اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم. بسم اللہ الرحمن الرحیم. یُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِیرٌ. هُوَ الَّذِی خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ. خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَإِلَيْهِ الْمَصِیرُ. یہ سورہ تغابن ہے، سورہ تغابن. اس کے اندر تغابن کا لفظ آ رہا ہے. اس لیے اس سورت کو سورہ تغابن کہا جاتا ہے. یاد رکھیے قیامت کو یوم تغابن کہا جاتا ہے. قیامت کو یوم تغابن کہا جاتا ہے تو سورت کے اندر بھی یوم تغابن کا ذکر ہے اس لیے اس سورت کو سورہ تغابن کہا جاتا ہے. قیامت کو یوم تغابن کیوں کہا جاتا ہے؟ تغابن کا معنی ہے دھوکہ دینا بھئی دھوکہ دہی. تغابن کا کیا معنی ہے؟ دھوکہ دینا بھئی. تو قیامت کو یوم تغابن اس لیے کہا جاتا ہے. کہ انسان نے ازل میں. جب انسان کو اللہ نے پیدا کیا حضرت آدم علیہ السلام کو تو ان کی پشت سے ان کی ساری اولاد کو نکالا. اور ان سے فرمایا الست بربکم کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے اقرار کیا اللہ کے رب ہونے کا اور کہا. بلا کیوں نہیں آپ ہمارے پروردگار ہیں. تو اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا، اس کے احکام پر چلنے کا اقرار کیا لیکن دنیا میں جب آیا تو انسان نے وہ جو عہد و پیمان کیا تھا اللہ سے. اس کو بھلا دیا. اور. اس کو بھلا دیا. اور اپنی دانشت میں. اللہ کو دھوکہ دیتا رہا، اس کے بتلائے ہوئے راستے کے خلاف چلتا رہا تو قیامت کے دن یہ جو وہ دنیا میں دھوکہ دیتا رہا. اس کی یہ دھوکہ دہی اور اس کے یہ افعال سب کے سامنے آ جائیں گے، اس کے سامنے کھل کر آ جائیں گے اس لیے قیامت کو یوم تغابن کہا جاتا ہے. بات سمجھ میں آئی بھئی قیامت کو یوم تغابن کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ تغابن کا معنی ہے دھوکہ دہی، دھوکہ دینا. اور انسان نے اللہ سے جو عہد و پیمان کیا تھا اس کے احکام پر چلنے کا. انسان اپنے. انسان اس کے خلاف چلتا رہا اور اپنی دانشت میں اللہ کو دھوکہ دیتا رہا تو قیامت کے دن اس کا یہ فعل کھل کر سامنے آ جائے گا اس لیے قیامت کو کیا کہتے ہیں یوم تغابن. جبکہ بعض علماء نے لکھا کہ تغابن حسرت کو کہتے ہیں. تغابن کسے کہتے ہیں؟ حسرت کو کہتے ہیں. اور. یاد رکھیے روایات میں آتا ہے ہر شخص کے اللہ نے دو گھر بنائے ہیں، دو جگہیں بنائی ہیں، ایک جنت میں، ایک جہنم میں. اب انسان کی مرضی ہے کس راستے پر چلتا ہے، جنت والے گھر کو اختیار کرتا ہے یا جہنم والے گھر کو. ہر شخص کے جنت میں بھی جگہ اور جہنم میں بھی جگہ. تو چنانچہ جو. ظلم کرنے والے ہیں، شرک کرنے والے ہیں وہ قیامت کے دن جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو انہوں نے گویا اپنے جنت والے گھر چھوڑ دیے، کون سے گھر اختیار کیے؟. اور مومنین کو جنت میں ڈالا جائے گا، داخل کیا جائے گا تو مومنین کو ان کے وہ گھر مومنین کو دے دیے جائیں گے اور مومنین کی جو جگہیں جہنم میں تھیں وہ ان کو کفار کو دے دی جائیں گی تو اس وقت کفار بڑی حسرت کریں گے بھئی. اللہ کس کس. حسرت سے کتنے غم میں وہ مبتلا ہوں گے. اللہ ہم سب کی مغفرت فرماۓ بھئی اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل فرمائے. جس کا حساب کتاب شروع ہوا بس سمجھو وہ پھنس گیا بھئی. تو وہ بڑی حسرت کریں گے. کہ جب انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا، ان کے جو جنت کے گھر ہیں وہ مومنین کو دے دیے جائیں گے تو انتہا درجے کی حسرت اور غم کا اظہار کریں گے، اس لیے قیامت کو یوم تغابن کہا جاتا ہے بھئی. بات سمجھ میں آ گئی بھئی. دیکھیے اب. یَسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ تسبیح بیان کرتی ہے اللہ کی جو کچھ ہے آسمان و میں وما فی الارض اور جو کچھ ہے زمین میں. لہ الملك وله الحمد اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے. وہو علی کل شیء قدیر اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے. ھوالذی خلقکم فمنکم کافر ومنکم مومن اسی نے وہی ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا فمنکم کافر من تبعیضیہ ہے. فمنکم کافر تو بعض تم میں سے کافر ہیں ومنکم مومن اور بعض تم میں سے مومن ہیں. یعنی کچھ تم میں سے کافر ہیں لوگ اور کچھ مومن ہیں، ایمان والے ہیں. یہاں پر کافر کو مومن پر مقدم ذکر کیا گیا حالانکہ مومن کو مقدم ہونا چاہیے تھا. وجہ اس کی یہ لکھتے ہیں مفسرین حضرات کہ چونکہ دنیا میں کافروں کی کثرت ہے، مومنین تھوڑے ہیں اس لیے کافر کو مقدم ذکر کیا گیا. فمنکم کافر ومنکم مومن تو بعض تم کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن. واللہ بما تعملون بصیر اور اللہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے. خلق السموات والارض بالحق پیدا کیا اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو بالحق ٹھیک ٹھیک. اللہ نے آسمان اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا کیا. و صورکم اور تمہاری صورتیں بنائیں. صورکم تمہاری صورتیں بنائیں. فاحسن صورکم پس اچھی بنائیں صورکم تمہاری صورتیں. صور جمع ہے صورت کی بھئی. صورکم تمہاری صورتیں. فاحسن صورکم پس اچھی بنائی تمہاری صورتیں. انسان کو اللہ نے کتنا حسین و جمیل بنایا ہے بھئی. والیہ المصیر اور اسی کی طرف لوٹنا ہے. خلق السموات والارض بالحق و صورکم فاحسن صورکم والیہ المصیر. اس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ٹھیک ٹھیک و صورکم فاحسن صورکم. اور تمہاری صورتیں بنائیں پس تمہاری اچھی صورتیں بنائیں والیہ المصیر اور اسی کی طرف لوٹنا ہے. يعلم ما في السموات والارض وہ جانتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں. ويعلم ما تسرون وما تعلنن اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو وما تعلنن اور جو تم ظاہر کرتے ہو جو اعلان کرتے ہو یعنی ظاہر کرتے ہو. وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو واللہ علیم بذات الصدور اور اللہ جاننے والا ہے دلوں کی باتوں کو. الم ياتکم نبوا الذین کفروا من قبل کیا نہیں آئی تمہارے پاس. نبوا الذین نبوا خبر کو کہتے ہیں. الم ياتکم کیا تم لوگوں کے پاس نہیں آئی نبوا الذین ان لوگوں کی خبر کفروا جنہوں نے کفر کیا من قبل تم سے پہلے. کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا. فذاقوا وبال امرہم پس چکھا انہوں نے اپنے معاملے کا انجام اپنے معاملے کا وبال. انہوں نے اپنے معاملے کا وبال چکھا. ولہم عذاب الیم اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے. دنیا میں بھی اپنے معاملے کا وبال چکھا جو کرتوت تھے ان کا وبال چکھا. دنیا میں بھی ان پر عذاب آیا ولہم عذاب الیم اور آخرت میں بھی ان کے لیے دردناک عذاب ہے. ذالک بانہ اور یہ اس سبب سے ہے اس وجہ سے ہے با سببیہ بھی سببی انہ. اور یہ اس وجہ سے یہ جو ان پر انہوں نے اپنے معاملے کا انجام وبال چکھا اور ان کے لیے جو دردناک عذاب ہے یہ اس وجہ سے ہے. کہ كانت تاتیہم رسلہم بالبینات کہ آتے تھے ان کے پاس ان کے پیغمبر بالبینات واضح دلائل لے کر. فقالوا پس کہا انہوں نے واضح نشانیاں لے کر آتے فقالوا پس وہ کہا انہوں نے. ابشر یہدونا. کیا بشر کیا انسان. یا کیا آدمی یہدونا ہمیں ہدایت دے گا؟. ان کا یہ گمان تھا کہ پیغمبر تو انسان ہو ہی نہیں سکتا، پیغمبر تو کس کو ہونا چاہیے؟ فرشتوں کو ہونا چاہیے تو یہ کیسے ہے جو یہ ہے انسان اور کہتا ہے مجھے اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تو اس کا انکار کرتے تھے. تو کہتے تھے ابشر یہدونا کیا آدمی ہمیں ہدایت دے گا؟. ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی. ابشر یہدونا کیا آدمی ہمیں ہدایت دے گا؟. کفروا پس انہوں نے کفر کیا وتولوا اور پشت پھیر لی. تولوا کے کیا معنی؟ پشت پھیرنا. تولوا کا ایک اور معنی بھی آیا تھا بھئی کیا معنی تھا؟. دوستی کرنا. جی تو موقع کے مطابق ایک ہی لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں موقع محل کے مطابق جو ترجمہ ہو بھئی. وہ آپ نے غور کرکے خود معلوم کرنا ہے. فقفروا پس انہوں نے کفر کیا وتولوا اور انہوں نے پشت پھیری. واستغن اللہ اور اللہ بےنیاز ہوا. اللہ بےنیاز ہے. بھئی انہوں نے کفر کیا اور پشت پھیری. تو اللہ بھی ان کی طرف سے بےپروا ہو گیا. اللہ بھی ان کی طرف سے. بے استغنا کا کیا معنی ہونا؟ بےنیاز ہونا، بےپروا ہونا بھئی. اللہ نے بھی ان سے بےپرواہی کی واللہ غنی حمید اور اللہ بےنیاز ہے حمید قابل تعریف ہے. زعم الذین کفروا گمان کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا. لن یبعثوا یہ کہ وہ ہرگز نہیں زندہ کیے جائیں گے. بعث کس کو کہتے ہیں بھئی اٹھانا، دوبارہ زندہ کرنا. اور گمان کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا لن یبعثوا یہ کہ وہ دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے. قل بلی و ربی. قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ان لوگوں کا تو یہ گمان ہے کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے اے پیغمبر قل آپ کہہ دیجیے. بلا کیوں نہیں وربی قسم ہے میرے پروردگار کی. یہ واؤ قسمیہ جا رہا ہے. اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے بلی و ربی کیوں نہیں اور قسم ہے میرے پروردگار کی. لتو بعث ثم لتنبئ بما عملتم البتہ تم ضرور زندہ کیے جاؤ گے ثم لتنبئ پھر تم ضرور خبر دیے جاؤ گے. بما عملتم اس کی جو تم عمل کرتے تھے. اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیے کیوں نہیں، کیوں تمہیں زندہ نہیں کیا جائے گا؟ قسم ہے میرے پروردگار کی تم ضرور دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے اور جو تم عمل کیا کرتے تھے وہ تمہیں بتلائے جائیں گے، وہ تمہیں جلا دیے جائیں گے کہ یہ دیکھو یہ یہ تمہارے کرتوت تھے اب ان کی سزا چکھنے کے لیے تیار ہو جاؤ. قل بلی و ربی. زعم الذین کفروا ان یبعث گمان کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ یہ کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے، ہرگز نہیں زندہ کیے جائیں گے. آپ کہہ دیجیے کیوں نہیں قسم ہے میرے پروردگار کی البتہ تم زندہ کی ضرور زندہ کیے جاؤ گے پھر تمہیں خبر دی جائے گی وہ جو تم عمل کیا کرتے تھے. وذلك علی اللہ یسیر اور یہ اللہ پر آسان ہے. یہ دوبارہ زندہ کرنا اللہ پر بڑا آسان ہے جس کو تم ممکن ہی نہیں سمجھتے. فامنوا بالله ورسوله پس تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر. والنور الذی انزلنا اور اس نور پر جس کو ہم نے نازل کیا. پس تم لوگ کیا کرو؟ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جس کو ہم نے نازل کیا. یاد رکھیے نور سے مراد یہاں قرآن ہے بھئی. کیا مراد ہے؟ قرآن. تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے پیغمبر پر اور اس قرآن پر جس کو ہم نے نازل کیا بھئی. واللہ بما تعملون خبیر اور اللہ جو تم عمل کرتے ہو اس سے باخبر ہیں. یوم یجمعکم لیوم الجمع ذالک یوم التغابن. یوم یجمعکم جس دن کہ وہ جمع کرے گا تم کو لیوم الجمع جمع ہونے کے دن بھئی. جمع ہونے کے دن میں. تمہیں جمع کرے گا. ذالک یوم التغابن وہ ہے تغابن کا دن بھئی وہ ہے یوم التغابن. وہ ہے ترجمہ کیا پھر تغابن کا معنی میں نے بیان کر دیا. ایک معنی کیا ہے تغابن کا؟ دھوکہ دینا. تو قیامت کو یوم تغابن کیوں کہا جاتا ہے؟ کیونکہ انسان نے جو اللہ سے عہد کیا تھا کہ ہم آپ کے راستے پر آپ کے احکام پر عمل کریں گے تو دنیا میں اس کے خلاف چلتا رہا. اور اپنی دانشت میں دھوکہ دیتا رہا اور آخرت میں اس کا یہ سارا فعل اس کے سامنے، بل سب کے سامنے کھل کر آ جائے گا اس لیے قیامت کو کیا کہتے ہیں یوم التغابن. اور دوسرا یا بعض علماء نے لکھا کہ تغابن کا معنی ہے حسرت اور قیامت کو حسرت کا دن اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کا کی جگہ جنت میں بھی ہے اور جہنم میں بھی ہے. اب اپنے عمل کے ذریعے وہ جس کو چاہے اختیار کر لے، جنت کے گھر کو اختیار کر لے یا جہنم میں اپنے ٹھکانے کو اختیار کر لے. تو قیامت کے دن جو جہنمیوں کی جگہ تھیں جنت کے اندر ہر ایک کی جگہ ہے جنت میں بھی اور جہنمیوں کی جو جگہ تھی جنت کے اندر وہ مومنین کو دے دی جائے گی اور مومنین کی جو جگہ تھی جہنم کے اندر وہ ان جہنمیوں کو دے دی جائے گی تو اس وقت وہ بے انتہا حسرت کریں گے. بے انتہا حد سے زیادہ دکھ غم اور حسرت کا اظہار کریں گے. اس لیے قیامت کو یوم التغابن کہا جاتا ہے. تو ترجمہ کیا بعض علماء نے اس کا ہار جیت بھئی. ہار جیت. یا بعضوں نے نفع و نقصان سود و زیاں کے ساتھ ترجمہ کیا اس کا. جس دن کہ جمع کرے جمع کرے گا وہ اللہ لیوم الجمع جمع ہونے کے دن. جبکہ وہ جمع ہونے کے دن وہ اللہ جمع کرے گا تم سب کو ذالک یوم التغابن وہ سود و زیاں کا دن ہے. یا وہ ہار جیت کا دن ہے. کون جیتتا ہے کون ہارتا ہے. ومن یومن بالله ویعمل صالحا یکفر عنہ سیئاته اور جو ایمان لایا اللہ پر اور اچھے عمل کیے یکفر عنہ سیئاته وہ اللہ مٹا دے گا اس سے اس کی برائیاں. ویدخلہ جنات اور اس کو داخل کرے گا ایسے باغات میں تجری من تحتہا الانہار جس کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی. خالدین فیہا ابدا ہمیشہ اس کے اندر رہے گا. میں نے بتلایا تھا خلود کا معنی ہے بڑی طویل مدت بھئی. بے بہت لمبی مدت اس یہ ہے خلود بھئی. اور اسی لیے اس کا ترجمہ عموماً ہمیشہ سے کر دیا جاتا ہے. بڑی لمبی مدت. اگرچہ ہمیشہ اس کا معنی نہیں ہے. ہاں ابد کا معنی ہمیشہ ہے بھئی ابد کا معنی. تو دیکھو یہاں سے معلوم ہوا خالدین فیہا ابدا ہمیشہ جنتی جو ہیں اس جنت کے اندر ہمیشہ رہیں گے ابد کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کبھی اس زندگی کی پھر انتہا نہیں ہوگی. ذالک الفوز العظیم یہی عظیم کامیابی ہے. والذین کفروا وکذبوا بایاتنا اولئک اصحاب النار خالدین فیہا. اور وہ. اور جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو اولئک اصحاب النار، یہ جہنم والے ہیں خالدین فیہا ہمیشہ رہیں گے اس جہنم میں وبئس المصیر، اور کتنا برا ٹھکانہ ہے جہنم بھئی! کتنا برا ٹھکانہ ہے جہنم؟ جہنم کتنا برا ٹھکانہ ہے؟ ما أصاب من مصيب إِلا بإذن الله۔ ما أصاب من مصيب نہیں پہنچتی کوئی مصیبت الا باذن الله مگر اللہ کے حکم سے۔ دنیا کے اندر جو کوئی بھی مصیبت کسی شخص پر آتی ہے وہ اللہ کے حکم سے آتی ہے، اللہ کے حکم کے بغیر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ ما أصاب من مصيبة إِلا بإذن الله نہیں آتی، نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم سے۔ ومن يؤمن بالله يهد قلبه اور جو ایمان لاتا ہے اللہ پر یہدی قلبه تو اللہ ہدایت دیتے ہیں اس کے دل کو۔ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے تو اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتے ہیں۔ والله بكل شيء عليم اور اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ تو دیکھیے یہاں بتلایا گیا جو کوئی مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کے حکم سے آتی ہے۔ ما اور الا کے ساتھ ترجمہ میں نے کیا بھئی۔ نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم سے۔ بمحاورہ ترجمہ کیا ہوگا؟ ہر مصیبت اللہ ہی کے حکم سے پہنچتی ہے، ہر مصیبت۔ تو دیکھیے یہ بتلا دیا گیا کہ ہر مصیبت اللہ کے حکم سے پہنچتی ہے۔ چنانچہ جب انسان کے ذہن میں یہ بات ہوگی تو اسے کوئی بھی غم پہنچے، کتنی بھی تکلیف آئے اس پر، وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو جائے گا کہ میں کچھ بھی کر لیتا اس سے بچ نہیں سکتا کیونکہ یہ اللہ نے میرے لیے تقدیر میں لکھ رکھی تھی، چنانچہ اس کی وجہ سے اس کے دل کو بڑا صبر آئے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بڑا صبر حاصل ہوگا۔ اور جس کے ذہن میں یہ تصور نہیں ہوگا، تقدیر پر ایمان نہیں ہوگا، یقیناً وہ حد سے زیادہ غم زدہ ہوگا کہ اگر میں یوں نہ کرتا یوں کرتا تو پھر یہ مصیبت نہ آتی، یہ اس وجہ سے ہے اور اس وجہ سے بھئی۔ تو ان کو صبر کے حصول کی کوئی صورت نہیں، جبکہ مومن کو مومن کا دل جو ہے ان باتوں کی وجہ سے بڑی حد تک اس کو وہ مطمئن رہتا ہے بھئی۔ وأطيعوا الله وأطيعوا الرسول اور فرمانبرداری کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اس پیغمبر کی۔ فإن توليتم پس اگر تم پشت پھیرو گے، اگر تم پشت پھیرو گے، اگر تم اعراض کرو گے، فإنما على رسولنا البلاغ المبين پس ہمارے پیغمبر پر تو واضح پہنچا دینا ہی ہے۔ ہمارے پیغمبر پر تو واضح پہنچانا ہی ہے، پیغمبر کا کام منوانا نہیں ہے، پیغمبر کا کام پہنچانا ہے، اب کوئی مانے تو اچھی بات ہے، اپنے نفع کے لیے مانتا ہے، نہیں مانتا تو نہ مانے، اپنے نقصان کر رہا ہے۔ فإن توليتم پس اگر تم رخ پھیرو گے، فإنما على رسولنا البلاغ المبين تو ہمارے پیغمبر پر تو کھلا پہنچا دینا ہی ہے۔ الله لا إله إلا هو اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وعلى الله فليتوكل المؤمنون اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے مومنوں کو۔ يا أيها الذين آمنوا إن من أزواجكم وأولادكم عدوا لكم اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! یقیناً من أزواجكم تمہاری بعض بیویاں وأولادكم اور تمہاری بعض اولاد جو ہے عدوا لكم وہ تمہارے دشمن ہیں۔ بعض تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد، وہ تمہارے دشمن ہیں، فاحذروهم تو ان سے بچتے رہنا، ان سے ہوشیار رہنا۔ بھئی اولاد اور بیویاں انسان کو کے لیے فتنے کا باعث آزمائش میں اس کو ڈالنے والی، کیونکہ اولاد اور بیوی کی فرمائشیں ہی پوری کرنے کے لیے انسان اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے، حرام اور حلال کی تمیز چھوڑ دیتا ہے اور غلط راستے پر چل پڑتا ہے تو اللہ فرما رہے ہیں جو اس طرح کی اولاد اور بیویاں ہیں وہ تمہاری دشمن ہیں، ان سے بچتے رہو بھئی، اور کہا بعض اولاد اور بعض بیویاں بھئی، من آیا بھئی من، معلوم ہوا سب بیویاں یا ساری اولاد اس طرح کی نہیں بھئی، بعض بیویاں تو خاوندوں کی نیکی کام میں اتنی اعانت کرتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی، بلکہ بعض اوقات تو نیکی پر چلنے کا سبب ہی بیوی بن جاتی ہے، انسان خود صحیح راستے کا انتخاب نہیں کرتا، لیکن بیوی کے سمجھانے سے بالآخر غلط راستے کو چھوڑ کر سیدھے راستے پر چل پڑتا ہے، اسی طرح بعض اولاد بھی جو ہے وہ انسان کے لیے نیکی کا سبب بنتی ہے اور پھر آخرت، پھر وفات کے بعد بھی ان کی طرف سے اس کو نیکیاں پہنچتی رہتی ہیں۔ يا أيها الذين آمنوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! إن من أزواجكم وأولادكم یہ یہ یقیناً تمہاری بعض بیویاں وأولادكم اور تمہاری بعض اولاد عدوا لكم وہ تمہارے دشمن ہیں۔ فاحذروهم پس تم ان سے بچو، وتصفحوا وتغفروا فإن الله غفور رحيم اور اگر تم معاف کر دو وتصفحوا اور درگزر کرو وتغفروا اور بخش دو فإن الله غفور رحيم پس یقیناً اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔ بیویوں کی وجہ سے، اولاد کی وجہ سے اگر تم آزمائش میں پڑ جاؤ، اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاؤ اور پھر بعد میں خیال آئے تو پھر انسان بعض اوقات سزا دینے کا ارادہ کرتا ہے ان کو کہ ان کی وجہ سے میں اس چیز میں پڑ گیا تھا، تو اللہ فرما رہے ہیں کہ بس ان سے ہوشیار رہو، اور اگر تم ان کو سزا دینے کے بجائے کیا کر دو؟ معاف کر دو، درگزر کرو اور انہیں بخش دو تو اللہ بھی بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں، وہ اللہ بھی تمہیں بخش دیں گے۔ وإن تعفوا وتصفحوا وتغفروا فإن الله غفور رحيم اور اگر تم معاف کر دو وتصفحوا اور درگزر کرو وتغفروا اور بخش دو فإن الله غفور رحيم پس یقیناً اللہ مغفرت فرمانے والے، نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ إنما أموالكم وأولادكم فتنة تمہارے اموال، تمہارے مال اور تمہاری اولاد جو ہیں وہ فتنہ ہی ہیں۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے، وہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنة فتنة ہی ہیں، یہ ہی کس کا ترجمہ کر رہا ہوں؟ حصر والا بھئی! إنما کا۔ یاد رکھیے إنما سے حصر آتا ہے جزِ اخیر میں، آخری جز جو ہوتا ہے کلام کا اس کے اندر کیا آتا ہے؟ حصر، اسی لیے میں نے فتنہ کے بعد ہی کا لفظ کہا، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں وہ فتنہ ہی ہیں، وہ آزمائش ہی ہیں۔ والله عنده أجر عظيم اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ اللہ کے پاس عظیم اجر ہے۔ فاتقوا الله پس تم ڈرو اللہ سے مستطعتم جتنی تم استطاعت رکھتے ہو۔ تم اللہ سے، تم پس تم اللہ سے ڈرو مستطعتم جس قدر ہو سکے تم سے۔ واسمعو اور سنو تم وأطيعوا اور فرمانبرداری کرو وأنفقوا اور خرچ کرو خیرا لأنفسكم یہ بہتر ہوگا تمہاری اپنی جانوں کے لیے۔ خيرًا لأنفسكم یہ بہتر ہوگا تمہاری اپنی جانوں کے لیے۔ یہ خیرًا منسوب ہے، یہ خبر ہے یکن کی؟ یہ خبر ہے یکن کی؟ فتقوا الله مستطعتم واسمعوا وأطيعوا وأنفقوا خيرًا لأنفسكم پس تم اللہ سے ڈرو مستطعتم جتنا تم سے ہو سکے، واسمعوا وأطيعوا وأنفقوا اور تم سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو خيرًا لأنفسكم أيكن خيرًا لأنفسكم یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا، تمہاری اپنی جانوں کے لیے بہتر ہوگا کہ تم اللہ سے ڈرو اور سنو اور فرمانبرداری کرو اور اس کے راستے میں خرچ کرو۔ تو خیرًا کیوں منسوب ہے؟ یہ یکن کی خبر ہے۔ اور یکن مجزوم کیوں نکالا میں نے؟ یکونو نہیں کہا، میں نے یکن کہا۔ جی؟ شاباش! یہ جواب امر ہے بھئی، میں نے بتلایا تھا چھ چیزوں کے بعد اگر فعل مضارع آئے اور اس پر فا اور واو واو نہ ہو تو وہ کیا ہوگا؟ مجزوم بھئی! تو یہ مجزوم ہے۔ اور اوپر آیا تھا عدوًا لكم یہ کیوں منسوب ہے بھئی؟ یاد رکھیے یہ إن کا اسم مؤخر ہے إن من أزواجكم وأولادكم عدوًا لكم إن کے بعد جار مججرور آ جائیں تو یہ جار مججرور خبر تو بن سکتے ہیں إن کا اسم نہیں بن سکتے تو من أزواجكم وأولادكم یہ خبر مقدم اور عدوًا لكم اسم مؤخر إن کا۔ ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون اور جس کو بچا لیا گیا شح نفسه اپنی جان کے بخل سے، اپنے، اپنی جان کے بخل سے، شح کس کو کہتے ہیں؟ بخل، کنجوسی بھئی! ومن يوق شح نفسه اور جس کو بچا لیا گیا اپنی جان کے بخل سے یا یوں کہیں دل کے بخل سے، جس کو بچا لیا گیا دل کے بخل سے فأولئك هم المفلحون پس وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ دل کا بخل بھئی دل بخیل ہو تو انسان بخل کرتا ہے اور جس کے دل کو اللہ بخل سے بچا لیں تو اس کو، اس پر اللہ نے بڑی رحمت فرما دی بھئی۔ إن تقرضوا الله قرضًا حسنًا يضاعفه يضاعفه لكم ويغفر لكم اور اگر تم قرض دو اللہ کو قرضًا حسنًا اچھا قرض، اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے يضاعفه لكم تو وہ اس کو بڑھا دے گا تمہارے لیے ويغفر لكم اور تمہیں بخش دے گا۔ والله شكور حليم واللہ شکور اور اللہ قدردان ہیں حليم تحمل والے ہیں۔ اللہ تحمل والے ہیں۔ اللہ کی رحمت کا اندازہ لگائیے کہ یہ سارا کچھ دیا ہوا بھی اللہ ہی کا ہے، پھر بھی ہم اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کریں تو اللہ فرماتے ہیں اس کو قرض سمجھنا یہ ضائع نہیں جائے گا جیسے قرض نہیں جاتا واپس ملتا ہے انسان کو، یہ بھی قرض ہی دے رہے ہو مجھے، میں اس کو کئی گناہ بڑھا کر تمہیں واپس کروں گا۔ عالم الغيب والشهادة العزيز الحح- العزیز الحکیم جاننے والا ہے پوشیدہ کو والشہادت اور حاضر کو العزیز زبردست ہیں الحکیم حکمت والے ہیں۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن وأحصوا العدة واتقوا الله ربكم لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إِلا أن يأتي إِلا أن يأتين بفاحشة مبينة وتلك حدود الله ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه لا تدري نفس لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا یہ سورہ طلاق ہے، اس کے اندر طلاق کے کچھ احکام ذکر ہوں گے، اس لیے اس کو سورہ طلاق کہا جاتا ہے۔ يا أيها النبي اے پیغمبر! إذا طلقتم النساء جب تم لوگ طلاق دو النساء عورتوں کو فطلقوهن لعدتهن تو طلاق دو ان کو لعدتهن اي وقت عدتهن یہ لام بمعنی وقت کے ہے بھئی، یہ لام بمعنی وقت کے ہے، لام بمعنی وقت کلام عرب میں عام استعمال ہوتا ہے بھئی۔ اے پیغمبر إذا طلقتم النساء جب تم طلاق دو النساء عورتوں کو فطلقوهن لعدتهن تو تم طلاق دو ان کو لعدتهن ان کی عدت کے وقت یعنی طہر میں، کب طلاق دینی چاہیے؟ عدت کے وقت یعنی تو، یعنی جس سے وہ عدت شمار کر سکیں پوری پوری تو طہر میں طلاق دینی چاہیے، وأحصوا العدة اور شمار کرو عدت کو، بھلا نہ دینا عدت کو بلکہ اس کو شمار کرنا، یہ نہ ہو تم لوگوں کو عدت یاد ہی نہ رہے اور پھر اس کی وجہ سے گڑبڑ ہو جائے مسئلہ اور کیونکہ عدت کے اندر ہی رجوع ہو سکتا ہے اور بیوی اگر دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو عدت کے بعد ہی نکاح کر سکتی ہے تو خاوند کو بھی چاہیے اگر کہ وہ عدت کو شمار رکھے کہ تاکہ اگر رجوع کرنا ہو تو ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لے اور بیوی کو بھی چاہیے کہ کیا کرے؟ عدت کا شمار رکھے کیونکہ اگر اس نے اور کہیں نکاح کرنا ہے تو عدت کے بعد ہی کر سکتی ہے اس سے پہلے نہیں کر سکتی تو اگر عدت کو شمار نہیں کرو گے، اس کا خیال نہ رکھو گے تو پھر تکلیف اور غلطی کا باعث بن جائے گا۔ تو دیکھیے یہاں خطاب ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور حکم سب کو دیا جا رہا ہے تمام مومنین کو کہ جب تم طلاق دو عورتوں کو تو کب طلاق دو؟ ان کی عدت کے وقت، یعنی تاکہ وہ عدت شمار کر سکیں اور آپ اصول الشاشی میں پڑھ چکے ہوں گے کہ احناف کے نزدیک عدت کا شمار کس سے ہوگا؟ حیض سے، کس سے؟ حیض، تین حیض ہے عدت عورت کی اگر وہ حیض والی ہے اور اگر اسے حیض نہیں آتا، عمر زیادہ ہو چکی، حیض بند ہو چکے تو پھر اسی صورت میں آئے گا اس کی عدت تین ماہ ہیں، تین مہینے پورے بھئی۔ اور اگر وہ حاملہ ہے جس کو طلاق دی گئی ہے حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے یعنی جب وہ اس حمل کو جنم دے دے، جب وہ اس حمل کو جنم دے دے چاہے طلاق کے دیتے ہی تھوری دیر بعد ہی بچے کی پیدائش ہو گئی، فورا ہی عدت ختم ہو گئی بھئی۔ اب وہ فورا کہیں اور نکاح کرنا چاہتی ہے تو نکاح کر سکتی ہے۔ وأحصوا العدة اور عدت کو کا شمار رکھو واتقوا الله ربكم اور ڈرتے رہو اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے لا تخرجوهن من بيوتهن تم نہ نکالو ان کو من بيوتهن ان کے گھروں سے۔ یاد رکھیے طلاق جو ہے طلاق طلاق کے کا سنت طریقہ سب سے احسن طریقہ یہ ہے کہ انسان ایسے طہر کے اندر بیوی کو طلاق دے جس میں اس کے ساتھ اس نے صحبت نہ کی ہو، طہر میں دے اور وہ طہر کس قسم کا ہونا چاہیے؟ جس میں صحبت نہ کی ہو اور بس ایک ہی طلاق دے دے اور پھر آرام سے عدت کو گزرنے دے، پورا ہونے دے، تو عدت گزرے گی خود بخود عورت بائن ہو جائے گی، جدا ہو جائے گی، پھر وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ دوسرا طریقہ دوسرا طریقہ سنت طریقہ وہ یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دی جس میں صحبت نہ کی، اگلے طہر میں دوسری دی اور اس سے اگلے طہر میں تیسری دے دی یہ طریقہ بھی جائز ہے۔ اور اس کے علاوہ جو طریقے ہیں وہ طلاق بدعت میں آ جاتے ہیں، مثلا حیض کے اندر طلاق دے دی بھئی، یا ایسے طہر میں دے دے جس کے اندر صحبت کی ہے یا تین اکٹھی دے دیں یہ سب کس کے اندر داخل ہیں؟ بدعت کے اندر داخل ہیں بھئی۔ طلاق بدعت کے اندر اور یاد رکھیے جب طلاق دے دی، تو اب عدت کے اندر اس عورت کا نفقہ یعنی خرچہ وغیرہ اور اس کو رہائش یہ دینا خاوند کا کام ہے۔ خاوند کیا کرے گا اس عدت کے دوران؟ عورت کو رہائش بھی دے گا اور نفقہ بھی دے گا۔ رہائش، جسے سکنا کہتے ہیں، سکنا بھئی۔ سکنا بھی دے گا، رہائش بھی دے گا اور خرچہ بھی دے گا۔ تو جس گھر میں خاوند رہتا ہے جو اس عورت کا گھر ہے، خاوند اس کو اس گھر سے نہ نکالے۔ اسی گھر میں وہ رہے اور عدت پوری کرے۔ یہ خاوند پر اس کے رہائش اور نفقہ خرچہ وغیرہ جو ہے اس کا خاوند پر ہے کھانے پینے وغیرہ کا خرچہ۔ وجہ اس کی یہ کہ یہ عورت عدت میں ہے اور اگے نکاح ابھی نہیں کر سکتی۔ کیوں نہیں کر سکتی؟ صرف اسی خاوند کی وجہ سے۔ شریعت نے اس کو رکنے کا حکم دیا ہے کہ شاید اس کے پیٹ میں خاوند کی اولاد نہ ہو بھئی۔ تو تین حیض آئیں گے، پتہ چل جائے گا کہ اس کے پیٹ میں خاوند کی اولاد نہیں۔ تو گویا اس وقت تک نکاح کا کچھ نہ کچھ تعلق باقی ہے، لہذا اس دوران اب رہائش کا بندوبست کرنا وہ بھی کس کا کام؟ خاوند کے ذمے ہے۔ اور خرچہ وغیرہ کھانے پینے کا وہ بھی کس کے ذمے ہے؟ خاوند کے ذمے ہے۔ لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة. تو دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں: لا تخرجوهن، تم نہ نکالو ان کو۔ لا تخرجوهن، تم نہ نکالو ان کو من بيوتهن، ان کے گھروں سے۔ خاوند ان کو نکال دیتے ہیں بھئی لڑائی ہوتی ہے، طلاق دیتا ہے اور پھر نکال دیتا ہے، نہیں بھئی اللہ منع فرما رہے ہیں رہائش خاوند کے ذمے ہے عدت کے اندر، تو خاوند کے لیے جائز نہیں ہے اس کو نکالنا۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: لا تخرجوهن من بيوتهن، نہ نکالو تم ان کو ان کے گھروں سے، ولا يخرجن، اور نہ وہ خود نکلیں۔ نہ تم نکالو اور نہ وہ خود نکلیں کہ خود ہی وہاں نکل کر چلی گئی والدین کے گھر، نہیں بھئی، یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے جانا۔ إلا أن يأتين بفاحشة مبينة، مگر یہ کہ وہ لے کر آئیں کھلی بے حیائی۔ فاحشة مبينة، کھلی بے حیائی۔ مگر یہ کہ وہ کھلی بے حیائی لے کر آئیں یعنی کھلی بے حیائی کریں۔ کھلی بے حیائی سے کیا مراد ہے؟ مفسرین حضرات لکھتے ہیں یعنی کہ وہ بدکاری کرے، زنا کرے بھئی۔ کیا کرے؟ ہاں، اگر زنا کرے تو پھر خاوند کیا کر سکتا ہے اس کو نکال سکتا ہے، پھر نکالنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح مفسرین حضرات لکھتے ہیں اگر وہ بدزبان ہو، زبان دراز ہو۔ سمجھ میں آیا؟ تو بیہودہ گوئی کرنے والی ہو تو اس صورت میں بھی خاوند کیا کر سکتا ہے اس کو نکال سکتا ہے کہ ہر وقت زبان درازی کرتی ہے، لڑتی جھگڑتی رہتی ہے اور تکلیف کا باعث بنتی ہے، تو بھی خاوند اس کو نکال سکتا ہے۔ تو دیکھیے ایک طلاق دی، تو اب عدت کے اندر ہے عورت، خاوند اس کو نہ نکالے۔ سکنا بھی اس کے ذمے اور نفقہ بھی اس کے ذمے۔ وتلك حدود الله، اور یہ اللہ کی حدود ہیں، یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه، اور جو تجاوز کرے گا اللہ کی حدود سے، پس تحقیق اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ جو کوئی اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا، ان سے باہر نکلے گا، تو اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا، اپنا ہی نقصان کر رہا ہے، کسی اور کا نقصان نہیں کر رہا، کہ اس کا وبال اسے چکھنا پڑے گا۔ لا تدرى، لا تدرى، آپ نہیں جانتے لعل اللہ يحدث بعد ذلك أمرا۔ شاید کہ اللہ يحدث، پیدا کر دے بعد ذلک، اس کے بعد، اس طلاق کے بعد، شاید کہ اللہ اس طلاق کے بعد پیدا فرما دیں أمرا، کوئی چیز، کوئی نئی بات، کوئی نئی بات پیدا فرما دیں، کوئی نئی صورت اللہ پیدا فرما دیں۔ اللہ فرما رہے ہیں: شاید اللہ کوئی نئی صورت پیدا فرما دیں کہ ہو سکتا ہے بعد میں خاوند کو ندامت ہو کہ میں نے طلاق دے دی غصے میں آ کر، تو پھر وہ رجوع کر سکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے اللہ کوئی نئی صورت پیدا فرما دیں، ہو سکتا ہے یہ پھر آپس میں کیا کر لیں؟ صلح کر لیں، تو جب ایک طلاق دی ہے تو رجوع کا حق باقی ہوگا، عدت کے اندر کیا کر سکتا ہے؟ رجوع کر سکتا ہے۔ عدت کے بعد بھی پھر مل کر رہ سکتے ہیں، لیکن پھر دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر تین طلاقیں دے دیں، پھر تو معاملہ بالکل ہی ہاتھ سے نکل گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے لا تدرى کہ آپ نہیں جانتے، لعل اللہ يحدث بعد ذلك أمرا، شاید کہ اللہ پیدا فرما دیں اس طلاق کے بعد أمرا کوئی نئی بات۔ یا لا تدرى کے اندر ضمیر ہیا بھئی، لا تدرى بھئی، یہ تو مخاطب کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے اور مؤنث کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے۔ یضرب یضربانی یضربون تضرب تو تضرب دیکھو مؤنث کا صیغہ بھی ہے اور تضرب مخاطب کا بھی صیغہ ہے، تو اسی طرح یہاں پر بھی تدری مخاطب کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے اور مؤنث غائب کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے، تو اس صورت میں ضمیر راجع ہوگی نفس کو۔ لا تدرى کوئی نفس نہیں جانتا لعل اللہ يحدث بعد ذلك أمرا، شاید اس کے بعد اللہ کوئی نئی صورت پیدا فرما دیں، کوئی خیر کی صورت اللہ وہاں نکال دیں بھئی۔ فإذا بلغنا أجلهن فأمسكوهُن بمعروف أو فارقوهن بمعروف، پس جب وہ پہنچ جائیں اجلهن، اجل کہتے ہیں مقررہ مدت، فإذا بلغنا أجلهن، جب یہ اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جائیں۔ مدت کو پہنچ جائیں یعنی پہنچنے کے قریب ہو جائیں، مراد یہ ہے بھئی۔ پہنچ جائیں، پہنچ جائے کا تو معنی یہ ہوا کہ عدت ختم ہو گئی، اور عدت ختم ہو جائے پھر تو رجوع نہیں ہو سکتا، حالانکہ اللہ آگے کیا فرما رہے ہیں؟ کہ چاہو تو ان کو روک لو، یعنی رجوع کر لو۔ تو عدت کے پورا ہونے کے بعد تو رجوع نہیں ہو سکتا، اس سے پہلے پہلے ہو سکتا ہے رجوع، تو اسی لیے فإذا بلغنا أجلهن کا کیا معنی ہوا؟ جب وہ اپنی مقررہ مدت کے قریب پہنچ جائیں۔ کیا مراد ہوا؟ قریب پہنچ جائیں۔ فإذا بلغنا أجلهن، پس جب وہ پہنچ جائیں اپنی مقررہ مدت کو، یعنی اس کے قریب پہنچ جائیں، فأمسكوهن، تو روک لو ان کو بمعروف، اچھے طریقے سے، أو فارقوهن بمعروف، یا جدا کر دو ان کو اچھے طریقے سے۔ روکنا ہے تو اچھے طریقے سے روک لو، رجوع کر لو۔ اور چھوڑنا ہے تو اچھے طریقے سے چھوڑ دو، تنگ نہ کرو بھئی اس کو۔ روکنا ہے تو رجوع کر لو، رجوع نہیں کرنا، تو بس گزرنے دو عدت کو، بس چھوڑ دو ان کو، اور اچھے طریقے سے ان کو تکلیف اور اذیت نہ دو۔ واشهدوا ذوى عدل منكم، اور گواہ بنا لو تم لوگ ذوى عدل، دو عادل آدمیوں کو، قابلِ اعتماد، عادل کسے کہتے ہیں؟ جو قابلِ اعتماد ہیں، نیک ہیں بھئی، دو نیک گواہ بنا لو، دو قابلِ اعتماد گواہ بنا لو، منكم، اپنے میں سے۔ دو قابلِ اعتماد گواہ بنا لو۔ یہ رجوع کی صورت میں بھئی، یاد رکھیے رجوع جو ہے، رجوع، ایک طلاق دی ہے یا دو دی ہیں، تو رجوع ہو سکتا ہے، تین کے بعد، تین کے بعد رجوع کی صورت نہیں۔ اور رجوع کی کس طرح کیا جائے گا؟ کہ صرف اتنا زبان سے کہہ دے میں نے طلاق سے رجوع کر لیا، میں نے جو تمہیں طلاق دی تھی، میں اس سے رجوع کرتا ہوں، بس، رجوع ہو گیا۔ یا کوئی ایسا عمل کرے جو صرف بیوی کے ساتھ جائز ہے، تو بھی زبان سے کچھ بھی نہ کہے، رجوع ہو جائے گا۔ تو رجوع زبان سے بھی ہو سکتا ہے، عمل سے بھی بھئی۔ زبان سے میں نے بتلا دیا، اور عمل کے ذریعے کوئی ایسا عمل جو بیوی کے ساتھ جائز ہے ویسے جائز ہے، مثلا بیوی کا بوسہ لے لیا، بس، رجوع ہو گیا، اب زبان سے کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں بھئی، کیونکہ اس کا یہ عمل جو ہے، یہ تو صرف بیوی کے ساتھ جائز ہوتا ہے، اور یہ عمل بتلا رہا ہے معلوم ہوا یہ کیا کر رہا ہے؟ رجوع کر رہا ہے، اس کو بیوی بنا کر رکھنا چاہتا ہے بھئی۔ अच्छा भाई، تو اللہ فرما رہے ہیں دو گواہ بنا لو، تو رجوع کی صورت میں اللہ فرما رہے ہیں دو گواہ بنا لو تاکہ بعد میں کہیں انکار کی صورت میں۔ عورت انکار کر دے اس نے کوئی رجوع نہیں کیا، تو ہو سکتا ہے آپ کو ضرورت پیش آ جائے گواہ پیش کرنے کی کہ یہ دیکھو میں نے کیا کیا تھا؟ رجوع کر لیا تھا۔ تو رجوع بیوی کے سامنے بھی نہیں ضروری۔ دو گواہ ہیں آپ نے بنا دیے، آپ کہہ دیں ان کے سامنے کہ میں نے بیوی کو طلاق دی تھی، اس سے کیا کرتا ہوں؟ رجوع کرتا ہوں، اور اس کو بھی خبر دے دے تاکہ بعد میں جھگڑا ہی نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: واشهدوا ذوى عدل منكم، اور گواہ بنا لو دو عادل آدمی اپنے میں سے، وأقيموا الشهادة لله، اور قائم کرو گواہی کو اللہ کے لیے، ادا کرو گواہی کو اللہ کے لیے، یعنی اللہ کے لیے سیدھی سیدھی گواہی دو۔ أقيموا الشهادة لله، سیدھی سیدھی گواہی دو اللہ کے لیے، یعنی اس میں کسی رعایت کا خیال نہ رکھو، جو معاملہ ہو جس طرح کہو، اسی طرح سیدھی سیدھی گواہی دو، یہ حکم دیا جا رہا ہے اللہ کی طرف سے بھئی۔ ذالكم يوعظ به من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، یہ یوعظ بہ، یہ چیز جو ہے، وہ نصیحت کی جا رہی ہے اس کے ساتھ، جو اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، ومن يتق الله يجعل له مخرجا، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، يجعل له مخرجا، تو اللہ اس کے لیے کوئی نکلنے کا راستہ بنا دیتے ہیں۔ مخرج، نکلنے کی جگہ، نکلنے کا راستہ، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے اس مصیبت سے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دیتے ہیں۔ سورت ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ فرما رہے ہیں: فإذا بلغنا أجلهن فأمسكوهن بمعروف أو فارقوهن بمعروف وأشهدوا ذوى عدل منكم وأقيموا الشهادة لله ذالكم يوعظ به، پس جب وہ عورتیں اپنی مقررہ مدت کو پہنچیں، یعنی اس کے قریب پہنچ جائیں، تو روک لو ان کو اچھے طریقے سے یا جدا کر دو ان کو اچھے طریقے سے، اور گواہ بنا لو دو عادل آدمیوں کو اپنے میں سے، اور قائم کرو یعنی ادا کرو گواہی کو اللہ کے لیے۔ ذالكم يوعظ به، اس بات کے ساتھ نصیحت کی جا رہی ہے اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور آخرت کے دن پر۔ ومن يتق الله يجعل له مخرجا، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے، اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی صورت بنا دیتے ہیں، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتے ہیں۔ ويرزقه من حيث لا يحتسب، اور اللہ اس کو رزق دیتے ہیں من حيث، ایسی جگہ سے لا يحتسب، جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے، اللہ اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتے ہیں جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ ومن يتوكل على الله فهو حسبه، اور جو بھروسہ کرتا ہے اللہ پر، فهو حسبه، تو اللہ اس کے لیے کافی ہیں۔ إن الله بالغ أمره، یقیناً اللہ پورا کرنے والا ہے امره، اپنے، اپنے امر کو، اپنے بات کو۔ اللہ کو جو بات کرنی پوری کرنی ہوتی ہے، اللہ اس کو پورا کر کے رہتے ہیں، کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے۔ إن الله بالغ أمره، یقیناً اللہ پورا کرنے والا ہے اپنی بات کو۔ یا یہ ترجمہ کریں: إن الله بالغ أمره، یقیناً اللہ اپنی بات پوری کر کے رہتا ہے۔ قد جعل الله لكل شيء قدرا، تحقیق مقرر کر رکھا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے قدرا، ایک اندازہ۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ واللائي يئسن من المحيض من نسائكم واللائي، اس میں موصول ہے۔ اور وہ عورتیں يئسن من المحيض من نسائكم، جو ناامید ہو گئی ہوں حیض سے۔ بھئی وہ عورتیں جو ناامید ہو گئی ہیں حیض سے، یعنی مایوس ہو گئی ہیں حیض سے۔ کیا معنی؟ یعنی جن کو حیض نہیں آتا زیادہ عمر ہو جانے کی وجہ سے۔ آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ پچاس پچاس سال کی عمر میں پھر عورت کو حیض آنا بند ہو جاتا ہے بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: واللائي يئسن من المحيض من نسائكم، اور وہ جو ناامید ہو جائیں حیض سے من نسائكم، تمہاری بیویوں میں سے، إن ار تبتم، اگر تم شک کرو۔ إن ار تبتم، اگر تمہیں شک ہو، کس چیز میں شک ہو؟ یعنی ان کی عدت میں۔ کہ ان کی عدت اب کیسے شمار کریں گے؟ ان کو تو حیض آتا ہی نہیں، اور عدت تو کس کے ساتھ شمار کرتے تھے؟ حیض کے ساتھ شمار کرتے تھے؟ تو اللہ فرما رہے ہیں: إن ار تبتم، اگر تم شک کرو، کس چیز میں شک کرو؟ ان کے عدت کے شمار کرنے میں کہ کس طرح کریں گے؟ تو اللہ، تو اللہ فرما رہے ہیں: فعدتهن ثلاثة أشهر، تو ان کی عدت تین ماہ ہیں بھئی۔ ان کی عدت کتنے ہیں؟ تین مہینے ہیں۔ واللائي لم يحضن، اور وہ عورتیں جنہیں حیض نہیں آتا۔ جن کو حیض نہیں آیا۔ جن کو ابھی تک حیض نہیں آیا، ان کی بھی یہی عدت ہے۔ ایک تو وہ عورت، اس کا حیض بند ہوا، کس وجہ سے؟ زیادہ، اور ایک کم سنی، ابھی بالغ ہی نہیں ہوئی، اس کو بھی حیض نہیں آتا، تو اس کی بھی یہی عدت ہے۔ اس کو بھی اگر طلاق دی جائے، تو عدت کس کے ساتھ شمار کریں گے؟ تین مہینے پورے یہ اس کی عدت ہوگی۔ ولات الأحمال أجلهن، اور اولات الأحمل جو حمل والی اور وہ جو حمل والیاں ہیں، یعنی جن کے پیٹ میں بچہ ہے، اجلهن، ان کی مدت جو ہے ان يضعن حملهن، یہ کہ وہ جنم دے دیں اپنے حمل کو۔ کیا کر دیں؟ اپنے حمل کو جنم دے دیں، ان کی یہ عدت ہے بھئی، چاہے طلاق دینے کے کچھ دیر بعد ہی بچے کی پیدائش ہو جائے تو عدت پوری ہو جائے گی۔ ومن يتق الله يجعل له من أمره يسرا، اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ کر دیتے ہیں اس کے لیے من أمره، اس کے معاملے میں يسرا، آسانی۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے معاملے میں کیا فرما دیتے ہیں؟ آسانی فرما دیتے ہیں۔ تو بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ واللائي يئسن من، اور وہ عورتیں جو مایوس ہو گئی ہوں حیض سے تمہاری بیویوں میں سے، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین مہینے ہیں، اور وہ عورتیں بھی ج- جنہیں حیض نہیں آیا ابھی تک، وأولات الأحمال، اور حمل والیاں ان کی عدت جو ہے وہ یہ ہے کہ وہ اس حمل کو جنم دے دیں، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے، اللہ اس کے لیے اس کے معاملے میں آسانی فرما دیتے ہیں۔ واللائي لم يحضن آیا بھئی! وہ عورتیں جن کو حیض ابھی نہیں آیا، جو بالغ نہیں ہوئیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بلوغت سے پہلے بھی لڑکی کا نکاح جائز ہے۔ بلوغت سے پہلے بھی، اللہ فرما رہے ہیں جن کو ابھی حیض آیا ہی نہیں، جو بالغ ہی نہیں ہوئیں، ان کو طلاق دو تو ان کی عدت کتنی ہے؟ وہ بھی تین مہینے ہیں، معلوم ہوا اس سے پہلے بھی نکاح جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔