أوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. أولم يسيروا في الأرض فينظروا كيف كان عاقبة الذين كانوا من قبلهم كانوا هم أشد منهم قوة وآثارا في الأرض فأخذهم الله بذنوبهم وما كان لهم من الله من واق. أولم يسيروا في الأرض؟ کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں زمین میں؟ کئی لوگوں نے سیر نہیں کی زمین میں، یعنی کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں زمین میں؟ فينظروا، پس یہ دیکھتے، كيف كان عاقبة الذين كانوا من قبلهم؟ کیسا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ أولم يسيروا في الأرض؟ کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں زمین میں؟ فينظروا، بھئی، آپ کو ضابطہ میں نے بتلایا تھا کہ چھ چیزوں کے جواب میں اگر ف یا واو آ جائے تو فعل مضارع پر، تو اس صورت میں وہ فعل مضارع منصوب ہوگا۔ تو یہاں بھی دیکھیے، استفہام کے بعد ف آیا اور فعل مضارع ہے اس کے بعد، تو وہ منصوب ہے، بھئی۔ اور نصب کی علامت کیا ہے؟ حالت نصبی میں یہ دیکھیے، آخر سے نون گر گیا، بھئی۔ آخر سے نون گر گیا، بھئی۔ أولم يسيروا في الأرض؟ کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں زمین میں؟ فينظروا، تو یہ دیکھتے، كيف كان عاقبة الذين كانوا من قبلهم؟ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ كانوا هم أشد منهم قوة وآثارا في الأرض. تھے وہ ان سے وہ تھے، أشد منهم، ان سے زیادہ شدید، ان سے زیادہ سخت، یا یوں کہیں، ان سے زیادہ مضبوط، وہ لوگ ان سے وہ جو پہلے گزرے ہیں، بھئی، یہ کفار مکہ، یہ مشرکین مکہ تکبر کرتے ہیں، کفر کرتے ہیں، کیا یہ زمین میں انہوں نے چل پھر کر نہیں دیکھا کہ وہ لوگ جو ان سے پہلے گزرے تھے ان کا کیا انجام ہوا؟ وہ ان سے قوت کے اندر زیادہ مضبوط تھے، ان کو ہم نے زیادہ قوت دی تھی۔ كانوا هم أشد منهم قوة وآثارا في الأرض. تھے وہ ان سے زیادہ مضبوط بہ اعتبار قوت کے۔ وآثارا في الأرض. آثار جمع ہے اثر کی۔ اثر کہتے ہیں وہ نشان جو پیچھے رہ جائے، بھئی، وہ نشان جو پیچھے رہ جائے۔ تو وہ نشانات جو انہوں نے پیچھے چھوڑے فی الأرض، زمین میں، یعنی وہ یادگاریں جو انہوں نے پیچھے چھوڑیں زمین میں، بڑے بڑے محل بنائے تھے، بڑے بڑے قلعے بنائے تھے، وہ جو یادگاریں انہوں نے پیچھے چھوڑیں زمین میں، اس اعتبار سے وہ زیادہ مضبوط تھے۔ اس اعتبار سے وہ ان سے زیادہ مضبوط تھے۔ كانوا هم أشد منهم قوة وآثارا في الأرض. وہ ان سے زیادہ مضبوط تھے قوت میں اور زمین میں باقی چھوڑنے والے یادگاروں کے اعتبار سے۔ فأخذهم الله بذنوبهم، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے. ترجمہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ وما كان لهم من الله من واق، اور نہیں تھا ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا، اور نہ ہوا کوئی ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا۔ واق، وقا یقی سے ہے، بھئی، بچانا، واق اس میں فاعل ہے۔ وما كان لهم، اور نہ ہوا ان کے لیے من الله، اللہ سے، من واق، کوئی بچانے والا۔ تو وہ لوگ ان کو ہم نے زیادہ قوت دی تھی اور پھر بھی جب انہوں نے سرکشی کی اور گناہ کیے تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا اور کوئی اس دنیا کے اندر انہیں اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکا، تو آخرت میں کوئی کیسے بچائے گا؟ ذلك بأنهم كانت تأتيهم رسلهم بالبينات. یہ جو ہے، ذلك بأنهم، یہ اس وجہ سے ہے، یہ با کون سی ہے؟ با سببیہ، بھئی۔ ذلك بأنهم، یہ اس وجہ سے ہے، یہ جو ان کی سزا ہے، بھئی۔ ان کی یہ سزا، ان کی یہ حالت اس وجہ سے ہے، یہ جو اللہ نے ان کو پکڑا اور ان کو تباہ کیا، تو ان کا جو یہ حال ہوا، یہ اس وجہ سے کہ وہ جو تھے، كانت تأتيهم رسلهم، کہ ان کے پاس ان کے رسول آتے تھے بالبينات، واضح دلائل کے ساتھ۔ أتی یاتی کے معنی ہیں آنے کے، بھئی، اور اس کا صلہ جب با آ جائے تو پھر کیا ترجمہ کرتے ہیں؟ لانا، بھئی، لانا۔ كانت تأتيهم رسلهم بالبينات، لاتے تھے ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح دلائل۔ فکفروا، تو یہ کیا کرتے تھے اس کا؟ انکار کرتے تھے۔ فأخذهم الله، تو پھر اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ ذلك بأنهم، اور یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ، کہ ان کے پاس كانت تأتيهم رسلهم بالبينات، ان کے پیغمبر واضح دلائل لے کر آتے تھے، واضح نشانیاں لے کر آتے تھے، فکفروا، تو انہوں نے کفر کیا، فأخذهم الله، پس اللہ نے ان کو پکڑ لیا. إنه قوي شديد العقاب. بے شک وہ اللہ قوت والا، سخت سزا دینے والا ہے۔ ولقد أرسلنا موسى بآياتنا وسلطان مبين، اور تحقیق البتہ بھیجا ہم نے موسی علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ وسلطان مبین، اور واضح دلیل کے ساتھ۔ اپنی نشانیوں کے ساتھ اور واضح دلیل کے ساتھ۔ نشانیوں سے مراد بھی معجزات اور سلطان مبین سے بھی معجزہ مراد، لیکن اس سے وہ بڑے معجزات مراد ہیں، بھئی۔ سلطان مبین، واضح دلیل، بھئی، یعنی بڑے معجزات، بھئی، وہ جو ید بیضا حضرت موسی علیہ السلام ہاتھ نکالتے اور سامنے کرتے اور وہ ہاتھ چمکنے لگتا تھا، اس سے نور پھوٹنے لگتا تھا، پوری جگہ وہ منور کر دیتا تھا، یا وہ جو لاٹھی پھینکتے تھے اور وہ لاٹھی اجدہا بن جاتی تھی، تو وہ مراد ہیں۔ تو آیاتنا سے بھی کیا مراد؟ معجزات۔ اور سلطان مبین سے بھی کیا مراد؟ اس سے وہ بڑے معجزات مراد ہیں۔ یا آیاتنا سے مراد وہ احکام ہیں، بھئی، احکام۔ اور سلطان مبین سے مراد معجزات ہیں، بھئی۔ بھیجا ہم نے موسی علیہ السلام کو بآیاتنا، اپنی آیتوں کے ساتھ، اپنے احکام کے ساتھ وسلطان مبین، اور واضح دلیل یعنی واضح معجزوں کے ساتھ۔ ولقد أرسلنا موسى بآياتنا، اور تحقیق البتہ بھیجا ہم نے موسی علیہ السلام کو اپنی آیتوں اور واضح دلیل کے ساتھ إلى فرعون وهامان وقارون، فرعون، هامان اور قارون کی طرف۔ ہامان جو تھا، یہ فرعون کا وزیر تھا، بھئی۔ اور قارون، قارون جو تھا، یہ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم ہی کا شخص تھا اور حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کا بنی اسرائیل میں سے تھا اور بنی اسرائیل کا سب سے مالدار آدمی تھا، بھئی، سب سے مالدار آدمی۔ تو بھیجا ہم نے ان کو، موسی علیہ السلام کو اپنی، اپنی آیتوں کے ساتھ اور واضح دلیل کے ساتھ فرعون، ہامان اور قارون کی طرف فقالوا ساحر كذاب، تو کہا انہوں نے کہ ساحر، ای هذا ساحر كذاب، مبتدا محذوف ہے کہ یہ جو ہیں جادوگر ہیں، كذاب، بڑے جھوٹے ہیں۔ فلما جاءهم بالحق من عندنا، پس جب وہ لے کر آئے حق کو ہماری طرف سے، پس جب حضرت موسی علیہ السلام جاءهم، ان کے پاس لائے، فلما جاءهم بالحق، پس جب وہ ان کے پاس حق لے کر آئے من عندنا، ہماری طرف سے، قالوا اقتلوا أبناء الذين آمنوا معه، تو کہا انہوں نے کہ قتل کر دو ابناء الذين آمنوا معه، ان لوگوں کے بیٹوں کو جو ایمان لائے ہیں ان کے ساتھ۔ تو انہوں نے اپس میں مشورہ کیا، بھئی، کہ لوگ حضرت موسی علیہ السلام کی دین کی طرف راغب ہو رہے ہیں، تو لوگوں کو روکنے کے لیے کیا کرو؟ جو ایمان لانے والے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو۔ واستحيوا نساءهم، اور زندہ چھوڑ دو ان کی عورتوں کو، ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو تاکہ ان کو ہم پھر باندیاں بنا لیں۔ تو فرعون نے ایک مرتبہ تو اس وقت بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا حکم دیا تھا جب اسے نجومیوں نے بتلایا تھا کہ ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تمہاری سلطنت کو اور تمہاری حکومت کو ختم کر دے گا۔ اور ایک پھر یہ اس موقع پر، یہ انہوں نے اپس میں مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہیے جو ایمان لانے والے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دینا چاہیے اور ان کی عورتوں کو زندہ۔ پھر اس پر عمل ہوا یا نہیں، یہ اللہ ہی جانتے ہیں۔ قالوا اقتلوا أبناء الذين آمنوا معه، کہا انہوں نے کہ قتل کر دو ان لوگوں کے بیٹوں کو جو ایمان لائے ہیں ان کے ساتھ واستحيوا نساءهم، اور زندہ چھوڑ دو ان کی عورتوں کو۔ وما كيد الكافرين إلا في ضلال، اور نہیں ہوئی اور نہیں ہوئی کافروں کی تدبیر إلا في ضلال، ضلال کا ایک معنی گمراہی کے ہیں اور ایک معنی اس کے ہلاکت کے بھی ہیں، بھئی۔ تو وما كيد الكافرين إلا في ضلال، اور نہیں ہوئی کافروں کی تدبیر إلا في ضلال مگر ہلاکت میں، یعنی ان کی تدبیر سب تدبیریں برباد ہو گئیں، کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئی، بڑی بڑی انہوں نے تدبیریں کیں، یہاں تک کہ یہ بھی تدبیر کی جیسے ابھی ذکر ہوا کہ ان کے بیٹوں کو کیا کر دو، قتل کر دو، جب بیٹوں کو قتل کرو گے تو بیٹوں سے تو انسان کو طبعی طور پر زیادہ محبت ہوتی ہے، تو لوگ ان کے دین پر عمل کرنے سے اور اس کو قبول کرنے سے رک جائیں گے۔ تو اللہ فرماتے ہیں: وما كيد الكافرين إلا في ضلال، اور نہ ہوئی کافروں کی تدبیر مگر ہلاکت ہی میں، یعنی وہ برباد ہی ہوئی، تو با محاورہ ترجمہ کیا کریں گے: وما كيد الكافرين إلا في ضلال، اور کافروں کی تدبیر برباد ہی ہوئی، ہلاک ہی ہوئی۔ وقال فرعون ذروني أقتل موسى، اور کہا فرعون نے، ذروني، کہ چھوڑو تم مجھے، ذروني، امر امر ہے، بھئی۔ ذروني، چھوڑو تم مجھے أقتل موسى، میں قتل کر دوں موسی کو وليدع ربه، اور چاہیے کہ وہ پکار لے اپنے پروردگار کو، چاہیے کہ وہ بلا لے اپنے پروردگار کو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ وقال فرعون ذروني، اور کہا فرعون نے کہ چھوڑو مجھے، أقتل موسى، میں موسی کو قتل کر دوں، وليدع ربه، اور اسے چاہیے کہ اپنے پروردگار کو پکار لے۔ بھئی، دیکھیے، ابھی ضابطہ بیان کیا تھا میں نے کہ چھ چیزوں کے جواب میں اگر ف آئے اور اس کے بعد ف یا واو اور اس کے بعد فعل مضارع ہو تو وہاں ان مقدر ہوگا تو نصب پڑھیں گے، جیسے ابھی ایک مثال گزری پیچھے آیت میں۔ اور اگر ف یا واو نہ ہو اور فعل مضارع آئے تو اس پر کیا پڑھیں گے؟ جزم پڑھیں گے، جیسے یہاں أقتل آیا، بھئی، أقتل۔ اور میں نے بتلایا تھا یہ جزم کیوں پڑھتے ہیں؟ کیونکہ یہ جزا بنتی ہے اور یہاں ان مقدر ہوتا ہے شرط کے، کہ مجھے چھوڑ دو، اگر تم مجھے چھوڑ دو گے أقتل موسى، تو میں کیا کروں گا؟ موسی کو قتل کر دوں گا۔ بھئی، فرعون معلوم ہوا اس سے کہ اس کے جو ارکان سلطنت تھے، جو کابینہ والے تھے اور درباری تھے، بڑے بڑے امراء، رؤساء، معلوم ہوا، وہ حضرت موسی علیہ السلام کے قتل سے ڈر رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوا، جب بھی فرعون کہہ رہا ہے نا ذروني، تم چھوڑو مجھے، میں اسے کیا کر دوں؟ قتل کر دوں، بھئی۔ وجہ یہ کہ اس انہوں نے معجزات وغیرہ دیکھ لیے تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ جادو وغیرہ نہیں ہے، سارے جادوگروں کا جادو یہ ختم ہو جاتا ہے اس کے سامنے آ کر، معلوم ہوا یہ جادو نہیں ہے۔ تو وہ ڈر گئے، بھئی، اور اب جب ڈر گئے، حضرت موسی علیہ السلام کے قتل کے لیے تیار نہیں اور ان کی رائے نہیں بن رہی کہ ان کو قتل کیا جائے۔ اب فرعون جو ہے وہ بڑا چالاک اور ہوشیار، بھئی۔ اب خود وہ بھی ڈر رہا ہے، معجزات جو دیکھ لیے، بھئی، لیکن اب اگر کسی اور کو کہتا ہے، وہ انکار کر دیں گے کہ ہم کیسے بھئی، وہ سب ڈر گئے، تو وہ دیکھیے طریقہ کیا اختیار کر رہا ہے کہ ذروني أقتل موسى، چھوڑو تم مجھے کہ میں کیا کروں موسی کو، تم لوگ مجھے نہیں چھوڑ رہے، تم مجھے چھوڑو تو میں کیا کروں موسی کو قتل کر دوں، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تم چھوڑو مجھے کہ میں موسی کو قتل کر دوں۔ تاکہ جب میری یہ بات سنیں گے تو یہ خود ہی باقی لوگ کہہ اٹھیں گے کہ بس آپ ٹھہریں، ہم ہی کیا کر دیتے ہیں اس کو قتل کر دیتے ہیں۔ وقال فرعون، اور کہا فرعون نے، ذروني، کہ تم مجھے چھوڑو، أقتل موسى، میں موسی کو قتل کر دوں، وليدع ربه، اور چاہیے اسے کہ اپنے پروردگار کو پکار لے، إني أخاف أن يبدل دينكم أو أن يظهر في الأرض الفساد، بے شک مجھے خوف ہے، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ بدل دے گا تمہارا دین أو أن يظهر في الأرض الفساد، یا وہ پھیلائے گا زمین میں فساد، یا وہ زمین میں کیا کرے گا؟ زمین میں فساد پھیلائے گا، بدامنی پھیلا دے گا۔ إني أخاف أن يبدل دينكم أو أن يظهر في الأرض الفساد، بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا وہ زمین میں فساد پھیلا دے گا، وقال موسى، اور کہا موسی علیہ السلام نے، إني عذت بربي وربكم، کہ بے شک میں نے پناہ پکڑ لی ہے، اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی۔ حضرت موسی علیہ السلام کو بھی یہ خبر ملی ہوگی کہ وہ فرعون کیا ہے؟ ان کے قتل کی تیاری کر رہا ہے۔ تو فرمانے لگے کہ إني عذت بربي وربكم، بے شک میں نے پناہ پکڑ لی ہے اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی، لوگوں سے فرما رہے ہیں، یعنی سب کے پروردگار کی، میں نے، یعنی اللہ کی میں نے پناہ پکڑ لی ہے. من كل متكبر لا يؤمن بيوم الحساب، ہر ایسے متكبر سے جو یقین، جو مانتا نہیں ہے حساب کے دن کو۔ من كل متكبر لا يؤمن بيوم الحساب، ہر ایسے متكبر سے لا يؤمن بيوم الحساب، جو ایمان نہیں رکھتا حساب کے دن پر۔ وقال رجل مؤمن، اور کہا ایک مومن مرد نے من آل فرعون، آل، آل یہ متبعین کو بھی کہا جاتا ہے اور وہ خاندان، خاندان والوں کو بھی کہا جاتا ہے۔ تو کہا ایک مومن مرد نے من آل فرعون، فرعون کے خاندان والوں میں سے۔ فرعون کے خاندان والوں میں سے ایک مومن مرد نے کہا، یہ وہ مومن مرد ہے جس کی وجہ سے اس سورت کو کیا کہا جاتا ہے؟ سورہ مؤمن کہا جاتا ہے۔ اس نے اب تک اپنا ایمان چھپا کر رکھا تھا. ایما اور کہتے ہیں کہ یہ فرعون کا چچا زاد بھئی تھا۔ چچا زاد بھئی تھا۔ تو فرعون کے خاندان والا ہے اور پھر اس کا چچا زاد بھئی ہے تو یقیناً اس کی بھی بڑی اہمیت ہوگی دربار کے اندر بھئی۔ تو یہ اس موقع پر جب اس نے دیکھا کہ یہ سارے تو مشورہ کر رہے ہیں پیغمبر کو قتل کرنے کا تو اس وقت اب انتہا ہو چکی ہے بات کی اب میرا خاموش رہنا مناسب نہیں ہے ورنہ قیامت کے دن اللہ کو کیا جواب دوں گا؟ تو اس وقت پھر دیکھ کے یہ بول اٹھا اپنے ایمان کا اظہار کر دیا اور اور بڑی لمبی تقریر کی جس کا ذکر قرآن کرتا ہے۔ وقال رجل مؤمن من آل فرعون تو دیکھیے بھئی۔ سب سے مشکل کام ہے یہ بھئی جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا بھئی۔ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے مشکل کام ہے۔ جو جابر ہے جس کے ذرا سے اشارے پر گردنیں اڑا دی جاتی ہیں۔ اور اس زمانے کے اندر بھی آپ نے دیکھا کہ اللہ نے توفیق دی جامعہ حفصہ والوں کو اور مولانا عبدالعزیز اور غازی عبدالرشید شہید رحمہ اللہ ان کو اللہ نے کتنی ان کو اور وہ جو طالبات تھی ان کو اللہ نے کتنی ہمت اور قوت نصیب فرمائی تھی بھئی۔ تو وہ شخص وقال رجل مؤمن من آل فرعون اور کہا ایک مومن مرد نے فرعون کے خاندان میں سے یکتم ایمانہ جو چھپاتا تھا اپنے جس نے چھپا رکھا تھا اپنے ایمان کو کتم یکتم کے معنی چھپانے کے۔ یکتم ایمانہ جو جس نے چھپا رکھا تھا اپنے ایمان کو۔ یا چھپاتا تھا یعنی اب تک جو چھپاتا تھا اپنے ایمان کو اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ ایلی ان یقول ربی اللہ یہاں لام محذوف ہے بھئی۔ کیا تم قتل کرو گے ایک ادمی کو ان یقول ربی اللہ یہ کہنے کی وجہ سے کہ میرا پروردگار اللہ ہے صرف یہ کہنے کی وجہ سے تم ایک ادمی کو قتل کر دو گے؟ وقد جاءکم بالبینات من ربکم اور تحقیق وہ لایا ہے واضح دلائل واضح نشانیاں من ربکم تمہارے پروردگار کی طرف سے وینک کاذبا فعلیہ کذب اور اگر وہ جھوٹا ہوا تو اسی پر اس کا جھوٹ پڑے گا اسی پر اس کا جھوٹ ہوگا۔ اگر تو وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اس کا وبال۔ وینک صادقا اور اگر وہ سچا ہوا یصيبکم بعض الذی یعدکم تو پہنچے گا تمہیں بعض الذی یعدکم۔ وعد یعد کے معنی وعدہ کرنے کے بھی اور اسی طرح وعد یعد وعید کے معنی ڈرانے کے بھی آتے ہیں بھئی۔ تو یہاں یہ ڈرانے کے معنی میں کریں بھئی۔ یصيبکم تو پہنچے گا تمہیں۔ پہنچے گا تمہیں بعض الذی یعدکم کچھ وہ جس سے وہ تمہیں ڈراتا ہے۔ وہ چیزیں جن سے وہ ڈراتا ہے ان میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آ پڑے گا بھئی وہ عذاب جس سے وہ تمہیں ڈراتا ہے وہ کچھ نہ کچھ تم پر آ پڑے گا بھئی۔ تو وعد یعد کے میں نے کیا معنی کیے؟ ڈرانے کے بھئی۔ ہاں وعدہ کرنے کا ترجمہ کر لیں پھر بھی ٹھیک ہے دونوں ترجمے ٹھیک ہیں بھئی۔ وینک صادقا اور اگر وہ سچا ہوا یصيبکم بعض الذی یعدکم تو آ پڑے گا تم پر وہ کچھ وہ جس سے وہ تمہیں ڈراتا ہے۔ تو آ پڑے گا تم پر وہ جس سے ڈراتا ہے اس کا کچھ تم پر آ پڑے گا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وینک یہ اصل میں تھا یکون بھئی یکون۔ یکو اصل میں کیا تھا؟ یکون پھر ان نے جزم دیا اور آخر میں نون ساکن ہوا واؤ پہلے ہی ساکن تھا یکون ہوا تو اجتماع ساکنین آیا اور اس صورت میں واؤ کو گرا دیا جاتا ہے کیا ہوا؟ یکن پھر یاد رکھیے اس میں بعض اوقات مزید تخفیف کرتے ہوئے نون کو بھی گرا دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ ضروری نہیں ہے کہ نون کو گرایا جائے لیکن جائز ہے تخفیف بعض اوقات نون کو بھی گرا لیا جاتا گرا دیا جاتا ہے جیسے یہاں گرایا گیا بھئی۔ وینک کاذبا فعلیہ کذبھ اگر وہ جھوٹا ہوا تو اسی پر اس کا جھوٹ پڑے ہوگا وینک صادقا اور اگر وہ سچا ہوا یصيبکم بعض الذی یعدکم تو کچھ اس میں سے جو جس سے وہ تمہیں ڈراتا ہے وہ تم پر آ پڑے گا ان اللہ لا یهدی من وہ مسرف کذاب بے شک اللہ ہدایت نہیں دیتے من اس شخص کو ہوا مسرف جو حد سے بڑھنے والا ہو حد سے تجاوز کرنے والا ہو کذاب بڑا جھوٹا ہو۔ بے شک اللہ ہدایت نہیں دیتے اس شخص کو جو حد سے بڑھنے والا ہو کذاب بڑا جھوٹا ہو۔ یہ وہ رجل مومن تقریر کر رہا ہے کہ اگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں جھوٹا دعوی نبوت ہے اپنی طرف سے باتیں انہوں نے بنا رکھی ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ خود ہی تباہ و برباد ہو جائیں گے اس لیے کہ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتے جو حد سے بڑھنے والا ہو اور خوب جھوٹ بولنے والا ہو۔ یا قوم لکم الملک الیوم اے میری قوم یا قوم یہاں سے یا متکلم مضاف علیہ جو ہے وہ حذف ہوئی ہے۔ یا قوم اے میری قوم لکم الملک الیوم آج کے دن تمہارے لیے بادشاہت ہے حکومت ہے ظاہرین فی الارض اس حال میں کہ تم ظاہر ہو یعنی غالب ہو زمین میں اس حال میں کہ تم کیا ہو زمین میں غالب ہو یا قوم لکم الملک الیوم ظاہرین فی الارض اے میری قوم تمہارے لیے آج حکومت ہے اس حال میں کہ تم غالب ہو زمین میں۔ یا یہ ترجمہ ہمارے بعض علماء نے کیا یا قوم لکم الملک الیوم ظاہرین فی الارض اے میری قوم آج تمہاری حکومت ہے آج تمہاری حکومت ہے کہ تم زمین میں راج کر رہے ہو تم غالب ہو زمین میں یعنی تم زمین میں راج کر رہے ہو فمن ینصرنا من باس اللہ ان جاءنا پس کون ہماری مدد کرے گا من باس اللہ باس یعنی عذاب بھئی باس سختی کو کہتے ہیں اور اسی طرح عذاب کو بھی فمن ینصرنا من باس اللہ پس کون ہماری مدد کرے گا اللہ کے عذاب سے ان جاءنا اگر وہ ہم پر آگیا اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہماری مدد کرے گا۔ جی یہ وہ رجل مومن کہہ رہا ہے قال فرعون تو کہا فرعون نے ما اریکم الا ما ارا ما اریکم کہ میں تمہیں رائے نہیں دیتا الا مگر وہ ما ارا جو میں رائے رکھتا ہوں میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو میری رائے ہے بھئی جو میری سمجھ ہے۔ قال فرعون کہا فرعون نے ما اریکم الا ما ارا کہ میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو میری رائے ہے۔ یا یوں ترجمہ کریں قال فرعون کہا فرعون نے ما اریکم الا ما ارا کہ میں تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو میں سمجھ رہا ہوں جو میں سمجھتا ہوں وما اهدیکم الا سبیل الرشاد سبیل الرشاد بھلائی کا راستہ وما اهدیکم اور میں تمہاری رہنمائی نہیں کر رہا الا سبیل الرشاد مگر بھلائی کے راستے کی طرف میں تو بھلائی کے راستے ہی کی طرف تمہاری رہنمائی کر رہا ہوں تمہارے بھلے ہی کی بات کر رہا ہوں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ قال فرعون کہا فرعون نے ما اریکم الا ما ارا کہ میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو میں سمجھ رہا ہوں بھئی ما اور الا کے ساتھ ترجمہ کیا تھا میں تمہیں رائے نہیں دے رہا الا ما ارا مگر وہ جو میں سمجھ رہا ہوں ما اور الا کو ختم کریں با محاورہ ترجمہ کریں کہا فرعون نے کہ میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو میں سمجھ رہا ہوں وما اهدیکم الا سبیل الرشاد اور میں تمہیں ہدایت نہیں کر رہا یعنی میں تمہاری رہنمائی نہیں کر رہا الا سبیل الرشاد مگر بھلائی کے راستے کی طرف یہ تو ما اور الا کے ساتھ ترجمہ تھا با محاورہ کیا ہوگا؟ وہاں جی وما اهدیکم الا سبیل الرشاد میں تو بھلائی کے راستے ہی کی طرف تمہاری رہنمائی کر رہا ہوں وقال الذی امن اور کہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھا وہ رجل مومن پھر کہہ رہا ہے یا قوم انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب کہ اے میری قوم بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر مثل یوم الاحزاب گروہوں کے دن جیسے سے یعنی گروہوں کے دن جیسے دن سے جیسے اور گروہوں پر عذاب آیا تھا عذاب کا دن اس جیسے دن سے میں تم پر ڈرتا ہوں کہ تم پر کہیں وہ دن نہ آجائے۔ انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب کہ بے شک میں ڈر رہا ہوں تم پر گروہوں جیسے دن سے گروہوں پر جو دن آیا تھا اس جیسے دن سے سے تم پر ڈر رہا ہوں۔ مثل داب قوم نوح وعاد و ثمود داب کہتے ہیں عادت کو عادت کو اور اسی طرح داب کہتے ہیں حالت کو بھی بھئی تو یہاں حالت کے معنی میں ہے مثل داب قوم نوح قوم نوح کی حالت کی مثل وعاد اور قوم عاد کی حالت کے مثل و ثمود اور قوم ثمود کی حالت کے مثل مثل داب قوم نوح وعاد و ثمود قوم نوح اور قوم عاد اور قوم ثمود کی حالت کے مثل والذین من بعدہم اور وہ جو ان کے بعد ہوئے اور وہ جو ان کے بعد تھے قوم نوح قوم عاد قوم ثمود اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے ان جیسی حالت کے مثل یعنی اس جیسی حالت تم پر بھی حالت آجائے میں اس بات سے ڈر رہا ہوں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھیے دوبارہ دیکھ لیجئے یہ ترجمہ وقال الذی امن اور کہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھا یا قوم اے میری قوم انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب یوم مثل یوم الاحزاب بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر اور گروہوں کے دن کی مانند سے مثل داب قوم نوح وعاد و ثمود والذین من بعدہم اور یہ مثل یہ بدل ہے مثل یوم الاحزاب سے مثل داب قوم یہ بدل ہے کس سے مثل یوم الاحزاب سے۔ مثل داب قوم نوح وعاد و ثمود والذین من بعدہم قوم نوح عاد ثمود اور وہ جو ان کے بعد ہوئے ان کی حالت کے ان کی حالت کے مثل سے ان کی حالت کے مانند سے میں ڈر رہا ہوں تم پر وما اللہ یرید ظلما للعباد اور نہیں اللہ ارادہ کرتے ظلم کا للعباد بندوں پر اور اللہ بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتے با محاورہ یوں کر لیں وما اللہ یرید ظلما للعباد اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرنا چاہتے ويا قوم انی اخاف علیکم یوم التناد اور اے میری قوم بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر چیخ و پکار کے دن سے یوم التناد چیخ و پکار کا دن یعنی قیامت کا دن بھئی قیامت کا دن ويا قوم انی اخاف اے میری قوم بے شک میں تم پر ڈرتا ہوں چیخ و پکار کے دن سے تناد بھئی ندا سے ہے بھئی کس سے ہے؟ ندا سے جس میں قیامت کا دن جس میں ندائیں ہوں گی چیخ و پکار ہوگی بھئی۔ یعنی تمام لوگوں کو میدان حشر میں جمع ہونے کے لیے اور حساب دینے کے لیے پکارا جائے گا بھئی اس لیے کہ قیامت کو کیا کہتے ہیں یوم التناد یا یہ کہ اس میں کثرت سے ندائیں ہوں گی بعضوں کے بارے میں کہا جائے گا کہ اعلانات ہو رہے ہوں گے بھئی فلاں نیک بخت ہوا فلاں بدبخت ہو گیا فلاں نیک بخت ہو گیا تو جس کا نامہ اعمال نیکیاں وزنی ہو جائیں گے اعلان ہو رہا ہوگا فلاں نیک بخت ہو گیا جس کے جرم بڑھ جائیں گے اعلان ہو رہا ہوگا فلاں بدبخت ہو گیا اس لیے اس کو یوم التناد کہا جاتا ہے۔ یا وہ جو مجرم چیخ و پکار کر رہے ہوں گے بھئی یا جب جنتی جنت میں جا چکے اور جہنمی جہنم میں جا چکے تو اس وقت اللہ کی طرف سے جنتیوں کو بھی پکارا جائے گا اور جہنمیوں کو بھی جہنمیوں کو بھی کہا جائے گا کہ اے اہل جہنم ہمیشہ کی زندگی ہے اب موت نہیں آئے گی جنت والوں کو بھی پکار کر کہا جائے گا اے اہل جنت ہمیشہ کی زندگی ہے اب اس کے بعد موت نہیں آئے گی اور موت کو لایا جائے گا ایک دنبے کی شکل میں اور جنت و جہنم کے درمیان اس کو ذبح کر دیا جائے گا سب کے سامنے تو یہ اس لیے قیامت کو کیا کہتے ہیں یوم التناد یوم تولون مدبرین واللہ یولی کے معنی ہیں پلٹنے کے بھئی واپس پھر جانے کے مدبرین ادبر یدبر ادبار کے معنی ہیں پشت پھیرنے کے یوم تولونا جس دن کہ تم واپس پلٹو گے مدبرین اس حال میں کہ پشت پھیرنے والے ہوگے یعنی جس دن تم پشت پھیر کر پلٹو گے یا اپنی پشت پھیر کر بھاگوج جس دن پشت پھیر کر بھاگوج یوم تولونا مدبرین جس دن تم پشت پھیر کر بھاگوج ما لکم من اللہ من عاصم نہیں ہوگا تمہارے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا کوئی اللہ سے تمہیں بچانے والا نہیں ہوگا ومن یضلل اللہ فما لہ من ہاد اور جس کو گمراہ کر دیں اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے کوئی اس کو ہدایت دینے والا جسے اللہ گمراہ کر دیں اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ولقد جاءکم یوسف من قبل بالبینات اور تحقیق آئے تمہارے پاس یوسف علیہ السلام من قبل اس سے پہلے بالبینات واضح نشانیوں کے ساتھ جاء آیا اور اس کے ساتھ باء صلا آئی تو کیا ترجمہ کریں گے؟ لانے کے ولقد جاءکم یوسف من قبل بالبینات اور تحقیق البتہ لائے یوسف علیہ السلام اس سے پہلے تمہارے پاس واضح نشانیاں فما ذلتُم في شك مما جاءكم به پس ہمیشہ تم رہے ما زالا بھئی ما زالا افعال ناقصہ میں سے آپ نے پڑھا ہے بھئی اور اس کا کیا معنی آتے ہیں؟ ہمیشہ کے فما ذلتُم پس ہمیشہ تم فی شک شک میں رہے مما اس چیز کے بارے میں جاءکم بہ جو وہ تمہارے پاس لائے تھے تم ہمیشہ اس چیز کے بارے میں شک میں رہے وہ جو تمہارے پاس لے کر آئے تھے یعنی وہ جو دین حق لے کر آئے تھے۔ حتی اذا ہلک یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے ہلک اور مات ایک معنی ہے بھئی۔ समझ में आया भाई؟ तो अरबी में हलका और माता भी इसी तरह यानी जब उन पर मौत आ गई जब उनका انتقال हुआ۔ حتی اذا ہلک یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے قلتم تم نے کہا لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا کہ ہرگز نہیں بھیجیں گے اللہ ان کے بعد کوئی رسول جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم نے کیا کہا کہ ہرگز ان کے بعد اللہ کوئی رسول نہیں بھیجیں گے بھئی انہوں نے تو نہیں کہا یہ تو اس وقت تھے ہی نہیں ہاں ان کے بڑوں نے کہا تھا تو بڑوں نے کہا انہی کے قوم والے، انہی کے بڑوں نے کہا تھا، تو ان کی طرف نسبت کر دی گئی کہ تم لوگوں نے یوں کہا تھا کہ اس کے بعد اللہ کوئی رسول نہیں بھیجیں گے۔ یہ معنی نہیں کہ انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی رسالت کو تسلیم کر لیا تھا اور ایمان لے آئے تھے، نہیں یہ معنی نہیں۔ کہ جب ان زندگی میں تو ان پر ایمان نہیں لائے، جب انتقال ہوا تو کہنے لگے کہ یہ تو رسول نہیں تھے، یہ تو رسول نہیں تھے اور اس کے بعد بھی آگے کوئی اللہ رسول نہیں بھیجیں گے بھئی، یہ معنی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ان کی رسالت کو بھی تسلیم نہیں کیا اور آگے کے بارے میں خود ہی اپنی طرف سے فیصلہ کر دیا کہ آئندہ بھی اللہ کوئی رسول نہیں بھیجیں گے۔ یہ بھی جھوٹ بول رہے تھے اور آگے بھی کوئی رسول آنے والا نہیں ہے، یہ اپنی طرف سے باتیں بناتے ہیں۔ یا تو یہ معنی، یا معنی یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں تو ان پر یہ ایمان نہیں لائے بھئی ان کے بڑے، لیکن جب ان کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد پھر مصر کے اندر بدامنی وغیرہ ہوئی، تو وہ جو بڑے تھے، وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کو اور ان کی برکات کو یاد کرتے تھے کہ ان کا زمانہ بڑا برکت والا تھا، اور بڑا امن و امان اور سکون تھا ملک کے اندر، تو اس وقت وہ یاد کرنے لگے یاد کرنے لگے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ وہ تو گزر گئے، آگے کوئی اللہ رسول بھیجنے والے نہیں ہیں بھئی۔ تو بہرحال انکار کیا انہوں نے آگے بھی کسی پیغمبر کے آنے کا حتی اذا ہلک یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے، قل تم تم نے کہا لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا کہ ہرگز نہیں بھیجیں گے اللہ ان کے بعد کوئی پیغمبر، كذلك یضل اللہ من ہو مسرف مرتاب، اسی طرح اللہ گمراہ کرتے ہیں اس شخص کو جو حد سے بڑھنے والا، مرتاب، شک کرنے والا ہو، جو حد سے بڑھنے والا ہو، شک کرنے والا ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ کہ اللہ اسی طرح گمراہ کرتے ہیں من ہو مسرف مرتاب، جو حد سے تجاوز کرنے والا ہو، حد سے بڑھنے والا ہو، مرتاب، شکی ہو، مرتاب۔ الذین یجادلون فی آیات اللہ بغیر سلطان، وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر سلطان، بغیر کسی دلیل کے، آتاھم سلطان نکرہ ہے بھئی اور اس کے بعد فعل آیا، آتاہ، تو فعل نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے عموماً وہ صفت بنتا ہے۔ بغیر سلطان آتاھم، بغیر کسی ایسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو۔ بغیر کسی ایسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، یعنی بغیر دلیل کے وہ، وہ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے تھے، کوئی ان کے پاس دلیل نہیں تھی کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو کسی کی طرف سے، اللہ کی طرف سے کوئی دلیل ان کے پاس آئی ہو اور اس کی وجہ سے وہ جھگڑ رہے ہوں، نہیں، بغیر دلیل کے ہی وہ جھگڑا کرتے تھے۔ الذین یجادلون، وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں فی آیات اللہ، اللہ کی آیتوں میں بغیر سلطان آتاھم، بغیر کسی ایسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، کبر مقتا عند اللہ وعند الذین آمنوا۔ مقت کا لفظ تو گزشتہ سبق میں گزرا بھئی۔ کیا معنی مقت کے؟ نفرت کے بھئی، نفرت کے۔ کبرا، بہت بڑی ہے، ہوا ضمیر راجع ہے یہ جو پیچھے جھگڑے کا ذکر آیا، یہ جدال جو ہے ان کا، یہ جو ان کا جھگڑا ہے، یہ بہت بڑا ہے مقتاً بااعتبار نفرت کے عند اللہ، اللہ کے نزدیک وعند الذین آمنوا، اور ان لوگوں کے نزدیک جو ایمان لائے۔ ان کا یہ جھگڑا بڑی ہی نفرت والی چیز ہے اللہ کے نزدیک بھی اور ان لوگوں کے نزدیک بھی جو ایمان لے کر آئے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بڑا ہے نفرت کے اعتبار سے، یعنی بڑی نفرت کی چیز ہے۔ كذلك یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار، اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں اللہ، علی کل قلب متکبر جبار، ہر سرکش تکبر کرنے والے کے دل پر۔ طبع یطبع و کے معنی مہر لگانے کے، اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں اللہ تعالی علی کل قلب متکبر جبار، جبار سرکش بھئی، جابر۔ ہر جابر تکبر کرنے والے کے دل پر، اسی طرح اللہ مہر لگا دیتے ہیں ہر جابر تکبر کرنے والے کے دل پر، ہر جابر تکبر کرنے والے کے دل پر اللہ مہر لگا دیتے ہیں۔ بھئی، یہاں اعتراض ہوتا ہے، کیا آیا؟ علی قلب متکبر جبار، یہ کل کے لفظ کی اضافت ہے قلب کی طرف، اور پھر قلب کی اضافت ہے متکبر کی طرف، تو یوں کہیں ذرا کل کے لفظ کو ہٹائیں بھئی، قلب کی اضافت متکبر کی طرف ہوئی، اور نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو، تو بھی وہ نکرہ ہی رہتا ہے، آپ پڑھ چکے بھئی، نکرہ کی اضافت معرفہ کی طرف ہو تو وہ معرفہ بن جاتا ہے اور اگر نکرہ کی طرف اضافت ہو تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے۔ اور ضابطہ ہے کہ اگر کل کے لفظ کی اضافت ہو نکرہ کی طرف یا کل کی اضافت ہو معرفہ، جمع معرفہ کی طرف، معرفہ کی طرف لیکن وہ کون سا صیغہ ہو؟ جمع کا۔ تو اس صورت میں وہ احاطہ افراد کا فائدہ دیتا ہے۔ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ احاطہ افراد۔ احاطہ افراد، یعنی تمام افراد کا احاطہ کر لیتا ہے، تو کل قلب کا کیا معنی ہوگا؟ ہر دل، اور اگر کل کے لفظ کی اضافت ہو معرفہ کی طرف، معرفہ مفرد کی طرف، تو اس صورت میں یہ کل کا لفظ احاطہ اجزاء کا فائدہ دیتا ہے۔ کل القلب، قلب کو ذرا معرفہ لے آئیں، اب کیا معنی ہوگا؟ کل القلب، احاطہ اجزاء، یعنی پورا دل۔ کل قلب کا کیا معنی تھا؟ ہر دل، یہ دیکھو احاطہ افراد، اور کل القلب کا کیا معنی؟ پورا دل، دیکھو احاطہ اجزاء، پورے اجزاء کا احاطہ کر لیا، پورے دل کا احاطہ کر لیا بھئی، افراد کا نہیں، ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں اشکال ہوتا ہے کہ علی کل قلب متکبر جبار، قلب کی اضافت ہے متکبر کی طرف اور نکرہ کی اضافت نکرہ کی طرف ہو تو وہ نکرہ ہی رہتا ہے، تو گویا قلب متکبر، یہ ہے نکرہ اور اس پر کل کا لفظ داخل ہوا، اور تو پھر ترجمہ کیا ہوگا؟ کیا ہونا چاہیے؟ متکبر کے ہر دل پر، متکبر کے ہر دل پر، حالانکہ متکبر کا ایک دل ہوتا ہے یا بہت سے دل ہوتے ہیں؟ ہر متکبر کا ایک ہی دل ہے، اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ نکرہ پر کل کا لفظ آ رہا ہے، تو یہ تو احاطہ افراد کا فائدہ دیتا ہے۔ تو ایک جواب اس کا یہ ہے، ایک جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں پر ضابطے سے ہٹ کر کل کا لفظ احاطہ اجزاء کے لیے ہے، یہاں ضابطے سے ہٹ کر کل کا لفظ احاطہ اجزاء کے لیے ہے، چنانچہ بعض مفسرین اس کا ترجمہ پھر یوں کرتے ہیں: كذلك یطبع اللہ، اسی طرح اللہ مہر لگا دیتے ہیں علی کل قلب متکبر جبار، جابر تکبر کرنے والے کے پورے دل پر۔ علی کل قلب متکبر، یہاں کل کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ احاطہ اجزاء کا، احاطہ اجزاء کا، تو کیا ترجمہ ہوا؟ علی کل قلب متکبر جبار، جابر تکبر کرنے والے کے پورے دل پر، اسی طرح اللہ مہر لگا دیتے ہیں جابر تکبر کرنے والے کے پورے دل پر۔ یعنی اس کے پورے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے، دل کا کوئی حصہ بچتا ہی نہیں ہے کہ جس میں پھر قبول حق کی صلاحیت ہو، یعنی حق کو قبول کرنے کی اس پھر، حق کو قبول کرنے کی صلاحیت پھر اس دل میں رہتی ہی نہیں ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ پورے دل پر اللہ مہر لگا دیتے ہیں، تو پھر وہاں ہدایت کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی، تو پورے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے یہاں تک کہ پھر اس میں ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہتی، ہدایت کا کوئی راستہ ہی باقی نہیں رہتا۔ كذلك یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار، اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں اللہ جابر تکبر کرنے والے کے پورے دل پر۔ تو یہ ایک جواب ہوا، پہلا جواب کیا ہوا؟ کہ یہاں یہ ضابطے سے ہٹ کر احاطہ اجزاء کے لیے ہے۔ دوسرا جواب، دوسرا جواب یہ ہے کہ کل کا لفظ جس طرح قلب کے اندر عموم پیدا کر رہا ہے، جس طرح قلب کے اندر عموم پیدا کر رہا ہے، اسی طرح یہ مضافل یعنی متکبرین اور آگے جبار جو ہے اس میں بھی عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔ اسی طرح یہ جس طرح کل کا لفظ قلب کے اندر عموم پیدا کر رہا ہے اور احاطہ افراد کا فائدہ دے رہا ہے، اسی طرح آگے مضافل جو متکبرین ہے اور آگے جو صفت جبارین ہے، اس کے اندر بھی یہ عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔ تو جب متکبر جبار کے اندر عموم آ گیا، تو وہ کثیر ہوئے، تو پھر ان کے دل ہر ایک کا دل ہے، تو وہ دل بھی کیا ہو گئے؟ کثیر ہو گئے، تو اس طرح یہاں اس نے احاطہ افراد کا فائدہ دیا بھئی۔ تو اس صورت میں کیا ترجمہ ہوگا؟ علی کل قلب متکبر جبار، ہر جابر تکبر کرنے والے کے دل پر۔ ہر جابر تکبر کرنے والے کے دل پر، اللہ اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں۔ تو دوسرا جواب کیا ہوا کہ کل جس طرح قلب کے اندر عموم پیدا کر رہا ہے، اسی طرح آگے متکبرین اور جبارین میں بھی عموم پیدا کر رہا ہے۔ گویا کہ قلب کی اضافت متکبر کی طرف، پہلے یہ اضافت ملحوظ ہے، اس کے بعد اس مجموعے کی طرف کل کی اضافت ہے بھئی۔ بھئی، دیکھیے کل کے لفظ کی اضافت ہے قلب کی طرف، اور پھر قلب کی اضافت کس کی طرف ہے؟ متکبرین کی طرف، تو پہلے قلب کی جو اضافت ہے متکبرین کی طرف پہلے وہ ملحوظ ہے، اس کے بعد جب قلب کی اضافت متکبر کی طرف ہو گئی، اس کے بعد اس پر کل کو داخل کیا گیا بھئی۔ تو کس طرح ہوا؟ قلب متکبرین، قلبی متکبرین، اب اس پر کل داخل ہوا بھئی۔ اب اس پر کل داخل ہوا بھئی، تو قلبی متکبرین کا کیا معنی ہوا؟ کل کے لفظ کا ترجمہ بھی نہ کریں، قلبی متکبرین، صرف پہلے یہ دو مضاف مضافل جو ہیں، متکبر کا دل، اب اس پر کل آگیا احاطہ افراد کے لیے، کیا ترجمہ ہوا؟ ہر متکبر کا دل بھئی، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پہلے قلب کی اضافت متکبر کی طرف وہ ملحوظ ہے، اور پھر اس مجموعے پر کل کا لفظ عموم کے لیے آگیا، تو کیا ترجمہ ہوا؟ ہر متکبر کا دل، ہر تکبر کرنے والے جابر کا دل۔ كذلك یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار، اسی طرح مہر لگا دیتے ہیں اللہ تعالی ہر تکبر کرنے والے جابر کے دل پر۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس دوسرے ترجمے کے مطابق یہاں کل اسی طرح ضابطے کے مطابق عموم افراد کا فائدہ دے رہا ہے، احاطہ افراد کا فائدہ دے رہا ہے بھئی۔ تو دونوں ترجمے اب آپ کر سکتے ہیں، مفسرین نے دونوں ذکر کیے ہیں بھئی، كذلك یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار، پہلا ترجمہ: اسی طرح اللہ مہر لگا دیتے ہیں علی کل قلب متکبر جبار، پورے دل پر متکبر جبار کے، تکبر کرنے والے جبیر کے، تکبر کرنے والے جبیر کرنے والے کے پورے دل پر اللہ مہر لگا دیتے ہیں۔ دوسرا ترجمہ: كذلك یطبع اللہ، اسی طرح اللہ مہر لگا دیتے ہیں علی کل قلب متکبر جبار، ہر تکبر کرنے والے جابر کے دل پر۔ وقال فرعون، اور کہا فرعون نے، یا ہامان ابن لی صرحا، اور کہا فرعون نے، یا ہامان، اے ہامان! ابن لی صرحا، تعمیر کرو میرے لیے تم ایک محل، اونچا محل، صرح کہتے ہیں اونچی عمارت کو، بلند عمارت کو۔ اے ہامان! ابن لی صرحا، تعمیر کرو تم میرے لیے ایک اونچی عمارت، لعلّی ابلغ الاسباب، تاکہ میں پہنچوں راستوں تک، تاکہ میں پہنچوں راستوں کو۔ تو یہ لعلّہ حروف، حرف ترجی ہے، اور آپ جانتے ہیں یہ ایک قسم کا تقاضا کرتا ہے اور ایک خبر کا، تو یہ یاء متکلم اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے، یہ اس کا اسم ہے، اور آگے اس کی خبر ہے بھئی۔ اسباب جمع ہے سبب کی، ہر وہ چیز جس کے ذریعے دوسری چیز تک پہنچا جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سبب کہتے ہیں۔ اسی طرح رسی کو بھی کیا کہتے ہیں؟ سبب کہتے ہیں۔ یہاں مراد راستے ہیں بھئی، راستے کے ذریعے بھی پہنچا جاتا ہے دوسری جگہ تک۔ لعلّی ابلغ الاسباب، تاکہ میں پہنچوں راستوں کو، اسباب السماوات، آسمان کے راستے۔ فطلع الی الٰہ موسی، پس میں جھانکوں الی الٰہ موسیٰ، موسیٰ کے معبود کی طرف۔ تاکہ میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے معبود کو، و انی لاظنہ کاذبا، اور بے شک، البتہ میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں، جھوٹا گمان کرتا ہوں۔ اسباب السماوات، یہ بدل ہے الاسباب سے، تاکہ میں پہنچوں ان راستوں تک، اسباب السماوات، آسمان کے راستوں تک۔ وقال فرعون، اور کہا فرعون نے، اے ہامان! تعمیر کرو تم میرے لیے ایک اونچی عمارت، لعلّی ابلغ الاسباب، تاکہ میں پہنچوں راستوں کو، اسباب السماوات، آسمان کے راستے۔ فطلع الی الٰہ موسی، پس میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے معبود کو، و انی لاظنہ کاذبا، اور بے شک میں، البتہ اسے جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ و كذلك زین لفرعون سوء عملہ، اور اسی طرح مزین کر دیا گیا فرعون کے لیے سوء عملہ، اس کے عمل کی برائی کو۔ اسی طرح مزین کر دیا گیا فرعون کے لیے اس کے عمل کی برائی کو بھئی۔ یا یوں ترجمہ کر لیں، و كذلك زین، اور اسی طرح خوبصورت بنا دیا گیا لفرعون، فرعون کے لیے سوء عملہ، اس کی بدعملی کو۔ فرعون کے لیے اس کی بدعملی کو خوبصورت بنا دیا گیا۔ و صد عن السبیل، و صد عن السبیل، اور روک دیا گیا راستے سے، یعنی سیدھے راستے سے، و صد عن السبیل اور روک دیا گیا اس راستے سے یعنی سیدھے راستے سے، اور وہ روک دیا گیا سیدھے راستے سے، و ما کید فرعون الا فی تباب، اور نہ ہوئی فرعون کی تدبیر الا فی تباب، مگر ہلاکت میں۔ تباب ہلاکت کو کہتے ہیں۔ تب یتب کے معنی ہلاک ہونا۔ و ما کید فرعون الا فی تباب، اور نہ ہوئی فرعون کی تدبیر مگر ہلاکت میں، یعنی فرعون کی تدبیر ہلاک ہی ہوئی، فرعون کی تدبیر برباد ہی ہوئی۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔