مَسَائِلُ مَنْثُورَةٌ: أَهْلُ عَرَفَةَ إِذَا وَقَفُوا فِي يَوْمٍ وَشَهِدَ قَوْمٌ أَنَّهُمْ وَقَفُوا يَوْمَ النَّحْرِ أَجْزَأَهُمْ، وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يُجْزِيَهُمْ اعْتِبَارًا بِمَا إِذَا وَقَفُوا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ۔ مسائلِ منثورہ، یعنی متفرق مسائل بھئی۔ یہ عموماً مصنفین کی عادت ہے کہ وہ کتاب کے اندر بعض ایسے مسائل جن کا، جن کا پورے طور پر کسی دوسرے باب سے تعلق نہیں بنتا، یا جو انتہائی نادر قسم کے مسائل ہیں ان کو ابواب کے آخر میں مسائلِ منثورہ یا مسائلِ متفرقہ وغیرہ کے عنوان کے ساتھ علیحدہ ذکر کرتے ہیں۔ تو اس کے یہاں پر بھی صاحبِ ہدایہ کچھ متفرق مسائل ذکر کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "أَهْلُ عَرَفَةَ إِذَا وَقَفُوا فِي يَوْمٍ وَشَهِدَ قَوْمٌ أَنَّهُمْ وَقَفُوا يَوْمَ النَّحْرِ أَجْزَأَهُمْ" صورتِ مسئلہ یہ کہ حاجیوں نے یومِ عرفہ والے دن وقوف کیا، تو کچھ گواہ آ گئے اور انہوں نے آ کر یہ گواہی دی حاکم کے سامنے کہ یہ جو لوگوں نے وقوف کیا ہے، یہ یومِ عرفہ والے دن نہیں کیا بلکہ یوم النحر کو کیا ہے، یعنی دسویں ذوالحجہ کو۔ وقوف کا وقت تو نو ذوالحجہ ہے لیکن انہوں نے دس ذوالحجہ کو وقوف کیا ہے کیونکہ ہم نے چاند دیکھا تھا اور اس اعتبار سے یہ دسویں ذوالحجہ بنتی ہے جس دن انہوں نے وقوف کیا ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں حاکم جو ہے ان کی گواہی نہیں سنے گا اور لوگوں کا یہ حج جو ہے درست ہو گیا، یہ ان کے لیے کافی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ "أَهْلُ عَرَفَةَ إِذَا وَقَفُوا فِي يَوْمٍ" اہلِ عرفہ جب انہوں نے وقوف کر لیا ایک دن، "وَشَهِدَ قَوْمٌ" اور گواہی دی کچھ لوگوں نے "أَنَّهُمْ وَقَفُوا يَوْمَ النَّحْرِ" کہ ان لوگوں نے وقوف کیا ہے یوم النحر کو یعنی قربانی والے دن، یعنی نو کو نہیں کیا بلکہ دس کو کیا ہے، "أَجْزَأَهُمْ" تو ان لوگوں کے لیے یہ وقوف کافی ہو جائے گا۔ "وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يُجْزِيَهُمْ" اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ ان کے لیے کافی نہ ہو، "اعْتِبَارًا بِمَا إِذَا وَقَفُوا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ" قیاس کرتے ہوئے اس پر کہ جب وہ وقوف کریں یوم الترویہ کو، یوم الترویہ یعنی آٹھ ذوالحجہ۔ بھئی آٹھ ذوالحجہ کو اگر انہوں نے آ کر گواہی دی کہ آٹھ ذوالحجہ ہے آج لوگ وقوف کر رہے ہیں اور یہ تو آٹھ ذوالحجہ ہے وقوف کا دن تو کل ہے، تو اس صورت میں لوگوں کو اگلے دن وقوف کا حکم دے گا امام۔ اگلے دن وقوف کا حکم دے گا۔ تو جیسے یوم الترویہ والے دن وقوف کریں تو وہ ان کے لیے کافی نہیں، یعنی ایک دن پہلے۔ تو اسی طرح اگر ایک دن بعد وقوف کریں تو وہ وقوف بھی ان کے لیے کافی نہیں ہونا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ یہ معنی ہے "وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يُجْزِيَهُمْ" اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ وقوف ان کے لیے کافی نہیں ہونا چاہیے، "اعْتِبَارًا بِمَا إِذَا وَقَفُوا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ" قیاس کرتے ہوئے اس پر کہ جب وہ وقوف کریں یوم الترویہ یعنی آٹھ ذوالحجہ کو۔ "وَهٰذَا لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ تَخْتَصُّ" اور یہ اس وجہ سے، یہ وقوف ان کے لیے کافی نہیں ہو گا، یہ اس وجہ سے کیونکہ وقوف ایسی عبادت ہے "تَخْتَصُّ بِزَمَانٍ وَمَكَانٍ" جو خاص ہے ایک زمانے اور ایک مکان کے ساتھ۔ زمانہ کون سا ہے؟ نو ذوالحجہ۔ اور جگہ کون سی ہے؟ عرفات۔ تو یہ وقوف ایسی عبادت ہے جو ایک خاص زمانے یعنی نو ذوالحجہ اور ایک مکان یعنی عرفات کے ساتھ خاص ہے۔ "فَلَا يَقَعُ عِبَادَةً دُونَهُمَا" لہٰذا یہ وقوف جو ہے عبادت ہو کر واقع نہیں ہو گا ان دونوں کے علاوہ، یعنی زمانہ بھی نو ذوالحجہ کا ہونا چاہیے اور جگہ بھی عرفات کی ہونی چاہیے، تو ان دونوں کے علاوہ یہ وقوف عبادت نہیں ہو گا۔ تو لہٰذا نہیں ہونا چاہیے، جیسے ایک دن پہلے وقوف کیا جائے وہ صحیح نہیں کیونکہ زمانہ نہیں، تو اسی طرح ایک دن بعد کیا جائے تو بھی وہ وقوف صحیح نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ زمانہ وہ والا نہیں ہے۔ "وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ..." اور متن میں کیا آیا تھا؟ یہ وقوف ان کے لیے کافی ہو جائے گا، یہ استحساناً تھا تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ" استحسان کی وجہ یہ ہے "أَنَّ هٰذِهِ شَهَادَةٌ قَامَتْ عَلَى النَّفْيِ" کہ یہ ایسی گواہی ہے جو قائم ہوئی ہے نفی پر۔ اور نفی پر تو گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ یاد رکھیے، گواہی جو دی جاتی ہے وہ اثبات پر ہوتی ہے کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے۔ کسی چیز کی نفی پر گواہی نہیں ہوتی۔ تو گواہی جو ہو گی وہ مدعی کے ذمے ہوتی ہے کیونکہ وہ کیا کرتا ہے؟ کسی چیز کو ثابت کرتا ہے۔ ثابت کرتا ہے، اور نفی کی صورت میں قسم آتی ہے اس دوسرے شخص پر، وہ انکار کرتا ہے، نفی کرتا ہے تو اس پر کیا آتی ہے؟ قسم۔ تو یہ ایسی گواہی ہے جو نفی پر قائم ہوئی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بظاہر تو اگرچہ وہ گواہی اس بات پر ہے، وہ کس چیز کی گواہی دے رہے ہیں؟ چاند کے دیکھنے کی گواہی دے رہے ہیں، لیکن دراصل وہ اس بات پر گواہی دے رہے ہیں کہ لوگوں کا حج نہیں ہوا، لوگوں کا وقوف نہیں ہوا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا یہ نفی پر گواہی ہوئی تو یہ درست نہیں۔ "وَعَلَى أَمْرٍ" اور یہ گواہی ہے ایسی چیز پر "لَا يَدْخُلُ تَحْتَ الْحُكْمِ" جو قاضی کے حکم کے تحت داخل نہیں، جس پر... جس میں قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ تو یاد رکھیے، قاضی انہی چیزوں میں گواہی کو قبول کرے گا جو اس کے حکم کے تحت اور اس کے فیصلے کے تحت داخل ہوتی ہوں بھئی۔ اور وہ کیا؟ یعنی جس میں قاضی دوسرے پر کسی چیز کو لازم کر سکے، اس کے لیے اس چیز کو ثابت کر سکے۔ مثلاً آپ نے زید پر دعویٰ کیا کہ اس نے میرا ایک لاکھ روپیہ دینا ہے اور قاضی کے پاس چلے گئے اور گواہ پیش کر دیے تو قاضی کیا کرے گا؟ اس ایک لاکھ کو زید پر لازم کر دے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو قاضی کن چیزوں کا فیصلہ کر سکتا ہے؟ جو اس کے حکم کے تحت داخل ہیں یعنی وہ دوسروں پر اس کو لازم کر سکے۔ اور یہ حج ایسی چیز نہیں ہے کہ جو قاضی کے حکم کے تحت داخل ہو کیونکہ قاضی کسی پر حج کو لازم وغیرہ نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں یہ ایسی شہادت ہے جو نفی پر قائم ہوئی ہے، "وَعَلَى أَمْرٍ" اور ایک ایسے امر پر یہ گواہی قائم ہوئی ہے کہ "لَا يَدْخُلُ تَحْتَ الْحُكْمِ" جو قاضی کے حکم کے تحت داخل نہیں ہوتا، "لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْهَا نَفْيُ حَجِّهِمْ" اس لیے کیونکہ اس گواہی کے ذریعے مقصود جو ہے ان لوگوں کے حج کی نفی کرنا ہے کہ ان کا حج نہیں ہوا۔ "وَالْحَجُّ لَا يَدْخُلُ تَحْتَ الْحُكْمِ" اور حج جو ہے وہ قاضی کے حکم کے تحت داخل نہیں ہوتا، "فَلَا تُقْبَلُ" لہٰذا اس گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ "وَلِأَنَّ فِيهِ بَلْوًى عَامًّا لِتَعَذُّرِ الِاحْتِرَازِ عَنْهُ وَالتَّدَارُكُ غَيْرُ مُمْكِنٍ" اور نیز اس لیے کیونکہ اس کے اندر بلوائے عام ہے یعنی عمومِ بلویٰ ہے۔ بلویٰ کا معنی مبتلا ہونا، ابتلاء بھئی۔ اور عام کا معنی عام لوگ، یعنی جس میں کثرت سے لوگ کیا ہوں؟ مبتلا ہوں۔ تو عمومِ بلویٰ کا معنی ہے کثرت سے لوگوں کا کسی چیز میں مبتلا ہونا۔ اور یاد رکھیے عمومِ بلویٰ کی وجہ سے بھی حکم کے اندر تخفیف آ جاتی ہے، تخفیف آ جاتی ہے، وہ شدت اس میں نہیں رہتی۔ تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّ فِيهِ بَلْوًى عَامًّا" اور نیز اس کے لیے کیونکہ اس کے اندر ابتلائے عام ہے، لوگ بڑی کثرت سے اس کے اندر مبتلا ہیں، "لِتَعَذُّرِ الِاحْتِرَازِ عَنْهُ" اس لیے کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے، "وَالتَّدَارُكُ غَيْرُ مُمْكِنٍ" اور تلافی بھی ممکن نہیں ہے۔ یہاں تو اب تلافی بھی نہیں ہے ممکن کہ وہ حج کا دن گزر چکا ہے، اور نیز اس طرح کی چیزوں سے احتراز نہیں ہو سکتا کیونکہ چاند کے دیکھنے میں لوگ کوشش کرتے ہیں تو پھر بھی اس میں غلطی وغیرہ ہو جاتی ہے، اشتباہ ہو جاتا ہے۔ تو یہاں یہ ایسی غلطی ہے جس میں عمومِ بلویٰ ہے، لاکھوں حاجی اس میں کیا ہیں؟ اس وقت مبتلا۔ اگر اس کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو کیا ہے؟ عمومِ بلویٰ ہے اور لاکھوں لوگ اس میں مبتلا ہیں، اور تلافی بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ گواہی کیا دے رہے ہیں؟ کہ یہ دسویں ذوالحجہ ہے۔ معلوم ہوا وقوف کا وقت گزر چکا، اور لوگ تو وقوف آج کر رہے ہیں اور وقوف کا وقت جب گزر چکا اب تلافی ہو سکتی ہے؟ اب تو تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے اگلے سال پھر لوگ حج کریں، اور اگلے سال کا اگر حکم دیا جائے ان لاکھوں لوگوں کو تو کتنی مشکل میں لوگ پڑ جائیں گے اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ معنی ہے "وَلِأَنَّ فِيهِ بَلْوًى عَامًّا لِتَعَذُّرِ الِاحْتِرَازِ عَنْهُ" اور نیز اس لیے کیونکہ اس میں ابتلائے عام ہے اس وجہ سے کہ اس سے تو بچنا متعذر ہے، "وَالتَّدَارُكُ غَيْرُ مُمْكِنٍ" اور تلافی بھی ممکن نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: تمہارا روزہ اس دن ہے جس دن تم روزہ رکھتے ہو، اور تمہارا فطر اس دن ہے جس دن تم فطر کرتے ہو، اور تمہارا عرفات اس دن ہے جس دن تم عرفات جاتے ہو۔ معلوم ہوا اس میں لوگوں کے اعتقاد کا دخل ہے، جب لوگوں نے اپنی پوری کوشش کر کے چاند کو دیکھا پھر بیشک غلطی بھی ہو جائے لیکن جب سب لوگوں نے دیکھا اور ان کا یہ اعتقاد ہوا کہ یہ کون سا دن ہے جس دن وقوف کیا ہے؟ یہ نو ذوالحجہ ہی ہے، عرفات ہی کا دن ہے، تو یہ وقوف ان کے لیے کافی ہو جائے گا کیونکہ حدیث میں کیا آیا: تمہارا یومِ عرفہ کون سا ہے؟ جس دن تم عرفات جاتے ہو۔ تو کہتے ہیں: "وَفِي الْأَمْرِ بِالْإِعَادَةِ حَرَجٌ بَيِّنٌ" اور اعادے کا حکم دینے میں کھلا حرج ہے، ظاہر حرج ہے، "فَوَجَبَ أَنْ يُكْتَفَى بِهِ عِنْدَ الِاشْتِبَاهِ" تو واجب ہوا کہ اسی پر اکتفا کر لیا جائے اشتباہ کے وقت، "بِخِلَافِ مَا إِذَا وَقَفُوا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ" بخلاف اس کے کہ جب لوگ وقوف کریں یوم الترویہ میں، یعنی آٹھ ذوالحجہ کو، "لِأَنَّ التَّدَارُكَ مُمْكِنٌ فِي الْجُمْلَةِ" اس لیے کیونکہ تلافی جو ہے وہ ممکن ہے مجموعی اعتبار سے، "بِأَنْ يَزُولَ الِاشْتِبَاهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ" بایں صورت کہ اشتباہ جو ہے وہ زائل ہو جائے گا یومِ عرفہ والے دن۔ آٹھویں کو اگر وقوف کیا ہے اور گواہوں نے آ کر گواہی دے دی، پھر تو تلافی ہو سکتی ہے کہ لوگ کیا کر لیں؟ اگلے دن وقوف کر لیں، لیکن اب تو نہیں ہو سکتی۔ تو لہٰذا وہاں تلافی ہو سکتی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو وہاں تلافی ہو سکتی ہے اس لیے اس دن اگر وہ یوم الترویہ کو وقوف کیا ہے تو وہ ان کے لیے کافی نہیں ہو گا، لیکن یوم النحر میں اگر گواہی کے مطابق انہوں نے وقوف کیا ہے تو بھی یہ وقوف ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ "وَلِأَنَّ جَوَازَ الْمُؤَخَّرِ لَهُ نَظِيرٌ وَلَا كَذٰلِكَ جَوَازُ الْمُقَدَّمِ" اور نیز اس لیے کیونکہ مؤخر کے جائز ہونے کی تو مثال موجود ہے، "وَلَا كَذٰلِكَ جَوَازُ الْمُقَدَّمِ" اور مقدم کا جائز ہونا اس طرح نہیں ہے۔ ایک چیز اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور پھر بھی جائز ہو اس کی تو مثال موجود ہے جیسے نماز کسی کی اپنے وقت سے رہ گئی تو بعد میں کیا کر لے گا؟ قضا کر لے گا، روزہ اپنے وقت سے رہ گیا تو کیا کر لے گا؟ بعد میں اس کی قضا کر لے گا، تو مؤخر ہونے کی تو مثال موجود ہے، لیکن اپنے وقت سے مقدم ہونے کی مثال موجود نہیں۔ اور یہاں پر بھی یوم الترویہ میں اگر انہوں نے وقوف کیا ہے تو یہ تو اپنے وقت سے مقدم ہو گیا وقوف، اور مقدم ہونے کی تو کوئی نظیر موجود نہیں اس لیے یہ درست نہیں ہے، بخلاف یوم النحر کو وقوف جب کرتے ہیں تو وہ تو مؤخر ہونے کی اس کی نظیر، وہ تو مؤخر ہے اور اس کی نظیر تو موجود ہے۔ "قَالُوا: وَيَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ لَا يَسْمَعَ هٰذِهِ الشَّهَادَةَ" فقہاء فرماتے ہیں: اور مناسب ہے حاکم کے لیے کہ وہ اس گواہی کو نہ سنے، "وَيَقُولَ: قَدْ تَمَّ حَجُّ النَّاسِ فَانْصَرِفُوا" اور کہے: تحقیق لوگوں کا حج پورا ہو گیا پس تم پلٹ جاؤ۔ گواہوں کو کیا کہے؟ وہ گواہی دینے آئے کہ یہ تو یومِ عرفہ نہیں ہے بلکہ یوم النحر ہے، تو حاکم ان گواہوں کو، حاکم کو کیا کہنا چاہیے؟ کہ تم بس واپس چلے جاؤ، لوگوں کا حج ہو گیا ہے۔ "لِأَنَّهُ لَيْسَ فِيهَا إِلَّا إِيقَاعُ الْفِتْنَةِ" اس لیے کیونکہ اس گواہی کے اندر نہیں ہے مگر فتنے کا واقع کرنا۔ اس گواہی میں تو صرف فتنے کا واقع کرنا ہی ہے، اس سے تو فتنہ بہت بڑا فتنہ کھڑا ہو جائے گا۔ "وَكَذَا إِذَا شَهِدُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ" اور اسی طرح جب وہ گواہ گواہی دیں عشیۃ عرفۃ، عرفات کی شام کو، عرفات کی رات کو، "بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ" چاند کے دیکھنے کی۔ مثلاً بھئی، صورت یہ، لوگوں کا خیال ہے کہ کل یومِ عرفہ ہے اور کچھ گواہوں نے آ کر شام کو یا رات کو آ کر انہوں نے گواہی دی حاکم کو کہ ہم نے چاند دیکھا تھا، یہ جو آج کا دن گزرا ہے یہ یومِ عرفہ تھا اور لوگ تو ابھی منیٰ ہی میں ہیں۔ ان کا تو کیا خیال ہے؟ کہ کل جائیں گے عرفات۔ تو اب انہوں نے کس وقت گواہی دی ہے؟ شام کے وقت یا رات کے وقت گواہی دی ہے اور اب ممکن نہیں ہے کہ تمام لوگ یا اکثر لوگ کیا کر لیں؟ عرفات پہنچ جائیں صبح سے پہلے پہلے اور وقوف کر لیں، تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے، یعنی اس گواہی کو نہیں سنا جائے گا اور رد کر دیا جائے گا، ان کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: "وَكَذَا إِذَا شَهِدُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ" اور اسی طرح حکم ہے جب گواہی دیں وہ گواہ عرفات کی رات کو چاند کے دیکھنے کی، "وَلَا يُمْكِنُهُ الْوُقُوفُ فِي بَقِيَّةِ اللَّيْلِ مَعَ النَّاسِ أَوْ أَكْثَرِهِمْ" اور ممکن نہ ہو حاکم کے لیے وقوف کرنا باقی رات میں لوگوں کے ساتھ یا ان میں سے اکثر کے ساتھ، "لَمْ يُعْمَلْ بِتِلْكَ الشَّهَادَةِ" تو عمل نہیں کیا جائے گا اس گواہی پر۔ "قَالَ:" امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: "وَمَنْ رَمَى فِي الْيَوْمِ الثَّانِي الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى وَالثَّالِثَةَ وَلَمْ يَرْمِ الْأُولَى فَإِنْ رَمَى الْأُولَى ثُمَّ الْبَاقِيَتَيْنِ فَحَسَنٌ" صورتِ مسئلہ یہ کہ پہلے دن آپ پڑھ چکے کہ صرف جمرہ عقبہ کی رمی کی جاتی ہے، یعنی دسویں ذوالحجہ کو۔ گیارہ اور بارہ کو تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے علی الترتیب، پہلے چھوٹے جمرے کی، پھر درمیانے کی اور پھر بڑے جمرے کی۔ تو صورت یہ، ایک شخص نے گیارہ ذوالحجہ کو یعنی رمی کے دوسرے دن تینوں کی رمی کرنی تھی لیکن اس نے پہلے جمرے کی رمی اس سے رہ گئی، دوسرے اور تیسرے یعنی وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کی اس نے رمی کر لی بھئی، رمی کر لی۔ تو اب ایک کی رمی رہ گئی، تو اگر وہ پھر سب کی رمی کر لیتا ہے علی الترتیب تو اس نے اچھا کیا۔ پھر علی الترتیب کیا کر لیتا ہے اسی دن؟ تینوں، پہلے جمرہ صغریٰ کی، پھر جمرہ وسطیٰ کی اور پھر جمرہ کبریٰ کی، تو اس نے اچھا کیا کہ ترتیب سے کر لی مسنون طریقے کے مطابق۔ اور اگر وہ تینوں کی رمی نہیں کرتا بلکہ صرف جو جمرہ چھوٹ گیا تھا، یعنی جمرہ صغریٰ، صرف اس کی رمی کر لیتا ہے تو بھی اس کے لیے کافی ہو جائے گا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ رَمَى فِي الْيَوْمِ الثَّانِي" اور جس نے رمی کی دوسرے دن میں، کس کی رمی کی؟ "الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى وَالثَّالِثَةَ" جمرہ وسطیٰ اور جمرہ ثالثہ کی رمی کی، "وَلَمْ يَرْمِ الْأُولَى" اور پہلے جمرے کی رمی نہیں کی، "فَإِنْ رَمَى الْأُولَى ثُمَّ الْبَاقِيَتَيْنِ فَحَسَنٌ" پس اگر اس نے پہلے جمرے کی رمی کی پھر باقی دو کی بھی رمی کی تاکہ یہ تینوں ترتیب سے ہو جائیں، "فَحَسَنٌ" تو یہ اچھا ہے، "لِأَنَّهُ رَاعَى التَّرْتِيبَ الْمَسْنُونَ" اس لیے کیونکہ اس نے رعایت رکھی مسنون طریقے کی، "وَلَوْ رَمَى الْأُولَى وَحْدَهَا أَجْزَأَهُ" اور اگر اس نے صرف پہلے جمرے کی رمی کی تو بھی یہ اس کے لیے کافی ہے، "لِأَنَّهُ تَدَارَكَ الْمَتْرُوكَ فِي وَقْتِهِ" اس لیے کیونکہ اس نے چھوڑے ہوئے کی تلافی کر لی فی وقتہ اس کے وقت میں، "وَإِنَّمَا تَرَكَ التَّرْتِيبَ" اور صرف اس نے ترتیب کو چھوڑ دیا۔ "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُجْزِيهِ مَا لَمْ يُعِدِ الْكُلَّ" امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے لیے کافی نہیں ہے جب تک وہ ساروں کا اعادہ نہ کر لے۔ یعنی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تینوں کی دوبارہ رمی کرنا پڑے گی، صرف اس چھوڑے ہوئے کی رمی کر لے یہ اس کے لیے کافی نہیں ہے۔ "لِأَنَّهُ شُرِعَ مُرَتَّبًا" اس لیے کیونکہ یہ رمی مشروع ہوئی ہے مرتب ہو کر یعنی ترتیب کے ساتھ، "فَصَارَ كَمَا إِذَا سَعَى قَبْلَ الطَّوَافِ أَوْ بَدَأَ بِالْمَرْوَةِ قَبْلَ الصَّفَا" تو یہ شخص، وہ فرماتے ہیں، اسی طرح ہو گیا جیسے اس نے سعی کی ہو طواف سے پہلے، اور طواف سے پہلے تو سعی درست نہیں، "أَوْ بَدَأَ بِالْمَرْوَةِ قَبْلَ الصَّفَا" یا یہ اسی طرح ہوا جیسے اس شخص نے ابتدا کی ہو سعی کی مروہ سے صفا سے پہلے۔ صفا سے ابتدا حالانکہ کس سے کرنی چاہیے تھی؟ صفا، لیکن اس نے صفا سے پہلے مروہ سے ابتدا کر لی، تو جیسے یہ صورتیں جائز نہیں ہیں تو اسی طرح اس کا بغیر ترتیب کے رمی کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ "وَلَنَا: أَنَّ كُلَّ جَمْرَةٍ قُرْبَةٌ مَقْصُودَةٌ بِنَفْسِهَا" اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہر جمرہ جو ہے وہ قربتِ مقصودہ ہے، یرحمک اللہ۔ تو ہماری دلیل یہ ہے کہ ہر جمرہ جو ہے وہ قربتِ مقصودہ ہے اپنی ذات کے اعتبار سے۔ ہر جمرہ کیا ہے؟ قربتِ مقصودہ ہے یعنی وہ الگ عبادت ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، "فَلَا يَتَعَلَّقُ الْجَوَازُ بِتَقْدِيمِ الْبَعْضِ عَلَى الْبَعْضِ" لہٰذا جائز ہونے کا تعلق بعض کو بعض پر مقدم کرنے کے ساتھ نہیں ہو گا کہ بعض کو بعض پر مقدم کر دیا جائے تو اس کے ساتھ جواز کا تعلق نہیں ہو گا، یعنی صرف اسی صورت میں جائز نہیں ہو گی کہ پہلے جمرہ صغریٰ کی کی جائے، پھر جمرہ وسطیٰ کی کی جائے، اور پھر جمرہ کبریٰ کی۔ سمجھ میں آیا؟ بلکہ ہر جمرہ کیا ہے؟ وہ الگ عبادت ہے، تو اگر بے ترتیب بھی کر لے لیکن کر لے تو عبادت ادا ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے "فَلَا يَتَعَلَّقُ الْجَوَازُ بِتَقْدِيمِ الْبَعْضِ عَلَى الْبَعْضِ" تو جواز کا تعلق نہیں ہو گا بعض کو بعض پر مقدم کرنے کے ساتھ، یعنی جواز کا تعلق ترتیب کے ساتھ نہیں ہو گا۔ "بِخِلَافِ السَّعْيِ" بخلاف سعی کے، یہ جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا۔ انہوں نے اس کو کس پر قیاس کیا تھا؟ جیسے کسی نے سعی کر لی ہو طواف سے پہلے یا سعی کی ابتدا کس سے کر لی ہو؟ مروہ سے، اس کا جواب دے رہے ہیں۔ "بِخِلَافِ السَّعْيِ لِأَنَّهُ تَابِعٌ لِلطَّوَافِ لِأَنَّهُ دُونَهُ" بخلاف سعی کے کیونکہ وہ تو طواف کے تابع ہے اس لیے کیونکہ وہ طواف سے کم درجے کی ہے، کمتر ہے، اس لیے وہ تو طواف ہی کے تابع رہے گی اس سے پہلے نہیں ہو سکتی، لہٰذا آپ کا اس پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اور نیز کس پر آپ نے قیاس کیا تھا؟ مروہ سے ابتدا کرنے پر، اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "وَالْمَرْوَةُ عُرِفَ مُنْتَهَى السَّعْيِ بِالنَّصِّ فَلَا تَتَعَلَّقُ بِهِ الْبِدَايَةُ" اور مروہ جو ہے اس کو جانا گیا ہے منتہی السعی کہ یہ سعی کا منتہیٰ ہے جس پر سعی کی انتہا ہوتی ہے، "بِالنَّصِّ" کس کے ذریعے؟ نص کے ذریعے۔ یعنی مروہ پر سعی کی انتہا ہوتی ہے، اس بات کو نص کے ذریعے یعنی حدیث کے ذریعے جانا گیا ہے، "فَلَا تَتَعَلَّقُ بِهِ الْبِدَايَةُ" لہٰذا شروع کرنے کا تعلق اس سے نہیں ہو گا، اس سے سعی شروع نہیں ہو سکتی، اس سے شروع کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مروہ جو ہے اس پر سعی کی انتہا ہوتی ہے۔ کس سے پتہ چلا ہے یہ؟ حدیث سے، حدیث سے پتہ چلا ہے، اور وہ حدیث آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں، یہاں حاشیے میں بھی دی ہوئی ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا: "ابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ تَعَالَى" کہ تم لوگ بھی شروع کرو جس سے اللہ نے شروع فرمایا ہے۔ "قَالَ: وَمَنْ جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا فَإِنَّهُ لَا يَرْكَبُ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ" صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے اپنے اوپر واجب کر لیا کہ وہ پیدل حج کرے گا۔ منت مان لی کہ وہ پیدل حج کرے گا، تو کہتے ہیں اس کو پیدل ہی حج کرنا پڑے گا اور یہ سوار نہیں ہو گا جب تک یہ طوافِ زیارت نہ کر لے۔ طوافِ زیارت کے بعد سوار ہو سکتا ہے سواری پر، اس سے پہلے نہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا" اور جس نے کر دیا اپنے اوپر کہ وہ پیدل حج کرے گا، "أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا" کہ وہ حج کرے گا ماشیاً پیدل، "فَإِنَّهُ لَا يَرْكَبُ" تو یہ شخص سوار نہیں ہو گا، "حَتَّى يَطُوفَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ" یہاں تک کہ طوافِ زیارت کر لے۔ "وَفِي الْأَصْلِ" اور اصل میں یعنی مبسوط کے اندر "خَيَّرَهُ بَيْنَ الرُّكُوبِ وَالْمَشْيِ" امام محمد رحمہ اللہ نے اس شخص کو اختیار دیا ہے سوار ہونے اور پیدل چلنے میں۔ "وَهٰذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْوُجُوبِ" اور یہ جو متن میں آیا، یعنی یہ جو جامع صغیر میں آیا، اس میں اشارہ ہے وجوب کی طرف۔ متن میں تو کیا آیا؟ "فَإِنَّهُ لَا يَرْكَبُ حَتَّى يَطُوفَ" یہ سوار نہیں ہو گا جب تک طوافِ زیارت نہ کر لے، تو اس میں وجوب کا ذکر ہے اور مبسوط کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے اختیار دیا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَهٰذَا إِشَارَةٌ إِلَى الْوُجُوبِ" اور یہ جو متن میں آیا یہ اشارہ ہے وجوب کی طرف، "وَهُوَ الْأَصْلُ" اور یہی اصل ہے، "لِأَنَّهُ الْتَزَمَ الْقُرْبَةَ بِصِفَةِ الْكَمَالِ فَيَلْزَمُهُ بِتِلْكَ الصِّفَةِ" اس لیے کیونکہ اس شخص نے قربت یعنی عبادت کو اپنے اوپر لازم کیا ہے صفتِ کمال کے ساتھ کہ اس کو کامل طریقے سے اس کو ادا کرے گا، "فَيَلْزَمُهُ بِتِلْكَ الصِّفَةِ" تو وہ عبادت اس پر لازم ہو گی اسی صفت کے ساتھ، "كَمَا إِذَا نَذَرَ الصَّوْمَ مُتَتَابِعًا" جیسے کہ وہ منت مانے روزوں کی متتابعاً پے در پے، مسلسل۔ ایک شخص ویسے روزوں کی منت مانتا ہے اور ایک شخص مسلسل دس روزے رکھنے کی منت مانتا ہے تو اسے یہ دس روزے مسلسل ہی رکھنا پڑیں گے، الگ الگ رکھے گا تو منت پوری نہیں ہو گی، واجب اس کے سر سے نہیں اترے گا بھئی۔ "وَأَفْعَالُ الْحَجِّ تَنْتَهِي بِطَوَافِ الزِّيَارَةِ فَيَمْشِي إِلَى أَنْ يَطُوفَهُ" اور حج کے جو افعال ہیں ان کی انتہا طوافِ زیارت پر ہوتی ہے تو یہ شخص پیدل چلے گا "إِلَى أَنْ يَطُوفَهُ" یہاں تک کہ یہ طواف کر لے طوافِ زیارت کر لے۔ "ثُمَّ قِيلَ: يَبْتَدِئُ الْمَشْيَ مِنْ حِينَ يُحْرِمُ" پھر کہا گیا ہے کہ یہ ابتدا کرے گا پیدل چلنے کی جس وقت یہ احرام باندھے گا۔ بھئی یہ پیدل کب چلنا شروع کرے گا؟ کیا احرام باندھتے وقت احرام باندھنے کے وقت سے پیدل چلے گا یا گھر سے چلتے ہی پیدل چلنا ضروری ہے سفر کے آغاز سے ہی؟ تو کہتے ہیں: "يَبْتَدِئُ الْمَشْيَ مِنْ حِينَ يُحْرِمُ" کہ یہ پیدل چلنے کی ابتدا کرے گا جس وقت یہ احرام باندھے گا، جس وقت یہ محرم ہو گا۔ "وَقِيلَ: مِنْ بَيْتِهِ" اور کہا گیا ہے کہ اپنے گھر سے پیدل چلے گا، "لِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ هُوَ الْمُرَادُ" اس لیے کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ یہی مراد ہے۔ جب اس نے پیدل حج کی منت مانی تو ظاہر یہی ہے کہ اس کی مراد کیا تھی؟ کہ اپنے گھر سے ہی پیدل چلے گا۔ "وَلَوْ رَكِبَ أَرَاقَ دَمًا" اور اگر یہ شخص سوار ہو گیا "أَرَاقَ دَمًا" تو دم بہائے گا، خون بہائے گا یعنی قربانی کرے گا، "لِأَنَّهُ أَدْخَلَ نَقْصًا فِيهِ" اس لیے کیونکہ اس نے اس میں حج میں نقصان داخل کر دیا۔ "قَالُوا: إِنَّمَا يَرْكَبُ إِذَا بَعُدَتِ الْمَسَافَةُ وَشَقَّ الْمَشْيُ" قالوا، یہاں سے فقہاء نے تطبیق دی ان دو روایتوں میں۔ مبسوط میں امام محمد رحمہ اللہ نے اختیار دیا تھا کہ یہ شخص پیدل بھی چل سکتا ہے اور سوار بھی ہو سکتا ہے، اور جامع صغیر میں جیسا کہ متن میں آیا اس میں پیدل چلنے کو واجب قرار دیا گیا، تو دونوں میں فقہاء تطبیق دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر مسافت بہت لمبی ہو، دور کی ہو اور پیدل چلنا اس شخص کے لیے دشوار ہو، یہ کمزور آدمی ہے زیادہ پیدل نہیں چل سکتا، تو اس کے لیے سوار ہونا جائز ہے، جائز ہے۔ تو البتہ حج کرنا پڑے گا جیسے اس نے لازم کیا لیکن پھر راستے میں سوار ہو سکتا ہے۔ اور اگر مسافت کم ہے اور یہ شخص جو ہے پیدل چلنے کا عادی ہے، مضبوط آدمی ہے، پیدل چلنے سے اس کو کوئی مشقت نہیں ہوتی تو پھر اس پر واجب ہے کہ یہ پیدل چلے گا، اس کے لیے سوار ہونا جائز نہیں ہے۔ "قَالُوا: إِنَّمَا يَرْكَبُ إِذَا بَعُدَتِ الْمَسَافَةُ وَشَقَّ الْمَشْيُ" فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ سوار ہو گا جس وقت مسافت دور کی ہو اور پیدل چلنا دشوار ہو، "وَإِذَا قَرُبَتْ" اور جب مسافت قریب کی ہو، "وَالرَّجُلُ مِمَّنْ يَعْتَادُ الْمَشْيَ" اور وہ آدمی بھی ان لوگوں میں سے ہے جو عادی ہیں پیدل چلنے کے، "وَلَا يَشُقُّ عَلَيْهِ" اور پیدل چلنا اس پر دشوار نہیں ہے، "يَنْبَغِي أَنْ لَا يَرْكَبَ" تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ یہ سوار نہ ہو بھئی۔ وَمَنْ بَاعَ جَارِيَةً مُحْرِمَةً۔ چلیے بس بھئی، باقی ان شاء اللہ کل کریں گے اور کل ان شاء اللہ کتاب بھی ختم کر لیں گے۔ اچھا، چلیے کل سبق تو کل ختم کریں گے، آئیے آج بھی دعا کر لیتے ہیں بھئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ دعا کا طریقہ ہمیشہ یاد رکھیے گا میں بار بار ذکر کرتا ہوں کہ دعا کے شروع میں الحمدللہ ہو اور اس کے بعد درود شریف ہو، اور آخر میں بھی درود شریف اور آمین ہو، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔ الحمد للہ رب العالمین، اللہم صل علی سیدنا... اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، یہ مبارک مجلس ہے، اس مجلس میں ہماری ایک کتاب ختم ہو رہی ہے، اے اللہ، اس مجلس کو ہم سب کے لیے مبارک فرما۔ اے اللہ، ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ، اس کو اپنی رضا کا ذریعہ بنا۔ اے اللہ، اس میں یقیناً ہم سے بڑی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی، بہت زیادہ کوتاہیاں ہوئی ہوں گی، لیکن اے اللہ، آپ کی رحمت بڑی وسیع ہے، اے اللہ، آپ کی وسیع رحمت کا واسطہ ہم سب کی کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، اس کتاب کے ختم کو ہم سب کے لیے مبارک فرما۔ اے اللہ، اس کتاب کو ہم سب کے لیے، اے اللہ، ہم سب کے لیے عظیم صدقہ جاریہ فرما دے۔ اے اللہ، ان اسباق کو، اے اللہ، قبولیت اور مقبولیت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہر قسم کی غلطیوں سے اس میں حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، یقیناً ہمارے گناہ بہت زیادہ ہیں لیکن اے اللہ، آپ کی رحمت بڑی وسیع ہے، آپ خود فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اگر اتنے گناہ لے آئے کہ اس سے یہ ساری زمین پر ہو جائے تو میں اس سے بھی بڑھ کر اپنی رحمت لاؤں گا اور اس کے گناہوں کو بخش دوں گا۔ اے اس وسیع رحمت والے، اے اللہ، ہم، اے اللہ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہمیں آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، جتنے حاضرین ہیں، اے اللہ، میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ، سب کو گھروں میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، جو جو پریشانیاں ہیں، اے اللہ، ان کو دور فرما۔ اے اللہ، جو مشکلات ہیں، اے اللہ، ان کو حل فرما۔ اے اللہ، جو مشکلات ہیں ان کو حل فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی اور قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری بھی حفاظت فرما، اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حرام سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ، ان کے بھی ایمان کی حفاظت فرما۔ یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ یا ارحم الراحمین کہہ دیتا ہے تو ایک فرشتہ اللہ کی طرف سے مقرر ہوتا ہے جو اس دعا مانگنے والے کو پکار کر کہتا ہے کہ اے مانگنے والے، مانگ، ارحم الراحمین پوری طرح تمہاری طرف متوجہ ہیں۔ آپ سب بھی تین مرتبہ کم از کم کہہ لیجیے: یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین۔ اے اللہ، ہماری اس مجلس کی ساری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، جتنے حاضرین ہیں ان کی جو جو حاجات ہیں، اے اللہ، سب کو پورا فرما۔ اے اللہ، آپ کے خزانے تو بڑے وسیع ہیں، اے اللہ، ہماری یہ چھوٹی سی جماعت ہے، اے اللہ، ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ، ہماری ساری دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری ساری حاجات پوری فرما۔ اے اللہ، ہماری ساری مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرما جن سے آپ کی ساری مخلوقات محبت کرتی ہیں، جن سے آپ کے فرشتے بھی محبت کرتے ہیں۔ اے اللہ، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ، اس کو ہم سب کے لیے عظیم صدقہ جاریہ بنا دے۔ اے اللہ، اس کو ہمارے لیے عظیم صدقہ جاریہ بنا دے۔ اے اللہ، اس کو ہمارے لیے عظیم صدقہ جاریہ بنا دے۔ اے اللہ، ہمارے جو عزیز و اقارب وفات پا چکے ہیں، اے اللہ، سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ، سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ، سب کی لغزشات سے درگزر فرما۔ اے اللہ، سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ، حضرت شیخ رحمہ اللہ کے بھی، اے اللہ، لاکھوں کروڑوں درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان کی طرح قبولیت اور مقبولیت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان کی طرح علوم میں پختگی نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان کی طرح کا اخلاص نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان کی طرح عزت نصیب فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، آپ تو قادر ہیں، اے اللہ، آپ کے خزانے تو بڑے وسیع ہیں۔ اے اللہ، ہمیں تمام زندگی سنتوں کے مطابق گزارنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، سنتوں کی حقیقی محبت اور تڑپ ہمارے دلوں میں پیدا فرما دے۔ اے اللہ، حرام کی نفرت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ اے اللہ، ہر حرام کے ذرے ذرے کی نفرت ہمارے دلوں میں ڈال دے۔ اے اللہ، حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہو، اے اللہ، سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ، سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، اس کتاب کی برکت سے ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، قبر کے عذاب سے، قبر کی تاریکی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، قیامت کے دن کی شرمندگی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، قیامت کے دن ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کو آپ بلا حساب کتاب جنت میں داخل فرمائیں۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص تین مرتبہ جنت مانگتا ہے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ، اس کو میرے اندر لے آ، اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ، اس کو مجھ سے دور کر دے۔ اے اللہ، اے اللہ، جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، جہنم سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، زندگی کے اندر ہمیں آسانیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم کمزور بندے مشکلات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اے اللہ، ہماری مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، مشکلات سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو اطمینان سے تمام زندگی دین کا کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، دین کے کام میں ہمارے لیے آسانیاں فرما دے۔ اے اللہ، ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہمارے سارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہمارے سارے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، مجاہدین کی بھی خصوصی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ، ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، اس زمانے کے اندر تمام عالم کے مسلمان بے انتہا تکلیف میں ہیں۔ اے اللہ، اے اللہ، تمام مسلمانوں کی تکالیف دور فرما۔ اے اللہ، مسلمانوں کو پھر دین کی طرف لوٹا دے۔ اے اللہ، مسلمانوں کو پھر دین پر چلنے والا بنا دے۔ اے اللہ، مسلمانوں میں پھر دینی غیرت پیدا فرما دے۔ اے اللہ، مسلمانوں میں پھر پہلے کی طرح کا اتفاق اور اتحاد پیدا فرما دے۔ اے اللہ، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ یا عزیز یا لطیف، یا غفار یا عزیز یا لطیف، یا عزیز یا لطیف یا اللہ، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، اس مجلس میں ہم نے جتنی دعائیں مانگیں سب کو قبول فرما۔ اے اللہ، آپ کے خزانے بڑے وسیع ہیں، آپ کے وسیع خزانوں کا واسطہ، آپ کی وسیع رحمت کا واسطہ، اے اللہ، ہمارے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹا۔ اے اللہ، ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ، ان سنتوں کو، اے اللہ، اے اللہ، ہر ہر جگہ پہنچانے والا بنا۔ اے اللہ، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری باتوں میں اثر پیدا فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ بیمار بھی ہوں، دعا کریں اللہ، اے اللہ، صحت نصیب فرما۔ اے اللہ، مکمل صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، جو مشکلات بعض کاموں میں جو مشکلات اور رکاوٹیں ہیں، اے اللہ، ان کو دور فرما۔ اے اللہ، زندگی کے اندر اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، میرے تمام تلامذہ جو ہیں ان کو بھی، اے اللہ، دنیا میں بھی معزز و محترم فرما اور، اے اللہ، آخرت میں بھی معزز و محترم فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہمیں نیک حاکم نصیب فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، اس کتاب کی برکات سے ہمیں محروم نہ فرما۔ اے اللہ، ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرہ...