”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَأْكُلَ الْمُحْرِمُ لَحْمَ صَيْدٍ اصْطَادَهُ حَلَالٌ وَذَبَحَهُ إِذَا لَمْ يَدُلَّ الْمُحْرِمُ عَلَيْهِ وَلَا أَمَرَهُ بِصَيْدِهِ، خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيمَا إِذَا اصْطَادَهُ لِأَجْلِ الْمُحْرِمِ، لَهُ: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا بَأْسَ بِأَكْلِ الْمُحْرِمِ لَحْمَ صَيْدٍ مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَادْ لَهُ“ گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ آیا تھا کہ محرم اگر شکار کو ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ مردار ہے، اس کا کھانا جائز نہیں۔ اب صورت یہ کہ شکار کسی حلال نے یعنی غیر محرم نے کیا اور اسی نے شکار کو ذبح کیا ہے، تو کیا اس کا ذبیحہ اس حلال کا یعنی غیر محرم کا ذبیحہ شکار کیا یہ محرم کھا سکتا ہے یا نہیں؟ تو یاد رکھیے اس صورت میں محرم کے لیے یہ کھانا جائز ہے۔ جب یہ شکار کس نے کیا ہو؟ غیر محرم نے، اور اسی نے ذبح کیا ہے تو محرم کے لیے اس کا گوشت کھانا جائز ہے، جبکہ اس نے دلالت نہ کی ہو، اس شکار پر اس نے محرم نے رہنمائی نہ کی ہو، اس نے حلال کو نہ بتایا ہو کہ یہاں شکار ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولا بأس بأن يأكل المحرم لحم صيد“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ محرم کھائے شکار کے گوشت کو، ایسا شکار ”اصطاده حلال“ کہ جس کو کسی غیر محرم نے شکار کیا ہو ”وذبحه“ اور ذبح کیا ہو، ”إذا لم يدل المحرم عليه“ جبکہ محرم نے اس پر رہنمائی نہ کی ہو ”ولا أمره بصيده“ اور نہ اس کو اس کے شکار کا حکم دیا ہو۔ ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِيمَا إِذَا اصْطَادَهُ لِأَجْلِ الْمُحْرِمِ“ بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے اس صورت میں جبکہ اس غیر محرم نے وہ شکار کیا ہو ”لأجل المحرم“ محرم کے لیے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس غیر محرم نے یہ شکار اس محرم کے لیے کیا تھا تو پھر اس محرم کے لیے کھانا جائز نہیں، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ ”لَهُ: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا بَأْسَ بِأَكْلِ الْمُحْرِمِ لَحْمَ صَيْدٍ مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَادْ لَهُ“ ان کی دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لا بأس بأكل المحرم لحم صيد“ کوئی حرج نہیں ہے محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانے میں ”ما لم يصده“ جب تک کہ اس نے اس کو شکار نہ کیا ہو، جب اس نے شکار نہیں کیا تب بھی کوئی حرج نہیں کھانے میں، ”أو يصاد له“ یا اس کے لیے جب تک شکار نہ کیا گیا ہو۔ معلوم ہوا محرم شکار کرے تب بھی اس کے لیے کھانا جائز نہیں، یا اس کے لیے کیا کیا جائے؟ شکار کیا جائے تو بھی محرم کے لیے کھانا جائز نہیں۔ ”وَلَنَا: مَا رُوِيَ أَنَّ الصَّحَابَةَ تَذَاكَرُوا لَحْمَ الصَّيْدِ فِي حَقِّ الْمُحْرِمِ فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا بَأْسَ بِهِ“ اور ہماری دلیل وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ صحابہ نے باہم تذکرہ کیا شکار کے گوشت کے بارے میں ”في حق المحرم“ محرم کے حق میں۔ صحابہ میں آپس میں بات چیت ہوئی، بحث ہوئی کہ محرم جو ہے وہ شکار کا گوشت کھا سکتا ہے یا نہیں کھا سکتا، تو حضور علیہ السلام نے اس موقع پر فرمایا کہ ”لا بأس به“ اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے یعنی محرم کھا سکتا ہے۔ ”وَاللَّامُ فِيمَا رَوَى لَامُ تَمْلِيكٍ“ اور امام مالک رحمہ اللہ کی جو روایت تھی اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ”أو يصاد له“ یا اس محرم کے لیے کیا کیا گیا ہو؟ شکار کیا گیا ہو، تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں معلوم ہوا محرم کے لیے شکار کیا جائے گا تو وہ اس کے لیے کھانا جائز نہیں۔ ہم کہتے ہیں اس میں جو لام آیا یہ لامِ تملیک ہے: ”أو يصاد له“ یا شکار کیا جائے محرم کو مالک بنانے کے لیے۔ کس لیے؟ مالک بنانے کے لیے، تو اس صورت میں پھر محرم کے لیے کھانا جائز نہیں۔ اور شکار کیا جائے محرم کو مالک بنانے کے لیے، کیا معنی؟ یعنی شکار کرے اور شکار کو زندہ ہی محرم کے حوالے کر دے، تو یہ شکار کس لیے ہوا؟ محرم کو مالک بنانے کے لیے، تو اس صورت میں محرم کے لیے کھانا جائز نہیں ہوگا۔ اور یہاں پر تو وہ محرم کو شکار کا مالک نہیں بنا رہا بلکہ اس کو کیا دے رہا ہے؟ گوشت دے رہا ہے بھئی۔ تو شکار کا مالک بنائے گا تب اس کے لیے کھانا جائز نہیں، اور گوشت دے رہا ہے تو وہ اس کے بارے میں تو حدیث خاموش ہے، اس کے بارے میں تو حدیث میں ذکر نہیں ہے، جواب سمجھ میں آیا؟ ”واللام فيما روى لام تمليك“ اور لام اس روایت میں جس کو امام مالک رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ لامِ تملیک ہے، ”فَيُحْمَلُ عَلَى أَنْ يُهْدِيَ إِلَيْهِ الصَّيْدَ دُونَ اللَّحْمِ“ تو اس کو محمول کیا جائے گا اس صورت پر کہ محرم کو ہدیہ کیا جائے وہ شکار ہی ”دون اللحم“ نہ کہ گوشت، اور یہاں تو گوشت ہدیہ کیا جا رہا ہے۔ ”أَوْ مَعْنَاهُ: أَنْ يُصَادَ بِأَمْرِهِ“ یا اس حدیث کا معنی یہ ہے، ”أو يصاد له“ کا معنی یہ ہے کہ ”أن يصاد بأمره“ کہ شکار کیا جائے اس محرم کے حکم پر، اس کے کہنے پر، تو پھر اس صورت میں اس کے لیے کھانا جائز نہیں۔ ”ثُمَّ شَرَطَ عَدَمَ الدَّلَالَةِ، وَهَذَا تَنْصِيصٌ عَلَى أَنَّ الدَّلَالَةَ مُحَرِّمَةٌ“ بھئی متن میں آیا تھا: ”إذا لم يدل المحرم عليه“ جبکہ محرم نے اس پر دلالت نہ کی ہو، متن میں صاحبِ قدوری نے ذکر کیا۔ اس سے کیا معلوم ہو گیا کہ اگر محرم دلالت کرے گا، رہنمائی کرے گا تو اس دلالت کی وجہ سے وہ شکار اس پر کیا ہو جائے گا؟ حرام ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”ثم شرط عدم الدلالة“ پھر صاحبِ قدوری نے دلالت نہ ہونے کی شرط لگائی ہے متن میں، ”وهذا تنصيص“ اور یہ تصریح ہے ”على أن الدلالة محرمة“ کہ رہنمائی کرنا بھی حرام کرنے والی ہے، اس کی وجہ سے بھی وہ حرام ہو جائے گا شکار اس پر۔ ”قَالُوا: فِيهِ رِوَايَتَانِ“ فقہاء فرماتے ہیں اس بارے میں دو روایتیں ہیں کہ دلالت کرنے کی وجہ سے حرام ہوگا یا نہیں شکار بھئی؟ شکار کیا تو کس نے ہے؟ غیر محرم نے، لیکن رہنمائی کس نے کی تھی؟ محرم نے اس کو بتایا تھا فلاں جگہ شکار ہے، تو اس بارے میں دو روایتیں ہیں، دو روایتیں ہیں۔ کیا روایتیں ہیں؟ معلوم ہوا خود ہی پتہ چل گیا، ایک روایت میں کیا آیا ہے کہ دلالت کے باوجود اس کے لیے کھانا حلال، اور دوسری روایت جو متن میں آئی اس سے معلوم ہوا کہ دلالت سے حرام ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ الْحُرْمَةِ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ“ اور حرام ہونے کی وجہ جو ہے وہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے اور تحقیق ہم نے اس کو ذکر کر دیا۔ وہ احرام کے شروع میں آیا تھا کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ غیر محرم تھے اور ان کے ساتھی محرم تھے، اور انہوں نے شکار کیا تو حضور علیہ السلام نے ان کے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم نے اشارہ کیا تھا؟ کیا تم نے رہنمائی کی تھی؟ کیا تم نے مدد کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: پھر تم اس میں سے کھاؤ۔ معلوم ہوا رہنمائی وغیرہ کی صورت میں بھی نہیں کھا سکتا بھئی۔ ”وَفِي صَيْدِ الْحَرَمِ إِذَا ذَبَحَهُ الْحَلَالُ تَجِبُ قِيمَتُهُ يَتَصَدَّقُ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ“ اور حرم کے شکار میں ”إذا ذبحه الحلال“ جب اس کو حلال ذبح کر دے ”تجب قيمته“ تو اس کی قیمت واجب ہوگی ”يتصدق بها على الفقراء“ جس کو وہ صدقہ کرے فقراء پر۔ بھئی محرم کی بات نہیں چل رہی اب، محرم کے لیے تو شکار مطلقاً ممنوع ہے چاہے حرم میں ہو چاہے حرم سے باہر ہو۔ البتہ حرم کے اندر ہر ایک کے لیے شکار ممنوع ہے چاہے وہ محرم ہو چاہے غیر محرم۔ اب ایک غیر محرم نے کیا کیا؟ حرم کے شکار کو ذبح کر دیا، تو اس پر اس کی جزا واجب ہوگی، قیمت واجب ہوگی اور اس قیمت کو وہ کیا کرے؟ فقراء پر صدقہ کرے۔ تو کہتے ہیں: ”وفي صيد الحرم إذا ذبحه الحلال تجب قيمته يتصدق بها على الفقراء“ اور حرم کے شکار میں جب اس کو کوئی غیر محرم ذبح کرے، اس کی قیمت واجب ہوتی ہے، اس کو صدقہ کرے وہ فقراء پر، ”لِأَنَّ الصَّيْدَ اسْتَحَقَّ الْأَمْنَ بِسَبَبِ الْحَرَمِ“ اس لیے کیونکہ شکار جو ہے وہ امن کا مستحق ہو گیا حرم کی وجہ سے۔ حرم کا ہے، جب حرم میں ہے تو حرم کی وجہ سے وہ امن کا مستحق ہو گیا۔ ”قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي حَدِيثٍ فِيهِ طُولٌ: وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا“ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”في حديث“ حدیث نکرہ آیا، ”فيه طول“ یہ ”فيه“ خبرِ مقدم ہے ”طول“ مبتدا مؤخر ہے، یہ جملہ اسمیہ آ گیا، اور نکرہ کے بعد جملہ اسمیہ آئے تو جملہ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں، تو نکرہ کے بعد نکرہ آیا تو یہ موصوف صفت بنیں گے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا ”في حديث فيه طول“ ایسی حدیث میں جس میں طول ہے، جس میں لمبائی ہے یعنی لمبی حدیث ہے، اس کے اندر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ولا ينفر صيدها“ اور بدکایا نہ جائے یعنی بھگایا نہ جائے ”صيدها“ اس کے حرم کے شکار کو یعنی مکہ کے شکار کو بھگایا نہ جائے یعنی حرم کے شکار کو بھگایا نہ جائے۔ تو جب شکار کو بھگانے سے بھی منع کیا گیا تو معلوم ہوا اس کو ذبح کرنے سے بطریقِ اولیٰ منع کیا گیا ہے۔ ”وَلَا يُجْزِيهِ الصَّوْمُ“ اور اس کے لیے روزہ کافی نہیں ہے۔ بھئی آپ پڑھ چکے کہ اگر محرم کیا کرتا ہے؟ شکار، تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ وہ ہدی بھی، جانور قربانی کا جانور بھی ذبح کروا سکتا ہے اگر اس کی قیمت ہدی کو پہنچتی ہے، اور چاہے تو اس کے قیمت کے برابر غلہ خرید کر ہر مسکین کو کیا کرے؟ نصف صاع گندم دے دے، اور چاہے تو کیا کر لے؟ ہر نصف صاع گندم کے بدلے روزہ رکھ لے۔ یہاں آپ کو بتلا رہے ہیں، یہ جو حلال شخص نے حرم کا شکار کیا، اس کی قیمت تو وہ صدقہ کر سکتا ہے لیکن یہاں وہ روزے نہیں رکھ سکتا، روزے نہیں رکھ سکتا۔ یہ معنی ہے: ”ولا يجزيه الصوم“ اور اس کے لیے روزے کافی نہیں ہیں، اس کے لیے روزے کافی نہیں ہیں، ”لِأَنَّهَا غَرَامَةٌ وَلَيْسَتْ بِكَفَّارَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ تاوان ہے، یہ ضمان ہے، ”وليست بكفارة“ یہ کفارہ نہیں ہے۔ وہ روزے جو آتے تھے وہ تو کس وجہ سے آتے تھے؟ وہ کفارہ ہوتا تھا، لیکن یہ کفارہ نہیں ہے بلکہ ضمان ہے۔ ”فَأَشْبَهَ ضَمَانَ الْأَمْوَالِ“ تو یہ اموال کے ضمان کے مشابہ ہو گیا۔ جیسے کوئی شخص کسی کی دوسرے کسی دوسرے کی کوئی چیز ضائع کر دے، ہلاک کر دے تو اس پر اس چیز کی قیمت آتی ہے، تو یہاں پر بھی اس حلال شخص نے حرم کے شکار کو ذبح کیا ہے تو اس پر اس کی قیمت آئے گی، روزے نہیں آئیں گے۔ بھئی کوئی شخص کسی دوسرے کی چیز ضائع کر دے تو کوئی کبھی کسی نے اس کو کہا کہ یوں کرو پانچ یا دس روزے رکھ لو بھئی؟ سمجھ میں آیا؟ کسی دوسرے کی چیز جب تلف کی جائے گی تو اس میں روزے وغیرہ نہیں آتے بلکہ کیا آتا ہے؟ ضمان آتا ہے، قیمت دینا پڑتی ہے، تو یہاں بھی یہ اسی طرح ہے۔ یہ معنی ہے: ”فأشبه ضمان الأموال“ تو یہ اموال کے ضمان کے مشابہ ہو گیا۔ ”وَهَذَا لِأَنَّهُ يَجِبُ بِتَفْوِيتِ وَصْفٍ فِي الْمَحَلِّ“ اور یہ اس وجہ سے، بھئی یہ ضمان کیوں ہے؟ یہ کفارہ کیوں نہیں ہے؟ کہتے ہیں: ”وهذا“ یہ اس وجہ سے ”لأنه يجب بتفويت وصف في المحل“، یہ جگہ اچھی طرح سمجھ لینا بھئی ذرا مشکل جگہ ہے۔ ”وهذا“ اس وجہ سے ”لأنه يجب“ اس لیے کیونکہ یہ جو ضمان واجب ہوا ہے، یہ کیوں واجب ہوا؟ ”بتفويت وصف“ یہ وصف کو فوت کر دینے کی وجہ سے ”في المحل“، کس میں؟ محل میں۔ محل میں سے اس نے وصف کو فوت کر دیا اس لیے یہ جزا واجب ہوئی۔ یاد رکھیے محل سے مراد ہے شکار، محل سے کیا مراد ہے؟ شکار، اور وصف سے مراد ہے امن۔ جب حرم کا شکار ہے تو اس کا وصف کیا ہے؟ امن، یہ مستحقِ امن ہے، اس کو شکار نہ کیا جائے۔ تو اس شخص پر جو ضمان آیا وہ اس وجہ سے کہ اس نے محل یعنی شکار میں سے اس وصفِ امن کو کیا کر دیا؟ فوت کر دیا۔ تو کہتے ہیں: ”لأنه يجب بتفويت وصف في المحل وهو الأمن“ اس لیے کیونکہ یہ ضمان واجب ہوتا ہے محل میں سے وصف کو فوت کر دینے کی وجہ سے اور وہ کیا ہے وصف؟ ”وهو الأمن“ وہ امن ہے۔ ”وَالْوَاجِبُ عَلَى الْمُحْرِمِ بِطَرِيقِ الْكَفَّارَةِ جَزَاءٌ عَلَى فِعْلِهِ“ اور وہ جو محرم پر واجب ہوتا ہے وہ بطریقِ کفارہ، وہ کفارے کے طریقے پر واجب ہوتا ہے، ”جزاء على فعله“ وہ اس کے فعل کی جزا ہے۔ ”والواجب على المحرم بطريق الكفارة جزاء على فعله“ اور وہ جو محرم پر واجب ہوتا ہے کفارے کے طریقے سے، وہ جزا ہے اس کے فعل کی۔ ”لِأَنَّ الْحُرْمَةَ بِاعْتِبَارِ مَعْنًى فِيهِ وَهُوَ إِحْرَامُهُ“ اس لیے کیونکہ اس کی جو حرمت ہے، باعتبار معنی، معنی یہاں سبب کے معنی میں ہے، ”باعتبار معنى فيه“ ای باعتبار سبب فيه، اس لیے کیونکہ اس کی جو حرمت ہے وہ ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے ”فيه“ جو کس کے اندر ہے؟ اسی محرم میں ہے، اسی محرم میں ہے، ”وهو إحرامه“ اور وہ اس کا احرام ہے۔ بھئی یہ مشکل مقام ہے، توجہ سے سمجھ لیں۔ یہ جو حلال نے کیا کیا تھا؟ حرم کا شکار کیا تھا، اس پر جو ضمان آیا یہ محل کا ضمان ہے، کس کا؟ اور محل سے کیا مراد ہے؟ شکار۔ اور تو یہ محل کا ضمان ہے، یہ کفارہ نہیں ہے، کیونکہ اس نے اس محل سے وصفِ امن کو فوت کر دیا، وہ تو مامون تھا مستحقِ امن تھا حرم کی وجہ سے لیکن اس نے کیا کیا؟ اس کے امن کو فوت کر دیا۔ تو یہ جزا ہے کس چیز کی؟ یہ ضمان ہے کس چیز کا؟ محل کا ضمان ہے۔ جبکہ محرم جب شکار کرتا ہے تو یہ اس کے فعل کی جزا ہوتی ہے، اس نے ایک ممنوعہ کام کا ارتکاب کیا۔ اس کے لیے تو شکار کھیلنا ممنوع تھا، اس نے اس ممنوع کام کا ارتکاب کیا، اور یہ کام اس کے لیے ممنوع کیوں تھا؟ ایک ایسی چیز کی وجہ سے، ایک ایسے سبب کی وجہ سے جو اس محرم کی ذات میں تھا اور وہ سبب کیا تھا؟ احرام، یہ کس حالت میں تھا؟ حالتِ احرام میں، اور حالتِ احرام میں جہاں اور پابندیاں لگتی ہیں وہاں ایک پابندی کیا اتی ہے؟ شکار نہیں کر سکتا۔ تو لہٰذا اس محرم پر جو شکار کی حرمت تھی وہ اس کے احرام کی وجہ سے تھی، تو لہٰذا اس پر جو ضمان آیا وہ اس کے فعل کی جزا ہے کہ اس نے ایک ممنوعہ کام کیا ہے۔ جبکہ حلال نے جو شکار کیا، اس پر جو جزا اتی ہے وہ اس کے وہ اس پر شکار کوئی ممنوع نہیں تھا، لیکن اس پر جو جزا ائی وہ کس وجہ سے ائی؟ اس محل کی جزا ہے۔ تو محرم پر جو جزا ائی وہ اس کے فعل کی جزا ہے، اور وہ حلال پر جو حرم کا شکار جس نے کیا ہے اس پر جو جزا ائی وہ محل کی جزا ہے۔ اور روزہ روزہ فعل کی جزا تو بن سکتا ہے، محل کی جزا نہیں بن سکتا۔ جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی، کوئی شخص کسی دوسرے کی گاڑی تباہ کر دے، کوئی اس کو کہے گا یوں کرو بھئی دو مہینے کے روزے رکھ لو؟ کوئی بھی اس کو تسلیم نہیں کرے گا، مالک کہے گا بھئی دو مہینے کے روزے تو میں نہیں جانتا، مجھے میری گاڑی کی قیمت چاہیے بھئی، سمجھ میں ائی بات؟ کیوں؟ کیونکہ وہ محل کا ضمان ہے، وہ محل کا ضمان ہے، وہ اس شخص کی ملکیت تھی اور اس کی حرمت تھی اور اس نے کیا کیا؟ اس کو تباہ کر دیا، تو اس کو اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ تو لہٰذا حرم میں جو شکار کیا گیا حلال شخص نے، اس پر جو ضمان ایا وہ کس چیز کا ضمان ہے؟ اس محل کا ضمان ہے۔ جبکہ محرم نے جو شکار کیا وہ اس کے فعل کی جزا ہے، اور روزہ فعل کی جزا بن سکتا ہے، جیسے کوئی شخص روزہ رکھتا ہے رمضان میں اور وہ روزے کو توڑ دیتا ہے جان بوجھ کر، تو کیا ائے گا؟ ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے یا نہیں؟ تو یہ ساٹھ روزے جزا ہیں، کس چیز کی؟ اس نے جو فعل کیا، ممنوعہ فعل کیا، روزہ توڑ دیا جان بوجھ کر، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا اسی طرح قسم کے اندر کیا آ جاتے ہیں؟ روزے آ جاتے ہیں، کیوں آتے ہیں؟ کیونکہ اس نے قسم توڑ دی ہے۔ تو دیکھو روزہ معلوم ہوا فعل کی جزا بن سکتا ہے لیکن محل کی جزا نہیں بن سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب دوبارہ ترجمہ دیکھیے: ”وهذا“ اور یہ جو ہے یہ ضمان اس لیے ہے، ”لأنه يجب بتفويت وصف في المحل“ اس لیے کیونکہ یہ واجب ہوا ہے محل یعنی شکار میں سے وصف یعنی امن کو فوت کر دینے کی وجہ سے، ”وهو الأمن“ اور وہ وصف امن ہے۔ ”والواجب على المحرم بطريق الكفارة جزاء على فعله“ اور وہ جو محرم پر واجب ہوا ہے کفارے کے طریقے پر، وہ اس کے فعل کی جزا ہے، ”لأن الحرمة باعتبار معنى فيه“ اس لیے کیونکہ اس کی حرمت جو ہے وہ ایک ایسے سبب کی وجہ سے ہے جو محرم کے اندر پایا جا رہا ہے، ”وهو إحرامه“ اور وہ اس کا احرام ہے۔ ”وَالصَّوْمُ يَصْلُحُ جَزَاءَ الْأَفْعَالِ لَا ضَمَانَ الْمَحَالِّ“ اور روزہ جو ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ افعال کی جزا بنے، نہ کہ محل کے نہ کہ محل کا ضمان۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُجْزِيهِ الصَّوْمُ اعْتِبَارًا بِمَا وَجَبَ عَلَى الْمُحْرِمِ، وَالْفَرْقُ قَدْ ذَكَرْنَاهُ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يجزيه الصوم“ اس کے لیے روزہ بھی کافی ہے، یہ حلال جس نے حرم کا شکار ذبح کیا اس کے لیے روزہ بھی کافی ہے، ”اعتباراً بما وجب على المحرم“ قیاس کرتے ہوئے اس پر جو محرم پر واجب ہوا۔ محرم کے لیے جیسے قیمت واجب ہوئی تھی لیکن وہ کیا کر سکتا تھا؟ روزے رکھ سکتا تھا، تو وہ فرماتے ہیں یہ حلال بھی روزے رکھ سکتا ہے۔ ”والفرق قد ذكرناه“ اور فرق ہم نے تحقیق ذکر کر دیا کہ دونوں میں فرق ہے۔ تو محرم کے لیے تو روزے کافی ہو جائیں گے لیکن اس حلال کے لیے روزے کافی نہیں ہوں گے۔ ”وَهَلْ يُجْزِيهِ الْهَدْيُ؟ فَفِيهِ رِوَايَتَانِ“ اور کیا اس کے لیے ہدی کافی ہو جائے گی؟ تو اس بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت یہ کہ ہدی کافی ہو گی، اور ایک روایت یہ کہ ہدی کافی نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ محرم کے لیے تو تین چیزیں تھیں نا: یا کیا کرے؟ یا ہدی کرے، قربانی کروا دے حرم میں، یا قیمت صدقہ کرے، یا روزے رکھے۔ تو قیمت تو صدقہ کر سکتا ہے قیمت تو صدقہ کرے گا وہ حلال، البتہ روزے نہیں رکھ سکتا، اور ہدی کر سکتا ہے یا نہیں؟ قربانی کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس بارے میں دو روایتیں ہیں بھئی۔ ”وَمَنْ دَخَلَ الْحَرَمَ بِصَيْدٍ فَعَلَيْهِ أَنْ يُرْسِلَهُ فِيهِ إِذَا كَانَ فِي يَدِهِ“ اب صورت یہ کہ ایک حلال شخص جو ہے وہ شکار اس نے پکڑا ہوا ہے اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کو لے کر وہ حرم میں داخل ہوا، حرم میں داخل ہوا، تو یاد رکھیے اس شخص پر واجب ہے کہ اس شکار کو وہ چھوڑ دے، آزاد کر دے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”ومن دخل الحرم بصيد“ اور جو داخل ہوا حرم میں، مراد اس سے حلال ہے بھئی حلال شخص، کوئی غیر محرم جب وہ حرم میں داخل ہوا ”بصيد“ شکار کے ساتھ، ”فعليه أن يرسله“ تو اس پر واجب ہے کہ اس کو آزاد کر دے اس کو چھوڑ دے ”فيه“ اس حرم میں ”إذا كان في يده“ جبکہ وہ شکار اس کے ہاتھ میں ہو۔ ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فَإِنَّهُ يَقُولُ: حَقُّ الشَّرْعِ لَا يَظْهَرُ فِي مَمْلُوكِ الْعَبْدِ لِحَاجَةِ الْعَبْدِ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، کیونکہ وہ فرماتے ہیں: حقِ شرع جو ہے وہ ظاہر نہیں ہوتا بندے کی مملوکہ چیز میں بندے کے محتاج ہونے کی وجہ سے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ آزاد کرنا حقِ شرع ہے، اور یہ شکار جس کو حلال کے جو حلال کے ہاتھ میں ہے یعنی غیر محرم کے ہاتھ میں ہے، یہ شکار اس نے حرم سے باہر پکڑا ہے، اور جب حرم سے باہر پکڑا ہے تو حرم سے باہر تو شکار اس کے لیے جائز تھا تو یہ اس کا مالک بن گیا، کیا بن گیا؟ مالک۔ تو یہ جو شکار ہے یہ اس غیر محرم کا مملوک ہے، اور بندے کی مملوکہ چیزوں کے اندر حقِ شرع ظاہر نہیں ہوتا، اس لیے کیونکہ بندہ محتاج ہے بھئی، بندہ کیا ہے؟ محتاج ہے، لہٰذا یہاں حقِ شرع ظاہر نہیں ہوگا، لہٰذا اس پر اس شکار کو آزاد کرنا اور چھوڑنا واجب نہیں ہے۔ تو ”فإنه يقول“ کیونکہ وہ فرماتے ہیں: ”حق الشرع لا يظهر في مملوك العبد“ کہ شریعت کا جو حق ہے وہ بندے کی مملوکہ چیز میں ظاہر نہیں ہوتا ”لحاجة العبد“ بندے کے محتاج ہونے کی وجہ سے۔ ”وَلَنَا: أَنَّهُ لَمَّا حَصَلَ فِي الْحَرَمِ وَجَبَ تَرْكُ التَّعَرُّضِ لِحُرْمَةِ الْحَرَمِ، أَوْ صَارَ هُوَ مِنْ صَيْدِ الْحَرَمِ فَاسْتَحَقَّ الْأَمْنَ لِمَا رَوَيْنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ اس پر شکار کو آزاد کرنا اور چھوڑنا واجب ہے۔ ”ولنا“ ہماری دلیل یہ ہے: ”أنه لما حصل في الحرم“ کہ جب شکار حرم میں حاصل ہو گیا یعنی جب حرم میں آ گیا، ”وجب ترك التعرض“ تو اس کے تعرض کو چھوڑنا واجب ہو گیا، اس شکار کے پیچھے پڑنے کو چھوڑ دینا، ترک کرنا اس شخص پر کیا ہو گیا؟ واجب ہو گیا ”لحرمة الحرم“ حرم کے احترام کی وجہ سے، حرم کے احترام کی وجہ سے۔ ”أو صار هو من صيد الحرم“ یا یوں کہیں کہ وہ شکار جو ہے وہ حرم کے شکار میں سے ہو گیا، ”فاستحق الأمن“ تو وہ امن کا مستحق ہو گیا ”لما روينا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ حرم کے شکار کو نہ بھگایا جائے۔ جب بھگانا منع ہے تو پکڑنا بطریقِ اولیٰ منع ہے۔ ”فَإِنْ بَاعَهُ رَدَّ الْبَيْعَ فِيهِ إِنْ كَانَ قَائِمًا“ اگر اس حلال شخص نے کیا کیا پھر؟ اس کو بیچ دیا حرم میں داخل ہو گیا، اس پر تو واجب تھا اس کو آزاد کرنا لیکن اس نے اس کو بیچ دیا، تو کہتے ہیں اس پر اس بیع کو رد کرنا واجب ہے کہ اس بیع کو کیا کرے؟ ختم کرے۔ ”فإن باعه“ اگر اس نے اس شکار کو بیچ دیا ”رد البيع فيه“ تو وہ بیع کو لوٹا لے اس میں ”إن كان قائماً“ اگر وہ شکار قائم ہو یعنی موجود ہو، ابھی ہلاک نہیں ہوا تو اس وقت تک کیا کر لے؟ اس بیع کو لوٹا لے، بیع کو ختم کرے، ”لِأَنَّ الْبَيْعَ لَمْ يَجُزْ لِمَا فِيهِ مِنَ التَّعَرُّضِ لِلصَّيْدِ وَذَلِكَ حَرَامٌ“ اس لیے کیونکہ بیع جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اس میں شکار کے پیچھے پڑنا ہے اور وہ تو حرام ہے، شکار کے پیچھے پڑنا تو حرام ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ فَائِتًا فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ، لِأَنَّهُ تَعَرَّضَ لِلصَّيْدِ بِتَفْوِيتِ الْأَمْنِ الَّذِي اسْتَحَقَّهُ“ اور اگر وہ شکار فوت ہو چکا ہے یعنی ہلاک ہو چکا ہے، یعنی بیع تو اب رد نہیں ہو سکتی، ”فعليه الجزاء“ تو اس پر جزا واجب ہے، اس لیے کیونکہ یہ شکار کے پیچھے پڑ گیا بوجہ اس امن کو فوت کر دینے کی وجہ سے جس کا وہ شکار مستحق تھا۔ جس کا وہ شکار مستحق تھا اس کو اس نے فوت کر دیا تو اس وجہ سے اس پر جزا واجب ہوگی۔ ”وَكَذَلِكَ بَيْعُ الْمُحْرِمِ الصَّيْدَ مِنْ مُحْرِمٍ أَوْ حَلَالٍ لِمَا قُلْنَا“ اور اسی طرح ہے محرم کا بیچنا شکار کو ”من محرم أو حلال“ کسی محرم یا حلال کے ہاتھ۔ صورت یہ کہ محرم نے شکار کو بیچا، کس کے ہاتھ؟ کسی دوسرے محرم کے ہاتھ یا کسی غیر محرم کے ہاتھ، تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے کہ وہ کیا کرے؟ جب تک شکار موجود ہے اس بیع کو لوٹا لے، اور اگر شکار ہلاک ہو چکا ہے تو اس پر اس کی جزا ہے۔ یہ معنی ہے: ”وكذلك بيع المحرم الصيد من محرم أو حلال لما قلنا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہی کہ یہ بیع جائز نہیں ہے۔ ”وَمَنْ أَحْرَمَ وَفِي بَيْتِهِ أَوْ فِي قَفَصٍ مَعَهُ صَيْدٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُرْسِلَهُ“ اب دوسری صورت ہے بھئی: ایک شخص احرام باندھتا ہے بھئی، احرام حج یا عمرے کا، اور جس وقت اس نے احرام باندھا اس وقت اس کے گھر پر کوئی شکار ہے، پہلے سے اس نے شکار کیا ہوا ہے، یا اس کے پاس کوئی پنجرہ ہے اس پنجرے میں شکار موجود ہے، تو کیا اس پر واجب ہے کہ وہ گھر والے شکار کو آزاد کر دے یا پنجرے کے شکار کو آزاد کر دے؟ تو کہتے ہیں نہیں بھئی، اس پر یہ واجب نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”ومن أحرم“ اور جس نے احرام باندھا ”وفي بيته أو في قفص معه صيد“ اور اس کے گھر پر یا پنجرے میں اس کے ساتھ کوئی شکار تھا، ”فليس عليه أن يرسله“ تو اس پر واجب نہیں ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: عَلَيْهِ أَنْ يُرْسِلَهُ، لِأَنَّهُ مُتَعَرِّضٌ لِلصَّيْدِ بِإِمْسَاكِهِ فِي مِلْكِهِ فَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَ فِي يَدِهِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر واجب ہے کہ شکار کو چھوڑ دے، اس لیے کیونکہ یہ شخص شکار کے پیچھے پڑنے والا ہے، اس کو بھی کیا کہا جائے گا؟ یہ شکار کے پیچھے پڑنے والا ہے جب شکار اس کے قبضے میں ہے ”بإمساكه في ملكه“ بوجہ اس کو روکنے کے اپنی ملکیت میں۔ جب اس نے شکار کو اپنی ملکیت میں روک کر رکھا ہوا ہے احرام باندھنے کے بعد بھی، تو کیا کہا جائے گا؟ یہ شکار کے پیچھے پڑنے والا ہے، ”فصار كما إذا كان في يده“ تو یہ ہو گیا اسی طرح جیسے کہ شکار اس کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ شکار تو اس کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ گھر پر ہے یا پنجرے کے اندر ہے، لیکن اس کو بھی کیا یہ کس کی طرح ہو گیا؟ جیسے ایک شخص احرام باندھے اور شکار اس کے ہاتھ میں ہو اور اس کے لیے تو شکار کا آزاد کرنا ضروری ہے، تو اس کے لیے بھی ضروری ہوگا۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانُوا يُحْرِمُونَ وَفِي بُيُوتِهِمْ صُيُودٌ وَدَوَاجِنُ وَلَمْ يُنْقَلْ عَنْهُمْ إِرْسَالُهَا“ اور ہماری دلیل جو ہے وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین وہ جو تھے احرام باندھتے تھے ”وفي بيوتهم صيود ودواجن“ اور ان کے گھروں میں شکار بھی ہوتے تھے ”ودواجن“ اور پالتو جانور بھی ہوتے تھے، گائے وغیرہ یہ اونٹ یہ پالتو جانور بھی ہوتے تھے اور شکار بھی، ”ولم ينقل عنهم إرسالها“ اور صحابہ سے منقول نہیں ہے ان کو آزاد کرنا۔ صحابہ سے ان کو آزاد کرنا منقول نہیں۔ ”وَبِذَلِكَ جَرَتِ الْعَادَةُ الْفَاشِيَةُ، وَهِيَ مِنْ إِحْدَى الْحُجَجِ“ اور اسی پر جاری ہے کھلی عادت بھئی، پھیلی ہوئی عادت، عام عادت بھی اسی پر جاری ہے کہ لوگوں کے گھروں میں شکار وغیرہ ہوتے ہیں اور احرام باندھنے کے بعد بھی وہ ان کو آزاد نہیں کرتے، ”وهي من إحدى الحجج“ اور یہ بھی شرعی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے۔ کہ تمام مسلمان ایک چیز پر کیا کر رہے ہیں؟ عمل کر رہے ہیں، تو یہ بھی ایک قسم کا اجماع ہے تو شرعی دلیلوں میں سے ایک شرعی دلیل ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چنانچہ حدیث میں آتا ہے: ”ما رآه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن“ جس کو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے بھئی۔ ”وَلِأَنَّ الْوَاجِبَ تَرْكُ التَّعَرُّضِ وَهُوَ لَيْسَ بِمُتَعَرِّضٍ مِنْ جِهَتِهِ لِأَنَّهُ مَحْفُوظٌ بِالْبَيْتِ وَالْقَفَصِ لَا بِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ فِي مِلْكِهِ“ اور اس لیے کیونکہ جب اس نے احرام باندھ دیا تو اس پر کیا واجب ہے؟ ”ترك التعرض“، اس شکار کے پیچھے پڑنے کو چھوڑ دینا، شکار سے کا تعرض جو ہے اس کو چھوڑنا اس پر واجب ہے۔ ”وهو ليس بمتعرض من جهته“ اور یہ تو اپنی طرف سے شکار کے پیچھے نہیں پڑا ہوا، ”لأنه محفوظ بالبيت والقفص“ اس لیے کیونکہ شکار جو ہے وہ تو گھر پر یا پنجرے میں محفوظ ہے ”لا به“ اس محرم کے ساتھ محفوظ نہیں ہے، ”غير أنه في ملكه“ علاوہ اس کے کہ وہ اس کی ملکیت میں ہے۔ صرف کیا ہے؟ اس کی ملکیت میں ہے، یہ شکار کے پیچھے نہیں پڑا ہوا بھئی۔ ”وَلَوْ أَرْسَلَهُ فِي مَفَازَةٍ فَهُوَ عَلَى مِلْكِهِ، فَلَا مُعْتَبَرَ بِبَقَاءِ الْمِلْكِ“ اور اگر یہ اس کو آزاد بھی کر دے ”في مفازة“ جنگل کے اندر، ”فهو على ملكه“ تو بھی وہ شکار اس کی ملکیت ہی میں ہے۔ بھئی آپ جنگل میں چلے جائیں اور اپنی گاڑی چھوڑ کر آ جائیں وہاں پر بھئی، تو کیا وہ گاڑی اپ کی ملکیت سے نکل جائے گی؟ نہیں، جنگل میں کوئی چیز چھوڑ کر انے سے وہ ملکیت سے تو نہیں نکلتی۔ لہٰذا اگر یہ اس شکار کو چھوڑ بھی دیتا ہے جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، تو چھوڑنے کے باوجود یہ اس کی ملکیت سے نہیں نکلتا۔ تو صرف اس کی ملکیت باقی ہے، وہ شکار کے پیچھے نہیں پڑا ہوا بھئی۔ اور صرف ملکیت باقی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اگر جنگل میں چھوڑ بھی دیا جائے گا ملکیت تو پھر بھی باقی رہے گی۔ تو کہتے ہیں: ”ولو أرسله في مفازة فهو على ملكه فلا معتبر ببقاء الملك“ تو کوئی اعتبار نہیں ہے ملکیت کے باقی رہنے کا، یعنی معتبر نہیں ہے ملکیت کے باقی رہنے کی وجہ سے، یعنی یہ آزاد کر دینا بھی ملکیت کے باقی رہنے کی وجہ سے معتبر نہیں۔ بھئی ہم نے کیا کہا؟ اس پر آزاد کرنا احرام باندھا ہے اور شکار پہلے سے موجود ہے گھر پر ہے یا پنجرے میں ہے، تو اس پر آزاد کرنا واجب نہیں ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ واجب ہے۔ تو ہم کہتے ہیں اگر آزاد کر بھی دے گا تو ملکیت تو پھر بھی اس کی باقی رہے گی، تو لہٰذا آزاد کرنا ملکیت کے باقی رہتے ہوئے آزاد کرنے کا تو کوئی اعتبار نہ ہوا، پاس رہے تو بھی ملکیت میں، چھوڑ دے گا تو بھی ملکیت میں ہے، بات تو ایک ہی جیسی رہتی ہے، لہٰذا معلوم ہوا ملکیت کے باقی رہتے ہوئے آزاد کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَقِيلَ: إِذَا كَانَ الْقَفَصُ فِي يَدِهِ لَزِمَهُ إِرْسَالُهُ، لَكِنْ عَلَى وَجْهٍ لَا يَضِيعُ“ اور کہا گیا ہے کہ جب پنجرہ جو ہے اس محرم کے ہاتھ میں ہو تو لازم ہے اس کو چھوڑ دینا، ”لكن على وجه لا يضيع“ لیکن ایسے طریقے پر کہ وہ شکار ضائع نہ ہو، شکار ضائع نہ ہو، یعنی کسی گھر میں وغیرہ میں یا کمرے میں وہاں چھوڑ دے وہاں رکھ لے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ ملکیت تو پھر بھی ختم نہیں ہوگی اگر چھوڑ دے گا۔ ”قَالَ: فَإِنْ أَصَابَ حَلَالٌ صَيْدًا ثُمَّ أَحْرَمَ فَأَرْسَلَهُ مِنْ يَدِهِ غَيْرُهُ يَضْمَنُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص غیر محرم تھا، اس نے شکار کو پکڑ لیا، پھر اس کے بعد اس نے احرام باندھا۔ احرام باندھنے کے بعد جب یہ محرم ہو گیا تو اس کا کوئی ساتھی تھا اس نے اس سے کہا بھئی یہ شکار کو آزاد کر دو، اس نے آزاد نہیں کیا تو اس نے خود کیا کیا؟ اس دوسرے ساتھی نے اس کے شکار کو آزاد کر دیا، تو کیا اس پر ضمان آئے گا یا نہیں آئے گا؟ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اس پر ضمان نہیں آئے گا، اس نے تو نیکی کا کام کیا، وہ جب اس نے احرام باندھ لیا تو اس پر تو کیا ضروری تھا؟ شکار کو چھوڑ دینا ضروری تھا، لہٰذا اس نے جب نہیں چھوڑا تو اس نے کیا کیا؟ یہ نیکی کا کام اس نے کر دیا، بات سمجھ میں آ گئی، لہٰذا اس پر ضمان نہیں، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، وہ شکار اس نے احرام باندھنے سے پہلے کیا تھا، لہٰذا وہ اس شکار کا مالک بن گیا تھا اور اس نے اس کے ہاتھ سے شکار کو آزاد کر کے اس کی ملکیت کو ضائع کیا ہے، لہٰذا اس پر ضمان ائے گا، اس کو اس کی قیمت دینا پڑے گی اس شکار کے مالک کو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ”قال فإن أصاب حلال صيداً“ اگر پکڑ لیا کسی غیر محرم نے شکار کو، ”ثم أحرم“ پھر اس نے احرام باندھ لیا، ”فأرسله من يده غيره“ تو آزاد کر دیا اس شکار کو اس محرم کے قبضے سے غیرہ کسی دوسرے نے، ”يضمن عند أبي حنيفة رحمه الله“ تو یہ غیر جو ہے یہ ضامن ہوگا امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا: لَا يَضْمَنُ لِأَنَّ الْمُرْسِلَ آمِرٌ بِالْمَعْرُوفِ نَاهٍ عَنِ الْمُنْكَرِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں یہ ضامن نہیں ہوگا اس لیے کیونکہ آزاد کرنے والا جو ہے یہ نیکی کا حکم دینے والا ہے ”ناهٍ عن المنكر“ اور ناپسندیدہ چیز سے روکنے والا ہے، ”﴿وَمَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ﴾“ اور قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں ہے یعنی ان پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں، لہٰذا اس پر ضمان نہیں ائے گا۔ ”وَلَهُ: أَنَّهُ مَلَكَ الصَّيْدَ بِالْأَخْذِ مِلْكًا مُحْتَرَمًا فَلَا يَبْطُلُ احْتِرَامُهُ بِإِحْرَامِهِ، وَقَدْ أَتْلَفَهُ الْمُرْسِلُ فَيَضْمَنُهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ شخص جو ہے یہ جو حلال جس نے ابھی احرام باندھا ہے، یہ جو حلال ہے ”ملك الصيد“ یہ شکار کا مالک بن گیا کیونکہ شکار کب کیا تھا؟ احرام سے پہلے، تو یہ شکار کا مالک بن گیا ”بالأخذ“ پکڑنے کی وجہ سے ”ملكاً محترماً“ اور کس قسم کی ملکیت ہے؟ ملکِ محترم ہے، حرمت والی ملکیت ہے، لہٰذا اگر کوئی اس کو ہلاک کرے گا تو اس پر کیا ائے گا؟ ضمان ائے گا، تو یہ حرمت والی ملکیت ہے۔ ”فلا يبطل احترامه بإحرامه“ لہٰذا اس شکار کا احترام جو ہے یعنی اس کی حرمت جو ہے وہ باطل نہیں ہوگی، ختم نہیں ہوگی ”بإحرامه“ اس کے احرام کی وجہ سے، ”وقد أتلفه المرسل“ اور تحقیق اس شکار کو تو تلف کر دیا، اس کو تو ضائع کر دیا مرسل نے آزاد کرنے والے نے، ”فيضمنه“ تو لہٰذا وہ اس کا ضامن ہوگا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا أَخَذَهُ فِي حَالَةِ الْإِحْرَامِ لِأَنَّهُ لَمْ يَمْلِكْهُ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب اس شکار کو اس شخص نے پکڑا ہو فی حالت الاحرام، کس حالت میں؟ احرام کی حالت میں ایک آدمی نے شکار کو پکڑا تھا، دوسرے نے کیا کر دیا؟ اس کو آزاد کر دیا تو اس پر ضمان نہیں، بھئی کیوں نہیں ضمان؟ کہتے ہیں اس وجہ سے کہ شکار کے پیچھے پڑنے سے اس کو منع کیا گیا تھا، لہٰذا اس نے شکار کو بے شک پکڑ بھی لیا لیکن وہ مالک نہیں بنا، جب مالک نہیں بنا تو اس نے جو شکار کو آزاد کیا کوئی مملوکہ چیز کو آزاد کیا ہی نہیں، لہٰذا اس پر ضمان بھی نہیں۔ ”بخلاف ما إذا أخذه في حالة الإحرام“ بخلاف اس کے کہ جب اس نے اس شکار کو پکڑا ہو احرام کی حالت میں، یعنی اس یہ صورت اس کے خلاف ہے، اس میں ضمان نہیں ائے گا، ”لأنه لم يملكه“ اس لیے کیونکہ یہ شخص اس کا مالک نہیں بنا، ”لأنه لم يملكه“ اس لیے کیونکہ یہ محرم احرام کی حالت میں جب اس نے شکار کو پکڑا ہے تو یہ اس کا مالک نہیں بنا۔ ”وَالْوَاجِبُ عَلَيْهِ تَرْكُ التَّعَرُّضِ، وَيُمْكِنُهُ ذَلِكَ بِأَنْ يُخَلِّيَهُ فِي بَيْتِهِ“ یہ پھر وہ پچھلے مسئلے سے تعلق ہے اس کا بھئی، درمیان میں صرف اتنا بتایا کہ بخلاف اس صورت کے کہ جب حالتِ احرام میں شکار کو پکڑا ہو تو اس صورت میں ضمان نہیں آئے گا کیونکہ یہ محرم جس نے شکار کو پکڑا یہ اس کا مالک ہی نہیں بنا، اب وہی پچھلے مسئلے سے متعلق بات آ رہی ہے: ”والواجب عليه ترك التعرض“ غیر محرم نے کیا کیا تھا؟ شکار پکڑا تھا اور پھر کیا باندھ لیا؟ احرام باندھ لیا، دوسرے نے کیا کر دیا؟ اس کو آزاد کر دیا، تو جب اس نے پہلے شکار کو پکڑا تھا تو یہ اس کا مالک بن گیا تھا اور مالک بننے کے بعد جب اس نے احرام باندھا تو اس پر ”والواجب عليه ترك التعرض“ اس پر تعرض کو چھوڑنا واجب تھا کہ شکار کے پیچھے نہ پڑے۔ ”ويمكنه ذلك“ اور یہ اس کے لیے ممکن بھی تھا کہ یہ اس تعرض کو چھوڑ دیتا کس طرح؟ ”بأن يخليه في بيته“ بایں صورت کہ اس شکار کو چھوڑ دیتا اپنے گھر پر، اپنے کمرے میں یعنی اپنے گھر پر چھوڑ دیتا تو ترکِ تعرض ہو جاتا ہے یا نہ ہوتا؟ ترکِ تعرض ہو جاتا۔ ”فَإِذَا قَطَعَ يَدَهُ عَنْهُ كَانَ مُتَعَدِّيًا“ پس جب اس دوسرے شخص نے اس کے قبضے کو ختم کر دیا ”عنه“ اس شکار سے جس نے کیا کیا تھا؟ جس نے شکار کو آزاد کر دیا تھا، تو اس نے اس کے قبضے کو اس شکار سے ختم کر دیا، ”كان متعدياً“ تو وہ دوسرا شخص زیادتی کرنے والا ہوا، زیادتی کرنے لہٰذا اس پر ضمان ائے گا۔ ”وَنَظِيرُهُ الِاخْتِلَافُ فِي كَسْرِ الْمَعَازِفِ“ اور اس کی مثال جو ہے وہ اختلاف ہے جو معازف کے توڑنے میں ہے۔ بھئی جیسے اس مسئلے کے اندر امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے، امام صاحب کے نزدیک ضمان ائے گا، صاحبین کے نزدیک ضمان نہیں ائے گا، تو اسی کی مثال وہ اختلاف بھی ہے جو معازف کے توڑنے میں ہے، معازف کہتے ہیں لہو و لعب کے الات جو ہیں، یہ گانے بجانے وغیرہ کے جو الات ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے گانے بجانے کے الات توڑ دے، تو امام صاحب کے نزدیک توڑنے والے پر ضمان ائے گا، صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اس پر ضمان نہیں ائے گا کیونکہ اس نے نیکی کا کام کیا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی یہ جو الات تھے یہ مملوک تھے، کیا تھے؟ مملوک تھے، اور لہٰذا اس کی وجہ سے اس پر ضمان ائے گا، لیکن اس میں پھر یاد رکھیے گا کہ اس پر وہ الات کا پورا ضمان نہیں ائے گا بلکہ وہ جو ان کی لکڑی وغیرہ صرف ہے اس کی قیمت اس پر ائے گی بھئی، ویسے تو الات مہنگے ہوں گے لیکن پورے کی قیمت نہیں، بنے ہوئے کی قیمت نہیں بلکہ صرف کس کو دیکھا جائے گا؟ اس پر جو لکڑی وغیرہ اور چیزیں لگی ہیں ان کی قیمت اس پر ائے گی تھوڑی سی بھئی۔ ”وَإِذَا أَصَابَ مُحْرِمٌ صَيْدًا فَأَرْسَلَهُ مِنْ يَدِهِ غَيْرُهُ لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ بِالِاتِّفَاقِ“ صورتِ مسئلہ یہ: محرم نے شکار پکڑ لیا حالتِ احرام میں، دوسرے نے اس شکار کو آزاد کر دیا، چھڑوا دیا، تو بالاتفاق اس چھڑانے والے پر ضمان نہیں۔ کیونکہ محرم نے جب شکار پکڑا وہ اس کا مالک نہیں بنا، کیونکہ اس کو تو روکا گیا تھا شکار کے پیچھے پڑنے سے، تو اب جب اس نے دوسرے شخص نے اس شکار کو آزاد کیا تو یہ اس کی کسی مملوکہ چیز کو ضائع نہیں کیا، لہٰذا اس پر ضمان نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وإذا أصاب محرم صيداً“ اور جب محرم نے پا لیا شکار کو یعنی شکار کو پکڑ لیا، ”فأرسله من يده غيره“ تو اس کو آزاد کر دیا اس کے قبضے سے اس محرم کے علاوہ کسی دوسرے نے، ”لا ضمان عليه بالاتفاق“ تو اس پر بالاتفاق ضمان نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَمْلِكْهُ بِالْأَخْذِ“ اس لیے کیونکہ وہ محرم جو ہے شکار کا مالک نہیں بنا پکڑنے کی وجہ سے، ”فَإِنَّ الصَّيْدَ لَمْ يَبْقَ مَحَلًّا لِلتَّمَلُّكِ فِي حَقِّ الْمُحْرِمِ“ اس لیے کیونکہ شکار جو ہے وہ تملک کا محل ہو کر باقی نہ رہا محرم کے حق میں۔ تملک کا معنی ہے مالک بننا، شکار جو ہے وہ محلِ تملک نہ رہا کس کے حق میں؟ محرم کے، یعنی محرم اس کا مالک نہیں بن سکتا، وہ مالک ہونے کا محل ہی نہ رہا کس کے لیے؟ محرم۔ یہ معنی ہے: ”فإن الصيد لم يبق محلاً للتملك في حق المحرم“ اس لیے کیونکہ شکار جو ہے وہ مالک ہونے کا محل ہو کر نہ رہا محرم کے حق میں، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ فرماتے ہیں: اور حرام کر دیا گیا ہے تم پر خشکی کے شکار کو جب تک تم حالتِ احرام میں ہو، تو یہ مالک نہیں بن سکتا۔ ”فَصَارَ كَمَا إِذَا اشْتَرَى الْخَمْرَ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ اس نے شراب خریدی ہو، اور آپ جانتے ہیں مسلمان شراب کا نہ مالک بن سکتا ہے، کسی دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے۔ مالک بننے کو کہتے ہیں تملک، اور دوسرے کو مالک بنانا اس کو کہتے ہیں تملیک، تو مسلمان کے لیے شراب کا تملک بھی درست نہیں اور تملیک بھی درست نہیں، خود بھی مالک نہیں بن سکتا اور دوسرے کو مالک بنا بھی مالک بنا بھی نہیں سکتا۔ ہاں مسلمان کی ملک میں شراب ہو سکتی ہے، کیسے؟ مثلاً ایک شخص نے انگور کا رس خریدا مسلمان نے، اور یہ انگور کا رس اس کا یہ مالک بن گیا، اور پھر یہ انگور کا رس کس میں بدل گیا؟ شراب میں خود بخود بدل گیا کچھ وقت کی وجہ سے، تو اب جیسے وہ انگور کے رس کا مالک کون تھا؟ یہ مسلمان تھا، تو یہ شراب کا مالک بھی کون ہے؟ یہ مسلمان ہے، بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ لیکن اس میں مالک بننا نہیں پایا گیا، مالک بننا تو یہ ہے کہ پہلے مالک نہ ہو اور پھر مالک بنے، تو لہٰذا شراب ہو اور مسلمان پہلے مالک نہیں تھا اور پھر کیا بن جائے اس کا؟ مالک، تو یہ نہیں ہو سکتا۔ اور یہاں پر جو شراب بن گئی یہ اس کا پہلے سے مالک تھا، اب نہیں مالک بن رہا، اب تو مالک بن ہی نہیں سکتا نہ کسی دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے، لہٰذا نہ خرید سکتا ہے اور نہ بیچ سکتا ہے، ہاں اس کی ملک میں ا سکتی ہے شراب کہ جیسے خریدی کوئی اور چیز تھی اور وہ پھر کیا بن گئی؟ شراب بن گئی۔ تو کہتے ہیں: ”فصار كما إذا اشترى الخمر“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ اس نے شراب خریدی ہو، تو جیسے اس میں مالک نہیں بنتا اسی طرح اس شکار کا بھی وہ مالک نہیں بنتا۔ ”فَإِنْ قَتَلَهُ مُحْرِمٌ آخَرُ فِي يَدِهِ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا جَزَاءٌ“ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے شکار کیا محرم نے، کیا کیا؟ محرم نے شکار کیا اور شکار اس کے پاس ہے، زندہ ہے۔ ایک دوسرے شخص نے، دوسرے محرم نے اس شکار کو قتل کر دیا، تو کہتے ہیں اب اس صورت میں دونوں پر ضمان ائے گا۔ پہلے محرم پر اس لیے کیونکہ اس نے شکار کو پکڑا تھا حالانکہ اس کو تو شکار کے پیچھے پڑنے سے منع کیا گیا تھا، اور دوسرے محرم پر اس لیے جزا ائے گی کیونکہ اس نے شکار کو ذبح کر دیا حالانکہ اس کو بھی شکار کے پیچھے پڑنے سے منع کیا گیا تھا، تو دونوں پر پوری پوری جزا ائے گی، پورے پورے شکار کی قیمت پہلے محرم پر بھی ائے گی پکڑنے والے پر بھی اور قتل کرنے والے پر بھی۔ لیکن پھر جو پکڑنے والا تھا وہ اس جزا کے اندر رجوع کرے گا اس قاتل پر، کس پر؟ قاتل پر۔ وہ جزا پھر اس سے وصول کرے گا، خود جزا ادا کر دے اور پھر کیا کرے؟ اس قاتل پر وہ رجوع کر کے اس سے بھی وہ اپنے پورے پیسے وصول کر سکتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہ قاتل سے کیوں وصول کر سکتا ہے؟ اس نے بھی تو غلطی کی ہے یہ شکار کے پیچھے پڑا تھا اور اس وجہ سے اس پر جزا ائی ہے، تو لہٰذا وہ جزا اسی کی اپنی غلطی اپنی غلطی کی وجہ سے اس پر ائی ہے اس میں قاتل کا کیا عمل دخل ہے؟ تو جواب یہ کہ بھئی ٹھیک ہے، اس پر جزا اپنی غلطی کی وجہ سے ائی ہے لیکن اس غلطی کی تلافی ہو سکتی تھی، اس نے زندہ شکار پکڑا تھا اس کو چھوڑ دیتا تو اس پر سے وہ جزا کیا ہو جاتی؟ ساقط ہو جاتی، لیکن قاتل نے اس کو قتل کر کے کیا کر دیا؟ اس جزا کو اس پر پکا کر دیا، اب ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں، تو یوں ہی سمجھا جائے گا گویا یہ جزا اس پر ائی ہی کس کی وجہ سے؟ قاتل کی وجہ سے ہے، لہٰذا یہ کیا کرے گا؟ اس جزا کو ادا کرنے کے بعد قاتل پر رجوع کر کے اس سے یہ پیسے وصول کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی صحبت وغیرہ نہیں کی، اور آپ جانتے ہیں صحبت سے پہلے اگر طلاق دی جائے تو نصف مہر دینا پڑتا ہے اور صحبت کے بعد پورا مہر دینا پڑتا ہے۔ تو اس نے نکاح کر لیا ایک عورت سے اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی صحبت نہیں ہوئی، اس سے پہلے ہی عورت نے دعویٰ کر دیا قاضی کے پاس کہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور دو گواہ بھی پیش کر دیے اپنی طرف سے دو گواہ بھئی، اور گواہوں نے ا کر گواہی دے دی کہ اس شخص نے کیا کیا ہے؟ اس عورت کو طلاق دے دی ہے، تو جب گواہ ا گئے قاضی تو فیصلہ کر دے گا کہ طلاق ہو گئی ہے اور اب اس خاوند کو نصف مہر دینا پڑے گا کیونکہ یہ رخصتی سے پہلے طلاق دی ہے اس نے۔ بعد میں بھئی وہ جو گواہ تھے وہ وہ تبلیغی جماعت میں چلے گئے بھئی اور ان کی اصلاح ہوئی اور پھر انہوں نے ا کر قاضی کے سامنے رجوع کیا کہ ہم نے جھوٹی گواہی دی تھی ہم سے غلطی ہو گئی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور تو اب یاد رکھیے اس صورت میں وہ شخص جو ہے وہ جو خاوند جس کو نصف مہر دینا پڑا تھا، اس کا ادھے مہر کا نقصان ہوا تھا، نصف مہر جتنا مال اس کے ہاتھ سے گیا تھا تو وہ ان گواہوں پر رجوع کر کے ان سے وہ مال وصول کر سکتا ہے۔ بھئی سوال پیدا ہوتا ہے کہ نکاح کے بعد تو طلاق دے دے، چاہے صحبت سے پہلے طلاق دے دے، پھر بھی نصف مہر تو دینا ہی پڑتا ہے تو اس میں گواہوں کی وجہ سے تو وہ اس پر لازم نہیں ہوا؟ کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے، نکاح سے پہلے نصف مہر خاوند پر لازم ہو جاتا ہے لیکن وہ ساقط بھی ہو سکتا ہے، اگر جدائی کا سبب عورت بن جائے، مثلاً عورت مرتدہ ہو گئی، جب مرتدہ ہوئی تو جدائی کا سبب کس کی طرف سے ایا؟ عورت، تو اس صورت میں وہ نصف مہر بھی خاوند پر سے ساقط ہو جاتا ہے، یا اس عورت نے اس خاوند کے بیٹے سے غلط تعلق قائم کر لیا تو اس صورت میں بھی جدائی کا سبب کس کی طرف سے ایا؟ عورت کی طرف سے وہ خاوند پر حرام ہو گئی، تو لہٰذا اس صورت میں اب وہ نصف مہر بھی کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوا صحبت سے پہلے کا جو نصف مہر ہے وہ خاوند پر کوئی پکا نہیں ہے بلکہ اس کے بھی ساقط ہونے کا احتمال ہے، لیکن گواہوں نے اپنی گواہی کے ذریعے کیا کر دیا؟ اس پر وہ نصف مہر پکا کر دیا، لہٰذا اس وجہ سے ان کو وہ خاوند کیا کر سکتا ہے؟ ان سے ضمان وصول کر سکتا ہے، صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو کہتے ہیں: ”فإن قتله محرم آخر في يده“ اگر قتل کر دیا اس شکار کو کسی دوسرے محرم نے اس پہلے محرم کے ہاتھ میں سے، ”فعلى كل واحد منهما جزاء“ تو ان دونوں میں سے ہر ایک پر جزا واجب ہوگی، ”لِأَنَّ الْآخِذَ مُتَعَرِّضٌ لِلصَّيْدِ بِإِزَالَتِهِ الْأَمْنَ، وَالْقَاتِلُ مُقَرِّرٌ لِذَلِكَ، وَالتَّقْرِيرُ كَالِابْتِدَاءِ فِي حَقِّ التَّضْمِينِ كَشُهُودِ الطَّلَاقِ قَبْلَ الدُّخُولِ إِذَا رَجَعُوا“ اس لیے کیونکہ پکڑنے والا جو ہے وہ بھی شکار کے پیچھے پڑنے والا ہے ”بإزالته الأمن“ بوجہ اس شکار کے بوجہ اس کے امن کو زائل کرنے کی وجہ سے، ”والقاتل مقرر لذلك“ اور قاتل بھی جو ہے وہ اس اس جزا کو پکا کرنے والا ہے اس کو ثابت کرنے والا ہے، ”والتقرير كالابتداء“ اور ثابت کرنا بھی ابتدا کی طرح ہے، قاتل نے کیا کر دیا؟ اسی جزا کو پکا کر دیا اس کو ثابت کر دیا، تو یہ پکا کرنا بھی کس کی طرح ہے؟ ”كالابتداء“ ابتدا کی طرح ہے ”في حق التضمين“ ضامن بنانے کے حق میں، کس کے حق میں؟ ضامن بنانے کے حق میں یہ بھی ابتدا کی طرح ہے، ”كشهود الطلاق قبل الدخول إذا رجعوا“ جیسے کہ طلاق کے گواہ جو ہیں، کون سی طلاق؟ ”قبل الدخول“ جو صحبت سے پہلے ہو، اس کے گواہ جو ہیں جب ”إذا رجعوا“ جب وہ رجوع کر لیں۔ تو ”والتقرير كالابتداء في حق التضمين“، معنی سمجھ میں ایا بھئی؟ ثابت کرنا بھی کس کی طرح ہے؟ ”كالابتداء“ ابتدا کی طرح ہے ”في حق التضمين“ کس کے حق میں؟ ضامن بنانے، بھئی دیکھیے شکار تو دوسرے نے پکڑا تھا نا، اس نے صرف کیا کیا ہے اس کو؟ قتل کیا ہے، لیکن قتل کرنا بھی اسی طرح ہے گویا یہ ابتداءً ہی کیا کر رہا ہے؟ شکار کر کے اس کو قتل کر رہا ہے، لہٰذا اس کو بھی کیا بنایا جائے گا؟ ضامن، اس کو پکڑنے کی وجہ سے اور اس کو اس قتل کرنے کی وجہ سے اور یہ قتل بھی کس طرح ہے؟ ابتدائے صید کی طرح ہے، گویا یہ ابتداءً کیا کر رہا ہے؟ شکار کر رہا ہے۔ یہ معنی ہے: ”والتقرير كالابتداء“ اور ثابت کرنا یہ بھی ابتدا کی طرح ہی ہے ”في حق التضمين“ کس میں؟ ضامن بنانے کے حق میں، ”كشهود الطلاق قبل الدخول إذا رجعوا“ جبکہ صحبت سے پہلے کی جو طلاق ہے اس کے گواہ جب وہ رجوع کر لیں۔ ”وَيَرْجِعُ الْآخِذُ عَلَى الْقَاتِلِ“ اور وہ پکڑنے والا رجوع کرے گا کس پر؟ قاتل پر۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَرْجِعُ، لِأَنَّ الْآخِذَ مُؤَاخَذٌ بِصُنْعِهِ فَلَا يَرْجِعُ عَلَى غَيْرِهِ“ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پکڑنے والا رجوع نہیں کرے گا قاتل پر، ”لأن الآخذ مؤاخذ بصنعه“ اس لیے کیونکہ پکڑنے والا جو ہے وہ مؤاخذ ہے اپنے عمل کی وجہ سے، اس کا مؤاخذہ کس وجہ سے ہے؟ اپنے عمل کی وجہ سے کہ اس نے پکڑا ہے، ”فلا يرجع على غيره“ لہٰذا وہ کسی دوسرے پر اس سلسلے میں رجوع نہیں کرے گا۔ ”وَلَنَا: أَنَّ الْأَخْذَ إِنَّمَا يَصِيرُ سَبَبًا لِلضَّمَانِ عِنْدَ اتِّصَالِ الْهَلَاكِ بِهِ، فَهُوَ بِالْقَتْلِ جَعَلَ فِعْلَ الْآخِذِ عِلَّةً، فَيَكُونُ فِي مَعْنَى مُبَاشَرَةِ عِلَّةِ الْعِلَّةِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ پکڑنا جو ہے یہ ضمان کا سبب بن گیا ”عند اتصال الهلاك به“ جب اس کے ساتھ ہلاکت مل گیا، اس کا قتل کرنا جب اس کے ساتھ مل گیا اس لیے پکڑنا یہ ضمان کا سبب بن گیا۔ ”فهو بالقتل“ تو وہ جو قاتل ہے، ”هو“ ضمیر قاتل کو جا راجع ہے، تو وہ جو قاتل ہے اس نے قتل کے ذریعے پکڑنے کے فعل کو علت بنا دیا، پکڑنے کے فعل کو جزا کی علت بنا دیا، ”فيكون في معنى مباشرة علة العلة“ تو یہ علت العلت کو سرانجام دینے کی طرح ہوا، یہ قتل کس کس معنی میں ہوا؟ ”في معنى مباشرة علة العلة“ یہ قتل جو ہے علت کی علت کو سرانجام دینے کی طرح ہوا۔ علت کی علت کیا؟ اس نے پکڑا تھا شکار کو، اور یہ پکڑنا علت ہے کس چیز کی؟ ضمان کی، لیکن اس کے ختم ہونے کا بھی احتمال تھا، لیکن آگے جب دوسرے نے اس کو قتل کر دیا تو وہ قتل نے کیا کیا؟ اس ضمان کو پکا کر دیا، تو یہ قتل کی وجہ سے وہ پکڑنا بھی کیا بن گیا؟ علت بن گیا، کس چیز کی؟ ضمان کی، صورت سمجھ میں ا رہی ہے؟ یہ قتل تو ہے علت، اور اس قتل کی وجہ سے یہ قتل نے اس پکڑنے کو بھی کیا بنا دیا؟ علت بنا دیا جزا کی، تو یہ علت العلت کی طرح ہوا۔ ”فيكون في معنى مباشرة علة العلة“ تو یہ قتل جو ہے علت العلت کو سرانجام دینے کے معنی میں ہوا، قتل کیا تو گویا اس نے علت کی علت سرانجام دے دی، ”فَيُحَالُ بِالضَّمَانِ عَلَيْهِ“ تو حوالے کیا جائے گا ضمان کو ”عليه“ اسی قاتل پر، یعنی ضمان کو اسی کے حوالے کیا جائے گا یعنی اسی پر ڈالا جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ”هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام“۔