینا ہے اس چیز کے ساتھ، يظهر سروراً ہونا چاہیے مولانا يظهره، جو ظاہر کرے سرور کو فِي الْمُخْبَرِ بِهِ، کس کے اندر سرور کو ظاہر کرے؟ مخبر بہٖ یعنی اس شخص کو جس کو خبر دی گئی ہے، لِلْإِنْذَارِ الَّذِي، تو یہ مولانا بشارت کو مستعار لیا گیا کس کے لیے؟ انذار کے لیے، الَّذِي هُوَ ضِدُّهَا، جو اس کی ضد ہے، بِإِدْخَالِ الْإِنْذَارِ فِي جِنْسِ الْبِشَارَةِ، کس طرح مولانا؟ کس صورت میں؟ کہ ہم نے انذار کو داخل کر دیا فی جنس البشارة، کس کی جنس میں؟ عَلَى سَبِيلِ التَّهَكُّمِ وَالِاسْتِهْزَاءِ، تہکم اور استہزاء کے طریقے پر۔ وَلَا يَخْفَى، اور یہ بات مخفی نہیں ہے کیا؟ امْتِنَاعُ اجْتِمَاعِ التَّبْشِيرِ وَالْإِنْذَارِ مِنْ جِهَةٍ وَاحِدَةٍ، کہ ممتنع ہے جمع ہونا تبشیر اور انذار کا ایک ہی جہت سے۔ ایک ہی خبر خوش کن بھی ہو اور غمناک ہو ایک ہی جہت سے، ایسا نہیں ہو سکتا، یا تو خوش کن ہوگی یا ڈرانے والی ہوگی یا خوش کن ہوگی مولانا۔ جہتِ واحدہ کہا اس لیے کہ جہت کے بدلنے سے ایک ہی خبر خوش کن بھی ہو سکتی ہے اور خوفناک بھی ہو سکتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً آپ کا فلاں ساتھی کل آپ کی دعوت کرے گا اور دعوت کے بعد دس منٹ کان پکڑوائے گا۔ تو دیکھو خوش کن بھی ہے اور پریشان کن بھی ہے۔ لیکن خوش کن کس اعتبار سے ہے؟ کھانا کھلانے کے اعتبار سے، پریشان کن کس اعتبار سے ہے؟ کان پکڑوانے کے اعتبار سے، ایک ہی جہت سے نہیں ہے دونوں۔ وَكَذَا الشَّجَاعَةُ وَالْجُبْنُ، اسی طرح مولانا شجاعت اور جبن بھی جہتیں بدلنے سے تو جمع ہو سکتے ہیں، ایک ہی جہت کے اعتبار سے جمع ایک شخص شجاع ہوگا یا جبان ہوگا مولانا۔ تو یہ استعارہ کون سا ہوا؟ عنادیہ یا وفاقیہ؟ عنادیہ مولانا۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔