اعوذ بالله من الشیطن الرجیم. بسم الله الرحمن الرحیم. الیہ رد علم الساعۃ وما تخرج من ثمرات من اکمامها وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمه. ویوم ینادیهم این شرکائی قالوا اذنا کما منا من شهید. وظل عنهم ما کانوا یدعون من قبل وظنو ما لهم من محیص. الیہ رد علم الساعۃ، اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم۔ اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم، یعنی قیامت کا علم اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اللہ ہی قیامت کے بارے میں جانتے ہیں، کب آئے گی؟ کسی کو اس کا علم نہیں، نہ کسی پیغمبر کو، نہ کسی فرشتے کو، کسی کو علم نہیں، تو جس سے بھی سوال کیا جائے وہ اس کو اللہ ہی کی طرف لوٹاتا ہے کہ وہ اللہ ہی جاننے والے ہیں قیامت کے بارے میں۔ الیہ رد علم الساعۃ، اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم، وما تخرج من ثمرات من اکمامها. اور نہیں نکلتے من ثمرات، پھل، من اکمامها، تو اکمام جمع ہے کم کی، اکمام جمع ہے کم کی، کم کہتے ہیں پھل کا غلاف، پھل کے شگوفے کو، وہ شگوفہ جس سے پھل نکلتا ہے، پھل کا غلاف، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کم کہتے ہیں، اس کی جمع اکمام ہے بھئی۔ تو یہ اکمام جمع ہے بھئی۔ وما تخرج من ثمرات من اکمامها، اور نہیں نکلتے پھل من اکمامها، اپنے غلافوں سے، وما تحمل من انثی، اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مؤنث، ولا تضع، اور نہ جنم دیتی ہے، الا بعلمه، مگر اسی کے علم سے، مگر اسی کے علم سے، کہ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کوئی بھی پھل جو غلاف سے نکل رہا ہے، کوئی مؤنث حاملہ ہو رہی ہے، یا کوئی مؤنث اولاد کو جنم دے رہی ہے، ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ وما تخرج من ثمرات من اکمامها وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمه، اور نہیں نکلتا کوئی پھل اپنے غلاف سے اور نہ حاملہ ہوتی ہے کوئی مؤنث اور نہ جنم دیتی ہے مگر اس اللہ کے علم کے ساتھ۔ ویوم ینادیهم این شرکائی، ویوم ینادیهم، اور جس دن کہ اللہ ان کو پکاریں گے، ان مشرکین کو پکار کر اللہ فرمائیں گے، این شرکائی، کہاں ہیں میرے شریک؟ جن چیزوں کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے، کدھر ہیں وہ؟ سامنے لے کر آؤ ان کو۔ این شرکائی، کہاں ہیں میرے شریک؟ قالوا اذنا کا، وہ کہیں گے اذنا کا، اذنا یوزن ایذان کے معنی ہوتے ہیں اطلاع دینے کے، بتلانے کے۔ قالوا اذنا کا، کہ اے کہ ہم نے آپ کو بتلا دیا، یعنی ہم نے آپ سے عرض کر دیا، ہم نے آپ سے عرض کر دیا. قالوا اذنا کا، وہ کہیں گے کہ ہم نے تو آپ سے عرض کر دیا، ما منا من شهید، نہیں ہے ہم میں سے کوئی گواہ، نہیں ہے ہم میں سے کوئی گواہ، یعنی اس بات پر کہ آپ کا کوئی شریک ہے۔ ہم میں سے کوئی اس بات کا گواہ نہیں ہے کہ آپ کا کوئی شریک۔ یعنی اس وقت وہ اققرار کریں گے ہی نہیں بھئی، جھوٹ بول لیں گے کہ ہم کبھی شرک کرتے ہی نہیں تھے۔ ویوم ینادیهم این شرکائی، اور جس دن کہ پکارے گا وہ اللہ ان کو، این شرکائی، کہاں ہیں میرے شریک؟ قالوا اذنا کا، وہ کہیں گے کہ ہم نے عرض کر دیا آپ سے، ما منا من شهید، نہیں ہے ہم میں کوئی گواہ۔ یا یوں ترجمہ کر لیں بھئی، نہیں ہے ہم میں کوئی اقرار کرنے والا۔ نہیں ہے ہم میں کوئی گواہ، کس بات کا گواہ نہیں ہے؟ کہ آپ کا کوئی شریک ہے۔ تو یوں ترجمہ کر لیں، ما منا من شهید، نہیں ہے ہم میں سے کوئی اقرار کرنے والا۔ وظل عنهم ما کانوا یدعون من قبل، اور کھو جائے گا، گم ہو جائے گا، عنهم ان سے، ما کانوا یدعون من قبل، وہ جسے وہ پکارتے تھے اس سے پہلے۔ وہ سب معبود ان سے کھو جائیں گے جنہیں وہ اس سے پہلے پکارتے تھے۔ وظنو ما لهم من محیص، اور وہ سمجھ جائیں گے، جان جائیں گے، ظن یہاں گمان کے معنی میں نہیں، یقین کے معنی میں ہے بھئی، ان کو یقین ہو جائے گا، وہ سمجھ جائیں گے، ما لهم من محیص، نہیں ہے ان کے لیے کوئی محیص۔ محیص، اس میں ظرف کا صیغہ ہے، حاص یحیص کے معنی ہوتے ہیں بھاگ فرار ہونے کے، بھاگنے کے۔ وہ سمجھ جائیں گے کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ، ان کے لیے کوئی جائے فرار نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا معنی بھئی محیص کیا ہے؟ اس میں ظرف کا صیغہ ہے، جائے فرار، بھاگنے کی جگہ۔ وظل عنهم ما کانوا یدعون من قبل وظنو ما لهم من محیص، اور غائب ہو جائیں گے ان سے وہ جن کو وہ پکارتے تھے اس سے پہلے اور وہ سمجھ جائیں گے، وہ نے یقین ہو جائے گا کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ۔ لایسئم الانسان من دعاء الخیر، سئم یسئم، کل بھی یہ لفظ آیا تھا، میں نے بتلایا تھا، کیا معنی اس کا؟ اکتانا، اکتانا۔ لایسئم الانسان، انسان اکتاتا نہیں ہے، من دعاء الخیر، بھلائی کی دعا سے، بھلائی مانگنے سے۔ انسان نہیں اکتاتا بھلائی مانگنے سے، یہ یوں ترجمہ کر لیں، انسان نہیں تھکتا بھلائی مانگنے سے۔ لایسئم الانسان من دعاء الخیر، انسان بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا۔ ویمسحه الشر فیئوس قنوط، اور اگر چھوئے اس کو شر کوئی، یعنی اسے کوئی تکلیف پہنچے، فیئوس قنوط، یئوس، ناامید، ناامید۔ قنوط، بہت ناامید۔ یئوس کا کیا معنی؟ ناامید۔ یئس کے معنی ناامید ہونا۔ تو یئوس ناامید، اور قنوط، بہت ناامید۔ جیسے پیچھے فرح اور مرح کا ذکر آیا تھا بھئی۔ فرح وہ خوشی جس کا اثر قلب تک ہو بھئی، اور مرح وہ خوشی جس کا اثر بدن پر ظاہر ہو۔ اسی طرح یئوس وہ ناامید کہ جس کی ناامیدی کا اثر دل تک ہو، اور قنوط وہ ناامید کہ ناامیدی کا اثر بدن پر بھی ظاہر ہو بھئی، بدن پر بھی ظاہر ہو۔ ویمسحه الشر و فیئوس قنوط، اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے فیئوس قنوط، تو وہ ناامید ہوتا ہے، بہت ناامید۔ وہ ناامید ہوتا ہے بہت ناامید۔ یا یوں ترجمہ کر لیں، تو وہ آس توڑ کر ناامید ہو جاتا ہے۔ آس توڑنا وہی ناامید ہونا۔ تو وہ آس توڑ کر ناامید ہو جاتا ہے۔ یا یوں ترجمہ کر لیں، فیئوس قنوط، تو وہ ناامید ہو کر آس ہی چھوڑ بیٹھتا ہے، تو وہ ناامید ہو کر آس ہی چھوڑ بیٹھتا ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں لایسئم الانسان من دعاء الخیر، انسان تو ایسا ہے کہ بھلائی کی دعا مانگنے سے کبھی نہیں تھکتا بھئی، کبھی نہیں تھکتا۔ ویمسحه الشر فیئوس قنوط، اور دوسری طرف ذرا سی تکلیف پہنچتی ہے تو بالکل ہی ناامید ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ ولئن اضحناه رحمۃ منا، اور اگر ہم چکھا دیں اس کو رحمت اپنی طرف سے، اگر ہم اس کو اپنی طرف سے رحمت چکھا دیں، یعنی اپنی طرف سے اس پر فضل فرما دیں، من بعد ضراء مستہ، ضراء نکرہ آیا، مستہ، یہ فعل آیا نکرہ کے بعد، اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو یہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے۔ من بعد ضراء مستہ، بعد ایسی تکلیف کے جو اسے پہنچی ہے۔ بعد ایسی، ایسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے۔ ولئن اضحناه رحمۃ منا، اور اگر ہم اس کو چکھا دیں اپنی طرف سے رحمت، من بعد ضراء مستہ، اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہے، یعنی اسے تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اپنی طرف سے رحمت فرمائیں، اس پر رحمت کا مزہ چکھائیں، اس پر انعام فرمائیں، لیقولن، تو البتہ وہ ضرور کہے گا، ھذا لی، یہ تو میرے لیے ہے، یعنی یہ تو میرا حق ہے، یہ تو میرا تکلیف میں مبتلا تھا، تکلیف پہنچی تھی، تکلیف کے بعد اگر ہم اس پر فضل فرمائیں، اس پر انعام فرما دیں، اس کی مشکل دور کر دیں، اس کو آسانی اور خوشی اور انعام نصیب فرما دیں، تو وہ ضرور کہے گا ہٰذا لی، یہ تو میرا حق تھا۔ یہ تو میرے لیے ہے، یعنی یہ تو مجھے ہی ملنی تھی، ہٰذا لی، یہ تو مجھے ہی ملنی تھی، کیونکہ میں ہی اس کی تدبیر جانتا تھا اور کسی کو اس کی تدبیر ہی نہیں آتی تھی، یہ تو میرا حق ہے۔ وما أظن الساعة قائمة، اور یہ کہتا ہے کہ وما أظن کہ میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہوگی، ولئن رجعت إلى ربي اور اگر میں لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف، ان لي عنده للحسنى، تو بے شک میرے لیے اس اللہ کے پاس للحسنى، البتہ بھلائی ہے۔ کہتا ہے کہ میرا گمان نہیں ہے کہ قیامت قائم ہوگی، اور اگر میں لوٹایا بھی گیا اپنے پروردگار کے پاس، تو ان کے پاس بھی میرے لیے بھلائی ہی ہوگی، جیسے اس دنیا میں اللہ نے مجھے یہ نعمتیں دی ہیں، مال و دولت دی ہے، اولاد دی ہے، تو اسی طرح آخرت میں اگر اول تو آئے گی نہیں، اور اگر قائم بھی ہوئی تو جیسے یہاں میرے پروردگار کے انعام ہیں، وہاں بھی اللہ کے انعام ہوں گے۔ فلننبئن الذين كفروا بما عملوا، نَبَّأَ يُنَبِّئُ کے معنے خبر دینے کے ہوتے ہیں، بھئی! خبر دینے کے. نَبَّأَ کے کیا معنے ہیں؟ خبر دینے کے، اسی سے نبی ہے، نبی، کیونکہ وہ بھی خبر دینے والا ہے، اللہ کی طرف سے. فلننبئن الذين كفروا، پس، البتہ ہم ضرور خبر دیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا بما عملوا، اس کی جو وہ عمل کرتے تھے، پس ہم ضرور بتلا دیں گے کفر کرنے والوں کو ان کے اعمال، جو وہ عمل کرتے تھے، آخرت میں ہم ان کو بتلا دیں گے کہ ہمیں تمہارے سارے اعمال کا علم ہے، جو کچھ تم دنیا میں کرتے رہے ہو. فلننبئن الذين كفروا بما عملوا، پس ہم ضرور بتلا دیں گے کفر کرنے والوں کو جو وہ عمل کیا کرتے تھے، ولنذيقنهم من عذاب غليظ، اور البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان کو من عذاب غليظ، غليظ، گاڑھا، گاڑھا. تو البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان کو گاڑھا عذاب، یعنی سخت عذاب، سخت عذاب. ولئن أذقناه رحمة منا، اور اگر ہم اس انسان کو چکھائیں رحمۃ، رحمت اپنی طرف سے من بعد ضراء مستہ بعد ایسی تکلیف کے، کہ جو اسے پہنچی ہو، تو ليقولن هٰذا لی، تو البتہ وہ ضرور کہے گا ہٰذا لی، یہ تو میرے لیے ہی ہے، وما أظن الساعة قائمة، اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے، ولئن رجعت إلى ربي، اور اگر میں لوٹایا گیا اپنے پروردگار کی طرف، إن لي عنده للحسنى، تو بے شک میرے لیے ان کے پاس البتہ بھلائی ہے، بھلائی ہوگی، فلننبئن الذين كفروا بما عملوا، پس، البتہ ہم ضرور بتلا دیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا جو عمل کرتے تھے، ولنذيقنهم من عذاب غليظ، اور البتہ ہم انہیں ضرور مزہ چکھائیں گے سخت عذاب کا. وإذا أنعمنا على الإنسان، اور جب ہم انعام کریں انسان پر، جب ہم انسان پر انعام کریں، یعنی اسے اپنی طرف سے نعمتیں عطا کریں، أعرض، تو اعراض کرتا ہے، منہ موڑتا ہے، ونأى بجانبه، نَأَى کے معنے ہیں، دور ہونے کے، بھئی! نَأَى کا کیا معنی ہے؟ دور ہونا اور جانب پہلو کو کہتے ہیں، پہلو. تو وہ اعراض کرتا ہے ونأى بجانبه، اور دور کر لیتا ہے اپنے پہلو کو، اپنے پہلو کو کیا کر لیتا ہے؟ دور کر لیتا ہے. وإذا أنعمنا على الإنسان أعرض ونأى بجانبه، اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں، أعرض ونأى بجانبه، تو وہ منہ موڑتا ہے اور اپنے پہلو کو دور کر لیتا ہے، وإذا مسه الشر فذو دعاء عريض، اور جب اسے پہنچتی ہے کوئی تکلیف، فذو دعاء عريض، تو وہ عريض، چوڑی، بھئی، چوڑی، تو وہ چوڑی دعاؤں والا ہو جاتا ہے، یعنی لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے. وإذا مسه الشر، اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے فذو دعاء عريض، تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے والا ہو جاتا ہے. قل أرايتم، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے! أرايتم، کیا ترجمہ کریں گے، بھئی؟ جی؟ أرايتم، تم مجھے بتلاؤ تو سہی، إن كان من عند الله، اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو، کان کے اندر ہوا ضمیر کس کو راجع؟ قرآن کو. اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے ان کفار سے کہ تم مجھے بتلاؤ إن كان من عند الله، اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو، ثم كفرتم به، پھر تم اس کا انکار کرو، تم تو اس کو نہیں تسلیم کرتے، لیکن اگر یہ واقعی اللہ کی طرف سے ہو، چلو، تم تسلیم نہیں کرتے، لیکن اگر یہ ہو کس کی طرف سے؟ اللہ کی طرف سے ہو، پھر تم اس کا انکار کرتے ہو، تو من أضل ممن هو في ضلال بعید، تو کون زیادہ گمراہ ہوگا اس شخص سے، جو في ضلال بعید، جو دور کی مخالفت میں ہو، شقاق، مخالفت، بھئی. شقاق کا کیا معنی؟ مخالفت، بعید دور کی. في ضلال بعید، بھئی جو دور کی مخالفت میں ہو، یعنی مخالفت میں دور نکل گیا ہو، مخالفت میں دور. قل أرايتم، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے أرايتم، کہ تم مجھے بتلاؤ إن كان من عند الله، اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو، ثم كفرتم به، پھر تم اس کا انکار کرتے ہو، تو من أضل ممن هو في ضلال بعید، تو اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اختلاف میں دور نکل گیا ہو. سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم، سنريهم، أرا يرى کے معنے دکھانے کے، سنريهم، عنقریب ہم ان کو دکھائیں گے، آياتنا، اپنی نشانیاں، في الآفاق، آفاق کے اندر. یعنی اس جہان میں، اس کائنات میں، آفاق جمع ہے افق کی، افق کس کو کہتے ہیں؟ آسمان کے کنارے کو. تو ہم ان کو نشانیاں دکھائیں گے في الآفاق، آسمان کے کناروں میں، یعنی دنیا میں، جہان میں، اس کائنات میں. سنريهم آياتنا في الآفاق، عنقریب ہم ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں في الآفاق، کائنات میں، وفي أنفسهم، اور ان کی اپنی جانوں میں، ان کی اپنی ذاتوں میں، حتى يتبين لهم، یہاں تک کہ یہ بات ان پر واضح ہو جائے. حتى يتبين لهم، یہاں تک کہ یہ بات ان پر واضح ہو جائے، یہ بات ان پر کھل جائے، أنہ الحق، کہ یہ قرآن حق ہے، یہ قرآن برحق ہے. ألم يكفي بربك، کیا یہ بات، کیا آپ کے پروردگار کی یہ بات کافی نہیں، کہ أنہ علی كل شيء شہید، کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے، ہر چیز اس کے سامنے ہے، وہ ہر چیز پر گواہ ہے. ألم يكفي بربك، یہ با جارّہ زائدہ ہے، بربك، پھر جو با ہے، یہ با جارّہ زائدہ ہے، اور یہ ربک، یہ رب کا لفظ لفظوں کے اعتبار سے مجرور، لیکن یہ محلاً مرفوع ہے، فاعل ہے لم يكفي کے لیے، یہ فاعل ہے کس کے لیے؟ لم يكفي کے لیے. ألم يكفي بربك، کیا آپ کے پروردگار کی یہ بات کافی نہیں کہ أنہ علی كل شيء شہید، کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے. سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم، عنقریب ہم ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں کائنات میں وفي أنفسهم، اور ان کی اپنی جانوں میں، حتى يتبين لهم أنه الحق، یہاں تک کہ یہ بات ان پر کھل جائے کہ قرآن برحق ہے، ألم يكفي بربك أنه علی كل شيء شہید، کیا آپ کے پروردگار کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے؟ ألا إنهم في مرية، ألا، بھئی! حرف تنبیہ ہے، کسی کو متوجہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے. ألا، آگاہ رہو۔ إنهم في مرية، بے شک یہ لوگ شک میں ہیں، مريۃ شک کو کہتے ہیں، لقاء ملاقات کو کہتے ہیں، ألا إنهم في مرية من لقاء ربهم، آگاہ رہو، بے شک یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات سے شک میں ہیں. ألا إنه بكل شيء محيط، آگاہ رہو، بے شک وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہیں، محیط، احاطہ کرنے والا، گھیرنے والا. ألا إنه بكل شيء محيط، بے شک وہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے. ترجمہ سمجھ میں آ گیا، بھئی؟ چلیے، بس، یہی هو المرام، واللہ أعلم بحقيقۃ الکلام.