مولانا گزشتہ سبق میں تنافر کے بارے میں ہم نے پڑھا تھا بھئی۔ تنافر انہوں نے بتلایا علامہ تفتازانی نے آپ کو کہ یہ وصف ہے کلمہ کے اندر جو اس کو زبان پر ثقیل بناتا ہے۔ اور ثقیل بناتا ہے اور اس پر تکلم دشوار ہوتا ہے، جیسے مستشذرات کا لفظ امرؤالقیس کے اس شعر میں بھئی۔ غدائرہ مستشذرات الی العلی تضل العقاص فی مثنی و مرسلی۔ غدائرہ اس کے جو جوڑے ہیں جو، مستشذرات وہ اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں یا اوپر کو بلند کیے گئے ہیں بھئی۔ یہ فعل لازمی بھی آتا ہے، تو پھر یہ اس میں فاعل پڑھیں گے مستشذرات۔ اور یہ فعل متعدی بھی آتا ہے، اس صورت میں اس کو اس میں مفعول پڑھیں گے۔ مستشذرات اوپر کو بلند کیے گئے ہیں۔ اور تضل العقاص فی مثنی و مرسلی اور چھپ جاتی ہیں، عقاص وہی غدائر ہیں مولانا جوڑے فی مثنی و مرسلی کس کے اندر؟ بٹے ہوئے اور کھلے بالوں کے بیچ میں چھپ جاتے ہیں وہ۔ چھپ چھپ جاتے ہیں مولانا۔ جی۔ تو یہاں پر بتلایا شاعر نے کہ میری معشوقہ کے بال بہت زیادہ ہیں، کثرت اشعار بیان کرنا مقصد ہے اور وہ تین قسم پر ہیں بھئی۔ کچھ عقاص ہیں، کچھ مصنہ ہیں، کچھ مرسل ہیں بھئی۔ اور عقاص جو ہیں، وہ مصنہ اور مرسل میں چھپ جاتے۔ اس کے بعد بتلایا کہ تنافر جو ہے یہ اس کا پتہ ذوق سے چلے گا بھئی۔ یہ کیا ہے؟ ذوق۔ ذوق بتلائے گا کہ کلیمے کا نطق دشوار ہے یا دشوار نہیں؟ ذوق سے پتہ چلے گا اس کے لیے کوئی اس کا تعلق الفاظ کے مخارج کے قریب یا بعید ہونے سے یا الفاظ کی صفات سے نہیں، جیسا کہ بعض دیگر علماء نے بیان کیا۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس کا تعلق مخارج کے قرب و بعد سے ہے، اگر قریب مخارج قریب قریب ہوں مولانا تو پھر اس کلیمے کا تکلم کیا ہوگا؟ زبان پر دشوار ہوگا۔ دشوار ہوگا۔ بعضوں نے ذکر کیا بھئی۔ کہ یہ اس کا تعلق الفاظ کی صفات سے ہے مولانا صفات سے۔ جیسے مولانا یہاں پر تا شین ذا اکٹھے ہوئے مولانا اور شین کس میں سے ہے؟ حروف مہیموسہ رخوہ میں سے ہے بھئی۔ تو یہ تا کے مخالف ہوا کس چیز میں؟ مہیموسہ ہونے میں، کیونکہ تا شدیدیدہ میں سے ہے اس کی ضد۔ اور رخوہ ہونے کے اندر یہ زا کے کیا ہوا؟ ضد ہوا، مخالف کیونکہ زا کیا ہے؟ مجہورہ میں سے ہے بھئی۔ ہاں؟ مہیموسہ۔ مہیموسہ کی ضد کیا آئے گی؟ مجہورہ آئے گی، ہاں۔ تو مہیموسہ ہے تو یہ کس کے مخالف ہوا بھئی؟ زا کے مخالف ہوا اور تا تھی شدیدیدہ اور شین کیا ہے؟ رخوت اس میں نرمی ہے، تو اس کے اندر مخالف ہوا بھئی۔ یرحمک اللہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں یہ قول درست نہیں بھئی۔ اس کو بھی رد کیا اور بعضوں نے کیا کہا تھا؟ وجہ کیا ذکر کی اس کو رد کرنے کی؟ کہتے ہیں اسی قائل جس نے یہ بات ذکر کی ہے، وہی کہتا ہے کہ اگر یہاں سے زا کو ختم کر دیں، مستشرق رہ جائے تو پھر ثقل زائل ہو جائے گا۔ کہتے ہیں حالانکہ زا کس میں سے تھی مولانا؟ مجہورہ میں سے تھی تو را بھی کس میں سے ہے؟ مجہورہ میں تو صفات میں تو تضاد اب بھی پایا جا رہا ہے، لیکن اب آپ خود بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ ثقل کیا ہوا؟ زائل ہو گیا۔ معلوم ہوا ثقل کا تعلق صفات سے نہیں ہے۔ اور پھر علامہ زوزنی کا قول ذکر کیا، وہ فرماتے ہیں کہ قرب مخارج جو ہے، سبب ہے ثقل کا۔ ثقل کا۔ اس پر اشکال ہوتا تھا کہ بھئی اس طرح تو قرآن میں بھی ایسے کلمات آئے ہیں، جن کے مخارج بڑے قریب ہیں، جیسے مثال کے طور پر الم احاد بھئی۔ یہاں ہمزہ, عین، حا تینوں حروف حلقی اکٹھے ہو گئے، ان کے مخارج بالکل قریب قریب۔ تو پھر تو یہ بھی کیا ہوا؟ اس میں تنافر حروف آ گیا، تو یہ اشکال علامہ زوزنی کے ذہن میں بھی آیا اور انہوں نے پھر اس کا جواب دینے کی کوشش کی بھئی۔ انہوں نے کہا ہاں احاد کے اندر جو ہیں، مخارج قریب ہونے کی وجہ سے ثقل آیا۔ حد تنافر کے قریب ہوا۔ اتنا ثقل آیا جو کس کے قریب ہے؟ حد تنافر کے قریب ہو گیا، اس کے قریب پہنچ گیا جس کی وجہ سے کلمے کی، کلمہ کیا ہوا؟ فصاحت میں اس کے خلل آ گیا بھئی۔ فصاحت میں خلل آ گیا۔ تو خلل آ گیا، لیکن اس کے باوجود چونکہ یہ کلام طویل ہے اور کلام طویل کے اندر ایک کلمہ غیر فصیح بھی آ جائے تو پھر بھی وہ کیا کہلاتا ہے؟ فصیح کہلاتا ہے بھئی۔ فصیح کہلاتا ہے۔ اور پھر اس کی نظیر پیش کرتے ہیں، کہتے ہیں آپ خود نہیں دیکھتے بھئی کلام عرب کے اندر کیا استعمال ہوتے ہیں، جیسے قرآن ہے، اللہ کیا فرماتے ہیں؟ انّآ انزلنہ قرآنا عربیّا۔ تو اللہ خود فرما رہے ہیں کہ ہم نے نازل کیا اسے اس حال میں کہ یہ کیا ہے؟ قرآن عربی ہے تو عربی ہونے کا وصف ذکر کیا گیا اس قرآن کے لیے، حالانکہ اس قرآن کے اندر بہت سی دوسری زبانوں کے الفاظ بھی ہیں۔ چنانچہ قرآن میں کیا آتا ہے؟ وزنوا بالقسطاس المستقیم۔ اب قسطاس کا لفظ آیا اس کے اندر مولانا یہ رومی زبان کا لفظ ہے۔ اسی طرح قرآن میں آتا ہے، یوم نطو السما کا طی السجل۔ یہ سجل فارسی زبان کا لفظ ہے بھئی۔ رجسٹر کو کہتے ہیں۔ اور اسی طرح قرآن میں مشکات کا لفظ آتا ہے، طاق کو کہتے ہیں اور یہ ہندی زبان کا لفظ ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ قرآنا عربیّا۔ تو دیکھو ایک اد کلمے کے غیر عربی آنے سے بھی کلام پھر بھی کیا رہا؟ عربی رہا، تو اسی طرح ایک اد کلمہ غیر فصیح ہونے سے بھی کلام طویل کیا رہے گا؟ فصیح رہے گا بھئی۔ علامہ تفتازانی نے ان کے اس قول کو رد کیا اور چار طرق سے اعتراض کیا بھئی، چار طرق سے۔ پہلا اعتراض یہ کیا کہ یہ آپ نے کلام طویل اور کلام قصیر کا فرق کہاں سے نکال لیا بھئی؟ فصاحت کلام کی تعریف دیکھی جائے تو اس کے اندر قید ملحوظ ہے کہ اس کے تمام کلمات کیا ہونے چاہیے؟ فصیح وہاں یہ قید موجود ہے کہ کلام فصیح وہ ہے کہ جس کے تمام کلمات فصیح ہوں، وہاں چھوٹے لمبے کلام کے ہونے کی کوئی قید کوئی تقسیم نہیں ہے وہاں پر کہ ہم کہیں طویل میں تو گنجائش ہے، قصیر چھوٹے کلام کے اندر گنجائش نہیں۔ تو یہ آپ نے اپنی طرف سے تقسیم کر دی بھئی۔ تعریف کے اندر تو کوئی ایسا نہیں ذکر کہ طویل میں گنجائش ہے، قصیر میں گنجائش نہیں۔ ایک اعتراض یہ کیا، دوسرا اعتراض یہ کیا کہ اگر آپ کی یہ بات مان لی جائے تو پھر آپ نے کلام کی جو تفسیر کی ہے اس سے خلل اور بھی بڑھ گیا، خرابی اور بھی بڑھ گئی بھئی۔ کہتے ہیں ہم نے تو کلام کا کیا معنی کیا تھا؟ مرکب تام اور آپ نے کلام کا کیا معنی کیا تھا؟ مرکب، مطلق مرکب چاہے تام ہو چاہے تو ہماری تفسیر کے مطابق اگر آپ کی بات مانی جائے تو صرف مرکب تام کے اندر کیا ماننا لازم آئے گا؟ کلمہ غیر فصیح کا اور اگر آپ کی بات، آپ کی تفسیر لی جائے تو پھر مرکب تام میں بھی غیر فصیح کا ماننا لازم آئے گا اور مرکب ناقص میں بھی غیر فصیح کا ماننا لازم۔ تو دیکھو اب مرکب ناقص کے اندر بھی کیا آیا؟ کلمہ غیر فصیح آنے کے باوجود اس کو کیا کہا جائے گا؟ فصیح کہا جائے گا، تو آپ کے قول کی روشنی میں خرابی کیا ہوئی مزید؟ مزید بڑھ گئی بھئی۔ اور پھر تیسرا اعتراض کہ جو آپ نے قیاس کیا، یہ قیاس مع الفارق ہے، صحیح نہیں۔ اس لیے کہ کلام فصیح کے اندر تو قید موجود ہے کہ اس کے کلام فصیح کس کو کہتے ہیں کہ جس کے تمام کلمات کیا ہوں؟ اور کلام عرب کے اندر کہاں یہ قید موجود ہے کہ کلام عرب اسے کہیں گے کہ جس کے سارے کلمات عربی ہوں۔ تو ایک مقید ہے، ایک مطلق ہے، آپ کیا کر رہے ہیں مولانا ایک کا قیاس دوسرے پر کر رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ دروازہ کھول دو بھئی، مکمل کھول دو۔ یہ بھی کھول دو بھئی، اچھا۔ اور چوتھا اعتراض یہ کہ اگر کہ ہم آپ کی بات مان بھی لیں کہ کلام طویل میں کلمہ غیر فصیح آ جائے تو پھر بھی وہ فصاحت سے اور یہ بات مان لیں آپ کی کہ الم ا حد یہ آ حد کا لفظ جو ہے کیا ہے؟ غیر فصیح۔ آپ کی یہ بات مان لیں تو اس کا معنی یہ ہوا قرآن کے اندر کلمہ غیر فصیح آ گیا۔ تو قرآن کے اندر کلمہ غیر فصیح ماننے کی صورت میں وہاں ہم یہ چیز وہم ڈالنے والی ہے اس بات کا کہ عجز یا جہل کی نسبت کس کی طرف ہو جائے؟ اللہ کی طرف ہو جائے، اور اللہ تو تمام عیوب و نقائص سے پاک ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ عجز و جہل کی نسبت کیسے ہوگی؟ کہتے ہیں دیکھو کلمہ غیر فصیح آیا۔ تو یا تو اللہ اس فصیح کی جگہ اس غیر فصیح کی جگہ فصیح کلمہ لانے پر قادر ہیں یا قادر؟ اگر قادر نہیں تو پھر یہ کیا آیا؟ عجز آیا۔ اور اگر قادر ہیں، پھر اب اللہ کو علم ہے کہ یہ کلمہ فصیح ہے یا یہ فصیح یہ علم ہے یا یہ علم نہیں؟ اگر علم نہیں پھر کس کی نسبت لازم آئی؟ جہل کی۔ اور اگر علم ہے کہ یہ کلمہ کیا ہے؟ غیر فصیح ہے، تو پھر یا یہ علم ہے کہ فصیح لانا زیادہ بہتر ہوتا ہے کس کی نسبت؟ غیر ف یہ علم ہے یا یہ علم نہیں؟ تو پھر بھی کس کی نسبت لازم آئے گی؟ جہل کی نسبت لازم آئے گی مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو آپ کا قول کتنی خطرناک بات کی طرف لے جانے والا ہے، لہذا یہ مردود ہے بھئی۔ جی، آگے دیکھیے مولانا۔ و الغرابۃ کون الکلمۃ وحشیّۃ غیر ظاہرۃ المعنی ولا مأنوسۃ الاستعمال۔ و لا مأنوسۃ الاست استعمال۔ غرابت کہتے ہیں ہونا کلمے کا وحشی بھئی، کلمے کا وحشی ہونا۔ وحشی ہونے کا کیا معنی؟ خود تفسیر کر رہے ہیں کہ یعنی اس کا معنی ظاہر نہ ہو ولا مأنوسۃ الاستعمال اور وہ مأنوس الاستعمال نہ ہو بھئی۔ اس کا معنی ظاہر نہیں اس لفظ کو بولا جائے اس لفظ کو بولا جائے تو ذہن معنی کی طرف منتقل نہیں ہوتا بھئی، منتقل نہیں ہوتا۔ اور مأنوس الاستعمال بھی نہیں ہے مولانا، استعمال عام نہیں ہوتا۔ تو یہ کلمہ اسے کلمہ وحشیہ کہیں گے بھئی۔ جیسے نحو مسرج فی قول ابن العجاج جیسے مسرج کا لفظ آیا ہے ابن العجاج شاعر کے قول میں بھئی۔ ابن العجاج شاعر یہ دوسری صدی کا فصیح عربی شاعر ہے مولانا دوسری صدی کا۔ تو یہ اپنی معشوقہ ازمان کے بارے میں کہتا ہے و مقلۃ و حاجب مَزجّجا ای محققاً مطولاً۔ فاحماً و مرسناً مُسرّجا۔ تو مقلہ کہتے ہیں آنکھ کی سفیدی مع سیاہی کے یعنی آنکھ مراد ہے و حاجب، حاجب کس کو کہتے ہیں بھئی؟ بھویں جو ہیں۔ مزججہ کا معنی ای محققاً باریک کی گئی، مطولہ طویل ہے مولانا باریک اور طویل۔ کہ اس نے ظاہر کیا اپنی آنکھ کو آنکھوں کو و حاجبہ اور بھوں کو مزججہ کہ وہ کیا ہے؟ باریک اور بھویں باریک ہیں اور لمبی ہیں۔ و فاهمہ ای شعرا اسود کلمی اور کوئلے جیسے سیاہ بال بھئی۔ کوئلے جیسے سیاہ بالوں کو اس نے ظاہر کیا۔ تو فاہم، مولانا آپ نے پڑھا ہے کہ کلمے کی کبھی کسی دوسری چیز کی طرف نسبت کی جاتی ہے تو اس کے آخر میں یا لگا دیتے ہیں، جیسے مولانا لاہوریّ کیا معنی لاہور والا؟ لاہور والا۔ اور کبھی یاد رکھو تو یہ یا کس کے لیے لگائی؟ نسبت کے لیے اور کبھی کبھی اس میں فاعل بھی بنا لیتے ہیں نسبت کے لیے۔ جیسے لبن سے بنا لابن، کیا معنی دودھ والا، دودھ بیچنے والا۔ اور اسی طرح تمر سے کیا بنے گا؟ تامر کھجور والا، کھجور بیچنے والا۔ تو اس میں فاعل بنا لیتے ہیں کبھی نسبت کے لیے۔ تو یہ بھی اسی طرح اس میں فاعل ہے لیکن اس میں نسبت تشبیہی ہے بھئی۔ نسبت کون سی ہے؟ تشبیہی ہے۔ فاحماً کا یہ معنی نہیں کوئلے والا بلکہ اس کا معنی ہے کوئلے جیسا بھئی۔ تو دیکھو تشبیہ ہے یا نہیں اس کے اندر بھئی؟ تو یہ نسبت تشبیہی ہے، اسی لیے کہا شعرا اسوداً کلفحمی سیاہ بال کوئلے جیسے و مرسیناً مرسیناً مرسناً دونوں طرح درست ہے بھئی۔ ای انفاً، مرسن کس کو کہتے ہیں؟ ناک کو۔ مسرّجا یہ لفظ ہے مولانا۔ اب یہ مسرّجن کے کیا معنی بھئی؟ یہ لفظ غریب ہے مولانا، یہ لفظ کیا ہے؟ غریب۔ اس میں غرابت آ گئی بھئی۔ اب دیکھو یاد رکھو مولانا غریب دو قسم پر ہے غریب۔ ایک وہ غریب ہے کلمہ جس کو عرب استعمال ہی نہیں کرتے مولانا۔ عربوں نے استعمال ہی نہیں کیا مولانا۔ تو جب عربوں نے استعمال ہی نہیں کیا تو اس کے معنی کو دیکھنے کے لیے کتب لغت کی طرف بھی رجوع نہیں ہو سکتا، وہاں ہمیں ملے گا ہی نہیں بھئی کیونکہ عربوں نے کبھی استعمال ہی نہیں کیا۔ اور ایک غریب وہ ہے جو ہے تو کلمہ عربی۔ کلمہ کیا ہے؟ عربی کلمہ ہے لیکن اتنا قلیل الاستعمال ہو ہوا ہے کہ عربوں کو بھی اس کا معنی تلاش کرنے کے لیے کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی طرف۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بعض کلمہ غریب دو قسم پر ہے ایک وہ جس کے اندر جس جو ہو تو عربی کلمہ اور عربوں لیکن عربوں کو بھی اس کا معنی دیکھنے کے لیے کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی طرف۔ خالص عرب اربا کی بات کر رہا ہوں بھئی جو خالص عرب ہوں، عام آدمی نہیں وہ تو ہر معنی دیکھنے کے لیے لغت کی طرف رجوع کرے گا۔ تو عربِ اربا کو بھی کیا کرنا پڑتا ہے؟ لغت اور دوسرا وہ کہ اس میں لغت کی طرف بھی رجوع نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ کلمہ عربوں نے استعمال ہی نہیں کیا، لغت میں ملے گا ہی نہیں بھئی۔ تو اب یہ مولانا ابن العجاج ایک فصیح عربی شاعر ہے، اس نے مسرّجاً کا لفظ ذکر کیا اپنے شعر میں۔ اب اس مسرّجاً کا کیا معنی ہے مولانا؟ تو کہتے ہیں بھئی یہ لغت میں بھی نہیں ملا ہمیں، لغت میں گئے تو یہ مسرج اس میں مفعول ہے مولانا اور اس میں مفعول کس سے بنے گا؟ جی؟ اس کے لیے مشتق منہ چاہیے بھئی۔ تست اس کا اشتقاق ہوا ہے، مولانا۔ جس مصدر "تستّوہ" ہم نے لغت میں دیکھا، ہمیں "تستریج" وہاں نہیں ملا، مولانا۔ سَرّ، سرّ، "تستریجن" فہو "مسترّجٌ" و سرّ، سرّ، "تستریجن" فذاک "مسترّجٌ" تو "تستریج" مل جاتا ہے تو بات حل ہو جاتی ہے، مولانا۔ تو لغت میں ہمیں نہیں ملا یہ، ہم نے دیکھا بھئی۔ اور اس کو غلط بھی نہیں کہہ سکتے، مولانا، کیونکہ اس لفظ کو کون استعمال کر رہا ہے؟ ایک فصیح عربی شاعر استعمال کر رہا ہے۔ اب ضرورت پڑی اس کی کوئی ایسی توجیہ بعید کی جائے جس سے یہ کلمہ غلطی سے محفوظ ہو جائے بھئی۔ ہم اس کو غلط تو کہہ ہی نہیں سکتے بھئی۔ تو جب صحیح کہنا ہے تو اس کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ کوئی توجیہ۔ تو چنانچہ لغت میں دیکھا تو لغت کے اندر ہمیں دو لفظ ملے، مولانا۔ ایک "سُرَیج" اور ایک "سِراج" بھئی۔ تو ایک "سُرَیج" اور ایک "سِراج"۔ "سیفِ سُرَیجی"۔ تو "سُرَیج" ایک لوہار کا نام تھا جو تلواریں بڑی اعلیٰ، عمدہ، سیدھی بنایا کرتا تھا۔ تو اسی کے نام سے تلواریں مشہور ہوئیں، "سیفِ سُرَیجی" کہ، "سیفِ سُرَیجی" کہتے تھے بھئی۔ اور "سِراج" کا معنی چراغ۔ چراغ بھئی۔ تو علماء متوجہ ہوئے کہ اس کی کوئی توجیہ کریں۔ تو بعض علماء نے کہا کہ اس "مسترّجاً" کے اندر بھی، مولانا، نسبت تشبیہی ہے، "سیفِ سُرَیجی" کی طرف بھئی۔ نسبتِ تشبیہی۔ "فاحم" کا کیا معنی تھا؟ "کالفحمی" تو "مسترّج" کا بھی کیا معنی ہوا، کیا معنی ہوا؟ "کَسَیفِ سُرَیجی"۔ اور کا، اور بعض علماء نے کہا یہ "سِراج" سے ہے اور نسبت وہی تشبیہی ہے۔ "مسترّجاً" ای کَسِراجِ، کس کی طرح ہے؟ "سِراج" کی طرح۔ اس کی ناک کس کی طرح ہے؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ تو یہ لفظ استعمال کیا ہے ایک فصیح عربی شاعر نے، مولانا۔ اور یہ مولانا تو لغت میں ہمیں دو لفظ ملے، "سُرَیج" اور "سِراج"۔ اب ان سے تو لازمی بات ہے یہ بن نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ مصادر تو ہیں نہیں کہ ان سے کیا بنتا ہے اس میں مفعول اور اس کو غلط بھی نہیں کہہ سکتے، مولانا، کیونکہ کون استعمال کر رہا ہے اس کو؟ تو اب وجہ بعید علماء متوجہ ہوئے کوئی صورت، کوئی توجیہ کی جائے جس سے یہ کلمہ غلطی سے کیا ہو جائے؟ تو پھر مجبور ہو کر وہی ایک "سُرَیج" مل رہا تھا، ایک "سِراج"۔ اگرچہ ان سے کیا ہے؟ بنا نہیں۔ لیکن انہوں نے وجہ بعید کرکے انہی سے کہا، "انہی سے بنا ہے" اور نسبت کون سی ہے؟ "تشبیہی" ہے بھئی، انہی سے بنا ہے اور نسبت "تشبیہی" ہے۔ تو ایک وجہِ بعید بیان کی۔ سمجھ میں آ گئی بات بھئی؟ "أعینٌ مسترّجۃٌ" ای کَسَیفِ السُرَیجی، یہ فی الدِّقّۃِ والاستواءِ، یعنی سُرَیجی تلوار کی طرح ہے اس کی ناک "فی الدّقّۃِ" باریکی میں، "والاستواءِ" اور سیدھا ہونے میں۔ جیسے سُرَیجی تلواریں باریک اور سیدھی ہوتی تھیں، اسی طرح میری معشوقہ کی ناک بھی باریک اور سیدھی ہے یعنی حسین و جمیل ہے۔ "وسُرَیجٌ اسمُ قَینٍ" اور سُرَیج یہ نام ہے مولانا ایک لوہار کا "یُنسَبُ إلیہِ السُّیوفُ" کہ نسبت کی جاتی ہے اس کی طرف تلواروں کی، "أو كَسِراجٍ"۔ بعضوں نے یہ دوسری تفسیر کی۔ انہوں نے کہا یہ "مسرّج" "سِراج" سے بنا ہے اور معنی کیا ہے؟ "كَالسِّراجِ" کہ کس جیسی ہے اس کی ناک؟ چراغ۔ چراغ کی طرح ہے۔ "فی البریقِ واللامانِ"۔ بريق، بريق اور لامان کا ایک معنی عطف تفسیری ہے، مولانا۔ چمک دمک میں بھئی۔ چمک دمک میں اس کی ناک کس کی طرح ہے؟ چراغ کی طرح ہے یعنی خوبصورت ہے۔ "فإن قلتَ"۔ یہاں سے ایک اشکال اس کے دو جواب ذکر کریں گے۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ بھئی ہم نے، ہمیں تو لغت میں "سَرَّجَ" کا مادہ مل جاتا ہے۔ "سَرَّجَ یُسَرِّجُ تَسْرِیجاً" کیا ہے؟ مل جاتا ہے ہم دیکھتے ہیں۔ اور ابھی میں کہتے ہیں "سَرَّجَ اللّٰہُ وَجْھَہُ"۔ سَرَّجَ، اللہ اس کے چہرے کو منور کرے، بھئی یہ معنی ہے۔ "سَرَّجَ اللّٰہُ وَجْھَہُ" اللہ اس کے چہرے کو منور کرے تو آپ نے اتنی بعید توجیحات کیں، مولانا، کہ "مسرّج" بنا ہے کس سے؟ "سُرَیج" سے اور یہ اس میں مفعول بنایا کس کے لیے؟ نسبت کے لیے اور نسبت بھی کون سی ہے؟ "نسبتِ تشبیہی" ہے۔ اتنی بعید توجیہ کی آپ نے۔ تو سیدھا کہہ دیتے "سَرَّجَ" سے بنا ہے اور "سَرَّجَ یُسَرِّجُ تَسْرِیجاً" سے تو یہ سیدھا سیدھا بن جاتا ہے، کوئی توجیہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں تو علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی، اس سے نہیں بن سکتا۔ وجہ اس کی یہ کہ تمام علماء نے اس کو غریب قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا اس کلمے میں غرابَت تو قطعی طور پر ہے، یقینی طور پر ہے۔ اور جو آپ کہتے ہیں کہ ہمیں لغت میں "سَرَّجَ" مل جاتا ہے، کہتے ہیں بھئی ہو سکتا ہے یہ "سَرَّجَ" خود "سِراج" سے بنا ہو۔ "سَرَّجَ اللّٰہُ وَجْھَہُ" اللہ اس کے چہرے کو منور کرے دیکھو بھئی! "سِراج" سے نسبت جڑ رہی ہے یا نہیں جڑ رہی؟ سِراج بھی روشنی پھیلانے والا جیسے تو ہو سکتا ہے یہ اسی سے بنا ہو۔ بعد میں بنا ہو۔ معلوم ہوا یہ قدیم لفظ نہیں ہوگا۔ اگر قدیم ہوتا تو وہ ائمہ لغت وغیرہ جو تھے انہوں نے تلاش کیا ان کو نہیں ملا۔ اگر یہ قدیم ہوتا تو ان کو بھی مل جاتا۔ معلوم ہوا یہ کلمہ نیا بنایا گیا ہے کس سے؟ "سِراج" سے غالباً، نیا بنایا گیا ہے۔ ایک جواب یہ دیں گے۔ دوسرا یہ کہ بھئی اگر اس کو "سَرَّجَ" سے مان لیں، پھر بھی ہو سکتا ہے اس کے اندر غرابَت ہو کیونکہ تمام علماء نے اس کو کیا قرار دیا ہے؟ غریب۔ تو اگر ہم "سَرَّجَ" کے لفظ کو قدیم بھی مان لیں، پھر بھی ہو سکتا ہے یہ کلمہ کیا ہے؟ غریب ہے، بہ معنیٰ کہ اس کے معنی کو جاننے کے لیے عربوں کو بھی کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی کتاب کی طرف۔ اور غریب دو قسم پر تھا، ایک وہ جس میں رجوع کیا جاتا تھا، ایک وہ جس میں رجوع کرنا ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ وہ لغت میں موجود ہی نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو پہلے جواب کے مطابق کیا ہوا؟ یہ کلمہ نو پیدا، نو پیدا ہے، مولانا، نیا بنا ہے۔ جب نیا ہے تو یہ وہ غریب کی کون سی قسم ہوا؟ دوسری قسم، جس میں لغت کی طرف رجوع ہی نہیں ہو سکتا کیونکہ لغت میں پایا ہی نہیں جاتا۔ اور اگر، مولانا، اس کو "سَرَّجَ" کو ہم قدیم بھی مان لیں اور اس کو اسی سے کہیں، بنا ہے، پھر بھی، مولانا، یہ غریب ہے بمعنے اول کے، بمعنے اول وہ کیا؟ کہ جس کے معنی کو جاننے کے لیے عربوں کو بھی کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی طرف۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پیچیدہ ہو گئی بھئی۔ دیکھو بھئی، غریب کے دو معنی بیان ہوئے تھے۔ ایک وہ جس کے لیے عربوں کو بھی کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی طرف، کیونکہ وہ بہت قلیل استعمال ہے، نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور دوسرا، جس میں لغت کی طرف بھی رجوع نہیں ہوتا، کیونکہ وہ لغت میں پایا ہی نہیں جاتا۔ تو دو جواب دیے۔ کہتا ہے ہو سکتا ہے یہ نیا بنا ہو کلمہ۔ معلوم ہوا یہ پھر بھی غریب ہے اور غریب بمعنے کون سے ہے؟ ثانی کے ہے، کہ جس میں لغت کی طرف رجوع نہیں کیونکہ یہ کلمہ اب بنا ہے، مولانا، اس وقت تو یہ کلمہ تھا ہی نہیں، جب تھا ہی نہیں تو لغت کی طرف رجوع ہو سکتا تھا؟ نہیں۔ تو یہ بمعنے غریب ہے۔ یا ہو سکتا ہے پھر بھی غرابَت ہو بمعنے اول کے۔ علماء ہو سکتا ہے "سَرَّجَ" چاہے آپ قدیم مان لیں۔ پھر بھی علماء اس کو غریب لکھ رہے ہیں، معنی کیا ہے ان کا پھر؟ کہ یہ ایسا کلمہ ہے کہ جس کے معنی کو جاننے کے لیے عربوں کو بھی کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے؟ لغت کی طرف۔ تو غریب ہوا یا نہیں ہوا پھر بھی؟ تو دونوں صورتوں میں۔ "فإن قلتَ" اگر آپ کہیں، اگر تو کہے، "لمَ لمْ یَجْعَلُوہُ اسْمَ مَفْعُولٍ مِنْ سَرَّجَ اللّٰہُ وَجْھَہُ أي بَہَّجَہُ وَحَسَّنَہُ" کیوں نہیں بنایا انہوں نے علماء نے اس کو اسمِ مفعول کس سے؟ "سَرَّجَ اللّٰہُ وَجْھَہُ" سے؟ "سَرَّجَ" اللہ اس کے چہرے کو منور کرے۔ خود معنی کر رہے ہیں۔ منور کرنے سے کیا مراد ہے؟ "أي بَہَّجَہُ وَحَسَّنَہُ"۔ بَہَّجَہُ خوشنما بنانا، کہ اللہ اس کو خوشنما بنائے اور حسین بنائے۔ "قلتُ" جواب دے رہے ہیں بھئی۔ "لاِحْتِمَالِ أنْ یَکُونَ مُسْتَحْدَثاً وَمُوَلَّداً" اس احتمال کی وجہ سے کہ ہو سکتا ہے یہ کیا ہو؟ مستحدث و مولّد کا ایک معنی نوپید ہو، کیا ہو؟ نوپید ہو۔ نوپید ہو "مِنَ السِّراجِ" کس سے؟ سِراج سے۔ تو یہ کس معنی میں ہوا؟ غریب بمعنے ثانی کے۔ "أو یَکُونَ مِنْ بابِ الغَرابَةِ أیضاً" یا، مولانا، اگر اس کو "سَرَّجَ" سے مان لیں، پھر بھی اس کو انہوں نے غریب قرار دے دیا ہے، کس وجہ سے بمعنے اول کے بھئی۔ جی یہ غرابَت کی بات بھی ختم۔ اب مخالفتِ قیاس کی بات آئی۔ "والمُخالَفَةُ أنْ تَکُونَ الکَلِمَۃُ عَلی خِلافِ قانونِ مفرَداتِ الألفاظِ الموضوعاتِ أنی علی خلاف ما ثَبَتَ عن الواضِعِ" اور مخالفت وہ جو وہ ہونا ہے کلمے کا خلاف قانونِ مفردات کے۔ قانونِ مفردات کے بھئی مفرد کلمات کے جو قوانین ہیں ان کے خلاف ہونا کلمے کا۔ مفرد بھئی، صرفی قوانین کے خلاف ہونا۔ "مفرداتِ الألفاظِ الموضوعاتِ" یہ اضافت بیانیہ ہے، مولانا۔ وہ مفردات کیا ہیں، مولانا؟ الفاظِ موضوعہ ہیں۔ تو الفاظِ موضوعات ہوئے قوانین کے خلاف کلمے کا ہونا۔ کلمے کا ہونا۔ کیا بھئی، میں نے کیا آسان معنی کیا بھئی، صرفی قوانین کے خلاف۔ کلمہ صرفی قوانین کے خلاف ہو تو کہیں گے اس میں کیا ہے؟ مخالفتِ قیاس ہے۔ بھئی اس پہ اشکال ہوتا تھا بہت سے کلمات صرفی قوانین کے خلاف ہوتے ہیں اور پھر بھی وہ کیا کہلائیں گے؟ فصیح کہلاتے ہیں۔ مثلاً، "عبایہ، عباء" ہے۔ یہ آ رہا ہے بابِ فتحہ سے۔ اور بابِ فتحہ کا ضابطہ پڑا ہے کہ اس سے وہ صیغے آئیں گے جن کا لام یا عیْن کلمہ کیا ہو؟ حرفِ حلقی ہو۔ پڑھا ہے یا نہیں آپ نے؟ اور "عبایہ عباء" میں، مولانا، با اور یا ہیں، عیْن اور لام۔ اور ان میں سے کوئی بھی حرفِ حلقی نہیں۔ تو دیکھو، یہ قانون، صرفی قانون کے خلاف ہوا یہ صیغہ کیا ہوا۔ اس بابِ فتحہ سے آ رہا ہے، حالانکہ اس کے لیے تو عین یا لام کے حرفِ حلقی ہونا شرط ہے۔ تو یہ اشکال ہوا کہ دیکھو، اب صرفی قانون کے خلاف ہے، لیکن پھر بھی یہ کلمہ کیا ہے؟ فصیح ہے۔ کہتے ہیں بھئی، "أعنی" سے اس اشکال کا جواب دیا۔ "أعنِی عَلی خِلافِ ما ثَبَتَ عَنِ الواضِعِ" بھئی مراد یہ ہے کہ وہ کلمہ واضع کی وضع کے خلاف ہو۔ وہ کلمہ کیا ہے، واضع کی، صرفی قوانین سے کیا مراد ہے بھئی؟ واضع کی وضع۔ یعنی واضع کی وضع کے خلاف ہو تو ہم کہیں گے مخالفتِ قیاس ہے، اور واضع کی وضع کے خلاف نہیں تو مخالفتِ قیاس نہیں۔ اب "عبایہ عباء" کو واضع نے اسی طرح وضع کیا ہے۔ تو لہٰذا یہ واضع کی وضع کے خلاف نہیں۔ نَحْوُ "الأجْلَلِ" بِفَكِّ الإدغامِ فی فكِّ الإدغامِ فی قولِہِ "الحَمْدُ للّٰہِ العَلیِّ الأجْلَلِ" جیسے "أجلل" کا لفظ، مولانا، "أجلل" میں دیکھو، دو لام آ رہے ہیں، مولانا، اور صرفی قانون ہے کہ دو لام اکٹھ، دو حروف ایک جنس کی اکٹھے آ جائیں تو اپس میں ان کا کیا ہوتا ہے؟ ان کا ادغام ہوتا ہے، مولانا۔ تو اجوازیں تو ادغام کیا "أجلّ" وضع کیا، کیا کیا؟ "أجلّ" ادغام کے ساتھ۔ ادغام کے ساتھ۔ لیکن شاعر نے اپنے اس مصرعے کے اندر، "الحمْدُ للّٰہِ العَلیِّ الأجْلَلِ"، فکِّ ادغام کیا۔ فکّ کا معنی توڑنا، ادغام کو کیا کیا؟ توڑ دیا۔ دونوں کلموں کو پھر الگ کر دیا۔ جیسے "أجلل" کا لفظ فکِّ ادغام کے ساتھ فی قولہ اس قول کے اندر "الحمد للّٰہِ العلیِّ الأجلل" تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلند ہے، "العلیّ" بزرگ ہیں۔ "والقیاسُ الأجَلّ" اور قیاس کیا ہے؟ "أجلّ"۔ قیاس تقاضا کرتا ہے کہ "أجلّ" ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو، یہ واضع کی وضع کے خلاف ہوا۔ "فَنَحْوُ آلٍ وَماءٍ وَعَبَایَأبَا وَعَبِرَ يَعْبَرُ فصیحٌ لانہُ ثَبَتَ عن الواضِعِ کَذٰلِکَ" وہی بات دوبارہ ذکر کر رہے ہیں جو میں نے بتلائی کہ بھئی، صرفی قانون کے خلاف ہونے سے کیا مراد ہے؟ کہ واضع کی وضع کے خلاف ہو۔ پس لہٰذا "آلٌ"، بھئی، "آل" کی اصل آپ کو بتلائی تھی کیا ہے؟ "اَھْلٌ" اور پھر ہا کو کس سے بدلا؟ ہمزہ سے۔ اور پھر ہمزہ کو کس سے بدلا؟ یا سے۔ تو اس پر اشکال ہوتا تھا کہ بھئی، ہا جو ہے خفیف ہے، ہمزہ ثقیل ہے، اور کبھی خفیف کو ثقیل سے نہیں بدلتے بلکہ ثقیل کو کس سے بدلتے ہیں؟ خفیف سے۔ تو کہتے ہیں یہ بھئی یہ، اگرچہ صرفی قانون کے خلاف ہے، لیکن واضع کی وضع کے مطابق ہے۔ واضع نے ہی اس کو کیا ہے ایسا وضع کیا ہے۔ "وماءٌ"۔ "ماءٌ" اصل میں تھا بھئی "مَوَہُنْ" بھئی۔ کیا تھا؟ "مَوَہُنْ"۔ "مَوَہُنْ" بھئی۔ پھر وا متحرک ما قبل فتحہ، اس کو الف سے بدلا، کیا بن گیا؟ "ماہٌ، ماہٌ"۔ پھر ہا کو خلاف القیاس ہمزہ سے بدل دیا گیا، "ماءٌ" بن گیا بھئی۔ تو یہ جو آخر میں ہمزہ ہے، یہ اصل میں ہا تھی۔ اصل میں کیا تھی؟ ہا تھی۔ اور اس ہا کو کس سے بدلا گیا ہے؟ ہمزہ سے۔ اور ابھی بات ہوئی کہ ہا خفیف ہے اور ہمزہ کیا ہے؟ ثقیل تو خفیف کو ثقیل سے بدلا گیا، تو یہ بھی صرفی قانون کے خلاف ہوا، لیکن واضع کی وضع کے خلاف یعنی واضع نے اس کو وضع ہی ایسا کیا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جمع اس کی کیا آتی ہے؟ "میاہٌ" بھئی۔ دیکھا وہ ہا آ گئی۔ "وعباء یأبا"۔ "عباء یأبا" میں بتلایا مولانا کہ کیا ہے اس کو، یہ کس باب سے ہے؟ بابِ فتحہ سے۔ اور بابِ فتحہ کے اندر عیْن اور لام کلمے کا حرفِ حلقی ہونا ضروری ہے۔ تو یہ صرفی قانون تو کے خلاف ہوا، لیکن واضع کی وضع کے مطابق ہے، اس نے وضع ہی اس کو بابِ فتحہ سے کیا ہے۔ ان کو شاذ کہتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شاذ۔ جو صرفی قانون کے خلاف ہو، لیکن استعمال کے اعتبار سے صحیح ہو۔ "عبا یأبا" سے متعلق والد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ایک عجیب نکتہ بیان کرتے تھے۔ ان سے دورانِ درس کسی نے طالبِ علم نے سوال کیا بھئی یہی بات آئی کہیں پر "عبا یأبا" کی بات آئی تو بتلایا کہ "عبا یأبا" شاذ ہے بھئی۔ کیا ہے؟ شاذ۔ یعنی قانون کے مطابق تو نہیں، لیکن استعمال کے استعمال کے اعتبار سے صحیح ہے۔ تو یہ شاذ ہے، مولانا، شاذ۔ تو طالبِ علم، بڑے ذہین طلبا بھئی، بہت ہیں باز، اس نے سوال کیا کہ یہ اس کے شاذ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ شاذ ہونے کی؟ بڑا گہرا سوال کیا بھئی، شاذ ہونے کی کیا وجہ؟ تو فرماتے تھے، میں نے بھی عجیب جواب دیا۔ میں نے کہا اس کے شاذ ہونے کی وجہ اس کا معنی ہے، معنی۔ اس کا معنی کیا ہے؟ انکار کرنا۔ تو ہم نے تو قانون بنایا کہ بھئی بابِ فتحہ سے وہ کلمہ آئے جس کا عیْن یا لام کیا ہو؟ حرفِ حلقی ہو۔ یہ انکار کرتا ہے۔ یہ کیا کرتا ہے؟ انکار کرتا ہے کہ میرے حرف العین یا لام حرف حلقی بھی نہیں ہوگا اور کس سے آؤں گا باب فتحی ہی سے آؤں گا سمجھ میں آیا عجیب جواب دیا۔ وعبیرہ یاورو یہ بھی مولانا شاذ ہے۔ عبیرہ بھئی وا متحرک ما قبل فتحہ صرفی قانون کے مطابق کس سے بدلنا چاہیے الف سے عارہ ہونا چاہیے یاورو یہاں بھی و کو کس سے بدلنا چاہیے فتحہ ما قبل نقل کر کے الف سے تو آرا یا عارو ہونا چاہیے۔ لکین کہتے ہیں تو یہ سب کلمات فصیح ہیں لانہ سبت عن الواضع کذلك اس لیے کہ یہ واضح سے اسی طرح ثابت ہیں واضح سے اسی طرح ثابت ہیں۔ یہ بات سمجھ میں آگئی سب کو بھئی تو مولانا تنافر حروف بھی گزرا غرابت بھی گزر گئی اور مخالفت قیاس بھی۔ بعض علماء نے اعتراض ذکر کیا کہ بھئی ایک چوتھا عیب ہے اس کی بھی قید لگانی چاہیے تھی اور وہ کیا ہے کراہت فی السمع سننے میں لفظ کانوں کو ناگوار نہ لگتا ہو تو آپ نے اے ماتن کتنی قیدیں لگائیں بھئی صاحب تلخیص نے اول تنافر حروف ثانی غرابت ثالث مخالفت قیاس ایک چوتھی قید بھی لگاؤ ما چوتھا عیب جو ہے وہ کیا ہے کراہت فی السمع سننے میں بھی ناگوار نہ ہوتا ہو تو کلمے کا چاروں عیوب سے خالی ہونا ضروری ہے آپ نے تین ذکر کیے بھئی تین ذکر کیے۔ وفیہ نظر کہہ کر تو پہلے اس قول کو ذکر کیا صاحب تلخیص نے اور وفیہ نظر کہہ کر بتلایا کہ اس میں اشکال ہے اس قید کو بڑھا اس قید کو نہیں بڑھایا جائے گا بھئی۔ قیلا کہا گیا ہے فصاحت المفرد خلوصہ مما ذکر فصاح مفرد فصاحت المفرد جو ہے اس کا خالی ہونا ہے ان چیزوں سے جو ذکر ہوئیں ومن الکراھۃ فی السمعی اور کراہت فی السمع سے خالی ہونا۔ بأن يكون اللفظ بحيث يمجه السمع ويتبرأ عن سمعها بھئی تو ہو بس ہو یہی طور ہو لفظ کیا اس طور پر ہو یمجھ السمع کہ اس کو کان ناگوار سمجھتے ہوں مجہ یمجھ کے معنے ناگوار سمجھنا۔ کہ ناگوار سمجھتے ہوں اس کو کان و يتبرأ عن سمعها تبرأ کا معنی براءت اختیار کرنا چھٹکارا پانا اور اس کے سننے سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتے ہیں نہیں اس کو نہیں سننا چاہتے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی تو کلمہ سننے میں ناگوار ہو کانوں کو بھلا نہ لگے ناگوار لگے تو یہ کیا ہے کراہت فی السمع ہے اور اس سے بھی خالی ہونا چاہیے کلمے کو۔ مجہ یمجھ آیا مولانا یہ کیا ہفت اقسام میں کیا ہے مولانا مضاعف ہے بھئی مضاعف۔ ایک عجیب صرفی نکتہ بتلائیں آپ کو یاد رکھو مضاعف اگر باب ضرب سے ہو تو ہمیشہ لازمی ہوگا۔ مضاعف اگر باب ضرب سے ہو تو ہمیشہ لازمی ہوگا۔ اور باب نصرہ سے ہو تو ہمیشہ متعدی ہوگا۔ تو ہمیشہ متعدی ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی جی۔ مثالیں یاد کر لو قانون خود یاد رہے گا۔ جیسے مولانا فر یا فر کس باب سے ہے باب ضرب اور اس کا معنی دوڑنا تو لازمی ہے میں دوڑا فر یا فر۔ مفعول کا تقاضا نہیں کرتا۔ اور دوسرے کی مثالیں مد یا مد۔ مدد تو یدی میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا دیکھا مفعول آگیا اس میں۔ تو باب نصرہ سے ہو تو پھر یہ کیا ہوگا متعدی ہوگا اور کس کا تقاضا کرے گا مفعول کا یہی دیکھیے یہاں بھی یمجھ ہے باب نصرہ سے آیا تو ہا ضمیر مفعول کی ساتھ ہے۔ جیسے مولانا نحو الجریشا فی قول ابی الطیب جیسے جریشا کا لفظ ہے ابو طیب سے متنبی کے شعر میں مولانا۔ سیف الدولہ کی تعریف کرتا ہے متنبی بھئی کہتا ہے مبارک الاسم۔ مبارک نام والا ہے میرا ممدوح سیف الدو وہ جو ہے وہ کیا ہے مبارک نام والا ہے۔ کیونکہ نام علی ہے علی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ جیسے نام تھا اس کا نام بھی علی ہے۔ اغر اللقب روشن لقب والا ہے روشن لقب والا ہے۔ یعنی سیف الدولہ لقب ہے اس کا معروف مشہور لقب ہے سیف الدولہ۔ کریم الجریشا۔ جریشا ای النفس۔ سخی نفس والا ہے نیک نفس والا ہے بھئی۔ شریف النسب۔ اور شریف نسب والا ہے مولانا معزز نسب والا ہے اس لیے کس میں سے ہے بنو العباس میں سے ہے۔ تو یہاں جریشا کا لفظ آیا مولانا اور جریشا کے لفظ کیا ہے کانوں کو ناگوار گزرتا ہے اس لیے یہ بھی کس میں آگیا اس میں یہ فصاحت سے خارج ہوا اور اس میں عیب کیا ہے کہتے ہیں کراہت فی السمع ہے تو معلوم ہوا کراہت فی السمع کا عیب بھی کلمے میں نہیں ہونا چاہیے لہذا۔ فصاحت میں تین عیوب سے خالی ہونا ضروری نہیں بلکہ کتنے عیوب سے خالی ہو چار سے۔ کہتے ہیں والاغر من الخيل الابيض الجبھتی۔ بھئی یہ یاد رکھو یہ من الخیل جو ہے نا یہ مقدم ہو گیا ہے یہ حال ہے ابیض کے اندر جو ضمیر ہے مولانا۔ بھئی افضل اس میں تفضیل ہے مولانا اور آپ جانتے ہیں کہ جیسے فعل معروف کے لیے فاعل چاہیے ہوتا ہے اسم فاعل کے لیے بھی کیا چاہیے فاعل۔ صفت مشبہ کے لیے بھی فاعل چاہیے اس میں تفضیل کے لیے بھی وہ انہی کے اندر عموما ضمیر ہوتی ہے۔ اور فعل مجہول کے لیے جیسے نائب فاعل چاہیے ہوتا ہے اس میں مفعول کے لیے بھی کیا چاہیے نائب فاعل تو یہاں ہاں تو یہ ابیض کیا ہے مولانا ہاں یہ تو وہ ہے صفت مشبہ ہے مولانا اس میں تفضیل نہیں صفت مشبہ ہے اور اس کے لیے بھی کیا چاہیے فاعل تو ہوا ضمیر ہے اس کے اندر فاعل اور من الخیل اس سے حال ہے مولانا۔ من الخیل اس سے حال ہے۔ تو عبارت در اصل یوں ہے والاغر الابيض الجبھتی من الخيل بھئی من الخیل کو مؤخر کرو۔ اگر کا معنی بیان کر رہے ہیں اگر کس کو کہتے ہیں الابيض الجبھتی سفید پیشانی والا۔ کس کو؟ سفید پیشانی والا۔ لیکن ہر چیز کو نہیں اس حال میں کہ وہ من الخیل کس میں سے ہو گھوڑوں میں سے ہو تو وہ گھوڑا جس کی پیشانی پر آپ نے دیکھا ہوگا بھئی گھوڑے کی پیشانی پر عموما سفید داغ ہوتا ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں اگر کہتے ہیں کیا کہتے ہیں اگر۔ تو اگر جو ہے وہ سفید پیشانی والا اس حال میں کہ من الخیل وہ گھوڑوں میں سے ہو خیل یاد رکھو مولانا ایک گھوڑے کو نہیں کہتے گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں خیل میں۔ ثم استعير لكل واضح معروف پھر اس کو مستعار لے لیا گیا ہر واضح اور واضح معروف چیز کے لیے۔ بھئی دیکھو اصل میں تو یہ کس استعمال کس کے لیے ہے سفید پیشانی والے گھوڑے کے لیے۔ फिर बाद में तो जैसे वो वाज़े है مولانا پہچان ہے ہوگی اس کی آسانی سے اسی طرح ہر معروف چیز کو بھی کیا کہنے لگے اگر کہنے لگے۔ واضح اور معروف چیز۔ وفيه نظر صاحب تلخیص فرماتے ہیں اس صاحب قیل کے قول میں نظر ہے۔ کہ جنہوں نے کہا چوتھی بھی قید لگاؤ ان کے قول میں نظر اشکال ہے۔ اب اس نظر کی دو تفسیریں آگے تقریریں ہوں گی۔ صاحب تلخیص نے تو صرف یہ کہا وفیہ نظر اس میں کیا ہے نظر ہے اشکال ہے۔ بھئی کیا اشکال ہے وہ تو انہوں نے ذکر نہیں کیا تو ایک ذکر کریں گے علامہ تفتازانی کہ بھئی یہ اشکال ہوتا ہے۔ اور ایک کسی اور دیگر علماء نے ذکر کیا بعض نے اس کو بھی ذکر کریں گے اور پھر اس کو رد کریں گے علامہ تفتازانی۔ اور کہیں گے کہ وہ فیہ نظر کی جو ہم نے تقریر کی وہ تقریر صحیح ہے جو کسی اور نے کی وہ صحیح نہیں دیکھیے۔ اب خود پہلی وجہ علامہ تفتازانی کی ہے کہتے ہیں لان الكراھة في السمعی اس لیے کہ کراہت فی السمع جو ہے انما هي من جهة الغرابة یہ کلمے میں کیوں آتی ہے غرابت کی جہت سے آتی ہے اور جب یہ غرابت کی جہت سے آ گئی تو یہ کس میں داخل ہے۔ یہ تو بات گزر چکی ہے بھئی جو کلمہ غریب ہوگا وہ کانوں کو کیا ہوگا ناگوار گزرے گا اور جسے آپ روز عام سنتے ہیں استعمال ہوتا ہے وہ کانوں کو ناگوار نہیں گزرے گا بھئی۔ اس لیے کہ کراہت فی السمع جو ہے یہ غرابت کی جہت سے آتی ہے۔ المفسرة بالوحش بالوحشة جس کی تفسیر کس کے ساتھ کی گئی ہے وحشت۔ سمجھ میں آیا بھئی تو لہذا اس کو الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں یہ تو کس میں آگیا مولانا داخل کس میں ہوا غرابت ہی میں داخل ہوا۔ مثل تكعكعمتم وإفرقعو جیسے تکعكعمتم اور إفرقعو کے لفظ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی۔ تو یہ واقعہ مولانا آپ کے حاشیہ میں بھی مذکور ہے بھئی۔ جاحظ نے ذکر کیا ہے مولانا دو دو واقعات ہیں ایک سن لیجیے۔ جاحظ لکھتے ہیں کہ ابو علقمہ نامی ایک شخص تھا وہ ایک مرتبہ بصرہ کے راستے سے گزر رہا تھا اچانک اسے مرگی کا دورہ پڑ گیا بھئی۔ سمجھ میں مرگی بڑا خطرناک مرض ہے اللہ سب کی حفاظت فرمائے۔ تو مرگی کا دورہ پڑ گیا بھئی۔ گر گیا نیچے لوگ اکٹھے ہوگئے مولانا سارے اور اس اس زمانے میں جیسے اس کا علاج کرنے کی کوشش کرتے تھے کوئی اس کے کان میں اذانیں دے رہا ہے وہ سمجھتے تھے جنات کا اثر ہے کان میں اذانیں دے رہا ہے کوئی مولانا اس کے پاؤں کے انگوٹھے پکڑ کر مروڑ رہے ہیں بھئی۔ اس سے کہتے ہیں کیا ہو جائے گا یہ ٹھیک ہو جائے گا اس یوں کرتے تھے۔ تھڑی دیر بعد اس کو ہوش آیا بھئی۔ تو ہوش آتے ہی اس نے کہا ما لكم تكعكعمتم علي كما تكعكعمون على ذي جنة إفرقعو عني۔ تو لوگ کہنے لگے بھئی یہ تو اس کا جن تو ہندی زبان میں لگتا ہے باتیں کر رہا ہے۔ حالانکہ وہ عربی الفاظ تھے لیکن نہایت قلیل قلیل الاستعمال سن ہی نہیں تھے ان لوگوں نے۔ تو ما لكم معنی کیا ہے ما لكم تكعكعمون علي تم لوگوں کو کیا ہوا ہے کیوں میرے پاس جمع ہو تكعكعم کا کیا معنی جمع ہونا۔ كما تكعكعمون على ذي جنة ذی جنہ مجنون جیسے تم لوگ جمع ہوتے ہو کس پر کسی مجنون پر إفرقعو عني مجھ سے دور ہو جاؤ۔ تو تكعكعمتم آیا اور إفرقعو آیا اور یہ دونوں کیا ہیں مولانا قلیل ہیں اگرچہ ہیں عربی کلمے۔ تو پھر بھی غریب ہیں۔ تو یہ کانوں کو ناگوار گزرتے ہیں۔ ونحو ذالک ونحو ذالک اور اس جیسے اور کلمات بھئی۔ یہ ایک علامہ تفتازانی نے وجہ بیان کی کہ وفیہ نظر سے کیا مراد ہے بھئی کہ یہ کراہت فی السمع کس جہت سے آتی ہے غرابت کی جہت سے اور غرابت کا عیب ذکر ہو چکا کہ اس سے کلمے کو خالی ہونا چاہیے تو اس کو الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعضوں نے کہا وقیل لأن الكراھة في السمع وعدمھا يرجعاني إلى طيب النغم۔ اس لیے کہ کراہت فی السمع اور عدم کراہت فی السمع بعضوں نے کہا اس کا تعلق آواز سے ہے طف کا معنی اچھا ہونا نغم آواز ترنم بھئی۔ آواز اور ترنم کا اچھا ہونا کراہت فی السمع کا تعلق اس سے ہے۔ بھئی صاحب تلخیص نے کیا ذکر کیا تھا کہ جریشا کا لفظ کیا ہے۔ اس کو یہ اس کے اندر کراہت فی بعضوں نے کہا کراہت فی السمع ہے تو لہذا کراہت فی السمع کی قید بھی لگانی چاہیے۔ تو یہ بھی ذکر کرنا چاہیے صاحب تلخیص نے وفیہ تحیر کہہ کر اس کو کیا کیا تھا رد کر دیا تھا اس رد وفیہ نظر کی پھر دو تقریریں ہیں ایک تقریر علامہ تفتازانی نے کی کہ وفیہ نظر کہنے کا یہ معنی ہے کہ اس کو الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ کس میں داخل ہے غرابت ہی میں داخل ہے۔ اور بعضوں نے کہا نہیں وفیہ نظر کا معنی یہ ہے صاحب تلخیص یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جو کراہت فی السمع ہے اس کا تعلق کلمے سے نہیں ہوتا اس کا تعلق آواز سے ہوتا ہے بولنے والے کی آواز اچھی ہے تو کلمہ بھلا لگے گا بولنے والے کی آواز اچھی نہیں تو کلمہ بھی اچھا نہیں لگے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا۔ صاحب علامہ تفتازانی فرماتے ہیں نہیں بھئی آپ کی آپ نے جو نظر کی تقریر کی اس میں آپ کی نظر میں بھی نظر ہے۔ آپ کی نظر میں بھی۔ جو آپ نے نظر کی تقریر کی اس میں بھی اشکال ہے۔ وجہ یہ کہتے ہیں کہ جریشا ہے اور جریشا کا ایک مترادف ہے نفس۔ اب جریشا کو کوئی چاہے اچھی آواز والا بولے چاہے بری آواز والا دونوں صورتوں میں یہ یہ کیا ہے۔ جی۔ یہ کلمہ غیر فصیح ہے مولانا۔ اور نفس کا لفظ چاہے اچھی آواز والا بولے اور چاہے بری آواز والا دونوں صورتوں میں یہ کلمہ کیا ہے فصیح ہے۔ تو معلوم ہوا کہ اچھی بری آواز سے اس کا تعلق نہیں۔ لہذا آپ نے جو وفیہ نظر کی تقریر کی وہ صحیح نہیں بھئی چلیے مولانا ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام