اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم قل انكم لتكفرون بالذي خلق الأرض في يومين وتجعلون له أندادا ذلك رب العالمين وجعل فيها رواسي من فوقها وبارك فيها وقدر فيها أقواتها في أربعة أيام سواء للسائلين قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے انکم کیا واقعی تم انکم کیا واقعی تم لتکفرون البتہ انکار کرتے ہو بالذي اس ذات کا خلق الأرض في يومين جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں وتجعلون له أندادا اور تم بناتے ہو اس کے شریک اور تم اس کے شریک بناتے ہو قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے انکم لتکفرون بالذي خلق الأرض في يومين وتجعلون له أندادا کیا تم واقعی البتہ انکار کرتے ہو کیا تم واقعی البتہ کفر کرتے ہو اس ذات کے ساتھ جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں اور بناتے ہو اس کے شریک أندادا یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا میں نے بتلا تھا یہ جمع ہے ند کی اور ند کہتے ہیں مثل کو مشابہ کو تو مراد ہے یہاں شریک مراد ہیں کہ تم اللہ کے مثل بناتے ہو مثل قرار دیتے ہو یعنی اس کے شریک قرار دیتے ہو ذالك رب العالمين وہی ہے تمام جہانوں کا پروردگار ذالك رب العالمين وہی ہے تمام جہانوں کا پروردگار یہ حصر کہاں سے آیا بھئی وہی ہے جی ہاں رب العالمين یہ خبر بھی معرفہ آگئی مبتدا کے ساتھ جب خبر بھی معرفہ آ جائے تو یہ حصر کا فائدہ دیتے ہیں بھئی ذالك رب العالمين وہی ہے تمام جہانوں کا رب وجعل فيها رواسي من فوقها اور بنا دیے فیہا اس زمین میں رواسی رواسی جمع ہے راسی کی اور راسی وہ چیز جو جمی ہوئی ہو گڑی ہوئی ہو ثابت ہو مضبوطی سے وجعل اور مراد اس سے پہاڑ ہیں بھئی کیا مراد ہیں پہاڑ جو اپنی جگہ مضبوطی سے جمے ہوتے ہیں وجعل فيها رواسي اور بنا دیے رکھ دیے وجعل فيها اور رکھ دیے اس زمین میں رواسی مضبوطی سے جمے ہوئے پہاڑ من فوقها اوپر سے اس زمین کے اوپر کیا کیے مضبوطی سے جمے ہوئے پہاڑ رکھ دیے وجعل فيها رواسي من فوقها اور رکھ دیے اس زمین کے اوپر مضبوطی سے جمے ہوئے پہاڑ وبارك فيها اور برکت دی اس میں اس زمین میں برکت ڈالی اس زمین میں وقدر فيها أقواتها اور مقدر کر دیں اس میں اس زمین میں أقواتها اس زمین کی خوراکیں أقوات جمع ہے قوت کی قوت خوراک کو کہتے ہیں بھئی غذا کو غذا کو خوراک کو وقدر فيها اور مقدر کر دیں اس میں مقرر کر دیں اس میں متعین کر دیں اس میں وپقدر وپقدر فيها أقواتها اور مقدر کر دیں اس زمین میں أقواتها اس کی خوراکیں اس زمین کی خوراکیں یعنی اس کے رہنے والوں کی خوراکیں ضمیر کس کو راجع اقواتھا کی زمین کو أقواتھا ای أقوات الأرض ای أقوات أہل الأرض بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی اور مقرر کر دیں مقدر کر دیں اس زمین میں اس کے رہنے والوں کی خوراکیں في أربعة أيام چار دن میں چار دن میں بھئی دیکھیے پہلے ذکر آیا کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں اور آگے آ رہا ہے کہ مقدر کر دیں اس میں اس کی خوراکیں چار دن میں یعنی وہ دو دن ملا کر چار دن بھئی دو دن میں اللہ نے زمین بنائی اور دو دن میں اس کے دیگر جو متعلقات کے انتظامات وغیرہ فرما دیے خوراکیں وغیرہ یہ پہاڑ وغیرہ جو جو کچھ چیزیں تھیں وہ سب دو دن میں ہوئیں تو کل کتنے دن ہوئے چار دن اور پھر دو دن میں آگے ذکر بھی آ رہا ہے آسمان کا بھی ان سات آسمان دو دن میں اللہ نے بنا دیے تو یہ کل کتنے دن ہوئے چھ دن ہوئے بھئی چنانچہ قرآن میں کئی جگہ ذکر آتا ہے کہ اس زمین اور آسمان کو اللہ نے چھ دن میں بنایا بھئی في أربعة أيام چار دن میں سواء یہ مفعول مطلق ہے فعل محذوف کے لیے استوت استوت الأربعة سواء استوت الأربع سواء کہ وہ چار دن جو ہیں برابر ہیں پورے ہیں یہ برابر چار دن ہیں پورے چار دن ہیں للسائلين پوچھنے والوں کے لیے کوئی اگر پوچھے کوئی سوال کرے تو بتلا دیجیے کہ یہ زمین اور اس کا سارا انتظام اللہ نے پورے چار دن میں فرمایا بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی یہ پورے چار دن میں ہے للسائلين یہ جو چار دن ہیں یہ پورے ان میں جو بتلایا گیا کہ چار دن میں بنایا یہ سب پوچھنے والوں کے لیے ہے وجعل فيها رواسي من فوقها اور رکھ دیے اس زمین میں مضبوط پہاڑ یا یوں کہیں رکھ دیے اس زمین میں جمے ہوئے پہاڑ من فوقها اوپر سے وبارك فيها اور اس میں برکت رکھ دی وپقدر فيها أقواتها اور مقدر کر دیں اس زمین میں اس کی خوراکیں في أربعة أيام چار دن میں سواء برابر برابر چار دن میں یعنی پورے چار دن میں للسائلين یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی کہ یہ جو حصر ہم نے کیا چار دن کا یہ کس کے لیے ہے پوچھنے والوں کے لیے ہے کوئی بھی پوچھے تو اس کو آپ بتایئے کہ یہ کتنے میں بنائے گئے چار دن میں یہ حصر ہے پوچھنے والوں کے لیے ثم استوى إلى السماء حصر کا معنی جانتے ہو یا نہیں بھئی بند کرنا ایک چیز کو دوسری میں بند تو زمین اور آسمان کے بنانے کو یہ جو ہم نے بند کر دیا کہ کتنے دنوں میں بنے ہیں چار دنوں میں بنے ہیں تو یہ پوچھ سب پوچھنے والوں کے لیے ہے سب کو آپ یہی بتائیے یہ برابر پورے چار دن میں ہم نے ان کو بنایا ثم استوى إلى السماء استوا یہاں توجہ کرنے کے معنی میں ہے بھئی ثم استوى إلى السماء پھر اللہ متوجہ ہوئے آسمان کی طرف وهي دخان اور وہ دھواں تھا بھئی وهي دخان اور وہ دھواں تھا یعنی دھوئیں کی صورت میں تھا شاید یہ آسمان کا وہ ابتدائی مادہ جو اللہ نے پیدا فرمایا وہ مراد ہو تو کہتے ہیں ثم استوى إلى السماء پھر متوجہ ہوا وہ آسمان کی طرف وهي دخان اور وہ دھواں تھا فقال لها وللأرض پس کہا اس نے لہا اس آسمان سے وللأرض اور زمین سے پس اللہ نے زمین اور آسمان سے فرمایا إتيا طوعا أو كرها کہ آ جاؤ تم دونوں طوعا فرمانبرداری سے أو كرها یا زبردستی سے تم دونوں آ جاؤ چاہے فرمانبرداری سے آؤ چاہے زبردستی تو طوعا أو كرها یہ حال واقع ہو رہے ہیں إتيا کے اندر میں جو یہ الف تثنیہ کی ضمیر ہے ضمیر ہے جو لوٹ رہی ہے آسمان اور زمین کو إتيا تم دونوں آ جاؤ اس حال میں کہ تم فرمانبرداری کرنے والے ہو یا كرها ناگواری کے ساتھ ناگواری کرتے ہوئے ناپسند کرتے ہوئے یعنی چاہے خوشی سے آؤ چاہے ناخوشی سے آؤ تمہیں آنا پڑے گا کہ آ جاؤ تم دونوں خوشی سے یا زبردستی قالتا اتينا طائعين تو کہا ان دونوں نے اتینا ہم آ گئے طائعين اس حال میں کہ ہم فرمانبرداری کرنے والے ہیں یعنی ہم خوشی سے آ گئے تو اللہ نے فرمایا زمین سے اور آسمان سے کہ تم دونوں آ جاؤ چاہے خوشی سے آؤ چاہے ناگواری سے آؤ تمہیں ہمارے حکم پر چلنا ہوگا میں تم دونوں سے ملا کر ایک نظام بنانے والا ہوں تو ان دونوں نے کیا کہا جواب میں کہ اے اللہ ہم ہم ہم خوشی سے آ گئے ہم آپ کے حکم کو ہر خوشی سے تسلیم کرتے ہیں قالتا تو کہا ان دونوں نے اتينا طائعين ہم آ گئے خوشی سے فقضاهن سبع سماوات پس کر دیا ان کو سات آسمان في يومين دو دن میں فقضاهن پس کر دیا ان کو سبع سماوات سات آسمان في يومين دو دن میں تو یہ چھ دن ہو گئے بھئی وجعل فيها رواسي من فوقها اور وحی کی فی کل سماع امرہا اور وحی کی فی کل سماع ہر آسمان میں امرہا اپنے حکم کی ہر آسمان میں اپنا حکم وحی فرما دیا ہر آسمان میں اپنا حکم نازل فرما دیا معنی سمجھ میں آگیا بھئی یعنی ہر آسمان کے فرشتوں کی طرف حکم نازل فرما دیا فرما دیا کہ ان کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں اور کس طرح انہوں نے نظام کو چلانا ہے وجعل فيها رواسي من فوقها اور نازل کیا ہر آسمان میں اپنا حکم وزيننا السماء الدنيا بمصابيح اور مزین کیا ہم نے دنیا والے آسمان کو چراغوں سے مصابيح جمع ہے مصباح کی چراغ کو کہتے ہیں اور ہم نے مزین کیا دنیا والے آسمان کو چراغوں سے یا دنیا دنون سے یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا دنون سے ہے تو دنیا کے دنون کے معنی قریب ہونا تو دنیا زیادہ قریب جو ہے زیادہ قریب والا وزيننا السماء الدنيا اور ہم نے قریب والے آسمان کو مزین کر دیا چراغوں سے یعنی مراد یہ ستارے ہیں بھئی ستارے معلوم ہوا یہ ستارے پہلے آسمان سے نیچے ہیں صرف کس کو مزین فرمایا ستاروں سے پہلے آسمان کو تو معلوم ہوا یہ اس سے نیچے ہیں اور اتنے حسین و جمیل معلوم ہوتے ہیں کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا آپ نے تو کبھی شاید ستارے دیکھے ہی نہیں ہوں گے بھئی شہر میں تو دکھائی ہی نہیں دیتے آسمان پر کوئی ایک آدھا ستارہ ایک کنارے کی طرف نظر آتا ہے دوسرا دوسرے کنارے کی طرف اگر کہیں آپ کو ایسے علاقے میں جانے کا اتفاق ہو جہاں روشنی نہ ہو بھئی بجلی نہ ہو اور فضا بھی صاف ہو یہ زیادہ دھواں وغیرہ آلودگی زیادہ ہو اس سے بھی پھر پوری طرح نظر نہیں آتے تو آلودگی زیادہ نہ ہو صاف ستھرا علاقہ ہو اور روشنی نہ ہو وہاں دور دور تک بھئی تو وہاں اگر آپ آسمان پر نظر ڈالیں اتنے ستارے اتنے ستارے کہ ان کی ان کی تعداد دیکھ کر انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے بھئی سمجھ میں آئے تھوڑی سی جگہ بھی ہو آسمان کی اس میں بے شمار ستارے دکھائی دیتے ہیں تو اللہ نے اس اس قریب والے آسمان کو مزین فرمایا ہے ستاروں سے وزيننا السماء الدنيا بمصابيح اور مزین کیا ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے وحفظا اور محفوظ کر دیا اور محفوظ کر دیا یہ حفظا مفعول مطلق ہے فعل محذوف حافظناھا حفظا اور ہم نے اس کی حفاظت کی اس کی حفاظت کا انتظام کر دیا، اور حافظناھا حفظاً ہم نے اس کو محفوظ کیا۔ سمجھ میں آیا بھئی، فرشتوں کے زبردست پہرے لگے ہوئے ہیں بات پہلے بھی گزر چکی بھئی۔ ذلک تقدیر العزیز العلیم، یہ اندازہ ہے زبردست علم والے کا۔ ذلک تقدیر العزیز العلیم، یہ اندازہ ہے زبردست علم والے کا۔ فإن أعرضوا فقل أنذرتكم صاعقة، فإن أعرضوا، پس اگر وہ اعراض کریں فقل تو پس آپ کہہ دیجیے أنذرتكم، کہ میں نے تمہیں خبردار کر دیا صاعقۃً، سخت عذاب سے۔ صاعقہ عذاب کو کہتے ہیں، نیز یاد رکھیے اسی طرح صاعقہ آسمان سے گرنے والی مہلک بجلی کو بھی کہتے ہیں جس کی زبردست کڑک ہوتی ہے۔ صاعقہ آسمان سے گرنے والی مہلک بجلی جس کی زبردست کڑک ہوتی ہے۔ فقل پس اگر، إن أعرضوا، پس اگر وہ اعراض کریں یعنی منہ موڑیں، فقل، پس آپ کہہ دیجیے أنذرتكم صاعقة، کہ میں نے تمہیں خبردار کر دیا عذاب سے مثل صاعقة عاد و ثمود، قوم ثمود اور قوم عاد کے عذاب کے جیسے، قوم ثمود اور قوم عاد کے عذاب جیسے عذاب سے میں نے تمہیں خبردار کر دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ فإن أعرضوا، پس اگر وہ منہ موڑے، یعنی آپ کی دعوت قبول نہ کریں۔ فإن أعرضوا، پس اگر وہ منہ موڑے، فقل، پس آپ کہہ دیجیے أنذرتكم صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود، کہ میں نے تمہیں خبردار کر چکا قوم ثمود اور قوم عاد کے عذاب جیسے عذاب سے۔ إذ جاءتهم، إذ جاءتهم الرسل من بين أيديهم ومن خلفهم، جس وقت آئے ان کے پاس ان کے پیغمبر من بين أيديهم، ان کے سامنے سے ومن خلفهم، اور ان کے پیچھے سے۔ جس وقت آئے ان کے پاس ان کے پیغمبر ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے۔ اور یہ دعوت دی اللہ تعبدوا إلا اللہ، کہ عبادت نہ کرو مگر اللہ کی، یعنی صرف، صرف اللہ ہی کی عبادت کرو، صرف اللہ ہی کی عبادت کرو۔ جس وقت آئے ان کے پاس ان کے پیغمبر ان کے پاس ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے، یہ محاورے کے طور پر ہے کلام، یعنی ہر طرف سے آئے، یعنی ہر رخ سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، بار بار ان کے پاس آئے اور ہر رخ سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، یہ معنی ہے کہ جس وقت آئے ان کے پیغمبر ان کے پاس ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے۔ یا ہو سکتا ہے بہت سے پیغمبر آئے ہوں بھئی، ان کے آگے سے اور پیچھے سے یعنی ان کے پاس بہت سے پیغمبر بھیجے گئے ہوں اور ایک ایک بار بار ان کے پاس آ رہا ہے اور انہیں دعوت دے رہا ہو، دعوت دے رہا ہو۔ قالوا لو شاء ربنا لأنزل ملائكة، قالوا تو انہوں نے کہا، لو شاء ربنا، اگر چاہتا ہمارا رب، لأنزل ملائكتاً، تو البत्ता وہ نازل کرتا فرشتے۔ وہ کہنے لگے اگر اللہ نے کسی کو بھیجنا ہوتا تو وہ کسی فرشتے کو بھیجتا، تم تو ہماری طرح انسان ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے اللہ نے تمہیں بھیجا ہو۔ قالوا لو شاء ربنا لأنزل ملائكة، انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو البत्ता فرشتے بھیجتا، فإنا بما أرسلتم به كافرون، پس بیشک ہم بما أرسلتم به، اس چیز کا جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو كافرون، انکار کرنے والے ہیں۔ پس بیشک ہم اس چیز کا انکار کرنے والے ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔ یعنی ہم تمہاری دعوت قبول نہیں کریں گے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو انہوں نے کیا اعتراض کیا؟ کہ اگر اللہ نے کسی کو بھیجنا ہوتا تو وہ اللہ فرشتوں کو بھیجتے، تم تو ہماری طرح انسان ہو۔ حالانکہ وہ اتنی بات نہیں سمجھتے کہ یہ انسان ہیں تو انسانوں کے پاس یہی زیادہ مناسب ہے کہ انہی کی جنس میں سے کوئی پیغمبر بھیجا جائے جو انہی میں رہ کر بتلائے کہ اللہ کے یہ یہ احکامات ہیں اور ان پر اس اس طریقے سے چلنا ہے جس طرح میں چل رہا ہوں تم بھی اسی طرح عمل کر سکتے ہو بھئی۔ فاما عاد فاستكبروا في الأرض، پس باقی قوم عاد والے، فاستكبروا في الأرض، پس انہوں نے تکبر کیا زمین میں، بغير الحق، ناحق۔ تو قوم عاد کے والے جو ہیں، عاد کے لوگ جو ہیں، فاستكبروا في الأرض بغير الحق، انہوں نے تکبر کیا زمین میں ناحق۔ وقالوا، اور کہا من أشد منا قوة، کون زیادہ سخت ہے ہم سے باعتبار قوت کے، کون زیادہ سخت ہے ہم سے باعتبار قوت کے، یعنی کون ہم سے بڑھ کر ہے قوت میں؟ تو قوم عاد والے بھئی ان کو اللہ نے بڑی قوت عطا فرماجی تھی، بڑی قوت عطا فرمائی تھی، بڑے اونچے لمبے قد، مضبوط جسم، اور یہ ایک ایک آدمی کا اتنا مضبوط ہوتا تھا کہ پہاڑ سے بڑا سا پتھر اس اکیلا اس کو اکھاڑ کر اٹھا کر لے آتا تھا بھئی، کھجور کا اونچا درخت ہوتا، ایک ہی شخص اس کو یوں بازوؤں میں دبا کر اکھاڑ دیتا تھا جڑ سے بھئی، اتنے مضبوط لوگ تھے۔ چنانچہ ناحق تکبر کیا انہوں نے، وقالوا من أشد منا قوة، کون ہم سے قوت میں بڑھ کر ہے؟ آگے اللہ فرما رہے ہیں، اولم يروا، کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان اللہ الذي خلقهم، أن اللہ الذي خلقهم، ہو اشد منهم قوة، کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے قوت میں بڑھ کر ہے؟ وكانوا بآياتنا يجهدون، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے، فأرسلنا عليهم ريحاً صرصراً، پس بھیجی ہم نے ان پر ريحاً صرصراً۔ صرصر، شدید سرد ہوا، صرصر کسے کہتے ہیں؟ شدید سرد، شدید ٹھنڈی اور برفلی ہوا بھئی۔ اور اسی طرح صرصر وہ ہوا جس کی آواز، جس کا شور بہت زیادہ ہو، اس کو بھی کیا کہا جاتا ہے؟ صرصر، تیز آندھی جس کا شور بہت زیادہ ہو، اسے بھی صرصر کہتے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں فأرسلنا عليهم ريحاً صرصراً، پس بھیجی ہم نے ان پر ایک تیز ہوا، ایک تیز ٹھنڈی ہوا، ایک تیز سرد ہوا في أيام نحساتٍ، منحوس دنوں میں۔ پس ہم نے ان پر ایک تیز ہوا، تیز ٹھنڈی ہوا بھیجی في أيام نحساتٍ منحوس، چند منحوس دنوں میں۔ روایات میں آتا ہے، اچھا، في أيام نحساتٍ چند منحوس دنوں میں۔ اور یہ ہوا ان پر سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتی رہی بھئی، سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتی رہی۔ یہ سب ختم ہو گئے، ان کے مویشی، مکانات، فصلیں، گھر، سب کچھ تباہ و برباد ہو گیا۔ فأرسلنا عليهم ريحاً صرصراً في أيام نحساتٍ، پس بھیجی ہم نے ان پر سخت، پس بھیجی ہم نے ان پر تیز ٹھنڈی ہوا في أيام نحساتٍ چند منحوس دنوں میں، لنذيقهم عذاب الخزي في الحياة الدنيا، خزي رسوائی کو کہتے ہیں، لنذيقهم عذاب الخزي، تاکہ ہم ان کو رسوائی کا عذاب چکھا دیں في الحياة الدنيا، دنیاوی زندگی میں۔ تاکہ ہم ان کو رسوائی کا عذاب، ذلت کا عذاب چکھا دیں دنیا میں۔ ولا عذاب الآخرة أخزى وهم لا ينصرون، اور البत्ता آخرت کا عذاب، أخزى، وہ زیادہ رسوائی والا ہے وھم لا ينصرون، اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ ولعذاب الآخرة أخزى، اور البत्ता آخرت کا عذاب زیادہ ذلت والا ہے وهم لا ينصرون، اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ یعنی جس وقت ان پر آخرت کا عذاب آئے گا تو وہ زیادہ رسوائی والا ہے اور اس وقت ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔ و أما ثمود، اچھا بھئی، اوپر آیا أيام نحساتٍ، أيام نحساتٍ۔ چند منحوس دن، بس بھئی یاد رکھیے دن، ایام وغیرہ میں سے کوئی دن منحوس نہیں ہوتا بھئی۔ یہ سب دن اللہ کے بنائے ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی دن منحوس نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر ان کو منحوس دن کہا گیا، یعنی ان کے اعتبار، یہ دن ان کے لیے کیا ثابت ہوئے؟ منحوس ثابت ہوئے بھئی، ان کو تباہ و برباد کر دیا گیا ان دنوں میں، اس لیے ایام نحساتٍ کہا گیا، ورنہ فی ذاتہ کوئی دن منحوس نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ہے صحیح اسلامی عقیدہ کہ کوئی دن اپنی ذات کے اعتبار سے منحوس نہیں ہے۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ عموماً محرم میں اور صفر میں شادیاں نہیں کرتے بھئی۔ کہ یہ دن اچھے نہیں، بھئی نہیں، تمام ایام جو ہیں اچھے ہیں، سب اللہ کے بنائے ہوئے ہیں، یہ لوگوں کے اپنے توہمات وغیرہ ہیں اور یہ صحیح اسلامی عقیدے کے خلاف ہے بھئی۔ و أما ثمود فهدينهم، اور باقی قوم ثمود جو ہے فهدينهم، پس ہم نے ان کو ہدایت دی، یعنی راستہ دکھایا۔ ہدایت کے یاد رکھیے آگے آپ کتابوں میں پڑھیں گے دو معنی آتے ہیں بھئی۔ ایک معنی ہے راستہ دکھانے کے، اور ایک معنی ہے منزل تک پہنچانے کے۔ مثلاً آپ سے کسی شخص نے پوچھا کہ مسجد کہاں ہے؟ آپ نے راستہ بتایا کہ یہ جو سا یہ جو راستہ جا رہا ہے، یہ سیدھا مسجد تک آپ کو پہنچا دے گا۔ راستے تک بھی آپ نہیں لے گئے، صرف راستہ دکھا دیا کہ یہ ہے راستہ، اس پر چلو گے تو مسجد تک پہنچ جاؤ گے۔ یہ ہے ارات طریق، راستہ دکھانا، ہدایت کا ایک معنی۔ اور ایک معنی ہے ہدایت کا ایصال الی المطلوب، مطلوب یعنی منزل تک پہنچا دینا۔ اس شخص نے پوچھا مسجد کہاں ہے؟ آپ نے اس کو ہاتھ سے پکڑا، لے کر چلے، اور مسجد تک پہنچا دیا، یہ کیا ہے ایصال الی المطلوب، تو یہاں ہدایت کس معنی میں ہے؟ ارات طریق یعنی راستہ دکھایا ان کو۔ و أما ثمود فهدينهم، اور باقی ثمود کے لوگ جو ہیں پس ہم نے ان کو راستہ دکھایا، فاستحبوا العمى على الهدى، پس پسند کیا انہوں نے اندھا عمى، اندھا پن بھئی۔ پس انہوں نے پسند کیا اندھا رہنے کو علی الهدى، ہدایت پر۔ پس انہوں نے پسند کیا اندھا رہنے کو ہدایت پر۔ تو عمى کا کیا معنی کیا؟ اندھا پن، مراد گمراہی ہے، تو چاہے آپ مرادی ترجمہ کر لیں فاستحبوا العمى علی الهدى، پس انہوں نے گمراہی کو پسند کیا ہدایت کے مقابلے میں۔ فاخذتهم صاعقة العذاب الهون، هون کا معنی بھی ذلت اور رسوائی بھئی۔ فاخذتهم صاعقة العذاب الهون، پس پکڑ لیا ان کو صاعقة العذاب الهون، ذلت والے عذاب کی کڑک نے۔ پس پکڑ لیا ان کو ذلت والے عذاب کی کڑک نے۔ صاعقہ کا ایک معنی میں نے بتلایا تھا بھئی وہ بجلی جو بڑی کڑک دار آواز کے ساتھ گرتی ہے۔ فاخذتهم صاعقة العذاب الهون، پس پکڑ لیا ان کو ذلت والے عذاب کی کڑک نے بما كانوا يكسبون، بموجب اس کے جو وہ کماتے تھے یعنی جو وہ عمل کرتے تھے۔ پس پکڑ لیا ان کو ذلت والے عذاب کی کڑک نے اس وجہ سے جو وہ عمل کرتے تھے۔ ونجينا الذين آمنوا وكانوا يتقون، اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے وكانوا يتقون، اور جو بچتے تھے، یعنی برائیوں سے۔ وكانوا يتقون، اور جو بچتے تھے، یعنی کس چیز سے؟ برائیوں سے یا یہ ترجمہ کر لیں وكانوا يتقون، اور جو ڈرتے تھے، یعنی اللہ سے۔ ونجينا الذين آمنوا وكانوا يتقون، اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے تھے وكانوا يتقون، اور جو ڈرتے تھے اللہ سے۔ چلیے بس، بہرحال، واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔