اعوذ بالله من الشیطن الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم. والذی قال لوالديه أف لكما أتعدانني أن أخرج وقد خلت القرون من قبلي وهما يستغيثان الله ويلك آمن إن وعد الله حق فيقول ما هذا إلا أساطير الأولين. إس سے پہلے ذکر آیا تھا کہ کہ بعض لوگ تو دیکھیے اس طرح ہیں، فرمانبردار ہیں کہ یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو پہنچتے ہیں اور چالیس سال کو پہنچتے ہیں، تو دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کی نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھ پر کی ہیں اور میرے والدین پر کی ہیں، میرے والدین پر کی ہیں۔ اور اب اس کے مقابلے میں اس بیٹے کا ذکر آ رہا ہے جو والدین کو کہ اس کے والدین جو ہیں اسے دینِ حق کی طرف بلاتے ہیں اور وہ ان کے مقابلے میں اپنی ضد اور سرکشی دکھاتا ہے اور ان کے سامنے ناشائستہ کلام کرتا ہے۔ تو یہ مکہ یہ سورت مکی ہے بھئی۔ اور ابتدائے اسلام کے چند گنتی کے لوگ مسلمان ہوئے تھے، کسی کا بیٹا مسلمان ہے تو کسی کے والدین مسلمان ہیں۔ بیٹا مسلمان ہے تو والدین جو ہیں اس کو پھر واپس دینِ دینِ اسلام کو چھوڑ کر پھر گمراہی کی طرف زور لگا رہے ہیں، واپس بلا رہے ہیں۔ اور کہیں پر والدین اسلام لے آئے ہیں اور ان کا بیٹا اسی طرح کفر پر ہے، تو والدین کوشش کر رہے ہیں کسی طرح بیٹے کو بھی راہِ حق پر لے آئیں بھئی۔ تو اللہ فرماتے ہیں: والذی قال لوالديه أف لكما اور وہ شخص جس نے کہا اپنے والدین سے: أف لكما کہ تم پر أف ہے! تم پر أف ہے! أف، بھئی! یہ کس کسی بات پر تنگ آنے کے موقع پر یہ کلمہ کہا جاتا ہے، جیسے کہ اردو میں بھی اسی طرح استعمال ہوتا ہے، بھئی۔ جب کسی بات سے تنگ آ جائے انسان، تو کیا کہتا ہے؟ أف کہتا ہے، بھئی! تو والذی قال لوالديه أف لكما اور وہ شخص جس نے کہا اپنے والدین سے کہ تم دونوں پر أف ہے، أتعدانني کیا تم دونوں مجھ سے وعدہ کرتے ہو؟ تعدا، تثنیہ کا صیغہ ہے۔ وعد یعدو سے۔ أتعدانني کیا تم دونوں مجھ سے وعدہ کرتے ہو، أن أخرج کہ میں نکالا جاؤں گا؟ کیا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو؟ تم مجھے یہ بتلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا؟ وقد خلت القرون من قبلی اور تحقیق گزر چکی ہیں امتیں مجھ سے پہلے۔ خلت: گزر چکی۔ اور تحقیق گزر چکی ہیں امت، القرون، امتیں، من قبلی مجھ سے پہلے۔ وهما يستغيثان الله اور وہ دونوں جو والدین جو ہیں، وہ دونوں وہ فریاد کر رہے ہیں اللہ سے۔ استغاث يستغيث کے معنے ہوتے ہیں فریاد کرنے کے۔ يستغيثان، تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اور وہ دونوں فریاد کر رہے ہیں اللہ سے۔ اور اسے کیا کہہ رہے ہیں؟ ويلك آمن! ويلك آمن! تیرے لیے ہلاکت ہو، ایمان لے آ! بھئی، یہ ويلك آمن! ويلك آم، کلامِ عرب میں استعمال ہوتا ہے، جیسے مثلاً اردو میں کہتے ہیں، بھئی! تمہارا ستیا ناس ہو۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟! ويلك آمن! تمہارا ستیا ناس ہو، ایمان لے آؤ، سیدھی راہ پر آ جاؤ۔ یہ والدین سمجھا رہے ہیں اپنے بیٹے کو۔ وهما يستغيثان الله اور وہ دونوں فریاد کر رہے ہیں اللہ سے اور بیٹے کو یہ کہہ رہے ہیں: ويلك آمن! تیرا ستیا ناس ہو، ایمان لے آ! ان وعد الله حق! بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، فيقول تو وہ کہتا ہے: ما هذا إلا أساطير الأولين کہ نہیں ہے یہ، یہ جو تم مجھے کہہ رہے ہو نا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے، یہ نہیں ہے إلا أساطير الأولين۔ أساطير جمع ہے اسطیرون کی، بھئی! اسطارون یا اسطیرون یا اسطورون، بھئی، تینوں مفرد ہیں، اس کے آتے ہیں: اسطیر، اسطار، اور اسطور۔ اور یہ قصے، کہانی، اور افسانے کو کہتے ہیں، بھئی۔ فيقول تو وہ کہता ہے: ما هذا إلا أساطير الأولين نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں۔ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں اور افسانے ہی ہیں جو نقل ہوتے چلے آئے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص مرنے کے بعد دوبارہ اس کو زندہ کیا جائے، جب کہ اس کی ہڈیاں بھی مٹی ہو گئی ہوں۔ والذی قال لوالديه أف لكما اور وہ شخص جس نے کہا اپنے والدین سے کہ تم دونوں پر أف ہے، أتعدانني أن أخرج کیا تم دونوں مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ میں نکالا جاؤں گا؟ وقد خلت القرون من قبلي اور تحقیق گزر چکی ہیں امتیں مجھ سے پہلے، وہ گزر چکی ہیں، ختم ہو گئیں، دوبارہ کہاں آ سکتا ہے کوئی! وهما يستغيثان الله اور وہ دونوں الیا، اللہ سے فریاد کر رہے ہیں اور بیٹے کو کہہ رہے ہیں: ويلك آمن! تیرا ستیا ناس ہو، ایمان لے آ! ان وعد الله حق! بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، فيقول تو وہ کہता ہے: ما هذا إلا أساطير الأولين نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی کہانیاں۔ اولئك الذين حق عليهم القول آگے اللہ فرما رہے ہیں: اولئك الذين یہ وہ لوگ ہیں، حق عليهم القول جن پر ثابت ہو چکی ہے وہ بات، في أمم ان امتوں میں قد خلت من قبلهم جو گزر چکی ہیں اس سے پہلے من الجن والانس جنات اور انسانوں میں سے۔ اللہ فرماتے ہیں: یہ وہ لوگ ہیں جن پر وہ بات ثابت ہو چکی ہے في أممم ان امتوں میں سے جو اس سے پہلے گزر چکی ہیں جن، (یعنی جیسے پہلی امت، جنات اور انسانوں کی بہت سی امتوں پر وہ بات ثابت ہو چکی ہے، وہی بات ان پر بھی ثابت ہو چکی ہے، بھئی! اور وہ کون سی بات ہے؟ لأملأن جهنم من الجنة والناس اجمعين یعنی وہ جو عذاب کی بات ہے، وہ ان پر ثابت ہو چکی ہے، جیسے کہ گزشتہ امتوں پر ثابت ہوئی۔) انهم كانوا خاسرين بے شک یہ خسارہ اٹھانے والے ہیں، نقصان اٹھانے والے ہیں، ولكل درجات مما عملوا اور ہر ایک کے درجے ہیں مما عملوا، جو اس سے جو انہوں نے عمل کیے، ہر ایک کے درجے ہیں ان کے عمل سے، بھئی، ان کے عمل کی وجہ سے۔ کافر ہوں یا مومن ہوں، مختلف درجے والے ہیں اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے، بھئی! جس طرح مومنین کے درجے مختلف ہوں گے جنت کے اندر، اسی طرح کافروں کے بھی کفر اور برائیوں کے اعتبار سے مختلف درجے ہوں گے، بھئی! ولكل درجات مما عملوا اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں اس سے جو انہوں نے عمل کیے، اس وجہ سے جو انہوں نے عمل کیے، وليوفيہم أعمالهم وهم لا يظلمون اور تاکہ ان کو پورا بدلہ دے اعمالهم، تاکہ ان کو پورے دے اعمالهم، ان کے اعمال، بھئی! اور تاکہ اللہ ان کو پورے دے ان کے اعمال، یعنی ان کے اعمال کا بدلہ، بھئی! تاکہ اللہ ان کو، ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے، وهم لا يظلمون اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔ ويوم يعرض الذين كفروا على النار اور وہ دن کہ جس دن پیش کیا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا على النار، آگ پر۔ أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا اور ان سے یہ کہا جائے گا: أذهبتم طيباتكم تم لے گئے اپنی پاکیزہ چیزیں في حياتكم الدنيا، اپنی دنیوی زندگی میں۔ تم لے گئے اپنی پاکیزہ چیزیں دنیوی زندگی میں، یعنی تم نے ضائع کر دیں اپنی پاکیزہ چیزیں، دنیوی زندگی کے اندر ضائع کر دیں، واستمتعتم بها اور تم نے اس سے، ان سے نفع اٹھایا۔ أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا ضائع کر دیں تم نے اپنی پاکیزہ چیزیں في حياتكم الدنيا، اپنی دنیوی زندگی میں، واستمتعتم بها اور تم نے ان سے نفع اٹھایا، فاليوم تجزون عذاب الهون پس آج کے دن تم کو بدلہ دیا جائے گا رسوائی کے عذاب کا، ذلت کے عذاب کا، بما كنتم تستكبرون بوجہ اس کے جو تم تکبر کیا کرتے تھے في الأرض زمین میں بغیر الحق ناحق طور پر۔ پس آج کے دن تم کو رسوائی کا عذاب ہوگا اس وجہ سے جو تم تکبر کرتے تھے زمین میں ناحق، وبما كنتم تفسقون اور بوجہ اس کے جو تم فسق کرتے تھے، جو تم گناہ کرتے تھے۔ جو تم نافرمانیاں کرتے تھے، جو بھی ترجمہ کر لیں۔ واذكر أخا عاد اور یاد کیجیے أخا عاد، عاد کے بھئی، یاد کیجیے قومِ عاد کے بھئی کو، یعنی حضرت ہود علیہ السلام مراد ہیں، بھئی! کیونکہ وہ قومِ عاد میں سے تھے، ان کے قومی بھئی تھے، بھئی۔ واذكر أخا عاد اور یاد کیجیے قومِ عاد کے بھئی، یعنی حضرت ہود علیہ السلام کو، إذ أنذر قومه بالاحقاف جس وقت خبردار کیا انہوں نے اپنی قوم کو احقاف میں، ریت کے لمبے خم دار ٹیلوں میں۔ جس وقت انہوں نے خبردار کیا اپنی قوم کو ریت کے لمبے خم دار ٹیلوں میں۔ میں نے بتلایا، احقاف جمع ہے حقن کی، اور حقن کسے کہتے ہیں؟ ریت کا کے لمبے خم دار ٹیلے کو۔ تو یہ جس مقام پر رہتے تھے، وہ ریتلا علاقہ تھا، ریت کے بڑے بڑے ٹیلے تھے وہاں پر، بھئی۔ تو یہ معنی: إذ أنذر قومه بالاحقاف جس وقت انہوں نے خبردار کیا اپنی قوم کو ریت کے ٹیلوں میں، کہ وہاں یہ رہتے تھے، اور بعض نے لکھا کہ احقاف اس جگہ کا نام تھا۔ احقاف کیا تھا؟ اس جگہ کا نام ہی احقاف تھا جہاں وہ رہتے تھے، جب کہ عام یہی کہتے ہیں، عام مفسرین کہ احقاف جو ہے، وہ ریت کے ریتلا علاقہ تھا، اس لیے احقاف کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ إذ أنذر قومه بالاحقاف جس وقت ڈرایا انہوں نے اپنی قوم کو ریت کے لمبے خم دار ٹیلوں میں، وقد خلت النذر من بين يديه ومن خلفه اور تحقیق گزر چکے تھے ڈرانے والے، نذر جمع ہے نذیر کی، اور تحقیق گزر چکے تھے ڈرانے والے من بين يديه ان سے پہلے، ان کے سامنے (یعنی ان سے پہلے) ومن خلفه اور ان کے پیچھے، وقد خلت النذر من بين يديه ومن خلفه۔ اور تحقیق گزرے تھے، گزرے، بہت سے ڈرانے والے من بين يديه ان سے پہلے بھی، ومن خلفه اور ان کے پیچھے، پیچھے بھی، ان کے بعد میں بھی، اللہ تعبدوا اللہ اور جو یہ دعوت دیتے تھے: اللہ تعبدوا اللہ کہ عبادت نہ کرو مگر اللہ کی (یعنی صرف اللہ ہی کی عبادت کرو)، اني أخاف عليكم عذاب۔ ہاں، جس وقت ڈرایا انہوں نے اپنی قوم کو، جس وقت انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا ریت کے ٹیلوں میں، اس حال میں کہ تحقیق ڈرانے والے ان سے پہلے اور ان کے بعد گزرے، اور کیا ڈرایا انہوں نے اپنی قوم کو، کیا کہا؟ یہ ہے اللہ تعبدوا اللہ کہ تم عبادت نہ کرو مگر اللہ کی (یعنی تم صرف اللہ کی عبادت کرو)، یہ حضرت ہود علیہ السلام دعوت دے رہے ہیں اپنی قوم کو۔ اني أخاف عليكم عذاب يوم عظيم بے شک میں ڈرتا ہوں تم پر اس بڑے دن کے عذاب سے۔ قالوا تو ان کی قوم والوں نے کہا: أجئتنا لتأفكنا عن آلهتنا۔ أفك کا، يأفک کے معنے ہوتے ہیں پھیرنے کے، پھیرنے کے، پلٹانے کے۔ اور اسی طرح روکنا بھی ہے اس کا معنی، روکنا بھی۔ فقالوا ان کی قوم نے کہا: أجئتنا کیا آپ آئے ہیں لتأفكنا عن آلهتنا تاکہ ہمیں پھیر دیں ہمارے معبودوں سے؟ یا ہمیں روک دیں ہمارے معبودوں سے دو جو بھی ترجمہ آپ کر لیں، قالوا تو ان کی قوم والوں نے کہا: أجئتنا لتأفكنا عن آلهتنا کیا آپ آئے ہیں اس لیے کہ ہمیں روک دیں ہمارے معبودوں سے؟ فآتنا بما تعدنا إن كنت من الصادقين فآتنا پس آپ لے آئیے ہم پر بما اس چیز کو، تعدنا جو آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں، آپ ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں، تو آپ لے آئیے ہم پر، إن كنت من الصادقين اگر آپ سچے لوگوں میں سے ہیں۔ فآتنا بما تعدنا إن كنت من الصادقين پس لے آئیے آپ ہم پر اس چیز کا جس کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں اگر آپ سچوں میں سے ہیں، قال إنما العلم عند الله تو حضرت ہود علیہ السلام فرمانے لگے: إنما العلم عند الله کہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، علم تو پورا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے کہ یہ عذاب تم پر کب آئے گا، اللہ ہی جانتے ہیں، تم مجھ سے بار بار کیا کہتے ہو کہ عذاب لے کیوں نہیں آتے اگر سچے ہو، تو وہ علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ اللہ کب عذاب لاتے ہیں۔ وأبلغكم ما أرسلت به ولکني أراكم قوما تجهلون اور میں تمہیں پہنچاتا ہوں ما وہ چیز أرسلت به، جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں، میں تو تمہیں وہی دعوت پہنچا رہا ہوں جس کا پیغام دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ ولکني أراكم قوما تجهلون لیکن میں دیکھتا ہوں تم کو ایک ایسی قوم تجهلون، جو جہالت کرتی ہے، یعنی جہالت کی باتیں کرتی ہے، نادانی کی باتیں کرتی ہے۔ قال إنما العلم وعند الله وأبلغكم ما أرسلت به ولكني أراكم قوما تجهلون تو حضرت ہود علیہ السلام نے فرمانے لگے کہ علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو تمہیں پہنچا اور میں تو تمہیں وہی بات پہنچاتا ہوں جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے، لیکن میں تمہیں ایک ایسی قوم دیکھتا ہوں جو نادانی کی باتیں کرتی ہے۔ فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم فلما رأوه جب انہوں نے اس کو دیکھا عارضا، ایک بادل، عارض بادل، بھئی! مستقبل أوديتهم۔ أودية جمع ہے وادی کی، بھئی! وادی، دو پہاڑوں کا درمیانی علاقہ وادی کہلاتا ہے، بھئی۔ دونوں طرف پہاڑ ہوں، درمیان کا علاقہ کیا کہلاتا ہے؟ وادی کہلاتا ہے۔ فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم۔ جی، فلما رأوه جب انہوں نے اس عذاب کو دیکھا، ہ ضمیر کس کو راجع؟ عذاب کو۔ جب انہوں نے اس عذاب کو دیکھا عارضا، ایک بادل کی صورت میں، مستقبل أوديتهم، جو آ رہا تھا ان کی وادیوں کی طرف، بھئی۔ جب انہوں نے جس کا وہ بار بار مطالبہ کر رہے تھے، بھئی، ان کے ہاں آ کئی کافی عرصے تک بارش نہیں ہوئی، بھئی۔ بارش نہیں ہوئی، اور یہ بڑی تکلیف میں مبتلا ہو گئے، بھئی، اور حضرت ہود علیہ السلام ان کو دعوت دے رہے تھے، اور بار بار کہتے کہ تم سیدھے راستے پر آ جاؤ تو اللہ تعالیٰ تم پر بارش کی نعمت بھیج دیں گے۔ تو وہ جواب میں کہتے، اگر تیرے ذریعے بارش آنی ہے، تو ہمیں ایسی بارش نہیں چاہیے، تو پھر یہ عذاب اللہ نے بھیجا، بادل کی صورت میں، اور تیز آندھیاں تھیں، تو یہ اس کو اب دیکھا، اپنی وادی کی طرف ان کو آتے ہوئے، فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم پس جب دیکھا انہوں نے اس عذاب کو بادل کی صورت میں مستقبل أوديتهم آتے ہوئے اپنی وادی کی طرف، قالوا تو کہنے لگے: هذا عارض ممطرنا یہ ایسا بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ هذا عارض ممطرنا یہ ایسا بادل ہے، یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا۔ عارض موصوف ہے، ممطرنا اس کی صفت ہے، یاد رکھیے، بھئی! عارض کیا ہے؟ موصوف ہے اور ممطرنا اس کی صفت ہے، ممطر مضاف ہے، نا ضمیر مضاف الیہ ہے، بھئی۔ تو یہ مضاف مضاف الیہ مل کر یہ صفت ہوئی عارض کی۔ عارض کی۔ اس پر آپ کے ذہن میں یہ اشکال آئے گا کہ عارض تو نکرہ ہے، ممطرنا اس کی اضافت تو ضمیر کی طرف ہو رہی ہے، اور ضمیر تو معرفہ ہے، اور جو چیز معرفہ کی طرف مضاف ہو جائے وہ بھی کیا بن جاتی ہے؟ معارف بن جاتی ہے تو یہ حالانکہ موصوف صفت میں تو تعریف و تنکیر میں مطابقت ضروری ہے بھئی۔ موصوف نکرہ تو صفت بھی کیا ہونی چاہیے؟ نکرہ، یہاں موصوف تو نکرہ ہے اور صفت معرفہ ہے۔ جواب یہ کہ ممطرونا یہ یہ بھی نکرہ ہی ہے تو نکرہ کے بعد نکرہ ایا ہے اس لیے یہ اس کی صفت بنے گا۔ تو سوال پیدا ہوا کہ یہ تو معرفہ ضمیر کی طرح مضاف ہے پھر یہ تو یہ معرفہ ہے بھئی نکرہ کیسے؟ جواب یہ کہ یاد رکھیے یہ اضافت لفظی ہے۔ یہ کیا ہے؟ اضافت لفظی ہے، آپ نے ہدایت النح میں پڑھا ہوگا کافیہ میں پڑھ لیں گے یا پڑھا ہوگا کہ اضافت دو قسم پر ہے، ایک اضافت لفظی اور ایک اضافت معنوی۔ اضافت لفظی اس کو کہتے ہیں کہ صیغہ صفت کا ہو مضاف ہو اپنے معمول کی طرف۔ اضافت لفظی کسے کہتے ہیں؟ صیغہ صفت کا مضاف ہو اپنے معمول کی طرف، تو یہ ہے اضافت لفظی اور اس کے علاوہ جتنی ہیں وہ ہیں اضافت معنوی۔ اس کے علاوہ جو ہیں وہ ہیں اضافت معنوی صیغہ صفت کا ہو یعنی اس میں فاعل یا اس میں مفعول یا صفت مشبہ کس کی طرح مضاف ہوں اپنے معمول کی طرف۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہوں گے نحم میں کہ جس طرح کا عمل فعل کرتا ہے یہ صفت کے صیغے بھی بعینہ اسی طرح عمل کرتے ہیں۔ جیسے ضرب کے لیے ایک فاعل کا ہونا ضروری جو اسی کے اندر ہوا ضمیر ہے، ضارب صفت کا صیغہ ہے، پٹائی کرنے والا تو یہ صفت کا صیغہ ہے لیکن اس کے لیے بھی ایک فاعل ضروری ہے جیسے ضرب کے لیے ضروری تھا اور آ اس کے ان ان جیسے ضرب کے اندر آگے فاعل زید نہ ہو تو اسی کے اندر آپ ضمیر مان لیتے ہیں۔ اسی طرح ضارب کے اندر بھی جب فاعل آگے اس میں ظاہر نہ ہو تو پھر اسی کے اندر ضمیر مان لیں گے بھئی یہ اس کو رفع دے رہا ہے اور ضربہ جیسے ایک مفعول کو نصب دیتا ہے یہ ضارب بھی کیا کرے گا؟ مفعول کو نصب دے گا تو یہ بھی بالکل اسی کی طرح عمل کرتا ہے یہ جیسے ضرب فعل مجہول ہے یہ نائب الفاعل کو رفع دیتا ہے اس کے اندر ہوا ضمیر کیا ہے؟ نائب الفاعل۔ اسی طرح مضروب جو صفت کا صیغہ ہے وہ بھی کس کے اندر بھی کون سی ضمیر ہے؟ ہوا ضمیر ہے یہ اس کو رفع دے رہا ہے اور جیسے فعل کے اندر فاعل یا نائب الفاعل کبھی ضمیر ہوتی ہے کبھی آگے اس میں ظاہر آ جاتا ہے۔ اسی طرح صفت کے صیغوں میں بھی کبھی فاعل ان کے اندر ہی ضمیر ہوگی فاعل یا نائب فاعل کی اور کبھی ان کے آگے اس میں ظاہر آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اسی طرح عمل کرتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ ممطر اس کی اضافت ہے نا ضمیر کی طرف بھئی اور یہ صفت کا صیغہ ہے اور اس کی اضافت ہو رہی ہے اپنے معمول کی طرف بھئی اور یہ صفت کا صیغہ مضاف اپنے معمول کی طرف تو یہ اضافت لفظی کہلاتی ہے۔ یہ صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے تعریف تعریف کا فائدہ تخصیص کا فائدہ یہ نہیں دیتی۔ اضافت معنوی جو ہے نا جس میں صفت کا صیغہ اپنے معمول کی طرف مضاف نہ ہو وہ سب اضافت معنوی ہیں۔ وہ معرفہ کی طرف اضافت ہو تو تعریف کا فائدہ دیتی ہے۔ غلام زید یہ کس کس کی طرف مضاف؟ غلام معرفہ زید کی طرف تو یہ خود بھی معرفہ بن گیا اور غلام رجل یہ غلام کی اضافت کس کی طرف؟ نکرہ کی طرف تو یہ تخصیص کا فائدہ دے گی۔ تو اضافت معنوی اگر معرفہ کی طرف اضافت ہو اس میں تو وہ تعریف کا فائدہ دیتی ہے یعنی مضاف کو بھی معرفہ بنا دیتی ہے اور اگر اس میں اس اضافت جو ہے نکرہ کی طرف ہو نکرہ کی تو اس صورت میں وہ تخصیص کا فائدہ دیتی ہے تعریف کا تو فائدہ نہیں دیتی لیکن تخصیص یعنی مضاف میں تخصیص پیدا کر دیتی ہے۔ جبکہ یہ جو اضافت لفظی جو ہے یہ ہاں اضافت معنوی میں لفظوں میں بھی تخفیف آئے گی بھئی معنی کے اندر بھی تبدیلی آئی مضاف پہلے نکرہ تھا کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا یا اس میں کیا آ گئی؟ تخصیص آ گئی کس کے اندر؟ اضافت معنوی میں اور لفظوں میں بھی تخفیف آتی ہے۔ لفظوں میں کیا تخفیف آتی ہے؟ مضاف سے تنوین یا کہیں مقام تنوین یعنی نون تثنیہ اور نون جمع گر جاتے ہیں۔ تو وہاں لفظوں میں بھی تخفیف آتی ہے اضافت معنوی میں اور معنی کے اندر بھی تبدیلی آتی ہے جبکہ اضافت لفظی اس میں صرف لفظوں میں تخفیف آتی ہے۔ وہ تعریف یا تخصیص کا فائدہ نہیں دیتی یعنی جو وہ لفظ اضافت سے پہلے جس طرح نکرہ تھا اضافت کے بعد بھی اسی طرح نکرہ ہے اور صرف کیا فائدہ دیتی ہے اضافت لفظی؟ لفظوں میں تخفیف یعنی تنوین یا قائم مقام تنوین ختم ہو جاتا ہے جیسے یہاں ممطرونا ممطر سے کیا ہوئی؟ تنوین گر گئی بھئی ممطرونا۔ تو یہ اضافت لفظی ہے یہ نکرہ ہے تو یہ صفت بنے گا۔ پس جب انہوں نے اس بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا قالو تو انہوں نے کہا ہذا عارض ممطرنا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ بل ہوا بل ہوا مستعجلتم بہ اللہ فرما رہے ہیں۔ بل ہوا بلکہ یہ جو ہے مستعجلتم بہ وہ ہے جس میں تم جلدی مچا رہے تھے۔ جس میں تم جس کو تم جلدی طلب کر رہے تھے۔ یہ وہ عذاب ہے۔ بل ہوا مستعجلتم بہ بلکہ یہ وہ ہے جس میں تم جلدی مچا رہے تھے ریح فیہا عذاب علیم۔ ایک ہوا ہے میں نے بتلایا تھا بھئی ایک لفظ ہے ریح ایک ہے ریاح خوشگوار ہوا کے لیے کیا لفظ عموماً استعمال ہے؟ ریاح کا اور ریح کس کے لیے ہے؟ تیز آندھی وغیرہ بھئی تو یہ آندھی ریح ایک آندھی ہے فیہا عذاب علیم جس میں دردناک عذاب ہے، جس میں دردناک عذاب ہے۔ یہ بات پہلے بیان ہو چکی کہ علیم کس معنا میں ہے؟ ملم کے معنا میں ہے۔ ایسا عذاب ہے ملم جو درد دینے والا ہے تو علیم کس معنا میں؟ ملم درد دینے والا کیونکہ علیم علیم تو دردناک بھئی اور دردناک عذاب نہیں ہوتا صاحب عذاب ہوتا ہے جس کو عذاب دیا جا رہا ہو وہ دردناک حالت میں ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ علیم کس معنا میں ہے؟ ملم کے معنا میں ہے۔ اور نقطہ کیا ہے اس کے اندر کہ عذاب کی صفت پھر ملم کے بجائے علیم کیوں ذکر کی گئی؟ تو میں پہلے بیان کر چکا کہ اتنا سخت عذاب ہوگا اللہ کی طرف سے عذاب جہاں ذکر فرماتے ہیں۔ کہ اتنا سخت عذاب کہ گویا عذاب کو بھی خود تکلیف ہو رہی ہوگی بھئی شدت کی وجہ سے سختی کی وجہ سے تو عذاب خود ہی گویا کس حالت میں ہے؟ دردناک حالت میں ہے۔ ريح فیہا عذاب علیم ایک آندھی ہے جس میں سخت عذاب ہے دردناک عذاب ہے تدمر کل شيء بامر ربہا دمر يدمتر تدمیر کے معنی ہیں برباد کرنا ہلاک کرنا تدمر کل شيء ہلاک کر دے گی ہر چیز کو یہ ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے یہ کیا کرے گی؟ ہر برباد کر دے گی ہلاک کر دے گی ہر چیز کو بامر ربہا اپنے پروردگار کے حکم سے فاصبحوا پس ان فاصبحوا ای فصاروا پس وہ ہو گئے پس وہ اصبح بھئی افعال ناقصہ میں سے ہے اور کس معنا میں ہے؟ صارہ کے معنا میں آپ نے پڑھا ہے کہ اصبح کبھی کس معنا میں آتا ہے؟ صارہ کے معنا میں فاصبحوا ای فصاروا پس وہ ہو گئے کہ لا یرا کہ دکھائی نہیں دیتے تھے الا مساکنہم مگر ان کی رہائش گاہیں۔ ان کے مکانات ان کے صرف مکانات ہی باقی رہ گئے صرف وہی دکھائی دیتے تھے ان لوگوں کو ہم نے ختم کر ڈالا تباہ کر ڈالا۔ معنا سمجھ میں آ گیا کذلك نجزی القوم المجرمین اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو۔ فلما راوہ عارضا مستقبل آودیتہم جب انہوں نے دیکھا ایک بادل کو اپنی وادی کی طرف آ اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے قالو ہذا عارض ممطرنا یہ تو ایک بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا بل ہوا مستعجلتم بہ بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس میں تم جلدی مچا رہے تھے ریح فیہا عذاب علیم ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے تدمر کل شيء تہس نہس کر دے گی ہر چیز کو بامر ربہا اپنے پروردگار کے حکم سے فاصبحوا لا یرا الا مساکنہم پس ہو گئے وہ کہ دکھائی نہیں دیتے تھے سوائے ان کے مکانات کے۔ فاصبحوا میں یاد رکھیے یہ فا فصیحہ ہے ف فصیحہ۔ فائے فصیحہ وہ ہے جو عبارت محذوف پر دلالت کرے بھئی۔ اس سے پہلے کیا آیا ریح فیہا عذاب علیم ایک آندھی جس کے اندر دردناک عذاب ہے تدمر کل شيء بامر ربہا یہ ہلاک کر دے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے۔ فاصبحوا لا یرا الا مساکنہم یہ فا کون سی ہے؟ فائے فصیحہ ہے تو وہ ہوا وہ ہوا آئی اور پھر اس نے ان کو سب کو ہلاک کر دیا فاصبحوا لا یرا الا مساکنہم۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ ہوا آئی اور اس نے ان سب کو ہلاک کر دیا یہ اس پر یہ فا دلالت کر رہی ہے بھئی۔ تو اس کو فائے فصیحہ کہتے ہیں۔ کذلك نجزی القوم المجرمین اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو ولقد مکنّاھم فیما مکنّاھم فیہ اور تحقیق مکنّاھم ہم نے ان کو قدرت دی تھی۔ اللہ فرما رہے ہیں ولقد مکنّاھم وہ قوم عاد جو ہیں ان کو ہم نے قدرت دی تھی فیما ان چیزوں کے اندر اماکنّاکم کہ ہم نے تمہیں قدرت نہیں دی فیہ ان چیزوں میں۔ قوم عاد کو ہم نے بڑی طاقت بڑی نعمتیں اور اولاد مال وغیرہ قوت ہر چیز میں بڑی قوت قوتیں نصیب فرمائی تھیں۔ اور تمہیں وہ چیزیں نہیں دی گئی تو اس قوم کو جو بڑی قوت والی تھی بھئی قوت والی ان کو ہم نے تباہ کر دیا تو تم کیا چیز ہو کس بنا پر تکبر اور سرکشی کرتے ہو؟ ولقد مکنّاھم اور تحقیق ہم نے ان کو قوم عاد کو قدرت دی تھی فیما ان چیزوں کے اندر اماکنّاکم کہ قدرت نہیں دی ہم نے تمہیں ان چیزوں میں وجعلنا لہم سمعا و ابصارا و افئدہ اور بنائے تھے ہم نے ان کے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے دل یعنی دیے تھے ہم نے ان کو ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دیے تھے فما اغنا عنھم سمعھم ولا ابصارھم ولا افئدتھہم من شيء پس پس کچھ کفایت نہ کی ان کی طرف سے سمعہم ان کے کانوں نے ولا ابصارھم اور نہ ان کی آنکھوں نے ولا افئدتھہم اور نہ ان کے دلوں میں من شئی کچھ بھی۔ ان کی یعنی کچھ کام نہ آئے ان کی ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے دل بھئی ان کے کچھ کام نہ آئے اذ کانوا یجحدون جبکہ وہ انکار کرتے تھے۔ جبکہ وہ انکار کرتے تھے۔ بآیات اللہ اللہ کی آیتوں کا۔ جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے تو یہ چیزیں ان کے کچھ کام نہ آئیں وحاق بھہم حاق گھیر لینا گھیر لیا وواحاق بھہم اور گھیر لیا ان کو ما اس چیز نے کانوبہ یستھزئون جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ولقد اھلکنا ما حولکم من القرا اور تحقیق ہم نے ہلاک کیا ما حولکم وہ جو تمہارے ارد گرد ہیں من القرا بستیاں۔ اب خطاب پھر اللہ مشرکین مکہ کو خطاب فرما رہے ہیں۔ قوم عاد کا ذکر گزر گیا بھئی اللہ فرما رہے ہیں ولقد اھلکنا ما حولکم من القرا تحقیق البتہ ہم نے ہلاک کیا وہ جو تمہارے ارد گرد بستیاں ہیں تمہارے ارد گرد بھی ہم نے بستیوں کو ہلاک کیا ہے مراد اس سے قوم سمود قوم ثمود اور قوم لوط جو ہے ان کی بستیاں ہیں یہ مکہ والے جب شام کی طرف ان کے تجارتی قافلے جاتے تھے تو ان بستیوں کے پاس سے گزرتے تھے جن پر تباہی کے آثار انہیں عبرت لینے کا درد دے رہے ہوتے لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ ولقد اھلکنا ما حولکم من القرا تحقیق ہم نے ہلاک کیا جو تمہارے ارد گرد ہیں بستیاں وصرّفنا الآیات صرف يصرف کے معنی پھیرنے کے اور وصرفنا اور ہم نے پھیریں الآیات نشانیاں اور ہم نے پھیریں نشانیاں یعنی طرح طرح سے بیان کی ہم نے نشانیاں کیا مراد ہے؟ طرح طرح سے بیان بار بار پھیر پھیر کر ہم نشانیاں ان کے لائے یعنی طرح طرح کی نشانیاں ہم نے ان کو دیں بھئی۔ اور ہم نے طرح طرح کی نشانیاں دیں لعلہم یرجعون تاکہ وہ رجوع کر لیں فلو لا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قربانا الہہ فلو لا نصرھم پس کیوں نہیں ان کی مدد کی الذین اتخذوا انہوں نے جن کو انہوں نے بنا رکھا ہے من دون اللہ اللہ کے علاوہ جن کو انہوں نے اللہ کے علاوہ بنا رکھا ہے کیا بنا رکھا ہے؟ آلہۃ معبود۔ کیا بنا رکھا ہے؟ آلہۃ معبود بنا رکھا ہے قربانا قرب حاصل کرنے کے لیے قرب حاصل کرنے کے لیے۔ اللہ فرما رہے ہیں ہم نے ان کو ان بستیوں کو ہلاک کر دیا تو جن کو یہ اللہ کو چھوڑ کر جن بتوں وغیرہ کو پکارتے تھے انہوں نے ان کی مدد کیوں نہیں کی اس موقع پر جب ہم ان کو ہلاک کر رہے تھے۔ معنا سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دیکھیے ترکیب پہ نظر رکھیے بھئی اتّخذوا یہ دو مفعول چاہتا ہے بھئی۔ اتّخذو کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو اس کا مفعول اول محذوف ہے اتّخذوھم انہوں نے بنایا ان کو یہ مفعول اول کیا بنایا ان کو آلہۃ معبود کیا بنایا؟ تو یہ آلہۃ معبود مفعول ثانی ہے اتّخذو کے لیے اور یہ قربانا یہ کیا ہے؟ یاد رکھیے یہ مفعول لہو ہے بھئی۔ کیا ہے؟ مفعول لہو وہ مصدر جو ما قبل فعل کی علت بیان کرتا ہے ضربتہ تأدیباً میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے یہ وجہ بیان کرتا ہے تو یہ قربانا یہ قرب کے معنا میں ہے مصدر ہے مصدر قرب کے معنا میں۔ اور یہ مفعول مطلق ہے کہ انہوں نے ان کو معبود بنا رکھا تھا کس لیے معبود بنا رکھا تھا؟ قربانا اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کیا کہتے تھے یہ ہمیں کیا کریں گے؟ اللہ کو تو وہ بھی مانتے تھے لیکن کیا کہتے تھے ان بتوں کی عبادت ہم کیوں کرتے ہیں؟ تاکہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں ہم اللہ کا قرب ہمیں ملے ان کے ذریعے بھئی۔ معنا سمجھ میں آ گیا بھئی تو قربانا کیا ہے؟ مفعول لہو ہے بھئی۔ دیکھیے فلو لا نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قربانا الہہ پس کیوں مدد نہیں کی ان کی انہوں نے جن کو انہوں نے بنا رکھا تھا اللہ کے علاوہ معبود اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے بل ضلّو عنھم بلکہ وہ کھو گئے ان سے وہ غائب ہو گئے ان ان سے عذاب آیا تو ان کو تو کہیں وہ دکھائی نہیں دیے کھو گئے ہوں جیسے ان سے بل ضلّو عنھم بلکہ وہ کھو گئے ان سے وذالک افکھم وما کانوا یفترون اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور وہ جس کو وہ گھڑا کرتے تھے۔ اور یہ افکوھم یہ ان کا جھوٹ تھا وما کانوا یفترون اور وہ تھا جس کو یہ گھڑا کرتے تھے یہ ان کا جھوٹ تھا اور جس کو اپنی یہ وہ جس کو اپنی طرف سے گھڑا کرتے تھے۔ معنا سمجھ میں آ گیا بھئی۔ وذالک ذالک کی جی کس کی طرف اشارہ ہے؟ یہ جو انہوں نے اللہ کے علاوہ اور معبود بنا رکھے تھے کس مقصد کے لیے؟ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ فرما رہے ہیں یہ ان کا اپنا جھوٹ تھا اور ان کی اپنی گھڑی ہوئی بات تھی یہ نہیں کہ کسی کتاب میں پہلے آسمانی کتاب میں یہ ذکر ہوا تھا نہ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تھی یہ سب ان کا اپنے بنایا ہوا جھوٹ اور اپنی تراشی ہوئی باتیں تھیں ان کی بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں وذالک افکھم وما کانوا یفترون یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو وہ جس کو وہ اپنی طرف سے گھڑا کرتے تھے واذا صرّفنا الیک نفراً من الجن يستمعون القرآن واذا صرّفنا اور جب ہم نے پھیرا آپ کی الیک آپ کی طرف نفراً من الجن جنوں کی ایک جماعت يستمعون القرآن جو قرآن سنتے تھے۔ وإذا صرّفنا اور جب ہم نے پھیرا آپ کی طرف تو ہم نے متوجہ کیا آپ کی طرف۔ نفرن۔ نفر جماعت کو کہتے ہیں تین سے لے کر نو تک بھئی۔ تین سے لے کر نو تک مردوں کی جماعت کو نفر کہا جاتا ہے۔ اور اسی طرح قوم بھی۔ قوم تین سے لے کر دس افراد تک بھئی۔ تو نفر تین سے لے کر نو تک۔ وإذ صرفنا إليك نفرا من الجن اور جس وقت کہ متوجہ کیا ہم نے آپ کی طرف جنوں کی ایک جماعت کو يستمعون القرآن کہ وہ قرآن سننے لگے فلما حضروا پس جب وہ حاضر ہوئے اس کے پاس یعنی ہا ضمیر کس کو راجع ہے قرآن؟ فلما حضرواہ پس جب وہ حاضر ہوئے اس قرآن کے پاس قالو تو کہنے لگے انصط کہاں انہوں نے انصطوت خاموش ہو جاؤ۔ انصطوت خاموش ہو جاؤ۔ فلما قضی پس جب وہ پورا ہو گیا یعنی قرآن کا پڑھنا پورا ہوا والول تو وہ پھر گئے پلٹ گئے إلى قومهم اپنی قوم کی طرف منذرین اس حال میں کہ وہ ڈرانے والے تھے خبردار کرنے والے تھے۔ بھئی جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی شروع ہوئی آپ کو نبوت عطا کی گئی چالیس سال کی عمر میں تو اس سے جو پہلے جنات جو تھے وہ آسمانوں پر جاتے جگہیں بنائی ہوئی تھیں پہلے بیان ہو چکا اور وہاں بیٹھ کر یہ فرشتوں کی باتیں سنتے تھے اور نیچے آ کر کاہنوں کو بتاتے تھے اپنی طرف سے بھی ملا دیتے باتیں پھر کاہن بھی اس میں اپنی طرف سے باتیں ملا کر لوگوں کو بتاتے تھے۔ تو وہ سو میں سے ایک بات سچ ہوتی ننانوے تو یہ اپنی طرف سے کچھ جن ملا دیتے کچھ وہ کاہن ملا دیتے اور یہ جھوٹی باتیں پھر لوگوں میں وہ پھیلاتے تو بہرحال وہ ایک آدھی تو سچی ہوتی تھی وہ جب پوری ہوتی تو کاہن سب پر کو کہتا دیکھو میں نہیں کہتا تھا تمہیں کیسا ہونے والا ہے اور اسی طرح ہوا۔ تو یہ جنات جایا کرتے تھے اور پھر جب حضور علیہ السلام پر وحی کا زمانہ آیا تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ آسمانوں پر سخت پہرے لگا دیے گئے بھئی۔ اور اور اگر تو جنات کا جانا مشکل ہو گیا کوئی ایک اگر کہیں سے نکل بھی جاتا تو شہاب ثاقب اس کے پیچھے لگا دیا جاتا ایک جلتا ہوا آگ کا شعلہ جو اس کو ختم کر دیتا۔ ختم کر دیتا تو جب یہ معاملہ شروع ہوا تو جنات بیٹھے شیاطین بیٹھے کہ معلوم ہوا ہے کہ کوئی خاص بات پیش آئی ہے جس کی وجہ سے ایسا ہوا پہلے تو ایسا کبھی نہیں تھا تو ہمارا کوئی بات سننا ہی مشکل ہو گیا ہے اوپر پہلے تو ہم باتیں سن لیا کرتے تھے آرام سے۔ تو چنانچے میٹنگ ہوئی اور بہت سی جنات کی جماعتیں دنیا بھر میں پھیلا دی گئیں کہ پتہ کرو ہوا کیا ہے جس وجہ سے یہ ایسا معاملہ ہو رہا ہے۔ اور روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام طائف والوں کو دعوت دینے کے بعد واپس آ رہے تھے مکہ کی طرف بھئی۔ طائف والوں نے آپ کو بڑی تکلیف دی پتھر مار مار کر آپ کو لہو لہان کر دیا۔ پھر مار کر آپ کے جوتے مبارک جو ہیں وہ خون سے بھر گئے اتنا خون بہا آپ سے۔ اور آپ ایک باغ میں آرام فرما ہوئے وہاں سے نکلے تو اللہ کی طرف سے فرشتہ حاضر ہوا کہ اے پیغمبر انہوں نے آپ کو اتنی تکلیف دی ہے آپ حکم دیں تو میں ان دو پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں ان سب کو انہیں یہیں پر ختم کر دوں لیکن آپ نے ان کے لیے بددعا نہیں فرمائی کہ انہی میں سے آگے چل کر ایمان لوگ لے آئیں شاید ان میں سے۔ اتنی شفقت تھی آپ کی امت پر۔ اور اتنی شفقت تھی تو آپ طائف کے سفر سے واپس تشریح لا رہے تھے راستے میں بطن نخلہ کے مقام پر فجر کی نماز چند صحابہ بھی آپ کے ہمراہ ہیں اور وہاں بطن نخلہ کے مقام پر آپ فجر کی امامت فرما رہے تھے چند صحابہ ساتھ ہیں اور آپ نے قرآن کی تلاوت شروع فرمائی بھئی۔ اندازہ لگائیے کتنی عظیم سعادت اللہ نصیب فرما رہے ہیں کہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم جن پر یہ قرآن نازل ہوا وہ اپنی زبان مبارک سے قرآن پڑھ رہے ہوں کیا کیفیت ہوگی اور دلوں کا کیا حال ہوگا یہاں بھی آج آپ کسی سے لذت اور اور پراثر تلاوت سنتے ہیں تو دلوں کی ایک عجیب سی کیفیت ہو جاتی ہے تو جو جب سرور کونین پڑھ رہے ہوں جو جب پڑھا کرتے تھے تو دلوں کی کایا پلٹ جایا کرتی تھی بھئی مشرکین اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیتے تھے آپ کو دیکھ کر کہ آپ کی آواز کانوں میں نہ پڑے کہیں ایسا نہ ہو ہمارے دل بھی بدل جائیں بھئی۔ تو وہ کیا کیفیت ہوگی حضور علیہ السلام فجر میں قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں تو جنات کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا جو دیکھ رہے تھے کہ یہ ہوا کیا ہے دنیا کے اندر۔ بعض روایات میں آتا ہے پانچ جنات تھے بعض میں ہیں سات تھے بعض میں ہیں نو تھے تو یہ جنات کی جماعت تھی۔ انہوں نے جب قرآن کو سنا اور پیغمبر کی زبان سے سنا تو دل پر اثر ہوا فورا ایک دوسرے سے کہا خاموش ہو جاؤ یہ کیا کہہ رہے ہیں سنو تو سہی۔ جب تو متوجہ ہو گئے اور پیغمبر قرآن پڑھ رہے ہیں دلوں پر بڑا اثر ہوا۔ چنانچے واپس گئے حضور علیہ السلام سے نہیں ملے وہاں سے واپس گئے اور جا کر اپنی قوم کو خبردار کیا کہ یقیناً یہ معاملہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے کہ آسمانوں پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں اور یہ اللہ کی کتاب ہے تم لوگ بھی ایمان لے آؤ ایمان لے آؤ ورنہ تم اللہ کے عذاب سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے تو وہی واقعہ ذکر ہو رہا ہے یہاں پر بھئی۔ تو وہ بتلائے بغیر چلے گئے خاموشی سے ایمان و یقین کی دولت اپنے دلوں میں لیے ہوئے بھئی۔ ایک درخت نے حضور علیہ السلام کو بتلایا کہ کچھ اجمالا تھوڑا سا بتایا کہ کچھ جنات تھے اس طرح اور اس طرح باتیں کرتے ہوئے اور آپ کا قرآن سنا اور باتیں کرتے ہوئے پھر گئے۔ اور پھر بعد میں آپ کو باقاعدہ وحی کے ذریعے بھی اس کی اطلاع دی گئی جس کا ذکر آگے سورۃ جن میں آ جائے گا بھئی۔ وإذ صرفنا إليك نفرا من الجن اور جب متوجہ کیا ہم نے آپ کی طرف جنوں کی ایک جماعت کو يستمعون القرآن کہ وہ قرآن سننے لگے۔ تو اس سے پہلے انسانوں میں سے نافرمانوں کا ذکر آیا بھئی۔ اس کے بعد اب اللہ یہ جنات کی ایک جماعت کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ انسانوں کو دیکھو ان کی طرف قرآن کو نازل کیا گیا انہی کی زبان میں اور یہ سرکشی کرتے ہیں اس کے مقابلے میں جنات کو دیکھو جن کی فطرت ہی میں سرکشی ہے ان کو دیکھو کہ ایک ہی مرتبہ قرآن سن کر ان کے دل موم ہو گئے اور وہ اس پر ایمان لے آئے۔ وإذ صرفنا إليك نفرا من الجن اور جب متوجہ کیا ہم نے آپ کی طرف جنوں کی ایک جماعت کو يستمعون القرآن کہ وہ قرآن سننے لگے فلما حضرواہ پس جب وہ حاضر ہوئے اس کے قرآن کے پاس تو قالو وہ کہنے لگے انہوں نے کہا انصطو خاموش ہو جاؤ فلما قضی پس جب پورا ہو چکا یعنی تلاوت پوری ہوگئی قرآن کا پڑھنا پورا ہو گیا والول تو وہ پھر گئے پلٹ گئے إلى قومهم اپنی قوم کی طرف منذرین خبردار کرتے ہوئے قالو انہوں نے کہا یا قومنا اے ہماری قوم انا سمعنا کتابا بیشک ہم نے سنا ہے ایک ایسی کتاب کو انزل من بعد موسی جو نازل کی گئی ہے موسی علیہ السلام کے بعد مصدقا لما بین یدیہ تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں جو اس کے آگے ہیں یعنی اس سے پہلے کی کتابیں ان کی کتاب تصدیق کرنے والی ہے یہدی إحق رہنمائی کرتی ہے دین حق کی طرف وإلى صراط مستقیم اور سیدھے راستے کی طرف جو رہنمائی کرتی ہے دین حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف۔ جی حضرت موسی علیہ السلام کا ذکر اور تورات کا ذکر کیا بھئی مصدقا لما بین یدیہ۔ وجہ یہ کہ حضرت موسی علیہ السلام کی کتاب تورات حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے سے ہی جنات میں مشہور چلی آ رہی تھی اور جس قدر تفصیلی احکام تورات میں ہیں وہ اور کسی کتاب میں نہیں بھئی۔ اس پہلے والی کتابوں میں سے اور کسی کتاب میں وہ تفصیل نہیں ہے جتنی تفصیل تورات میں تھی اور یہ جنات کے اندر بھی مشہور تھی یہ کتاب اور حضرت عیسی علیہ السلام بھی فرماتے تھے کہ میں کوئی شریعت موسوی کو بدلنے نہیں آیا بلکہ اسی کی تکمیل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی تو اس وجہ سے جنات نے انہیں کا حضرت موسی علیہ السلام کا ذکر کیا بالخصوص بھئی۔ قالو انہوں نے کہا یا قومنا اے ہماری قوم بیشک ہم نے سنا ہے ایک ایسی کتاب کو جو اتاری گئی ہے حضرت موسی علیہ السلام کے بعد تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی لما بین یدیہ جو اس سے پہلے ہیں یہدی إحق رہنمائی کرتی ہے حق کی طرف یعنی دین حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف یا قومنا أجیبوا داعی اللہ اے ہماری قوم عجیب قبول کر لو مان لو داعی اللہ اللہ کی طرف دعوت دینے والے اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات مان لو یا قومنا أجیبوا داعی اللہ اے ہماری قوم اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات مان لو وآمنوا به اور اس پر ایمان لے آؤ یغفر لكم من ذنوبکم وہ بخش دے گا اللہ تمہارے گناہوں کو وئجيرکم من عذاب ألیم وئجيرکم اور تمہیں پناہ دے گا آجارہ یجیر کے معنے کیا ہوتے ہیں پناہ دینے کے وئجيرکم اور تمہیں وہ اللہ پناہ دے گا من عذاب ألیم دردناک عذاب سے۔ اے ہماری قوم اللہ کے داعی کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے دے گا۔ ومن لا یجب داعی اللہ اور جو اللہ کے داعی کی بات نہیں مانے گا فلیس بمعجز فی الأرض پس وہ نہیں ہے عاجز کرنے والا زمین میں یعنی اللہ کو وہ زمین میں عاجز نہیں کر سکتا کہ اللہ سے بھاگ کر بچ جائیں اور اللہ ان کو پکڑ نہ سکیں اور پس جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہیں مانے گا پس وہ نہیں ہے عاجز کرنے والا اللہ کو زمین میں ولیس له من دونہ أولیاء اور نہیں ہے اس کے لیے اس اللہ کے علاوہ کوئی اولیاء کوئی مددگار کوئی دوست اولئك فی ضلال مبین یہی یہ لوگ فی ضلال مبین واضح گمراہی میں ہیں جو یہ بات نہیں مانے گا وہ کیا ہے وہی واضح گمراہی میں ہے۔ ألم يروا أن اللہ الذي خلق السماوات یہاں سے پھر اب اللہ کا کلام شروع ہوا اللہ پھر مشرکین مکہ کے بارے میں فرما رہے ہیں ألم يروا کیا انہوں نے دیکھا نہیں أن اللہ الذي خلق السماوات والارض کہ بیشک اللہ ألم يروا کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے پیدا کیا ہے آسمانوں کو اور زمین کو ولم يعیا بخلقه عیی یعیا عیین عیی یعیا عیین کے معنے ہوتے ہیں تھکنے کے تھکنے کے ولم يعیا بخلقه اور وہ تھکا نہیں ان کے پیدا کرنے سے بقادر کہ کہ وہ قادر ہے على أن یحیی الموتی کہ وہ زندہ کرے مردوں کو کہ وہ کیا کرے زندہ کرے مردوں کو بلاس کیوں نہیں إنہ علی کل شيء قدیر بیشک وہ سب کچھ کر سکتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ ألم يروا أن اللہ الذي خلق السماوات والارض کیا دیکھا نہیں ان لوگوں نے کہ اللہ نے جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں کو اور زمین کو اور وہ تھکا نہیں ان کے پیدا کرنے سے وہ قادر ہے اس بات پر کہ وہ مردوں کو زندہ کر دے بلا کیوں نہیں إنہ علی کل شيء قدیر بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے ويوم یعرض الذین کفروا على النار اور وہ دن کہ جس دن پیش کیا جائے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا علی النار آگ پر ألیس هذا بالحق وہ دن جس دن کفر کرنے والوں کو آگ پر پیش کیا جائے گا اور اللہ ان سے فرمائیں گے ألیس هذا بالحق کیا یہ سچ نہیں ہے کیا یہ جہنم بر حق نہیں ہے ألیس هذا بالحق کیا یہ برحق نہیں ہے کیا یہ سچ نہیں ہے قالوا بلاس وربنا وہ کہیں گے بلا کیوں نہیں وربنا قسم ہے ہمارے پروردگار کی بلا وربنا کیوں نہیں واو یہ قسمیا جا رہا ہے بھئی کیوں نہیں قسم ہے ہمارے پروردگار کی یعنی یہ سچ ہے برحق ہے یہ جہنم یہ عذاب۔ قال تو اللہ فرمائیں گے فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون پس چکھو تم عذاب کو بما کنتم تکفرون بسسبب اس کے جو تم کفر کیا کرتے تھے پس چکھو تم عذاب کو بوجہ جو تم کفر کیا کرتے تھے فصبر كما صبر أولوا العزم من الرسل پس صبر کیجیے اے پیغمبر جیسے کہ صبر کیا تھا اولوالعزم پیغمبروں نے اولوالعزم من الرسل جیسے کہ صبر کیا تھا اولوالعزم رسولوں نے عزم کہتے ہیں پختہ ارادے کو پکے ارادے کو بھئی۔ اولوالعزم پکے ارادے والے یعنی ہمت والے ہمت والے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ خطاب فرما رہے ہیں فصبر اے پیغمبر آپ صبر صبر کیجیے كما صبر أولوا العزم من الرسل جیسے کہ صبر کیا اولوالعزم رسولوں نے اولوالعزم رسل بھئی۔ بعض نے لکھا کہ تمام رسول وہ اولوالعزم ہیں۔ تمام رسول اولوالعزم ہیں لیکن مشہور جو ہیں وہ پانچ ہیں بھئی جن کا بیان پہلے بھی ہو چکا پانچ اولوالعزم انبیاء ہیں۔ ایک حضرت نوح علیہ السلام ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ ولا تستعجلہم اور آپ جلدی نہ کیجیے ان کے لیے یعنی ان کے معاملے میں اے پیغمبر آپ جلدی نہ کیجیے ان کے لیے بددعا وغیرہ نہ کیجیے۔ فصبر پس آپ صبر کیجیے جیسے کہ صبر کیا تھا اولوالعزم رسولوں نے اور جلدی نہ کیجیے ان کے بارے میں کانہم یوم یرون ما یوعدون گویا کہ یہ لوگ یوم یرون جس دن یہ دیکھیں گے ما یوعدون جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جس دن یہ اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے لم یلبثوا تو نہیں ٹھہرے یہ الا ساعۃ من نہار مگر ایک گھڑی دن میں سے۔ دنیا کے اندر تو یہ تکبر کرتے ہیں اور تکبر کرتے ہیں نعمتوں میں ہیں پروا ہی نہیں لیکن جب آخرت آئے گی اور آخرت کے شدید عذاب کو یہ دیکھیں گے اپنی آنکھوں سے تو ان کو یوں محسوس ہوگا کہ دنیا میں تو ہم دن سارا دن بھی نہیں رہے دن میں سے ایک گھڑی رہے ہیں کچھ دیر ہم رہے ہیں دنیا کے اندر بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی تو وہ دنیاوی زندگی بھی ان کو پھر کچھ معلوم نہ ہوگی اور ویسے بھی گزرا ہوا وقت انسان کو تھوڑا ہی معلوم ہوتا ہے اور پھر یہاں تو عذاب میں ہوں گے تو وہ تو بالکل وہ جو نعمتوں کے اندر انہوں نے زندگی گزاری وہ بڑی تھوڑی معلوم ہوگی۔ کانہم یوم یرون ما یوعدون لم یلبثوا الا ساعۃ من نہار گویا کہ یہ لوگ جو ہیں جس دن یہ دیکھیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یہ یوں محسوس ہوگا ان کو کہ لم یلبثوا نہیں رہے یہ دنیا میں الا ساعۃ من نہار مگر ایک گھڑی دن میں سے۔ بلاغ ای هذا بلاغ یہ قرآن پہنچا دیا گیا ہے یہ قرآن بلاغ مصدر ہے یہ قرآن پہنچانا ہے یعنی پہنچایا گیا ہے یہ قرآن یعنی یہ بات یہ یوں کہیں یہ بات پہنچا دی گئی ہے فهل یہلک الا القوم الفاسقون حل جب الا کے ساتھ آ جائے تو یہ نفی کے معنی میں ہوتا ہے۔ حل یہ استفہام کے لیے پھر نہیں ہوگا بلکہ نفی فهل یہلک پس نہیں ہلاک کیے جائیں گے الا القوم الفاسقون مگر فاسق لوگ ہی یعنی فاسق لوگ ہی ہلاک ہوں گے اللہ فرما رہے ہیں بلاغ ای هذا بلاغ یہ بات پہنچا دی گئی ہے۔ सारी बातें بیان کر دی گئیں هذا بلاغ یہ بات پہنچا دی گئی ہے اب اب نافرمانی کرنے والے ہی ہلاک ہوں گے۔ اس بات کو سننے کے بعد پھر جو اس کی نافرمانی کریں گے وہی لوگ ہلاک ہوں گے معنی سمجھ میں آ گیا بھئی چلیے بس بھئی هذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقت الكلام