”فَصْلٌ: اِعْلَمْ أَنَّ صَيْدَ الْبَرِّ مُحَرَّمٌ عَلَى الْمُحْرِمِ، وَصَيْدُ الْبَحْرِ حَلَالٌ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَصَيْدُ الْبَرِّ مَا يَكُونُ تَوَالُدُهُ وَمَثْوَاهُ فِي الْبَرِّ، وَصَيْدُ الْبَحْرِ مَا يَكُونُ تَوَالُدُهُ وَمَثْوَاهُ فِي الْمَاءِ“ فصلٌ۔ ”اِعْلَمْ أَنَّ صَيْدَ الْبَرِّ مُحَرَّمٌ عَلَى الْمُحْرِمِ“ جان لے کہ خشکی کا شکار جو ہے وہ حرام ہے محرم پر۔ ”وَصَيْدُ الْبَحْرِ حَلَالٌ“ اور بحری شکار جو ہے وہ حلال ہے بھئی، سمندری شکار حلال ہے۔ خشکی کا شکار حرام ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ﴾ کہ تم شکار کو قتل نہ کرو اس حال میں کہ تم محرم ہو۔ اور بحری شکار حلال ہے، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ﴾ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے سمندر کے شکار کو، الیٰ آخر الآیۃ، آخرِ آیت تک۔ اب آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ خشکی کا شکار کسے کہیں گے اور بحری شکار کسے کہیں گے؟ تو کہتے ہیں: ”وَصَيْدُ الْبَرِّ مَا يَكُونُ تَوَالُدُهُ وَمَثْوَاهُ فِي الْبَرِّ“ کہ خشکی کا شکار وہ ہے، وہ جانور کہ جس کا توالد اور مثویٰ خشکی ہو۔ توالد یعنی نسل بڑھانا کہ جس کے نسل کا بڑھانا اور مثویٰ ہو اور اس کا ٹھکانہ جو ہے وہ خشکی میں ہو۔ یعنی جن جانوروں کی نسل خشکی پر بڑھتی ہے—یعنی انڈے وغیرہ یا بچے وغیرہ جو دیتے ہیں خشکی میں دیتے ہیں—اور ان کا ٹھکانہ بھی خشکی ہے، خشکی پر ہی رہتے ہیں بھئی۔ ”وَصَيْدُ الْبَحْرِ مَا يَكُونُ تَوَالُدُهُ وَمَثْوَاهُ فِي الْمَاءِ“ اور بحری شکار جو ہے وہ ہے کہ جس کے نسل کا بڑھانا اور اس کا ٹھکانہ پانی میں ہو۔ ”وَالصَّيْدُ: هُوَ الْمُمْتَنِعُ الْمُتَوَحِّشُ فِي أَصْلِ الْخِلْقَةِ“ شکار کسے کہتے ہیں بھئی؟ شکار؟ کہتے ہیں: ”والصيد هو الممتنع“ شکار جو ہے وہ جانور ہے جو ممتنع ہو یعنی جسے حاصل کرنا ممکن نہ ہو، یعنی بغیر شکار کے، بغیر کسی حیلے کے جسے پکڑنا اور حاصل کرنا ممکن نہ ہو، تو وہ ممتنع ہوا بھئی ممتنع۔ ”المتوحش“ اور وحشی ہو ”في أصل الخلقة“ اصلِ خلقت کے اعتبار سے، اصلِ پیدائش کے اعتبار سے وہ کیا ہو؟ وحشی ہو۔ بھئی کچھ جانور ہیں وہ انسانوں کے ساتھ مانوس ہوتے ہیں، انسانوں کے پاس رہتے ہیں، اور کچھ کیا ہیں؟ غیر مانوس ہیں، وحشی ہیں، انسان کو دیکھتے ہی اس سے دور بھاگتے ہیں تو وہ ہیں وحشی بھئی۔ تو شکار کی تعریف انہوں نے کر دی: ”والصيد هو الممتنع المتوحش في أصل الخلقة“۔ پہلی قید کیا لگائی؟ ممتنع ہو یعنی جسے شکار کے بغیر پکڑنا اور حاصل کرنا ممکن نہ ہو، اور نیز وہ اصلِ خلقت کے اعتبار سے وحشی ہو۔ اس کے ذریعے نکال دیا ان جانوروں کو جن کو انسان اپنے ساتھ مانوس کر لے، مثلاً اگر کوئی کسی ہرن کو اپنے ساتھ کیا کر لے؟ مانوس کر لے، تو اس قید سے وہ شکار اس تعریف سے وہ خارج نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ اصلِ خلقت کے اعتبار سے ہرن کیا ہے؟ متوحش ہی ہے بھئی، وحشی ہے۔ ”وَاسْتَثْنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَمْسَ الْفَوَاسِقَ، وَهِيَ: الْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالذِّئْبُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحَيَّةُ، وَالْعَقْرَبُ“ اور استثنیٰ فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ فواسق کا۔ حضور علیہ السلام نے ان میں سے پانچ فواسق کا استثنیٰ فرمایا ہے۔ فواسق جمع ہے فاسقۃ کی، فاسقۃ مؤنث ہے فاسق کی، اور فاسق کے معنی ہیں نافرمان بھئی نافرمان، اور اسی طرح حد سے نکلنے والا، حد سے تجاوز کرنے والا۔ تو یہ پانچ جانور ہیں جن کو حضور علیہ السلام نے ان کا استثنیٰ فرمایا کہ محرم ان کو قتل کر سکتا ہے، اور وہ کیا کیا ہیں؟ کہتے ہیں: ”وهي الكلب العقور“ عقور کاٹنے والا بھئی، ”وهي الكلب العقور“ اور وہ کاٹنے والا کتا ہے، ”والذئب“ اور بھیڑیا ہے، ”والحدأة“ اور چیل ہے چیل، ”والغراب“ اور کوا ہے، ”والحية“ اور سانپ ہے، ”والعقرب“ اور بچھو ہے بھئی بچھو ہے۔ تو حضور علیہ السلام نے پانچ فواسق کا استثنیٰ فرمایا، آگے صاحبِ ہدایہ نے جو جانور گنوائے وہ چھ ہیں بھئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے آپ نے تو پانچ ذکر کیا اور آگے چھ گنوا دیے؟ تو وجہ یہ کہ مختلف احادیث میں یہ آتے ہیں، صاحبِ ہدایہ نے ان کو کیا کیا؟ جمع کر دیا، یا یہ کہ یہ جو بھیڑیا ہے اور کلبِ عقور یہ ایک ہی قسم کے ہیں تو ان کو ایک ہی شمار کریں گے بھئی ایک ہی قسم کے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کو فواسق کہا گیا تو یہ استعارہ ہے کہ یہ حرمت سے نکل گئے ہیں، جیسے فاسق کا کیا معنی تھا؟ حد سے نکلنے والا، تو یہ جانور بھی کیا ہیں؟ حرمت سے نکل گئے ہیں، ان کا قتل کرنا حرام نہیں ہے محرم کے لیے، تو اس لیے ان کے لیے فواسق کا لفظ استعمال کیا بھئی۔ اور تو ان کا استثنیٰ فرمایا حضور علیہ السلام نے: ”فَإِنَّهَا مُبْتَدِئَاتٌ بِالْأَذَى“ اس لیے کیونکہ یہ تکلیف دینے میں پہل کرنے والے ہیں۔ یہ کیا کرتے ہیں؟ تکلیف دینے میں پہل کرتے ہیں، یہ خود دوسرے پر حملہ کر دیتے ہیں۔ ”وَالْمُرَادُ بِهِ الْغُرَابُ الَّذِي يَأْكُلُ الْجِيَفَ، وَهُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور جو کوے کا ذکر آیا غراب کوا، تو اس سے مراد وہ کوا ہے ”الذي يأكل الجيف“ جو مردار کھاتا ہے۔ ”وهو المروي عن أبي يوسف رحمه الله“ یہی روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، وہ کیا فرماتے ہیں کہ غراب کا جو ذکر آیا کوے کا، اس سے کون سا کوا مراد ہے؟ جو مردار کھاتا ہے بھئی، تو ہر کوا مراد اس سے نہیں ہے۔ ”قَالَ: وَإِذَا قَتَلَ الْمُحْرِمُ صَيْدًا أَوْ دَلَّ عَلَيْهِ مَنْ قَتَلَهُ فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور جب قتل کر دیا محرم نے شکار کو، ”أو دل عليه“ یا اس پر دلالت کی، اس پر رہنمائی کی، کس کی رہنمائی کی؟ ”من قتله“ اس شخص کی جس نے پھر اس کو کیا کر دیا؟ قتل۔ محرم نے اس شکار پر رہنمائی کی من قتلہ اس شخص کی جس نے اس کو پھر قتل کر دیا، ”فعليه الجزاء“ تو ان دونوں صورتوں میں اس محرم پر جزا واجب ہے۔ چاہے خود قتل کرے، چاہے اس پر دلالت کرے اور قتل کوئی دوسرا کرے، دونوں صورتوں میں محرم پر جزا واجب ہے۔ اس کی اب آگے دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”أَمَّا الْقَتْلُ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ﴾ الْآيَةَ“ باقی قتل کرنا جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ہے: تم شکار کو قتل نہ کرو اس حال میں کہ تم محرم ہو، اور جس نے قتل کر دیا اس کو تم میں سے جان بوجھ کر تو جزا ہے، تو اس پر جزا واجب ہے۔ الآیۃ، ای اقرأ الآیۃ۔ ”نَصٌّ عَلَى إِيجَابِ الْجَزَاءِ“ اللہ کا یہ قول نص ہے جزا کے واجب ہونے پر بھئی، جزا کے واجب کرنے پر یہ اللہ کا قول نص ہے، اس میں تصریح ہے جزا کے واجب کرنے کی۔ یہ تو دلیل تھی کہ کوئی محرم اگر شکار کو قتل کر دیتا ہے، اور متن میں تو یہ آیا اگر جو رہنمائی کر دے گا اور دوسرا کوئی قتل کر دے تو بھی محرم پر کیا واجب ہوگی؟ جزا، اس کی دلیل اب ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الدَّلَالَةُ فَفِيهَا خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، هُوَ يَقُولُ: الْجَزَاءُ تَعَلَّقَ بِالْقَتْلِ“ اور باقی دلالت جو ہے اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ وہ فرماتے ہیں: جزا کا تعلق قتل کے ساتھ ہے، کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ﴿وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ﴾ تو قرآن میں کیا ہے؟ قتل کا ذکر آیا ہے، دلالت کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا صرف دلالت کرنے اور رہنمائی کرنے کی وجہ سے محرم پر جزا واجب نہیں ہوگی۔ تو وہ فرماتے ہیں: ”الجزاء تعلق بالقتل“ کہ جزا کا تعلق قتل کے ساتھ ہے، ”وَالدَّلَالَةُ لَيْسَتْ بِقَتْلٍ فَأَشْبَهَ دَلَالَةَ الْحَلَالِ حَلَالًا“ اور دلالت کرنا رہنمائی کرنا یہ تو قتل کرنا نہیں ہے، تو یہ مشابہ ہو گیا کسی حلال کا حلال کی رہنمائی کرنے کے۔ جیسے بھئی ایک حلال شخص دوسرے حلال کی رہنمائی کرے، کس پر؟ شکار پر، شکار پر۔ تو یہ جو حلال رہنمائی کرنے والا تھا اس پر کوئی جزا واجب نہیں ہوتی، تو اسی طرح محرم بھی اگر صرف رہنمائی کرے گا تو اس پر بھی جزا واجب نہیں ہوگی، جزا کا تعلق صرف قتل سے ہے۔ ”وَلَنَا: مَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ اور ہماری دلیل جو ہے وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کیا یعنی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث۔ وہ احرام کے باب میں احرام کا جہاں بیان آیا تھا حج کے شروع میں، وہاں پر ذکر ہوا تھا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے شکار کیا تھا اور یہ حلال تھے یعنی بغیر احرام کے تھے اور ان کے ساتھی حالتِ احرام میں تھے، اور حضور علیہ السلام سے پوچھا تو حضور علیہ السلام نے ان کے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم نے رہنمائی کی ہے یا تم نے اشارہ کیا یا تم نے یا تم نے مدد کی؟ تو انہوں نے کہا: نہیں یا رسول اللہ! ہم نے تو مدد نہیں کی، تو پھر حضور علیہ السلام فرمانے لگے: تب تم اس میں سے کھاؤ۔ تو وہاں دیکھیے حضور علیہ السلام نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اشارہ کیا؟ کیا تم نے رہنمائی کی؟ معلوم ہوا یہ اشارہ کرنا اور رہنمائی کرنا بھی محرم کے لیے درست نہیں ہے بھئی۔ ”وَقَالَ عَطَاءٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَجْمَعَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ عَلَى الدَّالِّ الْجَزَاءَ“ اور حضرت عطاء جو ہیں، عطاء رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا اجماع ہے اس بات پر کہ دلالت کرنے والے پر بھی جزا ہے، یہ دوسری دلیل آ گئی۔ ”وَلِأَنَّ الدَّلَالَةَ مِنْ مَحْظُورَاتِ الْإِحْرَامِ، وَلِأَنَّهُ تَفْوِيتُ الْأَمْنِ عَلَى الصَّيْدِ إِذْ هُوَ آمِنٌ بِتَوَحُّشِهِ وَتَوَارِيهِ، فَصَارَ كَالْإِتْلَافِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ دلالت جو ہے وہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے، ”ولأنه تفويت الأمن“ کیونکہ دلالت کرنا یہ فوت کر دینا ہے شکار کے امن کو۔ شکار کے امن کو دلالت کے ذریعے بھی کیا ہوگا؟ شکار کا امن فوت ہو جائے گا، وہ تو بیچارہ مامون تھا، ”إذ هو آمن“ کیونکہ وہ تو مامون تھا ”بتوحشه وتواريه“ اپنے وحشی ہونے کی وجہ سے اور چھپنے کی وجہ سے۔ شکار تو کسی کے قریب نہیں آتا، وہ تو وحشی ہے غیر مانوس ہے اور نیز وہ چھپا ہوا تھا، لیکن دوسرے نے کیا کیا؟ دلالت کر کے اس کے امن کو فوت کر دیا، ”فصار كالإتلاف“ تو یہ دلالت بھی اتلاف کی طرح ہو گئی، تلف کرنے کی طرح ہی ہو گئی کیونکہ اس کی وجہ سے اس بیچارے کا امن ختم ہوا۔ ”وَلِأَنَّ الْمُحْرِمَ بِإِحْرَامِهِ الْتَزَمَ الِامْتِنَاعَ عَنِ التَّعَرُّضِ“ اور نیز کس لیے؟ کیونکہ محرم جو ہے اس نے اپنے احرام کے ذریعے ”التزم الامتناع عن التعرض“ اس نے التزام کیا یعنی اپنے اوپر لازم کیا کس چیز کو؟ ”الامتناع عن التعرض“۔ امتناع باز رہنا، تعرض پیچھے پڑنا، اور التعرض الف لام آیا، پیچھے پڑنا، کس چیز کے پیچھے پڑنا مراد ہے یہاں؟ شکار کے پیچھے پڑنا مراد ہے۔ تو اس لیے کیونکہ محرم نے اپنے احرام کے ذریعے التزام کیا ہے ”الامتناع عن التعرض“ شکار کے پیچھے پڑنے سے باز رہنے کا، کہ وہ شکار کے پیچھے پڑنے سے باز رہے گا، اس کا التزام کیا، کس نے؟ محرم نے اپنے احرام کے ذریعے۔ جب اس نے احرام باندھ لیا تو احرام باندھنے کا مطلب یہ تھا وہ کسی کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دے گا، شکار کے پیچھے بھی نہیں پڑے گا۔ ”فَيَضْمَنُ بِتَرْكِ مَا الْتَزَمَهُ كَالْمُودَعِ“ تو لہٰذا یہ ضامن ہوگا اس چیز کو چھوڑنے کی وجہ سے جس کا اس نے التزام کیا تھا جس چیز کو اپنے اوپر لازم کیا تھا، ”کالمودَع“ جیسے کہ مودَع ہے۔ مودَع وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی جائے۔ بھئی امانت جب ایک شخص کے پاس رکھوا دی گئی اور اس نے امانت رکھ لی تو اس نے گویا امانت کی حفاظت کو اپنے اوپر لازم کر لیا، اور اگر وہ حفاظت اب نہیں کرے گا تو پھر اس پر ضمان آئے گا۔ ویسے تو امانت اگر ضائع ہو گئی خود بخود تو اس پر ضمان نہیں، لیکن اگر اس نے خود ہی حفاظت نہیں کی حفاظت کو چھوڑ دیا، حالانکہ جب امانت اس نے رکھ لی تو کس چیز کا التزام کیا اپنے اوپر؟ اس کی حفاظت کا، تو یہ بھی اسی کی طرح ہو گیا۔ ”بِخِلَافِ الْحَلَالِ لِأَنَّهُ لَا الْتِزَامَ مِنْ جِهَتِهِ“ بخلاف حلال کے، اس لیے کیونکہ کوئی التزام نہیں ہے اس کی جانب سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو قیاس کیا تھا کس پر؟ جیسے حلال رہنمائی کرتا ہے تو اس پر کوئی جزا واجب نہیں ہوتی تو اسی طرح محرم پر بھی کوئی جزا واجب نہیں، ہم کہتے ہیں نہیں! محرم نے تو اپنے اوپر التزام کیا ہے کہ وہ شکار کے پیچھے نہیں پڑے گا جبکہ حلال نے تو اپنے اوپر کسی چیز کا التزام نہیں کیا۔ ”عَلَى أَنَّ فِيهِ الْجَزَاءَ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ وَزُفَرَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ علاوہ اس کے کہ اس کے اندر بھی جزا ہے بوجہ اس کے جو روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف اور امام زفر رحمہما اللہ سے۔ ایک تو یہ وجہ ہم نے ذکر کر دی کہ حلال پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ محرم نے تو اپنے اوپر التزام کیا ہے لیکن حلال نے تو اپنے اوپر التزام نہیں کیا۔ اور اس کے علاوہ حلال پر بھی جزا واجب ہوگی وہ جو روایت کیا گیا ہے کس سے؟ امام ابو یوسف اور امام زفر رحمہ اللہ سے، تو ان کے نزدیک اس حلال پر بھی جزا واجب ہوگی، لہٰذا حلال پر امام شافعی رحمہ اللہ کا محرم کو قیاس کرنا صحیح نہیں۔ ”وَالدَّلَالَةُ الْمُوجِبَةُ لِلْجَزَاءِ“ آگے صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ کون سی رہنمائی جو ہے اس کی وجہ سے جزا واجب ہوگی؟ کون سی رہنمائی؟ مثلاً دیکھیے بھئی ایک شخص نے دوسرے سے کہا: فلاں جھاڑی کے پیچھے شکار ہے، دوسرے نے اس کی بات مانی نہیں، تو کیا اب اس رہنمائی کی وجہ سے بھی اس پر جزا ہوگی؟ کہتے ہیں بھئی رہنمائی ہو اور اس رہنمائی کی وجہ سے وہ شکار کو کیا کر دے؟ قتل کر دیتا ہے، تو پھر جزا واجب ہوگی، کیونکہ اگر یہ رہنمائی نہ کرتا وہ شکار تو کیا تھا؟ مامون تھا اور محفوظ تھا، اس کی رہنمائی کی وجہ سے اس کی دلالت کی وجہ سے اس کی جان گئی بھئی۔ اور نیز جب یہ رہنمائی کرے، وہ جس کی رہنمائی کی ہے وہ بھی اس کی بات مان لے کہ ہاں واقعی اس کے پیچھے کیا ہے؟ اور اس کو پہلے اس کا پتہ نہ ہو، اگر اس کو پہلے سے ہی پتہ ہے تو بھی اس رہنمائی کی وجہ سے جزا واجب نہیں ہوگی۔ قیودات سمجھ میں آ رہی ہیں بھئی؟ کہ وہ اس کی تصدیق بھی کرے اور اس کو پہلے سے پتہ بھی نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”والدلالة الموجبة للجزاء“ اور وہ رہنمائی جو جزا کو واجب کرنے والی ہے وہ یہ ہے: ”أَنْ لَا يَكُونَ الْمَدْلُولُ عَالِمًا بِمَكَانِ الصَّيْدِ، وَأَنْ يُصَدِّقَهُ فِي الدَّلَالَةِ“ کہ وہ کہ جس کی رہنمائی کی گئی وہ اس شکار کی جگہ کو جاننے والا نہ ہو اس کو پہلے پتہ نہ ہو، اور یہ کہ وہ اس کی تصدیق کرے رہنمائی میں کہ اس کی بات مان لے۔ ”حَتَّى لَوْ كَذَّبَهُ“ یہاں تک کہ اگر اس مدلول نے اس دال کی بات کو جھٹلا دیا—اس نے محرم نے تو بتایا دوسرے کو کہ فلاں جگہ اس کے پیچھے شکار ہے، لیکن اس نے اس کی بات مانی نہیں، اس کی بات کا یقین ہی نہیں کیا تو یعنی جھٹلا دیا—اور دوسرے نے پھر بتایا کہ بھئی اس جھاڑی کے پیچھے شکار ہے، تو محرم کی بات اس نے نہیں مانی تھی دوسرے کی بات مان لی، تو اس صورت میں اس محرم پر جو ہے جزا نہیں آئے گی کیونکہ اس نے اس کی بات نہیں مانی۔ یہ معنی ہے کہ مدلول کو پتہ نہ ہو شکار کی جگہ کا، اور یہ کہ وہ دلالت کے اندر اس کی تصدیق بھی کرے، ”حتى لو كذبه“ ”وَصَدَّقَ غَيْرَهُ لَا ضَمَانَ عَلَى الْمُكَذَّبِ“ یہاں تک کہ اگر اس مدلول نے اس محرم کو جھٹلا دیا اور اس کے علاوہ کی تصدیق کر دی، ”فلا ضمان على المكذب“ تو وہ جس کو جھٹلایا گیا ہے یعنی وہ محرم جس کو جھٹلایا گیا ہے اس پر ضمان نہیں ہے۔ ”وَلَوْ كَانَ الدَّالُّ حَلَالًا فِي الْحَرَمِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ شَيْءٌ لِمَا قُلْنَا“ اور اگر وہ دلالت کرنے والا وہ حلال تھا حرم کے اندر، تو اس پر بھی کوئی چیز نہیں ہے ”لما قلنا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہی کہ اس نے اپنے حلال نے تو اپنے اوپر کسی کا التزام کسی چیز کا التزام نہیں کیا۔ سمجھ میں آیا؟ حرم کے اندر شکار ممنوع ہے، اور بات صرف دلالت کی ہو رہی ہے۔ تو محرم کی تو دلالت بھی حرام ہے، لیکن حلال کی دلالت حرام نہیں ہے بھئی۔ ہاں اگر حلال حرم کے اندر شکار کرے گا تو اس پر بھی جزا ائے گی، لیکن یہاں شکار کی بات نہیں ہو رہی بلکہ حلال کی صرف دلالت کی بات ہو رہی ہے۔ یہ معنی ہے: ”ولو كان الدال حلالاً في الحرم لم يكن عليه شيء لما قلنا“ اگر دلالت کرنے والا حلال ہوا حرم میں تو اس پر کوئی چیز نہیں اس وجہ سے جو ہم نے کہی کہ اس نے کسی چیز کا اپنے اوپر التزام نہیں کیا۔ ”وَسَوَاءٌ فِي ذَلِكَ الْعَامِدُ وَالنَّاسِي“ اور برابر ہے اس کے اندر جان بوجھ کر کرنے والا اور بھولنے والا، یعنی وجوبِ ضمان کے اندر دونوں برابر ہیں۔ چاہے جان بوجھ کر اس کو احرام یاد تھا پھر بھی اس نے کیا کیا ہے؟ شکار کیا ہے یا اس پر رہنمائی کی ہے، یا چاہے بھول کر اس نے شکار کیا ہے احرام یاد ہی نہیں تھا بھول کر شکار کر لیا یا شکار پر رہنمائی کر دی، دونوں کا یہی حکم ہے، دونوں پر جزا واجب ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وسواء في ذلك العامد والناسي“ اور برابر ہیں اس کے اندر جان بوجھ کر کرنے والا اور بھولنے والا، ”لِأَنَّهُ ضَمَانٌ يَعْتَمِدُ وُجُوبُهُ الْإِتْلَافَ فَأَشْبَهَ غَرَامَاتِ الْأَمْوَالِ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا ضمان ہے ”يعتمد وجوبه“ کہ اعتماد ہے اس کے واجب ہونے کا ”الإتلاف“ اتلاف پر، تلف کر دینے پر۔ یہ ایسا ضمان ہے جس کا جس کے وجوب کا اعتماد تلف کرنے پر ہے، یعنی جس کا وجوب کس وجہ سے آتا ہے؟ تلف کر دینے کی وجہ سے آتا ہے۔ لہٰذا جب تلف کرے گا جانور کو چاہے جان بوجھ کر اس کو ہلاک کرتا ہے چاہے بھول کر اس کو ہلاک کرتا ہے، دونوں صورتوں میں کیا ائے گا؟ ضمان آئے گا، تو اس کا تو معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”لأنه ضمان يعتمد وجوبه الإتلاف“ اس لیے کیونکہ یہ ایسا ضمان ہے جس کے وجوب کا اعتماد جو ہے وہ اتل تلف کر دینے پر ہے بھئی، تو جب تلف کرنا پایا جائے گا تو اس کا وجوب آ جائے گا چاہے جان بوجھ کر تلف کیا ہے چاہے بھولے سے تلف کیا ہے۔ ”فأشبه غرامات الأموال“ تو یہ مالی تاوان جو ہیں مالی ضمان جو ہیں اس کے مشابہ ہوا۔ کس کے مشابہ ہوا؟ مالی ضمان کے مشابہ ہوا۔ کوئی شخص دوسرے شخص کی چیز تلف کر دے، ضائع کر دے، ہلاک کر دے، چاہے ارادے کے ساتھ کرے چاہے بغیر بھولے سے کرے، دونوں صورتوں میں ضمان آتا ہے یا نہیں آتا؟ ضمان اس پر آتا ہے۔ تو یہاں پر بھی جب ایک جانور کو تلف کیا ہے اس نے چاہے جان بوجھ کر کیا چاہے بھولے سے کیا، دونوں صورتوں میں ضمان آئے گا۔ ”وَالْمُبْتَدِئُ وَالْعَائِدُ سَوَاءٌ“ اور مبتدی اور عائد برابر ہیں۔ مبتدی پہلی مرتبہ کرنے والا اور عائد لوٹ کر کرنے والا۔ ”لِأَنَّ الْمُوجِبَ لَا يَخْتَلِفُ“ اس لیے کیونکہ موجب بدلتا نہیں ہے دونوں صورتوں میں۔ مبتدی اور عائد برابر ہیں، پہلی مرتبہ جنایت کرنے والا ہو چاہے دوسری مرتبہ جنایت کرنے والا ہو، دونوں برابر ہیں ”لأن الموجب لا يختلف“ اس لیے کیونکہ واجب کرنے والی چیز وہ مختلف نہیں ہوتی وہ بدلتی نہیں ہے۔ واجب کرنے والی کیا چیز تھی؟ کس وجہ سے اس پر ضمان آیا تھا؟ ابھی آیا ایک سطر پہلے، پچھلی سطر میں آیا: اتلاف کی وجہ سے، تلف کرنے کی وجہ سے۔ تو چاہے تلف کرنے والا ابتداءً تلف کرنے والا ہے چاہے لوٹ کر تلف کرنے والا ہے، دونوں صورتوں میں کیا پایا گیا؟ اتلاف تو پایا گیا، تو اتلاف تو بدل نہیں رہا، دونوں صورتوں میں اتلاف پایا جا رہا ہے اور اتلاف ہی تو موجب تھا واجب کرنے والا تھا، تو وہ واجب کرنے والی چیز دونوں صورتوں میں پائی جا رہی ہے بدل نہیں رہی تو لہٰذا دونوں اس میں ضمان ائے گا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو موجب سے کیا مراد ہے؟ اتلاف، تلف کرنا۔ ”لأن الموجب لا يختلف“ اس لیے کیونکہ موجب واجب کرنے والی چیز جو ہے وہ مختلف نہیں ہے۔ ”وَالْجَزَاءُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يُقَوَّمَ الصَّيْدُ فِي الْمَكَانِ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ أَوْ فِي أَقْرَبِ الْمَوَاضِعِ مِنْهُ إِذَا كَانَ فِي بَرٍّ فَيُقَوِّمُهُ ذَوَا عَدْلٍ، ثُمَّ هُوَ مُخَيَّرٌ فِي الْفِدَاءِ“ اب جزا کیا ائے گی شکار کی؟ تو یاد رکھیے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک جزا یہ ہے کہ ”أن يقوم الصيد“ کہ قیمت لگائی جائے گی شکار کی ”في المكان الذي قتل فيه“ اسی جگہ میں جہاں پر اس کو قتل کیا گیا، جہاں پر اس کو اس مقام پر اس کی قیمت لگائی جائے گی کہ یہ کتنی قیمت والا جانور ہے۔ اور اگر وہ جنگل ہے تو پھر اس کے جو قریب ترین جو آبادی ہوگی جو جگہ ہوگی وہاں پر اس کی قیمت لگوائی جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”أن يقوم الصيد في المكان الذي قتل فيه أو في أقرب المواضع منه إذا كان في بر“ کہ قیمت لگائی جائے گی شکار کی اسی جگہ میں جہاں اس کو قتل کیا گیا یا جو اس کے قریب ترین جگہ ہے جبکہ وہ کہاں پر ہو؟ جنگل میں ہو شکار۔ ”فيقومه ذوا عدل“ تو اس کی قیمت لگائیں گے دو عادل آدمی، دو قابلِ اعتماد آدمی بھئی، جو اس چیز کو ان کی قیمت وغیرہ کا اندازہ لگانا جو جانتے ہیں قیمت کو، تو وہ قیمت لگائیں گے۔ ”ثم هو مخير“ پھر وہ شکار کرنے والا جو ہے اس کو اختیار ہے ”في الفداء“ فدیہ دینے کے اندر، فدیہ دینے کے اندر۔ ”إِنْ شَاءَ ابْتَاعَ بِهَا هَدْيًا وَذَبَحَهُ إِنْ بَلَغَتْ هَدْيًا، وَإِنْ شَاءَ اشْتَرَى بِهَا طَعَامًا وَتَصَدَّقَ عَلَى كُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ، وَإِنْ شَاءَ صَامَ“ اس کو اختیار ہے چاہے تو مثلاً انہوں نے قیمت لگا لی اس شکار کی ان دو عادل آدمیوں نے، تو اگر وہ قیمت ایک ہدی کو پہنچتی ہے یعنی قربانی کے جانور تک پہنچتی ہے وہ قیمت، تو قربانی کا جانور چاہے تو وہ خرید کر کیا کر دے؟ وہ حرم میں ذبح کروا دے۔ اور چاہے تو اس کے بدلے میں اتنے پیسوں کے غلہ اس کا خرید لے، اور ہر مسکین کو نصف صاع گندم دے دے یا ایک صاع کھجور یا جو کا دے دے۔ اور چاہے تو پھر روزے رکھ لے، یعنی ہر نصف صاع گندم کے بدلے ایک روزہ رکھ لے، جتنے بھی صاع بنتے ہیں تو اتنے ہی اسی حساب سے روزے ہو جائیں گے۔ تفصیل سمجھ میں آئی؟ کہ قیمت لگائیں گے اور اگر قیمت کس کو پہنچتی ہے؟ قربانی کے جانور کو، تو چاہے تو اس کی قربانی کروا دے اور چاہے اس کی قیمت کا غلہ خرید کر کیا کر دے؟ وہ فقراء میں تقسیم کر دے، لیکن تقسیم کس طرح کرنا ہے؟ ہر فقیر کو اس میں سے نصف صاع گندم دے یا ایک صاع کھجور اور کھجور یا جو دے دے، اور چاہے تو کیا کرے؟ ان میں سے ہر ایک کے بدلے روزہ رکھ لے۔ تو کہتے ہیں: ”ثم هو مخير في الفداء“ پھر وہ جو شکار کرنے والا ہے اس کو اختیار ہے فدیہ دینے میں، ”إن شاء ابتاع بها هدياً وذبحه“ اگر چاہے تو خرید لے اس قیمت کے بدلے میں ہدی کو یعنی قربانی کے جانور کو اور اس کو ذبح کر دے، لیکن کہاں ذبح کرے گا؟ حرم میں، حرم میں۔ ”إن بلغت هدياً“ اگر اس کی قیمت جو ہے ہدی کو پہنچتی ہو، ”وإن شاء اشترى بها طعاماً“ اور اگر چاہے تو اس کے بدلے غلہ خرید لے ”وتصدق على كل مسكين نصف صاع من بر“ اور صدقہ کرے ہر مسکین پر نصف صاع گندم میں سے ”أو صاعاً من تمر أو شعير“ یا ایک صاع کھجور یا جو میں سے ہر مسکین کو دے دے، ”وإن شاء صام“ اور اگر چاہے تو روزے رکھے ”عَلَى مَا نَذْكُرُ“ بوجہ اس کے جو ہم ذکر کریں گے، آگے دلیلیں وغیرہ آئیں گی۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: تَجِبُ فِي الصَّيْدِ النَّظِيرُ فِيمَا لَهُ نَظِيرٌ“ بھئی اوپر متن میں آیا شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک شکار کیے ہوئے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اور پھر فدیہ دینے والے کو اختیار ہے چاہے تو کیا کر دے؟ اگر ہدی تک قیمت پہنچتی ہے تو ہدی بھیج دے اور چاہے تو اس کی قیمت فقراء اور مساکین پر صدقہ کر دے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور ہر مسکین کو اتنی مقدار دینی ہے جو ذکر ہو گئی۔ جبکہ امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ شکار میں اس کا اس کی نظیر واجب ہوگی، اس کا مثل، یعنی جس قسم کا جانور شکار کیا ہے اس جیسا جانور اس پر واجب ہوگا۔ مثلاً اس نے ہرن شکار کیا ہے تو ہرن کے مثل جو ہے بھیڑ بکری ہے تو اس پر کیا واجب ہوگی؟ بھیڑ بکری واجب ہوگی۔ اور اسی طرح اگر اس نے شتر مرغ وغیرہ شکار کیا ہے تو شتر مرغ کے مثل بدنہ ہے بھئی، اس پر کیا واجب ہوگا؟ بدنہ واجب ہوگا یعنی ایک اونٹ یا گائے بیل وغیرہ بھئی۔ اور اگر اسی طرح اس نے جنگلی گدھا یا جنگلی گائے شکار کی ہے تو اسی کے مطابق گائے اس پر واجب ہوگی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وقال محمد والشافعي رحمهما الله تعالى تجب في الصيد النظير فيما له نظير“ امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ واجب ہوگا شکار کے اندر النظیر اس کا مثل، ”فيما له نظير“ ان چیزوں میں جن کا مثل ہے۔ جن کا مثل ہے: ”فَفِي الظَّبْيِ شَاةٌ“ پس ہرن کے اندر جو ہے بھیڑ بکری واجب ہوگی، ”وَفِي الضَّبُعِ شَاةٌ“ اور بجو کے اندر بھیڑ بکری ہوگی۔ ضبع یہ بجو کو کہتے ہیں، ہاں یہ بجو نام کتابوں میں اکثر آتا ہے لیکن معلوم نہیں بھئی یہ کیسا جانور ہے، ہاں اس کا دوسرا نام ضبع لگڑ بگڑ کو کہتے ہیں بھئی۔ چڑیا گھر آپ اگر گئے ہوں بھئی وہاں آپ کو یہ جانور دیکھنے کو ملے گا: لگڑ بگڑ بھئی۔ اب معلوم نہیں یہ بجو وہی جانور ہے، یہی لگڑ بگڑ کا دوسرا نام ہے یا یہ کوئی اور جانور ہے بھئی؟ تو اور یہ جو لگڑ بگڑ ہے یہ یاد رکھیے یہ کتے کی طرح کا ایک جانور ہے بھئی، کس کے مثل ہے؟ کتے کی طرح کا ایک جانور ہے، البتہ وحشی جانور ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وفي الضبع شاة“ اور لگڑ بگڑ کے اندر جو ہے بھیڑ بکری ہے، ”وَفِي الْأَرْنَبِ عَنَاقٌ“ اور خرگوش کے اندر عناق ہے۔ عناق کہتے ہیں بھیڑ بکری کا بچہ پہلے سال کے اندر، ابھی ایک سال کا نہیں ہوا پورا تو اس سے پہلے پہلے کیا کہلاتا ہے بھیڑ بکری کا بچہ؟ عناق کہلاتا ہے۔ تو کہتے ہیں خرگوش کے اندر عناق ہے، بھیڑ بکری کا ایک سالہ بچہ ہے۔ ”وَفِي الْيَرْبُوعِ جَفْرَةٌ“ یربوع بھئی، یہ کوئی چوہے کی خاص قسم ہے جس کے کہتے ہیں اگلے پاؤں چھوٹے ہوتے ہیں اور پچھلے پاؤں لمبے ہوتے ہیں۔ تو یربوع یہ جو جنگلی چوہا ہے اس کے اندر جفرۃ جفرہ ہے بھئی۔ جفرہ بھی بھیڑ بکری کا بچہ، لیکن جب چار ماہ اس کے پورے ہو جائیں پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ جفرۃ کہتے ہیں۔ اور تو یربوع جو ہے جنگلی چوہا جو ہے اس کے اندر چار ماہ کا بھیڑ بکری کا بچہ واجب ہے۔ ”وَفِي النَّعَامَةِ بَدَنَةٌ“ اور شتر مرغ کے اندر جو ہے بدنہ واجب ہے۔ ”وَفِي حِمَارِ الْوَحْشِ بَقَرَةٌ“ اور جنگلی گدھے کے اندر جو ہے بقرہ یعنی گائے بیل وغیرہ واجب ہے۔ ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: تو جزا ہے۔ بھئی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾، شکار کو قتل نہ کرو اس حال میں کہ تم حالتِ احرام میں ہو، اور جس نے قتل کیا اس کو تم میں سے جان بوجھ کر تو جزا ہے مثل ما قتل من النعم، اسی کے مثل جو اس نے قتل کیا، تو جزا ہے اسی کے مثل جو اس نے قتل کیا من النعم یعنی کہ چوپایہ، من النعم یعنی کہ چوپایہ۔ تو یہ دلیل چل رہی ہے امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کی بھئی۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ جس شکار کا مثل ہو اس کے اندر اس کا مثل واجب ہوگا، مثل واجب ہوگا۔ شیخین رحمہما اللہ تو کیا فرماتے ہیں؟ قیمت واجب ہوگی، یہ فرماتے ہیں اس کا مثل واجب ہوگا اور دلیل میں یہ آیت ذکر کرتے ہیں، اور اس آیت میں کیا آیا؟ ﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ ”من النعم“ بیان ہے مثل کا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہ وہ فرماتے ہیں یہ ”من النعم“ بیان ہے مثل کا۔ ”فجزاء مثل ما قتل“ تو جزا ہے اسی کے مثل جس کو اس نے قتل کیا، جس جانور کو اس نے قتل کیا اسی کے مثل، اور اسی کا مثل کیا ہے؟ ”من النعم“ یعنی کہ چوپایہ۔ تو چوپایوں میں سے جو مانوس جانور ہیں یعنی گائے، بیل، بکری وغیرہ ان میں سے دیکھو، جو اس قتل کیے مقتول کیے ہوئے جانور کا جو بھی اس کا مثل ہے وہ کیا ہوگا؟ بطورِ جزا کے ہوگا۔ تو معلوم ہوا ”من النعم“ کو کس کا بیان بنایا؟ مثل کا، کہ وہ مثل جو ہے وہ مویشیوں میں سے ہوگا، چوپایوں میں سے ہوگا۔ ”وَمِثْلُهُ مِنَ النَّعَمِ: مَا يُشْبِهُ الْمَقْتُولَ صُورَةً“ دیکھیے میں نے کیا بتلایا آپ کو؟ ”من النعم“ کس کا بیان ہے؟ مثل کا، دیکھیے آگے صاحبِ ہدایہ کی عبارت سے بھی یہی پتہ چل رہا ہے۔ ”ومثله من النعم“ اور اس کا مثل کس میں سے؟ چوپایوں میں سے، ”ما يشبه المقتول“ وہ ہے جو مشابہ ہو اس مقتول جانور کے یعنی جس کو شکار کیا گیا ہے، جو اس کے مشابہ ہو ”صورة“ باعتبار صورت کے۔ ”لِأَنَّ الْقِيمَةَ لَا تَكُونُ نَعَمًا“ اس لیے کیونکہ قیمت جو ہے وہ تو چوپایہ نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں تو کیا آیا؟ جزا کیا ہے؟ چوپایوں میں سے جو مثل ہے کس کے؟ اس شکار کے، اس مقتول کے جو مثل ہے، اور چوپایوں میں سے مقتول کے مثل کیا ہے؟ صورتاً جو اس کے مثل ہوگا اس کو دیکھا جائے گا، قیمت تو چوپایہ نہیں ہے حالانکہ اس مثل کا کس میں سے ہونا ضروری؟ ”من النعم“، چوپایوں میں سے ہونا ضروری ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ ”لأن القيمة لا تكون نعماً“ اس لیے کہ قیمت جو ہے وہ تو چوپایہ نہیں ہے۔ نیز ابھی دلیل چل رہی ہے: ”وَالصَّحَابَةُ أَوْجَبُوا النَّظِيرَ مِنْ حَيْثُ الْخِلْقَةِ وَالْمَنْظَرِ فِي النَّعَامَةِ وَالظَّبْيِ وَحِمَارِ الْوَحْشِ وَالْأَرْنَبِ عَلَى مَا بَيَّنَّا“ یا اس کا عطف الصحابہ کا عطف قیمت پر کریں تو یہ منصوب پڑھیں: ”والصحابةَ أوجبوا النظير من حيث الخلقة والمنظر في النعامة والظبي وحمار الوحش والأرنب على ما بينا“۔ تو صحابہ کا عطف ہم نے کس پر کیا؟ قیمت پر، اور یہ ”أنّ“ کا اسم ہے، تو دلیل پھر پیچھے سے دیکھیں: ”لأن القيمة لا تكون نعماً“ اس لیے کیونکہ قیمت جو ہے وہ چوپایہ نہیں، اور نیز اس لیے کیونکہ صحابہ نے واجب کیا ہے مثل کو ہی ”من حيث الخلقة والمنظر“، مثل کس حیثیت سے؟ خلقت پیدائش، ”والمنظر“ اور صورت، صحابہ نے پیدائش اور صورت کے اعتبار سے مثل کو واجب کیا ہے کس کے اندر؟ ”في النعامة“ شتر مرغ میں، نعامہ یہ نون پر پیش غلط لگی ہوئی ہے بھئی نون پر زبر ہے، شتر مرغ میں، ”والظبي“ اور ہرن میں، ”وحمار الوحش“ اور جنگلی گدھے میں، ”والأرنب“ اور خرگوش میں، ”على ما بينا“ اسی طریقے پر جو ہم نے بیان کر دیا۔ صحابہ نے بھی پیدائش اور صورت کے اعتبار سے مثل کو واجب کیا ہے کس کے اندر؟ شتر مرغ میں، ہرن میں، اور جنگلی گدھے میں، اور خرگوش میں۔ معلوم ہوا کہ جن جانوروں کا مثل ہے ان میں مثل واجب ہوگا۔ اور نیز دلیل ان کی، حضور علیہ السلام کا قول بھی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: الضَّبُعُ صَيْدٌ وَفِيهِ كَبْشٌ“ حضور علیہ السلام نے فرمایا: کہ ضبع جو ہے وہ شکار ہے، ”وفيه شاة“ اور اس کے اندر بھیڑ بکری واجب ہے۔ حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں کہ ضبع شکار ہے اور اس کے اندر بھیڑ بکری واجب ہے، تو دیکھیے یہ بھیڑ بکری یہ صورت اور خلقت کے اعتبار سے اس کے مثل ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا کس کا اعتبار کیا جائے گا؟ جن جانوروں کا مثل ممکن ہے ان میں ان کا مثل واجب ہوگا بھئی۔ ”وَمَا لَيْسَ لَهُ نَظِيرٌ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَجِبُ الْقِيمَةُ كَالْعُصْفُورِ وَالْحَمَامِ وَأَشْبَاهِهِمَا“ اور وہ جانور جن کی نظیر یا جن کا مثل نہیں ہے ”عند محمد رحمه الله تجب القيمة“ ان میں قیمت واجب ہوگی، ”مثل العصفور والحمام وأشباههما“ جیسے کہ چڑیا ہے اور کبوتر ہے اور جو ان دونوں کے مشابہ اور جانور ہیں۔ ”وَإِذَا وَجَبَتِ الْقِيمَةُ كَانَ قَوْلُهُ كَقَوْلِهِمَا“ اور جب قیمت واجب ہو تو امام محمد رحمہ اللہ کا قول بھی شیخین رحمہما اللہ کے قول کی طرح ہو گیا۔ امام محمد رحمہ اللہ کا قول کیا ہوا؟ جن جانوروں کا مثل ممکن ہے ان میں مثل واجب ہوگا، اور جن کا مثل ممکن نہیں ان میں قیمت واجب ہوگی۔ تو جن جانوروں کا مثل نہیں ان میں امام محمد رحمہ اللہ کا قول بھی کس کی طرح ہوا؟ شیخین رحمہما اللہ کے قول کی طرح ہوا۔ یہ معنی ہے: ”وإذا وجبت القيمة كان قوله كقولهما“ اور جب قیمت واجب ہوگی تو امام محمد رحمہ اللہ کا قول بھی شیخین رحمہما اللہ کے قول کی طرح ہوا۔ ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُوجِبُ فِي الْحَمَامَةِ شَاةً، وَيُثْبِتُ الْمُشَابَهَةَ بَيْنَهُمَا مِنْ حَيْثُ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَعُبُّ وَيَهْدِرُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کبوتر میں بھیڑ بکری واجب قرار واجب فرماتے ہیں، اور وہ ان کے درمیان ان دونوں کے درمیان مشابہت ثابت کرتے ہیں: ”من حيث أن كل واحد منهما يعب ويهدر“ اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ ”يعب“۔ عَبَّ يَعُبُّ کے معنی ہوتے ہیں کبوتر وغیرہ یا جانور کا پانی کو منہ لگا کر پانی پینا۔ بھئی عام پرندے اگر آپ نے دیکھے ہوں، وہ جب پانی پیتے ہیں تو پانی میں چونچ داخل کرتے ہیں، چونچ میں پانی بھرتے ہیں، اور پھر سر اوپر کی طرف اٹھا کر اس پانی کو نگلتے ہیں۔ پھر دوبارہ پانی میں چونچ ڈبوتے ہیں اور پھر چونچ اوپر اٹھا کر پانی نگلتے ہیں یعنی ایک ایک گھونٹ یوں کہیں پیتے ہیں۔ جبکہ کبوتر کو اگر آپ نے غور کیا ہو تو وہ پانی پر جب منہ لگا لیتا ہے تو عام بکری وغیرہ جس طرح پانی پیتے ہیں، پانی مسلسل پیتا چلا جاتا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو کبوتر کی مشابہت آ گئی بھیڑ بکری کے ساتھ کس چیز میں؟ پانی پینے کے اندر۔ اور اسی طرح ”يهدر“، ہدر آواز کو کہتے ہیں بھئی، کبوتر وغیرہ کی آواز۔ آواز کے اندر بھی ان کی کچھ مشابہت ہے بھئی، ان کی آواز میں بھی کبوتر جس طرح کی آواز نکالتا ہے یہ اسی طرح کیا ہے؟ بھیڑ بکری بھی اسی طرح آواز کے اندر بھی ان کی مشابہت ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں: ”يثبت المشابهة بينهما“ وہ ان دونوں کے درمیان مشابہت ثابت کرتے ہیں ”من حيث أن كل واحد منهما يعب ويهدر“ اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک جو ہے ”يعب“ وہ منہ لگا کر مسلسل پانی پیتا ہے، ”ويهدر“ اور آواز نکالتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ خلاصہ کیا ہوا یہاں تک کہ امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک جن جانوروں کا مثل ہے ان میں ان کا مثل واجب ہوگا۔ اب آگے شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آ رہی ہے۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ أَنَّ الْمِثْلَ الْمُطْلَقَ هُوَ الْمِثْلُ صُورَةً وَمَعْنًى، وَلَا يُمْكِنُ الْحَمْلُ عَلَيْهِ فَحُمِلَ عَلَى الْمِثْلِ مَعْنًى“ یہاں سے بھئی شیخین رحمہما اللہ کی دلیل آ رہی ہے۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں، بھئی بلکہ اس سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ ایک ہے مثلِ صوری اور ایک ہے مثلِ معنوی۔ مثلِ صوری تو وہ انہی کے مثل جو جانور ہو، جیسے ابھی گزرا: ہرن کا مثلِ صوری کیا ہے؟ بھیڑ بکری، کیونکہ یہ صورتاً اس کے مثل ہے۔ خرگوش کا مثلِ صوری کیا ہے؟ بھیڑ بکری کا بچہ، کیونکہ یہ اس کے مثل ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے مثلِ صوری جو صورتاً اس کے مثل ہو۔ اور ایک ہے مثلِ معنوی، یاد رکھیے مثلِ معنوی قیمت کو کہتے ہیں کیونکہ کسی چیز کی جو قیمت ہوتی ہے وہ اس کے مثل ہوتی ہے، صورتاً تو بے شک اس کے مثل نہیں لیکن معنی کے اعتبار سے یہ اس کے مثل ہے اس کے برابر ہی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مثلِ صوری جو اسی کے مثل جانور ہو، اور مثلِ معنوی کسے کہیں گے؟ قیمت کو کہیں گے۔ تو شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آیت کے اندر مطلقاً مثل کا ذکر آیا، مثل کے ساتھ کوئی قید نہیں کہ مثلِ صوری مراد ہے یا مثلِ معنوی۔ لیکن مطلقاً مثل کا ذکر آیا، اور ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“، تو اس سے فردِ کامل مراد ہوتا ہے، اور کامل مثل کیا ہے کہ صورتاً بھی اس چیز کے مثل ہو اور معناً بھی اس کے مثل ہو، یعنی مثلِ صوری کہیں، کیا کہیں؟ مثلِ صوری کہیں۔ لیکن مثلِ صوری پر یہاں ہم اس کو محمول نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ مثلِ صوری ابھی اوپر جیسے بیان ہوا کچھ جانوروں کا تو مثلِ صوری ممکن ہے اور کچھ جانور تو ایسے ہیں جن کا مثلِ صوری ممکن ہی نہیں ہے جیسے چڑیا اور کبوتر وغیرہ۔ تو جب مثلِ صوری سب میں ممکن نہیں ہے تو اس پر محمول کرنا بھی ممکن نہ رہا، بلکہ پھر کس پر محمول کیا جائے گا؟ مثلِ معنوی پر، کیونکہ مثلِ معنوی تو سب میں ممکن ہے لیکن مثلِ صوری تو سب میں ممکن نہیں ہے، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”ولأبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أن المثل المطلق هو المثل صورة ومعنى“ کہ مثلِ مطلق جو ہے وہ ہے جو مثل ہو باعتبار صورت کے بھی اور باعتبار معنی کے بھی یعنی باعتبار قیمت کے بھی، ”ولا يمكن الحمل عليه“ اور اس پر تو محمول کرنا ممکن نہیں ہے کہ آیت کے اندر جو مثل آیا اس سے کیا مراد لیا جائے؟ مثلِ صوری یعنی جو صورتاً بھی اس کے مثل ہے اور معناً بھی اس کے مثل ہے، اس پر تو محمول کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ بعض جانوروں کا تو مثلِ صوری ہے ہی نہیں، ”فحمل على المثل معنى“ تو اس محمول کیا جائے اس کو کس پر؟ مثلِ معنوی پر۔ ”لِكَوْنِهِ مَعْهُودًا فِي الشَّرْعِ كَمَا فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ“ اس لیے کیونکہ وہ معلوم ہے شریعت میں، ”كما في حقوق العباد“ جیسے کس کے اندر؟ حقوق حقوق العباد کے اندر ہے۔ حقوق العباد کے اندر بھی ایک شخص دوسرے شخص کی کوئی چیز تلف کر دیتا ہے، اس کو ضائع کر دیتا ہے، اور اس چیز کا مثل نہیں ہوتا تو پھر کیا اتی ہے اس کی؟ قیمت اتی ہے بھئی، تو یہاں بھی قیمت ائے گی۔ یہ معنی ہے: ”كما في حقوق العباد“ جیسے حقوق العباد کے اندر ہے۔ ”أَوْ لِكَوْنِهِ مُرَادًا بِالْإِجْمَاعِ“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل بھئی اوپر ایک تو ذکر ہو گیا کہ مثلِ مطلق آیا اور مثلِ مطلق سے کون سا مثل مراد ہوگا؟ مثلِ صوری، لیکن اس پر محمول کرنا ممکن نہیں ہے تو اس وجہ سے کس پر محمول کیا جائے گا؟ مثلِ معنوی پر، یا تو اس وجہ سے، یا ”أو لكونه مراداً بالإجماع“ یا اس وجہ سے مثلِ معنوی پر محمول کیا جائے گا کیونکہ وہ بالاجماع مراد ہے۔ مثلِ معنوی کیا ہے یعنی قیمت بالاجماع مراد ہے، حتیٰ کہ وہ جانور جن کا مثل نہیں ملتا ان میں ابھی اوپر گزرا امام محمد رحمہ اللہ بھی کیا فرماتے ہیں؟ ان کی قیمت ائے گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ بالاجماع مراد ہے۔ ”أَوْ لِمَا فِيهِ مِنَ التَّعْمِيمِ، وَفِي ضِدِّهِ التَّخْصِيصُ“ یا اس وجہ سے مثلِ معنوی مراد لیں گے کہ اس میں تعمیم ہے، اس صورت میں آیت کے اندر کیا ائے گی؟ تعمیم۔ بھئی دیکھیے، آیت کے اندر مثل کا لفظ ایا، اگر اس سے مثلِ صوری مراد لیں جو صورتاً مثل ہو، تو صورتاً مثل پھر تو یہ تو ہر جانور کا نہیں ملتا، تو اس کا مطلب ہے وہ جانور جن کا مثلِ صوری نہیں ملتا آیت ان کے بارے میں خاموش ہے، آیت میں صرف کس کا ذکر ہے؟ جن کا مثلِ صوری ملتا ہے۔ تو معلوم ہوا جن کا مثل نہیں ملتا وہ ان کا ذکر آیت میں نہیں، تو آیت میں معلوم ہوا تخصیص ہے۔ اور اگر اس سے کیا مراد لیں مثل سے؟ مثلِ معنوی یعنی قیمت مراد لیں، تو پھر آیت کے اندر تعمیم آ گئی، اب ہر جانور کا حکم اس کے اندر آ گیا کیونکہ قیمت تو ہر جانور کی معلوم ہو سکتی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”أو لما فيه من التعميم“ یا اس لیے کیونکہ مثلِ معنوی کے اندر تعمیم ہے، ”وفي ضده التخصيص“ اور مثلِ معنوی کی ضد یعنی مثلِ صوری کے اندر تخصیص ہے، اس صورت میں آیت کے اندر تخصیص ہوگی۔ ”وَالْمُرَادُ بِالنَّفْسِ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور نفس اور نص سے مراد جو ہے، واللہ اعلم اور اللہ خوب جاننے والے ہیں، یہ اب آیت کا دوسرا معنی کریں گے۔ بھئی اوپر امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ نے آیت کا جو معنی کیا تھا، ”من النعم“ کو کس کا بیان بنایا تھا؟ مثل کا، مثل کا۔ اب آگے شیخین رحمہما اللہ کے قول کے مطابق صاحبِ ہدایہ آیت کا ترجمہ کریں گے اور ”من النعم“ کو ”ما قتل“ کا بیان بنائیں گے، کس کا بیان؟ ”ما قتل“ کا۔ ”ما قتل“ وہ جانور جس کو اس نے قتل کیا ہے ”من النعم“ چوپائے میں سے یعنی شکار میں سے، کس میں سے؟ ترجمہ پہ نظر ہے بھئی؟ ﴿فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ تو جزا ہے مثل اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے ”من النعم“ یعنی کہ وہ جو وحشی چوپایا تھا، یعنی وہ جو شکار تھا جس کو اس نے قتل کیا ہے اس کا مثل واجب ہوگا۔ تو اب ”من النعم“ کس کا بیان ہوا؟ ”ما قتل“ کا۔ ترجمے میں فرق بھی سمجھ ا رہا ہے کہ نہیں؟ ”ما قتل من النعم“ وہ جانور جس کو اس شخص نے قتل کیا ہے، کس میں سے؟ ”من النعم“، ای من النعم الوحشی، نعمِ وحشی یعنی وحشی چوپائے میں سے۔ یعنی جس وحشی چوپائے کو اس شخص نے قتل کیا ہے اس کا مثل واجب ہوگا، اس کا مثل واجب ہوگا، اور اس کا مثل کیا ہے؟ مثلِ صوری بھی ہو سکتا ہے اور مثلِ معنوی بھی، لیکن ہم نے بتلا دیا کیا مراد ہے مثل سے؟ مثلِ معنوی، اور مثلِ معنوی کیا ہے؟ قیمت، کیا ہے؟ قیمت۔ تو گویا آیت یوں ہوئی: مثل کا لفظ اٹھائیں اب ذرا اس کی جگہ قیمت کا لفظ رکھ دیں: ”فجزاءٌ قيمة ما قتل من النعم الوحشي“۔ اب عبارت پر نظر ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”والمراد بالنص“ اور نص سے مراد جو ہے، ”والله أعلم“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں: ”فَجَزَاءٌ قِيمَةُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ الْوَحْشِيِّ“ تو جزا ہے قیمت اس جانور کی جس کو اس نے قتل کیا ہے وحشی چوپائے میں سے، جس وحشی چوپائے کو اس نے قتل کیا ہے اس کی قیمت ہے، اس کی قیمت ہے۔ درمیان میں ”والله أعلم“ کہہ کر صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ ہم تو یہ معنی سمجھے ہیں اس لیے ہم نے کہا کہ مثل سے قیمت مراد ہے، باقی اللہ کی مراد کیا ہے وہ اللہ ہی جاننے والے ہیں، اسی لیے درمیان میں کہا: ”والله أعلم“ اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ تو خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ جو ہیں ”من النعم“ کو مثل کا بیان بناتے ہیں، ”من النعم“ کو؟ تو معلوم ہوا اس مثل کا چوپایا ہونا ضروری ہے، آیت سے کیا پتہ چلا؟ وہ جو مثل واجب ہوگا وہ کیا ہوگا؟ چوپایا ہوگا، تو معلوم ہوا مثل سے مثلِ صوری مراد ہے۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ”من النعم“ یہ بیان ہے ”ما قتل“ کا کہ وہ مقتول کس میں سے ہے؟ وحشی چوپایوں میں سے ہے، اس کا مثل واجب ہوگا، اور مثل مثلِ صوری بھی ہو سکتا ہے اور مثلِ معنوی بھی، لیکن مثلِ صوری سب میں مراد لے نہیں سکتے جیسے کبوتر اور چڑیا وغیرہ، تو مثلِ معنوی ہی مراد دینا پڑے گا کیونکہ وہ ہر ایک میں درست ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ وہ ہر ایک میں مراد لے سکتے ہیں۔ اب اشکال ہوتا ہے کہ صاحبِ ہدایہ آپ نے دلیل کے اندر نعم سے کیا مراد لیا؟ شکار، کیا مراد لیا؟ حالانکہ نعم کا لفظ تو مانوس پالتو جانوروں پر ہوتا ہے، جو پالتو چوپائے ہیں گائے، بیل، بکری، اونٹ وغیرہ ان پر اس کا اطلاق ہوتا ہے، وحشی جانور یعنی شکار پر تو اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ تو اس کی بھی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ نہیں بھئی، وحشی جانور پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَاسْمُ النَّعَمِ يُطْلَقُ عَلَى الْوَحْشِيِّ وَالْأَهْلِيِّ، كَذَا قَالَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ وَالْأَصْمَعِيُّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور نعم کا یعنی چوپائے کا اسم جو ہے اس کا اطلاق وحشی اور پالتو دونوں جانوروں پر ہوتا ہے۔ ”كذا قاله أبو عبيد“ ہے اپ کی کتابوں میں؟ ابو عبیدہ، اخر میں گول تا ہونی چاہیے بھئی، گول تا: ”كذا قاله أبو عبيدة والأصمعي رحمهما الله تعالى“۔ اسی طرح فرمایا ہے ابو عبیدہ اور امام اصمعی نے۔ بھئی انہوں نے ذکر کر دیا کہ نعم کا نام جو ہے اس کا اطلاق وحشی پر بھی ہوتا ہے اور پالتو جانور، وحشی جانوروں پر بھی اور پالتو جانوروں دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے بھئی، دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ امام ابو عبیدہ نے بھی ذکر کی ہے اور امام اصمعی نے بھی ذکر کی ہے، دونوں نے ذکر کی ہے، اور یہ دونوں امام ہیں عربی زبان کے، لغتِ عربی کے امام ہیں، تو انہوں نے ذکر کیا ہے کہ نعم کا لفظ جو ہے یہ وحشی اور پالتو دونوں قسم کے چوپایوں پر بولا جاتا ہے۔ ”وَالْمُرَادُ بِمَا رُوِيَ: التَّقْدِيرُ بِهِ دُونَ إِيجَابِ الْمُعَيَّنِ“ اچھا بھئی اوپر حدیث بھی دلیل کے طور پر ذکر فرمائی تھی امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ نے کہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا: ”الضبع صيد وفيه شاة“، اور اس کے اندر بھیڑ بکری واجب ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ حدیث کے اندر جو بھیڑ بکری جو ہے وہ بطورِ تعین کے واجب نہیں کی گئی کہ بھیڑ بکری ہی دینا پڑے گی، بلکہ بھیڑ بکری کو باعتبار قیمت کے ذکر قیمت کے طور پر ذکر کیا گیا کہ اس کی قیمت کس کے برابر ہوتی ہے؟ بھیڑ بکری کی قیمت کے برابر ہوتی ہے بھئی، تو اس لیے وہاں بھیڑ بکری کو ذکر کیا گیا، یہ نہیں کہ بھیڑ بکری ہی متعین ہے۔ تو کہتے ہیں: ”والمراد بما روي“ اور مراد اس سے جس کو روایت کیا گیا، ”التقدير به“ وہ اس کے ساتھ اندازہ لگانا ہے ”دون إيجاب المعين“ نہ کہ اس معین کا واجب کرنا ہے، یعنی بھیڑ بکری کا واجب کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ چلیے بس بھئی، ”هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام“۔