اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم حم تنزيل الكتاب من الله العزيز الحكيم ما خلقنا السماوات والأرض وما بينهما إلا بالحق وأجل مسمى والذين كفروا عما أنذروا معرضون آج ہم سورہ احقاف شروع کریں گے۔ سورہ احقاف بھئی۔ اس صورت کے اندر احقاف کا ذکر آ رہا ہے۔ اسی وجہ سے یہ سورہ احقاف کہلاتی ہے۔ احقاف حقف کی جمع ہے حقف۔ اور حقف کہتے ہیں ریت کے لمبے خم دار ٹیلے کو بھئی۔ ریت کے لمبے خم دار بھئی جس میں خم ہو کجی ہو ٹیڑھا ہو کچھ۔ ریت کا لمبا خم دار ٹیلہ جو ہے اس کو حقف کہتے ہیں۔ تو اس صورت کے اندر قوم عاد کا ذکر آ رہا ہے۔ اور وہ جس مقام پر رہتے تھے وہاں ریت کے لمبے خم دار ٹیلے تھے۔ تو احقاف کا ذکر آئے گا تو اس وجہ سے اس صورت کو سورہ احقاف کے نام سے موسوم کیا گیا بھئی۔ کیونکہ اس میں احقاف کا ذکر آ رہا ہے۔ حم یہ حروف مقطعات میں سے ہے اور اس کا معنی اللہ اور اس کے رسول جانتے ہیں۔ تنزيل الكتاب من الله العزيز الحكيم یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی جا رہی ہے جو زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ ما خلقنا السماوات والأرض نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو وما بينهما اور وہ جو ان دونوں کے درمیان ہے إلا بالحق مگر ٹھیک ٹھیک۔ مگر برحق۔ مگر حکمت کے ساتھ جو بھی ترجمہ آپ کر لیں۔ یعنی زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ و أجل مسمى اجل کہتے ہیں مدت بھئی مسمى مقررہ۔ اور ایک مقررہ مدت کے لیے۔ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہیں ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے اور ایک مقررہ مدت کے لیے یعنی قیامت تک کے لیے۔ والذين كفروا عما أنذروا معرضون اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا عما أنذروا اس چیز سے جس سے ان کو خبردار کیا گیا۔ معرضون اعراض کرنے والے ہیں۔ منہ موڑنے والے ہیں۔ تو یہ عما أنذروا کا تعلق معرضون سے ہے بھئی۔ کہ وہ اعراض کرنے والے ہیں کس چیز سے؟ عما أنذروا جس چیز سے ان کو خبردار کیا گیا۔ والذين كفروا عما أنذروا معرضون اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ اعراض کرنے والے ہیں اس چیز سے جس سے ان کو خبردار کیا گیا۔ قل أرأيتم ما تدعون من دون الله قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے أرأيتم کیا ترجمہ کریں گے؟ تو مجھے بتلاؤ۔ میں نے بتلایا عربی میں یہ أرأيت أرأيتم یہ کس معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ کہ تم مجھے خبر دو تم مجھے بتلاؤ۔ قل أرأيتم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے أرأيتم کہ تم مجھے بتلاؤ ما تدعون من دون الله وہ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ آروني تم مجھے دکھلاؤ ماذا خلقوا کہ انہوں نے کیا پیدا کیا من الأرض یہ بیان ہے ما کا۔ یہ بیان ہے ما کا۔ انہوں نے کیا پیدا کیا زمین میں سے۔ تو یہ من الأرض کس کا بیان ہے؟ ما کا۔ اور میں نے بتلایا تھا با محاورہ ترجمہ کرنے کے لیے جس کا بیان ہو اسی کی جگہ اس بیان کو لے آئیں بھئی۔ آروني کہ تم مجھے دکھلاؤ ماذا خلقوا من الأرض انہوں نے کون سی زمین پیدا کی ہے؟ انہوں نے کون سی زمین پیدا کی ہے؟ أم لهم شرك في السماوات یا ان کی شرکت ہے آسمانوں میں۔ انہوں نے کون سی زمین پیدا کی ہے أم لهم شرك في السماوات یا ان کی آسمانوں میں کوئی شرکت ہے یعنی یہ آسمان کے بنانے میں اگر وہ اللہ کے ساتھ شریک رہے ہوں تم مجھے دکھلاؤ تو سہی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ قل أرأيتم اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے أرأيتم کہ تم مجھے بتلاؤ ما تدعون من دون الله کہ وہ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ آروني ماذا خلقوا من الأرض مجھے دکھلاؤ انہوں نے کون سی زمین پیدا کی ہے أم لهم شرك في السماوات یا ان کی کوئی شرکت ہے آسمانوں میں یعنی آسمانوں کے بنانے میں۔ إيتوني بكتاب من قبل هذا إيتوني امر ہے۔ إيتوني تم لے کر آؤ میرے پاس بكتاب کوئی کتاب من قبل هذا اس سے پہلے کی۔ تم میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے کر آؤ۔ أو أثارة من علم أثارة نشان علامت۔ بقية۔ أثارة کے معنی علامت اور نشانی کے بھی اور أثارة کے معنی بقية جو باقی رہ گیا ہو۔۔ أو أثارة من علم یا کوئی بقية علم میں سے۔ یہ یوں کہیں أو أثارة من علم یا کوئی نشانی من علم کس میں سے؟ علم میں سے۔ کوئی نشانی علم میں سے۔ إيتوني بكتاب من قبل هذا تم لے کر آؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی أو أثارة من علم یا علم میں سے یا علم کی میں سے کوئی نشانی لے کر آؤ۔ یہ ایک معنی بھئی۔ اور بقیہ کے ساتھ اگر ترجمہ کریں علم میں سے جو باقی ہو بھئی۔ جو پہلوں سے باقی چلا آیا ہو۔ یعنی کوئی روایت کیا کہیں معنی با محاورہ کیا ترجمہ کر لیں؟ کوئی روایت بھئی۔ أو أثارة من علم یا علم کی کوئی روایت میرے پاس لے کر آؤ إن كنتم صادقين اگر تم سچے ہو۔ بھئی دلائل دو ہی قسم کے ہیں بھئی یاد رکھیے۔ کچھ دلائل نقلیہ ہیں کچھ دلائل عقلیہ ہیں۔ دلائل نقلیہ جن کی بنیاد نقل پر ہے بھئی۔ یعنی اللہ اور اللہ کے پیغمبر کی طرف سے کوئی بات آئی ہے قرآن یا حدیث میں یہ دلائل نقلیہ ہیں بھئی کہ اللہ نے یوں فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا۔ تو یہ دیکھو نقل کے ذریعے ہم تک پہنچی ایک ایک اہ طبقے سے دوسرے طبقے کی طرف نقل ہوتے ہوتے ہم تک یہ احادیث اور قرآن پہنچا بھئی۔ تو ان کو کیا کہتے ہیں دلائل نقلیہ بھئی۔ نقل کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ اور ایک قسم ہے دلائل عقلیہ بھئی۔ دلائل عقلیہ بھئی جن کی بنیاد عقل پر ہو عقل پر بھئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ فرما رہے ہیں کہ آپ کہہ دیجیے ان سے کہ تم جو اللہ کو چھوڑ کر اور چیزوں کی عبادت کرتے ہو تم مجھے بتلاؤ انہوں نے کون سی زمین پیدا کی ہے یا آسمانوں کے اندر ان کا کوئی ساجھا ہے کوئی شرکت ہے۔ اگر ہے تو میرے پاس کوئی پہلے کی کتاب لے کر آؤ جس میں یہ ذکر کیا گیا ہو کہ یہ زمین اور آسمان کے بنانے میں اللہ کے ساتھ شریک تھے کوئی کتاب ہو نقلی دلیل کوئی لے کر آؤ اگر تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے کسی کہیں اللہ نے فرمایا ہو یا کسی اللہ کے پیغمبر نے یہ کہا ہو تو کوئی نقلی دلیل ہے تو وہ لے آؤ أو أثارة من علم یا کوئی علمی روایت ہو تو وہ لے آؤ یعنی اگر کوئی عقلی دلیل ہے کوئی مسلّم عقلی بات ہے تمہارے پاس مضبوط عقلی بات ہے تو اسے لے کر آؤ پیش کرو کیا دلیل ہے تمہارے پاس کس دلیل کی بنیاد پر تم ان چیزوں کی عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ قل أرأيتم ما تدعون من دون الله اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ تم مجھے دکھلاؤ جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر مجھے دکھاؤ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کیا انہوں نے کون سی زمین پیدا کی ہے یا ان کی کوئی شرکت ہے آسمانوں میں تم لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی أو أثارة من علم یا کوئی علمی روایت إن كنتم صادقين اگر تم سچے ہو۔ ومن أضل ممن يدعو من دون الله ومن أضل اور کون زیادہ گمراہ ہوگا ممن اس شخص کے مقابلے میں يدعو من دون الله جو پکارتا ہے اللہ کے علاوہ کو من لا يستجيب له اللہ کے علاوہ وہ جو پکارتا ہے من دون الله اللہ کے علاوہ من لا يستجيب له اس کو جو اس کو جواب نہیں دے سکتا إلى يوم القيامة قیامت کے دن تک۔ تم مجھے بتلاؤ ومن أضل اور کون زیادہ گمراہ ہوگا اس شخص کے مقابلے میں جو اللہ کو چھوڑ کر اس کو پکارتا ہے جو اسے جواب نہیں دے سکتا قیامت کے دن تک۔ وهم عن دعائهم غافلون اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔ جن کو یہ پکارتے ہیں اللہ کو چھوڑ کر وہ ان کی پکار سے غافل ہیں ان کو پتہ ہی نہیں علم ہی نہیں ہے کہ ہم کو پکارا جا رہا ہے بھئی۔ وہ بے جان بت ہیں۔ اور تو اس میں من دون اللہ کے اندر بے جان بت بھی آ گئے۔ اور اور جن کو بھی اللہ کے علاوہ پکارا جاتا ہے حضرت عیسی علیہ السلام بھی آ گئے حضرت عزیر علیہ السلام بھی آ گئے فرشتے بھی آ گئے۔ تو یہ جو بت وغیرہ ہیں ان کو تو تمہارے پکار کی خبر ہی نہیں کیونکہ بے جان ہیں ظاہر سی بات ہے۔ اور حضرت عیسی علیہ السلام حضرت عزیر علیہ السلام اور فرشتے جن کو تم پکارتے ہو وہ بھی وہ تمہارے پاس موجود نہیں ہیں۔ اگر تم پکارتے ہو اگرچہ وہ زندہ ہیں وہ پکار سن سکتے ہیں لیکن جب یہ پکار رہے ہیں ان کے پاس موجود ہیں؟ اس وقت ان کے پاس موجود نہیں بھئی۔ تو من لا يستجيب له جو ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے یعنی ان کی پکار کو قبول نہیں کر سکتے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ومن أضل ممن يدعو من دون الله من لا يستجيب له إلى يوم القيامة اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو ان کی جو ان کی پکار کو قبول نہیں کر سکتے قیامت کے دن تک وهم عن دعائهم غافلون اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔ وإذا حشر الناس كانوا لهم أعداء اور جس وقت جمع کیا جائے گا لوگوں کو حشر الناس جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا كانوا لهم أعداء تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔ جن کو یہ پکارتے ہیں جن بتوں کو تو وہ ان کے دشمن ہوں گے بھئی۔ جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا۔ وكانوا بعبادتهم كافرين اور وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔ وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔ وإذا حشر الناس كانوا لهم أعداء وكانوا بعبادتهم كافرين اور جس وقت لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو وہ جن کی عبادت کرتے ہیں وہ ان کے دشمن ہوں گے یعنی معبودین جو ان کے ہیں وہ ان عابدین کے دشمن ہوں گے۔ وكانوا بعبادتهم كافرين اور وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔ وإذا تتلى عليهم آياتنا بينات اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری واضح آیتیں قال الذين كفروا تو کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا للحق حق کے بارے میں۔ وہ لوگ کہتے ہیں حق کے بارے میں۔ حق سے مراد یہاں قرآن ہے بھئی۔ اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری کھلی کھلی آیتیں تو کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا قرآن کے بارے میں لما جاءہم جب وہ ان کے پاس آگیا جب قرآن ان کے پاس آگیا تو وہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ هذا سحر مبين یہ تو کھلا جادو ہے۔ یہ تو کھلا جادو ہے۔ قرآن کی تاثیر کا تو وہ بھی مشاہدہ کرتے تھے بھئی۔ کوئی شخص آ جاتا پیغمبر کی زبان سے ایک دفعہ قرآن سنتا تھا دل کی کایا پلٹ جاتی تھی بھئی۔ ماں باپ، بہن بھئی، رشتہ دار، قبیلے، زمینیں، جائیدادیں سب کچھ چھوڑ کر پیغمبر کے ساتھ ہو جاتا تھا۔ تو وہ بھی حیران ہوتے تھے اس کی تاثیر پر اور تھے چونکہ ضدی اور ضدی اور سرکش تو کیا کہتے تھے یہ؟ یہ جادو ہے یہ سارا کھلا جادو ہے۔ وإذا تتلى عليهم آياتنا بينات اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر آياتنا بينات یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی یہ بینات کیا ہے؟ یہ حال واقع ہو رہا ہے صفت نہیں آیات کی یہ حال ہے۔ ہماری آیتیں جب ان پر تلاوت کی جاتی ہیں اس حال میں بينات کہ وہ واضح ہیں۔ وإذا تتلى عليهم آياتنا بينات اور جب ان پر ہماری کھلی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں قال الذين كفروا للحق لما جاءهم تو کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا قرآن کے بارے میں جب وہ ان کے پاس آگیا هذا سحر مبين یہ کھلا جادو ہے۔ أم يقولون افترا کیا وہ کہتے ہیں افتراہ کہ اس پیغمبر نے اس قرآن کو گھڑ لیا ہے اپنی طرف سے بنا لیا ہے۔ افترا کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ گھڑ لینا، بنا لینا۔۔ أم يقولون کیا وہ یہ کہتے ہیں افتراه کہ اس پیغمبر نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ افترا کے اندر ہ ضمیر جو پیغمبر کو راجع ہے اور ہ ضمیر جو آخر میں ساتھ ہے یہ حق کو راجع ہے (یعنی قرآن مراد ہے) کہ اس اس پیغمبر نے گھڑ لیا ہے اس قرآن کو۔ قل إن افتريته فلا تملكون لي من الله شيئا اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے إن افتريته کہ اگر میں نے اس قرآن کو خود گھڑ لیا ہو فلا تملكون لي پس تم مالک نہیں ہو میرے لیے من الله اللہ کے مقابلے میں شيئا کسی بھی چیز کے۔ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اس قرآن کو اپنی طرف سے گھڑا ہو تو تم مالک نہیں ہو میرے لیے اللہ کے مقابلے میں کسی بھی چیز کے۔ یعنی تم تم مجھے تم میرے لیے مالک نہیں یعنی تم مجھے بچا نہیں سکتے بھئی۔ کسی چیز کے مالک نہیں ہو یعنی تم مجھے بچا نہیں سکتے من الله اللہ سے یعنی اللہ کے عذاب سے، اللہ کی پکڑ سے۔ اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اس قرآن کو اپنی طرف سے گھڑ لیا ہو تو تم اللہ کے مقابلے میں میرے کچھ کام نہیں آ سکتے میرے کچھ میری مجھے تم کچھ بھی نہیں بچا سکتے اگر میں نے ایسا کیا ہو۔ تو اللہ کی گرفت سے پھر کوئی مجھے نہیں بچا سکتا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ جی معنی واضح ہو گیا قل إن افتريته فلا تملكون لي من الله آہی شیء آپ اس، آپ کہہ دیجیے انی فرطہو، اگر میں اس کو اپنی طرف سے گھڑا ہو فلاتملکون لی، پس تم میرے لیے مالک نہیں ہو، یعنی مجھے بچانے کے مالک نہیں ہو، میری بچا نہیں سکتے من اللہ، اللہ کے مقابلے میں شیء کچھ بھی۔ وہ اعلم بما تفیضون فی، وہ خوب جاننے والا ہے بما اس چیز کو، ان باتوں کو۔ ماں سے کیا مراد ہے؟ باتیں، خوب جاننے والا ہے بما ان باتوں کو تفیضون، جن میں تم مشغول ہو۔ افاض فی الحدیث کا معنی ہوتا ہے باتوں میں مشغول ہونا۔ افاض فی الحدیث کا کیا معنی ہے؟ باتوں میں مشغول ہونا۔ وہ اعلم بما تفیضون فیہ، وہ خوب جاننے والا ہے ان باتوں کو جن میں تم مشغول ہوتے ہو بھئی، فیہ کی ہا ضمیر ما کو راجع ہے۔ وہ خوب جاننے والا ہے ان باتوں میں جن میں تم مشغول ہوتے ہو، یعنی جو باتیں تم اس قرآن کے بارے میں تم کرتے ہو وہ اللہ ان باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ کفبی شہیدا بینی و بینکم، کفبی، کئی مرتبہ یہ ترکیب بیان ہو چکی کہ یہ با جارہ ہے، زائدہ۔ اور یاد رکھیے بھئی، قرآن میں جو لفظ زائد آئے، اس کے لیے صلہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں کہ یہ با صلہ ہے۔ جب کہہ دیا جائے یہ با صلہ ہے، یہ لفظ صلہ ہے، قرآن کے اندر تفسیر میں، تو آپ کیا سمجھ جائیں فورا؟ کہ یہ زائد ہے۔ تو زائد کے لفظ میں چونکہ کچھ بھی ادبی کا شبہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی بجائے کیا لفظ استعمال کیا جاتا ہے؟ صلہ، کیونکہ زائد سے تو وہم پڑھتا ہے، شاید بالکل ہی بیکار ہے، زائد ہے۔ حالانکہ قرآن میں کوئی چیز زائ، اس معنی میں زائد نہیں بھئی۔ اس با کی وجہ سے عبارت میں تاکید بھی آ رہی ہے اور بے انتہا حسن بھی پیدا ہو رہا ہے بلاغت کے اعتبار سے۔ کفبی، تو یہ ہا ضمیر مجرور ہے محلا، محل قریب اس کا ہے، یہ مجرور ہے اور محل بعید اس کا کہ یہ فاعل ہے کف کے لیے۔ کیا ہے؟ فاعل ہے کیونکہ یہ با تو صلہ ہوئی نا، تو ہا ضمیر کیا ہے؟ یہ فاعل ہے کف کے لیے۔ کف اور ہا ضمیر راجع ہے اللہ کو بھئی۔ کفبی، وہ اللہ کافی ہے، شہیدا، بہ اعتبار گواہ کے، بینی و بینکم، میرے اور تمہارے درمیان۔ وہ اعلم بما تفیضون فیہ کفبی شہیدا بینی و بینکم، وہ خوب جاننے والا ہے ان باتوں کو جن میں تم لگے ہوئے ہو، کفبی شہیدا بینی و بینکم وہ کافی ہے بہ اعتبار گواہ کے، میرے اور تمہارے درمیان۔ وھو الغفور الرحیم، اور وہ بخشنے والا ہے، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ قل ما كنت بدعا من الرسل، قل اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے، ما كنت بدعا، نہیں ہوں میں کوئی نیا من الرسل، رسولوں میں سے۔ بدعت کس کو کہتے ہیں بھئی بدعت؟ دین میں کوئی نئی چیز لانا، یہ نئی چیز جو ہے دین میں، یہ بدعت کہلاتی ہے۔ تو بدعت، نئے کے معنی میں، اس کا معنی ہوتا ہے نیا، اور اسی طرح اس کا معنی ہوتا ہے انوکھا۔ نیا بھی اس کا معنی ہے اور انوکھا۔ چنانچہ بعض نے اس کا ترجمہ نئے کے ساتھ کیا، بعضوں نے انوکھے کے ساتھ۔ اور ما نافیہ ہے بھئی، ما قل ما، یہ ما نفی کے لیے۔ قل اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے، ما كنت بدعا من الرسل، میں کوئی نیا پیغمبر تو نہیں ہوں، وما ادری، اور میں نہیں جانتا، ما یفعل بی، کہ میرے ساتھ کیا جائے گا، ولا بکم، اور نہ تمہارے ساتھ، کہ تمہارے ساتھ کیا کیے۔ نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا جائے گا اور نہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔ تو اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے، میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں، مجھ سے پہلے بہت رسول گزرے، بلکہ میں تو خاتم الرسل ہوں، خاتم النبیین ہوں۔ تو مجھ سے پہلے بہت سے رسول گزرے ہیں، جو اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے ہیں، تو ہاں! اگر میں نیا ہوتا تو پھر تم انکار کرتے کوئی بات تھی، مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں اور تم ان کے احوال پڑھ چکے ہو، سن چکے ہو، جانتے ہو، پھر کیوں میری بات تم نہیں مانتے؟ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ قل ما كنت بدعا من الرسل، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے، میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں، وما ادری ما یفعل بی، اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا جائے گا، ولا بکم، اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔ یعنی میں نہیں جانتا میرے ساتھ دنیا میں کیا کیا جائے گا، کیا معاملات ہوں گے، تم جو میرے خلاف سازشیں کر رہے ہو، کہ تم ان میں کامیاب ہوگے یا کامیاب نہیں ہوتے، میں نہیں جانتا۔ دنیا کے اعتبار سے اور آخرت کے اعتبار سے ہو تو معنی یہ ہے کہ میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا ہوگا، یعنی پوری تفصیلات کا علم نہیں۔ میرے اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا، کچھ تفصیلات تم، کچھ تو بیان فرما دیا، اللہ نے مجھے بتلا دیا ہے، لیکن پوری تفصیلات کو میں نہیں جانتا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ قل ما كنت بدعا من الرسل، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے، میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں، وما ادری ما یفعل بی، اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا جائے گا، ولا بکم، اور نہ وہ، نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔ بھئی قرآن میں جگہ جگہ صراحتاً، صراحتاً، دیکھیے، واضح لفظوں میں بتلایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، یعنی دنیا میں، دنیا میں علم نہیں میرے ساتھ کیا ہو گا، تم سازشیں کر رہے ہو کامیاب ہوتے ہو، کیا احوال پیش آنے والے ہیں۔ اور اگر آخرت کے اعتبار سے ہو تو مراد ہے پوری تفصیلات کا مجھے علم نہیں۔ اگرچہ یہ میری نجات تو یقینی ہے، یہ بات تو علم ہے اور کفار کا جہنم میں جانا یقینی ہے، لیکن پوری تفصیلات کا نہیں علم کیا کیا معاملات آخرت میں پیش آئیں گے۔ تو یہاں دیکھیے کتنے واضح لفظوں میں حکم دیا گیا پیغمبر کو کہ آپ کہہ دیجیے میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ تو مراد یا تو دنیا کے احوال کہ میرے ساتھ دنیا میں آگے کیا حالات پیش آنے والے ہیں، مجھے اس کا علم نہیں۔ یا آخرت مراد ہے، تو معنی پھر یہ ہوگا کہ تفصیلی حالات علم نہیں۔ آخرت میں یہ تو آپ کو بتلا دیا گیا کہ آپ کی اللہ مغفرت فرمائیں گے وغیرہ کچھ احوال تو بیان کر دیے گئے، لیکن پھر بھی مکمل تفصیلی احوال کا علم نہیں مجھے۔ یہ معنی ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ مجھے مکمل تفصیلی حالات کا علم نہیں۔ کتنے واضح لفظوں میں پیغمبر کو حکم دیا جا رہا ہے، پیغمبر فرما رہے ہیں، وما ادری ما یفعل بی ولا بکم۔ اس کے باوجود بعض لوگوں کا پیغمبر کو عالم الغیب کہنا بھئی، عالم الغیب کہنا سمجھ سے بالا تر ہے۔ خود پیغمبر کیا فرما رہے ہیں، وما ادری ما یفعل بی، میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، مجھے کچھ خبر نہیں، مجھے کچھ علم نہیں۔ یہ الگ بات ہے بھئی کہ پیغمبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام مخلوقات سے زیادہ علم دیا گیا تھا، تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ علم آپ کو دیا گیا۔ لیکن بات ہو رہی ہے عالم الغیب کی بھئی، عالم الغیب کی۔ جو سب کچھ جانتا ہو اور اس کا علم اپنا ذاتی ہو بھئی، عالم الغیب۔ تو قرآن میں، احادیث میں، واضح طور پر جگہ جگہ اس قسم کی باتیں، اس قسم کے واقعات ملتے ہیں جو صراحتاً پیغمبر کے عالم الغیب ہونے کی نفی کرتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عالم الغیب، یہ واقعات عالم الغیب ہونے کی نفی کرتے ہیں، تو اب جو عالم الغیب ہونے کے قائل ہیں، وہ ہر جگہ سے تاویلیں کرتے ہیں، ہر جگہ۔ بھئی ایک سیدھی سی بات ہے، اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے جو جگہ جگہ بیان ہو رہی ہے، سیدھی سی بات بجائے اس کے کہ ہر جگہ کیا کیا جائے، اس میں تاویل کی جائے بھئی، تاویل کی جائے۔ دعا کرو ان کو بھی اللہ تعالی صحیح سمجھ نصیب فرمائے اور ان کے دل میں ہماری یہ باتیں ڈال دیں اللہ بھئی۔ جگہ جگہ آ رہا ہے قرآن میں، احادیث میں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں۔ ہاں! علم ان کا سب سے زیادہ، لیکن بہرحال عالم الغیب نہیں۔ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے بھئی، صرف اللہ کی ذات۔ تو دعا کرو اللہ ان کو بھی راہ حق کی صحیح سمجھ دے دیں اور سیدھے راستے پر آنے کی توفیق دیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بہت سی آیات اس طرح کی ہیں، بلکہ احادیث کے اندر ہی بہت سے ایسے واقعات مل جاتے ہیں، بہت سے واقعات ہیں جن سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے، ایک عام انسان بھی اس کو سنے تو اس کو بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں ہے، لیکن پھر بھی اسی پر بعض لوگ ڈٹے ہوئے ہیں، اسی پہ اصرار ہے کہ پیغمبر عالم الغیب ہیں، پیغمبر عالم الغیب ہیں۔ ہاں! یہ بات اپنی جگہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم تمام مخلوقات سے زیادہ تھا، اللہ نے سب سے زیادہ علم آپ کو نصیب کیا تھا، لیکن بات زیادہ یا کم علم کی نہیں ہو رہی، بات ہو رہی ہے اس وقت عالم الغیب کی بھئی، کس کی؟ عالم الغیب کی، تو قرآن کی دیکھیے صریح نصوص کے خلاف ہے یہ بھئی، قرآن، احادیث اور قرآن کے۔ تو جو اس راستے پر چل رہے ہیں، بھئی ہاں وہ ہیں، وہ بھی ہمارے مسلمان بھئی ہیں بھئی، دعا کرو اللہ ان کو کامل ہدایت دے دے بھئی، سمجھ میں آیا، کامل ہدایت دے دے۔ وہ ذرا غور سے کام لیں، ذرا غور سے کام لیں، تو یہ حقیقت ان پر روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں۔ عالم الغیب صرف اللہ تعالی کی ذات ہے بھئی، ہاں وہ الگ بات کہ پیغمبر کا علم سب سے زیادہ مخلوقات کے اندر بھئی، مخلوقات کے اندر۔ لیکن بات صرف یہ علم کے زیادہ ہونے کی نہیں ہے، بات ہے، وہ کہتے ہیں عالم الغیب ہیں بھئی، عالم الغیب۔ ان اتبع الا ما یوحی الی، میں پیروی نہیں کرتا مگر اس کی جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے، وما انا الا نذیر مبین، اور نہیں ہوں میں مگر واضح ڈرانے والا، واضح خبردار کرنے والا۔ قل ارایتُم ان کان من عنداللہ وکفرتم بہ، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے کہ تم مجھے بتلاؤ اگر یہ قرآن من عنداللہ اللہ کی طرف سے ہو وکفرتم بہ، اور تم اس کا انکار کرو۔ اے پیغمبر! ان سے کہہ دیجیے کہ تم مجھے بتلاؤ تو سہی، تم تو اس قرآن کو نہیں مانتے، لیکن اگر یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہو اور پھر تم اس کا انکار کرو تو، تو پھر یقیناً تم ظلم کرنے والوں میں سے ہو۔ قل ارایتُم ان کان من عنداللہ وکفرتم بہ، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے کہ تم مجھے بتلاؤ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو وکفرتم بہ، اور تم اس کا انکار کرو۔ ارایتُم کا مفعول محذوف، تم مجھے بتلاؤ، تم مجھے بتلاؤ، ما ذا حالکم، تمہارا کیا حال ہوگا؟ اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے کہ تم مجھے بتلاؤ تمہارا کیا حال ہوگا ان کان من عنداللہ وکفرتم بہ، اگر تم اس کا، اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار کرو۔ وشہد شاہد من بنی اسرائیل علی مثلہ، اور گواہی دی ایک گواہ نے من بنی اسرائیل، بنی اسرائیل میں سے علی مثلہ، اس جیسی کتاب پر۔ وشہد شاہد من بنی اسرائیل علی مثلہ، اور گواہی دی ایک گواہ نے بنی اسرائیل میں سے علی مثلہ، اس جیسی کتاب پر، اس جیسی کتاب کی۔ شاہد سے مراد حضرت موسی علیہ السلام ہیں۔ اے پیغمبر! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ، ایک گواہ ہزاروں سال پیشتر اس جیسی کتاب کی گواہی دے چکا ہے، یہ کتاب کس کی طرف سے ہے؟ اللہ کی طرف سے ہے، وہ اس سے پہلے تورات لا چکے ہیں، اللہ کی طرف سے کتاب۔ وشہد شاہد من بنی اسرائیل علی مثلہ، اور گواہی دی ایک گواہ نے بنی اسرائیل میں سے اس جیسی کتاب پر، فامن، پس وہ ایمان لایا، واستكبرتم، اور تم نے تکبر کیا۔ تو شاہد سے کون مراد ہیں بھئی؟ موسی علیہ السلام۔ یا شاہد سے مراد حضرت عبداللہ ابن سلام رضی اللہ تعالی عنہ ہیں بھئی۔ حضرت عبداللہ ابن سلام، یہ بہت بڑے یہودی عالم تھے، اور پھر یہ اسلام لے آئے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کو دیکھا، تو دیکھتے ہی پکار اٹھے، یہ چہرہ کسی جھوٹے انسان کا نہیں ہو سکتا، اور ایمان لے آئے بھئی، بڑے جلیل القدر صحابی ہیں بھئی، عبداللہ ابن سلام بھئی۔ تو یہ شاہد سے مراد عبداللہ ابن سلام ہیں۔ عبداللہ ابن سلام ہیں بھئی۔ اور یہ آیت ہے، یہ سورت ہے مکی بھئی، مکہ میں نازل ہوئی۔ اور حضور علیہ السلام نے ابھی مدینہ منورہ ہجرت نہیں کی، عبداللہ ابن سلام تو وہاں مدینہ منورہ میں رہتے تھے۔ تو یہ پہلے ہی سے ایک پیشین گوئی کر دی گئی بھئی۔ قرآن کیا کر رہا ہے؟ پیشین گوئی کر رہا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ جو ایک گواہ اس کتاب پر گواہی دے گا، وہ ایمان لے آئے گا اور تم تکبر کر رہے ہو۔ معنی سمجھ میں اگیا بھئی؟ تو اس صورت میں پھر یہ پیشین گوئی ہوگی بھئی۔ اور جب شاہد سے مراد حضرت عبداللہ ابن سلام ہوں تو علی مثلہ، علی مثلہ میں مثل صلہ ہوگا۔ مثل کیا ہوگا؟ صلہ۔ کیا معنی؟ زائد ہوگا۔ علی مثلہ، مثل کو ذرا ختم کریں یہاں سے۔ علیہ، وہ ایمان کس پر لائیں گے، اس جیسی کتاب پر یا اس کتاب پر لائیں گے؟ اس کتاب، یعنی قرآن پر گواہی دیں گے، ایمان لائیں گے۔ یہ اس صورت میں جبکہ شاہد سے عبداللہ ابن سلام رضی اللہ تعالی عنہ مراد ہوں، اور اگر حضرت موسی علیہ السلام ہیں، تو پھر مثل اپنے معنی میں ہی ہے، اس جیسی کتاب، قرآن جیسی کتاب مراد تورات ہے بھئی۔ ان اللہ لا یہدی القوم الظالمین، بے شک اللہ ہدایت نہیں دیتے ظلم کرنے والے قوم کو۔ وقال الذین کفروا للذین امنوا، اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا للذین امنوا، ان لوگوں سے جو ایمان لائے۔ بھئی دیکھیے، قال کا صلہ لام آتا ہے۔ قلت لزید، کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے زید سے کہا۔ قلت لزید، میں نے زید سے کہا۔ قلت لزید کا معنی یہ ہے کہ زید آپ کا مخاطب ہے، آپ کے سامنے ہے، آپ اس سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں، قلت، میں نے زید سے کہا، آگے پھر بات آئے گی کہ کیا کہا آپ نے بھئی۔ تو لام کس پر داخل ہوتا ہے؟ مخاطب پر، جس کے ساتھ بات کی جائے بھئی۔ لیکن کبھی کبھار یہ لام عن کے معنی میں ہوتا ہے۔ لام کس معنی میں ہوتا ہے؟ عن کے معنی میں، اور یہاں پر بھی للذین پر جو لام داخل ہے، قال کے ساتھ جو آیا، یہ عن کے معنی میں ہے۔ تو یہ ترجمہ کرنا کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کُفر کیا تھا للّذین آمنُو ایمان والوں سے کُفر کرنے والوں نے ایمان والوں سے کہا یہ ترجمہ نہیں بلکہ کُفر کرنے والوں نے ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا۔ فرک سمجھ میں آیا بھئی! عن کے معنی میں ہو لام تو پھر جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے مخاطب کی بات پھر وہ مخاطب نہیں ہے کوئی تیسرا شخص جس کے بارے میں قل تو لی زید اگر لام اپنے معنی میں ہو تو میں نے زید سے کہا اور قل تو لی زید اگر لام کس معنی میں ہو عن کے بارے میں تو اب کیا ترجمہ ہوگا میں نے زید کے بارے میں کہا یعنی بات کسی اور سے کر رہے ہیں زید کے بارے میں آپ بات کر رہے ہیں بھئی یہاں بھی لام کس معنی میں ہے عن کے معنی میں۔ وقال الّذین کفُروا للّذین آمنُو اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کُفر کیا للّذین آمنُو ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے تھے لو کان خیراً اگر یہ قرآن بہتر ہوتا ما سبقُونا تو یہ سبقت نہ کرتے ہم پر الیہ اس قرآن کی طرف۔ وہ کیا انہوں نے کہا بھئی متکبرین تھے مشرکینِ مکہ اور تو کہنے لگے کہ قرآن میں کوئی خیر نہیں ہے اگر اس میں خیر ہوتی بھلائی ہوتی تو ہم اس کی طرف پہلے جاتے ہم یہ جو کمزور اور غربا ہیں فقراء یہ اس کی طرف سبقت کر گئے ہم سے پہلے۔ معلوم ہوا اس میں خیر نہیں ہے اگر خیر ہوتی تو عقل تو ہماری ہے سمجھ تو ہم رکھتے ہیں یہ لوگ تو غریب غربا ہیں تو ہم عقل تو ہماری ہے ہم تو اگر اس میں خیر ہوتی تو ہم ان سے پہلے اس سے سبقت کر چکے ہوتے پہلے اس کو حاصل کر چکے ہوتے۔ وقال الّذین کفُروا للّذین آمنُو اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کُفر کیا ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے تھے لو کان خیراً ما سبقُونا الیہ کہ اگر اس قرآن کے اندر کوئی بہتری ہوتی تو وہ سبقت نہ کرتے ہم پر الیٰ اس قرآن کی طرف وِاذ لم یہتدُو بہ اور جب ان کو ہدایت نہیں ہوئی بہ اس قرآن سے۔ اللہ آگے فرما رہے ہیں بھئی وِاذ لم یہتدُو بہ اور جب ان لوگوں کو قرآن سے ہدایت نہ ہوئی فسیقُولون তো یہ تو یہ کہیں گے ہٰذَا اِفْک قَدِیم کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ فقراء غربا تو ایمان لے آئے ان کو تو قرآن سے ہدایت نصیب نہیں ہوئی تو یہ کیا کہیں گے اب کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے پرانے زمانے کا جھوٹ ہے۔ وِاذ لم یہتدُو بہ فسیقُولون ہٰذَا اِفْک قَدِیم اور جب ان کو ہدایت نہ ہوئی اس قرآن سے تو پس یہ کہیں گے ہٰذَا اِفْک قَدِیم کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔ ومِن قبلِہ کتابُ مُوسیٰ اماماً ورَحمةً اور اس سے پہلے اس قرآن سے پہلے کتابُ مُوسیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب اماماً ورَحمةً رہنما تھی اور رحمت تھی امام رہنمائی کرنے والا۔ اس کتاب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب رہنمائی کرنے والی تھی اور رحمت تھی وہٰذَا کتابٌ مُّصَدِّقٌ لساناً عربیاً اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے اس حال میں کہ عربی زبان میں ہے۔ اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے یعنی اس کتاب کی موسیٰ علیہ السلام کی اس کی تصدیق کرنے والی ہے کہ وہ بھی اللہ کی کتاب تھی۔ تو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی کتاب رہنمائی کرنے والی تھی اور رحمت تھی اللہ کی طرف سے اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے اس حال میں کہ عربی زبان میں ہے لینذر الّذین ظلمُو تاکہ خبردار کرے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا وبُشریٰ للمُحسنین اور یہ خوشخبری ہے نیکی کرنے والوں کے لیے۔ وہٰذَا کتابٌ مُّصَدِّقٌ لساناً عربیاً لِّیُنذِر الّذین ظلمُو اور یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان میں ہے تاکہ ڈرائے ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا وبُشریٰ للمُحسنین اور یہ بشارت ہے نیکی کرنے والوں کے لیے۔ إنّ الّذین قالُو ربُّنَا اللہُ بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے ثمّ استقامُو پھر وہ ثابت قدم رہے۔ ثمّ استقامُو پھر وہ ثابت قدم رہے یعنی اسی پر جَمے رہے۔ فلا خوفٌ علیہم ولا ہُم یحزنُون تو نہ تو ان پر کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ أولٰئک أصحابُ الجنّةِ خالدین فیہا یہ جنت والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ جزاءً بمَا کانُو یعملُون بطور بدلے کے جو وہ عمل کیا کرتے تھے۔ ووَصّیْنا الإنسانَ بوالدیْہ احساناً اور ہم نے حکم دیا ہے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا۔ ووَصّیْنا الإنسانَ بوالدیْہ احساناً اور ہم نے حکم دیا ہے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا۔ حملتْہ أمُّہ كرهاً وووضعْدتْہ كرهاً۔ کرھاً بھئی کرھاً کہتے ہیں مشقت کو تکلیف کو۔ حملتْہ أمُّہ کرھاً اٹھایا اس کو اس کی ماں نے کرھاً مشقت سے ووضعْدتْہ کرھاً اور جنم دیا اس کو مشقت سے۔ حملتْہ أمُّہ اس کی ماں نے ہم نے انسان کو حکم دیا ہے اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حملتْہ أمُّہ کرھاً اس کی ماں نے اس کو اٹھایا مشقت سے یعنی وہ جو حمل کی صورت میں مشقت تھی بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی! حمل کی صورت میں مشقت تھی بچہ جب دو چار ماہ کا ہو جائے تو وہ اس کا بوجھ بن جاتا ہے بھئی وزن بن جاتا ہے اور ماں نے اس کو مشقت سے اور خوب احتیاط سے۔ کئی ماہ تک تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اتنا بوجھ اٹھائے رکھا بھئی۔ وووضعْدتْہ کرھاً اور پھر اس کو جنم بھی دیا بے انتہا مشقت کے ساتھ۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی! ووَصّیْنا الإنسانَ بوالدیْہ احساناً اور ہم نے حکم دیا انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حملتْہ أمُّہ کرھاً ووضعْتْہ کرھاً اٹھایا اس کو اس کی ماں نے مشقت سے ووضعْدتْہ کرھاً اور جنم دیا اس کو مشقت سے۔ کرھاً یہ منصوب بنزع الخافض ہے۔ منصوب بنزع الخافض۔ اصل میں تھے اصل میں تھا علی کرھٍ حملتْہ أمُّہ علی کرھٍ ووضعْتْہ علی کرھٍ۔ تو کرھٍ مجرور تھا علی جارہ کی وجہ سے۔ اور جر دینے والا جو ہے جر کو کسرہ کو خفض بھی کہتے ہیں بھئی۔ تو جا جارہ یعنی خفض جر دینے والا۔ علا کیا ہوا؟ خفض ہوا جر دینے والا ہوا کسرہ دینے والا ہوا۔ پھر اس کسرہ دینے والے کو دور کر دیا گیا۔ اس کو کہتے ہیں نزع الخافض۔ جر دینے والے کو دور کر دینا کھینچ لینا اس کو ختم کر دینا۔ تو جب خفض نہ رہا تو پھر یہ کیا ہو گیا منصوب ہو گیا۔ تو اس کو کہتے ہیں منصوب بنزع الخافض یہ اصطلاح کتابوں میں جگہ جگہ آئے گی تفاسیر میں بھی ملے گی اس کو ہمیشہ یاد رکھیں منصوب بنزع الخافض۔ تو یہ کرھاً منصوب بنزع الخافض ہے بھئی یہ ایک ترکیب بھئی۔ سمجھ میں آیا جگہ جگہ اکثر بہت سی طرح کی بعض علماء اور ترکیب بیان کرتے ہیں بعض اور بھئی۔ یہ بعضوں نے اس کو حال بنایا بھئی حال بنایا اور مضاف محذف ہے ای ذات کرھٍ حملتْہ أمُّہ ذات کرھٍ۔ اٹھایا اس کو اس کی ماں نے اس حال میں کہ وہ مشقت والی تھی تکلیف اٹھانے والی تھی مشقت اٹھانے والی تھی۔ بخّ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کا جو احسان ہے اور ماں کا جو حق ہے اولاد پر وہ باپ سے کئی گنا زیادہ بھئی۔ کئی گنا زیادہ۔ تو جیسے حدیث میں آتا ہے ایک شخص نے حضور علیہ السلام سے پوچھا کہ یا رسول اللہ مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا کہ تمہاری ماں کا۔ फिर पूछा उसके बाद या रसूल अल्लाह किसका हक है؟ फरमाया तुम्हारी मां का। پھر پوچھا اس کے بعد یا رسول اللہ کس کا حق ہے؟ فرمایا تمہاری ماں کا۔ پھر پوچھا یا رسول اللہ اس کے بعد کس کا حق ہے؟ فرمایا تمہارے والد کا۔ تو دیکھو والد کو چوتھی جگہ پر ذکر کیا گیا چوتھے درجے پر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پہلے تینوں مقامات میں ماں کو ذکر کیا گیا ماں کا حق اتنا زیادہ ہے تو حدیث میں بھی دیکھئے ماں کا ذکر تین دفعہ آیا والد کا ذکر ایک دفعہ آیا۔ آیت میں بھی آپ دیکھیں والد کا ذکر ایک دفعہ ماں کا ذکر تین دفعہ بھئی۔ والدیْہ اس میں دونوں کا ذکر آ گیا والد کا یہی ایک ذکر آیا بس۔ آگے اسی والدیْہ میں والدہ بھی آ گئی یا نہیں آ گئی؟ اور حملتْہ أمُّہ اور پھر ووضعْتْہ بھئی یہاں پر دو دفعہ پھر ماں کا ذکر آیا تو تین دفعہ ماں کا ذکر آ گیا۔ وحملُہ وفصالُہ ثلاثُونَ شہراً اور اس کا حمل اور دودھ دودھ چھڑانا ثلاثُون شہراً تیس مہینے ہوتے ہیں۔ حمل اور دودھ چھڑانے کے دودھ چھڑانا بھئی یہ کتنے ہوتے ہیں؟ کتنی مدت بنتی ہے؟ تیس ماہ کی بھئی تیس ماہ کی۔ وحملُہ وفصالُہ ثلاثُونَ شہراً اور اس کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہیں۔ حمل کی کم سے کم مدت بھئی جس میں زندہ بچہ پیدا ہو سکتا ہے وہ چھ ماہ ہے۔ چھ ماہ میں بھئی زندہ بچے کی پیدائش ممکن ہے اس سے قبل ہو جائے تو زندہ نہیں رہ سکتا بھئی چھ ماہ میں تو چھ ماہ اقل مدت ہے۔ اور تیس میں سے چھ ماہ نکال دیے تو باقی کتنے رہ گئے؟ چوبیس ماہ یعنی دو سال جو ہے وہ دیکھئے مدتِ رضاعت آ گئی بھئی۔ تو عموماً یہ اتنا ہی ہے بھئی یہ حمل اور دودھ کے چھڑانے کی مدت کتنی ہوتی ہے؟ دونوں ملا کر تیس ماہ بنتے ہیں بھئی اس سے زائد نادر ہی ہوتا ہے کم ہی ہوتا ہے اتنے ہی مائیں دودھ پلاتی ہیں اتنے عرصے تک بھئی۔ حتیٰ اذا بلغ أشُدَّہ یہاں تک کہ جب وہ پہنچ گیا اشُدَّہ۔ اشُدّ اشُدّ کا لفظ پہلے بھی گزر چکا بھئی۔ یعنی عقل اور قوت کی پختگی۔ عقل اور قوت کی پختگی یعنی جوانی بھئی۔ حتیٰ اذا بلغ أشُدَّہ یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ گیا وبلغ أربعین سنةً اور چالیس سال کو پہنچ گیا قال تو کہتا ہے ربّ أوزعني اے میرے پروردگار أوزعني آپ مجھے توفیق دیجیے۔ أوزع یوزع أوزع اللہ فلاناً اللہ نے فلاں کو توفیق دی۔ ربّ أوزعني اے میرے پروردگار أوزعني آپ مجھے توفیق دیجیے أن أشکُر نعمتک الّتی أنعمت عليَّ کہ میں شکر ادا کروں آپ کی اس نعمت کا جو آپ نے مجھ پر فرمائی ہے آپ جو آپ نے مجھے عطا فرمائی ہے وعلیٰ والديَّ اور جو یوں ترجمہ کر لیں اے میرے پروردگار آپ مجھے توفیق دیجیے کہ میں شکر ادا کروں آپ کی اس نعمت کا جو آپ نے مجھ پر انعام فرمائی ہے وعلیٰ والديَّ اور جو میرے والدین پر انعام فرمائی ہے وأن أعمل صالحاً اور اس بات کی توفیق دیجیے کہ أن أعمل صالحاً کہ میں نیک عمل کروں ترضاہُ جس سے آپ راضی ہوں کہ میں وہ ایسے نیک عمل کروں جس سے آپ راضی ہوں وأصلح لي اور اے اللہ اصلاح فرما دیجیے لي میرے لیے فی ذُرّیّتی میری اولاد میں ذُرّیّت اولاد کو کہتے ہیں۔ وأصلح لي فی ذُرّیّتی اور اصلاح فرما دیجیے میرے لیے میری اولاد میں۔ إنّی تبتُ إلیک وإنّی من المسلمین بے شک میں توبہ کرتا ہوں آپ کی طرف وإنّی من المسلمین اور بے شک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس آیت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ ہے بھئی انہوں نے یہ دعا کی تھی بھئی۔ کہ اللہ مجھے مجھ پر آپ نے جو انعامات فرمائے ہیں مجھے توفیق دیجیے کہ میں ان انعامات کی اور جو میرے والدین پر فرمائے ہیں ان کا شکر ادا کروں اور مجھے توفیق دیجیے ایسے نیک عمل کی جس سے آپ راضی ہوں اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح فرما دیجیے۔ یہ حضرت ابوبکر صبا تو یہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اشارہ ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف۔ حضرت ابوبکر صدیق بھئی وہ واحد صحابی ہیں جن کی چار نسلیں صحابیت کے شرف سے مشرف ہوئیں بھئی۔ حضرت ابوبکر صدیق بھی صحابی بھئی۔ ان کے والدین بھی صحابی بھئی۔ ان کے بیٹے عبدالرحمن بھی صحابی بھئی۔ بیٹی بھی بیٹے بھی سارے اور ان کی بھی آگے اولاد حضرت عبدالرحمن کی اولاد وہ بھی ان کو بھی اللہ نے صحابیت کا شرف نصیب فرمایا۔ تو یہ واحد صحابی ہیں جن کی چار پشتیں جو ہیں سب کے سب صحابہ ہیں بھئی صحابہ۔ کتنا عظیم انعام ہے اللہ کا بھئی صحابیت کتنا عظیم شرف ہے جس کا انسان تصور نہیں کر سکتا بھئی۔ تمام دنیا کے اولیاء مل جائیں بھئی حضور علیہ السلام کے زمانے کے بعد سے لے کر آج تک جتنے علماء گزرے ہیں جتنے اولیاء گزرے ہیں جن کے جن کے نام سنتے ہیں آپ پڑھتے ہیں سارے مل جائیں ادنیٰ صحابی ادنیٰ صحابی کے درجے کو بھی نہیں پہنچ سکتے بھئی۔ اور صحابی کو جو یہ مقام اللہ نے عطا کیا وہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی اس زیارت کی وجہ سے نصیب فرمایا جو اللہ نے ازل میں اس کے لیے سعادت لکھ رکھی تھی بھئی۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ کہ اللہ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے بھئی صحابہ کی محبت۔ صحابہ کے بارے میں ادنیٰ ادنیٰ ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کی بھی بدگمانی کسی معاملے میں دل میں نہیں آنی چاہیے بھئی۔ أولٰئک الّذین نتقبّل عنہم أحسن ما عملُو ونتیجاوُز عن سیّآتہم فی أصحاب الجنّةِ۔ أولٰئک الّذین یہ وہ لوگ ہیں نتقبّل عنہم کہ ہم قبول کرتے ہیں ان سے أحسن ما عملُو بہترین وہ جو انہوں نے عمل کیے ونتیجاوُز عن سیّآتہم اور ہم درگزر کرتے ہیں ان سے ان کی ان کی برائیوں سے فی أصحاب الجنّةِ یہ جنت والوں میں سے ہیں۔ أولٰئک الّذین نتقبّل عنہم أحسن ما عملُو یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین عمل قبول کرتے ہیں اور درگزر کرتے ہیں ان کی برائیوں سے فی أصحاب الجنّةِ یہ لوگ کس میں سے ہیں؟ جنت والوں میں سے ہیں۔ وعد الصّدق الّذی کانُو یوعدُون سچا وعدہ الّذی کانُو یوعدُون جو ان سے وعدہ کیا گیا۔ سچا وعدہ ہے جو ان سے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا۔ چلیے بس بھئی ہٰذَا ہو المرام واللہ أعلم بحقیقةِ الکلام۔