وَلَوْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَقَدْ طَافَهُ جُنُبًا عَلَيْهِ أَنْ يَعُودَ لِأَنَّ النَّقْصَ كَثِيرٌ فَيُؤْمَرُ بِالْعَوْدِ اسْتِدْرَاكًا لَهُ وَيَعُودُ بِإِحْرَامٍ جَدِيدٍ وَإِنْ لَمْ يَعُدْ وَبَعَثَ بَدَنَةً أَجْزَأَهُ لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ جَابِرٌ لَهُ إِلَّا أَنَّ الْأَفْضَلَ هُوَ الْعَوْدُ۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ حج کرنے والے نے طوافِ زیارت جو ہے وہ جنابت کی حالت میں کیا اور پھر اس کا اعادہ کیے بغیر ہی گھر واپس چلا گیا۔ تو اس پر واجب ہے کہ واپس آئے اور اس طواف کا اعادہ کرے بھئی۔ کیا کرے؟ اس... کیونکہ طوافِ زیارت فرض ہے، حج کا رکن ہے، تو نقصان جو آیا وہ بہت زیادہ آیا کہ اس نے اس طواف کو جنابت کی حالت میں کیا ہے، تو اس کی تلافی کے لیے اس کو واپس لوٹنے کا حکم دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: "وَلَوْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَقَدْ طَافَهُ جُنُبًا" اور اگر وہ شخص جو ہے وہ حج کرنے والا لوٹ گیا اپنے گھر والوں کی طرف اس حال میں کہ تحقیق اس نے طواف کیا تھا، طوافِ زیارت جنابت کی حالت میں، "عَلَيْهِ أَنْ يَعُودَ" تو اس پر واجب ہے کہ واپس لوٹے، "لِأَنَّ النَّقْصَ كَثِيرٌ" اس لیے کیونکہ نقصان جو ہے وہ بہت زیادہ ہے کہ طوافِ زیارت کو کس حالت میں کیا ہے؟ جنابت۔ تو نقصان بہت زیادہ ہے، "فَيُؤْمَرُ بِالْعَوْدِ" تو اس کو لوٹنے کا حکم دیا جائے گا، "اسْتِدْرَاكًا لَهُ" اس کی تلافی کرنے کے لیے، "وَيَعُودُ بِإِحْرَامٍ جَدِيدٍ" اور وہ لوٹے گا نئے احرام کے ساتھ۔ گھر چلا گیا تھا تو اب آئے گا تو؟ نئے احرام کے ساتھ آئے گا اور طوافِ زیارت کرے گا، اس کا اعادہ کرے گا۔ اور یاد رکھیے یہ نئے احرام کی شرط اس وقت ہوگی جب وہ میقات سے آگے نکل گیا ہو۔ اگر میقات کے اندر ہی ہے تو پھر احرامِ جدید کی ضرورت نہیں بھئی۔ "وَإِنْ لَمْ يَعُدْ وَبَعَثَ بَدَنَةً أَجْزَأَهُ" بھئی آپ پڑھ چکے طوافِ زیارت اگر جنابت کی حالت میں کوئی شخص کرے تو اس پر بدنہ واجب ہوتا ہے یعنی ایک اونٹ یا گائے، بیل وغیرہ بھئی۔ تو یہ شخص واپس چلا گیا ہے تو اس کو کیا حکم دیا جائے گا؟ واپس لوٹنے کا اور اس طواف کے اعادے کا حکم دیا جائے گا۔ لیکن اگر یہ واپس نہیں لوٹتا بلکہ بدنہ بھیج دیتا ہے تو بھی کافی ہے کیونکہ اس صورت میں کیا لازم آتا ہے؟ بدنہ لازم آتا ہے، اس سے اس کی تلافی ہو جاتی ہے تو یہ بھی صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ لَمْ يَعُدْ" اور اگر وہ واپس نہیں لوٹا، "وَبَعَثَ بَدَنَةً" اور اس نے بدنہ بھیج دیا، "أَجْزَأَهُ" تو یہ اس کے لیے کافی ہے، "لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ جَابِرٌ لَهُ" اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ یہ جو بدنہ ہے یہ اس کے لیے جابر ہے، اس کی تلافی کرنے والا ہے، "إِلَّا أَنَّ الْأَفْضَلَ هُوَ الْعَوْدُ" مگر یہ کہ افضل جو ہے وہ لوٹنا ہے۔ بدنہ بھیجنا بھی درست ہے لیکن افضل کیا ہے؟ خود واپس آئے اور اس طواف کا اعادہ کرے۔ "وَلَوْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَقَدْ طَافَ..." جی، اب دوسری صورت بھئی۔ ایک شخص نے طوافِ زیارت بے وضو ہونے کی حالت میں کیا تھا اور پھر گھر چلا گیا۔ پھر گھر چلا گیا۔ تو یہ اگر واپس آتا ہے اور آ کر پھر وضو کے ساتھ طوافِ زیارت کا اعادہ کر لیتا ہے تو بھی ٹھیک ہے، لیکن اس کے لیے افضل یہ ہے بھیڑ بکری کو بھیج دے۔ ماقبل میں جب جنابت کی حالت میں کیا تھا طوافِ زیارت تو وہاں افضل لوٹنا تھا، اور یہاں پر افضل کیا ہے؟ بھیڑ بکری کا بھیجنا، جب بے وضو ہونے کی حالت میں کیا ہو۔ تو کہتے ہیں: "وَلَوْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَقَدْ طَافَهُ مُحْدِثًا" اور اگر وہ حج کرنے والا لوٹ گیا اپنے گھر والوں کی طرف اس حال میں کہ اس نے طوافِ زیارت بے وضو ہونے کی حالت میں کیا تھا، "فَإِنْ عَادَ وَطَافَ جَازَ" اگر یہ واپس آ گیا اور طواف کر لیا تو جائز ہے، "وَإِنْ بَعَثَ بِالشَّاةِ فَهُوَ أَفْضَلُ" اور اگر اس نے بھیڑ بکری بھیج دی تو یہ افضل ہے، "لِأَنَّهُ خَفَّ مَعْنَى النُّقْصَانِ" اس لیے کیونکہ خفیف ہے نقصان کا معنی، نقصان کا معنی ہلکا ہے یعنی نقصان تھوڑا ہے، "وَفِيهِ نَفْعٌ لِلْفُقَرَاءِ" اور نیز اس کے اندر فقراء کا فائدہ۔ نقصان تھوڑا ہے لہٰذا واپس لوٹنا اس پر ضروری نہیں، اور بکری بھیجنا اس صورت میں افضل ہے کیونکہ اس میں فقراء کا فائدہ ہے بھئی۔ "وَلَوْ لَمْ يَطُفْ طَوَافَ الزِّيَارَةِ أَصْلًا حَتَّى رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَعُودَ بِذٰلِكَ الْإِحْرَامِ" صورت یہ کہ ایک شخص نے حج کے باقی افعال تو کیے لیکن طوافِ زیارت کیا ہی نہیں اور اس کے بغیر ہی گھر واپس چلا گیا۔ تو کہتے ہیں بھئی اس پر لوٹنا واجب ہے۔ واپس آئے اور آ کر کیا کرے؟ طوافِ زیارت کرے کیونکہ یہ طواف حج میں فرض ہے بھئی۔ اور جب تک یہ طواف نہیں کرے گا، اس وقت تک وہ بیویوں کے حق میں محرم ہی رہے گا یعنی ان سے صحبت نہیں کر سکتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ "وَلَوْ لَمْ يَطُفْ طَوَافَ الزِّيَارَةِ أَصْلًا" اور اگر حاجی نے طوافِ زیارت کیا ہی نہیں سرے سے، "حَتَّى رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ" یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ گیا، "فَعَلَيْهِ أَنْ يَعُودَ بِذٰلِكَ الْإِحْرَامِ" تو اس پر واجب ہے کہ وہ لوٹے اسی احرام کے ساتھ، اسی احرام کے ساتھ کیونکہ احرام تو ابھی ختم ہی نہیں ہوا تھا، "لِانْعِدَامِ التَّحَلُّلِ مِنْهُ" اس لیے کیونکہ اس احرام سے حلال ہونا معدوم ہے، "وَهُوَ مُحْرِمٌ عَنِ النِّسَاءِ أَبَدًا" اور وہ محرم ہے عورتوں سے ہمیشہ کے لیے، "حَتَّى يَطُوفَ" یہاں تک کہ طواف کر لے۔ جب تک طواف نہیں کرے گا آ کر، عورتوں سے کیا رہے گا؟ بیویوں سے محرم ہی رہے گا۔ "وَمَنْ طَافَ طَوَافَ الصَّدْرِ مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ" اور جس نے طوافِ صدر کیا، طوافِ صدر... صدر کا معنی ہے لوٹنا، وہی طوافِ وداع کا ایک نام کیا ہے؟ طوافِ صدر۔ تو جس نے طوافِ صدر یعنی طوافِ وداع کیا "مُحْدِثًا" اس حال میں کہ یہ بے وضو تھا، "فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ" تو اس پر صدقہ واجب ہے، "لِأَنَّهُ دُونَ طَوَافِ الزِّيَارَةِ" اس لیے کیونکہ یہ طواف جو ہے طوافِ زیارت سے کم درجے کا ہے۔ طوافِ زیارت تو فرض تھا اور طوافِ وداع کیا ہے؟ واجب ہے تو اس کا درجہ اس سے کم ہوا، اور طوافِ زیارت بے وضو کرتا تھا تو بھیڑ بکری واجب ہوتی تھی، تو اس کا درجہ اس سے کم ہے تو اس میں صدقہ واجب ہوگا۔ یہ معنی ہے "لِأَنَّهُ دُونَ طَوَافِ الزِّيَارَةِ" اس لیے کیونکہ یہ طوافِ صدر جو ہے طوافِ زیارت سے کم درجے کا ہے، "وَإِنْ كَانَ وَاجِبًا" اگرچہ یہ واجب ہے لیکن اس سے کم درجے کا ہے، "فَلَا بُدَّ مِنْ إِظْهَارِ التَّفَاوُتِ" لہٰذا ضروری ہے تفاوت کا اظہار کرنا یعنی دونوں میں فرق کو ظاہر کرنا ضروری ہے اور فرق کیسے ظاہر ہوگا؟ طوافِ زیارت میں بھیڑ بکری ہے تو اس میں بھیڑ بکری نہیں ہونی چاہیے بلکہ صدقہ ہونا چاہیے۔ "وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ تَجِبُ شَاةٌ" اور امام صاحب سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہاں پر بھی بھیڑ بکری واجب ہوگی، "إِلَّا أَنَّ الْأَوَّلَ أَصَحُّ" مگر یہ کہ پہلی قول یا پہلی روایت کیا ہے؟ زیادہ صحیح ہے بھئی جو متن میں آ گئی کہ اس پر بھیڑ... اس پر بھیڑ بکری نہیں بلکہ صدقہ ہے۔ "وَلَوْ طَافَ جُنُبًا فَعَلَيْهِ شَاةٌ" اور اگر یہ طوافِ صدر جنابت کی حالت میں کیا "فَعَلَيْهِ شَاةٌ" تو اس پر بھیڑ بکری ہے اور طوافِ زیارت میں کیا آتا تھا؟ بدنہ آتا تھا۔ تو طوافِ صدر کو اگر جنابت کی حالت میں کیا "فَعَلَيْهِ شَاةٌ" تو اس پر بھیڑ بکری ہے، "لِأَنَّهُ نَقْصٌ كَثِيرٌ" اس لیے کیونکہ یہ بہت زیادہ نقصان ہے، "ثُمَّ هُوَ دُونَ طَوَافِ الزِّيَارَةِ" پھر یہ طوافِ زیارت سے کم درجے کا ہے، "فَيُكْتَفَى بِالشَّاةِ" تو اس میں اکتفا کیا جائے گا بھیڑ بکری پر۔ وہاں پر بدنہ تھا تو یہاں بھیڑ بکری پر اکتفا کیا جائے گا۔ "وَمَنْ تَرَكَ مِنْ طَوَافِ الزِّيَارَةِ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ فَمَا دُونَهَا فَعَلَيْهِ شَاةٌ" اور جس نے چھوڑ دیا طوافِ زیارت میں سے تین چکر، تین چکر چھوڑ دیے، "فَمَا دُونَهَا" یا اس سے کم بھئی، یعنی چار یا پانچ یا چھ چکر کر لیے اور ایک یا دو یا تین چکر رہ گئے، "فَعَلَيْهِ شَاةٌ" تو اس پر بھیڑ بکری واجب ہے، "لِأَنَّ النُّقْصَانَ بِتَرْكِ الْأَقَلِّ يَسِيرٌ" اس لیے کیونکہ تھوڑا چھوڑنے کی وجہ سے نقصان جو ہے "يَسِيرٌ" وہ ہلکا ہے، تھوڑا ہے، "فَأَشْبَهَ النُّقْصَانَ بِسَبَبِ الْحَدَثِ" تو یہ مشابہ ہو گیا اس نقصان کے جو حدث کی وجہ سے ہو۔ بے وضو ہونے کی وجہ سے نقصان آتا تھا طوافِ زیارت میں تو کیا واجب ہوتا تھا؟ بھیڑ بکری، تو یہ بھی اس کے مشابہ ہے تو اس میں بھی بھیڑ بکری ہوگی، "فَيَلْزَمُهُ شَاةٌ" تو اس پر بھیڑ بکری لازم ہوگی۔ "فَلَوْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَجْزَأَهُ أَنْ لَا يَعُودَ وَيَبْعَثَ شَاةً لِمَا بَيَّنَّا" اور اگر یہ شخص جس نے ایک دو یا تین چکر چھوڑ دیے ہیں، تو یہ اگر گھر واپس چلا گیا، "أَجْزَأَهُ" تو یہ اس کے لیے کافی ہے "أَنْ لَا يَعُودَ" کہ واپس نہ لوٹے، کہ واپس نہ لوٹے، "وَيَبْعَثَ شَاةً" اور بھیڑ بکری کو بھیج دے، یہ اس کے لیے کافی ہے، "لِمَا بَيَّنَّا" اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کیونکہ نقصان تھوڑا ہے۔ "وَمَنْ تَرَكَ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ بَقِيَ مُحْرِمًا أَبَدًا حَتَّى يَطُوفَهَا" اوپر کیا صورت ذکر ہوئی؟ جس میں طوافِ زیارت میں تین یا تین سے کم چکر چھوڑے۔ اب بیان کر رہے ہیں اگر کسی نے چار یا چار سے زیادہ چکر چھوڑ دیے تو پھر جو اوپر حکم بیان ہوا تھا، جو طوافِ زیارت ہی کو چھوڑ کر چلا جاتا تھا، اس کا کیا حکم تھا؟ کہ وہ واپس لوٹے اور اس طواف کو کرے اور جب تک وہ طواف نہیں کرے گا، بیویوں کے حق میں کیا رہے گا؟ محرم رہے گا، تو یہاں بھی جب اکثر کو چھوڑ دیا تو یہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی: "وَمَنْ تَرَكَ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ" اور جس نے چار چکر چھوڑ دیے، "بَقِيَ مُحْرِمًا أَبَدًا" تو یہ ہمیشہ محرم ہی ہو کر باقی رہے گا، "حَتَّى يَطُوفَهَا" یہاں تک کہ اس کو کر لے، "لِأَنَّ الْمَتْرُوكَ أَكْثَرُ" اس لیے کیونکہ وہ جس کو اس نے چھوڑ دیا ہے وہ اکثر ہے، وہ زیادہ ہے، "فَصَارَ كَأَنَّهُ لَمْ يَطُفْ أَصْلًا" تو یہ اسی طرح ہو گیا گویا کہ اس نے طواف کیا ہی نہیں اصلاً، سرے سے۔ "وَمَنْ تَرَكَ طَوَافَ الصَّدْرِ أَوْ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ شَاةٌ" اور جس نے طوافِ صدر یعنی طوافِ وداع کو چھوڑ دیا یا اس میں سے چار چکروں کو چھوڑ دیا، "فَعَلَيْهِ شَاةٌ" تو اس پر بھیڑ بکری ہے۔ طوافِ صدر کو چھوڑ دیا تو بھیڑ بکری واجب ہے کیونکہ یہ واجب ہے اور واجب کو چھوڑنے پر کیا لازم آتا ہے؟ دم لازم آتا ہے۔ اور اگر اکثر کو بھی چھوڑ دیا تو گویا کل کو چھوڑ دیا تو اس صورت میں بھی بھیڑ بکری ہے۔ اسی لیے کہا: جس نے طوافِ صدر کو چھوڑ دیا "أَوْ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ مِنْهُ" یا اس میں سے چار چکر چھوڑ دیے، "فَعَلَيْهِ شَاةٌ" تو اس پر بھیڑ بکری واجب ہے، "لِأَنَّهُ تَرَكَ الْوَاجِبَ أَوِ الْأَكْثَرَ مِنْهُ" اس لیے کیونکہ اس نے واجب کو چھوڑ دیا یا اس میں سے اکثر کو بھئی۔ دو چیزیں ذکر کیں: اس نے واجب کو چھوڑ دیا، یہ کون سی صورت ہے؟ اس کا تعلق کس سے ہے؟ جب اس نے طوافِ صدر کو پورا چھوڑ دیا۔ تو اس صورت میں اس نے واجب کو چھوڑ دیا تو اس پر بھیڑ بکری واجب، "أَوِ الْأَكْثَرَ مِنْهُ" یہ کس کی علت بیان ہو رہی ہے؟ جب چار چکر اس میں سے چھوڑے ہیں تو اکثر چھوڑ دیا تو اس پر بھیڑ بکری واجب۔ "وَمَا دَامَ بِمَكَّةَ يُؤْمَرُ بِالْإِعَادَةِ إِقَامَةً لِلْوَاجِبِ فِي وَقْتِهِ" اور جب تک یہ شخص مکہ میں ہو تو اس کو حکم دیا جائے گا اعادے کا۔ جب تک یہ شخص مکہ میں ہے اس کو کیا حکم دیا جائے گا؟ کہ طوافِ وداع کا کیا کر لے؟ اعادہ کر لے، اس کو لوٹا لے، "إِقَامَةً لِلْوَاجِبِ فِي وَقْتِهِ" واجب کو قائم کرنے کے لیے اس کے وقت میں تاکہ واجب کیا ہو جائے؟ اپنے وقت کے اندر قائم ہو جائے، ادا ہو جائے بھئی، کیونکہ طوافِ وداع کا وقت کب تک ہے؟ جب تک گھر نہیں لوٹا، مکہ میں ہے، کیا کر سکتا ہے؟ طوافِ وداع کر سکتا ہے، تو یہ معنی اپنے وقت کے اندر تاکہ واجب کو قائم کر دے، اس کو ادا کر دے۔ "وَمَنْ تَرَكَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ مِنْ طَوَافِ الصَّدْرِ فَعَلَيْهِ الصَّدَقَةُ" اور جس نے تین چکر چھوڑ دیے طوافِ صدر یعنی طوافِ وداع میں سے، "فَعَلَيْهِ الصَّدَقَةُ" تو اس پر صدقہ واجب ہے۔ اور یہ یاد رکھیے بھئی صدقہ واجب ہونے کا یہ معنی نہیں کہ ایک چکر یا دو چکر یا تین ہیں تو سب میں صدقہ ایک ہی آئے گا، نہیں، ہر چکر کے بدلے صدقہ آئے گا۔ ایک چکر چھوڑا ہے تو نصف صاع گندم، دو چکر چھوڑے ہیں تو ایک صاع گندم اور تین چکر چھوڑے ہیں تو ڈیڑھ صاع گندم اس پر واجب ہے بھئی۔ یہ معنی ہے "فَعَلَيْهِ الصَّدَقَةُ" تو اس پر صدقہ واجب ہے۔ "وَمَنْ طَافَ طَوَافَ الْوَاجِبِ فِي جَوْفِ الْحِجْرِ فَإِنْ كَانَ بِمَكَّةَ أَعَادَهُ" بھئی میں نے پہلے تفصیل بیان کی تھی کہ بیت اللہ کی تصاویر کو اگر آپ دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے ساتھ نصف دائرے کی ایک دیوار ہے چھوٹی سی بھئی، انسانی قد کے برابر تقریباً تقریباً، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کے لگ بھگ ایک دیوار ہے ایک طرف نصف دائرے کی اور اس کو حطیم کہتے ہیں، اور نیز صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسی حطیم کا دوسرا نام حِجر بھی ہے، کیا نام ہے؟ حِجر، حِجر۔ اور تو ایک شخص جو ہے اس نے طواف کیا اور آپ پڑھ چکے کہ یہ جو حصہ ہے، یہ بھی دراصل کس کا حصہ ہے؟ یہ دراصل بیت اللہ کا حصہ ہے، اور کیوں رہ گیا تھا؟ کیونکہ قریش کے پاس حلال مال کم ہوا تھا تو باقی حصے پر عمارت تعمیر کی اور اس حصے پر صرف چھوٹی سی دیوار بنا کر اس کو چھوڑ دیا، تو جب یہ بیت اللہ کا حصہ ہے تو طواف میں پورے بیت اللہ کے گرد چکر لگایا جاتا ہے تو اس کے گرد بھی چکر لگایا جائے گا یعنی اس کے باہر باہر سے چکر لگائیں گے، اور درمیان میں بھی راستہ ہے، اس دیوار کے جو دونوں کنارے ہیں وہ بیت اللہ سے ملے نہیں ہوئے بلکہ درمیان میں کھلی جگہ ہے تھوڑی سی کہ یعنی ایک طرف سے آدمی داخل ہو تو دوسری طرف سے نکل سکتا ہے، تو آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ بیت اللہ کا حصہ ہے لہٰذا طواف کرتے ہوئے چکر اس کے باہر سے لگائیں گے، بیت اللہ اور اس کے درمیان سے نہیں گزریں گے۔ اب صورت یہ کہ ایک شخص نے طوافِ واجب کیا۔ طوافِ واجب کیا اور بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے ہوئے حطیم کے گرد چکر نہیں لگایا بلکہ بیت اللہ اور حطیم کے درمیان جو کھلی جگہ تھی وہاں سے نکل کر پھر بیت اللہ کے گرد چکر لگا لیتا تھا، تو اس صورت میں یاد رکھیے جب تک یہ مکہ کے اندر ہے، اس کو حکم دیا جائے گا کہ اس طواف کا اعادہ کرے کیونکہ طواف تو حطیم کے باہر سے ہونا چاہیے تھا، اس نے اندر سے طواف کیا ہے، تو طواف کو مشروع طریقے پر کرنے کے لیے اسے حکم دیا جائے گا کہ پھر دوبارہ طواف کرو، تو لہٰذا دوبارہ طواف کرے اور پھر پورے بیت اللہ کا حطیم سمیت چکر لگائے اس میں، اور اگر یہ صرف، صرف جو حطیم ہے اس کے گرد سات چکر لگا لیتا ہے تو بھی کافی ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ جو حصہ رہ گیا تھا اس نے اس کی، اس کو کیا کر دیا؟ ادا کر دیا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور اگر یہ اپنے گھر چلا گیا اور اس کا اعادہ نہیں کیا تو یاد رکھیے اس پر دم واجب ہوگا بھئی، دم واجب ہوگا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ "وَمَنْ طَافَ طَوَافَ الْوَاجِبِ فِي جَوْفِ الْحِجْرِ" اور جس نے طواف کیا، کون سا طواف؟ طوافِ واجب، واجب طواف بھئی، "فِي جَوْفِ الْحِجْرِ" یعنی حطیم کے بیچ میں سے، "فَإِنْ كَانَ بِمَكَّةَ" پس اگر یہ شخص مکہ میں ہے، "أَعَادَهُ" تو اس کا اعادہ کرے، "لِأَنَّ الطَّوَافَ وَرَاءَ الْحَطِيمِ وَاجِبٌ" اس لیے کیونکہ طواف جو ہے حطیم کے پیچھے سے یعنی اس کے باہر سے کرنا واجب ہے، "عَلَى مَا قَدَّمْنَا" اس وجہ سے جو ہم نے مقدم ذکر کر دی۔ کیا ذکر کیا تھا؟ وہ جو حدیث میں آیا تھا حضور علیہ السلام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو، انہوں نے منت مانی تھی بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنے کی تو حضور علیہ السلام کہاں لے آئے ان کو؟ حطیم میں لے آئے کہ یہ بیت اللہ کا حصہ ہے، یہاں نماز پڑھ کر اپنی منت پوری کر لیں، تو یہ معلوم ہوا بیت اللہ کا حصہ ہے اور جب حصہ ہے تو اس کے باہر سے طواف ہوگا۔ "وَالطَّوَافُ فِي جَوْفِ الْحِجْرِ..." بھئی بتلا رہے ہیں کہ حطیم کے بیچ میں سے طواف کرنے کا کیا معنی؟ متن میں کیا آیا؟ جس نے طواف کیا فی جوف الحجر، حطیم کے پیٹ میں یعنی حطیم کے بیچ میں سے، اس کا کیا معنی ہے؟ صاحبِ ہدایہ معنی بیان کر رہے ہیں کہ یعنی باقی عمارت کے گرد، باقی بیت اللہ کے گرد وہ چکر لگاتا ہے اور کہاں سے نکل جاتا ہے؟ حطیم کے اور بیت اللہ کے درمیان جو دو راستے بنے ہوئے ہیں ایک طرف سے جاتا ہے اور دوسری طرف سے نکل جاتا ہے، اس طریقے سے کرتا ہے، وہی ذکر کر رہے ہیں۔ "وَالطَّوَافُ فِي جَوْفِ الْحِجْرِ" اور وہ طواف جو حطیم کے بیچ میں سے ہو وہ یہ ہے "أَنْ يَدُورَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ" کہ وہ شخص گھومتا ہے، چکر لگاتا ہے بیت اللہ کے گرد، "وَيَدْخُلَ الْفُرْجَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا" اور داخل ہو جاتا ہے... فرجہ کہتے ہیں کشادگی کو، کشادگی کو، دو چیزوں کے درمیان جو کشادگی ہو، راستہ ہو، "وَيَدْخُلَ الْفُرْجَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا" اور داخل ہو جاتا ہے ان دو کشادگیوں میں "بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْحَطِيمِ" جو کس کے درمیان ہیں؟ کعبہ اور حطیم کے درمیان جو دو فرجے ہیں ان میں داخل ہوتا ہے، "فَإِذَا فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدْ أَدْخَلَ نَقْصًا فِي طَوَافِهِ" پس اگر ایسا کر لیا اس شخص نے تو تحقیق اس نے نقصان داخل کر دیا اپنے طواف میں یعنی نقصان آ گیا اس کے طواف کے اندر، "فَمَا دَامَ بِمَكَّةَ أَعَادَهُ" تو جب تک وہ مکہ میں ہے اس کا اعادہ کرے، "أَعَادَهُ كُلَّهُ" کیا کرے؟ اس طواف کا، سارے کے سارے طواف کا اعادہ کرے، "لِيَكُونَ مُؤَدِّيًا لِلطَّوَافِ عَلَى الْوَجْهِ الْمَشْرُوعِ" تاکہ یہ شخص طواف کو ادا کرنے والا ہو مشروع طریقے پر یعنی جیسا شریعت میں طریقہ بتلایا گیا تاکہ اس طریقے پر طواف کو یہ ادا کرنے والا ہو، "وَإِنْ أَعَادَ عَلَى الْحِجْرِ خَاصَّةً أَجْزَأَهُ" اور اگر اس نے اعادہ کیا صرف حطیم پر ہی خاص طور پر، صرف اسی پر اعادہ کیا، "أَجْزَأَهُ" تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہے، "لِأَنَّهُ تَلَافَى مَا هُوَ الْمَتْرُوكُ" اس لیے کیونکہ تلافی کی اس نے اس چیز کی جو چھوڑا گیا تھا، جو حصہ رہ گیا تھا اس کی اس نے تلافی کر دی۔ "وَهُوَ..." اب اس کا طریقہ بھی بتلا رہے ہیں، صرف حطیم کے گرد کیسے چکر لگائے گا؟ بھئی طواف کا کیا طریقہ تھا؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حجرِ اسود سے شروع کریں گے، حجرِ اسود کا استلام کر کے پھر اپنے دائیں طرف چلنا شروع کر دے گا، جب حجرِ اسود کا استلام کر رہا ہے تو دائیں جانب کس طرف بنے گی؟ دروازے کی طرف بنے گی تو اس طرف کو چلنا شروع کرے گا اور چلتے ہوئے بایاں کندھا کس کی طرف ہو جائے گا؟ بیت اللہ کی طرف ہو جائے گا، تو اسی انداز میں سات چکر لگانے ہیں حطیم کے، صرف اس کے گرد کوئی چکر لگاتا ہے اس کا طریقہ بتلا رہے ہیں، تو حطیم کے دائیں طرف سے شروع کرے گا، کس طرف سے؟ دائیں، حطیم کے جب دائیں طرف یہ کھڑا ہوگا بایاں کندھا کس طرف ہو جائے گا؟ حطیم کی طرف ہو جائے گا، تو شروع کرے اور چکر لگاتے ہوئے دوسری طرف جب کشادگی کی جگہ پر آ جائے پھر وہاں سے داخل ہو، پھر ادھر سے جائے اور اس طرح کتنے چکر لگا لے گا؟ سات چکر، طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی یعنی اسی رخ پر چلے جس رخ پر طواف کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَهُوَ أَنْ يَأْخُذَ عَنْ يَمِينِهِ خَارِجَ الْحِجْرِ" اور وہ یہ کہ شروع کرے اپنی دائیں طرف، دائیں طرف سے خارج الحجر حطیم کے باہر سے، "حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى آخِرِهِ" یہاں تک کہ پہنچ جائے اس کے آخر تک یعنی حطیم کے آخر تک پہنچ جائے، "ثُمَّ يَدْخُلَ الْحِجْرَ مِنَ الْفُرْجَةِ" پھر داخل ہو حطیم کے اندر من الفرجۃ اس کشادگی میں سے، "وَيَخْرُجَ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ" اور دوسری طرف سے نکل آئے اور پھر گھوم کر چکر لگائے، "هٰكَذَا يَفْعَلُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" اس طرح کر لے سات مرتبہ بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ "فَإِنْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ وَلَمْ يُعِدْهُ فَعَلَيْهِ دَمٌ" اور اگر یہ شخص گھر واپس آ گیا اور اس نے اس کا اعادہ نہیں کیا، حطیم کا جو حصہ رہ گیا تھا طواف کے اندر اس کا اعادہ نہیں کیا، "فَعَلَيْهِ دَمٌ" تو اس پر دم واجب ہے، "لِأَنَّهُ تَمَكَّنَ نُقْصَانٌ فِي طَوَافِهِ" اس لیے کیونکہ نقصان بیٹھ گیا اس کے طواف میں یعنی نقصان آ گیا اس کے طواف کے اندر، "بِتَرْكِ مَا هُوَ قَرِيبٌ مِنَ الرُّبْعِ" بوجہ چھوڑ دینے اس کے جو ربع کے قریب ہے، کس کے قریب ہے؟ ہاں، جو ربع کے قریب ہے اتنا حصہ اس نے چھوڑ دیا تھا، "فَلَا تُجْزِيهِ الصَّدَقَةُ" تو اس کے لیے صدقہ کافی نہیں ہوگا بلکہ دم دینا پڑے گا۔ "وَمَنْ طَافَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ وَطَافَ الصَّدْرَ فِي آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ طَاهِرًا فَعَلَيْهِ دَمٌ" صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے طوافِ زیارت کیا بغیر وضو کے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ طوافِ زیارت کیا بغیر وضو کے، اور آپ پڑھ چکے جو شخص طوافِ زیارت بغیر وضو کے کر لے تو اس کو استحباباً حکم دیا جائے گا کہ وہ اس طواف کا اعادہ کرے یعنی اس کے لیے مستحب ہے اس طواف کا اعادہ کرنا، اور اس پر ایک دم لازم ہوگا بھئی، کیا لازم ہوگا؟ دم لازم، ہاں اگر اعادہ کر لیتا ہے پھر وہ دم بھی اس پر سے ساقط ہو جائے گا۔ تو صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے طوافِ زیارت کیا بے وضو ہونے کی حالت میں اور پھر اس کے بعد اس نے جو طوافِ صدر کیا یعنی طوافِ وداع، وہ وضو کے ساتھ کیا، وہ وضو کے ساتھ کیا، تو یاد رکھیے اس صورت میں اس پر دم واجب رہے گا کیونکہ طوافِ زیارت کیا کیا ہے اس نے؟ بغیر وضو کے، اور اگلا جو طواف کیا وہ طوافِ وداع تھا اور طوافِ وداع کیا ہے؟ واجب، اور طوافِ زیارت کا اعادہ اس پر کیا تھا؟ واجب تھا یا مستحب تھا؟ طوافِ زیارت کا اعادہ اس پر مستحب تھا، تو بعد میں جو طواف کر رہا ہے وہ کون سا ہے؟ واجب، لہٰذا اس کو منتقل نہیں کیا جا سکتا طوافِ مستحب کی طرف۔ جو بعد میں طواف کر رہا ہے اس کو ہم یہ نہیں کہہ سکتے یہ طوافِ زیارت کا اعادہ کر رہا ہے کیونکہ طوافِ زیارت کا اعادہ تو کیا تھا؟ مستحب، اور جو طوافِ وداع کر رہا ہے وہ کیا ہے؟ واجب، تو واجب کو منتقل نہیں کیا جا سکتا کس کی طرف؟ مستحب کی طرف، لہٰذا وہ طوافِ زیارت بے وضو ہی رہا اور جب بے وضو رہا تو اس میں اب کیا دینا پڑے گا؟ دم دینا پڑے گا، بھیڑ بکری دینا پڑے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ دوسری صورت بھئی، دوسری صورت کہ طوافِ زیارت اس شخص نے کیا تھا جنابت کی حالت میں اور طوافِ وداع کرتا ہے وضو کی حالت میں، طوافِ وداع کرتا ہے؟ وضو کی حالت میں۔ لہٰذا جب اس نے طوافِ زیارت جنابت کی حالت میں کیا تھا آپ پڑھ چکے، کیا حکم ہے؟ اس پہ بدنہ واجب ہے اور اس پر اعادہ واجب ہے، اعادہ واجب ہے۔ لہٰذا اس پر طوافِ زیارت کا اعادہ واجب اور اس نے آگے جو طوافِ وداع کیا ہے وہ بھی کون سا طواف؟ واجب، لہٰذا اس کو منتقل کر دیا جائے گا کس کی طرف؟ طوافِ زیارت کی طرف، اور یوں کہا جائے گا کہ یہ اس نے طوافِ زیارت کا اعادہ کیا ہے اور پھر یہ واپس چلا گیا تو اس طوافِ وداع کو تو ہم نے منتقل کر دیا کس کی طرف؟ طوافِ زیارت کی طرف، اور حج کے بعد اس نے صرف یہی ایک طواف کیا تھا، اور کوئی طواف کیا ہی نہیں، اگر کوئی اور ہوتا پھر تو ہم اس کو بھی منتقل کر لیتے کس کی طرف؟ طوافِ وداع کی طرف منتقل کر لیتے، اور کوئی طواف ہے نہیں، ایک ہی طواف کیا تھا اور وہ کس کی طرف منتقل ہو گیا؟ طوافِ زیارت کی طرف منتقل ہو گیا، اور اس صورت میں جب وہ طوافِ زیارت کی طرف منتقل ہو گیا تو بدنہ اس پر سے ساقط ہو گیا۔ کیا ہوا؟ بدنہ ساقط ہوا، ہاں ایک دم اس پر آئے گا کہ طوافِ زیارت کو کیا کیا؟ اپنے وقت سے مؤخر کیا، کس کے نزدیک؟ امام صاحب کے نزدیک آپ پڑھ چکے، صاحبین کے نزدیک تاخیر سے کوئی اثر نہیں پڑتا جبکہ امام صاحب کے نزدیک اپنے وقت سے عبادت کو مؤخر کر دیں گے تو دم آئے گا، تو لہٰذا ایک دم آئے گا کس کی وجہ سے؟ طوافِ زیارت کو اپنے وقت سے مؤخر کیا ہے، کیونکہ طوافِ وداع تو حج کے بعد آتا ہے نا، تو لہٰذا اس کا حج کا وقت گزر چکا تھا اور اس نے پھر اس کے بعد اعادہ کیا تو ایک دم کس وجہ سے؟ طوافِ زیارت کو اپنے وقت سے مؤخر، اور ایک اور دم بھی آئے گا اس پر کس وجہ سے؟ طوافِ وداع رہ گیا اس کا، کیونکہ طوافِ وداع جو تھا اس کو تو کس کی طرف منتقل کر دیا؟ طوافِ زیارت، تو لہٰذا بدنہ تو ساقط ہو جائے گا لیکن دو دم لازم ہوں گے اس پر امام صاحب کے نزدیک، جبکہ صاحبین کے نزدیک ایک دم لازم ہوگا کس وجہ سے؟ طوافِ وداع کو چھوڑنے کی وجہ سے، باقی طوافِ زیارت کی تاخیر کی وجہ سے ان کے نزدیک دم واجب نہیں، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ طَافَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ وَطَافَ الصَّدْرَ فِي آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ طَاهِرًا" اور جس نے طوافِ زیارت کیا بغیر وضو کے اور طوافِ صدر کیا ایامِ تشریق کے آخر میں، ایامِ تشریق کے کیا معنی آخر میں؟ آخری دن ایامِ تشریق کے، اور ایامِ تشریق کا آخری دن کون سا ہے؟ 13 ذوالحجہ، اور حالانکہ طوافِ زیارت کا اعادہ تو کب تک ضروری ہے؟ 12 تک، 10، 11، 12 یہ تین قربانی کے دن ہیں تو اس نے کب کیا ہے؟ 13 تاریخ، تو اور جس نے طوافِ زیارت کیا بغیر وضو کے اور طوافِ صدر یعنی طوافِ وداع کیا ایامِ تشریق کے آخر میں "طَاهِرًا" پاکی کی حالت میں یعنی وضو کے ساتھ، "فَعَلَيْهِ دَمٌ" تو اس پر ایک دم واجب ہے، سمجھ میں آیا؟ "فَعَلَيْهِ دَمٌ" تو اس پر ایک دم واجب ہوگا بھئی یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک بھئی، کیونکہ یہاں پر طوافِ وداع کو طوافِ زیارت کی طرف منتقل نہیں کیا جائے گا اور طوافِ زیارت بے وضو کرنے کی صورت میں کیا لازم آتا تھا؟ دم، تو وہ اس پر لازم ہوگا۔ "فَإِنْ كَانَ طَافَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ جُنُبًا" اور اگر اس نے طوافِ زیارت کو جنابت کی حالت میں کیا، جنابت کی حالت میں کیا تھا، "فَعَلَيْهِ دَمَانِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" تو اس پر دو دم واجب ہیں امام صاحب کے نزدیک، "وَقَالَا: عَلَيْهِ دَمٌ وَاحِدٌ" اور صاحبین کے نزدیک اس پر ایک ہی دم ہے۔ امام صاحب کے نزدیک دو دم کس چیز کے؟ ایک تو تاخیر کا دم اور ایک طوافِ وداع چھوڑنے کا دم، اور صاحبین کے نزدیک ایک ہی دم ہے کس چیز کا؟ طوافِ وداع کو چھوڑنے کی وجہ سے۔ "لِأَنَّ فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ" اس لیے کیونکہ پہلی صورت میں جب اس نے بے وضو کیا تھا طوافِ زیارت، اس صورت میں "لَمْ يُنْقَلْ طَوَافُ الصَّدْرِ إِلَى طَوَافِ الزِّيَارَةِ" منتقل نہیں کیا جائے گا طوافِ صدر یعنی طوافِ وداع کو طوافِ زیارت کی طرف، "لِأَنَّهُ وَاجِبٌ" اس لیے کیونکہ طوافِ صدر تو واجب ہے، "وَإِعَادَةُ طَوَافِ الزِّيَارَةِ بِسَبَبِ الْحَدَثِ غَيْرُ وَاجِبٍ" اور طوافِ زیارت کا اعادہ بے وضو ہونے کی وجہ سے وہ غیر واجب ہے یعنی واجب نہیں ہے، "وَإِنَّمَا هُوَ مُسْتَحَبٌّ" اور وہ تو مستحب ہی ہے، "فَلَا يُنْقَلُ إِلَيْهِ" لہٰذا اس طوافِ صدر کو اس طوافِ زیارت کی طرف منتقل نہیں کیا جائے گا۔ "وَفِي الْوَجْهِ الثَّانِي" اور دوسری صورت میں، کون سی صورت؟ جب طوافِ زیارت کو کس طرح کیا تھا؟ جنابت کی حالت میں، "يُنْقَلُ طَوَافُ الصَّدْرِ إِلَى طَوَافِ الزِّيَارَةِ" منتقل کیا جائے گا طوافِ صدر کو طوافِ زیارت کی طرف، "لِأَنَّهُ مُسْتَحَقُّ الْإِعَادَةِ" اس لیے کیونکہ وہ مستحق الاعادہ ہے یعنی اس کا اعادہ لازم ہے، "فَيَصِيرُ تَارِكًا لِطَوَافِ الصَّدْرِ" تو یہ شخص طوافِ صدر کو چھوڑنے والا ہو گیا کیونکہ طوافِ صدر تو کدھر منتقل ہو گیا؟ طوافِ زیارت کی طرف، تو طوافِ صدر کو یہ چھوڑنے والا ہوا، "مُؤَخِّرًا لِطَوَافِ الزِّيَارَةِ" اس حال میں کہ یہ مؤخر کرنے والا ہے طوافِ زیارت کو "عَنْ أَيَّامِ النَّحْرِ" کس سے؟ ایامِ نحر سے، یہ دوسری وجہ آ گئی: ایک طوافِ صدر کو چھوڑنے والا ہوا اور نیز طوافِ زیارت کو مؤخر کرنے والا ہوا ایامِ نحر سے، "فَيَجِبُ الدَّمُ بِتَرْكِ الصَّدْرِ بِالِاتِّفَاقِ" تو اس پر ایک دم واجب ہوگا طوافِ صدر کو چھوڑنے کی وجہ سے بالاتفاق یعنی تینوں ائمہ کے نزدیک، "وَبِتَأْخِيرِ الْآخَرِ عَلَى الْخِلَافِ" اور دوسرے کو مؤخر کرنے کی وجہ سے یعنی طوافِ زیارت کو مؤخر کرنے کی وجہ سے علی الخلاف، اس اختلاف پر کہ کیا اختلاف ہے؟ امام صاحب کے نزدیک تاخیر پر دم ہے، صاحبین کے نزدیک تاخیر پر دم نہیں ہے، تو امام صاحب کے نزدیک دو دم اور صاحبین کے نزدیک ایک دم آئے گا، مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا۔ "إِلَّا أَنَّهُ يُؤْمَرُ بِإِعَادَةِ طَوَافِ الصَّدْرِ مَا دَامَ بِمَكَّةَ" مگر یہ کہ اس شخص کو حکم دیا جائے گا طوافِ صدر کے لوٹانے کا جب تک یہ مکہ میں ہے، "وَلَا يُؤْمَرُ بَعْدَ الرُّجُوعِ عَلَى مَا بَيَّنَّا" اور اس کو حکم نہیں دیا جائے گا لوٹنے کے بعد، جب یہ گھر واپس آ جائے تو اس کے بعد اس کو طوافِ صدر کے اعادے کا حکم نہیں دیا جائے گا علی ما بینا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی بھئی۔ "وَمَنْ طَافَ لِعُمْرَتِهِ وَسَعَى عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ وَحَلَّ فَمَا دَامَ بِمَكَّةَ يُعِيدُهُمَا وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ" صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے عمرے کا طواف اور سعی دونوں بغیر وضو کے کیے اور پھر حلال بھی ہو گیا، حلق کروایا اور احرام اتار دیا۔ تو کہتے ہیں بھئی جب تک یہ مکہ کے اندر ہے وہ ان دونوں کا اعادہ کرے گا، طواف کا بھی اور سعی کا بھی۔ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ طَافَ لِعُمْرَتِهِ وَسَعَى عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ" اور جس نے عمرے کا طواف کیا اور سعی کی علی غیر وضوء بغیر وضو کے، "وَحَلَّ" اور حلال ہو گیا یعنی احرام سے نکل آیا، "فَمَا دَامَ بِمَكَّةَ يُعِيدُهُمَا" تو جب تک وہ مکہ میں ہے وہ ان دونوں کا اعادہ کرے گا یعنی طواف اور سعی کا، "وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ" اور اس پر کوئی چیز نہیں، جب اعادہ کر لے گا تو نقصان کی تلافی ہو گئی لہٰذا اس پر کوئی چیز واجب نہیں۔ "أَمَّا إِعَادَةُ الطَّوَافِ فَلِتَمَكُّنِ النَّقْصِ فِيهِ بِسَبَبِ الْحَدَثِ" باقی طواف کا جو اعادہ ہے اس وجہ سے جو نقصان بیٹھ گیا ہے طواف کے اندر حدث کی وجہ سے، جو نقصان آ گیا ہے طواف میں بے وضو ہونے کی وجہ سے، "وَأَمَّا السَّعْيُ" اور باقی سعی جو ہے یعنی سعی کا جو اعادہ ہے "فَلِأَنَّهُ تَبَعٌ لِلطَّوَافِ" اس لیے کیونکہ سعی طواف کے تابع ہے، تو جب طواف کا اعادہ کر لیا تو سعی کا بھی اعادہ کرے گا، "وَإِذَا أَعَادَهُمَا" اور جب یہ دونوں کا اعادہ کر لے گا "لَا شَيْءَ عَلَيْهِ" تو اس پر کچھ نہیں ہے "لِارْتِفَاعِ النُّقْصَانِ" نقصان کے اٹھ جانے کی وجہ سے کیونکہ نقصان کیا ہے؟ اٹھ گیا یعنی پورا ہو گیا۔ "وَإِنْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يُعِيدَ فَعَلَيْهِ دَمٌ" لیکن اگر یہ گھر واپس چلا گیا اسی طرح اور اعادہ نہیں کیا تو اس پر دم واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يُعِيدَ فَعَلَيْهِ دَمٌ" اور اگر وہ گھر واپس لوٹ گیا قبل اس کے کہ وہ اس کا اعادہ کرے تو اس پر دم واجب ہے "لِتَرْكِ الطَّهَارَةِ فِيهِ" اس میں طہارت کو چھوڑنے کی وجہ سے، "وَلَا يُؤْمَرُ بِالْعَوْدِ" اور اس کو واپس لوٹنے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ دم اس پر واجب ہے اور واپس لوٹنا اس پر واجب نہیں ہے، "لِوُقُوعِ التَّحَلُّلِ بِأَدَاءِ الرُّكْنِ" اس وجہ سے کہ حلال ہونا واقع ہو گیا رکن کی ادائیگی سے، رکن کی ادائیگی کے ساتھ وہ حلال ہونا پایا گیا۔ بھئی بیشک اس نے بغیر وضو کے کیا طواف، لیکن کیا یا نہیں کیا؟ طواف کیا بھئی، سعی کی، تو لہٰذا حلال بھی ہوا تو یہ حلال ہونا رکن کی ادائیگی کے ساتھ ہے یا بغیر ادائیگی کے ہے؟ ادائیگی کے ساتھ ہے، ہاں نقصان آیا ہے اور وہ نقصان اتنا زیادہ نہیں ہے کہ اس کو واپس لوٹنے کا حکم دیا جائے، اس کی تلافی کس سے ہو جائے گی؟ بھیڑ بکری سے ہو جائے گی بھئی۔ یہ معنی ہے: "لِوُقُوعِ التَّحَلُّلِ بِأَدَاءِ الرُّكْنِ" اس وجہ سے کہ حلال ہونا جو ہے وہ واقع ہوا یعنی پایا گیا رکن کی ادائیگی کے ساتھ، "إِذِ النُّقْصَانُ يَسِيرٌ" کیونکہ نقصان کیا ہے؟ تھوڑا ہے، "وَلَيْسَ عَلَيْهِ فِي السَّعْيِ شَيْءٌ" اور اس پر سعی کے بارے میں کوئی چیز واجب نہیں ہے، "لِأَنَّهُ أَتَى بِهِ عَلَى إِثْرِ طَوَافٍ مُعْتَدٍّ بِهِ" اس لیے کیونکہ وہ اس سعی کو لایا یعنی اس سعی کو اس نے ادا کیا علی إثرِ طوافٍ... إثر کا معنی، إثر ہمزہ کے نیچے کسرہ اور ثاء ساکن ہے، إثر کا معنی ہوتا ہے پیچھے، بعد میں، اس لیے کیونکہ اس نے سعی کو ادا کیا ہے طواف کے پیچھے، طواف کے بعد، "مُعْتَدٍّ بِهِ" ایسا طواف جو جو قابلِ اعتبار ہے، جو معتبر ہے۔ بھئی بغیر وضو کے بھی طواف معتبر ہے یا معتبر نہیں؟ معتبر ہے بھئی، جبھی تو آپ نے پڑھا کہ صرف کیا کر دے گا؟ طوافِ زیارت بے وضو کیا ہے تو بھیڑ بکری دے دے کافی ہے، اور سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اعتبار ہے ورنہ اگر اعتبار نہ ہوتا تو پھر تو اس پر اعادہ واجب تھا لیکن آپ پڑھ چکے بے وضو کیا ہو طواف تو جیسے طوافِ زیارت تھا تو اعادہ مستحب ہے، واجب نہیں۔ "لِأَنَّهُ أَتَى بِهِ عَلَى إِثْرِ طَوَافٍ مُعْتَدٍّ بِهِ" اس لیے کیونکہ اس نے سعی کو ادا کیا ہے ایک ایسے طواف کے بعد جو قابلِ اعتبار ہے، جو معتبر ہے۔ "وَكَذَا إِذَا أَعَادَ الطَّوَافَ وَلَمْ يُعِدِ السَّعْيَ فِي الصَّحِيحِ" اور اسی طرح ہوگا حکم جب وہ طواف کا اعادہ کر لے اور سعی کا اعادہ نہ کرے فی الصحیح صحیح قول کے مطابق۔ صحیح قول کے مطابق اگر وہ شخص پھر کیا کر لیتا ہے؟ طواف کا اعادہ کر لیتا ہے اور سعی کا اعادہ نہیں کرتا تو بھی اس پر کچھ واجب نہیں ہے۔ دم واجب تھا، وہ جب طواف کا اعادہ کر لے گا تو دم کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا اور سعی کے بارے میں اس پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔ "وَمَنْ تَرَكَ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَعَلَيْهِ دَمٌ وَحَجَّتُهُ تَامٌّ" اور جس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو چھوڑ دیا تو اس پر دم واجب ہے "وَحَجَّتُهُ تَامٌّ" اور اس کا حج پورا ہے۔ بھئی حج کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں سعی ایک دفعہ سعی کرنا پڑے گی جیسے عمرے کے اندر سعی ضروری، اسی طرح حج کے اندر بھی سعی ضروری، تو اگر کسی نے حج کے اندر سعی کو چھوڑ دیا تو اس پر دم واجب ہے، وجہ اس کی یہ کہ سعی جو ہے یہ حج میں واجب ہے اور واجب کو چھوڑنے کی وجہ سے دم آتا ہے تو یہاں بھی دم لازم ہوگا۔ "لِأَنَّ السَّعْيَ مِنَ الْوَاجِبَاتِ عِنْدَنَا" اس لیے کیونکہ سعی جو ہے یہ واجب چیزوں میں سے ہے ہمارے نزدیک، "فَيَلْزَمُهُ بِتَرْكِهِ الدَّمُ" تو لازم ہوگا اس پر اس کو چھوڑنے کی وجہ سے دم، "دُونَ الْفَسَادِ" نہ کہ فساد، یعنی فساد نہیں آئے گا، حج فاسد نہیں ہوگا بلکہ صرف دم لازم آئے گا۔ "وَمَنْ أَفَاضَ قَبْلَ الْإِمَامِ مِنْ عَرَفَاتٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ" صورت یہ کہ ایک شخص امام کے چلنے سے پہلے ہی عرفات سے چل پڑا۔ آپ پڑھ چکے کہ وقوفِ عرفات کا وقت نویں ذوالحجہ کو زوال کے بعد شروع ہوتا ہے اور وہاں وقوف کیا جائے گا، اور جب سورج غروب ہو جائے تب امام وہاں سے چلے گا اور سارے اس کے ساتھ چلیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا غروبِ آفتاب تک وہاں رہنا ضروری ہے، اگر کوئی پہلے وہاں سے چلے گا تو اس پر دم لازم آئے گا۔ تو اب اگر کوئی شخص امام سے پہلے ہی عرفات سے لوٹ آیا یعنی سورج غروب ہونے سے پہلے ہی لوٹ آیا تو اس پر دم لازم ہوگا۔ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ أَفَاضَ" اور جو لوٹ آیا، "قَبْلَ الْإِمَامِ" امام سے پہلے ہی، "مِنْ عَرَفَاتٍ" عرفات سے، "فَعَلَيْهِ دَمٌ" تو اس پر دم واجب ہے۔ "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ، لِأَنَّ الرُّكْنَ أَصْلُ الْوُقُوفِ فَلَا يَلْزَمُهُ بِتَرْكِ الْإِطَالَةِ شَيْءٌ" اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ حج کا رکن جو ہے صرف وقوف ہے، اور امام سے پہلے بھی یہ بیشک آ جائے لیکن وقوف کر لیا یا نہیں؟ تو اصلِ وقوف تو پایا گیا، جب اصلِ وقوف پایا گیا تو اب پہلے آنے کی وجہ سے اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہے کیونکہ اس وقوف کو لمبا کرنا ضروری نہیں۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الرُّكْنَ أَصْلُ الْوُقُوفِ" اس لیے کیونکہ رکن جو ہے وہ تو اصلِ وقوف ہے، "فَلَا يَلْزَمُهُ بِتَرْكِ الْإِطَالَةِ شَيْءٌ" لہٰذا اس شخص پر اس وقوف کو لمبا کرنے کو چھوڑنے کی وجہ سے کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔ اس نے تو وقوف تو کیا، ہاں البتہ اس کو لمبا نہیں کیا مغرب تک، غروبِ آفتاب تک، تو صرف اس اطالت کو، اس لمبا کرنے کو چھوڑنے کی وجہ سے اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔ "وَلَنَا" اور ہماری دلیل یہ ہے "أَنَّ الِاسْتِدَامَةَ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ وَاجِبٌ" استدامہ کا معنی ہے برقرار رکھنا یعنی وہی لمبا کرنا بھئی، اور ہماری دلیل یہ ہے کہ استدامت یعنی اس وقوف کو برقرار رکھنا "إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ" غروبِ آفتاب تک "وَاجِبٌ" یہ واجب ہے، "لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ" بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قولِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: "فَادْفَعُوا بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ" تم لوگ روانہ ہو سورج غروب ہونے کے بعد، یہ حدیث کا حصہ ایک ذکر کیا اس میں بھئی۔ تو دیکھو اس حدیث میں کیا حکم دے رہے ہیں حضور علیہ السلام؟ غروبِ شمس کے بعد روانہ ہونے کا حکم دے رہے ہیں، "فَيَجِبُ بِتَرْكِهِ الدَّمُ" تو لہٰذا اس کو چھوڑنے کی وجہ سے دم واجب ہوگا، "بِخِلَافِ مَا إِذَا وَقَفَ لَيْلًا"۔ بھئی ایک شخص ہے وہ دن کو وقوفِ عرفات کیا ہی نہیں اس نے نویں کو، لیکن وقوفِ عرفات کا وقت کب تک ہے؟ دسویں ذوالحجہ کی طلوعِ فجر، تو لہٰذا وہ دن کو آیا ہی نہیں نویں کو اور رات کو آیا اور وقوف کر کے تھوڑی دیر اور پھر چلا گیا تو اس پر بھی دم واجب ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس نے وقوف کر لیا اس پر دم واجب نہیں۔ بھئی کیوں؟ وہاں پر آپ کہتے تھے جس نے دن کو وقوف کیا تو غروبِ آفتاب تک اس کو لمبا کرنا ضروری ہے، تو جواب اس کا یہ کہ بھئی وہ دن کے وقت جو وقوف کرے اس پر لازم تھا، دن کو وقوف کیا ہے تو کب تک کرنا پڑے گا؟ غروبِ آفتاب، لیکن اب جب رات کو کیا ہے تو اس کے لیے وقوف کو لمبا کرنا ضروری نہیں لہٰذا اس پر دم لازم نہیں ہے بھئی۔ "بِخِلَافِ مَا إِذَا وَقَفَ لَيْلًا" بخلاف اس کے کہ جب اس نے وقوف کیا رات کے وقت، "لِأَنَّ اسْتِدَامَةَ الْوُقُوفِ عَلَى مَنْ وَقَفَ نَهَارًا لَا لَيْلًا" اس لیے کیونکہ وقوف کو برقرار رکھنا یہ اس شخص پر ہے جو دن کے وقت وقوف کرے نہ کہ رات کے وقت۔ "فَإِنْ عَادَ إِلَى عَرَفَةَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ لَا يَسْقُطُ عَنْهُ الدَّمُ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ" صورت یہ کہ ایک شخص جو ہے وہ عرفات سے دن ہی کو واپس آ گیا یعنی امام کے چلنے سے پہلے ہی واپس آ گیا، لیکن پھر واپس چل پڑا عرفات اور غروبِ شمس کے بعد عرفات پہنچ گیا تو کیا اب اس سے دم ساقط ہو جائے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی اب دم ساقط نہیں، اس لیے کیونکہ جو چیز فوت ہوئی اب اس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ کیا چیز فوت ہوئی؟ غروبِ شمس تک وقوف کو لمبا کرنا ضروری تھا اور وہ چیز فوت ہو چکی ہے، اب سورج غروب ہو چکا ہے، اس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ صورت ہے جب وہ غروبِ شمس کے بعد واپس لوٹا، اور اگر دن ہی دن کو وہ واپس چلا گیا اور غروبِ شمس سے پہلے عرفات پہنچ گیا تو کیا اب اس پر سے وہ دم ساقط ہوگا یا نہیں؟ تو اس میں ائمہ کا اختلاف: امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے نزدیک اب بھی ساقط نہیں ہوگا جبکہ باقی ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں اس سے یہ دم ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ عَادَ إِلَى عَرَفَةَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ" اگر وہ شخص لوٹ آیا عرفات سورج غروب ہو جانے کے بعد، "لَا يَسْقُطُ عَنْهُ الدَّمُ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ" تو اس سے دم ساقط نہیں ہوگا ظاہر روایت کے مطابق، "لِأَنَّ الْمَتْرُوكَ لَا يَصِيرُ مُسْتَدْرَكًا" اس لیے کیونکہ وہ جو چھوٹ گیا، وہ جو چھوڑ دیا گیا حصہ وہ لا يصير مستدرکًا وہ مستدرک نہ ہوا یعنی اس کی تلافی نہ ہو سکی، "وَاخْتَلَفُوا فِيمَا إِذَا عَادَ قَبْلَ الْغُرُوبِ" اور ائمہ نے اختلاف کیا ہے اس صورت میں جب وہ لوٹا سورج غروب ہونے سے پہلے ہی، اس میں ائمہ کا اختلاف ہے، بین السطور لکھا ہوا ہے کہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک ساقط نہیں ہوگا اور جبکہ باقی تینوں ائمہ کے نزدیک ساقط ہو جائے گا اس سے وہ دم بھئی۔ "وَمَنْ تَرَكَ الْوُقُوفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَعَلَيْهِ دَمٌ لِأَنَّهُ مِنَ الْوَاجِبَاتِ" اور جس نے وقوفِ مزدلفہ کو چھوڑ دیا تو اس پر دم واجب ہے، اس لیے کیونکہ یہ وقوفِ مزدلفہ واجبات میں سے ہے اور واجب چھوٹنے پر دم لازم ہوتا ہے۔ "وَمَنْ تَرَكَ رَمْيَ الْجِمَارِ فِي الْأَيَّامِ كُلِّهَا فَعَلَيْهِ دَمٌ" اور جس نے رمیِ جمار کو چھوڑ دیا، بھئی وہ جو شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں ان کو چھوڑ دیا کسی نے "فِي الْأَيَّامِ كُلِّهَا" تمام دنوں میں، کسی دن بھی رمی نہیں کی، "فَعَلَيْهِ دَمٌ" تو اس پر دم واجب ہے۔ تفصیلِ مسئلہ یاد رکھیے: ایک دن کی ساری رمی کوئی چھوڑ دے گا تو دم واجب ہوگا، لہٰذا دسویں تاریخ کو صرف جمرہ عقبہ کی رمی کرنی تھی تو اس کو اگر کوئی چھوڑ دے گا تو اس پر دم واجب ہوگا۔ اور اسی طرح گیارہ تاریخ کو تینوں جمرات کی رمی ہے تو اس سارے کو کوئی چھوڑ دے گا تو اس پر بھی دم۔ اسی طرح بارہ تاریخ کو تینوں جمرات کی رمی ہے، اس کو اگر کوئی چھوڑے گا اس پر بھی دم۔ تیرہ تاریخ کی رمی اختیاری ہے لیکن اگر حاجی منیٰ ہی میں رہا اور اس کو سارے کو ہی چھوڑ دیا تو اس پر بھی کیا لازم؟ دم۔ تو ہر دن کی رمی میں ایک دم آتا ہے، لیکن جب سارے دنوں کی رمی کسی نے چھوڑ دی تو پھر اس صورت میں تداخل ہوگا، آنے تو چار دم چاہئیں لیکن چونکہ جنایت ایک ہی جنس کی ہے، ایک ہی قسم کی ہے تو ان میں تداخل ہوگا لہٰذا ایک ہی دم لازم ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک دن کی رمی چھوڑ دے یا ایک سے زیادہ دنوں کی رمی چھوڑ دے، سب میں کیا آئے گا؟ دم لازم ہوگا۔ اور اگر کچھ رمی کی اور کچھ رمی نہ کی ایک دن میں، تو پھر دیکھیں گے کہ اس نے اکثر کو چھوڑا ہے یا اکثر سے کم کو؟ تو اگر اکثر کو چھوڑا ہے تو بھی دم لازم ہوگا، اور اگر اکثر سے کم کو چھوڑا ہے تو پھر ہر کنکری کے بدلے صدقہ واجب ہوگا، ہر کنکری کے بدلے صدقہ، جتنی کنکریاں چھوڑے گا اس کے بدلے صدقہ آئے گا۔ لہٰذا پہلے دن دسویں تاریخ کو تو صرف سات کنکریاں مارنی ہیں تو اگر چار ماریں تو پھر تو دم تو نہیں آئے گا، پھر کیا آئے گا؟ صدقہ، اور ہر کنکری کے بدلے نصف صاع گندم دینی پڑے گی، اور اگر چار کنکریاں چھوڑ دیں اس پہلے دن تو پھر دم لازم ہوگا بھئی، دم لازم۔ دوسرے دن اکیس کنکریاں مارنی ہیں، لہٰذا اگر دس کنکریاں چھوڑ دیں تو ہر کنکری کے بدلے صدقہ، اور یہ صدقہ اگر دم تک پہنچ رہا ہو تو اس میں سے کیا کر دے گا؟ کچھ کم کر دے گا۔ اور اگر گیارہ کنکریاں چھوڑ دیں تو پھر تو اکثر چھوڑ دیا، لہٰذا اس صورت میں دم لازم ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ تَرَكَ رَمْيَ الْجِمَارِ فِي الْأَيَّامِ كُلِّهَا فَعَلَيْهِ دَمٌ" اور جس نے رمیِ جمرات کو چھوڑ دیا تمام دنوں کے اندر تو اس پر دم واجب ہے، "لِتَحَقُّقِ تَرْكِ الْوَاجِبِ" واجب کا چھوڑنا پائے جانے کی وجہ سے، "وَيَكْفِيهِ دَمٌ وَاحِدٌ" اور اس کے لیے ایک ہی دم کافی ہے، "لِأَنَّ الْجِنْسَ مُتَّحِدٌ" اس لیے کیونکہ جنس جو ہے متحد ہے، ان سب جنایتوں کی جنس متحد ہے، "كَمَا فِي الْحَلْقِ" جیسے کس میں؟ حلق کے اندر ہے۔ بھئی آپ پڑھ چکے کہ اگر کوئی پورے سر کا حلق کروائے تو اس پر بھی دم واجب، اگر داڑھی کا حلق کروائے تو اس پر بھی دم واجب، اور اسی طرح اگر کسی اور عضو کا حلق کروائے تو اس پر بھی دم واجب، دم واجب، لیکن اگر کوئی شخص سر، داڑھی اور پنڈلی وغیرہ کا، ان سب کا حلق کروا لیتا ہے تو ان کی... ان جنایتوں کی چونکہ جنس ایک ہے لہٰذا تداخل ہوگا اور ایک ہی دم اس پر آئے گا، تو جیسے حلق کے اندر تداخل ہوتا ہے یہاں پر بھی رمی چھوڑنے میں بھی تداخل ہوگا۔ یہ معنی ہے "كَمَا فِي الْحَلْقِ" جیسے حلق کے اندر ہے۔ "وَالتَّرْكُ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ..." یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں: اوپر کیا مسئلہ ذکر ہوا؟ اگر کسی نے سارے دنوں کی رمی چھوڑ دی ہے، تو کب ہم کہیں گے کہ اس نے سارے دنوں کی رمی چھوڑ دی ہے؟ تو کہتے ہیں بھئی جب رمی کے آخری دن کا سورج غروب ہو جائے، اور رمی کا آخری دن کون سا ہے؟ 13 ذوالحجہ، 13 ذوالحجہ کا جب سورج غروب ہو جائے گا تب ہم کہیں گے کہ اس نے سارے دنوں کی رمی کو چھوڑ دیا۔ تو کہتے ہیں: "وَالتَّرْكُ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِغُرُوبِ الشَّمْسِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ الرَّمْيِ" اور چھوڑنا جو ہے یہ پایا جائے گا، اس کا تحقق ہوگا یعنی یہ پایا جائے گا بغروب الشمس سورج غروب ہونے سے من آخر ایام الرمی رمی کے آخری ایام میں، ایامِ رمی کے آخری دن سورج کے غروب ہونے کی وجہ سے۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیے بھئی: "وَالتَّرْكُ إِنَّمَا يَتَحَقَّقُ بِغُرُوبِ الشَّمْسِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ الرَّمْيِ" اور چھوڑنا جو ہے یہ پایا جائے گا، اس کا تحقق ہوگا یعنی یہ پایا جائے گا سورج غروب ہونے سے رمی کے آخری ایام میں، "لِأَنَّهُ لَمْ يُعْرَفْ قُرْبَةً إِلَّا فِيهَا" اس لیے کیونکہ رمی جو ہے اس کو عبادت نہیں جانا گیا مگر انہی ایامِ رمی کے اندر بھئی، انہی کے اندر یہ عبادت ہے، ویسے کوئی جا کر وہاں کنکریاں مارے تو یہ تو عبادت نہیں ہے بھئی، تو انہی میں عبادت ہے۔ "وَمَا دَامَتِ الْأَيَّامُ بَاقِيَةً فَالْإِعَادَةُ مُمْكِنَةٌ" اور جب تک یہ ایام باقی ہیں تو لوٹانا ممکن ہے کہ ان کا کیا کر لے؟ اعادہ کر لے، "فَيَرْمِيهَا عَلَى التَّأْلِيفِ" تو لہٰذا ان کی رمی کر لے علی التألیف، تألیف کا معنی ہے جوڑنا، جوڑنا، یعنی اسی طرح جوڑ کر یعنی اسی ترتیب سے کر لے جتنے دنوں کی رمی باقی ہے۔ انہی دنوں میں کرنا چاہتا ہے تو پہلے اگر دسویں تاریخ کی باقی ہے وہ کر لے، پھر اگلے دن کی ترتیب سے تینوں کی رمی کر لے، پھر اس سے اگلے دن کی رمی ترتیب سے تینوں کی کر لے بھئی، یہ معنی ہے "فَيَرْمِيهَا عَلَى التَّأْلِيفِ" تو ان کی رمی کر لے اس ترتیب سے۔ "ثُمَّ بِتَأْخِيرِهَا يَجِبُ الدَّمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ خِلَافًا لَهُمَا" اچھا بھئی، اس نے تاخیر کے ساتھ لیکن رمی کر لی انہی دنوں کے اندر، یعنی آخری دن سب کی رمی کر لی پچھلے دنوں کی، تو صاحبین کے نزدیک تاخیر کی وجہ سے دم لازم نہیں ہوتا جبکہ امام صاحب کے نزدیک تاخیر سے دم لازم ہوتا ہے تو ان کے نزدیک دم لازم ہوگا۔ یہ معنی ہے "ثُمَّ بِتَأْخِيرِهَا يَجِبُ الدَّمُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ خِلَافًا لَهُمَا" پھر اس کی تاخیر کی وجہ سے دم واجب ہوگا امام صاحب کے نزدیک بخلاف صاحبین کے۔ "وَإِنْ تَرَكَ رَمْيَ يَوْمٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ" اور اگر چھوڑ دیا ایک دن کی رمی کو تو اس پر دم ہے، "لِأَنَّهُ نُسُكٌ تَامٌّ" اس لیے کیونکہ یہ پوری عبادت ہے، اس دن کی پوری عبادت ہے تو دم ہوگا۔ "وَمَنْ تَرَكَ رَمْيَ إِحْدَى الْجِمَارِ الثَّلَاثِ فَعَلَيْهِ الصَّدَقَةُ" اور جس نے چھوڑ دیا تین جمرات میں سے ایک کی رمی کو تو اس پر صدقہ ہے، "لِأَنَّ الْكُلَّ فِي هٰذَا الْيَوْمِ نُسُكٌ وَاحِدٌ" اس لیے کیونکہ سارے کے سارے جو ہیں اس دن کے اندر وہ ایک ہی عبادت ہے، "فَكَانَ الْمَتْرُوكُ أَقَلَّ" تو وہ جس کو چھوڑا گیا وہ کمتر ہے۔ بھئی مثلاً گیارہ تاریخ کو تینوں جمرات کی رمی کرنی تھی تو ایک کی رمی چھوڑ دی، تو اکثر کو تو کر لیا، لہٰذا یوں سمجھیں گے رمی کر لی البتہ کچھ چھوڑا ہے اس کی وجہ سے صدقہ ہوگا، لیکن اگر اکثر چھوڑا ہوا تو دم واجب ہوگا۔ یہ معنی ہے "لِأَنَّ الْكُلَّ فِي هٰذَا الْيَوْمِ" اس لیے کیونکہ سارے کے... اس لیے کیونکہ سب کی رمی جو ہے اس دن کے اندر "نُسُكٌ وَاحِدٌ" وہ ایک ہی عبادت ہے، "فَكَانَ الْمَتْرُوكُ أَقَلَّ" تو وہ جس کو چھوڑا گیا ہے وہ کمتر ہے، "إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَتْرُوكُ أَكْثَرَ" مگر یہ کہ وہ جس کو چھوڑا گیا ہے وہ اکثر ہو "مِنَ النِّصْفِ" نصف سے، نصف سے اگر وہ زیادہ ہو "فَحِينَئِذٍ يَلْزَمُهُ الدَّمُ" تو اس وقت اس پر دم لازم ہوگا "لِوُجُودِ تَرْكِ الْأَكْثَرِ" اکثر کو چھوڑنے کے پائے جانے کی وجہ سے کہ اکثر کو اس نے چھوڑ دیا، اور میں نے بتایا کتنا صدقہ ہوگا؟ ہر کنکری کے بدلے نصف صاع گندم۔ "وَإِنْ تَرَكَ رَمْيَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ فَعَلَيْهِ دَمٌ" اور اگر چھوڑ دیا حج کرنے والے نے جمرہ عقبہ کی رمی کو یومِ نحر والے دن تو اس پر دم واجب ہے۔ بھئی یومِ نحر دسویں کو صرف کس کی رمی کرتے تھے؟ صرف جمرہ عقبہ کو، صرف اس کی رمی کرتے تھے، تو لہٰذا یہ اس دن کی پوری عبادت ہوئی رمی کے اعتبار سے، لہٰذا اس کو چھوڑنے کی صورت میں دم۔ باقی دنوں میں تو سات کنکریاں چھوڑ دے گا تو اس سے دم نہیں آئے گا بلکہ صدقہ آئے گا، لیکن اس دن تو ہے ہی سارا... ساری عبادت ہی کتنی تھی؟ سات کنکریاں تھیں تو ان کو چھوڑنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا۔ یہ معنی ہے "فَعَلَيْهِ دَمٌ" اس پر دم واجب ہے، "لِأَنَّهُ تَرَكَ كُلَّ وَظِيفَةِ هٰذَا الْيَوْمِ رَمْيًا" اس لیے کیونکہ اس نے اس دن کے سارے وظیفے کو چھوڑ دیا رمی کے اعتبار سے، اس دن کا جو سارا وظیفہ ہے باعتبار رمی کے اس کو اس نے چھوڑ دیا، "وَكَذَا إِذَا تَرَكَ الْأَكْثَرَ مِنْهَا" اور اسی طرح ہے حکم جب وہ ان میں سے اکثر کو چھوڑ دے یعنی چار کنکریاں چھوڑ دیں تو بھی اس صورت میں دم واجب ہوگا۔ "وَإِنْ تَرَكَ مِنْهَا حَصَاةً أَوْ حَصَاتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا تَصَدَّقَ لِكُلِّ حَصَاةٍ نِصْفَ صَاعٍ" اور اگر اس نے ان میں سے ایک کنکری چھوڑ دی یا دو کنکریاں یا تین کنکریاں، تو صدقہ کرے ہر کنکری کے لیے نصف صاع، نصف صاع بھئی گندم صدقہ کرے، "إِلَّا أَنْ يَبْلُغَ دَمًا" مگر یہ کہ یہ کس تک پہنچ جائے؟ ایک دم تک پہنچ جائے یہ صدقہ جو ہے، "فَيَنْقُصُ مَا شَاءَ" تو اس میں سے کم کر دے جو چاہے، "لِأَنَّ الْمَتْرُوكَ هُوَ الْأَقَلُّ" اس لیے کیونکہ وہ جس کو چھوڑا گیا وہ کمتر ہے، "فَتَكْفِيهِ الصَّدَقَةُ" تو اس کے لیے صدقہ کافی ہے۔ "وَمَنْ أَخَّرَ الْحَلْقَ حَتَّى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ فَعَلَيْهِ دَمٌ" بھئی آپ پڑھ چکے کہ دسویں تاریخ کو حاجی مزدلفہ سے منیٰ پہنچا تو کیا کرے گا؟ رمی کرے گا اور اگر حجِ تمتع یا قران کر رہا ہے تو پھر قربانی بھی کرے گا اور پھر اس کے بعد کیا کرے گا؟ حلق کروائے گا یا بال چھوٹے کروائے گا۔ اور یہ حلق یاد رکھیے یہ قربانی کے تین دنوں میں کرنا امام صاحب کے نزدیک واجب ہے، واجب ہے، سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا اگر حلق کو کسی نے ایامِ نحر سے مؤخر کر دیا تو امام صاحب کے نزدیک اس پر دم آئے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی بال کٹوائے یا استرے سے صاف کروائے لیکن کب کروائے؟ عید کے تینوں دن گزر گئے تھے اس کے بعد کروائے، تو امام صاحب کے نزدیک اس پر دم ہوگا کیونکہ اس نے واجب کو اپنے وقت سے مؤخر کر دیا، جبکہ صاحبین کے نزدیک تاخیر کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوتا لہٰذا ان کے نزدیک دم نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: "وَمَنْ أَخَّرَ الْحَلْقَ" اور جس نے حلق کو مؤخر کر دیا "حَتَّى مَضَتْ أَيَّامُ النَّحْرِ" یہاں تک کہ قربانی کے دن گزر گئے، "فَعَلَيْهِ دَمٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" تو اس پر دم واجب ہے امام صاحب کے نزدیک، "وَكَذَا إِذَا أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ" اور اسی طرح ہے حکم جبکہ اس نے مؤخر کر دیا طوافِ زیارت کو یعنی اس کو بھی ایامِ نحر سے مؤخر کیا تو اس پر بھی دم واجب ہے، "وَقَالَا: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِي الْوَجْهَيْنِ" اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس پر کچھ بھی نہیں ہے دونوں صورتوں میں یعنی چاہے حلق یعنی استرے سے بال صاف کروانا اس کو مؤخر کر دے ایامِ نحر سے، چاہے طوافِ زیارت کو مؤخر کر دے، دونوں صورتوں میں اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے۔ "وَكَذَا الْخِلَافُ فِي تَأْخِيرِ الرَّمْيِ" اور اسی طرح اختلاف ہے رمی کو مؤخر کرنے میں بھی، رمی کو... یعنی آج کی رمی اگلے دن کر رہا ہے تو صاحبین کے نزدیک دم واجب نہیں لیکن امام صاحب کے نزدیک دم واجب، تو کہتے ہیں: "وَكَذَا الْخِلَافُ فِي تَأْخِيرِ الرَّمْيِ" اور اسی طرح اختلاف ہے رمی کو مؤخر کرنے میں، "وَفِي تَقْدِيمِ نُسُكٍ عَلَى نُسُكٍ" اور ایک عبادت کو دوسری عبادت پر مقدم کرنے میں۔ امام صاحب کے نزدیک ترتیب ضروری ہے، ایک عبادت کو دوسری پر مقدم کیا تو دم واجب ہے اور صاحبین کے نزدیک تقدیم و تاخیر سے دم واجب نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں اسی طرح اختلاف ہے رمی کو مؤخر کرنے میں اور ایک عبادت کو دوسری عبادت پر مقدم کرنے میں۔ اب اس کی مثالیں ذکر کر رہے ہیں: "كَالْحَلْقِ قَبْلَ الرَّمْيِ" جیسے کہ حلق کروا لیا رمی سے پہلے ہی، امام صاحب کے نزدیک دم آئے گا صاحبین کے نزدیک نہیں آئے گا۔ "وَنَحْرِ الْقَارِنِ قَبْلَ الرَّمْيِ" اور اسی طرح حجِ قران کرنے والے کا نحر یعنی قربانی کر لینا قبل الرمی رمی سے پہلے ہی، امام صاحب کے نزدیک دم آئے گا اور صاحبین کے نزدیک دم نہیں آئے گا کیونکہ امام صاحب کے نزدیک ترتیب ضروری ہے: پہلے رمی ہونی چاہیے، پھر قربانی ہونی چاہیے، پھر اس کے بعد حلق ہونا چاہیے۔ "وَالْحَلْقِ قَبْلَ الذَّبْحِ" اور اسی طرح حلق کر لینا یعنی بال صاف کروا لینا سر کے قبل الذبح ذبح سے پہلے ہی، تو امام صاحب کے نزدیک دم واجب ہے صاحبین کے نزدیک دم واجب نہیں۔ "لَهُمَا" صاحبین کی دلیل یہ ہے "أَنَّ مَا فَاتَ مُسْتَدْرَكٌ بِالْقَضَاءِ" کہ وہ چیز جو فوت ہو گئی، جو رہ گئی وہ مستدرک ہے یعنی اس کی تلافی ہو گئی بالقضاء کس کی وجہ سے؟ قضا کی وجہ سے۔ بیشک تاخیر کر دی لیکن پھر اس کو کر لیا یا نہیں کر لیا؟ تو اس کی تلافی ہو گئی، "وَلَا يَجِبُ مَعَ الْقَضَاءِ شَيْءٌ آخَرُ" اور قضا کے ساتھ کوئی اور چیز واجب نہیں ہوتی بھئی، جیسے کسی کی نماز رہ جائے تو بعد میں کیا کرتا ہے اس کی؟ قضا، تو قضا کے ساتھ کچھ اور بھی واجب ہوتا ہے؟ نہیں، کسی کا روزہ رہ جائے تو بعد میں کیا کرتا ہے؟ قضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز واجب نہیں، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، قضا جب کر لی تو کوئی اور چیز ساتھ لازم نہیں ہوگی۔ "وَلَهُ" اور امام صاحب کی دلیل: "حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ" حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث جو ہے وہ امام صاحب کی دلیل ہے، "أَنَّهُ قَالَ" کہ وہ فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ: "مَنْ قَدَّمَ نُسُكًا عَلَى نُسُكٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ" جس نے مقدم کیا ایک عبادت کو دوسری عبادت پر تو اس پر دم واجب ہے۔ "وَلِأَنَّ التَّأْخِيرَ عَنِ الْمَكَانِ..." یہ دوسری دلیل ہے امام صاحب کی، امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیکھیے بعض چیزیں جو ہیں ان کو مقید کیا گیا ہے جگہ کے ساتھ، مثلاً احرام ہے، احرام میقات سے پہلے پہلے باندھنا پڑے گا، جو میقات سے آگے نکل گیا اور احرام نہیں باندھا تھا تو اس پر دم لازم ہوتا ہے، میقات سے تجاوز کر جائے مکہ کی طرف اور اس نے احرام نہ باندھا ہو تو اس پر دم لازم آتا ہے، تو اسی طرح جو چیز زمانے کے ساتھ مقید ہے وہ جب اس میں تاخیر کرے گا تو اس پر بھی کیا لازم ہوگا؟ دم، یعنی مکان کے ساتھ جو چیزیں مقید تھیں ان کو اگر اس مکان سے مؤخر کر دیا جائے تو کیا لازم ہوتا ہے؟ دم، تو زمانے کے ساتھ جو مقید ہیں ان میں زمانے کے اعتبار سے جب تاخیر کر دی جائے گی تو دم لازم ہوگا، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ "وَلِأَنَّ التَّأْخِيرَ عَنِ الْمَكَانِ يُوجِبُ الدَّمَ" اس لیے کیونکہ جگہ سے مؤخر کرنا یہ دم کو واجب کرتا ہے، جگہ سے مؤخر کرنا یہ کس چیز کو واجب کرتا ہے؟ دم کو، "فِيمَا هُوَ مُؤَقَّتٌ بِالْمَكَانِ" ان چیزوں کے اندر جو مقید ہیں جگہ کے ساتھ، "كَالْإِحْرَامِ" جیسے کہ احرام، "فَكَذَا التَّأْخِيرُ عَنِ الزَّمَانِ" تو اسی طرح زمانے سے مؤخر کرنا بھی ہے "فِيمَا هُوَ مُؤَقَّتٌ بِالزَّمَانِ" ان چیزوں کے اندر جو زمانے کے ساتھ مقید ہیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ جو چیزیں جگہ کے ساتھ مقید ہیں ان کو اگر اس جگہ سے مؤخر کر دیا جائے تو کیا واجب ہوتا ہے؟ دم واجب ہوتا ہے، تو اسی طرح جو چیزیں زمانے کے ساتھ مقید ہیں ان کو اگر اس زمانے سے مؤخر کر دیا جائے گا تو دم واجب ہوگا۔ "فَإِنْ حَلَقَ فِي أَيَّامِ النَّحْرِ فِي غَيْرِ الْحَرَمِ فَعَلَيْهِ دَمٌ" اگر حاجی نے حلق کروایا ایامِ نحر ہی کے اندر "فِي غَيْرِ الْحَرَمِ" حرم کے علاوہ میں، بھئی ایک شخص ہے وہ حلق کرواتا ہے اور ایامِ نحر ہی کے اندر کرواتا ہے لیکن حرم سے باہر نکل گیا، حرم کی حدود سے، اور وہاں اس نے حلق یا قصر کروا لیا تو یاد رکھیے اس صورت میں اس پر دم واجب ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص عمرہ ادا کرتا ہے اور پھر حلق یا قصر جو ہے وہ حرم کے اندر نہیں کرتا بلکہ باہر جا کر حلق یا قصر کرواتا ہے تو اس پر بھی دم واجب ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ حَلَقَ فِي أَيَّامِ النَّحْرِ فِي غَيْرِ الْحَرَمِ فَعَلَيْهِ دَمٌ" پس اگر حاجی نے حلق کروایا ایامِ نحر کے اندر اندر حرم کے علاوہ میں یعنی حرم سے باہر، "فَعَلَيْهِ دَمٌ" تو اس پر دم واجب ہے۔ "وَمَنِ اعْتَمَرَ فَخَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ وَقَصَّرَ فَعَلَيْهِ دَمٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى" اور اسی طرح وہ شخص جس نے عمرہ کیا پھر وہ نکل گیا حرم سے اور بال چھوٹے کروا لیے تو اس پر دم واجب ہے عند ابی حنیفۃ و محمد رحمہما اللہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کچھ بھی نہیں ہے، اس پر کچھ بھی نہیں۔ "قَالَ" قال سے مراد ہے صاحبِ ہدایہ بھئی، قال صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: "ذَكَرَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ قَوْلَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْمُعْتَمِرِ وَلَمْ يَذْكُرْهُ فِي الْحَاجِّ" صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کو بتلا دیا کہ طرفین فرماتے ہیں کہ جو شخص عمرہ کر کے، عمرہ کر کے حرم سے باہر نکلا اور بال کٹوائے تو طرفین کے نزدیک اس پر دم واجب اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر کچھ واجب نہیں۔ کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ نے عمرہ کرنے والے کے بارے میں تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ حرم سے باہر بھی کوئی عمرے کے اندر بال کٹوا لے گا، عمرہ کر کے پھر حرم سے باہر بال کٹوا لیتا ہے احرام سے حلال ہونے کے لیے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کوئی چیز واجب نہیں، کوئی چیز واجب نہیں۔ باقی حاجی کے بارے میں ذکر نہیں کیا کہ ان کے بارے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ اس کا حلق یا قصر حرم میں کروانا ضروری ہے یا باہر بھی کروا لے تو کوئی حرج نہیں، وہ ذکر انہوں نے نہیں کیا تو پھر بعضوں نے کہا کہ اس میں حاجی کے بارے میں وہ بھی طرفین کے ساتھ ہیں کہ اس کا حلق یا قصر حرم ہی میں ہونا چاہیے۔ لیکن آگے بتلاتے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حاجی کے بارے میں بھی وہ اسی طرح اختلاف کرتے ہیں جیسے عمرہ کرنے والا حرم سے باہر حلق یا قصر کروا سکتا ہے، اسی طرح حاجی بھی کیا کر سکتا ہے؟ حرم سے باہر حلق یا قصر کروا لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ "قَالَ" صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: "ذَكَرَ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ قَوْلَ أَبِي يُوسُفَ فِي الْمُعْتَمِرِ" کہ امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے جامعِ صغیر کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول عمرہ کرنے والے کے بارے میں، "وَلَمْ يَذْكُرْهُ فِي الْحَاجِّ" اور حاجی کے بارے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو ذکر نہیں کیا امام محمد نے، "وَقِيلَ: هُوَ بِالِاتِّفَاقِ" اور کہا گیا ہے کہ وہ بالاتفاق ہے یعنی حاجی کے بارے میں اتفاق ہے کہ وہ کہاں کروائے؟ حرم ہی میں حلق کروائے، باہر اگر حلق کرے گا تو دم واجب ہوگا، "لِأَنَّ السُّنَّةَ جَرَتْ فِي الْحَجِّ بِالْحَلْقِ بِمِنًى وَهُوَ مِنَ الْحَرَمِ" اس لیے کیونکہ سنت جاری ہے حج کے بارے میں منیٰ میں حلق کروانے کی کہ منیٰ میں حلق کروایا جاتا ہے، حاجی کہاں حلق کرواتا ہے؟ منیٰ میں، "وَهُوَ مِنَ الْحَرَمِ" اور وہ منیٰ حرم میں سے ہے۔ "وَالْأَصَحُّ" اور زیادہ صحیح قول یہ ہے "أَنَّهُ عَلَى الْخِلَافِ" کہ حاجی بھی اسی اختلاف پر ہے یعنی اس میں بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ یہی اختلاف کرتے ہیں، "وَهُوَ يَقُولُ: الْحَلْقُ غَيْرُ مُخْتَصٍّ بِالْحَرَمِ" امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حلق جو ہے وہ حرم کے ساتھ مختص نہیں ہے، "لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَصْحَابَهُ أُحْصِرُوا بِالْحُدَيْبِيَةِ وَحَلَقُوا فِي غَيْرِ الْحَرَمِ" اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام اور آپ کے صحابہ جو ہیں أحصروا بالحدیبیۃ... أحصر کے معنی ہوتے ہیں بند کرنا، روکا روکنا، کیونکہ حضور علیہ السلام اور آپ کے صحابہ جو ہیں وہ روکے گئے تھے حدیبیہ میں "وَحَلَقُوا فِي غَيْرِ الْحَرَمِ" اور وہیں پر انہوں نے کیا کیا تھا؟ مختصراً میں نے واقعہ ذکر کیا تھا کہ حضور علیہ السلام صحابہ کے ساتھ تشریف لائے تھے اور مشرکین نے مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، تو آپ وہیں پر حلال ہو گئے تھے اور اگلے سال پھر آپ عمرے کے لیے تشریف لائے تھے اور اسے کیا کہتے ہیں؟ عمرۃ القضاء کہتے ہیں۔ تو وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کیونکہ حضور علیہ السلام اور صحابہ جو ہیں وہ روکے گئے تھے حدیبیہ میں اور انہوں نے حلق کروایا تھا غیر حرم میں کیونکہ حدیبیہ کیا ہے؟ حرم سے باہر ہے۔ "وَلَهُمَا" طرفین کی دلیل یہ ہے "أَنَّ الْحَلْقَ لَمَّا جُعِلَ مُحَلِّلًا" کہ جب حلق محلل بنایا گیا ہے، حلق کیا کام کرتا ہے؟ حلال کر دیتا ہے یعنی احرام کی پابندیوں کو ختم کر دیتا ہے، "كَالسَّلَامِ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ" جیسے کہ سلام ہے نماز کے آخر میں، نماز میں جیسے ہی ہم نماز شروع کرتے ہیں اللہ اکبر کہتے ہیں تو کیا شروع ہو گیا؟ نماز کا احرام شروع ہو گیا، اور کب ختم ہوتا ہے؟ محلل کیا چیز ہے؟ سلام ہے، سلام کے بعد وہ پابندیاں ختم ہیں بھئی، تو کہتے ہیں کہ حلق جو ہے لما جعل محللًا جب اس کو محلل بنا دیا گیا، محلل قرار دے دیا گیا، "صَارَ كَالسَّلَامِ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ" تو یہ ہو گیا وہ سلام جو نماز کے آخر میں ہوتا ہے اس کی طرح، "فَإِنَّهُ مِنْ وَاجِبَاتِهَا" تو وہ سلام جو ہے وہ نماز کے واجبات میں سے ہے، تو اسی طرح معلوم ہوا یہ حلق بھی حج کے واجبات میں سے ہوگا، حلق جیسے محلل ہے کس کی طرح ہے؟ جیسے سلام محلل ہے، اور سلام کیا ہے؟ نماز کے واجبات میں سے ہے اگرچہ محلل ہے، اسی طرح حلق بھی محلل ہے لیکن یہ واجباتِ حج میں سے ہے، معلوم ہوا حج کے افعال میں سے ایک فعل ہے اور جب حج کے افعال میں سے ہے تو حج کے افعال تو کہاں کیے جاتے ہیں؟ حرم کے اندر کیے جاتے ہیں، معلوم ہوا یہ بھی کہاں کرنا پڑے گا؟ حرم ہی میں کرنا پڑے گا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنَّهُ مِنْ وَاجِبَاتِهَا وَإِنْ كَانَ مُحَلِّلًا" تو سلام جو ہے یہ نماز کے واجبات میں سے ہے اگرچہ یہ محلل ہے یعنی نماز کو حلال کرنے والا ہے، "فَإِذَا صَارَ نُسُكًا" پس جب یہ حلق عبادت بن گیا، کیا بن گیا؟ محلل ہے نا تو یہ کس کی طرح ہوا؟ سلام کی طرح، اور سلام تو کیا ہے؟ نماز کے واجبات میں سے ہے، معلوم ہوا حلق بھی کیا ہے؟ حج کے واجبات میں سے، حج کی عبادتوں میں سے ایک عبادت، تو جب یہ عبادت بن گیا یہ ثابت ہو گیا کہ یہ کیا ہے؟ عبادت ہے، یہ معنی ہے "فَإِذَا صَارَ نُسُكًا" جب یہ حلق عبادت ہو گیا "اخْتَصَّ بِالْحَرَمِ كَالذَّبْحِ" تو یہ خاص ہوا حرم کے ساتھ جیسے کہ ذبح ہے، جیسے وہ باقی افعال حرم کے ساتھ خاص ہیں تو یہ بھی حرم کے ساتھ خاص ہوگا۔ "وَبَعْضُ الْحُدَيْبِيَةِ..." یہاں سے وہ جواب دے رہے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل کا، انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ حدیبیہ میں حضور علیہ السلام اور صحابہ نے حلق کروایا اور حدیبیہ تو حرم سے باہر، تو جواب دیتے ہیں کہ نہیں، حدیبیہ کا کچھ حصہ حرم میں داخل ہے تو ہو سکتا ہے صحابہ نے اور حضور علیہ السلام نے اس حصے میں حلق کروایا ہو۔ تو کہتے ہیں: "وَبَعْضُ الْحُدَيْبِيَةِ مِنَ الْحَرَمِ فَلَعَلَّهُمْ حَلَقُوا فِيهِ" اور حدیبیہ کا کچھ حصہ جو ہے وہ حرم میں سے ہے تو شاید انہوں نے حلق اسی حصے میں کروایا ہو۔ "فَالْحَاصِلُ" حاصلِ کلام یہ ہے "أَنَّ الْحَلْقَ يَتَوَقَّتُ بِالزَّمَانِ وَالْمَكَانِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" کہ حلق جو ہے وہ مقید ہے زمانے اور جگہ کے ساتھ امام صاحب کے نزدیک۔ امام صاحب کے نزدیک حلق زمانے کے ساتھ بھی مقید اور جگہ کے ساتھ بھی، زمانہ کون سا؟ ایامِ نحر ہیں، قربانی کے تین دن ہیں، اور جگہ کے ساتھ بھی مقید، جگہ کون سی؟ حرم ہونا چاہیے۔ "وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَتَوَقَّتُ بِهِمَا" اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ان دونوں کے ساتھ مقید نہیں ہے یعنی ایامِ نحر کا ہونا بھی ضروری نہیں، ان کے بعد بھی حلق کروا سکتا ہے اور حرم کا ہونا بھی ضروری نہیں، باہر بھی کروا سکتا ہے۔ "وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَوَقَّتُ بِالْمَكَانِ دُونَ الزَّمَانِ" اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک حلق جو ہے وہ مقید ہے جگہ کے ساتھ نہ کہ زمانے کے ساتھ، جگہ کے ساتھ مقید ہے یعنی کہاں ہونا چاہیے حلق؟ حرم میں، زمانے کے ساتھ مقید نہیں یعنی ایامِ نحر کے بعد بھی کروا لے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ آپ پڑھ چکے صاحبین کے نزدیک تاخیر سے بھی کوئی حرج نہیں ہوتا۔ "وَعِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَتَوَقَّتُ بِالزَّمَانِ دُونَ الْمَكَانِ" اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک حلق جو ہے وہ مقید ہے زمانے کے ساتھ یعنی کب ہوگا؟ ایامِ نحر میں ہوگا، "دُونَ الْمَكَانِ" نہ کہ جگہ کے ساتھ یعنی حرم میں ہونا ضروری نہیں۔ "وَهٰذَا الْخِلَافُ فِي التَّوْقِيتِ..." یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو ائمہ کا اختلاف ہے، یہ دم کے سلسلے میں اختلاف ہے کہ اس پر دم آئے گا یا دم نہیں آئے گا، باقی حلال ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، سب کے نزدیک چاہے اس مقیدہ زمانے کا خیال رکھے یا نہ رکھے، جب حلق کروائے گا تو کیا ہو جائے گا؟ حلال، اسی طرح مقید جگہ کا خیال رکھے یا نہ رکھے لیکن جب حلق کروائے گا کیا ہو جائے گا؟ حلال، تو حلال ہونے کے اندر اختلاف نہیں ہے، صرف ضمان دینے کے اندر اختلاف ہے کہ ضمان اس پر دم کا ضمان آئے گا یا نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: "وَهٰذَا الْخِلَافُ فِي التَّوْقِيتِ فِي حَقِّ التَّضْمِينِ بِالدَّمِ" اور یہ جو اختلاف ہے توقیت مقید کرنے کے بارے میں، یہ فی حق التضمین بالدم یہ دم کے ساتھ ضامن بنانے کے حق میں ہے، "أَمَّا لَا يَتَوَقَّتُ فِي حَقِّ التَّحَلُّلِ بِالِاتِّفَاقِ" اور باقی یہ مقید نہیں ہے حلال ہونے کے حق میں بالاتفاق یعنی حلال ہر صورت میں وہ ہو جائے گا۔ "وَالتَّقْصِيرُ وَالْحَلْقُ فِي الْعُمْرَةِ غَيْرُ مُوَقَّتٍ بِالزَّمَانِ بِالْإِجْمَاعِ" اور بال چھوٹے کروانا اور حلق کروانا عمرے کے اندر، یہ زمانے کے ساتھ مقید نہیں ہے بالاجماع، بالاجماع عمرہ کر لیا ایک آدمی نے، طواف اور سعی کر لی، اب حلق کرنا رہ گیا حلال ہونے کے لیے، تو جب چاہے یہ حلق کروائے، چاہے اسی وقت کروائے، چاہے دس دن بعد کروائے، چاہے مہینے بعد کروائے، کیونکہ اس میں حلق کے اندر زمانے کی کوئی قید نہیں ہے بالاجماع بھئی، ہاں البتہ یہ یاد رہے جب تک حلق کروائے گا نہیں احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوں گی۔ تو کہتے ہیں: "وَالتَّقْصِيرُ وَالْحَلْقُ فِي الْعُمْرَةِ غَيْرُ مُوَقَّتٍ بِالزَّمَانِ بِالْإِجْمَاعِ" اور بال چھوٹے کروانا اور حلق کروانا عمرے کے اندر یہ مقید نہیں ہے زمانے کے ساتھ بالاجماع، "لِأَنَّ أَصْلَ الْعُمْرَةِ لَا يَتَوَقَّتُ بِهِ" اس لیے کیونکہ اصلِ عمرہ جو ہے وہ زمانے کے ساتھ مقید نہیں ہے، جب عمرہ کرنا چاہے کر سکتا ہے، "بِخِلَافِ الْمَكَانِ لِأَنَّهُ مُوَقَّتٌ بِهِ" بخلاف جگہ کے کہ عمرہ اس کے ساتھ مقید ہے، عمرہ کہاں پر ہوگا؟ حرم ہی میں، کیونکہ سعی اور طواف پر مشتمل ہے تو اور وہ حرم کے اندر، تو لہٰذا لہٰذا اس میں حلق اور قصر میں زمانے کے اعتبار سے تو کوئی قید نہیں لیکن جگہ کے اعتبار سے قید کا یہ مقید ہوگا حلق اور قصر، سمجھ رہے ہیں، جگہ کے ساتھ مقید ہوگا اسی اختلاف کے مطابق جو ابھی اوپر تفصیل ذکر ہو گئی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جو جگہ کا جگہ کی قید کا اعتبار کرتے ہیں ان کے نزدیک جگہ کی قید یہاں بھی معتبر ہوگی جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جگہ کی قید کا اعتبار نہیں کرتے لہٰذا ان کے نزدیک یہاں بھی قید نہیں ہوگی۔ "قَالَ: فَإِنْ لَمْ يُقَصِّرْ حَتَّى رَجَعَ وَقَصَّرَ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِمْ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا" صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے عمرہ کر لیا لیکن حلق یا قصر نہیں کروایا اور حرم سے نکل گیا، پھر بعد میں وہ واپس آیا اور حلق اور قصر اس نے حرم کے اندر کروا لیا، تو کیا اب اس پر دم ہے یا دم ساقط ہو گیا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس پر کوئی دم اب نہیں کیونکہ حلق یا قصر رہتا تھا اور وہ اس نے کہاں پر کر لیا؟ اپنی جگہ پر ہی کیا یعنی حرم کے اندر، تو اس پر کچھ نہیں۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ لَمْ يُقَصِّرْ" اگر اس شخص نے بال چھوٹے نہیں کروائے "حَتَّى رَجَعَ" یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آیا یعنی حرم میں "وَقَصَّرَ" اور پھر بال چھوٹے کروا لیے، "فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا" تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ان تینوں ائمہ کے قول کے مطابق بھئی، "مَعْنَاهُ إِذَا خَرَجَ الْمُعْتَمِرُ ثُمَّ عَادَ" معنی اس کا یہ ہے کہ جب عمرہ کرنے والا نکلا پھر لوٹ آیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ متن کا معنی بیان کر رہے ہیں، فإن لم يقصر حتی رجع سے کون سا شخص، کون لوٹ آیا واپس؟ عمرہ کرنے والا پھر لوٹ آیا، "لِأَنَّهُ أَتَى بِهِ فِي مَكَانِهِ" اس لیے کیونکہ وہ اس حلق یا قصر کو لے آیا ہے اپنی جگہ میں یعنی اس کو ادا کیا ہے اپنی جگہ میں، "فَلَا يَلْزَمُهُ زَمَانُهُ" تو اس پر اس کا زمانہ لازم نہیں ہوگا۔ "فَإِنْ حَلَقَ الْقَارِنُ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ فَعَلَيْهِ دَمَانِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے حجِ قران کیا، اور حجِ قران کے اندر آپ پڑھ چکے کہ اس پر قربانی بھی واجب ہوتی ہے کہ اللہ نے دو عبادتوں کی توفیق اسے دی ہے، اور پھر اس کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں... یرحمک اللہ... اس کے اندر آپ تفصیل پڑھ چکے ہیں کہ دسویں ذوالحجہ کو پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی جاتی ہے اور اس کے بعد قربانی کرے گا، پھر اس کے بعد کیا کرے گا؟ حلق کروائے گا۔ اب اگر حجِ قران کرنے والے نے قربانی سے پہلے ہی حلق کروا لیا، قربانی سے پہلے ہی حلق کروا لیا اور پھر اس کے بعد قربانی کی، تو امام صاحب کے نزدیک اس پر دو دم واجب ہوں گے، دو دم، اور صاحبین کے نزدیک اس پر ایک ہی دم واجب ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں تفصیل آ رہی ہے بھئی: "فَإِنْ حَلَقَ الْقَارِنُ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ فَعَلَيْهِ دَمَانِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اگر حلق کروا لیا حجِ قران کرنے والے نے ذبح کرنے سے پہلے ہی تو اس پر دو دم ہیں امام صاحب کے نزدیک۔ کون سے دو دم؟ کہتے ہیں: "دَمٌ بِالْحَلْقِ فِي غَيْرِ أَوَانِهِ" ایک دم تو جو ہے وہ حلق کروانے کی وجہ سے فی غیر اوانہ اپنے وقت کے علاوہ میں، کیا کیا اس نے؟ ہاں، ذبح سے پہلے حلق کروا لیا تو اپنے وقت سے اپنے وقت کے علاوہ میں جو اس نے حلق کروا لیا اس وجہ سے، "لِأَنَّ أَوَانَهُ بَعْدَ الذَّبْحِ" اس لیے کیونکہ حلق کا وقت جو ہے وہ تو ذبح کے بعد ہے تو ایک تو دم اس وجہ سے آئے گا، "وَدَمٌ بِتَأْخِيرِ الذَّبْحِ عَنِ الْحَلْقِ" اور ایک دم جو ہے وہ ذبح کو مؤخر کرنے کی وجہ سے عن الحلق حلق سے، کہ اس نے ذبح کو کیا کیا؟ مؤخر کیا ہے حلق سے۔ لیکن یہاں علماء لکھتے ہیں صاحبِ ہدایہ سے تسامح ہو گیا، سہو ہو گیا، غلطی ہو گئی بھئی۔ دو دم، دو دم، ایک دم کیا ذکر کیا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کہ امام صاحب کے نزدیک دو دم واجب ہیں۔ ایک دم کون سا؟ حلق کو اپنے وقت میں نہیں کیا یعنی مقدم کیا، اور دوسرا دم کس وجہ سے؟ ذبح کو مؤخر کیا۔ حالانکہ اس تقدیم و تاخیر سے ایک ہی دم واجب ہوگا۔ کیونکہ جب ایک کو مقدم کریں گے تو دوسرا خود بخود کیا ہو جائے گا؟ مؤخر ہو جائے گا، تو اس تقدیم و تاخیر سے ایک دم واجب ہوگا اور ایک دم جو ہے وہ خود حجِ قران والا ہے، تو کتنے دم ہو گئے