”بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ: وَمَنْ بَاعَ جَارِيَةً مُحْرِمَةً قَدْ أُذِنَ لَهَا فِي ذَلِكَ فَلِلْمُشْتَرِي أَنْ يُحَلِّلَهَا وَيُجَامِعَهَا. وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ، لِأَنَّ هَذَا عَقْدٌ سَبَقَ مِلْكَهُ فَلَا يَتَمَكَّنُ مِنْ فَسْخِهِ كَمَا إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً مَنْكُوحَةً. وَلَنَا: أَنَّ الْمُشْتَرِيَ قَامَ مَقَامَ الْبَائِعِ، وَقَدْ كَانَ لِلْبَائِعِ أَنْ يُحَلِّلَهَا فَكَذَا الْمُشْتَرِي، إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ ذَلِكَ لِلْبَائِعِ لِمَا فِيهِ مِنْ خُلْفِ الْوَعْدِ، وَهَذَا الْمَعْنَى لَمْ يُوجَدْ فِي حَقِّ الْمُشْتَرِي، بِخِلَافِ النِّكَاحِ، لِأَنَّهُ مَا كَانَ لِلْبَائِعِ أَنْ يَفْسَخَهُ إِذَا بَاشَرَ بِإِذْنِهِ، فَكَذَا لَا يَكُونُ ذَلِكَ لِلْمُشْتَرِي. وَإِذَا كَانَ لَهُ أَنْ يُحَلِّلَهَا لَا يَتَمَكَّنُ مِنْ رَدِّهَا بِالْعَيْبِ عِنْدَنَا، وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَتَمَكَّنُ لِأَنَّهُ مَمْنُوعٌ مِنْ غِشْيَانِهَا. وَذُكِرَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ: أَوْ يُجَامِعَهَا، وَالْأَوَّلُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُحَلِّلُهَا بِغَيْرِ الْجِمَاعِ، بِقَصِّ شَعْرٍ أَوْ بِقَلْمِ ظُفْرٍ ثُمَّ يُجَامِعُ، وَالثَّانِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُحَلِّلُهَا بِالْمُجَامَعَةِ، لِأَنَّهُ لَا يَخْلُو عَنْ تَقْدِيمِ مَسٍّ يَقَعُ بِهِ التَّحْلِيلُ، وَالْأَوْلَى أَنْ يُحَلِّلَهَا بِغَيْرِ الْمُجَامَعَةِ تَعْظِيمًا لِأَمْرِ الْحَجِّ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سب سے پہلے تو آپ حضرات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور خصوصاً آپ کے استادِ محترم کو کہ اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص توفیق ہوئی کہ یہ کتاب مکمل ہوئی۔ اور کتاب یہاں مکمل ایک نہ سمجھیں بلکہ دو کتابیں مکمل ہوئیں۔ یہ الحمد للہ یہ آپ کے استادِ محترم کا پڑھایا ہوا سبق، یہ لازمی فائدے پر مشتمل نہیں ہے بلکہ متعدی فائدے پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمارے استادِ محترم کے یہ اللہ کے فضل و کرم سے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو مزید ترقی نصیب فرمائے۔ اس کتاب کے آغاز میں اپنے استاد صاحب سے آپ نے پڑھا ہوگا کہ صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ نے مقدمے کے اندر یہ فرمایا کہ میں نے پہلے ایک فقہ کا متن لکھا تھا جس کا نام ”بدایۃ المبتدی“ تھا۔ پھر اس کی تفصیل لکھی، اس کا نام رکھا ”کفایۃ المنتہی“۔ وہ تقریباً اسی (80) جلدوں پر مشتمل تھی۔ ان اسی جلدوں کا خلاصہ مصنف علیہ الرحمہ نے چار جلدوں کے اندر نکالا جس کا نام ”ہدایۃ المبتدی“ رکھا۔ اس ہدایۃ المبتدی کی چار جلدوں میں سے آخری جلد کا آخری مسئلہ آپ کے سامنے عبارت میں پڑھا گیا ہے۔ مصنف علیہ الرحمہ اس مسئلے کو پہلے ذکر فرماتے ہیں اور پھر دو قسم کی آراء کو اس میں پیش فرما رہے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے جو متن میں مذکور ہے: ”وَمَنْ بَاعَ جَارِيَةً مُحْرِمَةً قَدْ أُذِنَ لَهَا فِي ذَلِكَ“۔ بائع نے ایک لونڈی بیچی۔ بائع نے اس لونڈی سے خود اس کو کہا تھا کہ تم حج یا عمرے کا احرام باندھ لو، اس نے احرام باندھ لیا۔ اب اس احرام کے دوران محرمہ جو لونڈی تھی، اس کو بائع نے بیچ دیا۔ ”فَلِلْمُشْتَرِي أَنْ يُحَلِّلَهَا وَيُجَامِعَهَا“ تو مشتری کو کیا اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اس کا احرام کھلوا دے اور اس سے جماع کر لے، اس کو اس بات کی اجازت ہے یا نہیں؟ یہ مسئلہ ہے کہ بائع نے اپنی اجازت سے اپنی لونڈی کو احرام بندھوایا تھا اور وہ احرام کے باندھنے کے بعد بائع نے اس کو فروخت کر دیا، تو کیا مشتری کو اب اس بات کا انتظار کرنا پڑے گا کہ پہلے یہ احرام سے فارغ ہو، اپنا عمرہ یا حج مکمل کرے، اس کے بعد اس سے اپنے تعلقات قائم کرے یا اس سے پہلے پہلے بھی یہ معاملہ ہو سکتا ہے؟ اس میں دو قسم کی آراء ہیں۔ ایک رائے، ایک رائے تو ائمۂ ثلاثہ رحمہ اللہ کی نقل کی گئی ہے جو متن کے اندر کہ اس بات کی اجازت ہے کہ جو مشتری ہے وہ اس کو احرام سے نکال لے۔ اس کے نکلنے کا طریقہ آخری عبارت میں مصنف علیہ الرحمہ نے ذکر فرما دیا: یا تو دوائیِ جماع کے ذریعے احرام سے اس کو نکال لے یا جماع کے ذریعے اس کو احرام سے نکال لے۔ یہ مشتری کو اس بات کی اجازت ہے۔ لیکن امام زفر رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ اگر لونڈی نے احرام باندھ لیا ہے اور اس کے بعد مشتری نے بائع سے اس حالت میں لونڈی کو خریدا ہے، تو اس صورت کے اندر پھر مشتری کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اس کا احرام سے اس کو نکالنے کی کوشش کرے۔ کیوں؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ اس کی ملکیت میں آنے سے پہلے پہلے وہ حالتِ احرام میں جا چکی تھی۔ اور جو حالت اس کی ملکیت کے آنے سے پہلے پہلے اس کو حاصل ہو چکی ہو، اس کو یہ مشتری ختم کرنا چاہے وہ ختم نہیں کر سکتا۔ مزید براں وہ قیاس کرتے ہیں جیسے کہ دیکھیں، جس طرح کہ بائع نے ایک لونڈی کا نکاح کر دیا ایک تیسرے شخص کے ساتھ اور پھر اس کے بعد اس لونڈی کو ایک دوسرے شخص کو بیچ دیا۔ اب مشتری کو جب یہ لونڈی منکوحہ لونڈی بیچی گئی، تو کیا مشتری اس منکوحہ لونڈی کا نکاح ختم کر کے اپنے تعلقات اس سے قائم کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس لیے کہ یہ نکاح والی حالت مشتری کے پاس آنے سے پہلے پہلے بائع کے پاس یہ لونڈی کو یہ حالت حاصل ہو چکی تھی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب وہ لونڈی بائع کے پاس منکوحہ ہو چکی تھی، اب اگر مشتری یہ چاہے کہ میں اس کے نکاح کو ختم کر کے میں اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کروں، تو یہ اس کے لیے ہرگز اس بات کی اجازت نہیں۔ جس طرح اس مسئلے میں اجازت نہیں، اس طرح ”مما نحن فیہ“ متن والے مسئلے میں بھی مشتری کو اس بات کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ وہ بائع کے پاس اس نے احرام باندھ لیا، تو احرام باندھنے کے بعد اب احرام کے کھلوانے کی اجازت مشتری کو نہیں ہوگی تا وقتیکہ وہ مکمل عمرہ یا حج سے فارغ نہ ہو جائے۔ یہاں تک تو امام زفر رحمہ اللہ کی ایک دلیل اور ایک قیاس کا ذکر فرمایا گیا۔ ائمۂ ثلاثہ کی دلیل صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ ذکر فرماتے ہیں، فرما رہے ہیں کہ دیکھو یہاں پر مشتری ایک سیٹ سے مشتری اٹھا یعنی کہ بائع اٹھا ہے اور اس سیٹ پہ آ کے مشتری بیٹھ گیا ہے، ٹھیک ہے نا؟ پہلے وہ چیز بائع کی تھی، اب وہ چیز کس کی ہو گئی ہے؟ مشتری کی ہو گئی ہے۔ مشتری قائم مقام ہے بائع کے۔ اچھا، بائع کو اس بات کی اجازت ہے یا نہیں کہ وہ اپنی لونڈی کو جس نے احرام بندھوایا تھا، اس کا احرام کھلوا دے؟ کیا بائع کو اس بات کی اجازت ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں: بالکل ہے۔ تو مشتری کس کے قائم مقام ہوتا ہے؟ بائع کے قائم مقام ہوتا ہے۔ جب مشتری بائع کے قائم مقام ہے تو جس طرح بائع کو اجازت ہے اس کو احرام سے نکلوانے کی، اسی طرح مشتری کو بھی حاصل ہوگی۔ دیکھیں نا، یہ مشتری نے بائع سے یہ چیز خریدی ہے۔ بائع نے جس لونڈی کو احرام بندھوایا ہے، کیا بائع کو اس بات کی اجازت ہے کہ نہیں کہ اس کا احرام کھلوا دے؟ کہتے ہیں: بالکل ہے۔ تو مشتری کس کے قائم مقام ہوتا ہے؟ بائع کے قائم مقام ہوتا ہے۔ جب مشتری بائع کے قائم مقام ہے، تو جس طرح بائع کو اجازت ہے اس کو احرام سے نکلوانے کی، اسی طرح مشتری کو بھی اجازت ہوگی۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ اس صورت کے اندر جو بائع ہے، چونکہ ایک قسم کا اس نے اس کو احرام باندھ کر ایک اپنے ذمے وعدہ کر لیا ہے کہ تجھے میں عبادت پوری کرنے دوں گا، اب اس کا احرام کھول رہا ہے تو یہ خلفِ وعد لازم آ رہا ہے، اور خلفِ وعد—وعدہ کی خلاف ورزی—یہ اچھی چیز نہیں ہے۔ اس اس کے لیے مناسب، بائع کے لیے مناسب نہیں ہے کہ احرام بندھوا کر پھر احرام کھلوا لے۔ بخلاف مشتری کے، کہ مشتری چونکہ مشتری گو بائع کے قائم مقام تو ہو گیا لیکن مشتری نے وعدہ نہیں کیا تھا، اس لونڈی کے ساتھ مشتری کا وعدہ متحقق نہیں ہوا، لہٰذا مشتری اگر اس کا احرام کھلوا لے گا تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہوگی۔ بخلافِ نکاح، آپ نے پڑھا ہے صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ کی عادتِ مبارکہ یہ ہے کہ جو مسلکِ مرجوح ہوتا ہے اس کا جواب دیتے ہیں۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کا مسلک ان کے نزدیک چونکہ مرجوح ہے اس کا جواب، ان کے نزدیک تو مشتری اس کا احرام نہیں کھلوا سکتا اور انہوں نے قیاس کیا کہ لونڈی کو جب بائع نے لونڈی کا نکاح کر دیا ہو اور اس کے بعد فروخت کیا ہو تو مشتری کو جیسے اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اس کا نکاح ختم کروا کے اپنے ازدواجی تعلق اس سے قائم کرے، تو اس طرح یہاں پہ بھی نہیں۔ اس کا جواب دیتے ہیں کہ اس مسئلے کو نکاح والے مسئلے پر قیاس کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر بائع نے لونڈی کا نکاح کر دیا، نکاح کرنے کے بعد اب اگر بائع خود اس نکاح کو توڑنا چاہے، اس کی اجازت اس کو نہیں ہے۔ جب بائع کو نکاح کے ختم کرنے کی اجازت نہیں ہے تو مشتری تو بائع کے قائم مقام ہے، تو مشتری کو بطریقِ اولیٰ نکاح کے ختم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہمارے والے مسئلے میں، اس مسئلے میں بائع کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اگر اس کو احرام سے نکلوانا چاہے تو وہ نکلوا سکتا ہے، لہٰذا مشتری کو بھی اجازت ہے۔ اور اس جس مسئلے پہ آپ قیاس کر رہے ہیں اس پر قیاس کرنا ہی ٹھیک نہیں ہے، اس میں تو بائع کو خود اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ کیا کرے اس کو احرام سے باہر وہ نکاح سے باہر لے کر ازدواجی تعلقات قائم کرے، جب بائع کو اجازت نہیں ہے تو مشتری کو کیسے اجازت ہوگی؟ اس کے بعد آگے چل کر پھر تفریع کے طور پر ایک مسئلہ ذکر فرماتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ لَهُ أَنْ يُحَلِّلَهَا لَا يَتَمَكَّنُ مِنْ رَدِّهَا بِالْعَيْبِ عِنْدَنَا“ کہ ہمارے نزدیک جب مشتری کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اس کو احرام سے نکلوا سکتا ہے، تو اس لونڈی کے محرمہ ہونے کی وجہ سے اس کے اندر عیب اب شمار نہیں ہوگا کہ یہ لونڈی، مشتری کہے: جی لونڈی آپ نے مجھے حالتِ احرام والی دے دی، میں اس عیب کی وجہ سے اس کو واپس کرتا ہوں۔ بھئی! تم اس کا احرام کھلوا سکتے ہو، ہمارے نزدیک یعنی یہ عیب نہیں ہے، اس کا محرمہ ہونا عیب نہیں کیونکہ اس کے احرام کو مشتری ختم کر سکتا ہے، ہمارے نزدیک یہ ہے۔ لیکن امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ایسا نہیں ہے، امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ایسا نہیں ہے، اس لیے ان کے نزدیک مسئلے کی تفصیل مختلف ہوگی۔ آخر میں چل کے مصنف علیہ الرحمہ جو متن میں عبارت آئی ہے: ”أن يحللها ويجامعها“، کہتے ہیں بعض نسخوں میں: ”أن يحللها أو يجامعها“۔ کہتے ہیں: دونوں عبارتیں اپنی جگہ درست ہیں۔ دونوں عبارتیں اپنی جگہ درست ہیں: ”أن يحللها ويجامعها“ بھی درست ہے، ”أن يحللها أو يجامعها“ یہ بھی درست ہے۔ اور پہلی جو عبارت ہے، وہ کہتے ہیں وہ اس بات کی طرف مشیر ہے کہ مشتری کو چاہیے کہ وہ اس کو اس طریقے سے احرام سے باہر نکالے کہ دوائیِ جماع—دوائیِ جماع کہہ رہے ہیں یعنی اس سے ہٹ کر یعنی جماع سے ہٹ کر کسی اور طریقے سے اس کو لونڈی کو احرام سے باہر نکال لے، مثال کے طور پر اس کے جو ہے نا کچھ بال کاٹ دے یا اس کے ناخن تراش دے، اس وجہ سے وہ احرام سے باہر نکل جائے گی۔ اور ”أو يجامعها“ جہاں آ رہا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماع کی صورت میں وہ اس کو حالتِ احرام سے باہر نکالے۔ اور جماع سے پہلے عام طور پر یہ حالتیں پیش آ ہی جاتی ہیں، تو لہٰذا دونوں میں تطبیق ہو ہی جائے گی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ بالکل آخری سطر میں جا کے کہہ رہے ہیں کہ حج کی اور عمرے کی تعظیم کے پیشِ نظر اس میں جماع کے ذریعے سے احرام سے باہر نہیں نکلنا چاہیے بلکہ باقی جو اسباب ہیں اس کے ذریعے یعنی کہ وہ احرام سے باہر نکلے۔ اب دیکھیں اس کو ذرا عبارت پہ چسپاں کریں:”وَمَنْ بَاعَ جَارِيَةً مُحْرِمَةً“ کسی شخص نے کوئی ایسی لونڈی بیچی جو حالتِ احرام میں تھی، ”قَدْ أَذِنَ لَهَا فِي ذَلِكَ“ اور مالک نے، بائع نے اس کو اجازت دے رکھی تھی احرام کی۔ ”فَلِلْمُشْتَرِي أَنْ يُحَلِّلَهَا“ مشتری نے جب اس کو خریدا تو اس کو اس بات کی اجازت ہے کہ اس کو وہ احرام سے باہر نکال لے اور حلال کر لے، ”وَيُجَامِعَهَا“ اور اس سے جماع کر لے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَيْسَ لَهُ ذَلِكَ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو اس بات کی اجازت نہیں ہے، ”لِأَنَّ هَذَا عَقْدٌ سَبَقَ مِلْكَهُ“ یہ ایسا عقد ہے یعنی یہ احرام والا عقد سمجھ لیجئے، یہ اس کی ملکیت سے، مشتری کی ملکیت پر میں آنے سے پہلے پہلے یہ معاملہ سبقت کر چکا ہے، ”فَلَا يَتَمَكَّنُ مِنْ فَسْخِهِ“ لہٰذا مشتری کو اس بات کی قدرت نہیں ہے کہ وہ اس کو توڑ سکے۔ ”كَمَا“ مقیس علیہ ذکر فرماتے ہیں: ”كَمَا إِذَا اشْتَرَى جَارِيَةً مَنْكُوحَةً“ جس طرح کہ مشتری اگر ایسی لونڈی خریدے جو منکوحہ ہو، تو منکوحہ جاریہ مشتری اگر یہ چاہے کہ اس کا میں نکاح ختم کر سکوں، بھئی آپ نہیں ختم کر سکتے، اس لیے کہ آپ کی ملکیت میں آنے سے پہلے پہلے بائع کی ملکیت ہی میں یہ نکاح میں جا چکی تھی، اب یہ عقد ملکیت میں آنے سے پہلے پہلے حاصل ہو چکا تھا، اب اس کو اگر مشتری ختم کرنا چاہے تو ختم نہیں کر سکتا۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الْمُشْتَرِيَ قَامَ مَقَامَ الْبَائِعِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ مشتری یہ قائم مقام کس کے ہوتا ہے؟ بائع کے قائم مقام ہوتا ہے۔ پہلے اس کا مالک بائع تھا، اب اس کا مالک کون بن گیا ہے؟ مشتری بن گیا ہے۔ ”وَقَدْ كَانَ لِلْبَائِعِ أَنْ يُحَلِّلَهَا“ امام زفر رحمہ اللہ سے ہم درخواست کرتے ہیں: حضرت! آپ ہی ارشاد فرمائیے، کیا بائع اس کو حلال کر سکتا ہے کہ نہیں کر سکتا؟ اس کو احرام سے باہر نکلوا سکتا ہے؟ اس کے تو آپ بھی معترف ہیں کہ بائع خود اگر اس کو حلال یعنی احرام سے باہر نکالنا چاہے تو وہ نکال سکتا ہے، ”فَكَذَا الْمُشْتَرِي“ تو اسی طرح مشتری بھی نکال سکتا ہے، کیونکہ مشتری کس کے قائم مقام ہے؟ بائع کے قائم مقام ہے۔ ہاں، تھوڑا سا فرق آئے گا بائع اور مشتری میں: ”إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ ذَلِكَ لِلْبَائِعِ“ بائع کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے کہ اس کا احرام اس سے کھلوائے، ”لِمَا فِيهِ مِنْ خُلْفِ الْوَعْدِ“ اس لیے کہ اس میں وعدہ کی خلاف ورزی لازم آ رہی ہے۔ ”وَهَذَا الْمَعْنَى لَمْ يُوجَدْ فِي حَقِّ الْمُشْتَرِي“ اور یہ معنی، یہ مشتری کے حق میں یعنی خلفِ وعد کا معنی مشتری کے حق میں متحقق نہیں ہوگا۔ باقی رہا امام زفر رحمہ اللہ کا قیاس کرنا اس مسئلے کو مسئلۂ نکاح پر، جاریۂ منکوحہ پر، اس کا جواب یہ ہے: ”بِخِلَافِ النِّكَاحِ، لِأَنَّهُ مَا كَانَ لِلْبَائِعِ أَنْ يَفْسَخَهُ إِذَا بَاشَرَ بِإِذْنِهِ“ کہ جب بائع کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اس نکاح کو توڑ سکتا ہے جب بائع نے خود نکاح کروایا ہو لونڈی کا، اب یہ چاہے کہ بائع اس نکاح کو توڑ دے، تو اس کو اس بات کی اجازت نہیں ہے، ”فَكَذَا لَا يَكُونُ ذَلِكَ لِلْمُشْتَرِي“ تو بھئی اسی طرح یہ تو اتنا پکا کام ہوا ہے نکاح والا کہ بائع جو ہے یہ نہیں توڑ سکتا، تو مشتری بھی نہیں توڑ سکتا۔ ”وَإِذَا كَانَ لَهُ أَنْ يُحَلِّلَهَا لَا يَتَمَكَّنُ مِنْ رَدِّهَا بِالْعَيْبِ“ تو جب مشتری کے لیے اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اس کو حالتِ احرام سے باہر نکال لے، تو اب اس بنیاد پر یہ عیب شمار نہیں ہوگا جس کی وجہ سے یہ مشتری بائع کو واپس لوٹا دے ہمارے نزدیک۔ ”وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَمَكَّنُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک اس کو اس بات کی قدرت ہے یعنی کہ اس کو اس بات کی قدرت ہے مشتری کو کہ وہ بنا بر عیب کے اس کو واپس کرے، کیوں؟ ”لِأَنَّهُ مَمْنُوعٌ مِنْ غِشْيَانِهَا“ اس لیے کہ مشتری اس وقت اس پر پابندی ہے کہ وہ اس سے صحبت نہیں کر سکتا۔ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک یہ عیب کے درجے میں آ جائے گا، اور ہمارے نزدیک یہ عیب کے درجے میں نہیں آئے گا، لہٰذا بناءً علی یعنی عیب کی وجہ سے وہ رد کرنا چاہے تو ان کے نزدیک یہ مشتری بائع کو رد کر سکتا ہے، لیکن ہمارے نزدیک رد نہیں کر سکتا۔ ”وَذُكِرَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ“ بعض نسخوں میں عبارت یوں بھی ہے جامع صغیر کی، بعض نسخوں میں جو اوپر عبارت آئی ہے: ”أن يحللها ويجامعها“، جبکہ بعض نسخوں میں ہے: ”أو يجامعها“۔ ”وَالأَوَّلُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُحَلِّلُهَا بِغَيْرِ الْجِمَاعِ“ پہلی عبارت دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ وہ اس کو احرام سے نکالے بغیر جماع کے، کس طرح؟ ”بِقَصِّ شَعْرٍ“ اس کے بال کاٹ لے، ”أَوْ بِقَلْمِ ظُفْرٍ“ یا اس کے ناخن تراش دے، اس کے بعد: ”ثُمَّ يُجَامِعُ“ پھر اس کے بعد اس سے جماع کرے۔ ”وَالثَّانِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُحَلِّلُهَا بِالْمُجَامَعَةِ“ اور او والی عبارت یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس کو احرام سے باہر نکالے مجامعت کے ذریعے، ”لِأَنَّهُ لَا يَخْلُو عَنْ تَقْدِيمِ مَسٍّ يَقَعُ بِهِ التَّحْلِيلُ“ اس لیے کہ یہ مجامعت خالی نہیں ہوگی کہ چھونا پایا جائے گا اور اس کی وجہ سے تحلیل ہو ہی جائے گی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَالأَوْلَى أَنْ يُحَلِّلَهَا بِغَيْرِ الْمُجَامَعَةِ تَعْظِيمًا لِأَمْرِ الْحَجِّ“ بہتر یہی ہے کہ اس حالت میں مشتری جو ہے وہ لونڈی کو احرام سے باہر نکالے بغیر جماع کے، حج کے معاملے کی عظمت کے پیشِ نظر اس کو جماع سے ہٹ کر دوسرے طریقے سے احرام سے باہر نکالنا چاہیے۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ، وَإِلَيْهِ الْمَرْجِعُ وَالْمَآبُ“۔ حضرت اب دعا کروائیں۔الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم الأنبياء والمرسلين۔ ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار، وقنا عذاب القبر، وقنا عذاب الحشر، وقنا عذاب الميزان۔ یا اللہ! جتنے ساتھیوں نے یہ کتاب پڑھی، یا اللہ ان کا پڑھنا قبول فرما۔ اور استاد صاحب مولانا زبیر صاحب کا، یا اللہ، پڑھانا قبول فرما۔ ہمارے استادِ محترم اور ان کے والدِ ماجد حضرت مولانا موسیٰ رحمہ اللہ کے لیے خاص طور پہ دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو علیین میں جگہ نصیب فرمائے اور ان کی قبور کو جنت کے باغوں میں سے باغ بنائے۔ یا اللہ! ان کے علم سے ہم سب کو زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہونے کی توفیق نصیب فرما۔ یا اللہ! یا اللہ ہم سب کے ساتھ فضل و کرم کا معاملہ فرما۔ یا اللہ! عافیت والا معاملہ فرما۔ یا اللہ! ہمارے تمام اساتذہ کی بخشش فرما، سب کو علیین میں جگہ نصیب فرما۔ یا اللہ! ہم سب کو مرتے دم تک، یا اللہ! اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اپنے دین کا یا اللہ ادنیٰ سا سپاہی بنا۔ اے اللہ! ہم سب کو اپنے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور آپ کی سنتِ بیضاء پر ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ یا اللہ! ہمارے والدین، اعزہ و اقرباء، یا اللہ جتنے بھی مومنین مومنات، مسلمین مسلمات اس دنیا سے جا چکے ہیں، یا اللہ تمام کو علیین میں جگہ نصیب فرما، ان کی قبور کو جنت کے باغوں میں سے باغ بنا۔ یا اللہ تمام بیماروں کو صحتِ کاملہ، عاجلہ، مستمرہ، دائمہ نصیب فرما۔ ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم، وتب علينا يا مولانا إنك أنت التواب الرحيم۔ وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين، برحمتك يا أرحم الراحمين۔ بہت بہت مبارک ہو آپ حضرات کو بھی۔ آپ کو حضرت بہت مبارک ہو۔