أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. إنا لننصر رسلنا والذين آمنوا في الحياة الدنيا ويوم يقوم الأشهاد، يوم لا ينفع الظالمين معذرتهم ولهم اللعنة ولهم سوء الدار. إنا لننصر رسلنا، بيشک ہم البتہ مدد کرتے ہیں رسلنا اپنے رسولوں کی، والذین آمنوا اور ان کی جو ایمان لے کر آئے، فی الحیاۃ الدنیا دنیوی زندگی میں، ویوم يقوم الأشهاد، اور جس دن کہ کھڑے ہوں گے گواہ۔ أشهاد جمع ہے شہید کی، گواہ کو کہتے ہیں، ویوم يقوم الأشهاد اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔ إنا لننصر رسلنا والذين آمنوا في الحياة الدنيا ويوم يقوم الأشهاد، بيشک البتہ ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لے کر آئے فی الحیاۃ الدنیا دنیوی زندگی میں، ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں، ویوم يقوم الأشهاد اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔ یعنی وہ فرشتے اور اسی طرح انبیاء وغیرہ جو گواہی دیں گے۔ يوم لا ينفع الظالمين معذرتهم، جس دن کہ نفع نہیں دے گا ظلم کرنے والوں کو معذرتهم ان کی ان کا معذرت کرنا، جس دن کہ ظلم کرنے والوں کو ان کی معذرت نفع نہیں دے گی۔ ولهم اللعنة، اور ان کے لیے لعنت ہوگی، ولهم اللعنة، اور ان کے لیے لعنت ہوگی۔ لعنت یعنی رحمت سے دوری، ولهم اللعنة اور ان کے لیے لعنت ہوگی، ان کے لیے پھٹکار ہوگی۔ ولهم سوء الدار، اور ان کے لیے اس گھر کی خرابی ہوگی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ولهم سوء الدار ان کے لیے اس گھر کی برائی یعنی خرابی ہوگی، یا یہ ترجمہ کرلیں ولهم سوء الدار اور ان کے لیے برا گھر ہوگا، بدترین مقام ہوگا۔ ولقد آتينا موسى الهدى، اور تحقیق البتہ ہم نے عطا کی موسیٰ علیہ السلام کو ہدایت، وورثنا بني إسرائيل الكتاب، اور وارث بنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا، اور وارث بنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا۔ هدا وذكرا لأولي الألباب، وہ کتاب جو هدا وذكرا لأولي الألباب ہدایت ہے اور نصیحت ہے لأولي الألباب عقل والوں کے لیے۔ وہ کتاب جو کہ ہدایت ہے اور نصیحت ہے عقل والوں کے لیے، تو ھدا یہ مصدر ہے اور اسی طرح ذکرا یہ بھی مصدر ہے۔ اور مصدر کا حمل ذات پر بطور مبالغہ کے تو جائز ہے ویسے نہیں بھئی۔ زيد عدل، عدل مصدر ہے تو عدل کا حمل ہوا زید پر، تو حالانکہ مصدر کا حمل ذات پر درست نہیں ہوتا لیکن بطور مبالغہ کے ہو تو درست ہے۔ تو زيد عدل کا کیا ترجمہ کریں گے؟ زید سراپا عدل ہے بھئی، سراپا بطور مبالغہ کے تو یہاں بھی اسی طرح ترجمہ کر لیجیے بھئی، هدا وذكرا لأولي الألباب وہ کتاب جو کہ سراپا ہدایت اور سراپا نصیحت تھی لأولي الألباب عقل والوں کے لیے۔ فصبر، پس اے پیغمبر آپ صبر کیجیے، إن وعد الله حق، بيشک اللہ کا وعدہ حق ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے، واستغفر لذنبك، اور مغفرت طلب کیجیے اپنے گناہ کی۔ اے پیغمبر آپ صبر کیجیے، بيشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، یعنی یہ مشرکین جو ہیں یہ کفار آپ کو تکالیف دیتے رہتے ہیں، آپ ان تکالیف پر صبر کرتے رہیے۔ فصبر پس اے پیغمبر آپ صبر کیجیے، إن وعد الله حق بيشک اللہ کا وعدہ حق ہے، واستغفر لذنبك اور مغفرت طلب کیجیے اپنے گناہ کی، وسبح بحمد ربك بالعشي والابكار، اور تسبیح بیان کیجیے ساتھ حمد اپنے پروردگار کی بالعشي شام کے وقت والابكار اور صبح کے وقت۔ اور تسبیح بیان کیجیے ساتھ اپنے پروردگار کی حمد کے، یعنی تسبیح کے ساتھ ساتھ حمد بیان کیجیے بھئی، تسبیح کے ساتھ ساتھ حمد بیان کیجیے اپنے پروردگار کی بالعشي شام کے وقت والابكار اور صبح کے وقت، ابکار صبح سویرے کو کہتے ہیں بھئی صبح۔ واستغفر لذنبك، اور آپ مغفرت طلب کیجیے اپنے گناہ کی، اپنے گناہ کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہیں بھئی، انبیاء کیا ہیں گناہوں سے معصوم ہیں، پھر کیا معنی آپ اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کیجیے۔ جواب یہ کہ پہلے بیان ہو چکا حسنات الأبرار سيئات المقربين، حسنات الأبرار سيئات المقربين۔ نیک لوگوں کی جو نیکیاں جو ہیں، وہ بھی مقربین کے لیے گناہوں کی طرح ہیں۔ مقربین کے لیے یعنی جس کا جتنا مقام اونچا ہوگا اسی کے مطابق اس کے اعمال کو دیکھا جاتا ہے بھئی۔ تو پیغمبر کی ذات تو ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہے، لیکن کوئی خلاف اولیٰ کام بھی ہو جائے تو وہ بھی ان کے لیے اسی طرح ہے، جس طرح کسی شخص کے لیے کوئی گناہ بھئی، ایک چیز میں مثلاً دو صورتیں تھیں، ایک بہتر تھی، ایک بہتر نہیں تھی، ہاں جائز دونوں تھیں، تو ایک اولیٰ ہوئی، ایک کیا ہوئی خلاف اولیٰ۔ یہ یوں کہیے بھئی، واستغفر لذنبك، آپ مغفرت طلب کیجیے اپنے گناہ کی، کہ خطاب تو پیغمبر کو ہے، حکم دراصل امت کو دیا جا رہا ہے بھئی، خطاب کس کو ہے؟ خطاب پیغمبر کو ہے اور حکم امت کو دیا جا رہا ہے۔ حضور علیہ السلام ہر قسم کے گناہ سے معصوم تھے، پھر بھی آپ دن میں سو سو مرتبہ استغفار کرتے تھے، تو عام لوگ جو کہ گناہوں میں عموماً مبتلا ہوتے ہی رہتے ہیں، ان کو پھر کس قدر استغفار کرنا چاہیے بھئی۔ فصبر پس آپ صبر کیجیے، إن وعد الله حق بيشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، واستغفر لذنبك اور مغفرت طلب کیجیے اپنے گناہ کی، وسبح بحمد ربك بالعشي والابكار اور تسبیح بیان کیجیے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ شام کے وقت اور صبح کے وقت۔ إن الذين يجادلون في آيات الله بغير سلطان أتاهم، وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں فی آيات الله اللہ کی آیتوں میں بغير سلطان أتاهم، بغیر کسی ایسی دلیل کے جو انہیں پہنچی ہو، إن في صدورهم إلا كبر، نہیں ہے ان کے سینوں میں مگر تکبر، مگر بڑائی، ما هم ببالغيه، نہیں ہے وہ کہ اس کو پہنچیں، وہ اس کو پہنچنے والے نہیں ہیں۔ بلغ يبلغو کے کیا معنی ہوتے ہیں پہنچنے کے، تو بالغيہ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ إن في صدورهم إلا كبر، نہیں ہے ان کے سینوں میں إلا كبر مگر بڑائی، مگر تکبر، یہ تو لفظی ترجمہ با محاورہ کیا ہوگا؟ ان کے سینوں میں بڑائی ہی ہے، تکبر ہی ہے، ما هم ببالغيه جسے وہ پہنچنے والے نہیں ہیں، جسے وہ پہنچ نہیں سکتے۔ یعنی وہ بڑے تو نہیں ہیں، لیکن ان کے دلوں میں بڑائی ہے، وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں، اور اس بڑائی تک وہ کبھی نہیں پہنچ سکتے، ما هم ببالغيه بالغيہ وہ اس بڑائی کو نہیں پہنچ سکتے ویسے ہی تکبر ہی ہے ان کے دلوں میں۔ إن في صدورهم إلا كبر ما هم ببالغيه، ان کے سینوں میں بڑائی ہی ہے جسے وہ نہیں پہنچ سکتے، فستعذ بالله، پس آپ اللہ کی پناہ پکڑیے، إنہ هو السميع البصير، بيشک وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ يرحمك الله. فستعذ بالله، پس آپ پناہ پکڑیے اللہ کی، إنہ هو السميع البصير، بيشک وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ لق خلق السماوات والأرض أكبر من خلق الناس، البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش أكبر من خلق الناس بڑی ہے لوگوں کی پیدائش سے، البتہ زمین اور آسمان کا پیدا کرنا یہ بڑا ہے لوگوں کے پیدا کرنے سے، ولکن أكثر الناس لا يعلمون، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ ہم نے انسانوں کو بھی پیدا کیا اور آسمان و زمین کو بھی پیدا کیا، آسمانوں کو اور زمین کو اور آسمان اور زمین یہ تو بہت بڑی چیزیں ہیں، ان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش کے مقابلے میں بڑی بات ہے، بڑی چیز ہے۔ تو جب ہم زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے پر قادر ہیں، تو پھر انسان یہ کیوں سمجھتا ہے کہ ہم اس کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتے، یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ لق خلق السماوات والأرض أكبر من خلق الناس، البتہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا أكبر من خلق الناس بڑا ہے لوگوں کے پیدا کرنے سے، ولکن أكثر الناس لا يعلمون، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ وما يستوي الأعمى والبصير، اور برابر نہیں ہیں الأعمى اندھا والبصير اور دیکھنے والا، اور برابر نہیں ہیں الأعمى والبصير نابینا اور بینا، والذين آمنوا وعملوا الصالحات، اور وہ لوگ جو ایمان لے کر آئے اور اچھے عمل کیے، وہ، ولا المسيء، اور نہ برے، برے کام کرنے والا۔ وہ لوگ جو ایمان لے کر آئے اور اچھے عمل کیے، وہ لوگ، اور وہ جو برے عمل کرنے والا ہے، برے کام کرنے والا ہے، وہ برابر نہیں ہیں۔ یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ وما يستوي الأعمى والبصير والذين آمنوا وعملوا الصالحات ولا المسيء، اندھا اور دیکھنے والا، اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے، اور وہ جس نے برے عمل کیے، یہ برابر نہیں ہیں۔ قليلا ما تذكرون، بہت تھوڑا تم نصیحت قبول کرتے ہو۔ قليلا ما تذكرون، تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔ تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو۔ إن الساعة لآتية لا ريب فيها، بيشک قیامت البتہ آنے والی ہے، لا ريب فيها، اس میں کوئی شک نہیں ہے، ولكن أكثر الناس لا يؤمنون، لیکن اکثر لوگ وہ ایمان نہیں لاتے، لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔ ولكن أكثر الناس لا يؤمنون، لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے، وقال ربكم ادعوني استجب لكم، اور فرمایا ہے آپ کے پروردگار نے یا فرماتے ہیں قال بمعنى يقول کے اور آپ کا پروردگار فرماتا ہے، ادعوني استجب لكم، کہ تم پکارو مجھے، استجب لكم، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ وقال ربكم، اور آپ کا رب فرماتا ہے، ادعوني تم لوگ مجھ سے دعا کرو، استجب لكم، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ استجابہ کے معنی قبول کرنے کے۔ إن الذين يستكبرون عن عبادتي، بيشک وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، سيخولون جهنم داخيرين، عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم میں، داخيرين، اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوں گے۔ داخلر کا کیا معنی ہے؟ ذلیل۔ داخلرين، اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوں گے۔ تو با محاورہ ترجمہ کیسے کریں گے؟ سيخولون جهنم داخيرين، عنقریب وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ إن الذين يستكبرون عن عبادتي، بيشک وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، یعنی تکبر کی وجہ سے عبادت میری عبادت نہیں کرتے، میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اتنے واضح دلائل لے کر آئے، لیکن یہ صرف اور صرف تکبر کی وجہ سے اس بات کو خالص توحید کو قبول نہیں کرتے بھئی، اور اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ إن الذين يستكبرون عن عبادتي، بيشک وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، سيخولون جهنم داخيرين، عنقریب وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ الله الذي جعل لكم الليل لتسكنوا فيه، اللہ ہی ہے، اللہ ہی ہے، یہ حصر والا ترجمہ کہاں سے کر رہا ہوں میں کس وجہ سے بھئی؟ بھئی لفظ اللہ مبتدا ہے، اور الذی یہ خبر ہے۔ ہاں شاباش! خبر بھی معرفہ ہے، مبتدا تو ہوتا ہی معرفہ ہے اور خبر بھی معرفہ آگئی، تو پھر اس کی وجہ سے کیا پیدا ہو جاتا ہے؟ حصر، یہ حصر کا فائدہ دیتی ہے بھئی یہ، تعریف خبر بھئی۔ الله الذي جعل لكم الليل لتسكنوا فيه والنهار مبصرا، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، والنهار مبصرا اور دن کو دیکھنے والا بنایا۔ دن کو بنایا دیکھنے والا، یعنی روشن دن بنایا جس میں تم دیکھتے ہو۔ الله الذي جعل لكم الليل لتسكنوا فيه والنهار مبصرا، اللہ ہی ہے، اللہ ہی ہے، جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، والنهار مبصرا اور دن کو دیکھنے والا بنایا۔ إن الله لذو فضل على الناس، بيشک اللہ فضل والا ہے، فضل کر فضل فضل والا ہے یعنی فضل کرنے والا۔ ان اللہ لدو فضل, بیشک اللہ فضل کرنے والا ہے علی الناس لوگوں پر لیکن اکثر الناس لا یشکرون، لیکن اکثر لوگ وہ شکر ادا نہیں کرتے۔ ذلک اللہ ربکم خالق کل شیء۔ ذلک اللہ، یہی ہے اللہ۔ ذلک اللہ، یہی ہے اللہ۔ یعنی جس نے یہ زمین اور آسمان بنائے، جس نے رات کو آرام کے لیے اور دن کو دیکھنے کے لیے بنایا، اور جو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے، یہی ہے اللہ۔ ذلک اللہ، یہی ہے اللہ ربکم, تمہارا پروردگار، خالق کل شیء, پیدا کرنے والا ہر چیز کو۔ پیدا کرنے والا ہر چیز۔ ذلک اللہ ربکم خالق کل شیء، یہی ہے اللہ تمہارا پروردگار ہر چیز کو پیدا کرنے والا۔ شین کے بعد یہ میم آئی بھئی, کنارے پر بھی لکھا ہے وقف لازم۔ میں نے پہلے بھی بتایا کہ اس تلاوت کے اندر اس کا خاص خیال رکھنا ہے اور جہاں یہ ہو وہاں ضرور وقف کرنا ہے، وقف کئی۔ لا الہ الا ھو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ فانا توفکون، پس کہاں سے تم پلٹائے جاتے ہو؟ کہاں سے تم پھیرے جاتے ہو؟ اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا اور زمین کو اور اس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی اور دیکھنے کے لیے دن بنایا جس میں پھر کسی چراغ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اللہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ اور یہ وہ باتیں ہیں جن کو وہ مشرکین مکہ بھی مانتے تھے بھئی یہ سب باتیں، اگر ان سے پوچھا جاتا یہ آسمان اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ بھی اقرار کرتے تھے کہ ان سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اور یہ رات کس نے بنائی؟ اللہ نے۔ یہ دن کس نے بنایا؟ اللہ نے۔ وہ ان سب باتوں کو اس کو وہ بھی تسلیم کرتے تھے، تو اللہ فرما رہے ہیں جب ان سب باتوں کو تم بھی تسلیم کرتے ہو، فانا توفکون، پھر کہاں سے تم پلٹائے جاتے ہو؟ کس طرح تم اللہ کے ساتھ اور چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہو جب یہ سب کچھ تم تسلیم کرتے ہو؟ پھر کس طرح شرک کرنے لگتے ہو تم لوگ؟ فانا توفکون, پس کہاں سے تم پلٹائے جاتے ہو؟ کہاں سے تم پھیرے جاتے ہو؟ کہاں سے تم اوندھے چلائے جاتے ہو؟ جو بھی ترجمہ آپ کر لیں بھئی۔ کذلک یؤفک الذین کانوا بآیات اللہ یجحدون، اسی طرح پلٹائے جاتے تھے وہ لوگ کانوا بآیات اللہ یجحدون جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ جحد یجحدو کے معنی؟ انکار کرنا۔ کذلک یؤفک, اسی طرح اوندھے چلائے جاتے تھے وہ لوگ کانوا بآیات اللہ یجحدون جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا, ہاں اللہ ہی ہے۔ اللہ ہی ہے الذی جعل لکم الارض قرارا, جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو رہنے کی جگہ۔ قرار رہنے کی جگہ۔ اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا, اللہ ہی ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو رہنے کی جگہ والسماء بناء اور آسمان کو عمارت۔ بناء عمارت کو کہتے ہیں۔ آسمان کو عمارت بنایا یا یہ ترجمہ کریں والسماء بناء اور آسمان کو گنبد بنایا۔ آسمان گول ہے تو گنبد کی صورت بن گئی جی۔ والسماء بناء اور آسمان کو گنبد بنایا۔ وسورکم, اور تمہاری صورتیں بنائیں۔ فاحسن صورکم, پس اچھا کیا تمہاری صورتوں کو۔ ورزقکم من الطیبات, اور رزق دیا تمہیں من الطیبات پاکیزہ چیزوں میں سے۔ تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔ ذالکم اللہ ربکم, یہی اللہ ہے ربکم تمہارا پروردگار۔ فتبارک اللہ رب العالمین۔ پس بڑی برکت والی ذات ہے اللہ کی، پس بڑی برکت والا ہے اللہ رب العالمین جو رب ہے تمام جہانوں کا۔ اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا والسماء بناء، اللہ وہ ذات ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو رہنے کی جگہ والسماء بناء اور آسمان کو عمارت وسورکم فاحسن صورکم اور تمہاری صورت بنائی پس اچھی بنائی تمہاری صورت ورزقکم من الطیبات اور رزق دیا تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے ذالکم اللہ ربکم یہی اللہ ہے تمہارا پروردگار، فتبارک اللہ رب العالمین پس بڑی برکت والا ہے اللہ رب العالمین جو رب ہے تمام جہانوں کا۔ ہو الحی لا الہ الا ھو۔ ہو الحی, وہی زندہ ہے۔ ہو الحی, وہی زندہ ہے۔ یعنی وہی ازلی و ابدی زندہ ہے۔ ازل سے ہے، ہمیشہ سے ہے، ابدی ہے، ہمیشہ رہے گا۔ ہو الحی, وہی زندہ ہے یعنی کہ ازلی و ابدی۔ ازلی اسے کہتے ہیں جو ہمیشہ سے ہو، ابدی جو ہمیشہ رہے۔ ہو الحی, وہی زندہ ہے لا الہ الا ھو نہیں ہے کوئی معبود اس کے سوا۔ فدعوہ مخلصین لہ الدین, پس پکارو تم اس کو خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو۔ یا خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے بندگی کو۔ الحمد للہ رب العالمین۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ قل انی نہیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ۔ قل, آپ کہہ دیجیے انی نہیت کہ بے شک مجھے روکا گیا ہے، مجھے منع کیا گیا ہے۔ قل انی نہیت, آپ کہہ دیجیے کہ بے شک مجھے منع کیا گیا ہے ان اعبد الذی, ان اعبد الذین, یہ کہ میں عبادت کروں ان کی تدعون جن کو تم پکارتے ہو من دون اللہ اللہ کے علاوہ، جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ۔ لما جاءنی البینات من ربی۔ جب آ چکی میرے پاس لما جاءنی، جب میرے پاس آ چکی البینات، واضح دلیلیں من ربی اپنے پروردگار کی طرف سے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وامر تو, اور مجھے حکم دیا گیا ہے ان اسلما, یہ کہ میں فرمانبردار ہوں، فرمانبردار رہوں۔ لرب العالمین, تمام جہانوں کے پروردگار کے لیے۔ یہ کہ میں فرمانبردار رہوں تمام جہانوں کے پروردگار کے لیے۔ قل انی نہیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ, آپ کہہ دیجیے کہ بے شک مجھے روکا گیا ہے کہ میں عبادت کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ۔ لما جاءنی البینات من ربی, جبکہ آ چکی میرے پاس واضح دلیلیں میرے پروردگار کی طرف سے۔ وامر تو ان اسلما لرب العالمین, اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداری کروں تمام جہانوں کے پروردگار کی۔ ہو الذی خلقکم من تراب ثم من نطفۃ، وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے یعنی حضرت آدم علیہ السلام کے ضمن میں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے ضمن میں سب مٹی ہی سے بنے ہیں۔ ہو الذی خلقکم من تراب وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا تمہیں مٹی سے ثم من نطفۃ پھر نطفے سے۔ ثم من نطفۃ پھر نطفے سے یعنی پانی کے قطرے سے۔ ثم من نطفۃ پھر پانی کے قطرے سے ثم من علقۃ پھر جمے ہوئے خون سے۔ علقہ کسے کہتے ہیں؟ جمع ہوا خون۔ ثم من علقۃ, پھر جمے ہوئے خون سے۔ تو وہ نطفہ جو ہے رحم مادر میں، ماں کے پیٹ میں پھر وہ جمے ہوئے خون کی صورت ابتدائاً اختیار کر لیتا ہے۔ وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا تمہیں مٹی سے پھر پانی کے قطرے سے، پھر جمے ہوئے خون سے ثم یخرجکم طفلا، پھر وہ تمہیں باہر لاتا ہے طفلا اس حال میں کہ تم بچے ہو۔ اس حال میں کہ تم بچے ہوتے ہو بھئی۔ یعنی بچے کی صورت میں تمہیں باہر لاتا ہے یعنی ماں کے پیٹ سے۔ ثم یخرجکم طفلا, پھر تمہیں باہر لاتا ہے بچے کی شکل میں۔ یہ طفلا یہ حال ہے بھئی۔ یخرجکم میں جو کم ضمیر آئی اور طفل اس کا اطلاق مفرد و جمع سب پر ہوتا ہے۔ طفل کا اطلاق مفرد اور جمع سب پر ہوتا ہے۔ ثم یخرجکم طفلا, پھر تمہیں بچے کی شکل میں باہر لاتا ہے ثم لبلغوا اشدکم, پھر تاکہ پہنچو تم, لبلغو تاکہ تم پہنچو اشدکم اپنی بھرپور قوت کو، اپنی بھرپور قوت کو یعنی اپنی جوانی کو، اپنی جوانی کو۔ ثم لبلغو اشدکم, پھر تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کو۔ لام جارہ آیا بھئی لبلغو۔ لام کہ آیا بھئی لام کہ۔ بھئی لام جارہ ہے نا والی تبلوغو۔ جی اس کے بعد ان مقدر ہوتا ہے بھئی اور ان وہ آگے آنے والے فعل کو مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے اور مصدر تو اسم ہے اس پر تو حرف جر کا داخل ہونا درست ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ لام کہ کیا ہے؟ لام جارہ ہے اور یہ اس کے بعد ان مقدر ہوتا ہے تو اس ان نے اگلے فعل کو مصدر کے معنی میں کر دیا تو اور مصدر تو اسم ہے تو اس پر لام جارہ کا داخل ہونا صحیح ہے۔ بہر حال لام کہ ہے ہے لام جارہ یہ کس سے متعلق ہے بھئی؟ یہ جار مجرور کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ متعلق یہ جار مجرور متعلق ہوتے ہیں ان کے لیے متعلق چاہیے تو یاد رکھیے یہاں اس کا متعلق محذوف ہے اور وہ ہے یبقی کم۔ ثم یبقی کم لتبلوغو اشدکم, پھر تمہیں باقی رکھتا ہے لتبلوغو اشدکم تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کو، تاکہ تم اپنی جوانی تک پہنچ جاؤ۔ ثم لتکونو شیوخا, پھر تاکہ تم ہو جاؤ بوڑھے۔ پھر تمہیں باقی رکھتا ہے تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ۔ ومنکم من یتوفی من قبل, اور بعض تم میں سے وہ ہیں کہ یتوفی من قبلہ کہ وہ وہ وہ مر جاتے ہیں من قبل اس سے پہلے ہی۔ ان پر موت آ جاتی ہے اس سے پہلے ہی۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تم جو تمہیں بچے کی شکل میں نکالتے ہیں، پھر تمہیں باقی رکھتے ہیں تاکہ تم جوانی کو پہنچ جاؤ اور پھر تمہیں باقی رکھتے ہیں تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور بعض تم میں سے اس سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو جاتا ہے۔ یعنی جوانی اور بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں، جوانی کو پہنچنے سے پہلے یا بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے۔ ولتبلوغو اجلا مسمی, اور تاکہ تم پہنچ جاؤ ایک مقررہ مدت تک۔ اجل مدت بھئی میعاد مسمی مقررہ۔ تاکہ تم پہنچ جاؤ ایک مقررہ میعاد تک، ایک مقررہ مدت تک۔ اور اس مقررہ مدت سے کیا مراد ہے؟ بعض مفسرین لکھتے ہیں قیامت کا دن اور بعضوں نے لکھا کہ موت مراد ہے بھئی۔ کیا مراد ہے؟ موت کا وقت مراد ہے بھئی۔ اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ بھئی ولتبلوغو اجلا مسمی, اور تاکہ تم پہنچ جاؤ مقررہ وقت تک۔ ولعلکم تعقلون, اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔ ولعلکم تعقلون اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔ ولعلکم تعقلون اور تاکہ تم سوچو، تاکہ تم سوچو۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر تمہیں بچے کی شکل میں باہر لاتا ہے، پھر تمہیں باقی رکھتا ہے، زندہ رکھتا ہے تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو، پھر تاکہ تم بوڑھے ہو جاؤ اور تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو جاتا ہے، یعنی جوانی کو پہنچنے سے پہلے ہی یا بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے ہی اور تاکہ تم پہنچو ایک مقررہ وقت تک۔ ولعلکم تعقلون, اور تاکہ تم عقل سے کام لو، تاکہ تم عقل سے کام لو، تم سوچو کہ وہ اللہ جو ہمیں اتنے مرحلوں سے گزارتا ہے، اسے شریک کی کیا حاجت ہے؟ اور اس کے لیے یہ بات کیا مشکل ہے کہ ہمیں ایک اور مرحلے سے گزارتے ہوئے دوبارہ زندگی عطا کر دے؟ هو الذی یحیی ویمییت, وہی ذات ہے جو زندگی دیتی ہے ویمییت اور موت دیتی ہے۔ فاذا قضی امرا, پس جب وہ فیصلہ کر دیتا ہے کسی بات کا فانما یقول لہ, تو وہ صرف اس سے یہی کہتا ہے۔ تو وہ اس سے صرف یہی کہتا ہے انما حصر کے لیے آیا نا۔ یقول لہ, ترجمہ کیا کریں گے انما کے بغیر؟ یقول لہ, وہ اس سے کہتا ہے اور فانما یقول لہ, وہ اس سے صرف یہ کہتا ہے کن ہو جا فیکون تو وہ ہو جاتی ہے۔ ولعلکم تعقلون, اور تاکہ تم عقل کرنے لگو هو الذی یحیی ویمییت, کہ وہی ذات ہے جو زندگی دیتی ہے ویمییت اور موت دیتی ہے فاذا قضی امرا, پس جب وہ فیصلہ کر دیتا ہے کسی بات کا فانما یقول لہ, تو وہ صرف یہی کہتا ہے اس سے کن ہو جا فیکون تو وہ ہو جاتی ہے بھئی۔ تو یہی کہتا ہے اسی میں حصر آ گیا، صرف کا لفظ بھی ختم کر دیں ترجمے میں۔ فانما یقول لہ کن فیکون, تو وہ اس سے یہی کہता ہے کہ ہو جا فیکون تو وہ ہو جاتی ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی ھذا هو المرام، واللہ أعلم بحقیقۃ الکلام۔