بَابُ إِضَافَةِ الْإِحْرَامِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: إِذَا أَحْرَمَ الْمَكِّيُّ بِعُمْرَةٍ وَطَافَ لَهَا شَوْطًا ثُمَّ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ فَإِنَّهُ يَرْفُضُ الْحَجَّ وَعَلَيْهِ لِرَفْضِهِ دَمٌ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: رَفْضُ الْعُمْرَةِ أَحَبُّ إِلَيْنَا وَقَضَاهَا وَعَلَيْهِ دَمٌ لِرَفْضِهَا۔ باب اضافۃ الاحرام یہ باب ہے احرام کا اضافہ کرنے کے بیان میں۔ یعنی ایک شخص کا احرام ہے پہلے سے ایک حج یا ایک عمرے کا، اور اس کے ساتھ وہ ایک اور احرام کو ملا دیتا ہے حج یا عمرے کے، تو اس کا کیا حکم ہے، اور کن صورتوں کے اندر اس پر دم وغیرہ واجب ہو گا، وہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ "قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إِذَا أَحْرَمَ الْمَكِّيُّ بِعُمْرَةٍ وَطَافَ لَهَا شَوْطًا ثُمَّ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ" بھئی، آپ پڑھ چکے کہ آفاقی شخص جو ہے، یعنی جو میقات سے باہر رہنے والا ہے، اس کے حج کے تین طریقے ہیں: حجِ قران، حجِ تمتع اور حجِ افراد۔ جبکہ مکہ کا رہنے والا جو ہے وہ صرف حجِ افراد کر سکتا ہے۔ اس کے لیے حجِ تمتع بھی نہیں اور حجِ قران بھی نہیں۔ تو صورتِ مسئلہ یہ کہ مکہ کا رہنے والا ایک شخص جو ہے اس نے عمرے کا احرام باندھ لیا اور پھر عمرہ شروع بھی کر دیا، مثلاً ایک چکر اس کا لگا لیا۔ اس کے بعد اس کا ارادہ حج کا بنا تو اس نے حج کا احرام بھی باندھ لیا۔ عمرے کا احرام پہلے سے تھا اور اس پر کس کا اضافہ کر دیا؟ حج کے احرام کا اضافہ کر دیا۔ تو اس صورت میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حج کو چھوڑ دے گا۔ کیا کرے گا؟ حج کو چھوڑ دے گا اور اس پر حج چھوڑنے کی وجہ سے دم واجب ہو گا بھئی۔ اور پھر اس... چونکہ اس نے حج کو چھوڑا ہے تو اس کی قضا کرے گا اور اس پر ایک حج اور عمرہ لازم ہو گا۔ ایک حج اور ایک عمرہ لازم ہو گا اس لیے کیونکہ یہ جب حج کو چھوڑ دے گا تو یہ حج کو فوت کر دینے والے شخص کی طرح ہوا۔ اور حج کو فوت کر دینے والے شخص پر ایک عمرہ اور ایک حج ہوتا ہے۔ حج کو فوت کر دینے والے پر ایک عمرہ اور ایک حج ہوتا ہے۔ تفصیل یاد رکھیے، یہ بار بار آئے گا کسی کا حج فوت ہو جائے۔ حج فوت ہونے کا کیا معنی؟ کہ وقوفِ عرفہ اس سے رہ گیا۔ وقوفِ عرفہ ہو گیا، پھر تو حج فوت نہیں ہو سکتا۔ پھر تو باقی اعمال وہ کسی بھی وقت ادا کرے، ادا کر سکتا ہے۔ ہاں، تاخیر وغیرہ کی صورت میں امام صاحب کے نزدیک دم آئے گا لیکن بہرحال اس کے بعد، جب ایک دفعہ وقوفِ عرفہ کر لیا، پھر اس کے بعد حج کے فوت ہونے کا کوئی خطرہ نہیں بھئی۔ تو حج فوت ہونے کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کسی کا وقوفِ عرفات رہ جائے کیونکہ وقوفِ عرفات کا وقت متعین ہے، نویں ذوالحجہ کو زوال کے بعد سے لے کر دسویں ذوالحجہ کی طلوعِ فجر تک، یہ سارا کس کا وقت ہے؟ وقوفِ عرفات کا۔ اگر یہ کسی کا رہ جائے تو اس کا حج فوت ہو گیا۔ اب جب حج فوت ہو گیا تو اب یہ کیا کرے؟ اس نے احرام تو باندھا ہوا ہے، تو اس کا طریقہ یاد رکھیے، یہ شخص جو ہے عمرہ کر لے گا اور حلال ہو جائے گا، یعنی ایک طواف کر لے گا اور ایک سعی کر لے گا۔ سمجھ میں آیا؟ اس سے پہلے آپ نے پڑھا تھا، اگر کسی کا حج فاسد ہو جائے تو وہ حج کے اعمال کرتا رہے گا۔ بھئی، وہ حج فاسد ہوا تھا، وہاں وقوفِ عرفات رہا نہیں تھا، اس لیے وہ سارے اعمال کرتا چلا جاتا تھا۔ لیکن یہاں اس کا وقوفِ عرفات ہی رہ گیا، اب باقی اعمال کرنے کا تو کوئی مطلب نہیں کیونکہ حج تو رہ گیا۔ تو اب یہ نہیں کہ باقی اعمال کرتا رہے گا، بلکہ کیا کرے گا صرف یہ؟ عمرہ کر لے گا، یعنی ایک طواف کر لے اور ایک سعی کر لے، اور اس کے بعد حلق یا قصر کروائے گا اور احرام سے حلال ہو جائے گا۔ کیونکہ احرام تو اس نے باندھا تھا اور اب اس احرام سے حلال بھی ہونا ہے، اور احرام سے حلال دو ہی چیزوں کے ذریعے ہوا جاتا ہے: یا حج کر کے حلق وغیرہ کروایا جاتا ہے یا عمرہ کر کے حلق وغیرہ کروائے۔ اور حج تو فوت ہو گیا اور وہ اب آئے گا اگلے سال، تو شریعت نے آسانی کر دی کہ کیا کر لے؟ عمرہ کر لے یعنی ایک طواف کر لے اور ایک سعی کر لے، اور پھر حلق یا قصر کروا کر اس احرام سے حلال ہو جائے۔ تو دیکھیے ایک عمرہ اس نے کر لیا، اور اگلے سال پھر اس حج کی قضا بھی کرے گا کیونکہ اس نے اس کا احرام باندھ کر اس کو شروع کر دیا تھا، اور ایک دفعہ جو عبادت شروع کر دی جائے وہ اس پر لازم ہو جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو حج جس کا فوت ہو جائے اسے کیا کرنا پڑتا ہے؟ ایک عمرہ اور ایک حج کرنا پڑتا ہے۔ تو اب اس مکی شخص نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور پھر درمیان میں اس کا ارادہ بنا حج کا بھی، اس نے حج کا بھی احرام باندھ لیا۔ تو اس کے حج اور عمرے کا احرام اکٹھا ہو گیا، اور حالانکہ اس کو تو حج اور عمرے کا احرام اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں، آفاقی کو تو اجازت ہوتی ہے اس کو اجازت نہیں، لہٰذا ان دونوں میں سے ایک کو چھوڑنا پڑے گا، ایک کو چھوڑنا پڑے گا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ حج کو چھوڑ دے اس وقت بھئی، حج کو چھوڑ دے اور عمرہ کرے، اور جو حج کو چھوڑا ہے اس کی وجہ سے اس پر کیا آئے گا؟ ایک حج اور ایک عمرہ۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں: "إِذَا أَحْرَمَ الْمَكِّيُّ بِعُمْرَةٍ" جب احرام باندھا مکہ والے نے عمرے کا، "وَطَافَ لَهَا شَوْطًا" اور طواف کر لیا عمرے کے لیے ایک چکر، "ثُمَّ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ" پھر اس نے حج کا احرام باندھ لیا، "فَإِنَّهُ يَرْفُضُ الْحَجَّ" تو یہ شخص جو ہے حج کو چھوڑ دے گا، "وَعَلَيْهِ لِرَفْضِهِ دَمٌ" اور اس پر حج کو چھوڑنے کی وجہ سے ایک دم واجب ہو گا، "وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ وَعُمْرَةٌ" اور اس نے حج چھوڑا ہے تو لہٰذا اس پر ایک حج اور عمرہ ہے۔ "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى" صاحبین فرماتے ہیں کہ اس نے حج اور عمرے کو اکٹھا کر دیا ہے دونوں کے احرام کو، اور دونوں میں سے ایک کو چھوڑنا پڑے گا بھئی، کیونکہ مکی شخص ہے اس کو دونوں کا احرام جمع کرنے کی اجازت نہیں۔ تو وہ فرماتے ہیں: حج کا درجہ بڑا ہے، لہٰذا ہمیں زیادہ پسند یہ ہے کہ یہ عمرے کو چھوڑ دے۔ کیا کر دے؟ عمرے کو چھوڑ دے کیونکہ عمرے کے ابھی اس نے اکثر افعال نہیں کیے، یعنی طواف کا اکثر حصہ نہیں کیا۔ چار سے کم کم چکر ہیں ابھی، تو کیا کر دے؟ عمرے کو چھوڑ دے اور حج کر لے بھئی، حج کر لے۔ اور البتہ عمرے کو چھوڑنے کی وجہ سے بھی اس پر دم واجب ہو گا بھئی۔ "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: رَفْضُ الْعُمْرَةِ أَحَبُّ إِلَيْنَا" اور صاحبین فرماتے ہیں کہ عمرے کا چھوڑنا وہ ہمیں زیادہ پسند ہے، "وَقَضَاهَا" اور یہ پھر اس عمرے کی قضا کرے گا، "وَعَلَيْهِ دَمٌ لِرَفْضِهَا" اور اس پر ایک دم واجب ہے اس عمرے کو چھوڑنے کی وجہ سے۔ ان کی دلیل بھئی، صاحبین کی دلیل، کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ رَفْضِ أَحَدِهِمَا" اس لیے کیونکہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو چھوڑنا ضروری ہے، "لِأَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا فِي حَقِّ الْمَكِّيِّ غَيْرُ مَشْرُوعٍ" اس لیے کیونکہ ان دونوں کو جمع کرنا، یعنی حج اور عمرے کو جمع کرنا مکہ والے کے حق میں غیر مشروع جائز نہیں ہے۔ "وَالْعُمْرَةُ أَوْلَى بِالرَّفْضِ" اور عمرہ زیادہ لائق ہے چھوڑنے کے۔ بھئی، عمرہ کیوں زیادہ چھوڑنے کے لائق ہے؟ کہتے ہیں: "لِأَنَّهَا أَدْنَى حَالًا" اس لیے کیونکہ عمرہ جو ہے کمتر ہے باعتبار حال کے، عمرے کی حالت کیا ہے؟ حج سے کم ہے۔ "وَأَقَلُّ أَعْمَالًا" اور عمرہ جو ہے وہ اعمال کے اعتبار سے تھوڑا ہے، عمرے میں تھوڑے سے اعمال کرنا پڑتے ہیں حج میں زیادہ۔ "وَأَيْسَرُ قَضَاءً" اور نیز اس لیے کہ عمرہ جو ہے وہ زیادہ آسان ہے باعتبار قضا کے، کہ عمرے کی قضا بھی آسان ہے۔ "لِكَوْنِهَا غَيْرَ مُوَقَّتَةٍ" اس لیے کیونکہ عمرہ کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں۔ حج جو ہے وہ تو اپنے مخصوص ایام میں ہو گا سال کے اندر ایک دفعہ، جبکہ عمرہ تو سال بھر میں جب بھی کرنا چاہے کر سکتا ہے، لہٰذا اس کی قضا آسان ہے بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں کہ عمرہ زیادہ لائق ہے چھوڑنے کے کیونکہ وہ حال کے اعتبار سے بھی ادنیٰ ہے، عمل کے اعتبار سے بھی تھوڑا ہے، اور قضا کے اعتبار سے بھی آسان ہے۔ "وَكَذَا إِذَا أَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَأْتِ بِشَيْءٍ مِنْ أَفْعَالِ الْعُمْرَةِ لِمَا قُلْنَا" اب دوسری صورت ہے۔ پہلی صورت میں یہ تھا کہ اس نے عمرہ شروع کر دیا تھا، دیکھا انہوں نے متن میں کہا تھا: ایک چکر لگا چکا ہے، ایک چکر۔ یعنی اکثر حصہ تو نہیں کیا لیکن شروع کر چکا ہے۔ تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں: حج کو چھوڑ دے، اور صاحبین فرماتے ہیں: عمرے کو چھوڑ دے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے عمرے کا احرام باندھا، ابھی عمرہ شروع نہیں کیا، اس سے پہلے ہی حج کا ارادہ بھی بنا تو اس نے حج کا بھی احرام باندھ لیا، کس شخص نے؟ مکہ کے رہنے والے نے۔ تو اب ان دو میں سے ایک کو چھوڑنا پڑے گا، تو ابھی جب عمرہ اس نے شروع نہیں کیا تو بالاتفاق یہ شخص عمرے کو چھوڑ دے بھئی۔ کیا کرے؟ اب امام صاحب بھی فرماتے ہیں کہ یہ عمرے کو چھوڑ دے کیونکہ ابھی اس نے عمرہ شروع نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: "وَكَذَا إِذَا أَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ" اور اسی طرح حکم ہے جب اس نے عمرے کا احرام باندھا، اسی طرح حکم ہے یعنی جیسے پیچھے آیا تھا کہ عمرے کو چھوڑنا بہتر ہے تو یہاں بھی اسی طرح ہے، اور اسی طرح حکم ہے یعنی عمرے کو چھوڑ دے گا، "إِذَا أَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ بِالْحَجِّ" جب اس نے عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا، "وَلَمْ يَأْتِ بِشَيْءٍ مِنْ أَفْعَالِ الْعُمْرَةِ" اور حال یہ ہے کہ اس نے ادا نہیں کیا افعالِ عمرہ میں سے کسی بھی چیز کو، تو بھی یہی حکم ہے، "لِمَا قُلْنَا" اس وجہ سے جو ہم نے کہی کہ عمرہ کیا ہے؟ ادنیٰ ہے حال کے اعتبار سے، اقل ہے اعمال کے اعتبار سے، اور ایسر ہے قضا کے اعتبار سے۔ تو بہرحال یہاں عبارت میں تسامح ہے کیونکہ پچھلے متن میں جو عبارت آئی تھی اس میں اختلاف تھا، اور یہاں پر جو ہے وہ اتفاقی صورت بیان ہو رہی ہے۔ اور وہاں پر ذکر ہوا تھا حج کو چھوڑنے کا اور یہاں کس کا چھوڑنا مراد ہے؟ عمرے کا چھوڑنا مراد ہے۔ تو یہ خیال رکھنا بھئی، بظاہر لگتا ہے کہ شاید یہاں پر بھی وہ حج کو چھوڑے گا حالانکہ ایسا نہیں، یہاں بالاتفاق وہ عمرے کو چھوڑے گا۔ "فَإِنْ طَافَ لِلْعُمْرَةِ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ ثُمَّ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ رَفَضَ الْحَجَّ بِلَا خِلَافٍ" تیسری صورت بھئی، کہ اس نے عمرے کے چار یا چار سے زیادہ چکر لگا لیے تھے عمرے کے طواف کے بھئی۔ تو اس صورت میں بھئی، اس صورت میں بالاتفاق وہ حج کو چھوڑ دے گا کیونکہ عمرے کا اکثر طواف یہ کر چکا ہے تو گویا کہ عمرہ ہی کر چکا ہے، اب چھوڑا نہیں جا سکتا۔ چھوڑنا تو مکمل ہونے سے پہلے ہوتا ہے، مکمل ہونے کے بعد نہیں چھوڑا جا سکتا، اور جب اس نے اکثر چکر لگا لیے تو گویا مکمل ہی طواف کر لیا۔ اور عمرے کے اندر یہ طواف فرض ہے، اور سعی اور حلق یہ تو واجب ہیں بھئی۔ تو اکثر فرض کر لیا گویا سارا ہی فرض کر لیا، گویا کہ عمرہ ہو چکا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ طَافَ لِلْعُمْرَةِ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ" اگر اس نے طواف کیا عمرے کے لیے چار چکر، "ثُمَّ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ" پھر اس نے حج کا احرام باندھا، "رَفَضَ الْحَجَّ بِلَا خِلَافٍ" تو یہ حج کو چھوڑ دے گا بغیر کسی اختلاف کے، "لِأَنَّ لِلْأَكْثَرِ حُكْمَ الْكُلِّ" اس لیے کیونکہ اکثر کے لیے کل کا حکم ہوتا ہے، کہ اکثر کر لیا تو گویا کل ہی کر لیا، "فَتَعَذَّرَ رَفْضُهَا" تو ممکن نہ رہا اس کو چھوڑنا، متعذر ہو گیا اس کا چھوڑنا یعنی ممکن نہ رہا اس کا چھوڑنا، "كَمَا إِذَا فَرَغَ مِنْهَا" جیسے کہ وہ اس عمرے سے فارغ ہو چکا ہو یعنی اس کو مکمل کر چکا ہو، تو پھر اس کو نہیں چھوڑا جا سکتا۔ "وَلَا كَذٰلِكَ إِذَا طَافَ لِلْعُمْرَةِ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور حکم اس طرح نہیں ہے جب وہ طواف کر لے عمرے کے لیے اس سے کمتر امام صاحب کے نزدیک۔ بھئی "وَلَا كَذٰلِكَ" آیا بھئی، تو بعض علماء نے لکھا یہاں پر کہ یہ "لَا" جو ہے یہ کتابت وغیرہ کی غلطی ہے، یہ "لَا" کو نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عبارت یوں ہونی چاہیے: "وَكَذٰلِكَ" اور اسی طرح حکم ہے۔ پچھلے مسئلے کا کیا حکم بیان ہوا؟ جس نے عمرہ کیا اور اس کے چا... طواف کے چار چکر کر لگا لیے تو وہ کیا کرے گا؟ حج کو چھوڑے گا۔ اور اگلے مسئلے میں بھی اسی طرح ہے: "وَكَذٰلِكَ" اور اسی طرح حکم ہے، یعنی حج کو چھوڑ دے گا، "إِذَا طَافَ لِلْعُمْرَةِ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِكَ" جب وہ عمرے کا طواف کر لے اس سے کم، اس صورت میں بھی کیا کرے گا؟ حج کو چھوڑے گا۔ بھئی، سب سے پہلے متن میں کیا آیا تھا؟ عمرے کا طواف کا ایک چکر کر لگا لے گا تو کس کو چھوڑے گا امام صاحب کے نزدیک؟ حج کو چھوڑے گا، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے، یہاں اس کو حج کو چھوڑنا پڑے گا، تو کہتے ہیں "لَا" نہیں ہونا چاہیے پھر بات صحیح بنتی ہے: "وَكَذٰلِكَ إِذَا طَافَ لِلْعُمْرَةِ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور اسی طرح ہے حکم، یعنی وہ حج کو چھوڑ دے گا جب اس نے عمرے کا اس سے کم چکر طواف کیا ہو امام صاحب کے نزدیک۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ بعض علماء، دیگر علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، "لَا" کے ساتھ ہی عبارت صحیح ہے اور یہ دراصل ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراض کا جواب۔ اعتراض کا جواب یہ کہ بھئی پیچھے سب سے پہلے متن میں آیا تھا کہ عمرے کے طواف کے کم چکر لگائے ہوں، اکثر نہ ہوں بلکہ کم ہوں، تو بھی امام صاحب کے نزدیک کس کو چھوڑے گا؟ حج کو چھوڑے گا۔ اور یہاں پر تو کیا آیا کہ عمرے کے طواف کے اکثر چکر لگا چکا ہو پھر تو بالاتفاق کیا کرے گا؟ حج کو چھوڑے گا۔ کیوں چھوڑے گا عمر... کیوں حج کو چھوڑے گا؟ اس لیے کیو... کیونکہ عمرے کے طواف کے وہ اکثر چکر لگا چکا ہے اور جب اکثر لگا چکا ہے تو گویا کہ پورا طواف ہی وہ کر چکا ہے، اب چھوڑنا ممکن ہی نہیں رہا۔ لیکن جب اقل چکر لگائے ہوں، جب تھوڑے چکر لگائے ہوں، پھر تو یہ علت درست نہیں بنتی۔ زیادہ چکر لگائے ہوں پھر تو نہ چھوڑنے کی علت کیا ہے؟ کیونکہ اکثر ہو چکا جب اکثر ہو چکا تو کل ہو چکا، وہاں تو ٹھیک ہے زیادہ چکر لگائے ہیں یہ علت ٹھیک بن جائے گی کہ عمرے کو اب نہیں چھوڑ سکتا، اب کس کو چھوڑنا پڑے گا؟ حج کو۔ لیکن اگر اقل چکر لگائے ہوں، تھوڑے چکر لگائے ہوں، پھر تو وہاں پر یہ علت نہیں بنتی۔ تو حالانکہ امام صاحب کے نزدیک وہاں پر بھی حج ہی کو چھوڑے گا، حکم اسی طرح ہے، تو اس کی تو علت یہ نہیں بنتی، تو وہی بیان کر رہے ہیں: "وَلَا كَذٰلِكَ إِذَا طَافَ لِلْعُمْرَةِ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِكَ" اور ایسا نہیں ہے، کیا معنی ایسا نہیں ہے؟ یعنی اس کو چھوڑنا ابھی متعذر نہیں ہے کیونکہ ابھی تو اکثر نہیں ہوا، تو وہاں یعنی یہ علت نہیں ہے، "إِذَا طَافَ لِلْعُمْرَةِ أَقَلَّ مِنْ ذٰلِكَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" جب اس نے عمرے کا طواف اس سے کم کیا ہو امام صاحب کے نزدیک۔ تو پھر وہاں چھوڑنے کی کیا وجہ ہے؟ تو وہ کہتے ہیں: امام صاحب الگ علت بیان کرتے ہیں جو آگے بیان ہو رہی ہے۔ اگر اقل چکر لگائے ہیں تو پھر اس کی یہ علت نہیں ہے عمرہ چھوڑنے کی، بلکہ اب اس کی الگ علت ہے جو امام صاحب بیان کرتے ہیں۔ یاد رکھیے، علت یہ: امام صاحب فرماتے ہیں جب عمرے کا طواف ایک دفعہ شروع کر دیا تو عمرہ پکا ہو گیا، کیونکہ کچھ نہ کچھ عمل اس کا، اس کا ادا کر دیا، اس کا کچھ فعل ادا کر دیا، لہٰذا یہ مؤکد ہو گیا۔ عمرہ کیا ہوا؟ مؤکد ہو گیا، پکا ہو گیا۔ اور حج کا تو ابھی کوئی فعل اس نے نہیں کیا صرف حج کا احرام باندھا ہے، تو حج ہے غیر مؤکد، اور غیر مؤکد کو چھوڑنا آسان ہے کس کے مقابلے میں؟ مؤکد کے مقابلے میں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز اس لیے بھی کہ عمرے کے افعال کو وہ ادا کرنا شروع کر چکا ہے، اب عمرہ چھوڑے گا تو اپنے عمل کو باطل کرنا لازم آئے گا حالانکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ۔ اور حج، حج کا تو صرف ابھی اس نے احرام باندھا ہے کوئی عمل نہیں کیا، لہٰذا حج کو چھوڑے گا تو یوں کہا جائے گا یہ حج سے رک گیا۔ عمرے کو چھوڑتا ہے تو عمل کو باطل کرنا لازم آتا ہے، اور حج کو چھوڑنا ہے تو پھر صرف رکنا لازم آتا ہے، اور رکنا آسان ہے کس کی بہ نسبت؟ باطل کرنے کے مقابلے میں، اس لیے وہ کیا کرے گا؟ حج کو چھوڑ دے گا، وجہ سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وَلَهُ" اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے "أَنَّ إِحْرَامَ الْعُمْرَةِ قَدْ تَأَكَّدَ بِأَدَاءِ شَيْءٍ مِنْ أَعْمَالِهَا" کہ عمرے کا احرام جو ہے وہ تحقیق پکا ہو گیا ہے اس کے اعمال میں سے کچھ ادا کر دینے کی وجہ سے، "وَإِحْرَامَ الْحَجِّ لَمْ يَتَأَكَّدْ" اور حج کا احرام جو ہے وہ پکا نہیں ہوا، "وَرَفْضُ غَيْرِ الْمُتَأَكِّدِ أَيْسَرُ" اور چھوڑ دینا غیر متأکد کو یہ زیادہ آسان ہے۔ "وَلِأَنَّ فِي رَفْضِ الْعُمْرَةِ وَالْحَالَةُ هٰذِهِ إِبْطَالَ الْعَمَلِ" اور اس لیے کیونکہ عمرے کو چھوڑنے میں، عمرے کو چھوڑنے میں، "أَنَّ" کا اسم آگے ہے، "إِبْطَالَ الْعَمَلِ" عمرے کو چھوڑنے میں عمل کو باطل کرنا ہے، اور درمیان میں حال آ گیا: "وَالْحَالَةُ هٰذِهِ" اور حالت یہ والی ہے۔ عمرے کو چھوڑنا اس حال میں کہ حالت یہ والی ہو، کون سی حالت ہو؟ جب اس کو شروع کر چکا ہے چاہے ایک چکر لگایا ہے چاہے دو چکر لگائے ہیں، یہ حالت ہے۔ عبارت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّ فِي رَفْضِ الْعُمْرَةِ وَالْحَالَةُ هٰذِهِ إِبْطَالَ الْعَمَلِ" اس لیے کیونکہ عمرے کو چھوڑنے میں اور حالت یہ ہو، ابطال العمل عمل کو باطل کرنا ہے، "وَفِي رَفْضِ الْحَجِّ امْتِنَاعٌ عَنْهُ" اور حج چھوڑنے کے اندر حج سے باز رہنا ہے، حج سے رکنا ہے، اور یہ زیادہ آسان ہے۔ "وَعَلَيْهِ دَمٌ بِالرَّفْضِ أَيَّهُمَا رَفَضَهُ" اور اس شخص پر دم واجب ہو گا چھوڑ دینے کی وجہ سے، ایھما رفضہ ان دونوں میں سے وہ جس کو بھی چھوڑ دے بھئی۔ "لِأَنَّهُ تَحَلَّلَ قَبْلَ أَوَانِهِ" اس لیے کیونکہ یہ شخص حلال ہو گیا قبل اوانہ اپنے وقت سے پہلے ہی۔ جب حج چھوڑ دے گا تو عمرہ کر کے حلال ہو جائے گا، تو دیکھو حج حالانکہ احرام باندھ دیا تھا، تو یہ اپنے وقت پر حج سے... عمرے سے تو اپنے وقت پر حلال ہوا ہے لیکن حج سے تو اپنے وقت سے پہلے حلال ہوا ہے۔ "لِأَنَّهُ تَحَلَّلَ قَبْلَ أَوَانِهِ" اس لیے کیونکہ اپنے وقت سے پہلے حلال ہو گیا، "لِتَعَذُّرِ الْمُضِيِّ فِيهِ" اس لیے کیونکہ اس میں چلتے رہنا ممکن نہیں بھئی، اس میں چلتے رہنا متعذر ہو گیا تھا۔ کیوں متعذر ہوا اس میں چلتے رہنا؟ دونوں کو چلانا کیوں مشکل ہو گیا اکٹھا؟ کیونکہ مکہ والا ہے اور مکہ والے کے لیے تو ان دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں، اس وجہ سے۔ "لِتَعَذُّرِ الْمُضِيِّ فِيهِ" اس وجہ سے کہ اس میں چلتے رہنا اس کے لیے متعذر ہو گیا تھا، تو یہ حلال ہوا وقت سے پہلے، "فَكَانَ فِي مَعْنَى الْمُحْصَرِ" تو یہ شخص کس کے معنی میں ہوا؟ محصر کے معنی میں ہوا۔ محصر وہ شخص، احصر یحصر احصار کے معنی روکنے کے، محصر وہ شخص جو کسی دشمن کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے حج پر نہ جا سکے، احرام باندھ چکا ہے اور پھر بیمار ہو گیا آگے نہ جا سکا، یا آگے دشمن آ گیا اب یہ آگے نہیں جا سکتا تو یہ محصر ہے، محصر ہے۔ تو کہتے ہیں: "فَكَانَ فِي مَعْنَى الْمُحْصَرِ" تو یہ شخص جو ہے محصر کے معنی میں ہوا، "إِلَّا أَنَّ فِي رَفْضِ الْعُمْرَةِ قَضَاؤُهَا لَا غَيْرُ، وَفِي رَفْضِ الْحَجِّ قَضَاؤُهُ وَعُمْرَةٌ، لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى فَائِتِ الْحَجِّ" "إِلَّا أَنَّ فِي رَفْضِ الْعُمْرَةِ قَضَاؤُهَا لَا غَيْرُ" مگر یہ بات ہے کہ عمرہ چھوڑنے کی صورت میں اس پر اس عمرے کی قضا ہے لا غیر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اور جبکہ "وَفِي رَفْضِ الْحَجِّ قَضَاؤُهُ وَعُمْرَةٌ" حج کو چھوڑنے کی صورت میں اس پر اس حج کی قضا بھی ہے اور عمرے کی بھی، اور عمرہ بھی ہے اس پر، "لِأَنَّهُ فِي مَعْنَى فَائِتِ الْحَجِّ" اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے حج کو فوت کر دینے والے کے معنی میں ہوا۔ وہ شخص جس کا حج فوت ہو گیا ہو، اور جس کا حج فوت ہو گیا ہو اس پر کیا ہوتا ہے؟ کیا لازم ہوتا ہے؟ ایک عمرہ اور ایک حج۔ عمرہ کون سا؟ حلال ہونے کے لیے، اور حج جو اس کی قضا کرے گا۔ تو یہ شخص بھی کس کی طرح ہوا؟ فائت الحج، حج کو فوت کر دینے والے شخص کے معنی میں ہو گیا، تو لہٰذا اس پر بھی حج کی قضا بھی ہو گی اور ایک عمرہ بھی ہو گا۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ "وَإِنْ مَضَى عَلَيْهِمَا أَجْزَأَهُ" بھئی اس پر حج یا عمرے کو چھوڑنا ضروری تھا، لیکن یہ اسی طرح چلتا رہا، اس نے نہیں چھوڑا حج کو یا عمرے کو، اور دونوں کو ادا کرتا ہے، تو کہتے ہیں: یہ بھی اس کے لیے کافی ہو جائے گا۔ یہ بھی کیا ہو گا اس کے لیے؟ کافی ہو جائے گا۔ البتہ اس پر دم لازم ہو گا، شریعت نے تو اس کو منع کیا تھا کہ یہ حج اور عمرے کو جمع نہیں کر سکتا کیونکہ یہ مکہ کا رہنے والا ہے، اور اس نے جمع کیا ہے تو اس پر ایک دم واجب ہو گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ مَضَى عَلَيْهِمَا" اور اگر یہ ان دونوں پر چلتا رہا، یعنی حج اور عمرے پر، "أَجْزَأَهُ" تو یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا، "لِأَنَّهُ أَدَّى أَفْعَالَهُمَا كَمَا الْتَزَمَهُمَا" اس لیے کیونکہ اس نے ان دونوں کے افعال کو ادا کر دیا جیسے کہ اس نے اپنے اوپر لازم کیا تھا، "غَيْرَ أَنَّهُ مَنْهِيٌّ عَنْهُمَا" علاوہ اس کے کہ اس کو تو منع کیا گیا تھا ان دونوں سے، "وَالنَّهْيُ لَا يَمْنَعُ تَحَقُّقَ الْفِعْلِ عَلَى مَا عُرِفَ مِنْ أَصْلِنَا" اور نہی جو ہے یہ روکتی نہیں ہے فعل کے تحقق کو، یعنی فعل کے پائے جانے کو، "عَلَى مَا عُرِفَ مِنْ أَصْلِنَا" بوجہ اس کے جو جانا گیا ہے ہماری اصل سے، ہمارے ضابطے سے۔ بھئی، آپ پڑھ چکے، نہی کی بحث یاد ہے یعنی اصول فقہ میں آپ پڑھ چکے ہیں؟ آپ نے پڑھا تھا کہ افعال جو ہیں وہ دو قسم کے ہیں: کچھ افعالِ شرعیہ ہیں، کچھ افعالِ حسیہ ہیں۔ افعالِ حسیہ وہ ہیں جن کے معنی میں شریعت نے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، جو معنی شریعت کے آنے سے پہلے لوگ اس کا سمجھتے تھے شریعت نے بھی اسی معنی کو برقرار رکھا، جیسے زنا ہے زنا۔ زنا کس کو کہتے تھے لوگ؟ غیر ملکیت کے اندر وطی کرنا۔ کس کے اندر؟ غیر ملکیت کے اندر وطی کرنا، صحبت کرنا، اس کو لوگ زنا کہتے تھے، شریعت نے بھی اسی معنی کو برقرار رکھا بھئی، اور غیر ملکیت کے اندر وطی کرنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ زنا کہلاتا ہے۔ اور تو یہ افعالِ حسی ہیں، کیا ہیں؟ افعالِ حسی ہیں، حس کے ذریعے ہی یعنی یوں کہیں عقل کے ذریعے ہی ان کا پتہ چل جا... پتہ چل جاتا ہے، اسی لیے تو لوگوں کو بھی اس کا پہلے سے ہی پتہ تھا بھئی۔ اور پہلے تو شریعت نہیں تھی لیکن عقل کے ذریعے وہ لوگ اس کو جان گئے تھے بھئی۔ اور دوسری قسم کے افعال جو ہیں وہ افعالِ شرعیہ کہلاتے ہیں۔ افعالِ شرعیہ وہ ہیں کہ جن کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی ہو بھئی، تو ان کو افعالِ شرعیہ کہتے ہیں۔ مثلاً بھئی، بیع بھئی، بیع، خریدنا کسی چیز کا۔ بیع کس کو کہتے تھے؟ شریعت کے آنے سے پہلے لوگ بیع کی تعریف کرتے تھے کہ بیع جو ہے وہ مبادلۃ الشئ بالشئ، ایک چیز کا دوسری چیز سے تبادلہ کرنا یہ بیع کہلاتا ہے۔ بیع کا کیا معنی لوگ سمجھتے تھے؟ ایک چیز کا دوسری چیز سے تبادلہ کر لینا یہ بیع کہلاتا ہے۔ لیکن شریعت نے آ کر بتلایا نہیں، مبادلۃ الشئ بالشئ نہیں ہے بیع، بلکہ مبادلۃ المال بالمال، مال کا مال کے بدلے مبادلہ ہو، مال کا مال کے ساتھ مبادلہ ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ بیع کہلاتا ہے۔ اور نیز شریعت نے اس میں قید بڑھا دی کہ بالتراضی، مبادلۃ المال بالمال بالتراضی، کہ آپس کی باہمی رضامندی بھی ہونی چاہیے۔ یہ نہیں کہ ایک آدمی تلوار نکالتا ہے اور دوسرے سے کہتا ہے: اپنی یہ چیز میرے حوالے کرو، اور اپنی کوئی چیز اس کے حوالے کر دیتا ہے، تو اس کو بیع نہیں کہیں گے بلکہ بیع کے اندر کیا ضروری ہے؟ باہمی رضامندی بھی ضروری ہے دونوں عقد کرنے والوں کی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شریعت نے دیکھو بیع کے معنی میں تبدیلی پیدا کر دی، تو یہ جو بیع ہے اس کو فعلِ شرعی کہیں گے۔ فعلِ شرعی کیا معنی؟ معنی یہ ہے کہ بیع کو شریعت کے آنے سے پہلے لوگ جانتے ہی نہیں تھے، لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا بھئی یہ کیا ہوتی ہے، شریعت نے آ کر بتلایا کہ بیع یہ ہوتی ہے۔ لوگ جو جانتے تھے وہ غلط جانتے تھے، شریعت نے اس کو رد کر دیا اور اس میں شرطیں اور قیودات کا اضافہ کر دیا، معلوم ہوا لوگ پہلے بیع کو جانتے ہی نہیں تھے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو افعالِ حسیہ وہ افعال جن میں شریعت کے آنے کے بعد بھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی، شریعت نے ان کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں کی، اور افعالِ شرعیہ وہ ہیں کہ جن کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی، تو اس لیے ان کو افعالِ شرعیہ کہتے ہیں کہ پہلے ان کو کوئی جانتا ہی نہیں تھا بھئی، شریعت نے آ کر بتلایا بھئی۔ اور ان کے اندر آپ پڑھ چکے کہ نہی آئے، اگر اللہ اور اس کے پیغمبر کی طرف سے حکم آ جائے، ایک چیز سے روکا جائے، تو دیکھا جائے گا یہ کس چیز سے روکا جا رہا ہے؟ یہ فعل کون سا ہے؟ فعلِ حسی ہے یا فعلِ شرعی ہے؟ اگر فعلِ حسی کے اندر نہی آ جائے تو پھر وہ فعل باطل ہو گا۔ نہی کے آ جانے کے بعد پھر بھی کوئی اس فعل کو کرے گا تو اس کا کرنا بھی نہ کرنا ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، وہ فعل ہی باطل ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جب نہی کس کے بارے میں آئے؟ فعلِ حسی کے بارے میں، تو وہ باطل ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں بھئی، اس کا کرنا نہ کرنا برابر ہے، سمجھ میں آیا؟ یعنی اس کا وجود نہیں آئے گا، یہ نہیں کہ گناہ نہیں ہو گا، گناہ تو ہو گا، یعنی اس کا وجو... وجود اور عدم برابر ہیں بھئی۔ اور ایک ہے فعلِ شرعی، فعلِ شرعی کے اندر اگر نہی آ جائے یعنی اللہ اور اس کا رسول جو ہیں وہ کسی فعل سے منع کریں کہ یہ فعل نہیں کرنا، تو غور کریں گے یہ کون سا فعل ہے؟ غور کیا تو پتہ چلا یہ فعلِ شرعی ہے، معلوم ہوا یہ نہی کس کے بارے میں آئی ہے؟ فعلِ شرعی، اور فعلِ شرعی کے بارے میں جب نہی آ جائے تو یاد رکھیے وہ ذات کے اعتبار سے جائز ہوتا ہے، وصف کے اعتبار سے ناجائز ہوتا ہے۔ ذات کے اعتبار سے جائز لیکن وصف کے اعتبار سے جائز نہیں ہے بھئی، جائز نہیں ہے۔ مثلاً بھئی، شریعت میں شرط لگا کر بیع کرنے سے منع کیا گیا کہ بیع کے اندر کوئی شرط نہ لگائی جائے بھئی، شرط نہ لگائی جائے۔ لیکن کوئی آدمی شرط لگا کر بیع کر لیتا ہے، مثلاً دوسرے ساتھی سے کہتا ہے کہ یہ کتاب میں آپ کو سو روپے میں فروخت کروں گا، فروخت کرتا ہوں، لیکن شرط یہ ہے آپ مجھے پچاس روپے ساتھ بطورِ قرض کے بھی دیں گے، وہ میں آپ کو بعد میں دے دوں گا، کتاب اپ کو سو کی ہی دے رہا ہوں، لیکن آپ نے بیع کے اندر دیکھو شرط لگا دی، شرط لگا دی۔ تو یاد رکھیے، یہ بیع جو ہے، بیع فعلِ شرعی ہے اور فعلِ شرعی کے اندر نہی آئی ہے اس کے اندر شرط لگانے کی، تو اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ شرط لگا کر یہ بیع کر لیتا ہے، تو یہ ذات کے اعتبار سے جائز اور وصف کے اعتبار سے ناجائز ہے۔ یعنی بیع منعقد ہو جائے گی، یعنی وہ جب دوسرے کو آپ کتاب دے دیں گے وہ اس کتاب کا مالک بن جائے گا، لیکن چونکہ شریعت نے منع کیا تھا تو لہٰذا یہ بیع واجب الرد ہے، آپ دونوں پر ضروری ہے کہ اس بیع کو توڑ دیں، ختم کر دیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ورنہ گناہگار ہوں گے۔ تو فعلِ حسی کے اندر نہی آئے تو وہ باطل ہوتا ہے، ہوتا ہی نہیں سرے سے، کسی کوئی صورت ہی نہیں اس کے جائز ہونے کی، اور فعلِ شرعی کے اندر نہی آئے تو نہی کے آنے کے بعد بھی وہ ذات کے اعتبار سے جائز ہوتا ہے اور وصف کے اعتبار سے ناجائز ہوتا ہے۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں بھئی، اب دیکھیے کتاب پر: "وَالنَّهْيُ لَا يَمْنَعُ تَحَقُّقَ الْفِعْلِ" اور نہی جو ہے یہ فعل کے پائے جانے کو نہیں روکتی، یعنی فعلِ شرعی کے اندر، فعلِ شرعی کے اندر نہی آئی ہو اور پھر اس کو کوئی کر لیتا ہے تو فعل کا وجود پایا جائے گا یا نہیں؟ پایا جائے گا۔ جیسے وہ بیع کی شرط لگا کر، بیع کا وجود پایا گیا جبھی تو وہ دوسرا شخص جب اس پر قبضہ کرے گا تو اس کا کیا بن جائے گا؟ مبیع کا مالک بن جائے گا۔ اگر یہ بیع باطل ہوتی تو وہ اس کتاب پر قبضہ بھی کر لیتا تو بھی مالک نہ بنتا، مالک آپ ہی رہتے، لیکن جب بیع فاسد ہوئی، فاسد ہونے کا کیا معنی؟ ذات کے اعتبار سے بیع منعقد ہو گئی، یعنی وہ اس پر قبضہ کر لے گا آپ کی مرضی سے تو کیا بن جائے گا؟ اس کتاب کا مالک بن جائے گا، لیکن گناہ والا کام کیا لہٰذا اس کو توڑنا ضروری ہے۔ تو معلوم ہوا نہی کے بعد بھی فعلِ شرعی جو ہو گا اس کا وجود ہو سکتا ہے، فعلِ حسی کا تو وجود ہی نہیں ہو سکتا لیکن فعلِ شرعی کا وجود ہو سکتا ہے، کس کے بعد؟ نہی کے بعد۔ تو یہ کہہ رہے ہیں: "وَالنَّهْيُ لَا يَمْنَعُ تَحَقُّقَ الْفِعْلِ" اور نہی جو ہے یہ فعل کے پائے جانے کو نہیں منع کرتی، "عَلَى مَا عُرِفَ مِنْ أَصْلِنَا" بوجہ اس کے جو معلوم ہے ہمارے ضابطے سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھو یہاں پر اس شخص کو حج اور عمرے کو جمع کرنے سے منع کیا گیا کیونکہ یہ کہاں کا رہنے والا ہے؟ مکہ کا رہنے والا ہے، اور منع کیا جا رہا ہے فعلِ شرعی سے، کس چیز سے؟ فعلِ شرعی سے منع کیا جا رہا ہے، لہٰذا منع کرنے کے باوجود اگر یہ اس کو کرے گا تو فعل کا وجود پایا جائے گا، یعنی یہ ادا ہو جائیں گے، یعنی ادا ہو جائیں گے۔ البتہ اس نے گناہ کیا، اس کو تو منع کیا گیا تھا، لہٰذا اس پر دم واجب ہو جائے گا، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ "وَعَلَيْهِ دَمٌ لِجَمْعِهِ بَيْنَهُمَا" اور اس شخص پر دم واجب ہے لجمعہ بینھما بوجہ اس شخص کے جمع کرنے کے ان دونوں کے درمیان یعنی حج اور عمرے کے درمیان، "لِأَنَّهُ تَمَكَّنَ النُّقْصَانُ فِي عَمَلِهِ" اس وجہ سے کہ نقصان بیٹھ گیا اس کے عمل میں، نقصان آ گیا اس کے عمل کے اندر، "لِارْتِكَابِهِ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ" اس وجہ سے کہ اس نے ارتکاب کیا ہے ایک منہی عنہ فعل کا، ایسے فعل کا جس سے اس کو روکا گیا تھا۔ "وَهٰذَا فِي حَقِّ الْمَكِّيِّ دَمُ جَبْرٍ" اور یہ جو ہے مکہ والے کے حق میں دمِ جبر ہے، جبر کا معنی تلافی کرنا، یہ تلافی کا دم ہے، اس نے جو غلطی کی اس کی تلافی کے طور پر دم دے گا۔ "وَفِي حَقِّ الْآفَاقِيِّ دَمُ شُكْرٍ" اور آفاقی کے حق میں یہ دمِ شکر ہے۔ بھئی دیکھیے، مکہ والے نے کیا کیا؟ حج اور عمرے کو جمع کر دیا تو اس پر دم واجب، لیکن یہ دم، دمِ شکر نہیں ہے کہ اس کو اللہ نے دو عبادتوں کے جمع کرنے کی توفیق دیا، بلکہ یہ دم کون سا ہے؟ دمِ جبر ہے یعنی یوں کہیں دمِ کفارہ ہے، یہ تلافی کا دم ہے کہ اس نے غلطی کی ہے۔ اور جبکہ آفاقی شخص جو میقات سے باہر کا رہنے والا ہے، اگر وہ حج اور عمرے کو اکٹھا کرتا تھا تو اس پر بھی ایک دم واجب ہوتا تھا، یعنی حجِ قران اور حجِ تمتع کرنے والا، اس پر بھی دم واجب ہوتا تھا، لیکن وہ دم کفارے کا نہیں تھا بلکہ شکر کا دم تھا، بطورِ شکر کے واجب ہوتا تھا کہ اللہ نے اس کو ایک ہی سفر میں دو عبادتوں یعنی حج اور عمرہ دونوں کی توفیق نصیب فرمائی بھئی۔ تو دیکھیے، وہی دم مکہ والے کے حق میں دمِ جبر ہے، دمِ کفارہ ہے، اور آفاقی کے حق میں دمِ شکر ہے بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا بھئی، آپ کہیں گے: چلیں نام بدل دیا، ہے تو دم ہی، نہیں بھئی، حکم بھی بدل جائے گا۔ یہ جو مکہ والا ہے اس کا جو دم ہے وہ دمِ کفارہ ہے، دمِ جبر ہے، لہٰذا وہ اس میں سے خود نہیں کھا سکتا، سارا گوشت فقراء اور مساکین کو دینا پڑے گا۔ اور جبکہ وہ جو آفاقی تھا جس نے حجِ تمتع یا قران کیا ہے، اس نے جو دم دیا وہ دمِ شکر ہے بطورِ شکر کے، وہ کفارہ نہیں، جب دمِ شکر ہے تو خود اس کے لیے بھی اس میں سے کھانا جائز ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو دمِ... یہ جو دم کفارات کے دم ہیں ان میں سے وہ کفارہ دینے والا خود نہیں کھا سکتا، سارا فقراء کو دینا پڑتا ہے، اور جو دمِ شکر وغیرہ ہے وہ اس میں سے خود کھا سکتا ہے، اسی لیے قربانی کے گوشت میں سے آپ کھا سکتے ہیں، اس لیے کیونکہ یہ قربانی کس لیے کر رہے ہیں آپ؟ یہ شکر کے طور پر کہ اللہ نے آپ کو اتنا مال دیا ہے، نصاب کے بقدر مال ہے، مالدار ہیں جبھی تو کیا کر رہے ہیں، تبھی تو آپ پر قربانی واجب ہوئی ہے، تو اس میں سے خود کھا سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وَهٰذَا فِي حَقِّ الْمَكِّيِّ دَمُ جَبْرٍ وَفِي حَقِّ الْآفَاقِيِّ دَمُ شُكْرٍ" اور یہ دم جو ہے یہ مکہ والے کے حق میں دمِ جبر ہے یعنی دمِ کفارہ ہے اور آفاقی کے حق میں یہ دمِ شکر ہے۔ وَمَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَحْرَمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِحَجَّةٍ أُخْرَى "وَمَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ" یاد رکھیے یہ اس سے بالخصوص مکی نہیں مراد بلکہ عام ہے، چاہے مکی ہو، مکہ کا رہنے والا ہو یا آفاقی ہو یعنی میقات سے باہر رہنے والا ہو، سب کے لیے یہی حکم ہے اور مسئلہ اسی طرح ہے جیسے یہ بیان ہو رہا ہے بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ بھئی: کوئی شخص ہے وہ اس نے حج کا احرام باندھا ہے اور حج شروع کر دیا، وقوفِ عرفات کر لیا، اگلا دن یوم النحر آ گیا، یہ حج ادا کر رہا ہے، حج کے احرام میں ہے۔ اس نے اسی یوم النحر والے دن اگلے حج کا بھی احرام باندھ لیا، اگلے حج کا بھی احرام باندھ لیا، تو یاد رکھیے اس نے دو... دو احرام جمع کر دیے، دو حج یا دو عمرے کے احرام جمع کرنا یاد رکھیے یہ بدعت ہے بھئی، اور اس صورت میں اس پر دم واجب ہو گا بھئی، کیا واجب ہو گا؟ دم واجب ہو گا بھئی۔ تو دو حج یا دو عمرے کے احرام جمع کرنا یاد رکھیے یہ بدعت ہے اور اس کی وجہ سے کیا واجب ہوتا ہے؟ دم واجب ہو گا، تو اس پر دم آئے گا بھئی۔ تفصیلِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے حج کا احرام باندھا اور وقوفِ عرفات کر لیا، اور پھر اگلے یوم النحر والے دن اگلے حج کا احرام باندھ لیا، تو اگر یہ پہلے حج کا حلق کروا چکا ہے، پہلے حج کا حلق کروا چکا ہے، تو اس صورت میں یہ دوسرا احرام اس پر لازم ہو جائے گا کیونکہ جب حلق کروا لیا تو پہلے احرام سے کیا ہوا؟ حلال ہو گیا۔ جب پہلے احرام سے حلال ہو گیا اب اس کے بعد اس نے دوسرا احرام شروع کیا ہے تو دو احراموں کا جمع کرنا نہ پایا گیا، جمع کرنا، لہٰذا اس پر کوئی چیز واجب نہیں، ہاں دوسرا حج اس پر لازم ہو گیا اور اب یہ محرم ہے اور اگلے سال تک ہی یہ محرم رہے گا، اگلے سال جا کر کیا کرے گا؟ حج کرے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر اس نے ابھی حلق نہیں کروایا تھا، حلق پہلے حج کے احرام ہی میں تھا، یوم النحر والا دن ہے اور پہلے حج کا احرام چل رہا ہے، اسی کے اندر اس نے دوسرے حج کا احرام شروع کر دیا، تو یاد رکھیے دوسرا حج بھی اس پر لازم ہو جائے گا اور اس پر دم لازم ہو گا امام صاحب کے نزدیک۔ صورت ذہن میں... صورتِ مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟ پہلا احرام ابھی چل رہا ہے اور اس نے کیا کر لیا؟ حلق سے پہلے ہی دوسرے حج کا احرام باندھ لیا۔ تو امام صاحب کے نزدیک اس پر دم واجب ہے، چاہے پہلے احرام کے لیے وہ حلق کروائے یا نہ کروائے، دونوں صورتوں میں اس پر دم آئے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: اگر پہلے احرام کا یہ حلق کروا لے گا تو اس پر دم آئے گا، اگر حلق نہیں کرواتا تو اس پر دم نہیں آئے گا۔ کیا صورت ہوئی؟ یوم النحر والے دن اگر حلق کے بعد دوسرا احرام باندھتا ہے پھر تو دو احرام جمع نہیں ہوئے، پھر تو جائز ہے اس کے لیے۔ لیکن اگر حلق کے... سے پہلے ہی کیا کر لیتا ہے؟ احرام دوسرا باندھ لیتا ہے تو پھر اس نے دو احرام جمع کر دیے، اور دو احراموں کا جمع کرنا بدعت ہے بھئی، بدعت ہے۔ تو اب امام صاحب فرماتے ہیں کہ پہلے احرام کے لیے یہ چاہے قصر کروائے یا قصر نہ کروائے، دونوں صورتوں میں اس پر کیا لازم؟ دم لازم ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر یہ پہلے احرام کے لیے قصر کروا لیتا ہے پھر تو اس پر دم لازم ہو گا، اگر قصر نہیں کرواتا تو اس پر دم لازم نہیں۔ بھئی، سوال پیدا ہوتا ہے امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ پہلے احرام کے لیے قصر کروائے یا قصر نہ کروائے دونوں صورتوں میں اس پر کیا لازم؟ دم لازم، اس کی کیا وجہ ہے؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر یہ حلق نہیں کرواتا پہلے احرام کا، اور اگلے سال دوسرا حج کر کے پھر اکٹھا ہی دونوں کا حلق کروا لیتا ہے، تو پہلے حج کا قصر وہ تو کس دن ضروری تھا؟ یوم النحر والے دن، اس نے کیا کر دیا اس کو؟ مؤخر کر دیا، تو اس کو وق... تو اس پہلے احرام کے قصر کو اپنے وقت سے مؤخر کرنے کی وجہ سے اس پر کیا لازم ہو گا؟ دم لازم ہو گا، جبکہ صاحبین کے نزدیک تو تاخیر کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوتا بھئی۔ اور اگر یہ شخص قصر کروا لیتا ہے، پہلے احرام کے لیے قصر کروا لیتا ہے، تو ٹھیک ہے پہلا احرام تو ختم ہو جائے گا لیکن دوسرا احرام بھی تو شروع ہو چکا تھا اس سے پہلے، تو دوسرے احرام کے اعتبار سے یہ جنایت ہو گئی کیونکہ احرام کے اندر تو حلق ممنوع ہے۔ تو پہلے احرام سے تو وہ کیا ہو جائے گا؟ حلال، لیکن دوسرے احرام کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ جنایت، صورت ہے ذہن میں بھئی؟ پہلا احرام چل رہا تھا اور دوسرا احرام بھی شروع کر دیا، اب کیا کرتا ہے؟ حلق کروا لیتا ہے، تو دوسرے... پہلے احرام تو ٹھیک ہے ختم ہو جائے گا لیکن دوسرا احرام تو شروع کر چکا ہے لہٰذا اس پر یہ جنایت ہوئی اور لہٰذا اس صورت میں بالاتفاق اس پر کیا آئے گی؟ دم، امام صاحب کے نزدیک بھی اور صاحبین کے نزدیک بھی۔ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ثُمَّ أَحْرَمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِحَجَّةٍ أُخْرَى" اور جس شخص نے حج کا احرام باندھا پھر احرام باندھا یوم النحر والے دن دوسرے حج کا، "فَإِنْ حَلَقَ فِي الْأُولَى" اگر وہ حلق کروا چکا ہے پہلے حج کا، "لَزِمَتْهُ الْأُخْرَى" تو دوسرا حج کیا ہو گا اس پر؟ لازم ہو جائے گا، "وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ" اور اس پر کوئی چیز نہیں کیونکہ اس نے دو احرام جمع نہیں کیے۔ "وَإِنْ لَمْ يَحْلِقْ فِي الْأُولَى لَزِمَتْهُ الْأُخْرَى" اور اگر اس نے حلق نہیں کروایا تھا پہلے حج میں تو اس پر دوسرا حج لازم ہو جائے گا، "وَعَلَيْهِ دَمٌ" اور اس پر دم واجب ہے، "قَصَّرَ أَوْ لَمْ يُقَصِّرْ" چاہے وہ قصر کروا... چاہے وہ قصر کروائے یا قصر نہ کروائے، "عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" امام صاحب کے نزدیک۔ "وَقَالَا: إِنْ لَمْ يُقَصِّرْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ" اور صاحبین فرماتے ہیں اگر اس نے قصر نہیں کروایا تو اس پر کوئی چیز نہیں۔ "لِأَنَّ الْجَمْعَ..." یہاں خیال رکھنا بھئی خصوصاً، یہ بظاہر شبہ لگتا ہے شاید یہ صاحبین کی دلیل ہے، نہیں، یہ صاحبین کی دلیل نہیں، یہ اکٹھی دلیل ذکر ہو رہی ہے اس سارے مسئلے کی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ قصر کروائے یا نہ کروائے دونوں صورتوں میں دم، اور صاحبین فرماتے ہیں قصر کروائے تب تو دم ہے نہ کروائے تو کوئی دم نہیں ہے۔ تو دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ إِحْرَامَيِ الْحَجِّ أَوْ إِحْرَامَيِ الْعُمْرَةِ بِدْعَةٌ" اس لیے کیونکہ حج کے دو احراموں کو جمع کرنا یا عمرے کے دو احراموں کو جمع کرنا بدعت ہے، یہ کیا ہے؟ بدعت ہے، اور اس صورت میں کیا واجب ہوتا ہے؟ دم واجب ہوتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ "فَإِذَا حَلَقَ" اب صورتیں ذکر کر رہے ہیں: حلق کروائے گا یا نہیں کروائے گا۔ تو کہتے ہیں: "فَإِذَا حَلَقَ" تو جب یہ حلق کروا لے گا، "فَهُوَ وَإِنْ كَانَ نُسُكًا فِي الْإِحْرَامِ الْأَوَّلِ" اگرچہ یہ حلق جو ہے پہلے احرام میں یہ عبادت ہے، پہلے احرام کے اعتبار سے یہ عبادت ہے کیونکہ یوم النحر والے دن کر رہا ہے، "فَهُوَ جِنَايَةٌ عَلَى الثَّانِي" لیکن یہی حلق جو ہے یہ جنایت ہے کس پر؟ دوسرے احرام پر، "لِأَنَّهُ فِي غَيْرِ أَوَانِهِ" اس لیے کیونکہ یہ حلق اپنے وقت کے علاوہ میں ہے۔ اس کا وقت تو کب تھا؟ دوسرا حج کرے گا پھر اس کا وقت آنا تھا، ابھی تو احرام شروع ہوا تھا دوسرا، تو دوسرے کے اعتبار سے یہ جنایت، "فَلَزِمَهُ الدَّمُ بِالْإِجْمَاعِ" تو اس پر دم لازم ہو گا بالاجماع بھئی۔ "وَإِنْ لَمْ يَحْلِقْ حَتَّى حَجَّ فِي الْعَامِ الْقَابِلِ" اور اگر یہ حلق نہیں کرواتا یہاں تک کہ یہ حج کر لیتا ہے آنے والے سال میں، آنے والے سال میں، فی العام القابل یاد رکھنا یہ میم مشدد نہیں ہے بھئی، فی العام القابل، یہاں تک کہ وہ حج کر لیتا ہے آنے والے سال میں، "فَقَدْ أَخَّرَ الْحَلْقَ عَنْ وَقْتِهِ فِي الْإِحْرَامِ الْأَوَّلِ" تو تحقیق اس نے حلق کو مؤخر کر دیا اپنے وقت سے پہلے احرام میں، "وَذٰلِكَ يُوجِبُ الدَّمَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور یہ دم واجب کرتا ہے امام صاحب کے نزدیک۔ "وَعِنْدَهُمَا لَا يَلْزَمُهُ شَيْءٌ عَلَى مَا ذَكَرْنَا" اور صاحبین کے نزدیک اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہے بوجہ اس کے جو ہم نے ذکر کر دی، کہ صاحبین کے نزدیک تاخیر سے دم واجب نہیں ہوتا۔ "فَلِهٰذَا" اور اسی وجہ سے، کہ تاخیر سے دم واجب نہیں ہوتا، اسی وجہ سے "سَوَّى بَيْنَ التَّقْصِيرِ وَعَدَمِهِ عِنْدَهُ" برابری کی ماتن نے تقصیر اور عدمِ تقصیر میں عندہ امام صاحب کے نزدیک۔ امام صاحب کے نزدیک قصر کروائے یا نہ کروائے دونوں صورتوں میں دم ہے، تو یہ دونوں صورتیں برابر ہیں امام صاحب کے نزدیک۔ "وَشَرَطَ التَّقْصِيرَ عِنْدَهُمَا" اور شرط لگائی قصر کی صاحبین کے نزدیک۔ بات سمجھ... متن میں اسی لیے امام صاحب کے نزدیک قصر اور عدمِ قصر کو برابر کہا کہ ہر صورت میں دم آئے گا، اور صاحبین کے نزدیک صرف کس صورت میں؟ قصر کی صورت میں دم آئے گا، اس لیے اس کی شرط لگائی۔ وَمَنْ فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ إِلَّا التَّقْصِيرَ فَأَحْرَمَ بِأُخْرَى فَعَلَيْهِ دَمٌ اب بھئی عمرے کے دو احرام جمع کرتا ہے ایک شخص۔ ایک شخص نے عمرہ کیا، عمرے کے میں طواف بھی کر لیا اور سعی بھی کر لی، لیکن حلق ابھی باقی تھا، حلق سے پہلے ہی اس نے دوسرے احرام کا ارادہ کیا اور دوسرے عمرے کا بھی احرام باندھ لیا۔ تو یاد رکھیے اس پر دم واجب ہے کیونکہ اس نے دو عمرے کے احرام جمع کر دیے، اور دو عمرے یا دو حج کے احرام جمع کرنا بدعت ہے اور اس پر کیا واجب ہوتا ہے؟ دم لازم ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ إِلَّا التَّقْصِيرَ" اور جو شخص فارغ ہو گیا اپنے عمرے سے سوائے بال چھوٹے کروانے کے، "فَأَحْرَمَ بِأُخْرَى" تو اس نے احرام باندھ لیا دوسرے عمرے کا، "فَعَلَيْهِ دَمٌ" اس... تو اس پر دم واجب ہے، "لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ الْوَقْتِ" کس وجہ سے؟ کہ اس نے اس کا احرام جو ہے وقت سے پہلے ہے۔ "لِأَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ إِحْرَامَيِ الْعُمْرَةِ" اس لیے کیونکہ اس نے جمع کر دیا عمرے کے دو احراموں کو، "وَهٰذَا مَكْرُوهٌ" اور یہ مکروہ ہے، "فَيَلْزَمُهُ الدَّمُ" تو اس پر دم لازم ہے، "وَهُوَ دَمُ جَبْرٍ وَكَفَّارَةٍ" اور یہ جبر اور کفارے کا دم ہے، یعنی تلافی اور کفارے کا دم ہے لہٰذا خود نہیں کھا سکتا، فقیروں کو کھلائے گا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔