اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم ق والقرآن المجيد بل عجبوا أن جاءهم منذر منهم فقال الكافرون هذا شيء عجيب أإذا متنا وكنا ترابا ذلك رجع بعيد قد علمنا ما تنقص الأرض منهم وعندنا كتاب حفيظ یہ سورہ قاف ہے سورت کے شروع میں حروف مقطعات میں سے قاف آیا تو اسی سے اس کا نام سورہ قاف ہے بھئی ق والقرآن المجيد والقرآن المجيد قسم ہے قرآن مجید کی و قسمیہ جار ہاہے بھئی قسم ہے قرآن مجید کی بھئی قسم کے لیے جواب قسم چاہیے جس بات پر قسم اٹھائی جائے اس کو جواب قسم کہتے ہیں مثلا کوئی شخص کہتا ہے واللہ زید کھڑا ہے یہ زید کھڑا ہے یہ کیا ہے جواب قسم اسی کے لیے اس نے قسم اٹھائی ہے تو یاد رکھیے والقرآن المجید یہ ہے قسم اور اس کے لیے جواب قسم جو ہے وہ محذوف ہے بھئی جواب قسم محذوف ہے اور وہ ہے کہ اہل مکہ محمد پر ایمان نہیں لائے اہل مکہ محمد پر قسم ہے قرآن مجید کی کہ اہل مکہ محمد پر ایمان نہیں لائے ما آمن أهلم مكة بمحمد صلى الله عليه وسلم والقرآن المجيد قسم ہے قرآن مجید کی بل عجبوا أن جاءهم منذر منهم بلکہ تعجب کیا انہوں نے بلکہ انہوں نے تعجب کیا تعجب کا اظہار کیا أن جاءهم منذر کہ آیا ان ان کے پاس منذر ایک ڈرانے والا ایک خبردار کرنے والا منهم انہی میں سے بلکہ ان لوگوں نے تعجب کیا اس بات پر کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا ہے اس پر یہ لوگ تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم میں سے کیسے کوئی ڈرانے والا اور پیغمبر آ گیا پیغمبر کو تو انسان نہیں ہونا چاہیے کیا ہونا چاہیے فرشتہ ہونا چاہیے بھئی تو اس پر وہ تعجب کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم ہی میں سے کیسے ایک خبردار کرنے والا یعنی پیغمبر آیا بل عجبوا أن جاءهم منذر منهم بلکہ تعجب کیا انہوں نے کہ آیا ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا انہی میں سے فقال الكافرون هذا شيء عجيب پس کہا کفر کرنے والوں نے هذا شيء عجيب یہ عجیب چیز ہے یہ عجیب بات ہے أإذا متنا وكنا ترابا کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے أإذا متنا وكنا ترابا کیا جب ہم مر جائیں گے اور و کنا ترابا اور ہم مٹی ہو جائیں گے ذلك رجع بعيد یہ لوٹنا بعید ہے یہ لوٹنا یعنی ہمیں یہ پیغمبر بتلاتਾ ہے کہ جب تم مر جاؤ گے مٹی ہو جاؤ گے پھر ایک وقت آئے گا ایک دن آئے گا جب اللہ تم سب کو زندہ کرے گا تو کہتے ہیں لوٹنا بڑی بعید یہ لوٹنا بڑا بعید ہے ہماری سمجھ میں تو یہ بات نہیں آتی کس طرح ایک شخص جب مٹی ہو جائے گا پھر اس کو دوبارہ وہ کیسے دوبارہ زندہ ہوگا جب اس کا جب اس کے ذرے ذرے ہو گئے مٹی اس کو کھا گئی کس طرح لوٹے گا تو یہ لوٹنا دور ہے یعنی ہماری سمجھ سے دور ہے ہماری عقل میں یہ بات نہیں آتی معنی سمجھ میں آ گیا أإذا متنا وكنا ترابا ذلك رجع بعيد کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے یہ لوٹنا بہت دور ہے یعنی ہماری سمجھ سے ہماری عقل سے بہت دور ہے قد علمنا ما تنقص الأرض منهم اللہ فرماتے ہیں تحقیق ہم جانتے ہیں ما وہ جو تنقص الأرض جو کم کرتی ہے زمین جو گھٹاتی ہے زمین منهم ان میں سے تحقیق ہم جانتے ہیں جو زمین ان میں سے گھٹاتی ہے یعنی مردے کو جب زمین میں دفن کیا جاتا ہے اور زمین آہستہ آہستہ اس کے بدن کو کھا جاتی ہے کم کرتی چلی جاتی ہے اللہ فرماتے ہیں ہم جانتے ہیں جو جو کچھ زمین ان میں سے کم کرتی ہے اس کو کھاتی جاتی ہے ہم سب جانتے ہیں وعندنا كتاب حفيظ اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے حفيظ یاد رکھنے والی हमारे पास एक किताब है याद रखने वाली یعنی اس میں ہم نے سب کچھ درج کر دیا ہے ہمارے علم میں تو سب کچھ ہے بلکہ ہم نے اس کو ایک کتاب میں باقاعدہ درج کر دیا ہے مراد لوح محفوظ ہے جو کچھ ہونا ہے یا جو کچھ ہوا یا جو کچھ ہوگا سارا کچھ ہم نے اس میں لکھ دیا ہے لکھ دیا ہے تو ہمارے پاس ایک کتاب ہے یاد رکھنے والی یعنی اس کو سب کچھ یاد ہے یعنی اس میں سب کچھ درج ہے وعندنا كتاب حفيظ اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے یاد رکھنے والی یا یوں کہے ہمارے پاس ایک کتاب ہے حفيظ محفوظ رکھنے والی جو ہر چیز کو محفوظ رکھتی ہے اللہ فرماتے ہیں یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ جب ہمیں زمین کھا جائے گی ہم مٹی ہو جائیں گے تو ہم پھر کس طرح زندہ ہوں گے دوبارہ اللہ فرماتے ہیں ہمارے علم میں ہے سب کچھ حتی کہ زمین ان کے جن جن اجزاء کو کھا رہی ہے اور ان کو کم کر رہی ہے وہ بھی ہمارے علم میں ہے تو ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ہے ان اجزاء کو دوبارہ اکٹھا کر کے ان کو زندہ کر دینا قد علمنا ما تنقص الأرض منه تحقیق ہم جانتے ہیں وہ جو زمین کم کرتی ہے ان میں سے وعندنا كتاب حفيظ اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے محفوظ کرنے والی کون سی کتاب مراد ہے لوح محفوظ بل كذبوا بالحق لما جاءهم بلکہ جھٹلایا انہوں نے حق کو لما جاءهم جب وہ ان کے پاس آگیا انہوں نے کیا کیا دین حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا فهم في أمر مريج تو یہ لوگ ایک ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں مريج الجھا ہوا پیچیدہ یہ لوگ في أمر مريج ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں اسلام کی دعوت تو بڑی سیدھی سادی ہے سیدھی باتیں ہیں عقل میں آنے والی ہیں یہ انہوں نے حق کو جھٹلا دیا اور اب الجھی ہوئی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں کبھی کہتے ہیں یہ پیغمبر جادوگر ہے کبھی پھر سوچتے ہیں تو کہتے ہیں یہ شاعر ہے یہ اس کا کلام یہ جو قرآن لے کر آتا ہے یہ شاعری ہے کبھی کہتے ہیں یہ کاہن ہے یہ جو باتیں کرتا ہے یہ اس کی کہانت ہے سمجھ میں آیا کاہن میں نے بتلایا تھا کہ یہ قدیم زمانے کے یہ کچھ جادوگر قسم کے لوگ ہوتے تھے اور یہ بڑا مکف اور مسجہ کلام کیا کرتے تھے اور جنّات جو ہیں آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی باتیں سن کر آتے اور پھر وہ باتیں اس میں دس جھوٹ ملا کر ان کو بتا دیتے اور پھر یہ بھی لوگوں کو بتاتے ہوے اس میں مزید اپنی طرف سے خوب وہ ایک بات ہوتی تو یہ اس کے اندر دس باتیں اپنی طرف سے اور ملا دیتے تو پھر بہرحال سنی تو فرشتوں سے ہوتی تھی ایک ادھی بات اس میں سچ ہی ہوتی تھی تو پھر جب وہ بات سچی ثابت ہوتی تھی تو لوگوں کو کہتے دیکھا ہم نے تمہیں کہا تھا نا کہ اس طرح ہونے والا ہے اس طرح ہوا کہ نہیں صورت سمجھ میں آ گئی تو یہ کاہن لوگ تھے بھئی تو یہ کبھی کہتے ہیں یہ پیغمبر کاہن ہے اور یہ جو کلام لے کر آیا یہ اس کی کہانت ہے اور کبھی نعوذ باللہ کہتے ہیں یہ پیغمبر دیوانہ ہے تو یہ کس میں پڑے ہوئے ہیں ایک الجھے ہوئے معاملے میں پڑے ہوئے ہیں ان کو خود ہی نہیں سمجھ آتا کہ معاملہ کیا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ انہوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے بل كذبوا بالحق لما جاءهم فهم في أمر مريج مریج کا کیا معنی الجھا ہوا پیچیدہ بلکہ جھٹلایا انہوں نے حق کو جب وہ ان کے پاس آگیا پس ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں أفلم ينظروا إلى السماء فوقهم پس کیا دیکھا نہیں انہوں نے آسمان کی طرف اپنے اوپر كيف بنيناها كيف ہم نے اس کو بنایا كيف بنيناها كيف ہم نے اس اسمان کو بنایا وزينناها اور اس کو ہم نے مزین کیا کیسے ہم نے اس آسمان کو مزین کیا یعنی جو رات کے وقت اس پر حسین و جمیل ستاروں کو دیکھتے ہیں جو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں دکھائی دیتے ہیں وما لها من فروج اور نہیں ہے اس آسمان میں من فروج کوئی شگاف کوئی پھٹن کوئی شگاف کوئی سوراخ کوئی رخنہ کوئی شگاف نہیں اتنا بڑا آسمان نہ کوئی ستون ہے اور نہ اس میں کوئی شگاف وغیرہ ہے اور اتنے عرصے سے یہ ہے لیکن کبھی کسی قسم کی خرابی اس میں ان کو نظر نہیں آئی بھئی أفلم ينظروا إلى السماء فوقهم كيف بنيناها وزينناها وما لها من فروج کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اپنے اوپر آسمان کی طرف کہ ہم نے اس کو کیسا بنایا اور کیسے مزین کیا اس کو وما لها م جی كيف ہم نے اس آسمان کو بنایا وزينناها اور اس کو مزین کیا وما لها من فروج اور نہیں ہے اس میں کوئی شگاف والأرض مددناها اور زمین کے مددناها ہم نے اس کو پھیلایا مد یا ممدد کے معنے پھیلانے کے والأرض مددناها اور زمین کو ہم نے پھیلایا وألقينا فيها رواسيا اور ڈال دیے ہم نے اس میں رواسیا پہاڑ لگا دیے ہم نے اس میں جما دیے ہم نے اس میں پہاڑ رواسیا میں نے بتلایا تھا جمع ہے راسی کی راسی کسے کہتے ہیں جمی ہوئی چیز گڑی ہوئی چیز مراد پہاڑ ہیں اور القی یلقی کے معنے ڈالنے کے یعنی لگا دیے والألقينا فيها رواسیا اور ہم نے اس میں لگا دیے پہاڑ وأنبتنا فيها اور اگائے ہم نے اس زمین میں من كل زوج بهيج زوج بمعنی قسم کے ہے یہاں قسم بھئی بہيج خوشن نما جو آنکھوں کو دیکھنے میں بھلے لگتے ہوں اچھے لگتے ہوں وأنبتنا فيها اور اگا دیے ہم نے اس زمین میں من كل زوج بهيج ہر قسم کے خوشنما چیزیں ہر قسم کے خوشنما چیزیں تبصرة وذكرى لكل عبد منيب تبصرة بصیرت حاصل کرنے کے لیے وذكرا اور نصیحت کے لیے لكل عبد منيب ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے لكل عبد منيب منيب کا کیا معنی رجوع کرنے والا تبصرة اور ذکرا یہ مفعول لہ ہیں بھئی ما قبل کے لیے یہ کیا ہیں مفعول لہ کسے کہتے ہیں جو ما قبل فعل کی علت بیان کرتا ہے ضربتہ تادیبا میں نے اس کی پٹائی کی کس لیے ادب سکھانے کے لیے تو یہاں پر بھی اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے ان کے لیے یہ آسمان بنایا اس کو مزین کیا زمین پھیلائی اور ہر طرح کی یہ خوبصورت چیزیں قسمیں اگائیں ان کے لیے اس میں کس لیے تبصرۃ ان کی نصیحت ان کی بصیرت کے لیے تاکہ اس سے ان کو بصیرت حاصل ہو اور ان کو نصیحت حاصل ہو تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب بصیرت کے لیے اور نصیحت کے لیے ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے بطور بصیرت کے اور نصیحت کے ونزلنا من السماء ماء مبارکا اور اتارا ہم نے آسمان سے ماء مبارکا برکت والا پانی ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا جس کی برکت بہت زیادہ ہے بھئی سمجھ میں آیا اسی کے ذریعے یہ یہ تمام درخت پھل پودے فصلیں اسی کے ذریعے اگتی ہیں ونزلنا من السماء ماء مبارکا اور اتارا ہم نے آسمان سے برکت والا پانی فانبتنا بہ جنات پس اگائے ہم نے اس کے ذریعے باغات اس پانی کے ذریعے ہم نے باغات اگائے وحب الحصید حصید کہتے ہیں کٹی ہوئی کھیتی حب کہتے ہیں دانوں کو دانے بھئی جو غلہ ہے بھئی یہ گندم ہے دالیں یہ چنے یہ سب کیا ہیں دانے ہیں بھئی وحب الحصید اور حصید کس کہتے ہیں کٹی ہوئی کھیتی تو مراد ہے کھیتی بھئی کھیتی کا غلہ بھئی اس کے ذریعے ہم نے باغات اگائے اور کھیتی کا غلہ اگایا بھئی اس پانی کے ذریعے ہم نے باغات اگائے اور کھیتی کا غلہ اگایا باغات اور کھیتی کا غلہ اس کو ذکر کیا گیا فرق یہ ہے باغ میں پھل اتارے جاتے ہیں درخت اسی طرح باقی رہتے ہیں جبکہ کھیتی میں دانوں کو حاصل کرتے وقت پودے کو کیا کردیا جاتا ہے کاٹ دیا جاتا ہے ختم کردیا جاتا ہے والنخل باسقات نخل اور نخلۃ یہ کھجور کے درخت کو کہتے ہیں باسقات یہ حال واقع ہورہا ہے نخل سے اور کھجور کے درخت اگائے ہم نے اس کے ذریعے باغات اور کھیتی کا غلہ والنخل باسقات اور لمبی لمبی کھجوریں یا اونچی اونچی کھجوریں باسقات کا معنی بلند بھئی اونچی اور یہ حال ہے نخل سے صفت نہیں ہے نخل معرفہ معرفہ ہے اور باسقات نکرہ ہے بھئی والنخل باسقات اور اگائے کھجور کے درخت اس حال میں باسقات کہ وہ اونچے اونچے ہیں جی تو با محاورہ ترجمہ کیا ہوگا والنخل باسقات اور اونچے اونچے کھجور کے درخت لہا طلع النضید طلعن غوشے کو کہتے ہیں بھئی خوشہ پھل کا کہ یوں کہیں جو وہ جو گچھا ہوتا ہے بھئی پھل کا تو طلعن ہے نضید کا معنی خوب بھرے ہوئے بھئی نضید کا کیا معنی خوب بھرے ہوئے یعنی تہہ با تہہ بھئی خوب بھرے ہوئے ونخل باسقات لہا طلع النضید اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن کے تہہ تہہ خوشے ہیں جن کے تہہ تہہ خوشے ہیں یعنی خوب بھرے ہوئے خوشے ہیں یا با محاورہ ترجمہ خوب گندھے ہوئے خوشے ہیں بھئی خوب گندھے ہوئے خوشے ہیں کیا معنی خوب گندھے ہوئے خوب بھرے ہوئے ہیں بھئی تو جو جو بھی ترجمہ آپ کرلیں یا تو کرلیں تہہ بہ تہہ اس کا ترجمہ یا خوب گندھے ہوئے والنخل باسقات لہا طلع النضید اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن کے خوشے تہہ بہ تہہ ہیں رزق للعباد بطور رزق کے للعباد بندوں کے لیے یہ رزق یہ بھی مفعول لہ ہے جو ما قبل فعل کی علت بیان کرتا ہے تو ان چیزوں کو ہم نے یہ جو باغات اگائے یہ جو کھیتی کا غلہ اگایا اور یہ بھرے ہوئے خوشوں والے کھجور کے درخت اگائے کس لیے اگائے رزق للعباد بندوں کے لیے بطور رزق کے واحیینا بہ بلدۃ میتا اور زندہ کیا اس پانی کے ذریعے ہم نے مردہ شہر کو یعنی مردہ زمین کو کذالک الخروج اسی طرح نکلنا ہوگا جس طرح یہ مردہ زمین ہوتی ہے بارش کے ذریعے ہم اس کو زندہ کردیتے ہیں اس میں جان پڑ جاتی ہے سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے ہری بھری ہوجاتی ہے اسی پر اسی سے سمجھ لو اسی طرح قبروں سے نکلنا ہوگا جو اللہ ان چیزوں پر قادر ہے وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے تو اسی طرح نکلنا ہوگا کس سے نکلنا ہوگا قبروں سے کذالک الخروج اسی طرح نکلنا ہوگا کذب قبلہم قوم نوح و اصحاب الرث جھٹلایا ان سے پہلے ان مشرکین مکہ سے پہلے اور بھی بہت سے قوموں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا ان کا ہم نے کیا انجام کیا کذب قبلہم قوم نوح جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے واصحاب الرث اور کنویں والوں نے رث رث کنویں کو کہتے ہیں بھئی رث کنویں کو جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے واصحاب الرث اور کنویں والوں نے یہ قوم تھی جو کسی ایک کنواں تھا اس کے پاس رہتی تھی اور بتوں کی عبادت کرتی تھی وسمود اور جھٹلایا اس سے پہلے قوم نوح نے کنویں والوں نے اور قوم ثمود نے وعاد اور عاد نے وفرعون اور فرعون نے واخوان لوط اور لوط کے بھائیوں نے یعنی ان کی قوم نے لوط کے بھائیوں نے یعنی ان کی قوم نے واصحاب الاایک اور جنگل والوں نے ایک جنگل کو کہتے ہیں یہ جہاں رہتے تھے وہاں بڑے گھنے درخت تھے بھئی گھنے درخت تھے تو ان کو اصحاب ایک سے یاد ذکر کیا گیا اور یہ حضرت شعیب علیہ السلام ان کی طرف بھیجے گئے تھے بھئی واصحاب الاایک اور جنگل والوں نے وقوم تبع اور تبع کی قوم نے کل کذب الرسل سب نے ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا فحق وعید تو برحق ہوئی میری وعید ثابت ہوئی میری وعید وعید دال کے نیچے کسرہ کیا بتلا رہا ہے بھئی یہاں یائے متکلم یعنی مضاف الیہ محذوف ہے وعیدی فحق وعید تو میری وعید ثابت ہوئی ان پر میری وعید ثابت ہوئی قوم تبع بھئی تبع تو ابھی قریب ہی میں ذکر ہوا تھا کہ یمن کا بادشاہ تھا اور یہ ایمان لے آیا تھا مومن تھا جبکہ اس کی قوم جو تھی وہ کافر تھی اور حدیث بھی ذکر کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ تبع پیغمبر تھا یا پیغمبر نہیں تھے اور اس نے وہ خط بھی لکھا تھا حضور علیہ السلام کے لیے بھئی کذب قبلہم قوم نوح و اصحاب الرث و ثمود جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے اور کنویں والوں نے اور ثمود نے اور عاد نے اور فرعون نے و اخوان لوط اور لوط کے بھائیوں نے واصحاب الاایک اور جنگل والوں نے وقوم تبع اور تبع کی قوم نے کل کذب الرسل ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا فحق وعید تو ثابت ہوئی میری وعید أفعينا بالخلق الاول أیی یا کے معنی ہوتے ہیں تھکنے کے یہ لفظ پہلے بھی آچکا افعينا بالخلق الاول کیا پس ہم تھک گئے ہیں پہلی پیدائش سے پہلی مرتبہ جو ہم نے پیدا کیا ان چیزوں کو تو کیا ہم تھک گئے ہیں جو تمہارا خیال ہے کہ پھر پیدا نہیں کر سکتے أفععينا بالخلق الاول کیا پھر ہم تھک گئے ہیں پہلی پیدائش سے پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے بل ھم فی لبس من خلق جدید لبس کا معنی شک میں شبہ میں بل ھم فی لبس بلکہ یہ لوگ شک میں ہیں شبہ میں ہیں من خلق جدید نئی پیدائش کے بارے میں یہ لوگ نئی پیدائش کے بارے میں شک میں ہیں حالانکہ پہلی مرتبہ کسی چیز کو بنانا مشکل ہوتا ہے دوسری مرتبہ بنانا مشکل نہیں جو جو تو جو اللہ پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ یقینا یقینا دوسری مرتبہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ولقد خلقنا الانسان و نعلم ما توسوس بہ نفسہ اور تحقیق ہم نے پیدا کیا انسان کو و نعلم اور ہم جانتے ہیں ما وہ چیز توسوس بہ وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے بہ اس انسان کو نفسہ اس کا نفس اللہ فرماتے ہیں ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ہم تو اس وسوسے کو بھی جانتے ہیں جو اس کا نفس کو اس کو ڈالتا ہے یعنی اس کے دل میں جو خیال بھی اس کا نفس لاتا ہے ہم اس کو بھی جاننے والے ہیں معنی سمجھ میں آیا بھئی ہم تو اس کو بھی جاننے والے ہیں تو اس کے جن اعضاء کو مٹی کھا گئی ہے اس کو کیسے ہم نہیں جانتے ولقد خلقنا الانسان و نعلم ما توسوس بہ نفسہ اور تحقیق البتہ پیدا کیا ہم نے انسان کو اور ہم جانتے ہیں وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے اسے اس کا نفس ونحن اقرب الیہ من حبل الورید اور ہم اس کے قریب زیادہ قریب ہیں من حبل الورید شہرگ سے بھی حبل الورید شہرگ بھئی شہرگ شہرگ جانتے ہیں کہ نہیں جانتے بھئی گردن میں وہ رگیں جو دماغ تک خون لے کر جاتی ہیں بھئی جو ایک دائیں طرف ہے اور ایک بائیں طرف بھئی تو یہ ہم اللہ فرما رہے ہیں ہم تو اس کی انسان کی شہرگ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں ہم تو اس کے دل میں آنے والے خیالات کو بھی جانتے ہیں ہر چیز کو جانتے ہیں ونحن اقرب الیہ من حبل الورید اور ہم ان کے انسان کے زیادہ قریب ہیں شہرگ سے بھی اذ یتلقی المتلقانی عن الیمین و عن الشمال قعید تلقا کے معنی لینا متلقيان لینے والے اخذ کرنے والے اذ یتلقی المتلقانی جس وقت لیتے ہیں دو لینے والے جس وقت اخذ کرتے ہیں دو اخذ کرنے والے مراد کرام کاتبین ہیں وہ دو فرشتے بھئی جو انسان کے ایک دائیں کندھے پر اور ایک بائے کندھے پر ہر وقت موجود ہیں اور جو نیک عمل یا برا عمل انسان کرتا ہے وہ اس کو لکھتے چلے جاتے ہیں دائیں طرف والا نیک اعمال لکھتا ہے اور بائیں طرف والا برے اعمال لکھتا ہے اور دائیں طرف والا امیر ہے بائیں طرف والے پر بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی بات سمجھ میں آگئی سب کو تو یہ جو کرام کااتبين ہیں ان کا اللہ ذکر فرما رہے ہیں إذ یتلقّی المتلقّیان جس وقت اخذ کرتے ہیں دو اخذ کرنے والے، جس وقت لیتے ہیں دو لینے والے یعنی مراد ہے لکھتے ہیں، جس وقت لکھتے ہیں دو لکھنے والے عن الیمین ایک دائیں طرف و عن الشّمال اور ایک بائیں طرف قاعد بیٹھاہے۔ قعود کس کو کہتے ہیں بیٹھنے کو، اسی سے قاعد آیا بھئی بیٹھا ہے۔ یہ إذ ظرف ہے، اس کے لیے عامل چاہیے بھئی، تو عامل کیا ہے؟ و اذکر اور یاد کیجیے إذ یتلقّی المتلقّیان، یا یہ ظرف ہے اقرب سے، یہ کس سے ظرف ہے؟ اقرب۔ اللہ فرماتے ہیں جس وقت دو لکھنے والے لکھتے ہیں، ایک دائیں طرف، ایک بائیں طرف بیٹھا ہے، یہ دو لکھنے والے جب لکھتے ہیں ہم اس وقت بھی انسان کی شہ رگ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں، ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں تو حبل الورید کا کیا معنی ہوا؟ شہ رگ، یا اس کو رگ جاں بھی کہتے ہیں، رگ جاں۔ و نحن اقرب الیہ من حبل الورید إذ یتلقّی المتلقّیان عن الیمین و عن الشّمال قاعد، اور ہم انسان کے شہ رگ سے یا یوں کہیں اور ہم انسان کے رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں جس وقت لیتے ہیں دو لینے والے دائیں ایک دائیں اور ایک بائیں بیٹھا ہے۔ ما یلفظ من قول الّا لدیہ رقیب عتید، ما یلفظ من قول نہیں وہ بولتا کوئی بات، نہیں کرتا وہ کوئی بات الّا لدیہ رقیب عتید مگر یہ کہ اس کے پاس رقیب ایک نگہبان ہے، عتید، عتید کا معنی ہے تیار، عتید کا کیا معنی ہے؟ تیار۔ ما یلفظ من قول یہ کوئی قول کسی قول پر تلفظ نہیں کرتا یعنی کوئی بات نہیں بولتا، مگر یہ کہ اس کے پاس ایک تیار نگہبان ہوتا ہے۔ جو کچھ یہ زبان سے بولتا بھی ہے ایک تیار نگہبان ہوتا ہے، یعنی وہی کرام کاتبین جو فورا کیا کر لیتے ہیں اس کی بات کو لکھ لیتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی ایک ایک بات انسان کی لکھی جا رہی ہے، ایک ایک بات، اگرچہ اللہ کے علم میں سب کچھ ہے لیکن پھر بھی اللہ نے ایک زبردست نظام بنایا تاکہ قیامت کے روز بطور دلیل کے ان کے سامنے پیش کیا جائے کہ یہ دیکھو تمہاری ایک ایک بات اس رجسٹر میں لکھی ہوئی ہے جو کچھ تم کرتے تھے۔ ما یلفظ من قول الّا لدیہ رقیب عتید، نہیں وہ کوئی بات کرتا مگر یہ کہ اس کے پاس ایک تیار نگہبان ہے، و جاءت سکرۃ الموت بالحق، اور آجائے گی موت کی غشی، سکرۃ الموت موت کی بیہوشی، موت موت کی غشی۔ ہیں موت کے وقت جب انسان پر جو غشی طاری ہو جاتی ہے وہ ہے سکرۃ الموت بھئی، جس وقت آنکھوں کے سامنے سے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ و جاءت سکرۃ الموت بالحق، اور آئے گی موت کی بیہوشی بالحق برحق، موت کی بیہوشی سچ مچ آئے گی، بالحق کا کیا معنی کر لیں؟ سچ مچ۔ و جاءت سکرۃ الموت بالحق، اور آئے گی موت کی بیہوشی سچ مچ، ذلک ما كنت منہ تحید، یہ ہے وہ چیز كنت منہ تحید جس سے تو، تحید کا معنی۔ حادہ یحیدو کیا معنی ہوتے ہیں؟ جدا ہونا، الگ ہونا۔ ذلک ما كنت منہ تحید، یہ ہے وہ چیز جس سے تو جدا ہوتا تھا، یعنی جس سے تو قطراتا تھا، جس سے تو انسان موت سے بڑا کتراتا ہے، پوری ہر وقت اسی فکر میں کہیں کہ حادثہ ایسا نہ ہو جس سے میری موت آجائے۔ سمجھ میں آیا بھئی تو موت سے بہت کتراتا ہے، اللہ فرماتے ہیں آئے گی موت سچ مچ موت کی غشی آئے گی، ذلک ما كنت منہ تحید، یہ ہے وہ جس سے تو کتراتا تھا۔ یا بعضوں نے یہ ترجمہ کیا یہ ہے وہ جس سے تو بدکتا تھا، سمجھ میں آیا بھئی، تو بہرحال پہلا ترجمہ زیادہ مناسب مجھے لگا بھئی، ذلک ما كنت منہ تحید، یہ ہے وہ جس سے تو کتراتا تھا، و نفخ فی الصور، اور پھونکا جائے گا صور میں، ذلک یوم الوعید، یہ ہے وعید کا دن۔ یہ ہے وعید کا دن۔ وعید جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ وعید کسے کہتے ہیں؟ دوسرے کو ڈرانا، دھمکی دینا۔ یہ ہے وہ ڈرانے کا دن جس سے تمہیں دنیا میں ڈرایا جاتا تھا یہ وہ دن ہے، ذلک یوم الوعید، یہ ہے ڈرانے کا دن، یہ ہے وعید کا دن۔ و جاءت كل نفس معها سائق و شہید، اور آئے گا ہر نفس، آئے گی ہر جان معها سائق، اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا، و شہید، اور ایک گواہ ہوگا۔ ہر نفس آئے گا قیامت کے دن کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا، ایک فرشتہ اس کو ہانک کر لے کر آئے گا، میدان حشر میں، و شہید اور ایک فرشتہ بطور گواہ کے ساتھ ہوگا بھئی وہ نامہ اعمال کا رجسٹر لیے ہوئے، معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ تو بعضوں نے لکھا یہ وہی کرام کاتبین ہوں گے بھئی ایک اس کو ہانک کر لا رہا ہوگا اور ایک کے ہاتھ میں رجسٹر ہو گا تو ہو سکتا ہے یہ وہی ہوں یا ہو سکتا ہے دو اور فرشتے ہوں۔ و جاءت كل نفس معها سائق و شہید، اور آئے گا ہر نفس اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا اور ایک گواہ ہوگا، لقد كنت في غفلۃ من هذا، اور اسے کہا جائے گا، لقد كنت في غفلۃ من هذا، کہ تحقیق تو تھا غفلۃ میں من هذا، اس سے، اس دن سے تو غفلۃ میں پڑا ہوا تھا، مانتا ہی نہیں تھا اس دن کو کہ یہ دن بھی قائم ہونا ہے، فكشفنا عنك غطاءك، پس کھول دیا، دور کر دیا، کشف کا معنی کھولنا، دور کرنا، فكشفنا ہم نے دور کر دیا عنك، تجھ سے غطاءك، غطاء کس کو کہتے ہیں؟ غطاء وہ چیز جو دوسری چیز کو ڈھانپ لے بھئی، پردہ، پردہ، فكشفنا عنك غطاءك، پس ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا، فبصرك اليوم حدید، پس تیری نگاہ آج کے دن حدید، تیز ہے۔ حديد، حدید لوہے کو بھی کہتے ہیں عربی میں، حدید صفت مشبہ بھی ہے جس کے معنی ہیں تیز بھئی، تیز، پس آج کے دن تیری نگاہ تیز ہے۔ ہر شخص کو دو فرشتے لیے ہوئے آئیں گے میدان حشر میں اور اسے کیا کہا جائے گا؟ یہ ہے وہ دن جس کے بارے میں تو غفلت میں پڑا ہوا تھا، آج ہم نے تیری آنکھوں سے پردوں کو ہٹا دیا، آج تیری نگاہ خوب تیز ہے سب کچھ تجھے دکھائی دے رہا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جب تک آنکھ کھلی ہے حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک آنکھ بند ہے، اور جب آنکھ بند ہوگی تو حقیقت میں اس وقت آنکھ کھلے گی بھئی۔ تو جب تک آنکھ کھلی ہے اس وقت تک آنکھ حقیقت میں بند ہے اور جب آنکھ بند ہوگی تو اس وقت حقیقت میں آنکھ کھل جائے گی بھئی۔ و قال قرينه، اور کہے گا اس کا، ہم ساتھی، قرین کس کو کہتے ہیں؟ ساتھی۔ و قال قرينه، کہے گا اس شخص کا ساتھی، یہ مراد وہ فرشتہ ہے، جو اس کے ساتھ رہتا تھا، اس کے نامہ اعمال میں چیزیں لکھتا تھا وہ فرشتہ جو وہ نامہ اعمال کا رجسٹر لیے ہوئے ساتھ ہو گا، و قال قرينه، اور اس شخص کا ساتھی کہے گا، هذا ما لدي عتید، یہ ہے وہ چیز لدي، میرے پاس عتید، عتید اوپر گزرابھئی کیا معنی؟ تیار، یہ ہے وہ چیز میرے پاس تیار ہے، یہ اس کا نامہ اعمال میرے پاس تیار ہے، میرے پاس حاضر ہے۔ و قال قرينه هذا ما لدي عتید، اور کہے گا اس کا ساتھی یہ میرے پاس تیار ہے، کیا چیز تیار ہے؟ نامہ اعمال۔ القیا فی جہنم، القیا تثنیہ کا صیغہ ہے بھئی، ڈال دو اس کو تم دونوں، فی جہنم، کس کے اندر؟ جہنم، ان دو فرشتوں سے کہا جائے گا، القیا فی جہنم، تم دونوں ڈال دو اس کو جہنم میں، تم دونوں ڈال دو جہنم میں، كل کفّار عنید، ہر کافر، عنید، عناد کرنے والے، دشمنی کرنے والے یعنی جو حق کا دشمن تھا۔ القیا فی جہنم كل کفّار عنید، تم دونوں ڈال دو جہنم میں ہر کافر عناد کرنے والے کو، ہر کافر کو عناد کرنے والے کو۔ منّاع للخير، وہ جو، جو منع کرنے والا ہے، جو منع کرنے والا تھا للخير، کس سے؟ خیر سے، یعنی نیکی سے۔ منّاع للخير جو خیر سے منع کرنے والا تھا، معتد، حد سے تجاوز کرنے والا، جو خیر سے منع کرنے والا تھا، معتد، حد سے تجاوز کرنے والا، مریب، ریب کس کو کہتے تھے؟ شک کو، مریب، شک میں ڈالنے والا۔ القیا فی جہنم كل کفّار عنید منّاع للخير معتد مریب، تم دونوں ڈال دو جہنم میں ہر کافر کو عناد عناد کرنے والے کو، منّاع للخير جو خیر سے روکنے والا تھا، حد سے تجاوز کرنے والا تھا، مریب ان شک میں ڈالنے والا تھا۔ الذي جعل مع الله الهًا اخر، وہ جس نے بنایا اللہ کے، وہ جس نے بنایا تھا اللہ کے ساتھ اور معبود، جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود بنا رکھے تھے، فالقیاه في العذاب الشديد، پس تم دونوں ڈال دو اس کو سخت عذاب میں۔ الذي جعل مع الله الهًا اخر فالقياه في العذاب الشديد، جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود بنا رکھا تھا، پس تم دونوں ڈال دو اس کو سخت عذاب میں، قال قرينه، کہے گا اس کا ساتھی۔ کہے گا اس کا ساتھی، یہاں قرین سے مراد شیطان ہے بھئی، کیونکہ ایک شیطان بھی ہر وقت انسان کے ساتھ ہوتا ہے جو اسے برائیوں پر اکساتا ہے، ان پر آمادہ کرتا ہے۔ تو شیطان کہے گا، یہ اب وہ دونوں آپس میں جھگڑیں گے بھئی۔ یہ مجرم کیا کرنا چاہتا ہے؟ شیطان پر اپنے گناہ، اپنے بڑوں پر گناہ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ میری جان بچ جائے۔ کہ اے اللہ اس نے مجھے برگلایا تھا، اس نے مجھے گمراہ کیا تھا، تو اب شیطان کہے گا، قال قرينه، تو اس کا ساتھی کہے گا، ربنا ما اطغيته، اے ہمارے پروردگار! میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا۔ طغیان سے ہے یہ طغیان سرکشی کو کہتے ہیں بھئی، ما اطغيته، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا یعنی میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا۔ ولکن كان في ضلال بعيد، بلکہ یہ خود ہی فی ضلال بعید دور کی گمراہی میں تھا۔ یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔ نہیں تھا، لیکن کان فی ضلال بعید بلکہ یہ خود ہی فی ضلال بعید دور کی گمراہی میں تھا یعنی گمراہی میں بڑا دور نکل گیا تھا یوں بامحاورہ ترجمہ کرلیں، لیکن کان فی ضلال بعید بلکہ یہ خود ہی فی ضلال بعید پرلے درجے کی گمراہی میں تھا، یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں تھا یا یوں کہیں انتہا درجے کی گمراہی میں تھا یعنی گمراہی میں بہت دور نکل گیا تھا۔ قال اللہ فرمائیں گے، لا تختصمو لدی میرے سامنے جھگڑا مت کرو، لا تختصمو لدی میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، وقد قدمت الیکم بالوعید، اور تحقیق میں بھیج چکا تھا تمہاری طرف، بالوعید وعید کو۔ میں پہلے ہی تمہاری طرف وعید بھیج چکا تھا، قال لا تختصمو لدی وقد قدمت الیکم بالوعید، اللہ فرمائیں گے تم میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، تحقیق میں تمہاری طرف بھیج چکا تھا وعید، وما یبدل القول لدی اور نہیں بدلا جائے گا قول ہمارے پاس، ہمارے پاس وہ قول نہیں بدلا جائے گا، ہمارے پاس وہ قول نہیں بدلا جائے گا، کون سا قول؟ کہ کافر کو جہنم ہی میں جانا ہے، کافر کو تم یہاں ہمارے پاس سامنے جھگڑا کرکے کیا کرنا چاہتے ہو، جہنم سے بچنا چاہتے ہو؟ نہیں، ہم پہلے ہی طے کر چکے ہیں، تمہیں بتلا چکے ہیں کہ کافروں کو اور کفر کو اوپر اکسانے والوں کو کس میں ڈالا جائے گا؟ جہنم میں، تو اس بات میں کو بدلا نہیں جائے گا ہمارے پاس۔ وما یبدل القول لدی اور نہیں بدلا جائے گا اس بات کو ہمارے پاس، وما أنا بظلام للعبید، اور میں نہیں ہوں ذرہ بھر ظلم کرنے والا بھی اپنے بندوں پر، یہ بات تفصیل سے پہلے بیان ہو چکی، کہ ظلام یہاں مبالغے کی نفی نہیں ہے، بلکہ نفی میں مبالغہ ہے، تفصیل پیچھے بیان ہو چکی۔ وما أنا بظلام للعبید، اور میں نہیں ہوں بندوں پر ذرہ بھر ظلم کرنے والا، یوم نقول لجہنم ہل امتلاوتی، اور جس دن کہ ہم جہنم سے کہیں گے ہل امتلاوتی، کیا تو بھر گئی ہے؟ سارے جہنمیوں کو جہنم میں ڈالنے کے بعد اللہ پوچھیں گے ہل امتلاوتی کیا تو بھر گئی ہے؟ اور جہنم کی وسعت کا اندازہ لگائیں، وتقول وہ کہے گی، ہل من مزید، کیا اللہ اور کوئی بھی ہیں؟ کیا اے اللہ اور کوئی بھی ہیں؟ یعنی میرے پاس جگہ ہے اللہ، اگر اور کوئی ہیں تو ان کو بھی لے آئیے، یوم نقول لجہنم ہل امتلاوتی وتقول ہل من مزید، اور جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ہے؟ وتقول ہل من مزید اور وہ کہے گی کیا اور کوئی بھی ہیں؟ کیا اور مزید بھی ہیں؟ وازلفۃ الجنت للمتقین، اور قریب کیا جائے گا، ازلفہ کے کیا معنی قریب کرنے کے، زلفالف پہلے گزر چکا ہے کئی مرتبہ، وازلفۃ الجنت للمتقین اور قریب کیا جائے گا جنت کو متقیوں کے، غیر بعید اس حال میں کہ وہ دور نہ رہے گی، جنت کو متقیوں کے قریب کر دیا جائے گا، کچھ بھی دور نہ رہے گی، جنت کی حسن و جمال اور چیزیں کو وہ دیکھ رہے ہوں گے۔ وازلفۃ الجنت للمتقین غیر بعید، اور جنت کو متقیوں کے قریب کر دیا جائے گا، دور نہ ہوگی۔ ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ، یہ وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، لکل اواب حفیظ ہر رجوع کرنے والے، یاد رکھنے والے کے لیے، لکل اواب، اواب رجوع کرنے والا، حفیظ یاد رکھنے والا، یعنی جو اللہ کے احکام کو، اللہ کے ذکر کو یاد رکھتا ہے۔ ھذا ما توعدون، یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، لکل اواب حفیظ یہ ہر رجوع کرنے والے، یاد رکھنے والے کے لیے ہے، یاد رکھنے والا کس چیز کو؟ اللہ کے احکام کو یاد رکھنے والا، اللہ کے ذکر کو ہر حال میں اپنانے والا۔ من خشی الرحمن بالغیب و جاء بقلب منیب، جو خشیہ، یخشی کے معنی ڈرنے کے، من خشی الرحمن جو ڈرا خدائے رحمان سے بالغیب، بغیر دیکھے ہی، وجاء بقلب منیب، اور آیا وہ ایسے دل کے ساتھ منیب جو رجوع کرنے والا ہے۔ منیب کا بھی کیا معنی؟ رجوع، انابہ اس سے ہی ہے نا، انابہ رجوع کرنا، تو منیب رجوع کرنے والا۔ من خشی الرحمن بالغیب وجاء بقلب منیب، جو کوئی ڈرا رحمان سے بن دیکھے ہی اور آیا رجوع کرنے، بل ہاں جاء کے ساتھ با صلہ لایا بائی، کیا معنی کریں گے لایا، اور لایا رجوع کرنے والے دل کو۔ ادخلھا بسلام، حکم ہوگا اللہ کی طرف سے، ادخلھا کہ داخل ہو جاؤ تمھا اس جنت میں، تم لوگ اس جنت میں داخل ہو جاؤ بسلام سلامتی کے ساتھ۔ ذالک یوم الخلود، خلود کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ہمیشہ رہنا، ذالک یوم الخلود، یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا، یعنی اس سے پہلے جو کچھ تھا وہ ہمیشہ رہنا کی چیزیں نہیں تھیں، دنیا تھی، سب گزرنے والی چیزیں تھیں، آج کے بعد جو کچھ ہوگا، وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ جو ہاں جس حال، جو حال بھی مل جائے، جنتیوں کو جنت مل گئی وہ ہمیشہ رہنے والی، جہنمی جہنم میں ہمیشہ رہنے والے۔ ذالک یوم الخلود، یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے، لھم ما یشاوں فیھا، لھم ان جنتیوں کے لیے، ما یشاوں جو وہ چاہیں گے فیھا اس جنت میں ہوگا، ان جنتیوں کے لیے ہوگا، وہ جو کچھ چاہیں گے فیھا اس جنت میں، ولدینا مزید اور ہمارے پاس مزید بھی ہے، ہمارے پاس اور زیادہ بھی ہیں، ان جنتیوں کے لیے جو کچھ وہ چاہیں گے جنت میں ملے گا، اور ہمارے پاس اور زیادہ، اور نعمتیں بھی ہیں ان کے لیے، جو وہ چاہیں گے ان کو ملے گا، اسی طرح وہاں دیدار الٰہی کی نعمت نصیب ہوگی، جس کی لذت کے سامنے جنتی ساری جنت کی نعمتوں کو بھلا بیٹھیں گے۔ لھم ما یشاوں فیھا ولدینا مزید، لھم ان کے لیے ہوگا، ما یشاوں جو وہ چاہیں گے فیھا اس جنت میں، ولدینا مزید اور ہمارے پاس مزید بھی ہیں یعنی اور نعمتیں بھی ہیں، وكم اھلکنا قبلھم من قرن، اور کم بھئی، کم میں نے بتلا تھا کتنی قسم پر ہے؟ ایک خبریہ، ایک استفہامیہ، کم استفہامیہ کے ذریعے سوال ہوتا ہے، اور کم خبریہ کے ذریعے کثرت بیان کی جاتی ہے۔ تو کم اھلکنا یہ استفہامیہ نہیں کہ ہم نے کتنوں کو ہلاک کیا، بلکہ خبریہ ہے، ہم نے بہت سوں کو ہلاک کیا، قبلھم ان سے پہلے من قرن، قرن میں نے بتایا تھا، زمانے کو بھی کہتے ہیں، زمانے والوں کو بھی کہتے ہیں۔ تو یہاں قرن سے کیا مراد ہیں؟ زمانے والے یعنی امتیں، وكم اھلکنا قبلھم من قرن، اور کتنے ہی ہلاک کیے ہم نے، کتنی ہی ہلاک کی ہم نے ان سے پہلے امتیں، ھم اشد منھم جو ان سے ان مکہ والوں سے زیادہ سخت تھی، بشن باعتبار پکڑ کے، یعنی قوت کے۔ جو قوت میں ان سے بڑھ کر تھے، فنقبوا فی البلاد، نقب فی البلاد کے معنی ہوتے ہیں شہروں میں خوب گھومنا۔ شہروں میں خوب گھومنا پھرنا، فنقبوا فی البلاد، پس انہوں نے، پس وہ شہروں میں خوب گھومے پھرے۔ وہ شہروں میں خوب گھومتے پھرتے تھے، یعنی انہوں نے شہروں کو چھان مارا، شہروں کو چھان مارا، خوب گھومتے تھے۔ ھل من محیص، محیص کس کا کیا معنی ہے؟ جائے فرار، بھاگنے کی جگہ، حاص یحیص کے معنی بھاگنے کے ہوتے ہیں، محیص اس میں ظرف ہے، بھاگنے کی جگہ۔ ھل من محیص، تو کیا کوئی بھاگنے کی جگہ تھی؟ اللہ فرما رہے ہیں اس سے پہلے بھی ہم نے بہت سے امتوں کو ہلاک کیا، ان مشرکین مکہ سے پہلے بھی ہم نے بہت بہت سے امتوں کو ہلاک کیا جو ان سے قوت کے اندر بڑھ کر تھے، اور انہوں نے شہروں کو چھان مارا تھا، شہروں میں گھومتے پھرتے تھے، پس جب ہم نے ان کو عذاب ان پر اپنا نازل کیا، تو ہل من محیص کیا ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ تھی؟ کوئی بھی ان میں سے نہ بچ سکا، کوئی بھی ان میں سے نہ بچ سکا۔ تو مشرکین مکہ کو اس سے عبرت پکڑنی چاہیے کہ یہ ان سے قوت میں بڑھ کر نہیں، جب ان کو ہم نے ہلاک کر دیا وہ بھاگ کر نہ بچ سکے، تو یہ کیسے بچ سکتے ہیں ہمارے عذاب سے؟ وكم اھلکنا قبلھم من قرن، اور بہت سی ہم نے ان سے پہلے امتیں ہلاک کیں، جو ان سے قوت کے اندر بڑھ کر تھے، فنقبوا فی البلاد، پس وہ شہروں میں خوب گھومے پھرے، ہم وہ شہروں میں خوب گھومتے پھرتے تھے، ھل من محیص، کیا کوئی بھاگنے کی جگہ تھی؟ ان فی ذالک لذکر لمن کان لہ قلب او القی السمغ، بے شک اس کے اندر البتہ نصیحت ہے لمن اس شخص کے لیے، کان لہ قلب جس کا دل ہو۔ بے شک ان اس میں نصیحت ہے اس شخص کے لیے جس کا دل ہو، او القی السمغ، یا وہ کان لگائے۔ القا کے معنی ڈالنے کے، سمعہ سے کیا مراد کان، جو کان ڈالے یعنی کان لگائے، یعنی توجہ سے سنے۔ وہ شہید جو القی السمغ، اور کان لگائے، وھو شہید، اس حال میں کہ وہ حاضر ہو۔ یعنی اس کا دل حاضر ہو، اس کا دل، اللہ فرما رہے ہیں ان باتوں کے اندر، ان واقعات کے اندر، ان پہلے والوں کو جو ہم نے ہلاک کیا، ان میں بعد والوں کے لیے بڑی نصیحت ہے، اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نصیحت ہے جس کا دل ہو، جس کا دل ہو۔ اور یا وہ کان لگائے، اس حال میں کہ وہ حاضر ہو، یعنی اس کا کان بھی لگائے اور دل بھی حاضر ہو، یعنی دل بھی متوجہ ہو۔ اگر دل ہی متوجہ نہ ہو تو کان لگانے کا کوئی فائدہ نہیں بھئی۔ ان فی ذالک لذکر، بے شک اس کے اندر البتہ نصیحت ہے لمن کان لہ قلب اس شخص کے لیے جس کا دل ہو، یعنی سمجھنے والا دل ہو۔ دل تو ویسے ہر ایک کا ہے، مراد کیا ہے؟ سمجھنے۔ جس کا سمجھنے والا دل ہو، اور القی السمغ، یا وہ کان لگائے، وہ کان لگائے، وھو شہید، اس حال میں کہ وہ اس کا وہ حاضر ہو، یعنی اس کا دل حاضر ہو۔ ولقد خلقنا السماوات والارض، اور تحقیق ہم نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو، وما بینھما، اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، فی ستۃ ایام، چھ دنوں میں۔ چھ دنوں سے کیا مراد ہے؟ میں نے تفصیل پہلے بیان میں کر چکا، کہ یا تو چھ دنوں سے مراد وہ جو عند اللہ ایک دن ہے، اور جو ایک دن ان ہمارے نزدیک ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ یا یہ دنیا کے دن مراد ہیں، پھر اس پر اشکال ہوتا ہے کہ دن تو اس وقت تھے نہیں یہ تو سورج کے طلوع و غروب سے دن ہوتا ہے اور یہ تو بعد میں بنے تو مراد کیا ہے اتنا زمانہ مراد ہے چھ دنوں کے زمانے میں دنیا کے دن۔ تو ہم نے پیدا کیا اسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں وما مسنا من لغوب اور نہیں چھوا ہمیں من لغوب کسی تھکن نے۔ لغوب کسے کہتے ہیں؟ تھکن۔ اور ہمیں کسی تھکن نے نہیں چھوا یعنی ہمیں کوئی تھکن نہیں ہوئی۔ ہمیں کوئی تھکن نہیں پہنچی۔ چھ دن میں ہم نے زمین اور اسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزیں پیدا کر دیں اور ہمیں کوئی تھکن نہیں پہنچی۔ یہ یہود کا رد ہے جو کہتے تھے کہ اللہ نے چھ دنوں میں زمین اور اسمان بنائے اور ساتویں دن اللہ نے آرام کیا اللہ نے آرام کیا اللہ کو آرام کی کوئی حاجت نہیں۔ یہ زمین اور اسمان کو جو اللہ نے چھ دن میں بنایا یہ اس وجہ سے نہیں کہ یہ کام بڑا لمبا تھا نہیں اللہ کے سامنے کوئی چیز اللہ کے لیے سب چیزیں برابر ہیں ہر چیز اللہ کی قدرت میں ہے لیکن یہ جو چھ دنوں میں زمین اور اسمان کو بنایا یہ دراصل انسان کو تعلیم دی گئی کہ اللہ جو ہر چیز پر قادر ہے اس نے وہ صرف کن فرما دیتے تو یہ سب کچھ بن جاتا لیکن اللہ نے اس کو ان چیزوں کو اطمینان سے بنایا جلدی نہیں کی تو انسان کو بھی کسی معاملے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے اطمینان سے کام میں لگا رہے دین کا کام کرتا رہے اس پر اللہ ضرور نتیجہ مرتب فرمائیں گے اور اگر ایک ہی دن میں چاہتا ہے سب کچھ ہو جائے تو پھر کسی بھی چیز میں کامیابی اس کو نہیں ہو سکے گی بھئی۔ تو اللہ نے یہ چھ دن میں کیوں پیدا فرمایا؟ انسان کو تعلیم دی کہ کسی بھی کام میں جلدی اچھی نہیں اطمینان سے اور سکون سے کرنا چاہیے کام۔ جلدی نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ وما مسنا من لغوب اور نہیں پہنچی ہمیں کوئی تھکن فاصبر على ما يقولون پس اے پیغمبر آپ صابر کیجیے اس چیز پر جو وہ کہتے ہیں۔ اے پیغمبر یہ مشرکین مکہ آپ کو اذیتیں دیتے ہیں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں آپ جو کچھ یہ کہیں آپ اس پر صبر کیجیے۔ فاصبر على ما يقولون پس آپ صابر کیجیے جو یہ کہتے ہیں وسبح بحمد ربك اور پاکی بیان کیجیے بحمد ربك ساتھ اپنے پروردگار کی حمد کے پاکی کے ساتھ ساتھ اللہ کی حمد بیان کیجیے۔ قبل طلوع الشمس سورج کے طلوع ہونے سے پہلے وقبل الغروب اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے ومن الليل اور رات میں سے رات کے کچھ حصے میں۔ فسبحه پس آپ اللہ کی پاکی بیان کیجیے وادبار السجود ومن الليل فسبحه اور رات میں بھی اللہ کی پاکی بیان کیجیے وادبار السجود اور سجدوں کے پیچھے اور سجدے کے پیچھے بھئی ابتدا میں یہی تین نمازیں فرض تھیں بھئی۔ ایک طلوع شمس سے پہلے ایک غروب آفتاب سے پہلے اور ایک رات میں یعنی تہجد کی نماز تو ابتدا میں یہ تین نمازیں ہی فرض تھیں بعد میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں تو ان تین کا ذکر یہاں آیا جو ابتدا میں فرض تھیں۔ ان میں اللہ کی پاکی اور حمد بیان کیجیے یعنی ان اوقات میں اللہ کے لیے نماز پڑھیے بھئی۔ ان میں کیا کیجیے؟ نماز پڑھیے۔ اور بعضوں نے کہا نماز نہیں مطلقا اس میں تسبیح و حمد ہی مراد ہے ان اوقات میں حمد اور تسبیح کی بڑی فضیلت ہے یہ قبولیت دعا کے خاص اوقات ہیں لہذا ان اوقات کے اندر خاص طور پر اللہ کی حمد و ثناء اور تسبیح کرنی چاہیے۔ بعض نے کہا کہ یہاں یہ پانچوں نمازوں کا ذکر ہے طلوع شمس جو ہے پہلے اس میں فجر کی نماز آ گئی غروب سے پہلے غروب سے پہلے اس میں ظہر بھی آ گئی اور عصر بھی آ گئی یہ دونوں غروب سے پہلے ہیں اور رات میں کچھ جو ہے اس کے اندر مغرب بھی آ گئی اور عشاء بھی آ گئی بھئی۔ اور یہ جو آیا وادبار السجود اور سجدوں کے پیچھے بھئی سجدہ کرنے کے پیچھے جو ہے اس سے مراد کہتے ہیں نفل ہیں۔ سجدوں کے پیچھے یعنی فرض نمازوں کے پیچھے کیا کیجیے؟ کچھ نفل بھی پڑھ پڑھ لیا کیجیے۔ یا سجدوں کے یعنی فرض نمازوں کے بعد تسبیح و تحمید کر لیا کیجیے کچھ تسبیحات پڑھ لیا کیجیے یہ مراد ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ بعضوں نے کیا کہا؟ یہاں تین نمازیں ہی ذکر ہیں یہ نمازوں کا ذکر ہے تسبیح و تحمید سے کیا مراد ہیں؟ نمازیں مراد ہیں کیونکہ نماز اللہ کا ذکر ہی ہے نا سارا نماز میں تسبیح بھی ہے اس میں حمد بھی ہے سارا کچھ تو اس سے نمازیں مراد ہیں اور ابتدائی اسلام میں تین نمازیں تھیں۔ بعضوں نے کہا کہ نہیں نمازیں نہیں مراد بس ویسے تسبیح و تحمید ہی مراد ہے اس وقت اللہ کی تسبیحات کرنی چاہئیں سبحان اللہ سبحان اللہ الحمدللہ وغیرہ یہ تسبیحات اس وقت پڑھے۔ بعضوں نے کہا کہ یہاں پانچوں نمازیں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی اور یہ جو وادبار السجود آیا اس سے کیا مراد ہیں؟ سجدوں کے پیچھے سجدوں سے کیا مراد ہیں؟ فرض نمازیں اور کیا مراد ہے کہ اس کے بعد نفل پڑھ لیا کیجیے کچھ یا نفل نہیں مراد ویسے ہی تسبیح اور تحمید ہی مراد ہے۔ واستمع اور توجہ سے سنیے۔ واستمع توجہ سے۔ سننے کے لیے کیا آئے گا؟ اسمع اسمع سن لیے۔ میری بات سن لو آپ عربی میں کیا کہیں گے؟ اسمع کلامی اور یہاں کیا آیا؟ استمع اور عربی کے اندر لفظ بڑھیں حروف بڑھیں تو معنی بھی بڑھتا ہے تو استمع کا کیا معنی؟ توجہ سے سنیے۔ اور کیا سنیے؟ مفعول محذوف ہے استمع کلامی یا استمع مقولتی میرے مقولے میری بات کو توجہ سے سنیے۔ يوم يناد المنادي من مكان قريب جس دن کہ پکارے گا المنادی پکارنے والا يوم يناد المنادي جس دن پکارنے والا پکارے گا من مكان قريب قریب کی جگہ سے مراد نفخہ نفخہ صور مراد ہے صور کا پھونکنا اور نفخہ ثانیہ مراد ہے دوسری مرتبہ جب قیامت کے دن سب مردے اٹھیں گے اس صور کی آواز پر تو کون سا نفخہ مراد ہے نفخہ ثانیہ۔ اور تو یہ ندائے منادی سے کیا مراد ہے؟ کون سے پکار؟ صور کا پھونکنا مراد ہے۔ اور اللہ فرما رہے ہیں يوم يناد المنادي اور جس دن پکارے گا پکارنے والا من مكان مکان قريب قریب کی جگہ سے قریب کی جگہ سے قریب کی جگہ سے کیا مراد؟ کہتے ہیں کہ حضرت اسرافیل علیہ السلام حضرت اسرافیل علیہ السلام بیت المقدس کے پتھر پر کھڑے ہو کر صور پھونکیں گے تو یہ قریب کی جگہ ہے بھئی۔ دنیا ہی میں آ کر کہاں پر؟ بیت المقدس میں۔ یا یہ قریب اس لیے کہا گیا کہ ہر ایک اس کو سنے گا ہر ایک کو یوں معلوم ہوگا میرے قریب ہی صور پھونکا جا رہا ہے۔ واستمع اور توجہ سے سنیے يوم يناد المنادي من مكان قريب جس دن پکارے گا المنادی پکارنے والا من مكان قريب قریب کی جگہ سے ہی يوم يسمعون الصاح بالحق جس دن کہ سنیں گے چیخ کو بالحق سچ مچ جس دن چیخ کو سچ مچ سنیں گے جس دن چیخ کو برحق یہ سنیں گے مراد وہی نفخہ ہے بھئی اس صور کے پھونکنے۔ ذلك يوم الخروج یہ ہے نکلنے کا دن یعنی قبروں سے قبروں سے انا نحن نحيي ونميت وإلينا المصير بے شک ہم ہی زندگی زندہ کرتے ہیں اور موت دیتے ہیں وإلينا المصير اور ہماری طرف ہی لوٹنا ہے۔ يوم تشقق الأرض عنهم سراعا اور جس دن کی پھٹے گی زمین ان پر سے تشقق کا کیا معنی؟ پھٹنے کے يوم تشقق الأرض باب تفعل ہے بھئی تفعل کون سا صیغہ ہے؟ جی؟ ماضیہ مضارع ہے؟ جی؟ ماضی ہے کیوں؟ تشقق کا نہیں ہے تشقق کا ماضی ہوتا تو تشقق کا قاف پر زبر ہوتی تشقق ہو ہے یہ بتلا رہا ہے ضمہ کہ یہ مضارع ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر تو یتشقق علامت مضارع بھی تو شروع میں آنی چاہیے تھی یتشقق یا تتشقق الأرض مؤنث ہے نا تو تتشقق ہونا چاہیے تھا جواب یہ نحو میں آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں کہ باب تفعل تفعل وغیرہ کے اندر شروع میں اگر دو تا مفتوح اکٹھی ہو جائیں مفتوح یعنی دونوں پر زبر ہو تو ایک کو حذف کرنا بھی جائز تو یہ اصل میں کیا تھا تتشقق پھر ایک تا دو تا مفتوح شروع میں آئیں تو ایک کو حذف کر دیا گیا کیا بن گیا تشقق تو یہ مضارع کا صیغہ ہے يوم تشقق الأرض عنهم سراعا جس دن کہ زمین ان پر سے پھٹ جائے گی سراعا یہ حال ہے ہم ضمیر سے۔ اس حال میں کہ وہ تیز تیزی سے کرنے والے ہوں گے سریع ہے نا سریع کا کیا معنی ہوتا ہے؟ تیزی کرنے والا یعنی وہ تیزی سے نکل رہے ہوں گے جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اس حال میں کہ وہ تیزی سے قبروں سے نکل رہے ہوں گے یا یہ معنی تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے یعنی میدان حشر کی طرف فرشتے لوگوں کو جمع کر رہے ہوں گے۔ يوم تشقق الأرض عنهم سراعا جس دن یہ زمین ان کے اوپر سے پھٹ جائے گی یہ تیزی سے نکل رہے ہوں گے ذلك حشر علينا يسير حشر کا معنی جمع کرنا ذلك حشر یہ جمع کرنا ہے علينا يسير ہم پر آسان ہے یہ جمع کرنا ہم پر آسان ہے نحن أعلم بما يقولون ہم خوب جانتے ہیں جو یہ کہتے ہیں وما أنت عليهم بجبار اور اے پیغمبر آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔ ہاں اے پیغمبر آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں آپ کا کام صرف دعوت کو پیغام کو ہر ایک تک پہنچا دینا ہے جبر آپ کے ذम्मे نہیں ہے کوئی قبول کرتا ہے کرے جو نہیں کرنا چاہتا نہ کرے۔ نحن أعلم بما يقولون ہم خوب جانتے ہیں جو یہ کہتے ہیں وما أنت عليهم بجبار اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں فذكر بالقرآن پس آپ نصیحت کیجیے قرآن کے ذریعے من يخاف وعيد جو ڈرتا ہے وعید آئی وعیدی جو ڈرتا ہے ہماری وعید سے وعید یعنی کہ دال کا کسرہ بتلا رہا ہے کہ یہاں کیا حذف ہے؟ یا حذف ہے پس آپ نصیحت کیجیے قرآن کے ساتھ اس شخص کو جو ہماری وعید سے ڈرتا ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔