أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. ألم تر إلى الذين يجادلون في آيات الله أنى يصرفون؟ الذين كذبوا بالكتاب وبما أرسلنا به رسلنا فسوف يعلمون، إذ الأغلال في أعناقهم والسلاسل يسحبون في الحميم ثم في النار يسجرون. ألم تر إلى الذين؟ کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف؟ يجادلون في آيات الله جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو؟ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ الذين يجادلون في آيات الله جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں۔ یا یہ ترجمہ کر لیں، جو جھگڑے نکالتے ہیں اللہ کی آیتوں میں۔ أنى يصرفون؟ أنى يصرفون؟ کہاں سے وہ پھیرے جاتے ہیں؟ کہاں سے وہ پھیرے جاتے ہیں، پلٹائے جاتے ہیں؟ ألم تر إلى الذين يجادلون في آيات الله کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں؟ أنى يصرفون؟ کہاں سے پھیرے جاتے ہیں؟ الذين كذبوا بالكتاب وہ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو۔ وہ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو۔ کتاب میں جو الف لام ہے، یا یہ الف لام جنسی بھی ہو سکتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا جنس کتاب کو یعنی تمام کتابوں کو۔ وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا جنس کتاب کو، تو یا الف لام اس میں عہدی ہے بھئی۔ الف لام کیا ہے؟ الف لام عہدی ہے، جو جس کے یہ کسی متعین چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ تو اس سے مراد پھر قرآن ہے بھئی۔ الذين كذبوا بالكتاب وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو یعنی قرآن کو، وبما أرسلنا به رسلنا اور اس چیز کو جس کے ساتھ ہم نے بھیجا رسلنا اپنے رسولوں کو۔ الذين كذبوا بالكتاب وبما أرسلنا به رسلنا وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس چیز کو جس کے ساتھ ہم نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا، فسوف يعلمون پس عنقریب وہ جان لیں گے۔ إذ الأغلال في أعناقهم والسلاسل जिस وقت طاق ہوں گے ان کی گردنوں میں، والسلاسل اور زنجیریں اغلال جمع ہے غل کی۔ قیدی کے گلے میں جو طاق ڈالا جاتا ہے، اس کو غل کہتے ہیں۔ اور یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا، میں نے بتلایا کہ وہ طاق جس کے ساتھ ایک ہاتھ یا دونوں ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہوں ساتھ بھئی۔ إذ الأغلال في أعناقهم جس وقت طاق ان کی گردنوں میں ہوں گے، والسلاسل اور زنجیریں، سلاسل جمع ہے سلسلۃ کی، سلسلۃ زنجیر کو کہتے ہیں۔ تو ان کی گردنوں میں طاق بھی ہوں گے اور زنجیریں بھی ہوں گی۔ تو یا زنجیر کا ایک سرا طاق میں بندھا ہوا ہوگا اور دوسرا فرشتوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ إذ الأغلال في أعناقهم والسلاسل جس وقت طاق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، يسحبون صحبہ یسحب کے معنی گھسیٹنے کے ہوتے ہیں بھئی۔ صحبہ یسحب کے کیا معنی ہیں؟ گھسیٹنا، یعنی کہ زمین پر کسی کو گھسیٹنا، کھینچنا۔ يسحبون في الحميم گھسی، وہ گھسیٹے جائیں گے في الحميم کھولتے ہوئے پانی میں، حمیم گرم پانی بھئی، خوب گرم پانی۔ يسحبون في الحميم وہ گھسیٹے جائیں گے گرم پانی میں، ثم في النار يسجرون پھر آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔ سجر یسجر کے معنی، سجر عربی میں کہتے ہیں سجر التنور، سجر التنور۔ یعنی تنور کو گرم کر کرنا بھئی، تنور کو گرم کیا۔ سجر التنور کا کیا معنی؟ تنور کو گرم کیا۔ تو اس کا پھر یہ معنی بھی ہو سکتا ہے، ثم في النار يسجرون پھر وہ آگ میں جلائے جائیں گے بھئی، جلائے جائیں گے۔ گرم کیے جا، تنور کو گرم کیا جاتا ہے، اسی طرح ان کو بھی آگ میں جلایا جائے گا بھئی۔ اور سجر کے معنی ڈالنے کے بھی آتے ہیں، ثم في النار يسجرون پھر وہ آگ میں ڈال دیے جائیں گے۔ تو بہرحال، ہم اردو تراجم میں ہمارے تقریبا تمام علماء نے ہی اس کا معنی جھونکنے کے کیے ہیں بھئی۔ تو آپ بھی یہی ترجمہ یاد رکھیں بھئی، ثم في النار يسجرون پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی کبھی ایک قسم کا عذاب ہوگا اور کبھی دوسری قسم کا عذاب بھئی، کبھی گرم پانی میں گھسیٹا جا رہا ہے اور کبھی پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ثم قيل لهم: أين ما كنتم تشركون؟ پھر کہا جائے گا ان سے، أين ما كنتم تشركون؟ کہاں ہے وہ جن کو تم شریک بناتے تھے؟ وہ تمہارے باطل معبود کدھر ہیں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے؟ ثم قيل لهم پھر ان سے کہا جائے گا، أين ما كنتم تشركون؟ أين ما كنتم تشركون من دون الله کہاں ہیں وہ جن کو تم شریک بناتے تھے؟ من دون الله اللہ کے علاوہ۔ اللہ کے علاوہ جن کو تم شریک ٹھہراتے تھے اللہ کا، تمہارے وہ معبود کہاں ہیں؟ قالوا وہ کہیں گے، ضلوا عنا کہ ہم سے وہ گم ہو گئے۔ ہم سے وہ کھو گئے۔ ضلوا عنا ہم سے وہ گم ہو گئے، ہم سے وہ کھو گئے، یا ہم سے وہ غائب ہو گئے۔ قالوا ضلوا عنا وہ کہیں گے وہ ہم سے کھو گئے، بل لم نكن ندعو من قبل شيئا بلکہ لم نكن ندعو ہم نہیں پکارتے تھے من قبل اس سے پہلے شیئا کسی چیز کو۔ بل لم نكن ندعو من قبل شيئا بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں تمہارے وہ شریک؟ اللہ کے علاوہ جن کو تم اللہ کا شریک بناتے تھے؟ قالوا ضلوا عنا تو وہ کہیں گے وہ ہم سے کھو گئے، بل لم نكن ندعو من قبل شيئا بلکہ ہم نہیں پکارتے تھے اس سے پہلے کسی چیز کو۔ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے، اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ جیسے اور قیامت کے موقع پر وہ جھوٹ بولیں گے، ہر چیز کا انکار کریں گے، اسی طرح یہاں بھی، اولاً تو اچانک ان کے منہ سے یہ بات نکل آئے گی، ضلوا عنا، وہ ہم سے گم ہو گئے۔ یعنی تسلیم کر لیں گے۔ پھر فورا ہی سنبھل کر کہیں گے، بل لم نكن ندعو من قبل شيئا، ہم اس سے پہلے کسی کو چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے، کسی چیز کو ہم نے یعنی شریک بنایا ہی نہیں تھا، ہم کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے تھے، کسی شریک کی۔ اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ اس وقت وہ اعتراف کریں گے۔ کہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے، یعنی اب ہمیں آ کر معلوم ہوا کہ وہ وہ جن کو ہم پکارتے تھے، جن کی عبادت کرتے تھے، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو اس سے پہلے ہم کسی حقیقی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ كذلك يضل الله الكافرين اسی طرح گمراہ کرتے ہیں اللہ تعالی کفر کرنے والوں کو، ذالكم بما كنتم تفرحون في الأرض بغير الحق ذالكم یہ جو ہے، یعنی یہ جو سزا ہے تمہاری، بما باسببیہ ہے، ای بسبب ما كنتم تفرحون، یہ اس سبب سے ہے، وہ جو تم خوش ہوتے تھے في الأرض زمین میں بغير الحق ناحق۔ تمہاری یہ ان سے کہا جائے گا، تمہاری یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق خوشیاں مناتے تھے، ناحق خوش ہوتے تھے۔ وبما كنتم تمرهون اور اس وجہ سے جو تم اتراتے تھے۔ اور اس سبب سے جو تم اتراتے تھے۔ فرح بھی خوشی کو کہتے ہیں اور اسی طرح مرح بھی خوشی کو، لیکن فرح وہ خوشی جس کا اثر قلب و زبان تک رہتا ہے، اور مرح وہ خوشی جس کا اثر بدن پر بھی ظاہر ہو، افعال کے ذریعے بھی ظاہر ہو، اعضاء و جوارح کے ذریعے بھی ظاہر ہو بھئی، وہ خوشی۔ جیسے بھئی کسی کو خوشی کی خبر ملتی ہے، وہ ناچنے لگ جاتا ہے، تو دیکھو باقاعدہ خوشی کا اظہار افعال کے ذریعے، اعضاء کے ذریعے کر رہا ہے بھئی، تو وہ خوشی جس کا اثر اعضاء پر ظاہر ہو، افعال کے ذریعے کسی بھی صورت میں، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ مرح کہا جاتا ہے، مرح۔ ذالكم بما كنتم تفرحون في الأرض یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ تم خوشیاں، خوشیاں مناتے تھے، تم خوش ہوتے تھے في الأرض بغير الحق زمین میں ناحق طور پر، وبما كنتم تمرهون اور اس وجہ سے جو تم اتراتے تھے۔ ادخلوا أبواب جهنم خالدين فيها داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، خالدين فيها اس حال میں کہ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔ ادخلوا أبواب جهنم خالدين فيها داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، خالدين فيها اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ فبئس مثوى المتكبرين پس کتنا برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا۔ فبئس مثوى المتكبرين پس تکبر کرنے والوں کا کتنا برا ٹھکانہ ہے۔ فاصبر پس اے پیغمبر آپ صبر کیجیے، إن وعد الله حق بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ فإما نرينك بعض الذي نعدهم أو نتوفينك فإلينا يرجعون فإما نرينك فإما پس اگر ہم نرينك دکھا دیں آپ کو بعض الذي کچھ وہ جو، کچھ وہ جو، نعدهم جس سے ہم ان کو ڈراتے ہیں، یا جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ میں پہلے بتلا چکا ہوں وعدہ یعیدو کے معنی وعدہ کرنے کے بھی ہیں اور ڈرانے کے بھی ہیں بھئی۔ فإما نرينك بعض الذي نعدهم اگر ہم آپ کو دکھا دیں بعض وہ جو، جو ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، یعنی جو ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے اس میں سے یا ہم آپ کو کچھ دکھا دیں، أو نتوفينك یا آپ کو موت دے دیں، أو نتوفينك یا آپ کو موت دے دیں، فإلينا يرجعون تو ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے، ہماری طرف ہی یہ لوٹائے جائیں گے۔ اے پیغمبر، یا تو ہم آپ کو دنیا ہم نے جن سے جو وعدے کیے ہیں، یا تو دنیا ہی میں آپ کو کچھ ان میں سے دکھا دیں گے، یا آپ، یا آپ کو ہم دنیا سے اٹھا لیں گے، بہرحال دونوں صورتوں میں إلينا يرجعون یہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہم دنیا میں آپ کو ان کی پر آنے والے اپنی گرفت، اپنا عذاب دکھائیں، یا اس سے پہلے ہی آپ کو اٹھا لیں، بہرحال انہوں نے ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کہ دنیا ہی میں ہم آپ کو کچھ دکھا دیں، جیسے کہ غزوہ بدر کے موقع پر دکھایا گیا بھئی، ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے بھئی۔ فإما نرينك بعض الذي نعدهم أو نتوفينك أو نتوفينك فإلينا يرجعون پس اگر ہم آپ کو دکھا دیں کچھ اس میں سے جو ہم نے ان سے وعدہ کیا، جو ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں أو نتوفينك یا ہم آپ کو اٹھا لیں، یعنی دنیا سے، موت دے دیں آپ کو، فإلينا يرجعون تو ہماری ہی طرف یہ لٹان لوٹائے جائیں گے۔ ولقد أرسلنا رسلا من قبلك اور تحقیق البتہ بھیجا ہم نے رسولوں کو اس آپ سے پہلے، منهم من قصصنا عليك بعض ان میں سے وہ ہیں کہ قصصنا عليك کہ ہم نے قصہ بیان کیا ہے، واقعہ بیان کیا ہے آپ پر۔ اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ ہم نے ان کا واقعہ آپ سے بیان کیا ہے، ومینہم من لم نقصص عليك اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ ہم نے واقعہ بیان نہیں کیا آپ سے۔ وما كان لرسول وما كان لرسول أن يأتي باية إلا إلا بإذن الله اور نہیں ہے کسی پیغمبر کے لیے أن يأتي باية کہ وہ لائے کوئی نشانی، اور نہیں ہے کسی پیغمبر کے لیے کہ وہ کوئی نشانی لے کر آئے، یعنی کسی پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کوئی نشانی لے کر آئے، إلا بإذن الله مگر اللہ کی اجازت سے۔ فإذا جاء أمر الله پس جس وقت آ جائے گا اللہ کا حکم، قضی بالحق تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا۔ یا یہ ترجمہ کر لیں، قضی بالحق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا، وخسر هنالك المبطلون اور نقصان اٹھائیں گے اس وقت المبطلون اہل باطل۔ المبطلون اہل باطل، یا یوں ترجمہ کر لیں، باطل کی پیروی کرنے والے۔ وخسر هنالك المبطلون مبتلون اور نقصان اٹھائیں گے اس وقت باطل کی پیروی کرنے والے۔ ولقد ارسلنا رسلا من قبلک منہم من قصصنا علیک بعض منہم سے وہ ہیں کہ واقعہ بیان کیا ہے ہم نے ان کا آپ سے ومن من لم نقص علیک اور بعض انہم سے وہ ہیں کہ ہم نے واقعہ بیان نہیں کیا آپ سے ان کا وما کان لرسول ان یاتی بایۃ اور کسی پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کوئی نشانی لے کر آئے الا باذن اللہ مگر اللہ کی اجازت سے فذا جاء امر اللہ قضی بالحق پس جس وقت اللہ کا حکم آ جائے گا تو ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا وخسر هنالك المبتلون اور نقصان اٹھائیں گے اس وقت باطل کی پیروی کرنے والے۔ اللہ الذی جعل لكم الانعام اللہ وہ ذات ہے کہ بنایا جس نے تمہارے لیے مویشیوں کو۔ انعام: مویشی چو پائے۔ اللہ الذی جعل لكم الانعام اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے مویشی بنائے لترکبو منھا لترکبو منھا ای لترکبو بعضھا بھئی من تبعیضیہ تاکہ تم سواری کرو ان میں سے بعض پر ومنھا تأکلون اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے مویشی بنائے لترکبو منھا تاکہ تم ان میں سے بعض پر سواری کرو ومنھا تأکلون اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو ولکم فیھا منافع اور تمہارے لیے ان میں بہت سے نفع ہیں بہت سے فائدے ہیں ولتبلو علیھا حاجتا اور تاکہ پہنچو تم ان پر حاجتا ایسی حاجت کو فی صدورکم جو تمہارے سینوں میں ہو۔ تاکہ پہنچو تم ان جانوروں پر اپنی پہنچو ان جانوروں مویشیوں پر حاجتا کسی ایسی ایسی حاجت کو فی صدورکم جو تمہارے سینوں میں ہو یعنی جو تمہارے دلوں میں ہو۔ یعنی ان کی تاکہ ان پر تم پہنچو اپنے ان مقاصد کو اپنی ان ضرورتوں کو جو تمہارے دلوں میں ہو دلوں میں جو بھی ضرورت ہو اس پر ان جانوروں پر اس تک پہنچو بھئی۔ تو بعض کیا کرتے ہیں بھئی لمبا سفر کرنا ہوتا ہے جانوروں پر سفر کرتے سفر کرتے ہیں یا اسی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ کوئی بوجھ لے کر جانا ہے تو جانوروں کے ذریعے لے کر جاتے ہیں تو اس میں بہت سے نفع رکھے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی ان کا گوشت ہے ان کا دودھ ہے ان کا چمڑا ہے ان کی ہڈیاں ہیں ان کے سینگ ہیں ہر ایک سے نفع اٹھایا جاتا ہے۔ ولکم فیھا منافع اور تمہارے لیے ان میں بہت سے نفع ہیں ولتبلو علیھا حاجتا فی صدورکم اور تاکہ تم پہنچو ان پر اپنی تاکہ پہنچو تم ان پر ایسی حاجت کو فی صدورکم جو تمہارے سینوں میں ہو وعلیھا وعلی الفلک تحملون اور ان پر وعلی الفلک اور کشتی پر کشتیوں پر تحملون تم اٹھائے جاتے ہو۔ ان پر اور کشتیوں پر تم اٹھائے جاتے ہو لادے جاتے ہو یا اٹھا یہ ترجمہ کر لیں ان مویشیوں پر اور کشتیوں پر تحملون تم اٹھا کر لے جائے جاتے ہو بھئی۔ حمل کا معنی اٹھانا لادنے کے بھئی وعلیھا وعلی الفلک تحملون اور ان مویشیوں پر اور کشتیوں پر تحملون تم اٹھائے جاتے ہو ویریکم ایاتہ اور وہ دکھاتا ہے تمہیں ایاتہ اپنی نشانیاں اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے فای ایات اللہ تنکرون پس کون کون سی اللہ کی آیتوں کا تنکرون تم انکار کرو گے۔ اے مشرکین مکہ تم اللہ کی کون کون سی آیتوں کا کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی ویریکم ایاتہ اور وہ دکھاتا ہے تمہیں اپنی نشانیاں یا اور ترجمہ بعد میں کیا بڑا پیارا بھئی ویریکم ایاتہ اور وہ اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا رہا ہے فای ایات اللہ تنکرون پس تم اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے۔ أفلم يسيروا فی الارض پس کیا وہ چلے پھیرے نہیں زمین کے اندر فینظروا کہ وہ پس وہ دیکھتے کیف کان عاقبت الذین من قبلہم کیسا تھا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے کانوا اکثر منہم وہ ان سے زیادہ تھے وہ ان سے زیادہ تھے یعنی تعداد کے اعتبار سے کانوا اکثر منہم وہ ان سے زیادہ تھے واشد قوۃ واثارا فی الارض واشد اور زیادہ سخت تھے قوت با اعتبار قوت کے واثارا فی الارض اور با اعتبار نشانیوں کے فی الارض زمین میں۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھیرے نہیں کہ دیکھتے کیسا ہوا ان انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے کانوا اکثر منہم وہ لوگ ان سے تعداد میں بھی زیادہ تھے واشد قوۃ واثارا فی الارض اور وہ زیادہ مضبوط تھے ان سے قوت میں بھی اور ان نشانیوں میں جو انہوں نے زمین میں چھوڑیں بھئی۔ ان نشانیوں میں جو انہوں نے زمین میں چھوٹی وہ یادگاریں جو انہوں نے زمین میں چھوٹی بھئی آثار جمع ہے اثر کی پیچھے رہ جانے والا نشان بھئی۔ فما اغنا عنہم ما کانوا يكسبون پس کفایت نہ کی ان کی طرف سے ما اس چیز نے کانوا يكسبون جو وہ کماتے تھے۔ فما اغنا عنہم پس کفایت نہیں کی ان کی طرف سے ما کانوا يكسبون وہ جو کماتے تھے۔ یعنی کچھ کام نہ آیا ان کے وہ جو وہ کماتے تھے جو وہ عمل کرتے تھے فما اغنا عنہم ما کانوا يكسبون پس کچھ کام نہ آیا ان کے وہ جو وہ عمل کرتے تھے فلما جاء تہم رسلہم بالبينات پس جب آئے ہم پس جب آئے ان کے پاس رسلہم ان کے پیغمبر بالبینات واضح نشانیوں کے ساتھ۔ فلما جاء تہم رسلہم بالبینات جاء کے ساتھ با آ گیا بھئی صلہ تو اب کیا ترجمہ کریں گے لائے فلما جاء تہم رسلہم بالبینات پس جب لائے ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح نشانیاں فرحوا بما عندهم من العلم فرحو تو وہ خوش ہوتے رہے بما عندهم اس چیز پر جو ان کے پاس تھی من العلم علم میں سے۔ تو وہ خوش ہوتے رہے وہ جو علم تھا ان کے پاس اس کی وجہ سے یہ خوش ہوتے رہے یعنی اس پر ناز کرتے رہے فلما جاء تہم رسلہم بالبینات پس جب لائے ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح نشانیاں فرحوا بما عندهم من العلم تو وہ خوش ہوتے رہے اس وجہ سے وہ خوش ہوتے رہے جو ان کے پاس علم تھا وہ خوش ہوتے رہے اپنے علم پر وہ خوش ہوتے رہے اپنے علم پر۔ وحیق بہم ما كانوا به يستهزءون اور گھیر لیا ان کو ما اس چیز نے کانوا به يستهزءون جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ کے یعنی عذاب نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وحاق بہم اور گھیر لیا ان کو ما كانوا به يستهزءون اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ अच्छा بھئی فرحوا بما عندهم من العلم وہ خوش ہوتے رہے وہ جو ان کے پاس علم تھا اس پر وہ اپنے علم پر خوش ہوتے رہے ان کے پاس جو علم تھا وہ اس پر خوش ہوتے رہے بھئی یہ علم سے کیا مراد ہے علم سے تو جواب یہ ہے بھئی اس سے مراد یا تو معاش کا علم ہے بھئی۔ معاش میں دنیا میں گزر بسر کا جو علم ہے جو طور طریقے جیسے آج بھی آپ دیکھتے ہیں دنیاوی علوم کے اعتبار سے کہ کفار کے پاس وہ بہت زیادہ بھئی۔ کیونکہ ان کی ساری توجہ ہے ہی کس کی طرف دنیا کی طرف ہے ان کی ساری توجہ۔ تو اس کے ان کے پاس جو علم تھا اس پر نازاں رہے کہ علم تو ہمارے پاس ہے اور ہم سب کچھ جاننے والے ہیں۔ پیغمبروں کی دعوت کی کی انہوں نے ذرہ بھی پروا نہ کی۔ تو اس علم سے کیا مراد ہے یا تو ان کا معاش کا علم ہے یہ دنیاوی چیزوں کا گزر بسر کے جو اسباب وغیرہ ہیں ان کا علم یا علم سے مراد وہ فلسفیانہ علوم بھئی فلسفی علوم بھئی۔ یعنی علوم فلاسفہ مراد ہیں بھئی علوم فلاسفہ۔ جیسے آپ جانتے ہیں بھئی یہ فلسفے اور منطق کا علم اس میں وہ لوگ بہت ماہر تھے بھئی اور وہیں سے پھر یہ مسلمانوں میں آیا بھئی تو اس کے وہ بہت بڑے ماہر تھے۔ چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ سقراط جو بہت مشہور فلسفی گزرے ہیں وہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں تھا اس کو کسی نے کہا کہ اس طرح پیغمبر آئے ہیں دین حق لے کر تمہیں بھی اس کے پاس جانا چاہیے اپنی تہذیب کے لیے اپنی اصلاح کے لیے۔ تو کہنے لگا ہمیں کسی کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے ہم خود تہذیب یافتہ لوگ ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے۔ تو اتنا وہ ناز کرتے تھے اپنے علوم پر۔ فلما رأوا باسنا پس جب دیکھا انہوں نے باسنا ہمارے عذاب کو باس بھئی عذاب کو کہتے ہیں اسی طرح جنگ کو بھی کہتے ہیں فلما رأوا باسنا پس جب دیکھا انہوں نے ہمارے عذاب کو قالوا تو کہنے لگے آمن باللہ وحدہ ہم ایمان لے آئے اکیلے اللہ پر۔ جب ہمارا عذاب ان پر نازل ہوا تو عذاب کو دیکھ کر اب وہ کہنے لگے آمن باللہ وحدہ کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لے آئے وکفرنا بما كنا به مشرکین اور ہم نے انکار کیا اس چیز کا جس کو کہ ہم اللہ کا شریک بناتے تھے۔ وكفرنا اور ہم نے انکار کیا بما اس چیز کا کنا بھی مشرکین جو ہم اس اللہ کے ساتھ شریک بناتے تھے۔ جن چیزوں کو ہم اللہ کا شریک بناتے تھے ہم ان سب کا انکار کرتے ہیں۔ فلما رأوا باسنا جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا قالو تو کہنے لگے آمن باللہ وحدہ کہ ہم اکیلے اللہ پر ایمان لے آئے یا یوں ترجمہ کر لیں آمن باللہ وحدہ ہم خدائے واحد پر ایمان لے آئے وکفرنا بما كنا به مشرکین اور ہم نے انکار کیا بما کنا بھی مشرکین اس کا جن کو ہم اللہ کا شریک بناتے تھے۔ فلما يك فلما يك اصل میں کیا تھا بھئی فلما یکون یہ نون آخر میں تخفیف بعض اوقات گرا دیا جاتا ہے میں پہلے بیان کر چکا فلما يك ينفعهم ایمانهم پس نہیں تھا کہ نفع دیتا ان کو ایمانهم ان کا ایمان لما رأوا باسنا جب دیکھ لیا انہوں نے ہمارے عذاب کو۔ بھئی ایمان بالغیب ضروری ہے بھئی عذاب کو دیکھنے کے بعد اگر کوئی ایمان لاتا ہے تو اس ایمان کا کوئی اعتبار نہیں بھئی۔ تو اب عذاب کو دیکھ کر وہ ایمان لا رہے تھے تو اللہ فرماتے ہیں ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد وہ ایمان قابل قبول نہیں ہے وہ انہیں کوئی نفع نہیں دے گا فلما يك ينفعهم ایمانهم پس نہیں تھا کہ نفع دیتا ان کو ان کا ایمان لما رأوا باسنا جب انہوں نے دیکھ لیا ہمارے عذاب کو سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ سنت اللہ یہ تو پہلے بھی کئی مرتبہ میں بیان کر چکا ہوں بھئی۔ یہ کیا ترکیب ہوگی سن اللہ سنتن سن اللہ تو یہ سنت اللہ یہ جو منصوب ہے یہ مفعول مطلق ہونے کی بنا پر منصوب ہے بھئی۔ جی تو فعل کو فاعل کے ساتھ حذف کر لیا گیا اور پھر فاعل کی طرف فاعل کو مضاف الیہ کی صورت میں ملا دیا گیا اس کے بھئی۔ یہ یوں کہیں فعل کو حذف کر لیا گیا اور فاعل کی طرف اس اس مفعول مطلق کی اضافت کر دی گئی سنت اللہ سنت اللہ التی اللہ کا اللہ کا او جی اور سنت کسے کہتے ہیں طریقہ عادت سنت اللہ التی اللہ کا طریقہ ہے۔ یا یوں کہیں یہ ترجمہ یوں کر لیں یہ اللہ کا معمول ہے یہ اللہ کا وہ معمول ہے التی قد خلت جو کہ تحقیق گزر چکا فی عبادہ اس کے بندوں میں۔ یہ اللہ کا معمول ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا۔ یہ یوں ترجمہ بھئی۔ یہ اللہ کا وہ معمول ہے جو اس کے بندوں میں چلا آیا ہے۔ یہ اللہ کا وہ معمول ہے جو اس کے بندوں میں چلا آیا ہے۔ لفظی ترجمہ میں نے بتا دیا بھئی قد خلت جو گزر چکا فی عبادہ اس کے بندوں میں۔ سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ یہ اللہ کا وہ معمول ہے جو اس کے بندوں میں چلا آیا ہے یعنی اللہ کا یہ معمول ہے کہ عذاب کو دیکھنے کے بعد اگر کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اللہ اس کو قبول نہیں فرماتے یہ اللہ کا معمول چلا آیا ہے اس کے بندوں میں۔ وخسر هنالك الكافرون اور نقصان اٹھایا اس وقت انکار کرنے والوں نے کفر کرنے والوں نے وخسر هنالك الكافرون اور نقصان اٹھایا اس وقت کفر کرنے والوں نے۔ چلیے بس بھئی ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقت الكلام