أعوذ بالله من الشیطن الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم. یا أیها الذین آمنوا لا تقدموا بین یدي الله ورسوله واتقوا الله إن الله سمیع علیم. یا أیها الذین آمنوا لا ترفعوا أصواتکم فوق صوت النبی ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض أن تحبط أعمالكم وأنتم لا تشعرون. یہ سورۂ حجرات ہے۔ حجرات جمع ہے حجرت کی، اور حجرت کمرے کو کہتے ہیں بھئی۔ حجرات جمع ہے حجرت کی اور حجرہ کمرے کو کہتے ہیں، اور یہ سورت کے شروع ہی میں چوتھی آیت کے اندر حجرات کا ذکر آ رہا ہے۔ لفظ حجرات آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو رہائشی کمرے تھے، جو گھر تھے، ان کو حجرات کہتے ہیں، تو ان کا ذکر آیا، تو اس لیے اس سورت کو سورۂ حجرات کہتے ہیں بھئی۔ یاد رکھیے! اس سورت کے اندر یہ بتلایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کس طرح تعظیم کرنی چاہیے، کس طرح ادب کا معاملہ کرنا چاہیے، اور نیز اس سورت کے اندر مسلمانوں کے درمیان باہمی اتفاق و اتحاد کے لیے کن اصولوں پر پابند رہنا چاہیے، اس کو بیان کیا گیا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آداب کو بیان کیا گیا ہے، اور دوسرا آپس میں اتفاق و اتحاد کے لیے مسلمانوں کو کن اصولوں پر پابند رہنا چاہیے وہ بیان کیے گئے ہیں اس سورت میں۔ یا أیها الذین آمنوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لا تقدموا تم آگے نہ بڑھو بھئی بین یدي الله ورسوله اللہ اور اس کے رسول کے سامنے۔ اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے رسول کے سامنے آگے نہ بڑھو۔ واتقوا الله اور اللہ سے ڈرو، إن الله سمیع علیم بیشک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ تو کیا معنی میں نے کیا؟ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو لا تقدموا تم آگے نہ بڑھو، سبقت نہ کرو۔ یاد رکھیے! قدم یقدم تقدیم باب تفعیل ہے، اور تقدیم کا معنی ہوتا ہے دوسرے کو آگے کرنا۔ تو یہ فعل متعدی ہے، لیکن یہاں پر یہ باب تفعیل بمعنی باب تفاعل کے ہے، ای لا تتقدموا۔ لا تقدم کس معنی میں ہے؟ لا تتقدم یعنی لازم کے معنی میں ہے، آگے نہ کرو یہ معنی نہیں، بلکہ آگے نہ بڑھو بھئی، خود آگے نہ بڑھو بھئی۔ اور عربی میں اس طرح ہوتا رہتا ہے عام کلام عرب میں کہ ایک فعل کی جگہ دوسرے فعل کو استعمال کر لیا جاتا ہے بھئی۔ یا أیها الذین آمنوا لا تقدموا بین یدي الله ورسوله واتقوا الله. اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے آگے آگے نہ بڑھو، ان کے سامنے سبقت نہ کرو۔ مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا معاملہ جس میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حکم آنے کی توقع ہو خود ہی پہلے ہی آگے بڑھ کر اس کو اس کا فیصلہ کرنے یا اس کی بات کرنے اس کی بات نہ کرو، پہلے خود ہی فیصلہ کر لو۔ حالانکہ توقع ہے کہ اس کے اندر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حکم آئے گا تو ان کی طرف سے حکم کا انتظار کرو، خود ہی آگے بڑھ کر اس کا فیصلہ کرنے کی کوشش نہ کرو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ یہ واقعہ یوں ہوا کہ بنو تمیم والے آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور حضور علیہ السلام کے پاس مختلف قوموں والے آتے تو آ اور اور اس مسلمان ہوتے تو آپ انہی میں سے کسی کو ان پر امیر مقرر کر دیتے تھے۔ انہی قوم والوں میں سے کسی کو ان پر امیر مقرر کر دیا کرتے تھے۔ تو بنو تمیم والے آئے۔ ابھی حضور علیہ السلام نے فیصلہ نہیں فرمایا کہ کس کو امیر بنایا جائے۔ حضور علیہ السلام بھی موجود ہیں۔ حضرت صدیق اکبر، صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ انہوں نے پہلے ہی مشورہ دے دیا کہ میرے خیال میں فلاں کو امیر بنانا چاہیے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے، وہ فرمانے لگے میرے خیال میں فلاں کو امیر ہونا چاہیے۔ اور پھر ان پر تھوڑی سی بحث والی صورت بھی کچھ بن گئی، تو اس پر اللہ کی طرف سے حکم آ گیا کہ اے ایمان والو! جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ایک حکم کے آنے کی توقع ہو، تو پھر ایسے موقع پر کبھی حضور علیہ السلام کے سامنے سبقت نہ کیا کرو، آگے بڑھ کر خود ہی فیصلہ کرنے کی کوشش نہ کرو بھئی۔ یا أیها الذین آمنوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لا تقدموا بین یدي الله ورسوله آگے نہ بڑھا کرو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے۔ واتقوا الله اور اللہ سے ڈرتے رہو، إن الله سمیع علیم بیشک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ یا أیها الذین آمنوا لا ترفعوا أصواتکم فوق صوت النبي اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لا ترفعوا أصواتکم تم اونچی نہ کرو اپنی آوازیں فوق صوت النبي نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر۔ اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اونچی نہ کرو، ان سے اونچی نہ کرو اپنی آوازیں۔ ولا تجهروا له بالقول اور ان کے ساتھ زور سے بات نہ کرو، اونچی آواز سے ان کے ساتھ بات نہ کرو۔ (یرحمك الله) جہر کہتے ہیں بلند آواز سے بات کرنا بھئی، بلند آواز سے، زور سے بات کرنا۔ ولا تجهروا له بالقول اور ان کے ساتھ اونچی آواز کے ساتھ قول نہ کرو، ان کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہ کرو کجهر بعضکم لبعض جیسے کہ تم ایک دوسرے سے اونچی آواز میں کرتے ہو۔ جیسے کہ جیسے آپس میں تو انسان بات کرتا ہے بھئی بے تکلفی کے انداز میں، ہر طریقے سے بات کرتا ہے اونچی آواز میں بھی کہ اللہ فرما رہے ہیں پیغمبر کے مقام بڑا اونچا ہے اور ان کے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کی جائے بھئی۔ جب ایک عام شخص اپنے والد کے سامنے آواز اونچی نہیں کرتا، ایک عام شخص کسی استاد کے سامنے آواز اونچی نہیں کرتا کوئی شاگرد بھی، کوئی عام چھوٹا شخص بھی کسی اپنے افسر کے سامنے آواز بلند نہیں کرتا، تو پیغمبر کا مقام تو سب سے اونچا ہے، تو ان کے سامنے تو نہایت ادب اور احترام کی ضرورت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ كجهر بعضکم لبعض جیسے کہ تم میں سے بعض بعض کے ساتھ اونچی آواز سے کرتے ہیں ان تحبط أعمالكم کہ کہیں تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں، اکارت ہو جائیں وانتم لا تشعرون اور تم کو شعور بھی نہ ہو، تم کو خبر بھی نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو تم اونچی آواز میں بات کرو، تمہیں تو پروا نہیں اور کہیں یہ بے ادبی کی وجہ سے، اس گستاخی کی وجہ سے کہیں ایسا نہ ہو تمہارے سارے اعمال ہی ضائع ہو جائیں بھئی، اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ یا أیها الذین آمنوا لا ترفعوا أصواتکم فوق صوت النبي اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بلند کرو اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز پر۔ ولا تجهروا له بالقول اور ان کے ساتھ اونچی آواز میں بات نہ کرو كجهر بعضکم لبعض اور جیسے کہ تم میں سے بعض بعض کے ساتھ زور سے بات کرتے ہیں ان تحبط أعمالكم کہیں تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں وانتم لا تشعرون اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ إن الذین یغضون أصواتہم عند رسول الله بیشک وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں، غض یغض کے معنے پست رکھتے ہیں، نیچی رکھتے ہیں۔ بیشک وہ لوگ جو نیچی رکھتے ہیں أصواتہم اپنی آوازوں کو عند رسول الله اللہ کے پیغمبر کے پاس۔ أولئك الذین امتحن الله قلوبہم للتقوی کس کے لیے؟ تقوی کے لیے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں کو اللہ نے تقوی کے لیے جانچ لیا ہے، پرکھ لیا ہے اللہ نے ان کے دلوں کو تقوی کے لیے۔ لهم مغفرة وأجر عظیم ان کے لیے مغفرت ہے اور عظیم اجر ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ إن الذین یغضون أصواتہم بیشک وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازوں کو اللہ کے پیغمبر کے پاس، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے جانچ لیا ہے، پرکھ لیا ہے، آزما لیا ہے تقوی کے لیے۔ یہ ایک معنی بھئی امتحن الله جن کے دلوں کو اللہ نے آزما لیا ہے، پرکھ لیا ہے۔ دوسرا معنی یہی وہ لوگ ہیں امتحن الله کہ اللہ نے خالص کر دیا ہے قلوبہم للتقوی ان کے دلوں کو تقوی کے لیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ یہ معنی کرتے ہیں امتحنہ کا بھئی کہ ان کے دلوں کو اللہ نے خالص کر دیا ہے تقوی کے لیے۔ لهم مغفرة وأجر عظیم ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے۔ روایات میں آتا ہے ان آیات کے نازل ہونے کے بعد بھئی۔ صحابہ بڑی آہستہ آواز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے تھے۔ حضرت حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ، جن کی آواز طبعاً بلند تھی، طبعاً بلند آواز تھی، وہ بھی بعض مرتبہ کلام کرتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ عمر کیا کہا تم نے، مجھے تو سمجھ نہیں آیا، میں نے نہیں سنا۔ تو انہیں پھر بات دہرانا پڑتی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ إن الذین ینادونك من وراء الحجرات أكثرهم لا یعقلون۔ إن الذین بیشک وہ لوگ ینادونك جو آپ کو ندا دیتے ہیں، جو آپ کو پکارتے ہیں، من وراء الحجرات حجروں کے پیچھے سے۔ حجروں کے پیچھے سے۔ وراء کا میں نے معنی بتلایا تھا، کیا معنی تھا؟ اس کے معنی آگے کے بھی ہیں اور پیچھے کے بھی ہیں، یہ اضداد میں سے ہیں۔ اور ایسا آگے اور پیچھے جو نظروں سے اوجھل ہو بھئی۔ تو من وراء الحجرات حجروں کے پیچھے سے۔ یعنی مراد ہے حجروں کے باہر سے بھئی۔ حجروں کے باہر، یہ نہیں مراد پچھلی طرف سے حجروں کے، بلکہ کیا مراد ہے؟ یعنی باہر سے حجروں کے۔ بیشک وہ لوگ جو آپ کو پکارتے ہیں حجروں کے باہر سے، أكثرهم لا یعقلون ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔ ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔ یہ بنو تمیم والے آئے تھے، عرب کا ایک قبیلہ بڑا۔ اور دوپہر کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر آرام فرما رہے تھے۔ تو آپ نے اپنی ازواج مطہرات کے لیے مسجد نبوی کے ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے حجرے بنا رکھے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑے چھوٹے چھوٹے سے حجرے، اور جن کی چھتیں بھی بڑی نیچی بھئی، سر سے معمولی سی کوئی اونچی چھتیں اور چھوٹے چھوٹے گھر تو یہ حجرات تھے حضور علیہ السلام کے رہائشی کمرے، ان کے گھر بھئی۔ تو ہر زوجہ مبارکہ کو ایک ایک حجرہ دیا ہوا تھا۔ اور بنو تمیم والے آئے بھئی۔ اور دوپهر کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آرام فرما رہے تھے۔ انہوں نے باہر سے ہی پکارنا شروع کر دیا، جیسے ایک عام آدمی کو جس طرح پکارتے ہیں دیہاتی لوگ تھے، آداب کا پتہ ہی نہیں تھا، تو باہر سے آوازیں دینے لگے، یا محمد! اخرج إلینا۔ محمد! ہمارے پاس باہر آئیے۔ تو اس پر یہ آیتیں اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں بھئی۔ إن الذین ینادونك من وراء الحجرات أكثرهم لا یعقلون۔ بیشک وہ لوگ جو آپ کو پکارتے ہیں حجروں کے پیچھے سے، أكثرهم لا یعقلون ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔ ولو أنهم صبروا اگر یہ لوگ صبر کرتے حتی تخرج إلیهم یہاں تک کہ آپ ان کے پاس نکل کر آتے، یعنی آپ خود ہی ان کے پاس نکل کر آتے، لكان خیراً لہم تو یہ ان کے بہتر ہوتا، والله غفور رحیم اور اللہ بخشنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ بخشنے والے ہیں، ان کی کوئی نیت ایسی خراب نہیں تھی، ہاں یہ آداب سے ناواقف لوگ تھے، دیہاتی لوگ تھے، تو اللہ فرما رہے ہیں اللہ بخشنے والے ہیں، رحم فرمانے والے ہیں۔ تو یہ اگر صبر کرتے، یہاں تک کہ حضور علیہ السلام خود ہی جس وقت چاہتے اس وقت باہر تشریف لے آتے، ان کو پکارنا نہیں چاہیے تھا، باہر ہی انتظار کرتے اطمینان کے ساتھ، یہاں تک کہ پیغمبر خود ہی گھر سے باہر تشریف لاتے، تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔ یا أیها الذین آمنوا إن جائكم فاسق بنبإ فتبیانو أن تصیبوا قوماً بجہالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین۔ یا أیها الذین آمنوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! إن جائكم فاسق اگر آئے تمہارے پاس کوئی فاسق بنبإ کسی خبر کے ساتھ۔ یعنی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، إن جائكم فاسق بنبإ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے، فتبیانو تو تحقیق کر لیا کرو، تببینا کے کیا معنی ہیں؟ تحقیق کرنے کے۔ فتبیانو تو تحقیق کر لیا کرو أن تصیبوا قوماً یہ کہ تم جاپوڑو کسی قوم پر۔ اصابہ کے معنی پہنچنا، أن تصیبوا قوماً تو تم کسی قوم پر جاپہنچے، یعنی کسی قوم پر جاپڑو، یعنی کسی قوم پر جاپڑو، یعنی ان پر حملہ آور ہو جاؤ، بجہالة نادانی کی وجہ سے فتبصحوا پس تم ہو جاؤ علی ما فعلتم اپنے کیے ہوئے پر نادمین نادم کرنے والے، پچھتانے والے۔ اللہ فرما رہے ہیں بھئی، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو تو تم کسی قوم پر جاپڑو نادانی میں، نادانی میں کسی قوم پر جاپڑو یعنی ان پر حملہ آور ہو جاؤ، فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین پھر اپنے کیے پر پچھتانے لگو بعد میں۔ تو پہلے کیا کر لیا کرو؟ تحقیق کر لیا کرو بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابن جریر رحمہ اللہ اور دیگر مفسرین ایک واقعہ ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی تھے حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ۔ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ اکٹھی کرنے کے لیے قبیلہ بنو مصطلق کی طرف بھیجا۔ قبیلہ بنو مصطلق، میم ہے، صاد، ط، لام اور قاف دو نقطوں والا۔ مصطلق، صاد، ط، لام، قاف بھئی۔ تو حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ لینے کے لیے قبیلہ بنو مصطلق کی طرف بھیجا۔ قبیلہ بنو مصطلق۔ تو یہ وہاں زکوٰۃ لینے کے لیے جب بستی کے قریب پہنچے، تو وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے کے استقبال کے لیے بستی سے باہر سارے اکٹھے ہو گئے۔ خبر ملی کہ وہ آ رہے ہیں۔ سارے استقبال کے لیے باہر جمع ہو گئے۔ ادھر حضرت ولید ابن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ جب بستی کے قریب پہنچے، دور سے دیکھا لوگ سارے باہر جمع ہیں۔ ان کی ان بستی والوں سے اسلام لانے سے پہلے دشمنی تھی بھئی۔ تو ان کے ذہن میں آیا کہ شاید یہ لوگ مجھ پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہیں بھئی۔ شاید وہ پرانی دشمنی ان کے ذہنوں میں ہے ابھی تک اور یہ بدلہ لینے کے لیے جمع ہیں بھئی۔ تو یہ غلط فہمی ہوئی ان کو۔ چنانچہ یہ وہیں سے بھاگ کر واپس آ گئے اور آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا کہ یا رسول اللہ! وہ لوگ تو مرتد ہو گئے ہیں۔ زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں۔ زکوٰۃ دینے سے انکاری ہیں۔ اس پر اللہ کے، اس پر حضور علیہ السلام نے حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو مقرر کیا کہ جا کر تحقیق کریں۔ اگر وہ لوگ واقعی مرتد ہو گئے ہیں تو ان سے جنگ کی جائے، لڑائی کی جائے۔ حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے پتہ کروایا اور فرمایا کہ نہیں یا رسول اللہ! وہ تو اسی طرح اسلام پر قائم ہیں۔ وہ تو استقبال کے لیے باہر نکلے تھے، لڑنے کے لیے نہیں نکلے تھے۔ تو اس پر پھر اللہ، اسی موقع پر اللہ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی۔ یا ایہا الذین آمنوا! اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ان جاکم فاسق بنبا، اگر تمہارے پاس کوئی فاسق، کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ ان تصیبوا قوما بجہالت، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم جاپڑو کسی قوم پر جہاد، نادانی میں۔ کسی قوم پر حملہ آور ہو جاؤ نادانی میں۔ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین، پھر بعد میں اپنے کیے پر پچھتانے لگو۔ یہ مفسرین حضرات جو ہیں، اس واقعے کو بھی ذکر کرتے ہیں اس موقع پر بھئی۔ اور پھر اس پر اشکال ہوتا ہے کہ قرآن کے اندر فاسق کا لفظ آیا ہے اور یہ فاسق کو خبر لے کر کون آئے تھے حضور علیہ السلام کے پاس؟ حضرت ولید ابن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ صحابی تھے۔ تو صحابی کے لیے فاسق کا لفظ قرآن میں آ جائے، یہ صحابہ کی عدالت کے منافی ہے بھئی۔ صحابہ تو سب کے سب کیا ہیں؟ عادل ہیں۔ تو ان کے لیے ایسا لفظ آ جائے قرآن میں، یہ ان کی عدالت کے منافی ہے۔ تو مفسرین حضرات جب یہ واقعہ ذکر کرتے ہیں، تو یہ اعتراض تو پڑتا ہے کہ یہ تو صحابی کے لیے فاسق کا لفظ آ رہا ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ صحابہ سے بھی گناہ ہوئے۔ صحابہ سے بھی گناہ، بعض صحابہ سے گناہ ہوئے لیکن بعد میں اللہ نے ان کو توبہ کی توفیق دی۔ اللہ نے ان کو توبہ کی توفیق دی، لہذا اس سے ان کی عدالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی! جیسے کہتے ہیں حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ تھے، ان سے زنا سرسد ہوا، سرزد ہوا تھا اور پھر ان کو رجم کیا گیا بھئی، رجم کیا گیا۔ اور پھر حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ ماعز، رجم کے بعد کہ ماعز جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہے ہیں بھئی۔ تو یہ مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ صحابہ سے بھی غلطیاں ہوئیں اور غلطیاں ہوئیں اور پھر لیکن اللہ نے سب کو توبہ کی توفیق دی تو اس سے ان کی عدالت میں کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے اس شان نزول کو اگر لیا جائے تو فاسق کے لفظ سے پھر کون مراد ہوئے؟ صحابی مراد ہوئے بھئی۔ اور جواب بھی ہو گیا اس کا۔ لیکن بھئی کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ فاسق کے لفظ کو صحابی پر چسپاں کرنے کی؟ جبکہ اس روایت کی سند اتنی مضبوط بھی نہیں اور پھر اس میں اختلاف بھی ہے، کوئی کس طرح اس واقعے کو ذکر کرتے ہیں، کوئی کس طرح ذکر کرتے ہیں۔ سند بھی قوی نہیں اور روایت میں بھی اختلاف ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ولید ابن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ جب بستی کے قریب پہنچے ہوں گے، لوگ باہر اکٹھے ہوں گے، ان کو قریب کے کسی آدمی نے گزرنے والے نے بتلایا ہوگا، اس نے کہا ہوگا کہ یہ لوگ تو آپ کو مارنے کے لیے جمع ہوئے ہیں باہر سارے۔ اس نے خبر دی ہوگی، اس شخص نے خبر بھئی، انہوں نے بھی دیکھا ہوگا، ذہن میں انسان کے کیا تھا یہ کیوں جمع ہیں اور پھر پرانی دشمنی بھی تھی۔ پھر یہ پاس کوئی، یا کوئی کھیتوں میں کام کر رہا ہوگا، یا کوئی اور گزرنے والا ہوگا جو فاسق، اس نے کہا کہ یہ لوگ تو مذاق کے طور پر کہہ دیا ہو یا کچھ بہرحال اس نے کہہ دیا، تو اس نے خبر دی اور حضرت ولید ابن عقبہ جو ہیں وہ اس کو سچ سمجھے اور واپس مدینہ منورہ آ گئے۔ مدینہ منورہ آ گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بظاہر یہ ہے معلوم ہوتا ہے اور اگر اس واقعے کو مانا جائے، کیا کیا جائے؟ اگر اس واقعے کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر یوں ہوا ہوگا دراصل یہ واقعہ بھئی، علماء لکھتے ہیں بھئی، یوں ہوا ہوگا اور تو قرآن میں یہ جو فاسق کا لفظ آیا، اس سے مراد وہ حضرت ولید ابن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو خبر دینے والا مراد ہے کہ اگر کوئی فاسق خبر دے تو اس کی کیا کر لیا کرو؟ تحقیق کر لیا کرو۔ حضرت ولید ابن عقبہ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ تمہیں اگر کسی نے خبر دے دی تھی تو تمہیں کیا کرنا چاہیے تھی؟ تحقیق کرنا چاہیے تھی، اس کے بعد آگے بیان کرنا چاہیے تھا، بغیر تحقیق کے آگے بیان نہیں کرنا چاہیے تھا اور اس کی تائید ہوتی ہے بعض روایتوں سے بھی، جن میں یہ لفظ ملتے ہیں کہ فحدثہ الشیطان، شیطان نے ان کو بتلایا۔ کس نے بتلایا؟ شیطان نے ان کو بتلایا۔ اور ظاہر یہی ہے کہ شیطان انسانی صورت میں آ کر اس نے بتایا ہوگا، جان بوجھ کر بات کو خراب کرنے کے لیے باقاعدہ کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ سن چکے ہیں واقعات کہ شیطان بعض اوقات اس موقع پر باقاعدہ انسانی شکل میں آ جایا کرتا تھا، حضور علیہ السلام کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے بھئی۔ ان کے مشوروں میں، مشرکین مکہ کے مشوروں میں باقاعدہ انسانی شکل میں آ کر شریک ہو جایا کرتا تھا تو یہاں بھی اس نے کیا کیا ہوگا؟ انسانی شکل میں ہی آ کر بتلایا ہوگا بھئی، بتلایا ہوگا تو مقصد یہ ہے کہنے کا کہ کیا ضرورت ہے اس فاسق کے لفظ کو بلاوجہ صحابی پر اس کا اطلاق کرنے کی؟ جبکہ اس واقعے کی روایت جو ہے، سند کے اعتبار سے بھی قوی نہیں اور اس میں اختلاف بھی ہے، اس کی بجائے فاسق کے لفظ کو اس مخبر پر لگانا چاہیے جس نے حضرت ولید ابن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اطلاع دی تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بہرحال قرآن میں مطلق حکم بیان ہوا لیکن مفسرین حضرات یہ واقعہ ساتھ ذکر کرتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں پھر بھئی۔ میں نے بتلایا، خواہ مخواہ اس لفظ کو صحابی پر چسپاں کرنے کی کیا ضرورت ہے بھئی؟ یہ مناسب نہیں بھئی، خاص طور پر جبکہ اس واقعے کی سند بھی قوی نہیں ہے، مضبوط نہیں ہے اور اس میں اختلاف بھی ہے، کوئی کس طرح بیان کرتا ہے اور کوئی کس طرح اور نیز عقلن بھی عقل بھی اس بات کو قبول نہیں کرتی بھئی، آپ خود غور کریں۔ حضرت ولید ابن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جو آ کر یہ بتلایا کہ وہ قوم مرتد ہو گئی ہے، انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے، کیا یہ بات اپنی طرف سے انہوں نے گھڑ لی تھی یا غلط فہمی کے نتیجے میں ان کے ذہن میں آئی تھی؟ تو ان کے ذہن میں غلط فہمی کے نتیجے میں ایک بات ذہن میں آئی تھی یہ نہیں کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایک غلطی کی بلکہ غلط فہمی کے نتیجے میں آئی یہ بات ان کے ذہن میں اور انہوں نے آ کر بیان کر دی تو یہ غلط فہمی کے نتیجے میں ایک بات کی جائے، اس کی بنا پر قرآن ان کو فاسق قرار دے دے، ایسا نہیں ہو سکتا، یہ بات عقل میں بھی نہیں آتی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو عقلن بھی یہ، یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی اور روایتاً بھی یہ بات اتنی قوی نہیں ہے بھئی بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس کو کس پر لگایا جائے؟ اس کو چسپاں کیا جائے وہ جس نے حضرت ولید ابن عقبہ کو، ولید ابن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جس نے خبر دی تھی، اس کو فاسق کہا جائے بھئی، اس پر اطلاق کیا جائے اس کا، وہ مراد ہو اس سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس پر اس لفظ کو چسپاں کیا جائے، یہ زیادہ مناسب ہے بجائے اس کے کہ صحابی پر اس لفظ کا کو چسپاں کیا جائے اور وہ مراد لیے جائیں بھئی۔ یا ایہا الذین آمنوا ان جاکم فاسق بنبا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے، فتبینوا تو تحقیق کر لیا کرو، ان تصیبوا قوما بجہالت تم یہ کہیں تم حملہ آور ہو جاؤ کسی قوم پر جہالت میں، نادانی میں، فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین، پس ہو جاؤ تم اپنے کیے ہوئے پر پچھتانے والے۔ واعلموا اور جان لو ان فیکم رسول اللہ، کہ بے شک تمہارے درمیان اللہ کے پیغمبر ہیں، لو یطیعکم فی کثیر من الامر، اگر وہ اطاعت کریں تمہاری، یعنی تمہاری بات مان لیں، اگر وہ تمہاری بات مان لیں فی کثیر من الامر بہت سے معاملات میں، لعنتکم تو البتہ تم تکلیف میں پڑ جاؤ۔ اگر تمہارے درمیان اللہ کے پیغمبر موجود ہیں، اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کریں، لعنتکم تو تم کس میں پڑ جاؤ؟ تکلیف میں پڑ جاؤ گے۔ ولاکن اللہ کیونکہ ہر ایک اپنا اپنا مشورہ دے گا بھئی۔ ہر ایک اپنا مشورہ۔ ولاکن اللہ حبب الیکم الایمان، لیکن اللہ نے محبت ڈال دی ہے تم میں ایمان کی، حببہ کے معنی حببہ الیکم یا حببہ لکم، اس کا معنی ہوتا ہے محبت ڈالنا۔ تم میں اللہ نے ایمان کی محبت ڈال دی ہے۔ ولاکن اللہ حبب الیکم الایمان، لیکن اللہ نے تم میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، ونسینہ فی قلوبکم، اور اس کو خوب مزین کر دیا ہے تمہارے دلوں میں، خوشنما بنا دیا ہے اسے تمہارے دلوں میں، یعنی ایمان کو۔ ونسینہ فی قلوبکم، اس کو پرکشش بنا دیا ہے تمہارے دلوں میں۔ وکرہ الیکم الکفر، یہ کرہ حببہ کی ضد ہے بھئی۔ کرہ حببہ کی ضد۔ حببہ کا کیا معنی تھا؟ دل میں محبت ڈالنا اور کرہ دل میں نفرت ڈالنا۔ وکرہ الیکم الکفر والفسوق والعصیاں، اور نفرت ڈال دی ہے تم میں کفر کی، والفسوق اور گناہ کی، والعصیاں اور نافرمانی کی۔ کفر، گناہ اور نافرمانی کی نفرت تمہارے دل میں اللہ نے ڈال دی ہے۔ اولئک ھم الراشدون، یہی لوگ راہ راست پر ہیں، یہی لوگ سیدھی راہ پر ہیں۔ راشد وہ شخص جو سیدھے راستے پر ہو، جو راہ راست پر ہو بھئی۔ اولئک ھم الراشدون، یہی لوگ سیدھی راہ پر ہیں۔ واعلموا اے ایمان والو! جان لو ان فیکم رسول اللہ، کہ بے شک تم میں اللہ کے پیغمبر ہیں، لو یطیعکم فی کثیر من الامر، اگر وہ تمہاری بات مان لیں بہت سے معاملات میں لعنتکم، تو البتہ تم تکلیف میں پڑ جاؤ گے، ولاکن اللہ حبب الیکم الایمان، لیکن اللہ نے تم میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، ونسینہ فی قلوبکم، اور اس ایمان کو پرکشش بنا دیا ہے تمہارے دلوں میں، وکرہ الیکم الکفر والفسوق والعصیاں، اور تم میں نفرت ڈال دی ہے کفر کی، اور گناہ کی، اور نافرمانی کی۔ اولئک ھم الراشدون، یہی لوگ ہیں سیدھی راہ پر۔ فضلا من اللہ و نعمتا، اللہ کی طرف سے بطور فضل کے اور انعام کے، اللہ کی طرف سے فضل اور انعام کی وجہ سے، واللہ علیم حکیم، اور اللہ سب کچھ جاننے والے ہیں، حکمت والے ہیں۔ و ان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما، اور اگر دو گروہ، طائفہ تن بھئی۔ یاد رکھیے طائفہ کا اطلاق ایک سے لے کر ہزار تک پر ہوتا ہے۔ طائفہ کا اطلاق ایک سے لے کر ہزار تک پر ہوتا ہے۔ و ان طائفتان من المؤمنین، اور اگر طائفتان تثنیہ آیا، اور اگر دو جماعتیں مومنین میں سے اقتتلوا وہ لڑ پڑیں فاصلحوا بینھما، تو ان کے درمیان اصلاح کروا دیا کرو یا یہ ترجمہ کر لیں، تو ان کے درمیان صلح کروا دیا کرو۔ اگر مومنین کی دو جماعتیں لڑ پڑیں فاصلحوا بینھما، تو ان میں صلح کروا دیا کرو، فان بغت احدھما علی الاخری، اگر سرکشی کرے، بغا یبغی سرکشی کرنا، اسی سے ہے باغی، اسی سے ہے بغاوت بھئی۔ اسی سے باغی اور بغاوت بھئی۔ فان بغت احدھما، پس اگر بغاوت کرے، یا یہ ترجمہ کر لیں، فان بغت اگر سرکشی کرے، یا یہ ترجمہ کر لیں، فان بغت اگر زیادتی کرے، فان بغت احدھما علی الاخری، پس اگر ان دو طائفوں میں سے ایک طائفہ زیادتی کرے علی الاخری، دوسرے طائفے پر، فقاتلوا التی تبغی، تو تم لڑو ان سے جو زیادتی کرنے وا، جو زیادتی کرتے ہیں، حتی تفیء۔ فاءا کے معنی لوٹنے کے، فاءا یفیء کے معنی لوٹنے رجوع کرنے کے۔ حتی تفیء الی امر اللہ، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف، وہ رجوع کر لے اللہ کے حکم کی طرف، فان فاءت، پس اگر وہ رجوع کر لے، فاصلحوا بینھما بالعدل، تو صلح کروا دو ان کے درمیان عدل کے ساتھ۔ زیادتی کرنا، اگر ایک زیادتی کر، اگر دو مسلمانوں کی جماعتیں آپ اپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو، اور اگر ایک جو ہے وہ زیادتی کرتے ہی چلے جا رہے ہیں، تو پھر تم بھی سب مل کر ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں بھئی، اپنی زیادتی کو چھوڑ دیں، پس جب وہ رجوع کر لیں، تو پھر یہ نہیں کہ ان کے ساتھ پھر تم ظلم و زیادتی کرنے لگو، بلکہ پھر کیا کرو؟ ان دونوں میں عدل و انصاف کے ساتھ صلح کروا دو، واقسطو اور انصاف کرو۔ یا واقسطو، انصاف کرو۔ ان اللہ یحب المقسطین، بے شک اللہ پسند کرتے ہیں انصاف کرنے والوں کو۔ و ان طائفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما، اور اگر مومنین کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں فاصلحوا بینھما، تو ان دونوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو، فان بغت احدھما علی الاخری، پس اگر زیادتی کرے ان دو میں سے ایک طائف ایک جماعت دوسری پر، فقاتلوا التی تبغی، تو تم لڑو اس سے جو زیادتی کرتے ہیں، حتی تفیء الی امر اللہ، یہاں تک کہ وہ رجوع کر لیں اللہ کے حکم کی طرف، فان فاءت، پس اگر وہ رجوع کر لیں فاصلحوا بینھما بالعدل، تو ان میں صلح کروا دو عدل سے، واقسطو اور انصاف کرو۔ ان اللہ یحب المقسطین، بے شک اللہ پسند کرتے ہیں انصاف کرنے والوں کو۔ انما المومنون اخوہ، مومنین تو بھئی بھئی ہی ہیں۔ انما المومنون اخوۃ، مومنین تو بھئی بھئی ہی ہیں۔ فاصلحوا بین اخویکم، پس صلح کروا دیا کرو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان، واتقوا اللہ، اور اللہ سے ڈرو، لعلکم تررحمون، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یا ایہا الذین آمنوا لا یسخر قوم من قوم، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لا یسخر۔ مذاق نہ کرے قوم من قوم، مرد مردوں سے، مرد مردوں سے، مرد مردوں کا مذاق نہ اڑائیں عسا ان یکونو خیرا منھم، شاید کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ مرد مردوں کا مذاق نہ اڑائیں، ہو سکتا ہے جن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، وہ ان مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں بھئی۔ ولا نساء من نساء، اور نہ عورتیں عورتوں سے، یعنی نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں عسا ان یکنہ خیرا منھن، شاید کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ یعنی جن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے اور عورتوں کا شاید وہ ان مذاق اڑانے والیوں سے بہتر ہوں. ولا تلمزوا انفسکم. اور لمازہ یلمزو کے معنی ہوتے ہیں عیب لگانے کے، طعنہ دینے کے. ولا تلمزوا انفسکم اور تم اپنے نفسوں پر عیب نہ لگاؤ. ایک معنی یہ، تم اپنے نفسوں پر ولا تلمزوا اور تم اپنے نفسوں پر عیب نہ لگاؤ. کیا معنی اپنے نفسوں پر عیب نہ لگاؤ یہ پہلا ترجمہ کر رہا ہوں بھئی دو ترجمے ہوں گے، تم اپنے نفسوں پر عیب نہ لگاؤ. بھئی معنی یہ کہ جب انسان دوسرے پر عیب لگائے گا، تو دوسرا اس پر عیب لگائے گا، تو دیکھو اس کا عیب لگانا سبب بن گیا خود اس کی اپنی ذات پر عیب لگنے کا، گویا اس نے خود ہی اپنے اوپر کیا کیا ہے؟ عیب لگایا ہے. بات سمجھ میں آئی؟ کیونکہ سبب یہ بنا ہے عیب لگنے کا تو یہ معنی. کہ ولا تلمزوا انفسکم تم اپنے اوپر اپنے نفسوں پر اپنی جانوں پر عیب نہ لگاؤ. دوسرا معنی ولا تلمزوا انفسکم دوسروں پر عیب نہ لگاؤ. اور وہ دوسرے بھی تم ہی میں سے ہیں نا، مومنین ہیں. تو مراد کیا ہے؟ اپنے نفس یعنی دوسرے مومنین مراد ہیں. دوسرے مومنین پر عیب (یعنی اپنوں میں سے دوسروں پر عیب نہ لگاؤ، طعنے نہ دو ان کو بھئی طعنے نہ دو. ولا تلمزوا انفسکم اور تم طعنے نہ دو دوسروں کو. ولا تو دوسرا معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ دوسروں کو طعنے نہ دو. ولا تنابزوا بالالقاب. تنابز بالالقاب کا معنی ہے برے لقب سے پکارنا بھئی. دوسرے کو برا لقب دینا بھئی، دوسرے کو برا لقب دینا. ولا تنابزوا بالالقاب اور برے لقبوں سے نہ پکارو بھئی. دوسروں کو بھئی، دوسروں کو برے برے نام نہ دو. مثلاً کسی کو کہہ دیا او احمق یا او بے وقوف یا اس طرح کے سمجھ میں آیا؟ یا کسی کو کیا کہا رنگ کالا ہے او کالے. تو اس طرح کے برے برے لقب نہ دو جس کو دوسرے ناپسند کریں بھئی. ولا تنابزوا بالالقاب اور برے لقب سے نہ پکارو، برے لقب نہ دو بئس الاسم الفسوق بعد الایمان. بئس الاسم بڑا برا ہے، کتنا برا ہے نام الفسوق گناہگاری. گناہگاری کتنا برا نام ہے بعد الایمان ایمان کے بعد. ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ بئس الاسم الفسوق بعد الایمان کتنا برا نام ہے گناہگاری ایمان کے بعد. یا یوں کہو کتنا برا نام ہے فاسق ہونا ایمان کے بعد. کتنا برا نام ہے یعنی ایمان کے بعد فاسق ہونا یا فاسق کا نام لگنا بڑی بری چیز ہے. مومن ہو اور اس پر فاسق کا نام لگایا جائے یہ کتنی بری بات ہے. پہلے مومن تھا اب کیا نام پڑ گیا؟ فاسق نام پڑ گیا بھئی. کیا معنی اس کا؟ معنی یہ ہے کہ یہ ایسا شخص جو دوسرے کو برے ناموں سے پکارتا ہے کیا کرتا ہے؟ اللہ فرما رہے ہیں برے ناموں سے نہ پکارو دوسروں کو جو شخص دوسروں کو برے ناموں سے پکارتا ہے تو باقیوں میں بھی وہ مشہور ہو جاتا ہے کہ یہ تو بڑا برا آدمی ہے کیا ہے؟ بڑا برا آدمی ہے دوسروں کو برے برے نام دیتا ہے تو دیکھو دوسرے کے برے نام لیتا تھا دوسرے کا تو پڑے یا نہ پڑے اپنا نام برا پڑ گیا یعنی اس آدمی کا کہنے والے کا اپنا ہی نام برا پڑ گیا اس کا اپنا ہی نام فاسق پڑ گیا بھئی. صورت سمجھ میں آگئی تو یہ معنی ہے کہ بڑا ہی برا ہے فاسق کا نام لگنا ایمان کے بعد فاسق نام پڑ جانا ایمان کے بعد بڑا برا ہے. پہلے تو مومن تھا اب اس کو لوگ کیا کہنے لگے؟ فاسق کہنے لگے. ومن لم یتب اولئک ھم الظالمون اور جو توبہ توبہ نہیں کرتا تو یہی لوگ ہیں ظالم کرنے والے. یا ایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو نہ مذاق اڑائیں مرد مردوں کا عسی ان یکونوا خیرا منھم شاید کہ یہ مذاق جن کا اڑایا گیا یہ بہتر ہوں ان سے جو مذاق اڑانے والے ہیں ولا نساء من نساء اور نہ مذاق اڑائیں عورتیں عورتوں کا عسی ان یکنن خیرا منھن شاید کہ یہ جن کا مذاق اڑایا گیا یہ بہتر ہوں ان سے جن جو مذاق اڑانے والیاں ہیں ولا تلمزوا انفسکم اور تم ایک دوسرے آپس میں اور ولا تلمزوا انفسکم اور تم آپس میں طعنے نہ دو. تم آپس میں طعنے نہ دو ولا تنابزوا بالالقاب اور نہ برے لقبوں سے پکارو بئس الاسم الفسوق بعد الایمان کتنا برا ہے فاسق کا نام لگنا ایمان لانے کے بعد فاسق نام پڑ جانا کتنا برا ہے ایمان کے بعد ومن لم یتب اولئک ھم الظالمون اور جو توبہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں. یا ایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اجتنبوا تم اجتناب کرو تم بچو کثیرا من الظن بہت سے گمانوں سے. اے لو اے مومنو تم زیادہ گمان کرنے سے بچا کرو، زیادہ گمان تم بچا کرو بہت سے گمانوں سے ان بعض الظن اسم بے شک بعض ظن جو ہوتے ہیں، بعض گمان جو ہوتے ہیں اسم گناہ ہوتے ہیں. کسی کے بارے میں خود ہی برے برے گمان کرنا بھئی، بات کی تحقیق ہے نہیں، حقیقت کا پتہ نہیں، کیا کرتے ہیں؟ لوگ عموماً بدگمانی ویسے ہی شروع کر دیتے ہیں بھئی. تو میں نے بتلایا اس سورت کے اندر مسلمانوں کے آپس میں اتفاق و اتحاد کے اصول بھی بیان ہوں گے، جیسے کئی اصول بیان ہوئے بھئی اور کچھ بیان ہو رہے ہیں. ایک اصول یہ بیان ہوا کہ ایک دوسرے کو طعنے نہ دیا کرو، عیب نہ لگایا کرو، یہ آپس میں نفرت کا سبب بنتا ہے، ایک دوسرے کو برے نام نہ دیا کرو، یہ بھی کس کا سبب بنتا ہے؟ خرابی کا سبب بنتا ہے. اور اسی طرح ایک دوسرے کے بارے میں طرح طرح کے گمان نہ کیا کرو، بہت سے گمان، بعض گمان جو ہیں وہ گناہ ہوا کرتے ہیں. ولا تجسسوا اور جاسوسی نہ کیا کرو. کہ دوسرے کے عیبوں کے پیچھے پڑنا، اس کی ٹوہ میں لگے رہنا کہ کسی طرح مجھے اس کا کوئی عیب ملے تو سہی تو پھر میں اس کو سب کے سامنے کیا کروں؟ شرمندہ کروں. تو اللہ فرما رہے ہیں ولا تجسسوا اور جاسوسی نہ کیا کرو، یعنی بھیدوں کے پیچھے نہ پڑا کرو. ولا یغتب بعضکم بعضا اور نہ غیبت کرے تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی، اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، یا رسول اللہ! غیبت کیا چیز ہے؟ تو اپ فرمانے لگے کہ کہ کسی شخص کی ایسی بات غیر موجودگی میں ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو. ایسی بات ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو، اس کی غیر موجودگی میں ایسی کوئی بات کی جائے، یہ غیبت ہے. تو بعض نے پوچھا یا رسول اللہ! اگر اس میں وہ عیب واقعی موجود ہو پھر؟ پھر تو ذکر ہو سکتا ہے. حضور علیہ السلام فرمانے لگے اگر واقعی موجود ہو تو پھر تو یہ غیبت ہے، اگر عیب ہی موجود نہیں ہے اس کے اندر پھر تو یہ تو بہتان ہوا بھئی. یہ تو دوہرا گناہ ہو گیا بھئی. سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تو پھر بہتان ہو گیا حدیث میں آیا. ایحب احدکم ان یأکل لحم اخیہ میتا کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی ایک کہ وہ کھائے لحم اخیہ اپنے بھئی کے گوشت کو میتا اس حال میں کہ وہ بھئی کیا ہو؟ مردہ ہو. فکریتموہ تو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو. ایحب احدکم بھئی غیبت اسی طرح ہے جیسے انسان اپنے مردہ بھئی کا گوشت کھائے بھئی. کتنی قبیح چیز ہے یہ بھئی، کتنی قبیح بات ہے غیبت بھئی، کیسے اللہ بیان فرماتے ہیں اس کو. ایحب احدکم ان یأکل لحم اخیہ میتا فکریتموہ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کہ وہ کھائے اپنے مردہ بھئی کے گوشت کو پس اس کو تم ناپسند کرتے ہو واتقواللہ اور اللہ سے ڈرتے رہو ان اللہ تواب الرحیم بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے. یا ایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو بچا کرو بہت سے گمانوں سے ان بعض الظن اسم بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ولا تجسسوا اور بھیدوں کے پیچھے نہ پڑو ولا یغتب بعضکم بعضا اور غیبت نہ کرے ایک دوس اور غیبت نہ کرو ایک دوسرے کی ایحب احدکم کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی کہ وہ کھائے اپنے مردہ بھئی کے گوشت کو فکریتموہ تو اس کو تم ناپسند کرتے ہو واتقواللہ اور اللہ سے ڈر کرو ان اللہ تواب الرحیم بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والے رحم کرنے والے ہیں. یا ایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثی اے لوگو! بے شک ہم نے پیدا کیا ہے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے، یعنی حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء سے. وجعلناکم شعوبا وقبائل اور بنا دیا ہم نے تمہیں ذاتیں اور قبیلے، ہم نے تمہیں شعوب شعوبا وقبائل اور ہم نے تمہیں ذاتیں اور قبیلے بنا دیا. شعوب جمع ہے شعب کی بھئی، اور قبائل جمع ہے قبیلہ کی. قبیلے جو یہ جو شعب ہے شعب، یہ قبیلے سے بھی اوپر ہے بھئی، کئی قبیلے اس کے اندر داخل ہوتے ہیں بھئی. صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کئی قبیلے، تو شعب یہ قبیلے سے بھی وسیع ہے بھئی، وسیع ہے. تو ایک ہی شعب میں کئی قبیلے ہوتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ وجعلناکم شعوبا وقبائل اور بنایا ہم نے تم کو ذاتیں اور قبیلے لتعارفوا تاکہ تم پہچانو. ایک دوسرے کو پہچان، اللہ فرما رہے ہیں یہ جو قبیلے اور ذاتیں ہم نے بنائی ہیں یہ صرف پہچان کے لیے بنائی ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو بھئی. ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم بے شک تم میں سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک اتقاکم جو تم میں سے زیادہ تقوے والا ہے، ان اللہ علیم خبیر بے شک اللہ سب کچھ جاننے والے ہر چیز سے باخبر ہیں. یا ایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثی اے لوگو! ہم نے بیشک بےشک ہم نے تم کو پیدا کیا ایک مرد اور ایک عورت سے اور بنائی تمہاری ذاتیں اور قبیلے لتعارفوا تاکہ ایک تاکہ پہچان سکو ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم بے شک تم میں زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک جو تم میں زیادہ تقوے والا ہے. یعنی اللہ کے ہاں معیار جو ہے، شریعت کے اندر جو معیار ہے، وہ قوم یا ذات کی بنا پر نہیں کہ کوئی بڑی ذات والا ہے تو وہ اعلیٰ ہے اور جو کم ذات والا ہے وہ ادنیٰ ہے، بلکہ شریعت کے اندر معیار کیا ہے؟ تقویٰ ہے، چاہے کوئی ادنیٰ خاندان سے تعلق رکھتا ہو دنیاوی اعتبار سے جس کو ادنیٰ سمجھا جاتا ہو، لیکن اگر وہ تقویٰ نے بڑھا ہوا ہے تو اس کا مقام سب سے زیادہ ہے بھئی. قاللت الاعراب امننا کہا دیہاتیوں نے امننا ہم ایمان لے آئے. یہ دیہاتی بعض ائے تھے وہ کلمہ پڑھنے کے بعد کیا کہنے لگے؟ امننا ہم ایمان لے آئے. قل لم تومنوا اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے تم ایمان نہیں لائے ولکن قولوا اسلمنا لیکن یہ کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے، ہم اسلام لے آئے. انہوں نے کلمہ پڑھا تو کیا کہنے لگے؟ ہم ایمان لے آئے اللہ فرما رہے ہیں یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لے آئے، ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں جاگزیں ہی نہیں ہوا، ابھی تو تم صرف مسلمان ہوئے ہو. ولکن قولوا اسلمنا لیکن کہو کہ ہم مسلمان ہم اسلام لے آئے ولما یدخل الایمان فی قلوبکم اور ابھی تو داخل نہیں ہوا ایمان تمہارے دلوں میں وان تطیعوا اللہ ورسولہ لا یلتکم من اعمالکم شیئا اور اگر تم اطاعت کرو گے اللہ کی اور اس کے رسول کی لا یلتکم، ولا یلتو کے معنی کمی کرنے کے ہیں. کیا معنی؟ کمی کرنا، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے لا یلتکم تو اللہ کمی نہیں کریں گے من اعمالکم شیئا تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی. اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں کسی قسم کی کمی نہیں فرمائیں گے پورا پورا اجر دیں گے، ان اللہ غفور الرحیم بے شک اللہ مغفرت کرنے والے رحم کرنے والے ہیں. معنی سمجھ میں آگیا آیت کا بھئی؟ قاللت الاعراب امننا کہا دیہاتیوں نے ہم ایمان لے آئے قل لم تومنوا اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ تم لوگ ایمان نہیں لائے ولکن قولوا اسلمنا لیکن کہو کہ ہم اسلام لے آئے ولما یدخل الایمان فی قلوبکم اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا وان تطیعوا اللہ ورسولہ ولا یلتکم من اعمالکم شیئا اور اگر تم اطاعت کرو گے اللہ کی اور اس کے رسول کی تو اللہ کمی نہیں کریں گے تمہارے اعمال میں کچھ بھی ان اللہ غفور الرحیم بے شک اللہ معاف بخش، بے شک اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں. انما المومنون الذین امنوا باللہ ورسولہ مومنین تو وہی ہیں، انما حصر کا فائدے دے رہا ہے. یعنی کامل مومنین کیا مراد ہیں؟ کامل. انما المومنون کامل مومنین تو وہی ہیں امنوا باللہ ورسولہ جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر ثم لم یَرتابوا پھر انہوں نے شک نہیں کیا. फिर उन्होंने जो अल्लाह और उसके رسول पर ایمان لائے اور پھر کسی قسم کا اس عقیدے کے اندر شک نہیں کیا. وجاہدوا باموالہم وانفسہم اور جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ وانفسہم اور اپنی جانوں کے ساتھ فی سبیل اللہ اللہ کے راستے میں اولئک ھم الصادقون یہی لوگ سچے ہیں، یہی لوگ سچے ہیں. مومنین تو وہ ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر پھر انہوں نے شک نہیں کیا اور جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں یہی لوگ سچے ہیں. قل اتعلمون اللہ بدینکم اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے اتعلمون اللہ بدینکم کیا تم خبر کیا تم بتلاتے ہو اللہ کو اپنے دین کے بارے میں؟. کیا تم اللہ کو علم دیتے ہو اپنے دین کا ان کیا اللہ کو خبر دیتے ہو اپنے دین کی کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں، واللہ یعلم ما فی السماوات وما فی الارض اللہ تو جانتے ہیں جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں، واللہ بكل شیء علیم اور اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں. قل اتعلمون اللہ بدینکم اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے اتعلمون اللہ کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو بدینکم اپنے دین کے بارے میں کہ ہم ایمان لے آئے کیا تم اللہ کو خبر دینا چاہتے ہو؟ اللہ تو سب کچھ جانتے ہیں. یمنون علیک ان اسلمو یمنون علیک من یا منوں کے معنی احسان کرنا، یمنون علیک وہ اب پر احسان کرتے ہیں ان اسلمو کہ وہ مسلمان ہو گئے. وہ کیا کر رہے ہیں؟ وہ اپ پر احسان رکھ رہے ہیں کہ ہم کیا ہوئے؟ مسلمان ہو گئے. قل لا تمنو علی اسلامکم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ تم مجھ پر احسان نہ جتلاؤ اسلامکم اپنے اسلام کا بل اللہ یمن علیکم بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتے ہیں. ان ھداکم للایمان کہ اس نے ہدایت دی تمہیں ایمان کی ان کنتم صادقین اگر تم سچے ہو. یمنون علیک ان اسلمو وہ وہ احسان رکھتے ہیں آپ پر کہ مسلمان ہو گئے قل لا تمنو علی اسلامکم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ تم احسان نہ جتلاو مجھ پر اپنے اسلام کا بل اللہ یمن علیکم بلکہ اللہ احسان رکھتے ہیں تم پر انھداکم للایمان کہ تمہیں ہدایت دے دی ایمان کی ان کنتم صادقین اگر تم سچے ہو. یہ تو اللہ کا احسان ہے کہ تمہیں ایمان کی دولت دی اور آگے پھر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت تمہیں اس کے نتیجے میں ملے گی، ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتیں اور راحتیں تمہیں دے دیں، یہ تو اللہ کا عظیم احسان ہوا تم پر. ان اللہ یعلم غیب السماوات والارض بے شک اللہ جانتا ہے زمین اور آسمان کی چھپی ہوئی باتیں، چھپی ہوئی چیزیں، واللہ بصیر بما تعملون اور اللہ دیکھ رہے ہیں جو تم عمل کرتے ہو. ان اللہ یعلم غیب السماوات والارض غیب پوشیدہ چھپی ہوئی چیزیں، بے شک اللہ جانتے ہیں آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو. واللہ بصیر بما تعملون اور اللہ دیکھنے والے ہیں جو کچھ تم عمل کرتے ہو. چلیے بس تو یہ تھا, واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام.