کل وجہِ شبہ کی بحث ہم نے شروع کی تھی۔ وجہِ شبہ اس صفت کو، وہ معنی ہے جس کے اندر دونوں شریک ہوں یعنی جس میں دونوں کے شریک ہونے کا ارادہ کیا جائے مولانا۔ اس لیے کہ اور بھی بہت سی چیزوں کے اندر مشبہ اور مشبہ بہٖ شریک ہوتے ہیں لیکن وجہِ شبہ وہ ہوتی ہے جس کے ساتھ قصد متعلق ہو مولانا۔ پھر یہ وجہِ شبہ یا تحقیقی ہوگی یا تخییلی بھئی۔ تحقیقی کا معنی یہ ہے کہ وہ نفس الامر میں پائی جائے، خارج میں پائی جائے۔ جیسے کہ مولانا ستارے ہیں چمکتے ہیں تاریکی کے بیچ میں، تو یہ ہمیں ہم اس کا خارج میں بھی واقعی یہ چمک پائی جاتی ہے اور تاریکی کے درمیان ستارے سے جو ہیئت حاصل ہوتی ہے یہ خارج میں بھی پائی جا رہی ہے نفس الامر میں۔ اور کبھی کبھار یہ وجہِ شبہ کیا ہوتی ہے؟ تخییلی ہوتی ہے یعنی خارج اور نفس الامر میں نہیں پائی جاتی۔ جیسے کہ تشبیہ دی گئی ہے: ”كَأَنَّ النُّجُومَ بَيْنَ دُجَاهُ سُنَنٌ لَاحَ بَيْنَهُنَّ ابْتِدَاعُ“ اس شعر کے اندر تشبیہ دی گئی کہ ستارے جو ہیں تاریکیوں کے بیچ میں وہ اسی طرح ہیں جس طرح کہ سنتیں چمک رہی ہیں کس کے بیچ میں؟ بدعتوں کے بیچ میں۔ اب یہاں پر یہ جو چمک ہے سنتوں کے اندر اور یہ جو تاریکی ہے بدعتوں کے اندر، یہ خارج میں موجود نہیں، ہمیں نظر نہیں آتی۔ لیکن عرف کے اندر مولانا یہ بات شائع اور رائج ہے کہ ہر وہ چیز جو بدعت ہو اور جہالت ہو، اس کی تشبیہ کس کے... اس کو تشبیہ اس کی کس کے ساتھ دی جاتی ہے؟ تاریکی کے ساتھ، اور بدعت کا ارتکاب کرنے والے، جہل کا ارتکاب کرنے والے کو اس شخص کی طرح سمجھا جاتا ہے جو تاریکی میں چل رہا ہو اور راستہ نہ پاتا ہو۔ تو بطریقِ عکس کے جب جہل اور بدعت کو تشبیہ دی گئی تاریکی کے ساتھ، تو بطریقِ عکس اور بطریقِ مقابلہ کے لازم آیا کہ سنت کس کے مشابہ ہو گئی؟ روشنی کے۔ تو علم اور سنت کو تشبیہ دی جاتی ہے روشنی کے ساتھ اور یہ بات شائع اور رائج ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو تشبیہ دی گئی کہ ستارے روشنی کے... ستارے تاریکیوں کے بیچ میں ہیں، یہ کس کی طرح ہیں؟ جس طرح کہ سنتیں ہیں کس کے بیچ میں؟ اب یہ ایک کے اندر تو وجہِ شبہ حسی ہے، ہمیں آنکھوں سے نظر آ رہی ہے، دوسری کے اندر صرف خیالی ہے۔ لیکن چونکہ یہ عام اور رائج ہے، اس وجہ سے یہ تشبیہ اسی طرح ہو گئی جیسے کہ کسی حسی چیز کو تشبیہ دی جائے دوسری حسی چیز کے ساتھ۔ جیسے ستاروں کو تاریکیوں کے بیچ میں جو ہیں، ان کو تشبیہ دی جائے بڑھاپے کے سفید بالوں کے ساتھ جو کہ جوانی کے سیاہ بالوں کے درمیان ہوں۔ یا یہ اسی طرح ہے جیسے ان ستاروں کو تشبیہ دی جائے کس کے ساتھ؟ سفید پھولوں کے ساتھ جو کس کے درمیان ہوں؟ گہرے سبزے کے درمیان ہوں بھئی۔ تو جیسے یہ دو حسی چیزوں میں تشبیہ صحیح ہے، اسی طرح مولانا ستاروں کی تشبیہ سنتوں کے ساتھ بھی صحیح ہو گئی۔ اور اس سے ایک بات کا پتہ چلا کہ وجہِ شبہ ایسی ہے جس میں دونوں کا اشتراک ضروری ہے، مشبہ کا بھی اور مشبہ بہٖ، دونوں میں وہ چیز پائی جانی چاہیے۔ اسی لیے بعض لوگوں نے جو ”النحو في الكلام كالملح في الطعام“ کے اندر وجہِ شبہ کیا قرار دی تھی؟ ”كون القليل مصلحاً والكثير مفسداً“ کہ قلیل مصلح ہے اور کثیر مفسد ہے۔ اس... یہ جو وجہِ شبہ بعضوں نے قرار دی، یہ اس کو وجہِ شبہ قرار دینا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ یہ ایک چیز کے اندر تو موجود ہے، دوسری چیز کے اندر موجود نہیں۔ جیسے مشبہ بہٖ یعنی نمک میں تو یہ ہے، وہ قلت اور کثرت کا احتمال رکھتا ہے لیکن نحو کے اندر یہ احتمال نہیں بھئی۔ کیونکہ نحو نام ہے قوانین کے مطابق کلام کے ہونے کا، تو قوانین کے مطابق کلام ہو گا یا کلام نہیں ہو گا مولانا، تو قلت اور کثرت کا وہاں احتمال نہیں۔ تو وجہِ شبہ یہ درست نہیں۔ تو وجہِ شبہ صحیح کیا ہو گی؟ ”الصلاح بإعمالها والفساد بإهمالها“ یا ”الصلاح بالاستعمال والفساد بالإهمال“ کہ استعمال سے کلام صالح ہو گیا لیکن ترک کرنے سے کیا ہوا؟ کلام فاسد ہو گیا، جیسے نمک کے استعمال کے ساتھ کھانا کیا ہوا؟ صالح ہوا للأكل، لیکن اس کے بغیر کیا ہے؟ فاسد ہے۔ پھر اس کے بعد وجہِ شبہ مولانا، یا تو مشبہ اور مشبہ بہٖ کی حقیقت سے خارج ہو گی یا خارج نہیں ہو گی۔ اگر خارج ہے تو پھر مولانا، یا تو وہ صفت ہو گی، وہ صفت حقیقی ہو گی یا صفت کیا ہو گی؟ اضافی ہو گی۔ اگر حقیقی ہے، پھر وہ صفت حسی ہو گی یا عقلی ہو گی مولانا۔ حسی وہ ہے جس کا ادراک حواس کے ساتھ ہو گا۔ مثال کے طور پر جن کا ادراک بصر سے ہوتا ہے وہ الوان، اشکال، مقادیر، حرکات وغیرہ ہیں۔ اور سمع کے ساتھ جن کا ادراک ہوتا ہے وہ اصوات ہیں مولانا، قوی ہوں یا ضعیف وغیرہ بھئی۔ اسی طرح ذوق کے ساتھ، قوتِ ذائقہ کے ساتھ ادراک کس کا ہو گا؟ طعوم، ذائقوں وغیرہ کا ہو گا۔ ”أو بالشم وهي قوة مترتبة في زائدتي مقدم الدماغ“ شم مولانا، سونگھنے کی قوت۔ یہ قوت ہے مترتبةٌ أي ثابتةٌ في زائدتي، زائدتین بھئی، یہ تثنیہ نون اضافت سے گر گیا۔ زائدتین یعنی زائد ابھار کہہ لیں مولانا، ابھرے ہوئے سے۔ ابھار مقدمِ دماغ میں مولانا، دماغ کے اگلے حصے میں یہ جو ناک کے نتھنے جہاں پر دماغ میں پہنچتے ہیں، وہاں پر آخری حصوں حصے کے اندر دو ابھار ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ یہ ان کے اندر ہے یہ سونگھنے کی حس بھئی۔ وہ تو یہ جو ناک ہے یہ صرف واسطہ ہے، یہ کیا ہے؟ صرف واسطہ ہے، اصل قوتِ شم ان کے اندر ہے بھئی۔ ”الشبيهتين بحلمتي الثدي“ وہ دونوں جو ابھار ہیں وہ مشابہ ہیں کس کے ساتھ؟ حلمہ کہتے ہیں مولانا سرِ پستان کو۔ تو سرِ پستان کے مشابہ ابھرے ہوئے ہیں۔ ”من الروائح“ شم کے ساتھ ادراک کس کا ہوتا ہے؟ وہ مختلف قسم کی بو کا۔ ”أو باللمس“ یا لمس ہے مولانا، قوتِ لامسہ۔ ”وهي قوة سارية في البدن كله“ یہ وہ قوت ہے جو سرایت کیے ہوئے ہے سارے بدن کے اندر بھئی، سارے بدن میں یہ پھیلی ہوئی ہے بھئی قوتِ لامسہ۔ آپ کے بدن کے ایک حصے پر، پاؤں پر چیونٹی رینگ رہی ہو مولانا، فوراً آپ کو پتہ چل جاتا ہے پاؤں پر چیونٹی چل رہی ہے، آپ بازو کو نہیں پکڑتے فوراً، بلکہ کیا کرتے ہیں؟ پاؤں۔ تو پورے بدن میں ہر جگہ اور جی۔ ”يدرك بها الملموسات“ اس کے ذریعے ادراک ہوتا ہے کس کا؟ ملموسات کا۔ ”من الحرارة والبرودة“ حرارت کا مولانا، برودت، ٹھنڈک کا، ”والرطوبة واليبوسة“ اور تری کا اور خشکی کا۔ ”هذه الأربعة هي أوائل الملموسات بها“ یہ چار جو ہیں مولانا، لمس کے ساتھ اور بھی دیکھو آ رہے ہیں: حرارت، برودت، رطوبت، یبوست، خشونت، ملاست، لین، صلابت، خفت، ثقل، بلّہ، جفاف، لزوجت، ہشاشت، لطافت، کثافت، ان ساری چیزوں کا ادراک کس سے ہوتا ہے؟ لمس سے ہوتا ہے۔ لیکن ان میں سے یہ جو چار ہیں حرارت، اور برودت، اور رطوبت، اور یبوست، ان کو کیا کہتے ہیں؟ اوائلِ ملموسات، کیا کہتے ہیں؟ اوائلِ ملموسات۔ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ جو ہے قوتِ لامسہ اولاً اور بالذات ان چار کا ادراک کرتی ہے اور باقی جتنے آگے ذکر ہو رہے ہیں وہ ان کے واسطے سے ہوتے ہیں۔ باقی چیزوں کا ادراک ان چار حرارت، برودت وغیرہ کے واسطے سے ہوتا ہے، اس لیے ان کو کہتے ہیں اوائل الملموسات۔ یا مولانا اس لیے ان کو اوائل کہا مولانا، اس لیے کہ یہ پائے جاتے ہیں اجسامِ عنصریہ میں۔ عناصر چار ہیں مولانا، کون کون سے؟ آگ، ہوا، پانی، مٹی، یہ چار مولانا۔ ان سے مرکب ہو کر باقی سارے اجسام بنتے ہیں بھئی۔ ہر جسم جو ہے انہی چار سے بنے گا، قدیم فلسفہ کے نزدیک بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو باقی سارے، تو چونکہ ان کے اندر کوئی حرارت سے متصف ہے، کوئی کسی میں برودت ہے، کسی میں رطوبت ہے، کسی میں یبوست ہے، تو اس اعتبار سے ان کو اوائل الملموسات کہا کیونکہ جیسے وہ عناصر جو ہیں اوائل ہیں تمام مرکبات کے لیے، تو یہ بھی اوائل ہوئے ملموسات کے لیے۔ ”والأوليان منها فعليتان والأخريان انفعاليتان“ ان میں سے پہلے دو جو ہیں ان کو فعلیتین کہتے ہیں اور آخری دو کو کیا کہتے ہیں؟ پہلے دو فعلی ہیں، دوسرے دو انفعالی ہیں۔ فعلی جو وہ ہیں جو مولانا دوسروں پر اثر انداز ہوں، انفعالی کہ جو اثر کو قبول کرے، جو کیا کرے؟ اثر کو، تو ایک میں ہے تاثیر اور ایک میں ہے تاثر بھئی، اثر قبول کرنا۔ تو پہلے دو کو فعلی کہتے ہیں، آخری دو کو انفعالی۔ پہلے دو کون ہیں؟ حرارت اور برودت۔ ان کو فعلی اس لیے کہتے ہیں، کہتے ہیں کیونکہ یہ دونوں تقاضا کرتے ہیں جمع اور تفریق کا۔ حرارت اور برودت کس کا تقاضا کرتی ہیں؟ جمع اور تفریق کا۔ مثلاً مولانا، حرارت ایک جیسی چیزوں کو جمع کرتی ہے اور برودت ایک جیسی چیزوں کو جدا کرتی ہے، کس طرح؟ بھئی چیزوں کو سونا وغیرہ مولانا آپ دیکھتے ہیں، اس کو خالص کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟ پگھلاتے ہیں۔ تو پگھلانے سے جو کھوٹ ہوتا ہے وہ ایک طرف ہو جاتا ہے، خالص سونا نیچے رہ جاتا ہے، کھوٹ اوپر آ جاتا ہے، تو دیکھو حرارت نے ایک جیسی چیزوں کو کیا کر دیا؟ اکٹھا کر دیا مولانا، اکٹھا کر دیا، اور مختلف کو جدا جدا کر دیا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں جو برودت ہے، آپ دیکھتے ہیں مولانا سردی کے اندر مٹی گیلی مٹی ہو، سردی پڑتی ہے تو وہ مٹی آپ دیکھتے ہیں ٹوٹ جاتی ہے، ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے مولانا۔ کیا ہوتی ہے؟ دیکھتے ہیں یا نہیں بھئی؟ وہ ہلکی سی تہہ ہوتی ہے، بعض جگہ ہو تو وہ ٹوٹ جاتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ جو کس کی وجہ سے آیا؟ ہاں، یہ برودت کی وجہ سے آیا، چیزوں کو جدا کرنے والی ایک جیسی چیزوں کو۔ تو یہ دیکھا دوسروں پر اثر انداز ہو رہی ہے حرارت اور برودت۔ اور یہ جو رطوبت اور یبوست ہیں، یہ کیا ہیں مولانا؟ یرحمک اللہ۔ یہ انفعالی ہیں یعنی موصوف کے اثر لینے کا تقاضا کرتی ہیں کہ موصوف کیا کرے؟ دوسروں سے اثر لے گا یا اثر نہیں لے گا۔ مثلاً مولانا رطوبت ہے، آٹا ہے مثلاً، مٹی ہے مولانا، مٹی کے اندر جب تری ہو گی تو کیا کرے گی؟ آسانی سے دوسری چیز کے اثر کو قبول کرے گی بھئی۔ آپ اس کو جو شکل دینا چاہیں گے اس کو آسانی سے دے دیں گے، لیکن یہی مٹی اگر خشک ہو تو پھر آسانی سے اثر کو قبول کرے گی؟ نہیں کرے گی۔ تو رطوبت اور یبوست یہ جو ہیں، دوسرے کا اثر قبول کرنے سے ان کا تعلق ہے بھئی کہ یہ ان کا موصوف دوسرے کا اثر قبول کرے گا یا قبول نہیں کرے گا، اس لیے ان کو انفعالی کہا۔ ”والخشونة“ اور خشونت ہے، خشونت کہتے ہیں کھردرا پن۔ خشونت کس کو کہتے ہیں؟ کھردرا۔ ”وهي كيفية حاصلة عن كون بعض الأجزاء أخفض وبعضها أرفع“ یہ وہ کیفیت ہے جو حاصل ہوتی ہے عن كون بعض الأجزاء أخفض کہ بعض اجزاء پست ہوتے ہیں وبعضها أرفع اور بعض کیا ہوتے ہیں؟ ہاں، تو کھردری چیز بھی ایسی ہی ہے مولانا، بعض اس کے اجزاء اونچے ہوں گے، بعض نیچے ہوں گے، برابر نہیں ہوں گے۔ ”والملاسة وهي كيفية حاصلة عن استواء وضع الأجزاء“ اور ملاست، یہ وہ کیفیت ہے جو حاصل ہوتی ہے کس چیز سے؟ وضعِ اجزاء کی برابری سے۔ اجزاء کیا ہوں؟ برابر ہوں۔ ایک چیز کے سارے اجزاء بالکل برابر ہوں تو وہ اتنی ہی ہموار ہو گی۔ جیسے شیشہ ہے مولانا، شیشے کے سارے اجزاء کیا ہوتے ہیں آپس میں؟ برابر ہیں تو وہ بالکل ہموار، اور لکڑی ہے جیسے اس کے ہموار نہیں، وہ کیا ہے؟ کھردری ہو گی بھئی۔ ”واللين وهي كيفية بها يقتضي قبول الغمز إلى الباطن“ لین مولانا، یہ وہ کیفیت ہے جس کے سبب سے تقاضا کرتی ہے کوئی چیز کہ غمز، غمز کہتے ہیں نفوذ کو، نفوذ اور دخول، یہ نفوذ اور دخول کو قبول کرتی ہے إلى الباطن، باطن تک بھئی۔ ”ويكون للشيء بها قوام غير سيال“ اور اس کے ساتھ کسی چیز کا قوام ہوتا ہے، قوام کہتے ہیں مولانا اجزائے ترکیبی۔ قوام کس کو کہتے ہیں؟ اجزائے ترکیبی، غیرِ جی، تو وہ اجزائے ترکیبی کیا ہوں گے؟ غیرِ سیال ہوں گے۔ یا قوام کا یہاں انہوں نے معنی کیا قوت اور تماسک کے، کہ ان اجزاء میں وہ چیز کیا ہو گی؟ اس میں تماسک ہو گا، جماؤ ہو گا، جماؤ مولانا۔ لین، مثلاً مولانا آٹا گوندھا ہوا پڑا ہے یا مٹی مولانا پڑی ہے، گیلی مٹی، تو یہ تقاضا یہ اس میں لین ہے، کون سی صفت ہے؟ لین۔ اس کے سبب سے یہ نفوذ الی الباطن کا تقاضا کرتی ہے۔ بھئی گیلی مٹی ہو اور آپ انگلی اس پہ دبائیں بھئی، دبتی چلی جائے گی یا نہیں مولانا؟ تو دیکھو یہاں نفوذ الی الباطن آ رہا ہے، کیا آ رہا ہے؟ نفوذ الی الباطن آ رہا ہے، یہ لین ہے مولانا۔ اور اس کی وجہ سے البتہ ایک چیز قوام، اس میں جماؤ ہوتا ہے، غیرِ سیال بہنے والی نہیں ہوتی۔ دیکھو مٹی میں سے آپ کچھ مٹی نکال لیں نرم، تو کیا باقی مٹی آپس میں مل جائے گی؟ باقی مٹی دیکھو وہ جماؤ ہے، اجزاء آپس میں الگ الگ ہیں، ایک ہی جگہ پر دوسرا نہیں آتا بھئی، اس کو کہتے ہیں غیرِ سیال مولانا۔ تو لین وہ کیفیت ہے جس کے سبب سے تقاضا کرتی ہے کوئی چیز، وہ قبول کرے نفوذ الی الباطن کو اور وہ شے اس کے ساتھ کیا ہو؟ اس میں جماؤ ہو اور غیرِ سیال بہنے والی نہ ہو۔ ”والصلابة وهي تقابل اللين“ اور اس کے مقابلے میں، لین کے مقابلے میں صلابت ہے مولانا۔ اور یہ کس کے مقابلے میں ہے؟ لین۔ تو صلابت اس کے عکس کر لو، کیا کریں گے؟ لین میں کیا تھا مولانا؟ نفوذ الی الباطن کو قبول کرتی تھی، اس میں نفوذ الی الباطن کو قبول نہیں کرتی، جیسے مولانا یہ لکڑی ہے، یہ نفوذ الی الباطن کو قبول کرتی ہے؟ نہیں، معلوم ہوا اس میں کیا ہے؟ صلابت ہے۔ یا نفوذ الی الباطن کو تو قبول کرے لیکن قوام غیرِ سیال نہ ہو بلکہ کیا ہو؟ سیال ہو مولانا، بلکہ وہ چیز کیا ہو؟ سیال ہو، جیسے پانی ہے مولانا، پانی میں آپ تھوڑا سا پانی نکال لیں، باقی پانی کیا کرے گا؟ اجزاء مل جائیں گے، ایک کی جگہ دوسرا جز آ جائے گا، تو معلوم ہوا پانی کے اندر صلابت ہے، پانی میں کیا ہے؟ صلابت ہے۔ تو یہ دو شرطیں ہیں، یا تو نفوذ الی الباطن کو قبول ہی نہ کرے یا قبول تو کرے لیکن سیال ہو گا۔ ”والخفة“ اسی طرح مولانا لمس کے ساتھ ہمیں پتہ چلے گا خفت کا بھی۔ ”وهي كيفية بها يقتضي الجسم أن يتحرك إلى صوب المحيط“ یہ وہ کیفیت ہے کہ جس کے سبب سے تقاضا کرتا ہے کوئی جسم کہ وہ صوب کہتے ہیں جہت کو، صوب کس کو کہتے ہیں؟ جہت کو، المحيط، محیط سے مراد یہاں فلکِ تاسع مراد ہے۔ فلاسفۂ قدیم کیا کہتے ہیں مولانا؟ قدیم فلاسفہ کہتے ہیں زمین کائنات کا مرکز ہے، اس زمین کے اردگرد مولانا اس زمین کے گرد کیا ہے؟ پہلا آسمان ہے، پھر دوسرا، تیسرا، یہاں تک کہ نواں آسمان ہے سب سے اوپر بھئی۔ اس نویں آسمان سے اوپر نہ خلا ہے نہ ملا ہے، نہ خالی جگہ ہے اور نہ بھری ہوئی جگہ ہے۔ تو کہتے ہیں اس یہ جو ہے کیا؟ خفت، خفت کی وجہ سے حرکت کرتی ہے کوئی چیز إلى الصوب، إلى الجهة المحيط، فلکِ تاسع یعنی اوپر کی طرف جانا چاہتی ہے۔ کیا کرنا چاہتی ہے؟ کوئی چیز جو ہے اس کی وجہ سے، صوب کا کیا معنی؟ جہت، تو اوپر یعنی فلکِ تاسع کی جہت کی طرف وہ حرکت کرتی ہے۔ ”لو لم يعقه عائق“ عاق يعوق کا معنی ہے مولانا باز رکھنا، روکنا۔ عائق، مانع، اگر کوئی اس کو مانع روکنے والا اگر کوئی روکنے والا مانع نہ ہو تو وہ چیز اوپر کی طرف حرکت کرتی چلی جاتی ہے۔ آپ نے خود بھی آزمایا ہو گا مولانا، دیکھتے ہیں آپ کہ چیز گرم کی جائے وہ ہلکی ہو جاتی ہے بھئی، کیسے؟ آپ نہیں دیکھتے بھئی، پانی آپ گرم کرتے ہیں، ابالتے ہیں، اس میں سے کیا نکلتا ہے بھئی؟ بخارات نکلتے ہیں، وہ اوپر کی طرف جاتے ہیں کیونکہ وہ ہلکے ہو گئے، پانی سے جدا ہوئے، فوراً کدھر کو جا رہے ہیں؟ اوپر۔ یا مولانا اور مثال لیں، گیسی غبارہ آپ نے دیکھا ہے، اس میں ہوا بھری ہے لیکن وہ ہوا اس ہوا، یہ جو عام ہوا ہے اس سے ہلکی ہوتی ہے، جب ہلکی ہوتی ہے تو چیز کدھر کو حرکت کرتی ہے فوراً؟ اوپر کو حرکت کرتی ہے۔ جیسے برف ہے مولانا، برف پانی سے ہلکی ہوتی ہے، پانی کے اندر آپ خوب اس میں دبا کر رکھیں، چھوڑیں گے وہ پھر کدھر کو جائے گی؟ اوپر کو جائے گی۔ تو اوپر اس سے آگے پانی کی سطح سے وہ آگے جا نہیں سکتی، نہیں تو یہ اور بھی اوپر چلتی چلی جائے جب تک کوئی مانع نہ آئے بھئی۔ ”والثقل وهي كيفية بها يقتضي الجسم أن يتحرك إلى صوب المركز“ اور ثقل بوجھ ہے، اور یہ وہ کیفیت ہے جس کے سبب سے تقاضا کرتا ہے کوئی جسم کہ کس طرف کو حرکت کرے گی وہ چیز؟ مرکز کی طرف۔ بھئی زمین مرکز ہے اور اس زمین کا بھی اندر کیا ہے؟ بھئی گیند کا ایک مرکز ہوتا ہے یا نہیں درمیان میں؟ ایک مرکز ہو گا، اسی طرح اس کا بھی مرکز ہے۔ تو خفت سے چیز حرکت کرتی تھی اوپر کی طرف، تو ثقل سے کدھر کو کرے گی؟ نیچے کی طرف، مرکز کی طرف بھئی۔ تو اس کی وجہ سے حرکت کرتی ہے ”لو لم يعقه عائق“ اگر کوئی روکے نہ اس کو مانع۔ ”وما يتصل بها“ تو اسی طرح قوتِ لامسہ سے ادراک ہوتا ہے ان چیزوں کا بھی اور جو ان کے ساتھ متصل ہیں، کن کے ساتھ؟ أي بالمذكورات، مذکورہ چیزوں کے ساتھ۔ ”كالبلة“ جیسے کہ تری ہے۔ تری مولانا، اس کا ادراک بھی قوتِ لامسہ سے ہوتا ہے، کوئی چیز تر ہے۔ ”والجفاف“ خشکی کا بھی ادراک ہوتا ہے۔ ”واللزوجة“ لزوجت کہتے ہیں چپچپاہٹ بھئی، کسی چیز کا چپکنے والا ہونا بھئی۔ ”والهشاشة“ ہشاشت کس کو کہتے ہیں بھئی؟ خستہ ہونا بھئی، کیا؟ خستہ، جو آسانی سے ٹوٹ جائے، جو آسانی سے، جیسے روٹی ہے مولانا، آسانی سے کیا ہے؟ نرم ہے اور آسانی سے ٹوٹ جاتی ہے، تو اس میں ہشاشت ہے۔ ”واللطافة والكثافة“ اسی طرح لطافت ہے مولانا اور کثافت ہے۔ کثافت کہتے ہیں گاڑھا پن، اور لطافت کیا ہوا؟ پتلا ہونا۔ جیسے مولانا شہد گاڑھا ہے اور پانی کیا ہے؟ پتلا ہے، تو شہد کثیف اور پانی لطیف۔ یا بعضوں نے یہ کہا کہ لطیف وہ چیز ہے جس کے آر پار دیکھا جا سکے، کثیف وہ چیز ہے جس کے آر پار نہ دیکھا جا سکے۔ تو پانی جیسے لطیف ہے مولانا، شیشہ لطیف ہے، ہوا لطیف ہے، اس کے ہم ہوا موجود ہے ہم دیکھ رہے ہیں ایک دوسرے کو، اور بعض چیزیں کیا ہوں گی؟ کثیف ہوں گی، جیسے دیوار کیا ہے؟ کثیف ہے، اس کے پار آپ نہیں دیکھ سکتے۔ تو یہ تھے مولانا علامہ تفتازانی چل رہے ہیں فلسفے کی طرف مولانا۔ تو انہوں نے بتلایا یہ وہ کیفیاتِ جسمیہ ہیں جن کا ادراک حس سے ہوتا ہے۔ تو انہوں نے آپ کو کیا کہا تھا کہ وہ جو صفت ہے، صفتِ حقیقی، اس کا ادراک یا تو حس سے ہو گا یا صفتِ حقیقی جس کا خارج میں اور نفس الامر میں کیا ہو؟ وجود ہو۔ اچھا، تو حسی ہو گی ”أو عقلية“ یا وہ صفت کیا ہو گی مولانا؟ تو یہ عقلی کس کے مقابلے میں آیا؟ حسی کے مقابلے میں آیا۔ عطفٌ على قوله حسیة، یہ حسیہ پر عطف ہے مولانا۔ ”كالكيفيات النفسانية“ جیسے کہ کیفیاتِ نفسانی ہیں مولانا۔ ”المختصة بذوات الأنفس“ وہ کیفیات جو خاص ہیں نفس والوں ذوات کے ساتھ، اور نفس سے کیا مراد ہے؟ نفسِ ناطقہ، یعنی انسان وغیرہ کے ساتھ کیا ہے؟ خاص ہے۔ کیفیاتِ نفسانیہ کیا ہیں مولانا؟ ”من الذكاء“ یعنی کہ ذکاوت ہے مولانا، ذہانت ہے۔ ”وهي شدة قوة للنفس معدة لاكتساب الآراء“ یہ وہ قوتِ شدیدہ ہے نفس کی، جو نفس کو تیار کرنے والی ہے لاكتساب الآراء، آراء و افکار کے اکتساب کے لیے۔ آراء سے کیا مراد ہے؟ افکار و علوم وغیرہ مولانا، اس کی وجہ سے کیا ہوتا ہے؟ نفس علوم وغیرہ کا اکتساب کرتا ہے اس ذہانت کی بنا پر۔ اسی طرح کیفیتِ نفسانی ہے: ”العلم، وهو الإدراك المفسر بحصول صورة الشيء عند العقل“ علم مولانا، اور وہ ادراک کا نام ہے جس کی تفسیر بیان کی ہے حکماء نے کسی شے کی صورت کا حاصل ہونا عقل میں۔ ”وقد يقال على معان أخر“ اور اس کے اور بھی بہت سے معانی پر اس کو علم کو بولا گیا ہے مولانا، بیان کیے گئے ہیں اس کے معنی۔ ”والغضب، وهي حركة للنفس مبدؤها إرادة الانتقام“ غضب وہ حرکت ہے نفس کی جس کی ابتدا کس سے ہوتی ہے؟ ارادۂ انتقام سے۔ یہ وہ مسئلہ تھا جس میں مولانا مناظرہ ہوا تھا میر سید سند کا اور علامہ تفتازانی کا بھئی۔ یہ دونوں میر سید سند جن کی آپ نحمیر وغیرہ پڑھتے ہیں بھئی، یہ بہت بڑے عالم گزرے ہیں، یہ علامہ تفتازانی کے ہم عصر تھے بھئی۔ یہ بادشاہ تک رسائی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ تو چنانچہ ان میں اور علامہ تفتازانی میں مناظرہ ہوا کس کے بارے میں؟ علامہ تفتازانی کہتا تھا کہ انتقام سبب ہے غضب کا، انتقام سبب ہے غضب کا، اور وہ کہتے تھے نہیں، غضب سبب ہے انتقام کا۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ پہلے انتقام کا جذبہ نفس میں پیدا ہوتا ہے، پھر انسان کو غصہ چڑھتا ہے۔ وہ کہتے تھے نہیں، پہلے غصہ چڑھتا ہے، پھر اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اور اس مناظرے میں علامہ تفتازانی کو مولانا شکست ہوئی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اصل میں علامہ تفتازانی کی زبان میں کچھ لکنت تھی مولانا، تحریر میں تو وہ انتہا درجے کے کمال کو پہنچے ہوئے ہیں لیکن زبان میں لکنت تھی اور میر سید سند زبان میں کیا تھے؟ تیز تھے مولانا، تو ثالث جو تھا اس نے ان کے حق میں فیصلہ کیا اور علامہ تفتازانی، چنانچہ تیمور لنگ جو تھا اس نے کیا کیا پھر؟ علامہ تفتازانی کو ہٹا کر میر سید سند کو اپنا شاہی عالم مقرر کر دیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ شاہی عالم، تو علامہ تفتازانی اس پر بڑے کیا ہوئے؟ غمزدہ ہوئے اور اسی غم کی وجہ سے چند مہینوں میں ان کا انتقال ہو گیا بھئی۔ ”والحلم، وهو أن تكون النفس مطمئنة بحيث لا يحركها الغضب بسهولة“ حلم، وہ نفس کا مطمئن ہونا ہے بحيث اس طور پر کہ غضب اس کو متحرک نہ کر سکے آسانی کے ساتھ۔ آسانی سے آدمی کو غصہ نہ آئے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حلم۔ ”ولا تضطرب عند إصابة المكروه“ اور نیز وہ بے چین بھی نہ ہو مولانا جب اس کو کوئی ناگوار چیز پیش آئے، کوئی تکلیف آئے تو اس پر کیا ہو؟ بے چین اور مضطرب بھی نہ ہو۔ تو نفس آسانی سے نہ غصہ آئے اس کو اور نہ بے چینی آئے کسی تکلیف پر، اس کو کہتے ہیں حلم، بردباری مولانا۔ ”وسائر الغرائز جمع غريزة وهي الطبيعة“ اور اسی طرح سائر، غرائز جمع ہے غریزہ کی، اور یہ کس چیز کا نام ہے؟ طبیعت کا نام ہے۔ ”أعني ملكة يصدر عنها صفات ذاتية“ یعنی یہ وہ ملکہ ہے جس سے جس کی وجہ سے صدور ہوتا ہے کس کا؟ صفاتِ ذاتیہ کا۔ ”مثل الكرم والقدرة والشجاعة وغير ذلك“ جیسے سخاوت ہے مولانا، سخاوت ایک کیفیت ہے کہ جس کی وجہ سے کیا کرتا ہے نفس؟ آسانی سے مال خرچ کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کرم، اس کے مقابلے میں کیا ہے؟ بخل ہے مولانا، کہ مال جاتا ہے تو ساتھ ساتھ انسان کی جان بھی جاتی ہے بھئی۔ ”والقدرة“ اور اس کے مقابلے میں اور کیا ہے بھئی؟ قدرت ہے بھئی۔ قدرت کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے انسان افعالِ اختیاریہ کو سرانجام دیتا ہے، مثلاً قادر ہے ایک شخص سے انتقام لینے پر اور انتقام نہیں، تو یہ قدرت ہونا کہ جس سے فعلِ اختیاری کو سرانجام دے۔ ”والشجاعة“ اور کیا ہے مولانا؟ بہادری ہے، کہ جس کی وجہ سے انسان شجاعت، بہادری، نفس کا خرچ کرنا آسانی سے ہو مولانا، نفس کی اسے پرواہ ہی نہیں ہوتی، کسی چیز کا خوف ہی نہیں ہوتا۔ ”وغير ذلك“ اور ان کے اس کے علاوہ مولانا جو ان کی ضد ہیں: بخل ہے، جبن ہے، وغیرہ ذلک مولانا۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔