”وَإِنْ لَبِسَ ثَوْبًا مَخِيطًا أَوْ غَطَّى رَأْسَهُ يَوْمًا كَامِلًا فَعَلَيْهِ دَمٌ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ، وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ إِذَا لَبِسَ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَوَّلًا“ باب الجنایات ہم پڑھ رہے ہیں کہ حالتِ احرام میں محرم اگر مختلف ممنوعہ افعال میں سے کوئی فعل کر لے تو اس صورت میں اس پر کفارہ کیا آئے گا، صدقہ اس پر آئے گا یا دم آئے گا، وہ تفصیلات بیان ہو رہی ہیں بھئی۔ تو آج آپ کو بتلا رہے ہیں: ”وَإِنْ لَبِسَ ثَوْبًا مَخِيطًا“ بھئی آپ جانتے ہیں، آپ پڑھ چکے ہیں کہ حالتِ احرام میں سلے ہوئے کپڑے پہننا منع ہیں۔ تو اگر کسی نے سلا ہوا کپڑا پہن لیا اور سارا دن پہنے رکھا تو اس پر دم واجب ہوگا۔ اسی طرح اپنے سر کو محرم نہیں ڈھانپ سکتا، اگر اس نے اپنے سر کو ڈھانپ لیا اور سارا دن اس نے سر کو ڈھانپے رکھا تو بھی اس صورت میں اس پر دم واجب ہوگا، اور اگر اس سے کم ہوا تو پھر صدقہ واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَبِسَ ثَوْبًا مَخِيطًا“ اور اگر محرم نے پہن لیا سلا ہوا کپڑا—مخیط سلا ہوا، ثوباً مخیطاً سلا ہوا کپڑا پہن لیا—”أَوْ غَطَّى رَأْسَهُ“ یا ڈھانپ لیا اپنے سر کو، ”يَوْمًا كَامِلًا“ پورا ایک دن، ”فَعَلَيْهِ دَمٌ“ تو اس پر دم واجب ہے، یعنی ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی۔ ”وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ“ اور اگر وہ ایک دن سے کم ہوا—یعنی یہ جو سلا ہوا کپڑا پہنا ہے یا سر ڈھانپا ہے یہ ایک دن سے کم ہوا—”فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ“ تو اس پر صدقہ واجب ہے بھئی۔ اور صدقہ آپ پڑھ چکے کہ نصف صاع گندم بھئی دینی پڑے گی بھئی۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ إِذَا لَبِسَ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب اس نے نصف یوم سے زیادہ وہ سلا ہوا کپڑا پہنے رکھا، تو اس پر دم واجب ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اکثر کا اعتبار کرتے ہیں: ”وللأکثر حکم الکل“۔ تو جب نصف دن سے زیادہ پہنے رکھا تو گویا سارا دن ہی پہنے رکھا، تو دم واجب ہوگا۔ ”وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَوَّلًا“ اور یہی قول ہے امام صاحب کا پہلا؛ امام صاحب کا پہلا قول بھی یہی تھا بھئی۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجِبُ الدَّمُ بِنَفْسِ اللُّبْسِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دم واجب ہو جائے گا نفسِ پہننے سے ہی۔ وہ مدت کا اعتبار کرتے ہی نہیں، بس کپڑا پہن لیا سلا ہوا تو فوراً ہی کیا واجب ہو جائے گا؟ دم واجب ہو جائے گا۔ ”لِأَنَّ الِارْتِفَاقَ يَتَكَامَلُ بِالِاشْتِمَالِ عَلَى بَدَنِهِ“ ارتفاق کہتے ہیں فائدہ بھئی۔ ”لأن الارتفاق يتكامل“ اس لیے کیونکہ فائدہ جو ہے وہ کامل ہو جاتا ہے ”بالاشتمال على بدنه“ اپنے بدن پر مشتمل ہونے سے۔ یعنی محرم کے بدن پر جب وہ کپڑا مشتمل ہو گیا، یعنی اس کے بدن پر وہ سلا ہوا کپڑا جب آ گیا تو اس نے اس کپڑے کا فائدہ اٹھا لیا، لہٰذا یہ جرم کیا تو دم دینا پڑے گا۔ ”وَلَنَا: أَنَّ مَعْنَى التَّرَفُّقِ مَقْصُودٌ مِنَ اللُّبْسِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ نفع اٹھانے کا معنی ہی مقصود ہے کپڑے پہننے سے۔ کپڑے کس لیے پہنے جاتے ہیں؟ کہ ان سے نفع اٹھانا مقصود ہوتا ہے۔ ”فَلَا بُدَّ مِنَ اعْتِبَارِ الْمُدَّةِ“ لہٰذا ضروری ہے کسی مدت کا اعتبار کرنا، ”لِيَتَحَصَّلَ عَلَى الْكَمَالِ وَيَجِبَ الدَّمُ“ تاکہ مقصود جو تھا فائدہ اٹھانے کا یہ کامل طور پر حاصل ہو جائے اور تاکہ دم واجب ہو جائے۔ ”فَقُدِّرَ بِالْيَوْمِ“ تو اس کا اندازہ کس سے لگایا گیا؟ ایک دن سے، ایک دن کو مقرر کیا گیا۔ ”لِأَنَّهُ يُلْبَسُ فِيهِ ثُمَّ يُنْزَعُ عَادَةً“ اس لیے کیونکہ کپڑے پہنے جاتے ہیں دن کے اندر، پھر اتار دیے جاتے ہیں عادۃً۔ عادۃً کیا کیا جاتا ہے؟ صبح کپڑے پہنے جاتے ہیں تو شام کو اتار دیے جاتے ہیں، تو ایک دن کا پورا فائدہ اس سے مقصود ہوتا ہے۔ تو لہٰذا جو شخص ایک پورا دن پہن لے گا سلے ہوئے کپڑے حالتِ احرام میں، تو اس نے ان کا پورا فائدہ اٹھا لیا۔ ”وَتَتَقَاصَرُ فِيمَا دُونَهُ الْجِنَايَةُ“ اور کم ہو جائے گی اس سے کم کے اندر جنایت۔ پورا دن پہنے گا تو جنایت کامل ہوگی اور پورے دن سے کم پہنے گا تو جنایت یعنی جرم کم درجے کا ہوگا۔ ”فَتَجِبُ الصَّدَقَةُ“ تو اس صورت میں صدقہ واجب ہوگا۔ ”غَيْرَ أَنَّ أَبَا يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَقَامَ الْأَكْثَرَ مَقَامَ الْكُلِّ“ علاوہ اس کے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں انہوں نے اکثر کو کل کے قائم مقام کیا ہے۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اکثرِ یوم پہن لیے سلے ہوئے کپڑے یا اکثرِ یوم سر ڈھانپ لیا تو اس صورت میں دم واجب ہوگا کیونکہ ”للأکثر حکم الکل“ بھئی۔ ”وَلَوِ ارْتَدَى بِالْقَمِيصِ أَوِ اتَّشَحَ بِهِ أَوِ اتَّزَرَ بِالسَّرَاوِيلِ فَلَا بَأْسَ بِهِ، لِأَنَّهُ لَمْ يَلْبَسْهُ لُبْسَ الْمَخِيطِ“ ”ولو ارتدى بالقميص“ اور اگر اوڑھ لی محرم نے قمیص—محرم نے اگر قمیص اوڑھ لی، بھئی قمیص کو پہنا نہیں اس نے، قمیص کو چادر کی طرح اوڑھ لیا اپنے اوپر۔ ”أَوِ اتَّشَحَ بِهِ“ یا اس کے ذریعے اتّشاح کر لیا۔ اتّشاح اس کو کہتے ہیں کہ کپڑے کو بائیں کندھے پر ڈالا جائے اور دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر پھر اس کے جو دونوں سرے ہیں—ایک سرا کس طرف سے؟ بائیں کندھے کے اوپر سے آ رہا ہے اور ایک سرا دائیں بغل کے نیچے سے آیا—تو دونوں سروں کو سینے پر باندھ دیا آپس میں بھئی، یہ کیا ہے؟ اتّشاح ہے۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ ہے اتّشاح۔ تو کسی نے اگر اتّشاح کر لیا یعنی وہ قمیص کو اس طرح بائیں کندھے پر ڈال کر اور دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر سینے پر باندھ لیا۔ ”أَوِ اتَّزَرَ بِالسَّرَاوِيلِ“ یا تہبند بنا لیا سراویل شلوار سے بھئی، یعنی شلوار کو تہبند کے طور پر باندھ لیا، شلوار پہنی نہیں بلکہ تہبند کی طرح اس کو اس نے شلوار کو باندھ لیا۔ ”فَلَا بَأْسَ بِهِ“ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ”لِأَنَّهُ لَمْ يَلْبَسْهُ لُبْسَ الْمَخِيطِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اس کو سلے ہوئے کپڑے کی طرح نہیں پہنا۔ قمیص سے بھی اگر اس نے چادر کی طرح اوڑھا ہے تو سلے ہوئے کپڑے کی طرح تو اس کو پہنا نہیں، یا اس سے اتّشاح کیا ہے تو بھی سلے ہوئے کپڑے کی طرح نہیں پہنا، یا شلوار کو تہبند کی طرح باندھ دیا ہے تو بھی سلے ہوئے کپڑے کی طرح نہیں پہنا، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ”وَكَذَا لَوْ أَدْخَلَ مَنْكِبَيْهِ فِي الْقَبَاءِ وَلَمْ يُدْخِلْ يَدَيْهِ فِي الْكُمَّيْنِ“ بھئی قبا، قبا یہ قدیم زمانے کا ایک لباس تھا جیسے آج کل یہ کوٹ یا شیروانی ہوتی ہے جو بڑا لمبا کوٹ ہو۔ تو جس طرح یہ ہے اس طرح قبا ہوتی تھی بھئی۔ البتہ کوٹ وغیرہ کے تو بٹن ہوتے ہیں، قبا کو درمیان سے کمر پر اس کو باندھ لیا جاتا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جس طرح یہ کوٹ یا شیروانی قمیص کے اوپر پہنی جاتی ہے، اسی طرح قبا بھی قمیص کے اوپر پہنی جاتی تھی۔ تو اگر کسی نے قبا پہن لی—قبا پہن لی لیکن پہنی نہیں بھئی، قبا کے اندر اس نے اپنے کندھے ڈال دیے اور اس کی آستینیں تھیں اس کے اندر بازو نہیں ڈالے، صرف کندھے پر رکھ لی قبا، تو اس صورت میں بھی کوئی حرج نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس صورت میں دم وغیرہ یا صدقہ نہیں آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وكذا لو أدخل منكبيه في القباء“ اور اسی طرح ہے حکم اگر محرم نے داخل کر دیے اپنے دونوں کندھے قبا کے اندر، ”ولم يدخل يديه في الكمين“ اور داخل نہیں کیے اس نے اپنے بازو آستینوں کے اندر، تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے یعنی کوئی حرج نہیں۔ ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ اس صورت میں بھی دم یا صدقے کے قائل ہیں بھئی۔ تو آگے ہماری دلیل ہے: ”لِأَنَّهُ مَا لَبِسَهُ لُبْسَ الْقَبَاءِ“ ہماری دلیل یہ ہے کیونکہ اس نے اس قبا کو قبا کی طرح نہیں پہنا بلکہ صرف کس پر رکھا ہے؟ کندھوں پر رکھا ہے۔ ”وَلِهَذَا يَتَكَلَّفُ فِي حِفْظِهِ“ اسی وجہ سے اس آدمی کو تکلف کرنا پڑے گا اس کی حفاظت میں۔ بھئی صرف کندھوں پر کوٹ رکھا ہے یا شیروانی رکھی ہے تو بار بار سنبھالنا پڑے گا یا نہیں؟ کہ گر نہ جائے بھئی! تو یہاں پر بھی محرم کو تکلف کرنا پڑے گا اس قبا کی حفاظت میں۔ ”وَالتَّقْدِيرُ فِي تَغْطِيَةِ الرَّأْسِ مِنْ حَيْثُ الْوَقْتِ مَا بَيَّنَّاهُ“ اچھا بھئی! ابھی تک یہ ساری تفصیل بیان کر رہے تھے سلے ہوئے کپڑے پہننے میں۔ کس میں؟ سلے۔ کہ سلے ہوئے کپڑے سارا دن پہنے تو دم واجب ہوگا، آگے سر ڈھانپنے میں بھی کہتے ہیں وہی تفصیل ہے۔ جس طرح سلے ہوئے کپڑے سارا دن پہننے سے دم واجب ہوتا تھا، تو سارا دن سر ڈھانپنے سے بھی دم واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”والتقدير في تغطية الرأس من حيث الوقت ما بيناه“ اور اندازہ لگانا سر کے ڈھانپنے میں وقت کی حیثیت سے وہی ہے جو ہم نے بیان کر دی۔ ”وَلَا خِلَافَ أَنَّهُ إِذَا غَطَّى جَمِيعَ رَأْسِهِ يَوْمًا كَامِلًا يَجِبُ عَلَيْهِ الدَّمُ“ اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جب محرم نے ڈھانپا اپنے سارے سر کو پورا دن تو اس پر دم واجب ہوگا، ”لِأَنَّهُ مَمْنُوعٌ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ اس سے روکا گیا ہے۔ ”وَلَوْ غَطَّى بَعْضَ رَأْسِهِ“ بھئی اگر کوئی محرم سارے سر کو نہیں ڈھانپتا بلکہ سر کے کچھ حصے کو ڈھانپتا ہے تو پھر کیا حکم ہے؟ تو کہتے ہیں: ”ولو غطى بعض رأسه“ اور اگر محرم نے اپنے سر کے کچھ حصے کو ڈھانپا، ”فَالْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ اعْتَبَرَ الرُّبُعَ اعْتِبَارًا بِالْحَلْقِ وَالْعَوْرَةِ“ تو روایت کیا گیا ہے امام صاحب سے کہ انہوں نے ربع کا یعنی چوتھائی حصے کا اعتبار کیا ہے قیاس کرتے ہوئے حلق پر اور عورت پر یعنی ستر پر۔ حلق اور ستر پر قیاس کرتے ہوئے؛ امام صاحب فرماتے ہیں جیسے محرم اگر چوتھائی سر کا حلق کروا لے حالتِ احرام میں تو اس پر دم واجب ہو جاتا ہے۔ بالوں کا کاٹنا منع ہے نا حالتِ احرام میں؟ وہ آخر میں جا کر تو پھر حلال ہونے کے لیے حلق وغیرہ کروائے گا، اس کی بات نہیں کر رہے، درمیان میں اگر کوئی کیا کروا لیتا ہے؟ حلق کروا لیتا ہے، تو پورے سر میں جیسے دم واجب ہوتا ہے، اسی طرح چوتھائی سر میں بھی دم واجب ہوتا ہے بھئی۔ اور اسی طرح عورت، سترِ عورت بھئی، آپ جانتے ہیں کہ نماز کے اندر اگر کشفِ عورت ہو چوتھائی عضو کے بقدر یعنی وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے اس میں سے چوتھائی عضو نظر آ جائے تو پھر اس صورت میں نماز کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد ہو جاتی ہے۔ تو جیسے وہاں چوتھائی عضو کا اعتبار کیا گیا اور جیسے حلق کے اندر چوتھائی سر کا اعتبار کیا گیا، تو یہاں سر ڈھانپنے میں بھی وہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ چوتھائی سر کا، کہ جس نے چوتھائی سر کو ڈھانپا اور سارا دن ڈھانپا تو اس پر کیا واجب ہوگا؟ دم، اور اس سے کم ڈھانپا تو صدقہ واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”أنه اعتبر الربع اعتباراً بالحلق والعورة“ کہ امام صاحب سے روایت ہے کہ انہوں نے اعتبار کیا ہے چوتھائی کا یعنی سر ڈھانپنے میں بھی چوتھائی کا اعتبار کیا ہے قیاس کرتے ہوئے حلق اور ستر پر۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ سَتْرَ الْبَعْضِ اسْتِمْتَاعٌ مَقْصُودٌ يَعْتَادُهُ بَعْضُ النَّاسِ“ بھئی یہ کیا وجہ؟ سر کا کچھ حصہ ڈھانپنے کی وجہ سے دم کیوں آتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ یہ مقصودی نفع ہے۔ بعض لوگوں کی عادت ہی یہ ہوتی ہے وہ پورے سر کو ڈھانپ کر رکھتے ہی نہیں، سر کے کچھ حصے کو کیا کرتے ہیں؟ ڈھانپ کر رکھتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو بعض لوگوں کی عادت ہی کیا ہوتی ہے؟ وہ پورے سر کو نہیں ڈھانپتے، سر کے کچھ حصے کو ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ تو لہٰذا کچھ حصے کو ڈھانپنا بھی ایک مقصودی نفع ہوا۔ اور جہاں بھی مقصودی نفع آئے گا یاد رکھنا ضابطہ، جہاں بھی کس قسم کا نفع ہے؟ مقصودی نفع جو مقصود ہوتا ہے لوگوں کا، تو وہاں پر وہ جنایت کامل ہوگی، اور اگر وہ مقصودی نفع نہ ہوا تو پھر وہ جنایت کامل نہیں، اس میں پھر صرف صدقہ آئے گا، لیکن اگر مقصودی نفع ہوا تو اس میں دم آئے گا۔ تو لہٰذا یہ بعض سر کا ڈھانپنا بھی کیا ہے؟ یہ مقصودی نفع ہے، بعض بالارادہ ہی اتنا تھوڑا سر ڈھانپ کر رکھتے ہیں، تو لہٰذا یہ جنایت کامل ہوئی۔ تو کہتے ہیں: ”وهذا لأن ستر البعض استمتاع مقصود يعتاده بعض الناس“ اور یہ اس وجہ سے ہے اس لیے کیونکہ بعض حصے کا ڈھانپنا جو ہے وہ مقصودی نفع ہے جس کی عادت ہوتی ہے بعض لوگوں کو۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَعْتَبِرُ أَكْثَرَ الرَّأْسِ اعْتِبَارًا لِلْحَقِيقَةِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اعتبار کرتے ہیں سر کے اکثر حصے کا حقیقتِ کثرت کا اعتبار کرتے ہوئے۔ وہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ حقیقتِ کثرت کا، اور حقیقتِ کثرت کب ہوگی؟ جب نصف سے زائد ہو، تو وہ بھی اس لیے اکثرِ رأس کا اعتبار کرتے ہیں۔ ”وَإِذَا حَلَقَ رُبُعَ رَأْسِهِ أَوْ رُبُعَ لِحْيَتِهِ فَصَاعِدًا فَعَلَيْهِ دَمٌ“ اور اگر محرم نے مونڈ دیا اپنے چوتھائی سر کو یا اپنی چوتھائی داڑھی کو، یا اس سے زیادہ، تو اس پر دم واجب ہے۔ دیکھا؟ ابھی مسئلہ آپ نے پڑھا، چوتھائی سر یا چوتھائی داڑھی منڈوانے سے دم واجب ہوگا۔ ”فَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنَ الرُّبُعِ فَعَلَيْهِ صَدَقَةٌ“ اور اگر وہ کم ہوا چوتھائی حصے سے تو اس پر صدقہ واجب ہے۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجِبُ إِلَّا بِحَلْقِ الْكُلِّ“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دم واجب نہیں ہوتا مگر سارے سر کے حلق سے۔ سارے سر کا حلق کروائے گا یا ساری داڑھی کا کوئی حلق کروائے گا تو تب دم واجب ہوگا، اگر اس سے کچھ کم ہوا تو دم واجب نہیں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجِبُ بِحَلْقِ الْقَلِيلِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دم واجب ہوگا تھوڑے سے حلق سے بھی۔ تھوڑا سا حلق بھی کوئی کروا لے کیونکہ حلق ممنوع ہے، تو تھوڑا سا بھی حلق کروائے گا ممنوع فعل کا ارتکاب کیا لہٰذا کیا واجب ہوگا؟ دم واجب ہوگا۔ یہ ہے فقہائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ رحمۃً واسعۃ بھئی۔ امام مالک رحمہ اللہ فرما رہے ہیں سارے سر کا حلق کرے گا تو دم واجب ہوگا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تھوڑے سے چند بال بھی کاٹ لے گا تو دم واجب ہو جائے گا، اور ہمارے نزدیک چوتھائی سر کا کم از کم حلق کروائے گا تو تب دم واجب ہوگا۔ تو سمجھ میں آیا بھئی؟ اور ہر ایک کے اپنے دلائل ہیں بھئی۔ ”وقال الشافعي رحمه الله يجب بحلق القليل“ ”اعْتِبَارًا بِنَبَاتِ الْحَرَمِ“ قیاس کرتے ہوئے حرم کی نبات پر یعنی پودوں پر، حرم کے پودوں۔ جیسے حرم کے پودے اور گھاس وغیرہ کاٹنا منع ہے، تو وہ قیاس کرتے ہیں ”بنبات الحرم“ حرم کی گھاس اور حرم کے پودے، کہ جیسے حرم کی گھاس اور پودے وغیرہ کاٹنا ممنوع ہیں، ان سے روکا گیا ہے چاہے تھوڑے ہوں چاہے زیادہ، اسی طرح محرم کے لیے بھی حلق ممنوع ہے چاہے تھوڑے بالوں کا ہو چاہے زیادہ بالوں کا ہو بھئی۔ ”وَلَنَا: أَنَّ حَلْقَ بَعْضِ الرَّأْسِ ارْتِفَاقٌ كَامِلٌ لِأَنَّهُ مُعْتَادٌ، فَتَتَكَامَلُ بِهِ الْجِنَايَةُ، وَتَتَقَاصَرُ فِيمَا دُونَهُ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ بعض سر کا حلق جو ہے وہ بھی کامل نفع ہے، کامل نفع اٹھانا ہے کیونکہ یہ معتاد ہے، لوگوں کو اس کی عادت ہوتی ہے تو اس سے جنایت کامل ہو جائے گی اور اس سے کم کے اندر جنایت کم ہوگی۔ ہم کہتے ہیں کہ بعض رأس کا حلق کروانا، سر کے کچھ حصے کا حلق کروانا یہ بھی لوگوں میں عام ہے، رائج ہے، آپ دیکھتے ہیں بھئی! آج کل بھی آپ دیکھتے ہیں، بعض لوگ کیا کرتے ہیں؟ سر کے صرف کچھ حصے کا حلق کرواتے ہیں، مثلاً کانوں کے اوپر سے اور گردن پر جو ہے صرف یہاں پر وہ کیا کروا لیتے ہیں؟ حلق کروا لیتے ہیں اور اوپر کے سارے بال اسی طرح ہوتے ہیں ان کے، تو دیکھا؟ بعض رأس کا حلق بھی کیا ہے؟ وہ مقصودی نفع ہے، لوگ کرتے ہی اتنا ہیں بعض لوگ، لہٰذا یہاں پر بھی حکم اسی طرح ہوگا، کچھ سر کا حلق بھی کیا ہوا؟ وہ مقصودی نفع ہوا، اور وہ نفع اٹھایا تو جنایت کی کامل درجے کی تو دم آئے گا، اور اس کا اندازہ کس سے لگایا گیا؟ ربع رأس کے ساتھ چوتھائی سر، ہاں اس سے کم ہو تو پھر جنایت کم درجے کی ہے اس میں دم نہیں ہوگا۔ ”بِخِلَافِ تَطَيُّبِ رُبُعِ الْعُضْوِ لِأَنَّهُ غَيْرُ مَقْصُودٍ“ بھئی پیچھے مسئلہ آیا تھا، باب الجنایات جہاں شروع ہوا تھا اس کی تیسری چوتھی سطر میں آیا تھا کہ منتقیٰ کتاب کے اندر ہے کہ کسی نے اگر چوتھائی عضو پر بھی خوشبو لگا لی—یہ وہ خاص خوشبوئیں مراد ہیں جو بدن پر لگائی جاتی تھیں سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ وہ خوشبوئیں مراد نہیں جو آج کل ہم استعمال کرتے ہیں جو عطر وغیرہ ہے، وہ تو کچھ بھی استعمال کر لے گا تو کیا لازم ہوگا؟ دم آئے گا بھئی، تو یہ وہ خوشبوئیں جن کی معمولی خوشبو ہوتی تھی اور بدن پر استعمال کی جاتی تھیں جیسے ذکر ہو گیا مہندی ہے بھائی—تو وہاں پر اس قسم کی کسی نے خوشبو لگائی، تو منتقیٰ کتاب میں کیا ہے؟ چوتھائی عضو پر بھی اگر یہ خوشبو لگا لی تو اس صورت میں دم واجب ہوگا اور انہوں نے اس کو قیاس کیا تھا حلق پر، جیسے چوتھائی عضو کا حلق کروا لیا جائے یعنی چوتھائی سر کا تو کیا واجب ہوتا ہے؟ دم، تو چوتھائی عضو پر خوشبو لگا لی تو یہ بھی اسی کی طرح ہے چوتھے حصے پر لگ گئی لہٰذا دم واجب ہوگا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا: ”ونحن نذكر الفرق بينهما“ ہم ان دونوں میں کیا کریں گے؟ فرق بیان کریں گے، وہ فرق اب بیان کرنے لگے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی چوتھائی سر کا حلق یہ تو بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے، یہ تو مقصودی نفع ہے، لیکن چوتھائی عضو کو یہ جو خوشبو لگائی جاتی ہے یہ مقصودی نفع نہیں ہے، لہٰذا اس لیے دونوں کا حکم الگ الگ ہوگا، ایک جیسا نہیں ہوگا کیونکہ ایک چیز مقصودی ہے اور ایک چیز مقصود نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بخلاف تطيب ربع العضو لأنه غير مقصود“ بخلاف چوتھائی عضو پر خوشبو لگانا کیونکہ وہ مقصود نہیں ہے۔ ”وَكَذَا حَلْقُ بَعْضِ اللِّحْيَةِ مُعْتَادٌ بِالْعِرَاقِ وَأَرْضِ الْعَرَبِ“ یہ تو پیچھے سر کا بیان تھا کہ بعض سر کا حلق کیا ہے؟ لوگوں کو اس کی عادت، تو اب داڑھی کا بھی حکم بتلا رہے ہیں کہ داڑھی کا بھی یہی حکم ہے، اگر چوتھائی داڑھی کیا کر لی؟ حلق کروا لی تو دم آئے گا، اس لیے کیونکہ داڑھی کے کچھ حصے کا حلق یہ بھی کیا ہے؟ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے جیسے آج کل بھی آپ دیکھتے ہیں بھئی، کہ ٹھوڑی وغیرہ پر داڑھی رہنے دی اور ارد گرد کیا کر دی؟ داڑھی کے بال حلق کروا دیتے ہیں، تو یہ معلوم ہوا بعض لحیہ کا حلق بھی معتاد ہے، مقصود ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وكذا حلق بعض اللحية معتاد بالعراق وأرض العرب“ اور اسی طرح داڑھی کے کچھ حصے کا حلق جو ہے وہ بھی معتاد ہے یعنی لوگوں کو اس کی عادت ہے عراق میں اور سرزمینِ عرب میں بھئی۔ ”وَإِنْ حَلَقَ الرَّقَبَةَ كُلَّهَا فَعَلَيْهِ دَمٌ“ اور اگر حلق کروا دیا گردن کا—بھئی گردن یہ گدی جو ہے، کمر کی جانب جو حصہ ہے اور اس پر جو بال ہیں گردن پر ان کو کیا کروا دیا کسی نے؟ حلق کروا دیا—تو اس صورت میں بھی یہ مقصودی نفع حاصل کر لیا تو دم آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وإن حلق الرقبة كلها فعليه دم“ اور اگر حلق کروایا ساری گردن کا تو اس پر دم واجب ہے، ”لِأَنَّهُ عُضْوٌ مَقْصُودٌ بِالْحَلْقِ“ اس لیے کیونکہ وہ ایسا عضو ہے جو حلق سے مقصود ہے، حلق کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ بعض اوقات بعض لوگ صرف گدی کے بال صاف کروا لیتے ہیں۔ ”وَإِنْ حَلَقَ الْإِبِطَيْنِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَعَلَيْهِ دَمٌ“ اور اگر حلق کروایا محرم نے دونوں بغلوں کا، یا دونوں میں سے ایک بغل کا حلق کروا لیا، تو اس پر دم واجب ہے۔ ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَقْصُودٌ بِالْحَلْقِ لِدَفْعِ الْأَذَى وَنَيْلِ الرَّاحَةِ“ اس لیے کیونکہ دونوں بغلوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ حلق کے ذریعے مقصود ہے تکلیف کو دور کرنے کے لیے اور راحت کو پانے کے لیے، راحت کو حاصل کرنے کے لیے۔ بھئی دونوں بغلوں میں سے ہر ایک مقصود ہے، ایک بغل بھی صاف کرے گا تو تکلیف دور ہوگی یا نہیں بھئی؟ اور راحت حاصل ہوگی یا نہیں اس سے؟ تو لہٰذا ہر ایک مقصود بالحلق ہوا اور اس میں پھر دم آئے گا۔ ”فَأَشْبَهَ الْعَانَةَ“ تو یہ مشابہ ہو گیا عانہ کے، عانہ زیرِ ناف کے بال بھئی، جیسے وہ مقصود بالحلق ہوتا ہے تو ہر ایک بغل کیا ہے؟ مقصود بالحلق ہوئی۔ ”ذَكَرَ فِي الْإِبِطَيْنِ الْحَلْقَ هُنَا، وَفِي الْأَصْلِ النَّتْفَ وَهُوَ السُّنَّةُ“ ذکر کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے دونوں بغلوں میں حلق کو یہاں پر، جامع صغیر میں امام محمد رحمہ اللہ نے بغلوں کے اندر کیا ذکر کیا ہے؟ یہ جو متن میں آیا: ”وإن حلق الإبطين“ کس کو؟ حلق کو ذکر کروایا ہے۔ ”وفي الأصل النتف“ اور اصل یعنی مبسوط کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے نتف کو ذکر کیا ہے۔ بھئی حلق تو کہتے ہیں نا استرے سے بال صاف کرنا، اور نتف کا معنی ہے اکھاڑنا، اکھاڑنا، کھینچ کر نکالنا۔ تو اصل مبسوط کے اندر نتف کو ذکر کیا ہے کہ اگر محرم نے کیا کیا؟ بغل کے بال کھینچ کر نکال دیے، تو وہاں نتف کا ذکر کیا ہے، ”وهو السنة“ اور یہی سنت ہے۔ یاد رکھیے بغل کے بال صاف کرنا ان میں مسنون طریقہ وہ حلق نہیں ہے بلکہ نتف ہے بھئی، کیا ہے؟ نتف ہے کہ ان کو اکھاڑ کر نکالا جائے۔ اسی لیے کہا: ”وهو السنة“ اور یہی سنت ہے۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ: إِذَا حَلَقَ عُضْوًا فَعَلَيْهِ دَمٌ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ فَطَعَامٌ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ جب کسی عضو کا حلق کروا دیا تو اس پر دم واجب ہے۔ کسی بھی عضو کا، کامل عضو کا اگر محرم کیا کروا دے گا؟ حلق کروا دے گا تو اس پر دم ہے، اور اگر اس سے کم ہوا تو پھر طعام آئے گا بھئی۔ طعام کا اطلاق بھئی یاد رکھیے گندم پر ہوتا ہے اور اسی طرح آٹے پر بھی بھئی، تو اس میں گندم آئے گی یعنی صدقہ آئے گا۔ ”أَرَادَ بِهِ الصَّدْرَ وَالسَّاقَ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ“ بھئی کیا مراد ہے کسی عضو کا حلق کروا لیا؟ سر کو بھی ذکر کر دیا، داڑھی کو بھی ذکر کر دیا، اور بغلوں کو بھی، گدی وغیرہ سب کو تو ذکر کر دیا، اس کے علاوہ اور کون سے اعضاء کا حلق ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی: ”أراد به الصدر والساق“ ارادہ کیا اس کے ذریعے امام محمد رحمہ اللہ نے سینے کا اور پنڈلی وغیرہ کا، ان جیسے اعضاء کا، یعنی کوئی بھی عضو ہو بطورِ مثال یہ ذکر کیے، ان کا اگر کوئی حلق کروائے گا تو بھی دم آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”أراد به الصدر والساق وما أشبه ذلك“ ارادہ کیا اس کے ذریعے امام محمد رحمہ اللہ نے سینے اور پنڈلی کا اور جو ان کے مشابہ ہیں، ”لِأَنَّهُ مَقْصُودٌ بِطَرِيقِ التَّنَوُّرِ“ اس لیے کیونکہ یہ مقصود ہے تنور کے طریقے پر۔ تنور کا معنی ہے بھئی تنور یہ نورہ سے ہے، نورہ اور نورہ یہ چونا چونے کو کہتے ہیں۔ تو یہ قدیم طریقہ تھا، چونا وغیرہ عضو پر لگا لیا جاتا تھا اور اس سے پھر بالوں کو عضو سے صاف کر لیا جاتا تھا۔ بھئی جیسے آج کل کوئی دوائی یا پاؤڈر وغیرہ ملتے ہیں اور وہ جو پنڈلی وغیرہ پر لگا لیے یا بازو پر لگا لیا اور اس سے بال وغیرہ اتر جاتے ہیں سارے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسی طرح یہاں پر بھی سینے اور پنڈلی سے اگر کسی نے بالوں کو دور کیا تو اس صورت میں دم واجب ہوگا اس لیے کیونکہ ان سے بھی بالوں کی صفائی بعض اوقات مقصود ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کو کیا ہوتی ہے؟ عادت ہوتی ہے وہ اس طرح کوئی بال صاف کرنے والی چیز کے ذریعے جیسے چونا وغیرہ ہے ان بالوں کو صاف کرتے ہیں، تو یہ کیا کس قسم کا فائدہ ہوا؟ جو مقصود ہے، اور مقصودی نفع کوئی بھی اٹھائے گا جو ممنوع ہے اور مقصودی نفع ہے احرام کے اندر تو اس صورت میں کیا لازم ہوتا ہے؟ دم، تو یہاں بھی دم لازم ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لأنه مقصود بطريق التنور“ اس لیے کیونکہ یہ مقصود ہے تنور کے طریقے پر، تنور وہی چونا وغیرہ کے ذریعے بال صاف کرنا بھئی۔ ”فَيَتَكَامَلُ بِحَلْقِ كُلِّهِ، وَيَتَقَاصَرُ عِنْدَ حَلْقِ بَعْضِهِ“ تو جنایت کامل ہوگی اس سارے عضو کے حلق سے یعنی پورا سینہ یا پوری پنڈلی اس کا جب حلق کر لے گا تو جنایت کامل ہو جائے گی، ”ويتقاصر عند حلق بعضه“ اور کم ہوگی جنایت اگر کچھ حصے کا حلق کروایا۔ ”وَإِنْ أَخَذَ مِنْ شَارِبِهِ فَعَلَيْهِ طَعَامُ حُكُومَةِ عَدْلٍ“ اور اگر محرم نے کتر اپنے مونچھ میں سے—شارب کسے کہتے ہیں؟ مونچھ کو بھائی—کترا یعنی کاٹا اپنی مونچھ میں سے، تو اس پر حکومتِ عدل کا طعام آئے گا۔ حکومت کا معنی فیصلہ اور عدل بمعنی عادل کے ہے یعنی قابلِ اعتماد شخص بھئی۔ تو کسی نے اگر اپنی مونچھ کو کاٹا ہے تو اس میں ایک عادل شخص کے فیصلے کو دیکھا جائے گا اور وہ جو فیصلہ کر دے گا اس کے مطابق اس پر غلہ اور صدقہ کرنا واجب ہوگا یعنی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کے مطابق اس پر غلہ، صدقہ کرنا واجب ہوگا۔ مثلاً بھئی، وہ دیکھے گا عادل شخص کہ اس نے یہ جو مونچھ کے بال کاٹے ہیں یہ چوتھائی داڑھی کا کتنا حصہ بنتے ہیں، اور چوتھائی داڑھی میں تو کیا واجب تھا؟ دم واجب تھا ایک بھیڑ بکری واجب تھی، تو لہٰذا وہ دیکھے گا کہ یہ جو مونچھوں کے بال اس نے کاٹے یہ چوتھائی داڑھی کا کتنا حصہ بنتا ہے، اگر یہ چوتھائی داڑھی کا مثلاً چوتھا حصہ بنتا ہے، اس کے چوتھائی داڑھی کا چوتھا حصہ بنتا ہے مثلاً، تو چوتھائی داڑھی میں ایک بھیڑ بکری آتی تھی تو اس کے چوتھے حصے کے برابر ہے یہ تو اس میں بھیڑ بکری کا چوتھا حصہ واجب ہوگا بھئی یعنی اس کے برابر غلہ جو ہے یعنی گندم صدقہ کرنا پڑے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وإن أخذ من شاربه فعليه طعام حكومة عدل“ اور اگر محرم نے کاٹا اپنی مونچھ میں سے تو اس پر حکومتِ عدل یعنی ایک عادل آدمی کے فیصلے کے مطابق اس پر غلہ واجب ہوگا یعنی اتنا صدقہ واجب ہوگا۔ ”وَمَعْنَاهُ: أَنَّهُ يَنْظُرُ كَمْ يَكُونُ هَذَا الْمَأْخُوذُ مِنْ رُبُعِ اللِّحْيَةِ، فَيَجِبُ عَلَيْهِ الطَّعَامُ بِحَسَبِ ذَلِكَ، حَتَّى لَوْ كَانَ مِثْلَ رُبُعِ الرُّبُعِ يَلْزَمُهُ قِيمَةُ رُبُعِ الشَّاةِ“ اور معنی اس کا یہ ہے کہ وہ عادل شخص دیکھے گا کہ یہ جو کاٹا گیا ہے یہ کتنا ہے چوتھائی داڑھی میں سے، چوتھائی داڑھی کا کتنا حصہ بنتا ہے، تو اس شخص پر طعام واجب ہوگا اسی کے بقدر بھئی، یہاں تک کہ مثلاً یہ چوتھائی داڑھی کے چوتھے حصے کے مثل ہوا تو اس پر بھیڑ بکری کی قیمت کا چوتھائی حصہ ہوگا یعنی بھیڑ بکری کی چوتھائی قیمت اس شخص پر لازم ہوگی۔ ”وَلَفْظَةُ الْأَخْذِ مِنَ الشَّارِبِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ هُوَ السُّنَّةُ فِيهِ دُونَ الْحَلْقِ“ اور متن میں بھئی ”وإن أخذ“، اخذ کا لفظ ذکر کیا، حلق کا لفظ ذکر نہیں کیا، حلق کا لفظ۔ یاد رکھیے مونچھوں کے اندر مسنون حلق نہیں ہے یعنی استرے سے صاف کرنا مسنون نہیں ہے، بلکہ مونچھوں کے اندر مسنون ان کو کترنا ہے کاٹنا ہے قینچی وغیرہ سے یہاں تک کہ وہ لبوں کے برابر ہو جائیں مونچھیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ولفظة الأخذ من الشارب تدل على أنه هو السنة فيه دون الحلق“ اور کاٹنے کا لفظ شارب کے اندر یہ دلالت کر رہا ہے کہ یہ سنت ہے مونچھوں میں، نہ کہ حلق بھئی۔ ”وَالسُّنَّةُ أَنْ يُقَصَّ حَتَّى يُوَازِيَ الْإِطَارَ“ اور سنت یہ ہے کہ کاٹا جائے ان کو یہاں تک کہ یہ برابر ہو جائیں اطار کے۔ اطار یاد رکھیے ہونٹ کا جو کنارہ ہے جو جلد کے ساتھ ملا ہوا ہے آخری کنارہ، یہ کیا کہلاتا ہے؟ اطار کہلاتا ہے۔ تو سنت یہ ہے کہ ان کو چھوٹا کیا جائے مونچھوں کو ”حتى يوازي الإطار“ یہاں تک کہ یہ اس ہونٹ کے کنارے کے برابر ہو جائیں، یعنی بالکل چھوٹی چھوٹی ہو جائیں یہ جو کنارہ ہے ہونٹ کے ساتھ آخری کنارہ جو جلد کے ساتھ ملا ہوا ہے اس کے برابر ہو جائیں بال بھئی، یعنی خوب چھوٹے کر دیں ان کو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”قَالَ: وَإِنْ حَلَقَ مَوْضِعَ الْمَحَاجِمِ فَعَلَيْهِ دَمٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: عَلَيْهِ صَدَقَةٌ“ قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وإن حلق موضع المحاجم“ اور اگر محرم نے حلق کروایا حجامت کی جگہوں کا، ”فعليه دم عند أبي حنيفة رحمه الله“ تو اس پر دم واجب ہے امام صاحب کے نزدیک، ”وقال عليه صدقة“ اور صاحبین فرماتے ہیں اس پر صدقہ واجب ہے بھئی۔ بھئی حجامت یہ قدیم طریقۂ علاج تھا، پہلے بھی کئی جگہ اس کا ذکر آ چکا ہے کہ کہ بدن کے مختلف حصوں سے جو ہے خاص آلات کے ذریعے خون کھینچ کر نکالا جاتا تھا جس کو پچھنے لگوانا اور سینگی لگوانا بھئی، سینگی لگوانا۔ تو اگر محرم نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگوانے کے لیے میں نے بتلایا خاص آلات کے ذریعے کیا کیا جاتا خون کو کھینچ کر نکالا جاتا تو اس جگہ کے بال صاف کیے جاتے اور پھر وہاں اس آلے کے ذریعے خون کھینچ کر نکالا جاتا۔ تو اگر محرم نے پچھنے لگوانے کے لیے وہ بال صاف کروائے اس مقام کے جہاں پچھنے لگانے ہیں، تو کیا اس صورت میں صدقہ آئے گا یا دم؟ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ دم آئے گا، اور صاحبین فرماتے ہیں: صدقہ۔ یہ معنی ہے: ”وإن حلق موضع المحاجم فعليه دم عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا عليه صدقة“ اور اگر حلق کروایا پچھنے لگوانے کی جگہوں کا تو اس پر دم واجب ہے امام صاحب کے نزدیک اور صاحبین فرماتے ہیں اس پر صدقہ واجب ہے۔ ”لِأَنَّهُ إِنَّمَا يَحْلِقُ لِأَجْلِ الْحِجَامَةِ، وَهِيَ لَيْسَتْ مِنَ الْمَحْظُورَاتِ، فَكَذَا مَا يَكُونُ وَسِيلَةً إِلَيْهَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو پچھنے لگوانے کے لیے وہ کسی عضو پر سے بال صاف کرواتا ہے تو یہ کس لیے بال صاف کروا رہا ہے؟ پچھنے لگوانے کے لیے، اور پچھنے لگانا یعنی حجامت کروانا یہ تو احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے نہیں ہے۔ احرام کے اندر بھئی خوشبو نہیں لگا سکتا، بال نہیں کاٹ سکتا، ناخن نہیں کاٹ سکتا، سلے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتا، شکار نہیں کھیل سکتا وغیرہ، یہ چیزیں تو منع ہیں لیکن پچھنے لگوانا تو احرام کی حالت میں منع نہیں ہے۔ جب یہ احرام کی حالت میں پچھنے لگانا منع نہیں، تو وہ چیز جس کے ذریعے پچھنے لگانے تک پہنچا جائے وہ بھی ممنوع نہیں ہوگی۔ احرام میں پچھنے لگوانا ممنوع نہیں اور پچھنے کب لگیں گے؟ جب اس جگہ سے بال صاف کیے جائیں، تو جب پچھنے لگوانا ممنوع نہیں تو جس چیز کے ذریعے پچھنے لگوانے تک پہنچیں گے اور وہ مقصد حاصل ہوگا وہ بھی ممنوع نہیں ہوگی بھئی، لہٰذا اس صورت میں دم نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لأنه إنما يحلق لأجل الحجامة وهي ليست من المحظورات فكذا ما يكون وسيلة إليها“ اس لیے کیونکہ محرم اس کا حلق کرواتا ہے حجامت کے لیے اور یہ پچھنے لگوانا یہ تو احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے نہیں ہے، تو اسی طرح وہ چیز بھی ہوگی جو اس کے لیے پچھنے لگوانے کی طرف وسیلہ ہے جس کے ذریعے اس تک پہنچا جاتا ہے۔ ”إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِزَالَةَ شَيْءٍ مِنَ التَّفَثِ فَتَجِبُ الصَّدَقَةُ“ اچھا اعتراض ہوتا ہے صاحبین پر کہ اگر یہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے نہیں ہے اور وسیلہ بھی لہٰذا ممنوع نہیں ہوگا تو پھر اس میں آپ صدقہ کیوں واجب فرماتے ہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، صدقہ اس لیے واجب ہوگا کہ اس جگہ کے بال جب صاف کروائے گا تو کچھ میل کچیل سے صفائی حاصل ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ لہٰذا اس وجہ سے صدقہ واجب ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”إلا أن فيه إزالة شيء من التفث فتجب الصدقة“ مگر یہ کہ اس کے اندر کچھ میل کچیل کا دور کرنا ہے تو اس میں صدقہ واجب ہوگا۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ حَلْقَهُ مَقْصُودٌ، لِأَنَّهُ لَا يَتَوَصَّلُ إِلَى الْمَقْصُودِ إِلَّا بِهِ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ ٹھیک ہے پچھنے لگوانا تو ممنوع نہیں احرام کے اندر، لیکن پچھنے لگوانے کے لیے یہ جس حصے سے بال صاف کروا رہا ہے وہ بال صاف کرنا مقصود ہو گیا اس کے، کیا بن گیا اس کا؟ مقصد بن گیا، اور مقصودی نفع جب بھی اٹھایا جائے اس صورت میں جب کہ ایک چیز ممنوع ہے اور پھر وہ مقصودی نفع کوئی شخص اٹھا لے، اس صورت میں کیا واجب ہوتا ہے؟ دم واجب ہوتا ہے۔ تو چونکہ جس حصے پر اس نے پچھنے لگوانے ہیں وہاں سے بال صاف کروانا اس کا مقصود بن گیا، اور بالوں کا صاف کرنا تو کیا تھا؟ ممنوع تھا، تو ایک ممنوع چیز تھی اور اس کے اندر اس نے مقصودی نفع اٹھا لیا تو کیا واجب ہوگا؟ دم واجب ہوگا۔ تو ”ولأبي حنيفة رحمه الله“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أن حلقه مقصود“ کہ ان بالوں کا حلق مقصود ہے، ”لأنه لا يتوصل إلى المقصود إلا به“ اس لیے کیونکہ وہ محرم جو ہے پہنچ نہیں سکتا مقصود تک یعنی حجامت تک مگر اس کے ذریعے، اس حلق کے ذریعے۔ ”وَقَدْ وُجِدَ إِزَالَةُ التَّفَثِ عَنْ عُضْوٍ كَامِلٍ فَيَجِبُ الدَّمُ“ اور تحقیق میل کچیل کا دور کرنا پایا گیا پورے عضو سے تو دم واجب ہوگا۔ میل کچیل کا دور کرنا پایا گیا پورے عضو سے، لہٰذا کیا واجب ہوگا؟ دم۔ اشکال ہوتا ہے کہ پچھنے پورے عضو پر تو نہیں لگائے جاتے، عضو کے کسی ایک حصے پر لگائے جاتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا پورے عضو سے تو میل کچیل دور نہ ہوا، عضو کے ایک حصے سے میل کچیل دور ہوا ہے، تو لہٰذا صدقہ واجب ہونا چاہیے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی ٹھیک ہے کہ جس حصے سے میل کچیل کو دور کیا گیا وہ پورا عضو نہیں عضو کا ایک حصہ ہے، لیکن پچھنے لگانے کے اعتبار سے یہ پورا عضو شمار ہوگا بھئی، کیونکہ پچھنے صرف اتنے ہی حصے پر لگائے جاتے ہیں تو اس پچھنے لگانے کے اعتبار سے اس بعض کو بھی کیا شمار کریں گے؟ پچھنے جس حصے پر لگانے ہیں اس کو کیا شمار کریں گے؟ کل عضو ہی شمار کریں گے کیونکہ پچھنے لگائے ہی کتنے پر جاتے ہیں؟ اتنے ہی حصے پر لگائے جاتے ہیں جتنے سے اس نے کیا کیا ہے؟ بالوں کو صاف کیا ہے، تو پچھنے لگانے کے اعتبار سے اتنا ہی عضو مقصود ہوتا ہے، تو گویا کل عضو سے کیا کر لیے گئے؟ بال صاف کر لیے گئے، لہٰذا کیا واجب ہوگا؟ لہٰذا یہ اشکال آپ کے ذہن میں نہ آئے کہ یہاں تو میل کچیل پورے عضو سے دور نہیں کیا گیا اس کے ایک حصے سے، بلکہ کس اعتبار سے کامل عضو ہے؟ پچھنے لگانے کے اعتبار سے کامل عضو ہے کیونکہ پچھنے تو لگائے اتنے حصے پر جاتے ہیں جتنے سے اس نے کیا کیا بالوں کو صاف کیا ہے، تو گویا پچھنے لگانے کے اعتبار سے کامل عضو سے اس نے میل کچیل کو دور کر دیا۔ تو کہتے ہیں: ”وقد وجد إزالة التفث عن عضو كامل فيجب الدم“ اور تحقیق میل کچیل کو دور کرنا پایا گیا پورے عضو سے تو دم واجب ہوگا۔ ”وَإِنْ حَلَقَ رَأْسَ مُحْرِمٍ بِأَمْرِهِ أَوْ بِغَيْرِ أَمْرِهِ، فَعَلَى الْحَالِقِ الصَّدَقَةُ وَعَلَى الْمَحْلُوقِ دَمٌ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک محرم نے دوسرے محرم کے سر کا حلق کر دیا۔ ایک محرم نے دوسرے محرم کے سر کا حلق کر دیا، تو یاد رکھیے اس صورت میں وہ محرم جس نے حلق کیا ہے اس پر صدقہ واجب ہوگا اور وہ محرم جس کا حلق کیا گیا، جس کے سر کو صاف کر دیا گیا، اس پر دم واجب ہوگا بھئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ کہتے ہیں: ”وإن حلق رأس محرم بأمره أو بغير أمره“ اور اگر محرم نے حلق کر دیا کسی دوسرے محرم کے سر کو ”بأمره أو بغير أمره“ چاہے اس کے حکم سے ہو یا اس کے حکم کے بغیر، اس کے حکم سے ہو یا اس کے حکم کے بغیر، ”فعلى الحالق الصدقة وعلى المحلوق دم“ تو حلق کرنے والے پر صدقہ واجب ہے اور محلوق جس کا حلق کیا گیا اس پر دم واجب ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجِبُ إِنْ كَانَ بِغَيْرِ أَمْرِهِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دم واجب نہیں ہوگا اگر یہ حلق اس کے حکم کے بغیر ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی اگر اس کے کہنے پر بال اس کے صاف کیے ہیں پھر تو اس پر دم واجب ہوگا محلوق پر، لیکن اگر محلوق کے کہے بغیر ہی اس کے بال صاف کیے ہیں تو اس صورت میں دم واجب نہیں ہوگا۔ بھئی اس کے حکم کے بغیر اس کے بال صاف کر دیے جائیں اس کی کیا صورت ہے؟ کہتے ہیں: ”بِأَنْ كَانَ نَائِمًا“ بایں صورت کہ وہ سویا ہوا تھا۔ تو اگر سویا ہوا ہو یا اسی طرح مثلاً بے ہوش ہے یا اسی طرح زبردستی بھئی اگر سر کے بال اس کے استرے سے صاف کر دیے، تو ان تمام صورتوں میں وہ فرماتے ہیں چونکہ اس کی مرضی شامل نہیں تھی بلکہ اس کا تو اختیار ہی نہیں تھا، وہ تو سویا ہوا تھا یا بے ہوش تھا یا مجبور تھا، تو لہٰذا اس کا کوئی جرم نہیں کہ اس پر دم واجب ہو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”بأن كان نائماً“ بایں صورت کہ وہ سویا ہوا تھا۔ ”لِأَنَّ مِنْ أَصْلِهِ أَنَّ الْإِكْرَاهَ يُخْرِجُ الْمُكْرَهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ مُؤَاخَذًا بِحُكْمِ الْفِعْلِ، وَالنَّوْمُ أَبْلَغُ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے ضابطے میں سے ہے کہ اکراہ جو ہے یعنی زبردستی کرنا وہ نکال دیتا ہے مکمَرَہ کو اس بات سے کہ اس کا مؤاخذہ کیا جائے فعل کے حکم سے بھئی۔ یعنی فعل کی وجہ سے اس کا مؤاخذہ نہیں کیا جاتا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کسی پر زبردستی کی گئی تو اس کا مؤاخذہ نہیں ہوگا، نہ دنیا کے اندر مؤاخذہ ہے نہ آخرت کے اندر مؤاخذہ ہے، کیونکہ اس کا تو ارادہ نہیں تھا یہ جرم کرنے کا۔ تو دنیا کے اندر مؤاخذہ نہیں لہٰذا دنیاوی سزا نہیں آئے گی اور یہ دم کیا ہے؟ یہ دنیاوی سزا ہے یہ بھی نہیں آئے گی، اور اوپر بھی سزا بھی نہیں یعنی گناہ وغیرہ بھی نہیں ہوگا، ضابطہ ان کا سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک ٹھیک ہے اگر کسی پر زبردستی کی گئی کسی معاملے کے اندر، اخروی اعتبار سے تو مؤاخذہ نہیں ہوگا یعنی گناہ وغیرہ اس پر نہیں ہوگا، لیکن دنیاوی سزا آئے گی بھئی، دنیاوی سزا آئے گی، اور دم کیا ہے؟ دنیاوی سزا ہے، لہٰذا دم اس پر آئے گا بھئی اگرچہ گناہ نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”لأن من أصله أن الإكراه يخرج المكره من أن يكون مؤاخذاً بحكم الفعل“ امام شافعی رحمہ اللہ کا ضابطہ یہ ہے کہ زبردستی کرنا یہ نکال دیتا ہے مکمَرَہ کو یعنی وہ شخص جس پر زبردستی کی گئی ہے، اس کو نکال دیتا ہے اس بات سے کہ اس کا مؤاخذہ کیا جائے فعل کے حکم سے بھئی، ”والنوم أبلغ منه“ اور نوم جو ہے وہ اس سے بڑھ کر ہے، نیند تو اکراہ سے بھی بڑھ کر ہے، اکراہ کے اندر ہوش میں تو ہوتا ہے آدمی اور نیند کے اندر تو ہوش میں ہی نہیں، اسے پتہ ہی نہیں ہے بھئی بالکل سویا۔ ”وَعِنْدَنَا بِسَبَبِ النَّوْمِ وَالْإِكْرَاهِ يَنْتَفِي الْمَأْثَمُ دُونَ الْحُكْمِ“ اور ہمارے نزدیک نیند اور زبردستی کرنے کی وجہ سے گناہ تو منتفی ہوگا یعنی گناہ تو نہیں ہوگا، ”دون الحكم“ نہ کہ حکم، یعنی لیکن گناہ تو منتفی ہوگا حکم منتفی نہیں ہوگا یعنی دم آئے گا۔ ”وَقَدْ تَقَرَّرَ سَبَبُهُ وَهُوَ مَا نَالَ مِنَ الرَّاحَةِ وَالزِّينَةِ فَيَلْزَمُهُ الدَّمُ“ اور تحقیق اس کا سبب پایا گیا، دنیا کے اندر جو حکم لگنا تھا اس کا سبب پایا گیا، اور وہ جو اس شخص نے راحت اور زینت حاصل کر لی۔ بھئی جب سر کے بال صاف کر دیے، حاجی تو کیا ہوتا ہے؟ پراگندہ بال ہوتا ہے اور میلا کچیلا، تو جب اس شخص نے اس کا سر مونڈ دیا استرے سے، تو راحت حاصل ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ تو محرم کو راحت بھی حاصل ہوئی اور زینت بھی، لہٰذا اس کی وجہ سے دم آئے گا اس پر۔ تو کہتے ہیں: ”وقد تقرر سببه وهو ما نال من الراحة والزينة فيلزمه الدم“ اور تحقیق اس کا سبب پایا گیا اور وہ جو اس نے راحت اور زینت حاصل کر لی تو اس پر دم لازم ہوگا حتماً قطعی طور پر۔ ”بِخِلَافِ الْمُضْطَرِّ حَيْثُ يَتَخَيَّرُ لِأَنَّ الْآفَةَ هُنَاكَ سَمَاوِيَّةٌ وَهَا هُنَا مِنَ الْعِبَادِ“ بخلاف مجبور کے، مضطر وہ شخص جو مجبور ہے۔ بھئی جو شخص کسی بیماری وغیرہ یا تکلیف کی وجہ سے شدید مجبور ہو گیا اور اسے اپنے سر کا حلق کروانا پڑا، کیا کروانا پڑا؟ سر کا حلق کروانا پڑا، تو اب یہاں آفت چونکہ سماوی ہے، بندوں کی طرف سے یہ تکلیف نہیں آئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آسمانی آفت ہے، تکلیف ہے، بیماری وغیرہ ہے، اس کی وجہ سے یہ شخص مجبور ہو گیا اور اس کو اپنے سر کا حلق کروانا پڑا تو اس کو اختیار ہے، اس کو اختیار ہے اور یہ کیا کر سکتا ہے؟ کن چیزوں میں اختیار ہے؟ یہ بھئی اگلے صفحے کے آخر میں متن آ رہا ہے: چاہے تو ایک بھیڑ بکری ذبح کرے، چاہے تو چھ مسکینوں پر تین صاع صدقہ کر دے، اور چاہے تو تین روزے رکھ لے۔ اختیار، یہ عبارت مل گئی بھئی؟ آخری متن میں وہاں دیکھو، تو یہ اس کو اختیار ہے کہ کسی عذر کی وجہ سے کسی کو حلق وغیرہ کروانا پڑ جائے یا خوشبو لگانی پڑ جائے تو وہ ایک بھیڑ بکری ذبح کرے یا پھر کیا کر لے؟ چھ مسکینوں پر تین صاع غلہ جو ہے وہ صدقہ کر دے، اور چاہے تو تین روزے رکھ لے بھئی۔ تو یہاں یہ جو مجبور ہے اس کی آفت چونکہ سماوی ہے آسمانی ہے، لہٰذا اس کو اختیار ہوگا۔ جبکہ اکراہ کے اندر بھی ٹھیک ہے آفت آئی تکلیف آئی، لیکن کس کی طرف سے آئی؟ بندوں کی طرف سے آئی، لہٰذا وہاں پر یہ اختیار نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بخلاف المضطر حيث يتخير لأن الآفة هناك سماوية وها هنا من العباد“ بخلاف مجبور کے کیونکہ اس کو اختیار ہوگا اس لیے کیونکہ آفت وہاں پر آسمانی ہے، اور یہاں پر آفت کس قسم کی ہے؟ بندوں کی طرف سے ہے۔ ”ثُمَّ لَا يَرْجِعُ الْمَحْلُوقُ رَأْسُهُ عَلَى الْحَالِقِ“ بھئی ابھی آپ نے مسئلہ پڑھ لیا کہ کوئی شخص چاہے سویا ہوا ہو، چاہے بے ہوش ہو، چاہے زبردستی کی گئی محرم تھا اور اس کے سر کے بال کسی دوسرے نے استرے سے صاف کر دیے، تو اس پر دم واجب ہوگا جس کے سر جس کے بال استرے سے صاف کر دیے گئے اس پر کیا واجب ہوگا؟ دم واجب ہوگا۔ تو یہ دم اس پر کس کی وجہ سے آیا؟ جس نے اس کے بال صاف کیے تھے۔ تو کیا یہ اس پر پھر رجوع کرے گا؟ کہ لاؤ بھئی تمہاری وجہ سے مجھ پر دم لازم آیا، لہٰذا مجھے اب اس کی قیمت ادا کرو، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی! یہاں پر محلوق جو ہے وہ حالق پر رجوع نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ یہ جو دم اس پر لازم ہوا، وہ اس جو راحت اس نے حاصل کی وہ راحت کی وجہ سے اس پر دم آیا ہے۔ جس کے بال صاف کر دیے گئے اس کو راحت مل گئی یا نہیں مل گئی؟ تو اس کو جو راحت حاصل ہوئی ہے، اور راحت اس نے پائی ہے یا وہ حلق کرنے والے نے پائی ہے؟ محلوق نے راحت حاصل کی ہے، لہٰذا دم بھی اس راحت کی وجہ سے دم اس پر واجب ہوا ہے تو یہ اس پر رجوع نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”ثم لا يرجع المحلوق رأسه على الحالق“ پھر رجوع نہیں کر سکتا وہ شخص جو ہے المحلوق جس کا حلق کیا گیا، کس چیز کو؟ ”رأسه“ اس کے سر کو۔ یاد رکھیے یہ ”رأسه“ یہ نائب الفاعل ہے محلوق کے لیے، جیسے آپ پڑھ چکے فعلِ معروف کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ فاعل، فعلِ مجہول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ نائب فاعل، اسی طرح یہ جو صفت کے صیغے ہیں ان کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل چاہیے ہوتا ہے، اسمِ فاعل ہو تو اس کے لیے فاعل چاہیے ہوتا ہے اور اسمِ مفعول ہو تو اس کے لیے نائب فاعل، تو یہاں المحلوق اسمِ مفعول آیا اور الرأسه جو ہے اس کا نائب فاعل ہے۔ نہیں لوٹے گا، رجوع نہیں کرے گا المحلوق رأسه وہ شخص کہ جس کے سر کا حلق کیا گیا، وہ رجوع نہیں کرے گا على الحالق حلق کرنے والے پر، ”لِأَنَّ الدَّمَ إِنَّمَا لَزِمَهُ بِمَا نَالَ مِنَ الرَّاحَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو دم جو ہے یہ اس پر لازم ہوا ہے اس نے جو راحت حاصل کی ہے اسی کی وجہ سے، ”فَصَارَ كَالْمَغْرُورِ فِي حَقِّ الْعُقْرِ“ تو یہ اس شخص کی طرح ہو گیا جس کو دھوکہ دیا گیا تھا عقر کے حق میں۔ مغرور فی حق العقر بھئی، صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ ایک باندی فروخت کر دی کہ یہ میری باندی ہے، دوسرے شخص نے باندی خرید لی اور خریدنے کے بعد اب چونکہ یہ اس کی باندی ہو گئی اس کے لیے اس سے صحبت کرنا جائز، اس نے اس کے ساتھ صحبت کی اور اس سے اس کی اولاد پیدا ہو گئی، اور پھر اس کے بعد ایک دن ایک تیسرے شخص کی نظر اس باندی پر پڑی تو اس نے کہا بھئی یہ تو میری باندی ہے! وہ خریدار کہنے لگا بھئی میں نے تو فلاں سے خریدی ہے یہ باندی، تو یہ شخص کہنے لگا بھئی اس نے کیسے میری باندی آپ کے ہاتھ فروخت کر دی وہ تو اس کا مالک ہی نہیں ہے، مالک تو میں ہوں! چنانچہ وہ قاضی کے پاس چلا گیا اور وہاں باقاعدہ اس نے گواہ پیش کر دیے کہ یہ اس کی باندی ہے، تو چنانچہ یہ باندی اس شخص کو لوٹا دی جائے گی کیونکہ وہ اس کا مالک ہے، سمجھ میں آیا؟ باندی لوٹا دے گا، اور نیز یہ جو بچہ تھا، بچہ یہ آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتا ہے۔ کس کے تابع ہوتا ہے؟ ماں کے تابع۔ اگر ماں باندی ہو تو بچہ بھی غلام، اور اگر ماں آزاد ہو تو بچہ آزاد۔ تو یہاں پر یہ بچہ بھی کس کا حق بنتا ہے؟ یہ بچہ کس کا؟ باندی جو لے گیا جس کی باندی تھی، یہ بچہ بھی اسی کا حق بنتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ بچہ تو ہے مالک کا، اور مالک کا بچہ تو کیا ہوتا ہے؟ آزاد ہوتا ہے نا! صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ اگر بچہ اگر اس باندی کا مثلاً کسی غلام سے نکاح ہوا ہوتا تو بچہ بھی کیا شمار ہوتا؟ وہ، لیکن یہاں پر تو آقا کا اپنی اولاد ہے، جب اپنی اولاد ہے تو یہ کیا ہے؟ تو یہ آزاد ہے، لہٰذا اب بچہ تو اس کو واپس نہیں کیا جائے گا، البتہ اس کی قیمت پھر دینا پڑے گی کیونکہ یہ بچہ بھی اسی کا حق تھا۔ کس کا حق تھا؟ ہاں وہ جو مستحق جو باندی کا اصل مالک تھا اسی کا حق بنتا تھا، لہٰذا باپ کو اب اس کی قیمت دینا پڑے گی اس بچے کی، باندی بھی دے دی، بچے کی قیمت بھی دے دی، اور تیسری چیز عقر دینا پڑے گا۔ اس نے باندی کے ساتھ صحبت کی ہے، صحبت کی ہے، اور جیسے آزاد عورت کے ساتھ نکاح ہوتا ہے تو اسے کیا دینا پڑتا ہے؟ مہر دینا پڑتا ہے اس صحبت کے بدلے میں، کس کے بدلے میں؟ تو نکاح کے اندر تو مہر مقرر ہوتا ہے تو یہ عقر بھی اسی طرح ہے، لیکن یہاں چونکہ یہ مقرر نہیں ہوتا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقر، تو یاد رکھیے عقر کہتے ہیں وہ مال جو وہ مال جو وطی بالشبہ کی وجہ سے دینا پڑے وہ عقر کہلاتا ہے بھئی۔ اس نے بھی اس باندی سے وطی کی تھی کس شبہے میں؟ یہ میری اپنی باندی ہے، یہ تو میں نے مالک سے خریدی ہے تو میں مالک بن گیا، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ نہیں یہ تو اس کا مالک نہیں تھا۔ تو لہٰذا اگر کسی عورت سے شبہے میں وطی کر لی جائے، اس صورت میں جو مال آتا ہے اس شخص پر اسے کیا کہتے ہیں؟ عقر کہتے ہیں، جیسے نکاح کے اندر اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہر کہتے ہیں، لیکن مہر کیوں کہتے ہیں؟ وہاں تو باقاعدہ نکاح ہوا اور وہ مہر کو مقرر کیا گیا، لیکن چونکہ یہاں تو مقرر نہیں کیا گیا لہٰذا اس کو مہر نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ عقر کہیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یہ یاد رکھیے یہ عقر کتنا ہوگا؟ تو بعضوں نے کہا کہ یہ مہرِ مثل ہے بھئی، کتنا ہے؟ آزاد عورت کے اندر مہرِ مثل، جتنا اس کا مہر ہوتا ہے وہی دینا پڑے گا بھئی۔ اور باندی کے اندر اس کی قیمت کا دسواں حصہ دینا پڑے گا اگر وہ باکرہ تھی، اور بیسواں حصہ دینا پڑے گا اگر وہ ثیبہ تھی بھئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہاں کل تین چیزیں آ رہی تھیں اس شخص پر: ایک تو باندی دینی پڑی اس کو واپس، ایک وہ بچے کی قیمت اس کو دینا پڑی، اور یاد رکھیے اس نے باندی کے ساتھ صحبت بھی کی ہے، صحبت کا نفع بھی اٹھایا ہے لہٰذا عقر بھی دینا پڑے گا، کیا دینا پڑے گا؟ عقر بھی دینا پڑے گا، تو کتنی چیزیں آ گئیں؟ تین چیزیں آ گئیں۔ اچھا اب ان تین میں سے یاد رکھیے باندی تو ہاتھ سے نکل گئی، لہٰذا باندی کی قیمت اس شخص سے واپس کر لے گا یہ، خریدار کیا کرے گا؟ جس نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا تھا اس سے جا کر باندی کی قیمت واپس لے گا، اور بچہ بھی اس کے ہاتھ سے نکل گیا اس کی قیمت دینا پڑی اس کو اور یہ بھی کس کی وجہ سے؟ اسی شخص کی وجہ سے، لہٰذا اس بچے کی قیمت بھی اس آدمی سے جا کر وصول کرے گا۔ لیکن عقر جو ہے اس کے اندر وہ اس پر رجوع نہیں کر سکتا، خریدار جو ہے وہ بیچنے والے پر عقر کے اندر رجوع نہیں کر سکتا، کیوں نہیں کر سکتا؟ کیونکہ عقر جو اس شخص پر لازم آیا وہ کس وجہ سے آیا؟ کیونکہ اس نے صحبت کا نفع اٹھایا ہے اور صحبت کا نفع تو اس نے خود اٹھایا ہے، لہٰذا اس صورت میں وہ عقر کا جو ہے عقر کے اندر اس پر رجوع نہیں کر سکتا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، یہاں جس شخص کا حلق کیا گیا جو محلوق ہے اس نے حلق کی وجہ سے نفع خود اٹھایا ہے، تو اس پر جو دم آیا اس میں وہ پھر حالق پر رجوع نہیں کر سکتا، صورت بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں بھئی؟ یہاں محلوق حالق پر کیوں نہیں رجوع کر سکتا؟ کیونکہ راحت راحت اس نے خود حاصل کی ہے، جیسے عقر کے اندر وہ شخص بیچنے والے پر رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ صحبت کا نفع اس نے خود اٹھایا ہے۔ یہ معنی ہے: ”لأن الدم إنما لزمه بما نال من الراحة فصار كالمغرور في حق العقر“ اس لیے کیونکہ دم جو ہے وہ تو اسی وجہ سے لازم ہوا ہے جو اس نے راحت حاصل کی ہے، ”فصار كالمغرور في حق العقر“ تو یہ شخص ہو گیا اس شخص کی طرح جس کو دھوکہ دیا گیا تھا عقر کے حق میں، عقر کے حق میں، وہ شخص جس کو دھوکہ دیا گیا تھا وہ جیسے عقر کے حق میں ہے یعنی عقر کے سلسلے میں رجوع نہیں کر سکتا تو یہ بھی اسی کی طرح ہے رجوع نہیں کر سکتا۔ ”وَكَذَا إِذَا كَانَ الْحَالِقُ حَلَالًا لَا يَخْتَلِفُ الْجَوَابُ فِي الْمَحْلُوقِ رَأْسُهُ“ اور اسی طرح اگر حلق کرنے والا حلال تھا تو بھی جواب مختلف نہیں ہے اس شخص کے بارے میں جس کا سر حلق کر دیا گیا۔ صورت کیا؟ متن میں کیا صورت ذکر ہوئی؟ ایک محرم نے دوسرے محرم کا سر مونڈ دیا تو محلوق پر کیا آیا؟ دم آیا۔ اب دوسری صورت: ایک حلال شخص نے یعنی غیر محرم نے کیا کیا؟ محرم کے سر کو مونڈ دیا، تو بھی اس محلوق پر کیا آئے گا؟ دم ہی آئے گا، جیسے محرم اس کا سر مونڈتا تھا تو دم آتا تھا، تو اگر حلال شخص بھی اس کا سر مونڈے گا تو کیا آئے گا؟ دم ہی آئے گا، یہ معنی ہے: ”وكذا إذا كان الحالق حلالاً لا يختلف الجواب في المحلوق رأسه“ اور اسی طرح جب حلق کرنے والا حلال ہو یعنی غیر محرم ہو تو جواب مختلف نہیں ہے اس شخص کے بارے میں جس کا سر جو ہے حلق کر دیا گیا۔ ”وَأَمَّا الْحَالِقُ تَلْزَمُهُ الصَّدَقَةُ فِي مَسْأَلَتِنَا فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور باقی جو حلق کرنے والا ہے اس پر صدقہ لازم ہوگا ہمارے مسئلے میں دونوں صورتوں کے اندر۔ حلق کرنے والے پر دونوں صورتوں میں صدقہ واجب ہوگا، دونوں صورتیں کون سی؟ ہاں چاہے اجازت دی ہو متن میں آیا تھا نا: ”بأمره أو بغير أمره“، چاہے اجازت اس نے دی تھی حلق کرنے کی یا اجازت نہیں، دونوں صورتوں میں اس حلق کرنے والے پر صدقہ لازم ہوگا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کوئی چیز نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بال مونڈنے والے پر کچھ نہیں لازم کیونکہ اس نے تو کوئی راحت نہیں حاصل کی، راحت تو کس نے حاصل کی؟ محلوق نے راحت حاصل کی ہے، خالق نے راحت، لہٰذا حالق پر کچھ لازم نہیں، لیکن ہم کہتے ہیں نہیں اس پر بھی صدقہ لازم ہے۔ ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ إِذَا حَلَقَ الْمُحْرِمُ رَأْسَ حَلَالٍ“ اور اسی اختلاف پر ہے جب محرم نے حلال شخص کے سر کو مونڈ دیا۔ صورت یہ: سر مونڈنے والا جو ہے وہ ہے محرم اور جس کے بال کاٹے گئے اور بال مونڈے گئے وہ کیا ہے؟ وہ حلال ہے۔ بال مونڈنے والا محرم اور دوسرا جس کے بال مونڈے گئے وہ حلال ہے، تو وہ حلال جو ہے اس پر کیا آئے گا؟ جی؟ ہاں شاباش، اس پر تو کچھ نہیں آئے گا وہ تو حلال ہے اس پر تو ممنوع نہیں ہے بال کاٹنا، ہاں یہ بال کاٹنے والا کون ہے؟ محرم ہے، اور اس تو اس پر کیا آئے گا؟ صدقہ آئے گا جیسے پچھلے مسئلے میں تھا ہمارے نزدیک، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر کچھ نہیں کیونکہ اس نے کوئی راحت حاصل نہیں کی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، اس نے بھی راحت حاصل کر لی۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ اس نے بھی راحت حاصل کر لی، ہاں اپنے بال اس کے اگر کاٹے جاتے پھر کامل راحت ہوتی تو اس پر دم آتا، جس کے اپنے بال مونڈے گئے اس نے کامل راحت حاصل کر لی اس پر دم آتا ہے، لیکن جس نے دوسرے کے بال مونڈ دیے تو اس نے بھی راحت حاصل کر لی اگرچہ بال دوسرے کے کٹے لیکن راحت اس کو بھی مل گئی، اس لیے کیونکہ دوسرے کے دوسرا شخص میلا کچیلا ہو اور بری حالت میں ہو تو انسان تکلیف میں ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے، تو لہٰذا جب اس کے بال کاٹے گئے اس کی پراگندگی دور ہو گئی تو اس کو بھی کچھ نہ کچھ راحت ضرور مل گئی، اگرچہ راحت کم درجے کی ہے لیکن بہرحال راحت اس نے حاصل کر لی۔ تو کہتے ہیں: ”وعلى هذا الخلاف إذا حلق المحرم رأس حلال“ اور اسی اختلاف پر ہے یعنی یہی اختلاف ہے ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا جب کہ محرم نے حلق کر دیا کس کے سر کو؟ حلال کے سر کو، ہمارے نزدیک اس پر محرم پر صدقہ واجب ہے جو حالق ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نہیں کچھ بھی نہیں ہے۔ ”لَهُ: أَنَّ مَعْنَى الِارْتِفَاقِ لَا يَتَحَقَّقُ بِحَلْقِ شَعْرِ غَيْرِهِ وَهُوَ الْمُوجِبُ“ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ نفع اٹھانے کا معنی جو ہے وہ نہیں پایا جاتا غیر کے بال کاٹنے میں، غیر کے بالوں کا حلق کرنے میں نفع نہیں ہے، ”وهو الموجب“ اور وہی واجب کرنے والا ہے۔ بھئی کیا چیز یہ دم کس چیز سے کس وجہ سے واجب ہو رہا ہے؟ فائدہ اٹھانے کی وجہ سے، اور جب اپنے بال نہیں کاٹے بلکہ کیا کیا ہے؟ دوسرے کے بال کاٹے ہیں تو اس نے تو کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، فائدہ اٹھاتا تو وہی تو دم واجب کرتا لیکن اس نے تو کوئی فائدہ ہی نہیں اٹھایا تو لہٰذا اس پر دم بھی واجب نہیں ہوگا۔ ”وَلَنَا: أَنَّ إِزَالَةَ مَا يَنْمُو مِنْ بَدَنِ الْإِنْسَانِ مِنْ مَحْظُورَاتِ الْإِحْرَامِ لِاسْتِحْقَاقِهِ الْأَمَانَةَ بِمَنْزِلَةِ نَبَاتِ الْحَرَمِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ دور کرنا اس چیز کو جو بڑھتی ہے انسانی بدن میں سے یعنی جیسے بال اور ناخن ہیں، یہ کیا ہوتے ہیں؟ بڑے ہوتے ہیں، یہ جو چیز بڑھنے والی ہے انسانی بدن میں سے اس کو دور کرنا یہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے، ”لاستحقاقه الأمانة“ اس لیے کیونکہ یہ امان کے مستحق ہیں ”بمنزلة نبات الحرم“ حرم کی گھاس اور پودوں کے درجے میں۔ بھئی حالتِ احرام کے اندر ہر چیز کو تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے حتیٰ کہ حتیٰ کہ شکار وغیرہ سے شکار وغیرہ سے بھی منع کیا گیا، اپنی جوئیں وغیرہ بھی نہیں مار سکتا، اور بدن کی جو بڑھنے والی چیزیں ہیں ان کا کاٹنا بھی ممنوع ہے یعنی بال اور ناخن وغیرہ ان کا کاٹنا ممنوع ہے، جس طرح حرم کے گھاس اور پودے وغیرہ ان کو امان حاصل ہے ان کو کاٹنے کی اجازت نہیں، تو یہ بھی بڑھنے والی جیسے وہ گھاس اور پودے بڑھنے والی چیزیں ہیں ان کو امان حاصل ہے اسی طرح یہ بھی بڑھنے والی چیزیں ہیں ان کو بھی کیا حاصل ہے؟ امان حاصل ہے۔ توجہ ہے؟ دلیل کس کی چل رہی ہے؟ ہماری، اچھا۔ تو جیسے حرم کے گھاس پودوں وغیرہ کو امان حاصل ہے، اس طرح بدنِ انسانی میں سے جو چیز بڑھنے والی ہے ان کو بھی کیا حاصل تھا؟ امان حاصل تھا، اور جیسے حرم کے گھاس اور پودوں کو کاٹنا جرم ہے تو ان بالوں اور ناخنوں کو کاٹنا بھی یہ بھی کیا ہے؟ جرم ہے، تو لہٰذا یہاں بھی جرم ہے تو آنا تو دم ہی چاہیے چاہے اپنے بال کاٹے چاہے غیر کے بال کاٹے، کیا آنا چاہیے؟ دم آنا چاہیے کیونکہ بدنِ انسانی میں سے جو بڑھنے والی چیز ہے اس کو اس نے کاٹا ہے اور اس کا کاٹنا تو کیا تھا؟ ممنوع تھا، تو لہٰذا دم آنا چاہیے، لیکن چونکہ اپنے بال نہیں کاٹے غیر کے بال کاٹے ہیں اس لیے جرم کم درجے کا ہوگا، اس وجہ سے صدقہ آئے گا لیکن اگر اپنے بال کاٹے تو جرم کامل درجے کا ہے لہٰذا اس میں دم آئے گا۔ تو کہتے ہیں: اس لیے کہ دور کرنا اس چیز کو جو بڑھنے والی ہے انسانی بدن میں سے، یہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے، اس لیے کیونکہ یہ امان کے مستحق ہیں حرم کی گھاس پودوں وغیرہ کے درجے میں، ”فَلَا يَفْتَرِقُ الْحَالُ بَيْنَ شَعْرِهِ وَشَعْرِ غَيْرِهِ، إِلَّا أَنَّ كَمَالَ الْجِنَايَةِ فِي شَعْرِهِ“ لہٰذا حال مختلف نہیں ہے اپنے بالوں میں اور غیر کے بالوں میں، مگر یہ کہ کامل جنایت اپنے بالوں میں ہے لہٰذا اس میں تو دم آئے گا، اور غیر کے بالوں میں چونکہ جنایت کامل نہیں لہٰذا وہاں دم نہیں آئے گا بلکہ کیا آئے گا؟ صدقہ آئے گا۔ مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ چلیے بس بھئی، ”هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام“۔