اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. أألقي الذكر عليه من بيننا بل هو كذاب أشر. سيعلمون غدا من الكذاب الأشر. إنا مرسل النات فتنة لهم فارتقبهم واصبر. گذشتہ سبق کی آخری آیتوں میں قومِ ثمود کا ذکر آیا تھا کہ انہوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔ اور اس پر اشکال ہوا تھا کہ انہوں نے تو ایک پیغمبر کو جھٹلایا اور قرآن میں کیا آیا کہ انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا؟ تو جواب میں نے بتلایا تھا کہ ایک پیغمبر کو بھی جھٹلانا سب پیغمبروں کو جھٹلانا ہے، کیونکہ دعوت سب کی ایک ہی ہے بھئی۔ جی تو اور قومِ ثمود والوں نے پھر کیا کہا تھا؟ کیا ہم میں سے ہی ایک شخص جو ہے، ہماری ہی جنس کا ہے، ہم ہی میں سے ہے، اور اکیلا ہے، کیا ہم اس کی پیروی کریں؟ اگر ہم ایسا کریں تب تو ہم گمراہی اور جنون میں ہیں بھئی۔ جی تو جنون ہے، گمراہی ہوگی ہماری، اور جنونی ہوگا اگر ہم ایک آدمی کی پیروی کریں۔ آگے انہی کی بات ذکر ہو رہی ہے۔ أألقي الذكر عليه من بيننا کیا ڈالا گیا ذکر کو اسی پر؟ یعنی کیا نازل کیا گیا ذکر کو اسی پر ذکر کو نازل کیا گیا من بیننا ہمارے درمیان، ہمارے بیچ۔ بل هو كذاب أشر بلکہ وہ بڑا جھوٹا أشر، أشر متكبر بھئی، اترانے والا، اترانے والا، شیخیاں مارنے والا بھئی۔ تو کیا کہتے تھے؟ أألقي الذكر عليه من بيننا کیا ہمارے بیچ اسی پر ذکر کو اتارا گیا، اسی پر نصیحت کو نازل کیا گیا؟ بل هو كذاب أشر بلکہ یہ تو بڑا جھوٹا ہے، أشر، شخی باز ہے، یا یہ ترجمہ کر لیں اترانے والا ہے، بلکہ یہ بڑا جھوٹا اترانے والا ہے، یہ بڑا جھوٹا ہے، اترانے والا ہے، تکبر کرنے والا ہے۔ تو کہتے یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم سب کے درمیان میں اس سے اسی پر جو ہے وحی نازل ہوتی ہے، اسی پر نصیحت اترتی ہے، اور یہ پھر ہمیں سمجھاتا ہے، بلکہ یہ پیغمبر کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں کہ وہ بڑا جھوٹا اور متکبر ہے، اترانے والا ہے۔ سيعلمون غدا من الكذاب الأشر. اللہ فرما رہے ہیں سيعلمون غدا عن قریب جان لیں گے یہ کل من الكذاب الأشر کون ہے بڑا جھوٹا اترانے والا، کون ہے بڑا جھوٹا اور اترانے والا۔ یہ لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، یہ جان لیں گے کہ کون بڑا جھوٹا اترانے والا ہے۔ یعنی موت آتے ہی ان کو پتہ لگ جائے گا کہ کون بڑا جھوٹا ہے اور متکبر ہے۔ إنا مرسل الناقة فتنة لهم. بے شک ہم بھیجنے والے ہیں اونٹنی کو فتنة لهم ان کے لیے بطور آزمائش کے۔ إنا مرسل الناقة فتنة لهم بے شک ہم ان کی طرف اونٹنی بھیجنے والے ہیں بطور آزمائش کے۔ فارتقبهم واصبر پس آپ ان کا انتظار کیجیے۔ ارتقبہ کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ انتظار کرنے کے، پس آپ ان کا انتظار کیجیے، یعنی ان کو دیکھتے رہیے۔ ان کو دیکھتے رہیے واصبر اور صبر کیجیے۔ إنا مرسل الناقة فتنة لهم بے شک ہم بھیجنے والے ہیں اونٹنی کو فتنة لهم ان کی آزمائش کے لیے، فارتقبهم پس آپ ان کو دیکھتے رہیے واصبر اور صبر کیجیے۔ ونبئهم أن الماء قسمة بينهم. اور ان کو خبر دے دیجیے کہ أن الماء قسمة بينهم کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہے۔ تو وہ اونٹنی بھیجی اللہ تعالیٰ نے بھئی، پہاڑ سے، چٹان سے نکلی، بہت بڑی اونٹنی تھی بھئی، بہت بڑی اونٹنی۔ اور وہ جب پانی پینے آتی تھی، تو وہ ان کے جانور وغیرہ سب بھاگ جاتے تھے اس کے خوف کی اتنی بڑی اونٹنی تھی بھئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے پانی کی باری مقرر فرما دی، کہ ایک دن وہ اونٹنی پانی پیا کرے گی اور ایک دن ان کے جانور وغیرہ یہ پانی پئیں گے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں ونبئهم اور ان کو بتلا دیجیے، ان کو خبر دے دیجیے أن الماء قسمة بينهم کہ پانی جو ہے ان کے درمیان تقسیم ہے۔ كل شرب محتضر. شرب کہتے ہیں پانی کی باری کو بھئی۔ كل شرب ہر پانی کی باری جو ہے محتضر حاضر کی گئی ہے۔ لفظی ترجمہ، محتضر اس میں مفعول ہے، حاضر کیا گیا بھئی، حاضر کیا گیا۔ یعنی ہر پانی کی باری جو ہے اس پر حاضر کیا جائے، کس کو حاضر کیا جائے؟ باری والے کو، کس کو؟ باری والے کو، یعنی با محاورہ ترجمہ یہ ہوا، ہر پانی کی باری بار باری والا حاضر ہوا کرے، ہر باری پر باری والا حاضر کیا جائے، یعنی ہر باری پر باری والا حاضر ہو، کل شرب محتضر ہر باری والا باری پر حاضر ہو۔ فنادا صاحبهم پس پکارا انہوں نے اپنے ساتھی کو فتعاتا، تعاتا کے معنی ہوتے ہیں ہاتھ بڑھانے کے، فتعاتا، پس اس نے ہاتھ بڑھایا فعقر تو اس اونٹنی کے کونچے کاٹ ڈالیں۔ عقر کہتے ہیں بھئی کونچے کاٹنے۔ عرب وغیرہ میں جب اونٹنی کو ذبح وغیرہ کرنا ہوتا، تو اس کی ٹانگ پر بھی بعض اوقات اس کی ٹانگ پر تلوار وغیرہ مارتے، ٹانگ کاٹ ڈالتے یا اس کو سخت زخمی کر دیتے تاکہ یہ گر جائے اور اسانی سے پھر اس کو ذبح کر سکیں بھئی۔ تو اس کو کیا یہ جو ٹانگ کاٹتے، اونٹ تلوار مارتے اس کو کیا کہتے ہیں اردو میں؟ کونچے کاٹنا۔ تو یہ ہے عقر بھئی۔ فتعاتا پس ہاتھ بڑھایا فعقر پس اس کو اس کی کونچے کاٹ ڈالی ہیں، اس کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔ لیکن یہاں مراد ہے قتل کرنا بھئی، کیا مراد ہے؟ قتل کرنا مراد ہے۔ تو شاید پہلے زخمی کیا ہو، انہوں نے کہتے ہیں پھر ایک عورت تھی ان میں، قوم ثمود میں، اور بدکار عورت تھی، لیکن تھی بڑی مالدار، بڑے مویشی وغیرہ تھے، تو اس نے اپنے ایک آشنا کو کہا، تیار کیا کہ تم اس اونٹنی کو قتل کرو، اس کی وجہ سے تو ہم بڑی مشکل میں پڑ گئے، ایک دن اس کی باری کا ہے، تو وہ اس دن ہم جانوروں کو پانی ہی نہیں پلا سکتے۔ تو چنانچے اس وہ شخص کو اس نے کہا، اس کا نام روایت میں خدار آتا ہے، خدار، قاف دو نقطوں والا بھئی، خدار۔ تو اس خدار وہ تیار ہوا اور پھر اس نے کہتے ہیں آکر اس اونٹنی کو قتل کر ڈالا، تو اسی کا ذکر ہے یہاں پر۔ فنادا صاحبهم تو پپس پکارا انہوں نے اپنے ساتھی کو، کون تھا ساتھی؟ کیا نام تھا؟ خدار۔ فتعاتا پس اس نے ہاتھ بڑھایا۔ مفعول محذوف ہے بھئی، ہاتھ بڑھایا اس اونٹنی کی طرف، یا ہاتھ بڑھایا تلوار کی طرف، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا یا اونٹنی کی طرف ہاتھ بڑھایا، فعقر پس اس کو قتل کر دیا۔ میں نے بتلایا یہاں کیا مراد ہے؟ عقل، عقل سے قتل مراد ہے بھئی۔ فنادا صاحبهم فتعاتا فعقر پس پکارا انہوں نے اپنے رفیق کو، اپنے ساتھی کو، فتعاتا پس اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا، فعقر پس اس کو قتل کر ڈالا۔ فكيف كان عذابي ونذر؟ پس کیسا تھا میرا عذاب ونذوری اور میرا ڈرانا، یہاں یا حذف ہے بھئی، را کا کسرہ بتلا رہا ہے۔ فكيف كان عذابي ونذر پس کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا؟ اللہ تعالیٰ مختلف واقعات ذکر فرما رہے ہیں اور بطور عبرت کے، یعنی تاکہ یہ مشرکین اس سے عبرت پکڑیں، ہر واقعے کے بعد اللہ فرما رہے ہیں فكيف كان عذابي، فكيف كان عذابي ونذر۔ إنا أرسلنا عليهم صيحة واحدة فكانوا كهشيم المحتضر. بے شک ہم نے بھیجی ان پر ایک چیخ، صيحہ کسے کہتے ہیں؟ چیخ کو، فرشتے نے چیخ ماری زور سے۔ إنا أرسلنا عليهم صيحة واحدة بے شک ہم نے ان پر بھیجی ایک چیخ فكانوا كهشيم المحتضر۔ هشيم کہتے ہیں بھوس کو بھئی، بھوس اور چورا بھئی، چورا۔ هشیم کا کیا معنی؟ بھوس اور چورا۔ محتضر باڑ لگانے والا، باڑ بنانے والا۔ بھئی جن کے مویشی اور جانور ہوتے ہیں، انہوں نے مویشیوں کا احاطہ بنایا ہوتا ہے بھئی، اور اس کے اردگرد عموماً کیا لگاتے ہیں؟ جھاڑیاں کانٹے وغیرہ لگا کر مویشیوں کا ایک باڑا بنا لیتے ہیں، اس کو کہتے ہیں حضیرۃ بھئی کیا کہتے ہیں؟ حضیرۃ ظاء کے ساتھ۔ تو حضیرۃ اس باڑ باڑے کا نام ہوا وہ جو باڑ لگائی، باڑا بنایا اور اس باڑ کو بنانے والا، اس کو کیا کہیں گے؟ محتضر، محتضر بھئی باڑ بنانے والا۔ تو کہشیم المحتضر جیسے کہ باڑ لگانے والے کا بھوس ہوتا ہے، یا باڑ لگانے والے کا چورا ہوتا ہے۔ بھئی وہ جب باڑ لگاتا ہے، کانٹے اور شاخیں وغیرہ لگا رہا ہے، تو اس سے کچھ ٹکڑے وغیرہ اطراف میں گرتے رہتے ہیں بھئی ان جھاڑیوں کے۔ یہ ہے هشيم بھئی، وہ جو ٹکڑے اور بھوس گرتا جا رہا ہے دونوں اطراف میں یہ کیا ہے؟ هشيم ہے۔ تو یہ مراد ہے، جیسے باڑ لگانے والے کا بھوس، یعنی جو وہ بناتے ہوئے اس سے جو بھوس گرا ہے، اس کی طرح ہم نے اس کی طرح یہ لوگ ہو گئے، جیسے وہ بکھرا پڑا ہوتا ہے، گرا ہوتا ہے، اسی طرح یہ قوم ثمود والے بھی، فرشتے نے چیخ ماری، اسی طرح سب مر گئے، اسی طرح بکھرے پڑے تھے۔ یا یہ مراد ہے، کہ جب وہ باڑ جو ہے ذرا پرانی ہو جاتی ہے، اس سے ٹکڑے گرتے ہیں اور جانوروں کے پاؤں تلے روندے جاتے ہیں تو وہ بھوس بن جاتا ہے، چورا بن جاتا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ ہے هشيم المحتضر بھئی، محشیم المحتضر۔ إنا أرسلنا عليهم صيحة واحدة بے شک ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی فكانوا كهشيم المحتضر پس وہ ہو گئے کس کی طرح؟ باڑ لگانے والے کے بھوس کی طرح۔ ولقد يسرنا القرآن للذكر اور تحقیق ہم نے اسان کر دیا قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے فهل من مدكر پس کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟ كذبت قوم لوط بالنذر جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو بالنذر، جمع ہے کس کی؟ نذر جمع ہے نذیر، ڈرانے والے یعنی پیغمبر۔ كذبت قوم لوط بالنذر جھٹلایا قومِ لوط نے پیغمبروں کو، ڈرانے والوں کو۔ إنا أرسلنا عليهم حاصبا بے شک ہم نے بھیجی ان پر پتھروں کی آندی بھئی، پتھروں کی آندی، حاصب وہ ہوا جس میں پتھر ہوں بھئی، کنکر ہوں۔ إنا أرسلنا عليهم حاصبا الا الا لوط، بے شک بے شک ہم نے بھیجی ان پر پتھروں کی آندھی الا لوط سوائے آلِ لوط کے سوائے لوط کے، لوط کی آل کے یعنی ان کے گھر والوں کے۔ نجیناہم بسحر نجات دی ہم نے ان کو بسحر سحر کے وقت بھئی۔ سحر یاد رکھیے وہ وقت ہے جس وقت صبح کی روشنی اندھیرے کے ساتھ ملی ہوئی ہو گئی، یعنی کچھ معمولی سی روشنی ہو اور کچھ اندھیرا ہو گئی، تو یہ ہے سحر بھئی۔ تو نجیناہم بسحر، ہم نے ان کو نجات دی سحر کے وقت بھئی، سویرے. تو اللہ فرماتے ہیں ہم نے ان پر پتھروں کی آندھی بھیجی، الا لوط سوائے کس کے؟ آلِ لوط کے یعنی لوط کے گھر والے، لوط کی پیروی کرنے والے، وہ ان کے گھر والے بھئی۔ تو نجیناہم، ان کو ہم نے نجات دی، جو لوط کے گھر والے تھے، ان کو ہم نے نجات دی بسحر، کس وقت؟ سحر کے وقت بھئی. نعمتًا من عندنا، بطور ان نعمت کے ہماری طرف سے، بطور انعام کے، یہ ہم نے ان کو نجات دی بطور انعام کے کہ انہوں نے، یہ ہم پر ایمان لانے والے تھے، تو ہم نے بطور انعام کے ان کو نجات دی اور باقی سب کو تباہ کر دیا. نجیناہم بسحر نعمتًا من عندنا، نجات دی ہم نے ان کو سحر کے وقت بطور انعام کے اپنی طرف سے یا یوں ترجمہ کر لیں، بطور فضل کے اپنی طرف سے، کذلك نجزی من شکر، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں من شکر جو شکر ادا کرتا ہے، جو شکر گزار ہوتا ہے. ولقد انذرہم بطشتنا فتماروا بالنذر، اور تحقیق انذرہم ڈرایا تھا ان کو، تحقیق ان کو یعنی حضرت لوط علیہ السلام نے ڈرایا تھا ان کو یعنی اپنی قوم والوں کو، ولقد انذرہم اور تحقیق حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم والوں کو ڈرایا تھا بطشتنا ہماری پکڑ سے، فتماروا، پس انہوں نے جھگڑا کیا بالنذر، کس کے ساتھ؟ ڈرانے والوں کے ساتھ. تو انہوں نے جھگڑا کیا ڈرانے والوں (یعنی اس میں بحث و مباحثہ کرنے لگے اور تسلیم نہیں کرتے تھے، ہر بات کو انکار کرتے تھے). ولقد راودوہ عن ضیفہ، اور تحقیق انہوں نے راودوہ، راودہ یراود مراودۃ کے معنی ہوتے ہیں کسی کو دھوکہ دینا، دھوکہ دے کر کسی بات پر آمادہ کرنا۔ راودہ یراود کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ کسی کو دھوکہ دے کر کسی بات پر آمادہ کرنا، تیار کرنا کسی بات پر. تو یہ فرشتے آئے تھے بھئی حضرت لوط علیہ السلام کے پاس بھئی۔ واقعہ پیچھے بھی ذکر ہو چکا کہ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ائیے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بچھڑا پکا کر ان کے سامنے پیش کیا کھانے کے لیے، یہ کھا نہیں رہے تھے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پر ڈرے دل میں کہ معلوم نہیں یہ کون لوگ ہیں، نقصان پہنچانا چاہتے ہیں یا کیا کہ کھانا نہیں کھا رہے، تو پھر انہوں نے بتلایا کہ ہم فرشتے ہیں، ہمیں اللہ نے بھیجا ہے اور آپ کو بیٹے کی خوشخبری دینے ائے ہیں، یعنی اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دی انہوں نے اور یہ بھی بتلایا کہ ہم قومِ لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں، قومِ لوط کو. چنانچہ وہ ائے بھئی، وہ لوط علیہ السلام کے پاس ائے وہ فرشتے اور وہ حسین و جمیل نوجوانوں کی صورت میں تھے، تو ان کی قوم جو تھی، قومِ لوط میں وہ مردوں کے ساتھ بدکاری کرتے تھے اور اس پر ذرہ برابر بھی ان کو شرمندگی نہیں تھی، بلکہ فخر کیا کرتے تھے اس پر بھئی. تو ان کو اب یہ جب فرشتے ائے، حضرت لوط علیہ السلام بڑے پریشان ہوئے کہ میری قوم والے تو بڑے بدکار ہیں اور یہ میرے مہمان ائے ہیں، کہیں یہ میری مہمانوں کو تکلیف نہ پہنچائیں اور میری بے عزتی نہ کریں. تو مہمانوں کو گھر میں چھپا لیا۔ ادھر جو بیوی تھی، وہ ان کے قوم والوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور اس نے جا کر ان قوم والوں کو خبر دے دی کہ اس طرح کے مہمان ائے ہیں، قوم والے سارے جمع ہو گئے. اندازہ لگائیے مولانا ان لوگوں کی جرات کا اور گناہ پر دیدہ دلیری کا اندازہ تو لگائیے، ساری بستی والے جمع ہو کر اگئے کہ وہ مہمان ہمارے حوالے کرو، مہمان کیا کرو ہمارے حوالے کرو بھئی، حضرت لوط علیہ السلام سے ان کی بحث تکرار بھی ہوئی اور تو وہ حضرت لوط علیہ السلام کو وہ تیار کر رہے تھے کہ بس مہمان جیسے بھی ہمارے حوالے کرو. اور پھر کہتے ہیں اللہ نے ان کی ان کو اندھا کر دیا بھئی، اندھا کر دیا ان کو کچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا، اندھے ہو گئے لیکن عقل پھر بھی نہیں ائی، پھر بھی دھمکیاں دیتے ہوئے چلے گئے کہ صبح ا کر ہم آپ کو دیکھیں گے، صبح ا کر دیکھیں گے آپ کو. اور پھر ان کو تباہ و برباد کر دیا گیا سحر کے وقت اور حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے گھر والے جو ہیں، صبح کے وقت سحر کے وقت اللہ نے ان کو بچایا، ان کو بستی سے نکال لیا اور ان پر عذاب اگیا، بھئی ان سب کو تباہ و برباد کر دیا گیا. تو یہ اسی کا ذکر ہے ولقد راودوہ، اور تحقیق راودوہ انہوں نے آمادہ کیا حضرت لوط علیہ السلام کو، ان کو تیار کیا یا یہ ترجمہ کر لیں انہوں نے پھسلایا حضرت لوط علیہ السلام کو عن ضیفہ اس کے مہمانوں کے بارے میں، انہوں نے پھسلایا راودوہ، ہ ضمیر کس کی طرف راجع ہے؟ حضرت لوط علیہ السلام کو، انہوں نے پھسلایا حضرت لوط علیہ السلام کو عن ضیفہ اس کے مہمانوں کے بارے میں، فطمستنا اعینہم، پس ہم نے مٹا دیا ان کی آنکھوں کو، فطمستنا اعینہم ہم نے کیا کیا؟ ان کی آنکھوں کو مٹا دیا. یعنی ان کو اندھا کر دیا، بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ ان کی انکھیں اللہ نے اس طرح مٹا دیں کہ آنکھوں کے گڑھے ہی ختم ہو گئے، چہرے کے برابر ہو گئی وہ جگہ بھئی. چہرہ کے ساتھ وہ جگہ برابر ہو گئی اور بعض نے لکھا کہ نہیں اللہ نے ان کی آنکھوں کے آگے پردے ڈال دیے، وہ حضرت لوط علیہ السلام کے گھر میں بھی داخل ہوئے، پورا گھر چھان مارا انہوں نے لیکن اللہ نے ان کو اندھا کر دیا تھا، مہمان ان کو دکھائی ہی نہ دیے اور پھر نکل کر چلے گئے بھئی، دھمکیاں دیتے ہوئے کہ صبح ہم دیکھ لیں گے آپ کو. فتطمستنا اعینہم، پس ہم نے مٹا دیا ان کی آنکھوں کو، فذوقوا عذابی ونذر، پس چکھو تم میرے عذاب کو اور میرے ڈرانے کو. ولقد صباحہم بکرۃ عذاب مستقر، اور تحقیق البتہ صباح صبح ایا ہم ان پر بکرۃ سویرے، صبح کس وقت ایا عذاب؟ سویرے بھئی، صبح تو عام ہے نا دیر سے بھی جو ہے پھر بھی صبح ہے اور بکرۃ کیا ہے خاص ہے یعنی سویرے سویرے. ولقد صباحہم بکرۃ، اور تحقیق البتہ ا پڑا صبح سویرے ان پر عذاب مستقر ایسا عذاب جو ان ٹھہرنے والا تھا، ان پر ٹھہرنے والا تھا، باقی رہنے والا تھا. ولقد صباحہم بکرۃ عذاب مستقر، اور تحقیق صبح سویرے ا پڑا ان پر رہنے والا عذاب یا یوں کہیں دائمی عذاب بھئی، ا پڑا ان پر صبح سویرے دائمی عذاب، فذوقوا عذابی ونذر، پس چکھو میرا عذاب اور میرے ڈرانے کو، ولقد یسرنا القرآن للذكر فہل من مدکر، اور تحقیق ہم نے آسان کر دیا قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے، پس کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا، ولقد جاء آل فرعون النذر، اور تحقیق ائے فرعون کی آل کے پاس، فرعون کے متبعین کے پاس، ان کے اتباع کرنے والوں کے پاس، ان نذر ڈرانے والے. اور تحقیق ائے آلِ فرعون کے پاس، فرعون کے متبعین کے پاس ان نذر ڈرانے والے، كذبوا بایاتنا کلھا، جھٹلایا انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو، جو جو نشانیاں ہم نے بھیجی، پہلے ذکر ہو چکا کئی اللہ نے ان پر عذاب بھیجے، مینڈکوں کا عذاب تھا اور اسی طرح ٹڈیوں کا عذاب تھا اور اسی طرح خون کا عذاب تھا، وغیرہ بھئی. اور اسی طرح تو یہ سب یہ نشانیاں تھیں، اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام عصا ڈالتے، وہ اجتہا بن جاتا، اسی طرح وہ ہاتھ بغل سے نکالتے تو وہ انتہائی روشن اور چمکدار ہوتا، تو یہ اللہ فرما رہے ہیں كذبوا بایاتنا کلھا، انہوں نے جھٹلایا. ہماری سب نشانیوں کو یعنی سارے معجزوں کو، موسیٰ علیہ السلام کے سارے معجزوں کو انہوں نے جھٹلایا، فاخذناہم، پس ہم نے ان کو پکڑ لیا اخذ عزیز مقتدر، کیسی پکڑ؟ اخذ عزیز زبردست کی پکڑ، مقتدر قدرت والے، زبردست قدرت والے کی پکڑ ہم نے ان کو پکڑ لیا. زبردست قدرت والے کی پکڑ ان کو كذبوا بایاتنا کلھا فاخذناہم اخذ عزیز مقتدر، پس جھٹلایا انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو تو ہم نے ان کو زبردست قدرت والے کی پکڑ پکڑ لیا. اکفارکم خیر من اولئکم ام لكم براءۃ فی الزبور، کیا تمہارے کفار بہتر ہیں ان سے، اولئکم بھئی، یہ کم کیا چیز ہے؟ یہ حرفیہ خاطبیہ ہے، یہ بات پہلے بیان ہو چکی. ذالک ذالکما ذالکم، یہ جو کاف آخر میں ہے، یہ حرفیہ خاطبیہ ہے، نہم میں آپ پڑھ چکے ہوں گے، یہ صرف اتنا بتلاتا ہے کہ مخاطب ایک ہے، دو ہیں یا تین ہیں، مذکر ہیں یا مونث. زید کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور مخاطب ایک مذکر ہے، ایک مرد ہے، تو کیا کہیں گے ذالک زید، اس کاف نے کیا بتلایا؟ آپ کس کو اشارہ کر کے بتلا رہے ہیں؟ ایک مذکر مرد کو، کس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟ زید کی، اگر دو آدمیوں کو زید کی طرف اشارہ کر کے زید دکھا رہے ہیں، تو پھر آپ یوں کہیں گے ذالکما زید، ترجمہ وہی ہوگا، وہ زید ہے اور ذالکم زید، اگر تین یا زیادہ مرد ہیں، تو پھر کیا کہیں گے؟ یہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں، دور زید ہے، آپ زید کی طرف اشارہ کر کے کیا کہتے ہیں ذالکم زید. اور ترجمہ وہی ہوگا، وہ زید ہے، تو کم نے صرف کیا بتلایا؟ آپ کے مخاطب جن سے آپ اس وقت بات کر رہے ہیں اور جن کو زید کی طرف اشارہ کر کے زید دکھلا رہے ہیں، وہ کتنے لوگ ہیں؟ تین اور اگر ایک مونث ہو تو کیا کہیں گے؟ ذالک زید، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اللہ فرما رہے ہیں یہ مشرکینِ مکہ سے اکفارکم خیر من اولئکم ام لكم براءۃ فی الزبور، کیا تمہارے کفار بہتر ہیں ان سے؟ کیا تمہارے کفار وہ کفار ان کے ہم واقعہ ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں، کس طرح ہم نے کس کس قوم کو تباہ و برباد کر دیا، کتنی زوراور قومیں تھیں، کتنی طاقت والی قومیں تھیں، لیکن ہم نے جب انہوں نے ہمارے احکامات سے روگردانی کی، ہم نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، تو کیا تمہارے کفار جو ہیں، تم میں سے جو کفر کرنے والے ہیں، یہ کیا ان سے بہتر ہیں؟ ام لكم براءۃ فی الزبور، یا تمہارے لیے معافی ہے صحیفوں کے اندر، جو تم بے فکر ہو اور دعوت کو قبول نہیں کر رہے، توحید کی طرف نہیں آ رہے، تو تمہارا کیا خیال ہے؟ تم اس عذاب سے بچ جاؤ گے؟ کیوں بچ جاؤ گے؟ کیا تم ان سے بہتر ہو؟ یا تمہارے لیے پچھلے صحیفوں میں کوئی معافی اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے کہ تم پر عذاب نہیں آئے گا، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اکفارکم خیر من اولئکم ام لكم برآءة في الزبر تمہارے لیے کوئی معافی ہے في الزبر صحیفوں کے اندر۔ ام یقولون نحن جمیع منتصر کیا یہ کہتے ہیں، نحن جمیع کہ ہم ایک جماعت ہیں منتصر بدلہ لینے والے۔ کیا لوگ یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بڑی جماعت ہیں منتصر جو بدلہ لے لیں گے ہم، بدلہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، کیا ان کا یہ خیال ہے؟ ام یقولون نحن جمیع منتصر کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جمیعت ہیں بدلہ لینے والے، ہم ایک جماعت ہیں بدلہ لینے والے۔ سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ سیہزم الجمع عن قریب شکست دی جائیں گی شکست دی جائے گی الجمع یہ جماعت۔ یہ جو جمعیت ہے عن قریب ان کو شکست دی جائے گی، ان کو شکست ہوگی۔ ویولون الدبر اور یہ پشت پھیریں گے، پشت پھیر کر بھاگیں گے۔ سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ عن قریب شکست کھائیں گے شکست کھائے گی یہ جمعیت اور یہ پشت پھیر کر بھاگیں گے۔ بل الساعت موعدہم والساعت ادھی وامر۔ بلکہ قیامت جو ہے موعدہم ان کے وعدے کا وقت ہے۔ بلکہ قیامت ان کے وعدے کا وقت ہے، ہم نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے، قیامت میں ہم ہر ایک کا حساب لیں گے۔ بل الساعت موعدہم بلکہ قیامت جو ہے ان کے وعدے کا وقت ہے۔ والساعت ادھی وامر اور قیامت جو ہے ادھی بڑی سخت ہے وامر اور بڑی کڑوی ہے۔ ادھی داہیۃ سے اس میں تفصیل ہے بھئی، داہیۃ سے۔ تو، داہیۃ مصیبت بھئی۔ ادھی بڑی مصیبت۔ امر مر سے ہے کڑوے کو کہتے ہیں، امر بہت کڑوی۔ والساعت ادھی وامر اور قیامت بڑی سخت اور بڑی کڑوی ہے۔ ان المجرمین فی ضلال وسعر۔ بے شک مجرم في ضلال گمراہی میں ہیں وسعر اور جنون میں ہیں۔ ان المجرمین فی ضلال وسعر۔ یقیناً مجرم جو ہیں گمراہی میں اور جنون میں ہیں۔ سعر کا لفظ پہلے بھی گزرا تھا، کیا معنی تھا؟ جنون بھئی۔ یقیناً مجرم گمراہی میں اور جنون میں ہیں۔ اللہ فرما رہے ہیں یہ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، بلکہ جنون میں یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں، ان کی عقلیں کام نہیں کر رہیں، اتنی واضح بات ان کو سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اور اتنی قومیں تباہ و برباد کی گئیں اور ان کو بھی ان کی خبریں پہنچ چکی ہیں ان کی خبریں انہیں پہنچ چکی ہیں اور ان کے کھنڈرات اور پلٹی ہوئی بستیاں یہ دیکھ چکے ہیں، اس کے باوجود ان کو عبرت نہیں ہوتی۔ يوم یسحبون في النار علی وجوههم۔ یوم یسحبون جس دن کہ یہ گھسیٹے جائیں گے۔ یسحبون گھسیٹے جائیں گے۔ یوم یسحبون۔ جس دن کہ یہ گھسیٹے جائیں گے في النار آگ میں علی وجوههم چہروں کے بل۔ جس دن یہ لوگ آگ میں چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے۔ ذوقوا مس سقر۔ چکھو تم، سقر جہنم کا نام ہے۔ بھئی۔ مس کا معنی چھونا، چھونا۔ ذوقوا مس سقر۔ چکھو تم جہنم کے چھونے کو۔ جہنم کے چھونے کو چکھو تم لوگ۔ یہ ان سے کہا جائے گا جہنم میں ڈال کر۔ انا کل شيء خلقناه بقدر۔ بے شک ہر چیز، جو ہے خلقناه بقدر ہم نے اس کو پیدا کیا ہے ایک اندازے سے۔ بے شک ہر چیز خلقناه بقدر ہم نے اس کو ایک اندازے سے پیدا کیا ہے۔ یاد رکھیے یہ کل شيء، کل شيء۔ یہ ما أتمر عامله علی شریعة التفسیر کے قبیل سے ہے۔ اس کے بعد ایک فعل ہے جو اسی کی ضمیر میں مشغول ہے، وہ اس کو نصب نہیں دے سکتا تو اس سے پہلے ایک اور خلقنا محذوف ہے، اور یہ آگے آنے والا خلقنا اسی خلقنا محذوف کی تفسیر ہے بھئی، اسی کو بیان کر رہا ہے۔ کل شيء خلقناه بقدر ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کیا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یوں ترجمہ کریں بھئی۔ کیا ہوا؟ کلام کس طرح ہوا؟ خلقنا کل شيء خلقناه بقدر۔ جی، تو یوں ترجمہ کیجیے، ہم نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے بقدرین ایک اندازے سے۔ انا کل شيء خلقناه بقدر بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کیا ہے وما امرنا الا واحدة کلمح بالبصر۔ اور نہیں ہوتا ہمارا حکم الا واحدة مگر ایک ہی، ہمارا حکم ایک ہی ہوتا ہے کلمح بالبصر۔ لمح کا معنی ہے نگاہ ڈالنا، نظر کرنا۔ کلمح بالبصر آنکھ سے نظر ڈالنا یعنی مراد، یعنی اردو میں بامحاورہ ترجمہ، پلک جھپکنا بھئی، پلک جھپکنا۔ کلمح بالبصر جیسے کہ پلک جھپکنا۔ وما امرنا الا واحدة کلمح بالبصر اور نہیں ہوتا ہمارا حکم مگر ایک ہی جیسے کہ پلک جھپکنا۔ یعنی پلک جھپکنے کی طرح ہوتا ہے ہمارا حکم، فورا ہو جاتا ہے جو ہم حکم کرتے ہیں۔ ولقد أہلکنا أشیاعكم۔ اور تحقیق ہم نے ہلاک کیا أشیاعكم۔ اشیاع جمع ہے شیعة کی۔ شیعة جماعت ایک طریقے والے جو ہیں۔ اور تحقیق ہم نے ہلاک کیے أشیاعكم تمہارے طریقے والے۔ فہل من مدکر۔ پس کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ ولقد أہلکنا أشیاعكم فہل من مدکر اور تحقیق ہم ہلاک کر چکے ہیں تمہارے طریقے والوں کو، یعنی تمہارے تمہارے طریقے والے بہت سوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں فہل من مدکر پس کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا۔ وكل شيء فعلوه في الزبر۔ وكل شيء فعلوه ہر وہ چیز جو انہوں نے کی، ہر وہ کام جو انہوں نے کیا في الزبر صحیفوں میں ہے، یعنی نامہ اعمال میں درج کیا جا چکا ہے ان کے۔ وكل شيء فعلوه في الزبر ہر چیز جو انہوں نے کی ہے في الزبر۔ کس میں ہے؟ صحیفوں میں ہے۔ وكل شيء موصوف ہے، فعلوه اس کی صفت ہے۔ ہر ایسی چیز فعلوه جو انہوں نے کی، نکرہ کے بعد فعل آیا نا، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کی کیا بنتا ہے؟ صفت۔ ہر چیز جو انہوں نے کی ہے في الزبر کس کے اندر ہے؟ صحیفوں میں ہے۔ تو في الزبر جو ہے، اس کو خبر بنایا بھئی خبر۔ اور یہ فعل یہ جار مجرور متعلق ہوتا ہے ہمیشہ۔ تو اس کا معلوم ہوا اس کا متعلق محذوف ہے۔ وكل شيء فعلوه ثابت في الزبر وہ ثابت ہے کس کے اندر؟ صحیح اس کو فعلوه سے متعلق نہیں کرنا بھئی۔ جار مجرور پڑھا ہے نا بھئی، کتنی چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں؟ فعل سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں، صفت کے صیغوں سے بھی متعلق ہو سکتے ہیں۔ تو یہ فعل یہاں موجود ہے آپ اس سے نہ جوڑیں بھئی، اس سے جوڑیں گے تو معنی خراب ہو جائے گا۔ کیونکہ فی آتا ہے ظرفیت کے لیے۔ تو اگر جوڑ دیں گے تو کیا معنی ہوگا؟ فعلوه في الزبر انہوں نے کیا في الزبر کہاں پر کیا؟ صحیفوں میں تو ان کے فعل کا محل کیا بن جائے گا؟ صحیح۔ ضربت في الدار کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ میں نے پٹائی کی اور یہ پٹائی کس جگہ پر کی ہے؟ گھر میں کی ہے تو یہ في الزبر یہ ظرف بن جائے گا اگر آپ فعلوه سے جوڑیں گے۔ اس کا مطلب ہے ہر کام جو انہوں نے کیا ہے، کس جگہ پر جا کر کیا ہے؟ صحیفوں میں جا کر کیا، حالانکہ یہ معنی تو نہیں ہے، صحیفوں میں تو درج ہے، کیا انہوں نے دنیا میں ہے، تو لہذا اس کو فعلوه سے نہیں جوڑنا بھئی۔ تو وكل شيء فعلوه في الزبر ہر چیز جو انہوں نے کی ہے في الزبر صحیفوں میں ہے۔ اور اوپر آیا تھا انا کل شيء خلقناه بقدر۔ وہاں بھی اسی طرح کل شيء آیا اور اس کے بعد فعل آیا۔ نیچے جو آیا کل شيء اس کو میں نے کیا بتلایا کیا ہے؟ موصوف اور فعلوه کو اس کے لیے کیا بنایا؟ صفت۔ ہر ایسی چیز جو انہوں نے کی ہے، یعنی ہر ایسا کام جو انہوں نے کیا ہے في الزبر کس کے اندر ہے؟ صحیف لیکن اوپر موصوف صفت والی ترکیب نہیں کر سکتے بھئی۔ موصوف صفت والی ترکیب نہیں۔ یہ وہاں بھی معنی خراب ہوگا۔ كيف۔ یہ تو خیر اعراب نصب ہی ہے بھئی۔ نصب ہی ہے، اس سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ یہ مفعول ہے خلقنا فعل محذوف کے لیے، فعل محذوف کے لیے۔ تو یہاں یہ مفعول ہے، لیکن اگر یہ اس کو اسی طرح مرفوع پڑھا جاتا اور اس خلقنا کو کیا کیا جائے؟ صفت بنایا جائے، تو کیا ترجمہ ہوگا؟ ہر وہ چیز جسے ہم نے پیدا کیا ہے بقدر وہ ایک اندازے سے ہے۔ اس کا تو مطلب یہ نکلا کچھ ایسی بھی چیزیں جن کو اللہ نے پیدا نہیں کیا، حالانکہ یہ معنی تو درست نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو جن قراتوں میں کل شيء خلقناه بقدر آیا ہے، وہاں پر بھی موصوف صفت والی ترکیب نہیں کرنی، بلکہ کیا کرنا ہے؟ یہ پھر خلقناه بقدر کو پھر اس کی خبر بنائیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وكل صغير وكبير مستطر۔ اور ہر چھوٹی چیز، وكبير اور بڑی چیز مستطر لکھی گئی ہے۔ ہر چھوٹی بڑی بات لکھی گئی ہے، ہر چھوٹا بڑا گناہ لکھا گیا ہے۔ ان المتقين في جنات ونہر۔ یقیناً متقی جو ہیں باغات میں اور نہروں میں ہوں گے۔ في مقعد صدق۔ سچائی کی بیٹھک میں ہوں گے عند ملك مقتدر۔ ایک کس کے پاس؟ ملک۔ یہ مبالغے کے لیے ہے، یا اس کے اندر بھئی، مبالغے کا صیغہ ہے، ایک ہے ملک۔ ملک، ملک کا معنی بادشاہ اور ملیك کا معنی اے عظیم بادشاہ، یعنی جس کی سلطنت بڑی عظیم ہو بھئی، عظیم سلطنت والا بادشاہ، تو یہ مبالغے کا صیغہ ہے۔ تو یہ یا جو ہے مبالغے کے لیے بڑھائی گئی بھئی۔ ملیك مقتدر۔ مقتدر، قدرت والا۔ عظیم سلطنت والا بادشاہ، مقتدر جو قدرت والا ہے۔ ثم اقعد بیٹھنے کی جگہ۔ في مقعد صدق۔ سچائی کی بیٹھنے، یعنی سچائی کی بیٹھک، بھئی، سچائی کی بیٹھک، یہ لفظی ترجمہ کیا میں نے، مراد ہے عمدہ جگہ میں ہوگا۔ عمدہ مقام میں ہوں گے۔ عمدہ بیٹھنے کی جگہ میں ہوں گے۔ في مقعد صدق عمدہ جگہوں میں ہوں گے عند ملك مقتدر ایک ایسے بادشاہ کے پاس مقتدر، جو قدرت والا ہے۔ بے یقین المتقين في جنات ونہر یقیناً متقی جو ہیں باغات اور نہروں میں ہوں گے في مقعد صدق عمدہ جگہوں میں عند ملك مقتدر، ایک ایسے بادشاہ کے پاس جو قدرت والا ہے، یعنی اللہ بھئی۔ ان المتقين في جنات ونہر بے شک متقی جو ہیں وہ باغات اور نہروں میں ہوں گے في مقعد صدق عند ملك مقتدر عمدہ جگہ میں ہوں گے، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ چلیے بس، هذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔