أعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم۔ وقال الذی آمن یا قوم اتبعونی أهدکم سبیل الرشاد۔ یا قوم إنما هذه الحیاة الدنیا متاع وإن الآخرة هي دار القرار۔ وقال الذی آمن اور کہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھا یعنی اب پھر وہ مومن بات کر رہا ہے وہ رجل مومن۔ وقال الذی آمن اور کہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھا یا قوم اتبعونی اے میری قوم اتبعونی اتباعونی۔ یا متکلم کی یہاں حذف ہے بھئی جیسے یا قومی کے آخر سے یا متکلم کی محذوف ہے بھئی۔ یا قوم اے میری قوم اتبعونی۔ تم لوگ میری پیروی کرو۔ تم میری پیروی کرو۔ یعنی تم میری بات مان لو۔ تم میری بات مان لو۔ أهدکم سبیل الرشاد۔ میں رہنمائی کروں گا تمہاری سبیل الرشاد۔ بھلائی کے راستے کی طرف۔ نیکی کے راستے کی طرف۔ أهدکم سبیل الرشاد۔ بھئی وہ پیچھے فرعون نے کہا تھا نا اپنی قوم سے کہ میں تمہیں کیا کرتا ہوں؟ بھلائی کے راستے کی طرف ہی تمہاری رہنمائی کر رہا ہوں تو اس کے مقابلے میں اب یہ رجل مومن کہہ رہا ہے کہ بھئی بھلائی کا راستہ وہ نہیں ہے جو فرعون تمہیں بتلا رہا ہے میں تمہاری بھلائی کی، تم میری بات مان لو میں تمہاری بھلائی کے راستے کی طرف رہنمائی کروں گا۔ وقال الذی آمن اور کہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھا یا قوم اتبعونی اے میری قوم میری بات مان لو أهدکم سبیل الرشاد میں تمہاری رہنمائی کروں گا بھلائی کے راستے کی طرف۔ یا قوم إنما هذه الحیاة الدنیا متاع۔ اے میری قوم إنما هذه الحیاة الدنیا متاع۔ متاع کہتے ہیں نفع بھئی۔ إنما حصر کے لیے آیا۔ إنما هذه الحیاة الدنیا۔ یہ دنیاوی زندگی تو متاع تھوڑا سا نفع ہی ہے۔ اے میری قوم إنما هذه الحیاة الدنیا متاع یہ دنیاوی زندگی تو تھوڑا سا نفع ہی ہے۔ یا یوں ترجمہ کر لیں بھئی۔ اے میری قوم یہ دنیاوی زندگی تو تھوڑا سا مزہ ہی ہے۔ وإن الآخرة هي دار القرار۔ اور بے شک آخرت ہی دار القرار رہنے کا گھر ہے۔ وإن الآخرة هي دار القرار۔ اور بے شک آخرت ہی رہنے کا گھر ہے۔ دار القرار رہنے کا گھر بھئی۔ من عمل سیئة فلا یجزى إلا مثلها۔ من عمل سیئة جس شخص نے برائی کی فلا یجزى پس اس کو بدلہ نہیں دیا جائے گا إلا مثلها مگر اسی کے مثل۔ مگر اسی کے برابر۔ جس شخص نے کوئی برائی کی تو اس کو بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی کے برابر۔ بامحاورہ کیا ترجمہ ہوگا؟ ہاں جس شخص نے کوئی برائی کی اس کو اس کے برابر ہی بدلہ دی دیا جائے گا۔ ومن عمل صالحاً اور جس نے اچھا عمل کیا من ذکر أو أنثى۔ مرد ہو یا عورت۔ ومن عمل صالحاً اور جس نے اچھا عمل کیا نیک عمل کیا من ذکر أو أنثى چاہے وہ مرد ہو یا عورت وهو مؤمن اس حال میں کہ وہ مومن ہو۔ فأولئك یدخلون الجنة پس وہی داخل ہوں گے جنت میں۔ پس وہی جنت میں داخل ہوں گے يرزقون فيها۔ رزق دیا جائے گا ان کو فيها اس جنت میں بغیر حساب بے حساب۔ رزق دیا جائے گا ان کو جنت میں بحساب یعنی انہیں وہاں بے حساب رزق دیا جائے گا۔ من عمل سیئة فلا یجزى إلا مثلها جس نے کوئی برائی کی تو اس کو اسی کے برابر بدلہ دیا جائے گا ومن عمل صالحاً من ذکر أو أنثى اور جس نے اچھا عمل کیا چاہے مرد ہو یا عورت وهو مومن جب کہ وہ مومن ہو اس حال میں کہ وہ مومن ہو یعنی کہ جب کہ وہ مومن ہو بھئی آپ جانتے ہیں کہ نیک عمل جو ہے وہ ایمان کے بغیر کچھ فائدہ نہیں دے گا بھئی آخرت میں۔ ومن عمل صالحاً من ذکر أو أنثى اور جس نے نیک عمل کیا چاہے مرد ہو یا عورت ہو وهو مؤمن جب کہ وہ مومن ہو فأولئك یدخلون الجنة پس وہی پس وہ لوگ داخل ہوں گے جنت میں يرزقون فيها بغیر حساب وہاں انہیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔ ویا قومی ما لي أدعوكم إلى النجاة۔ ویا قومی اور اے میری قوم ما لي مجھے کیا ہوا؟ ما لي مجھے کیا ہوا؟ أدعوكم إلى النجاة میں تمہیں بلا رہا ہوں نجات کی طرف وتدعوننی إلى النار اور تم مجھے بلا رہے ہو آگ کی طرف۔ اے میری قوم مجھے کیا ہوا؟ مجھے کیا ہوا یعنی یہ کیا بات ہے یہ ترجمہ کر لیں بامحاورہ۔ یا ویا قومی اور اے میری قوم یہ کیا بات ہے أدعوكم إلى النجاة میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں وتدعوننی إلى النار اور تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔ تدعوننی لأكفر بالله تم مجھے بلا رہے ہو کہ میں کفر کروں اللہ کے ساتھ وأشرك به اور شریک کروں اس کے ساتھ ما اس چیز کو ليس لي به علم کہ نہیں ہے مجھے اس چیز کا علم کوئی علم۔ علم تحت النکرہ لیس کے تحت آیا بھئی اور نکرہ تحت النفی آئے تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا فائدہ دیتا ہے عموم کا نکرہ تحت النفی آئے تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ جاءني رجل کیا ترجمہ کریں گے؟ جاءني رجل میرے پاس ایک مرد آیا رجل ہے۔ پچھے کوئی نفی ذکر ہے؟ تو نکرہ آیا اور سیاق اثبات میں آئے تو وہ خصوص کا فائدہ دیتا ہے تو جاءني رجل رجل نکرہ ہے اور سیاق اثبات میں ہے پیچھے کوئی نفی والا حرف ذکر نہیں۔ پیچھے کوئی نفی ذکر نہیں تو معنی کیا کریں گے جاءني رجل کا آیا میرے پاس ایک مرد اور آپ کہتے ہیں ما جاءني رجل اب نفی لے آؤ کیا ترجمہ کریں گے؟ मेरे پاس کوئی مرد نہیں آیا دیکھو سب کی نفی کر دی یہ عموم کہاں سے آیا؟ یہ جو نکرہ تحت النفی ہے بھئی تو یہاں پر بھی دیکھیے بھئی لیس لي به علم علم نکرہ ہے اور یہ لیس کے تحت آیا تو کیا ترجمہ کریں گے؟ کوئی علم نہیں ہے۔ لیس لي به علم نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم (یعنی کچھ اس کا علم نہیں ہے جس کو تم مجھے کہہ رہے ہو کہ اللہ کا شریک بنا لو)۔ تدعوننی لأكفر بالله تو مجھے بلا رہے ہو کہ میں کفر کروں اللہ کے ساتھ وأشرك به اور شریک کروں اس کے س ساتھ اللہ کے ساتھ ما اس چیز کو ليس لي به علم کہ نہیں ہے مجھے اس چیز کا کوئی علم وأنا أدعوكم إلى العزيز الغفار۔ اور میں تمہیں بلا رہا ہوں إلى العزيز زبردست الغفار مغفرت کرنے والے بہت معاف کرنے والے کی طرف۔ وأنا أدعوكم إلى العزيز الغفار اور میں تمہیں بلا رہا ہوں زبردست بہت بخشنے والے کی طرف۔ لاجَرَمَ۔ لاجَرَمَ یقیناً کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لاجَرَمَ یقینا۔ قطعی طور پر۔ لاجَرَمَ یقینی تو یقیناً انما تدعوننی إلیه۔ کہ انما وہ جو تدعوننی کہ تم مجھے بلا رہے ہو إلیه اس کی طرف۔ لاجَرَمَ یقیناً انما وہ جو تدعوننی إلیه جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ ترجمہ سمجھ میں ارہا ہے بھئی؟ ما تدعوننی إلیه۔ وہ چیز جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ لاجَرَمَ انما تدعوننی إلیه یقینی طور پر وہ چیز جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ليس له دعوة في الدنيا ولا في الآخرة۔ نہیں ہے اس کے لیے پکارنا دنیا میں ولا في الآخرة اور نہ آخرت میں۔ وہ معبودان باطلہ بھئی جن کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو نہ ان کے لیے دنیا میں پکارنا ہے اور نہ آخرت میں پکارنا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ دنیا میں بھی ان کے لیے پکارنا نہیں اور آخرت میں بھی پکارنا نہیں۔ یعنی وہ تو بے جان چیزیں ہیں۔ تم کس طرح ان کی عبادت کر رہے ہو انہوں نے تو کسی کو اپنی دعوت کی طرف نہیں پکارا اپنی دع کسی کو اپنی عبادت کی طرف نہیں پکارا اپنی عبادت کے لیے کسی کو نہیں بلایا بھئی۔ کسی کو اپنے عبادت کا حکم انہوں نے نہیں دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ لیس له دعوة في الدنيا ولا في الآخرة نہیں ہے ان کے لیے پکارنا دنیا میں اور نہ آخرت میں یعنی نہ وہ دنیا میں کسی کو اپنی طرف پکارتے ہیں اور نہ آخرت میں بھئی آخرت میں کسی کو پکاریں گے وہ تو بے جان چیزیں ہیں تم کس طرح ان کی عبادت کر رہے ہو وہ تو نہیں پکارتے اپنے عبادت کے لیے وہ تو نہیں بلاتے اپنی دعوت کی طرف۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں بلائیں گے پکاریں گے۔ مفہوم واضح ہو گیا؟ اچ اچھی طرح۔ اور واضح ترجمہ کر لیں بھئی لیس له دعوة في الدنيا ولا في الآخرة نہیں ہے ان کے لیے دعوت دینا دنیا میں اور نہ آخرت میں نہ وہ دنیا میں کسی کو اپنی عبادت کی دعوت دے رہے ہیں اور نہ آخرت میں کسی کو اپنی عبادت کی دعوت دیں گے بھئی۔ دوسرا ترجمہ بھئی۔ لیس له دعوة في الدنيا ولا في الآخرة۔ نہیں ہے ان کے لیے پکارنا دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یعنی نہ وہ دنیا میں پکارے جانے کے لائق ہیں اور نہ وہ آخرت میں پکارے جانے کے لائق ہیں۔ ترجمہ دوسرا سمجھ میں آیا بھئی؟ پہلا کیا ترجمہ کیا میں نے؟ نہ وہ دنیا میں کسی کو دعوت دیتے ہیں اپنے عبادت کی اور نہ آخرت میں دیں گے۔ دوسرا معنی نہ وہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہیں اور نہ آخرت میں۔ وأن مردنا إلی اللہ۔ مرد مصدر ہے لوٹنا بھئی لوٹنا۔ وأن مردنا إلی اللہ اور ہمارا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ وأن المسرفین هم أصحاب النار۔ اور حد سے تجاوز کرنے والے هم أصحاب النار وہی اگ والے ہیں وہی دوزخ والے ہیں۔ وأن المسرفین هم أصحاب النار اور حد سے بڑھنے والے حد سے بڑھنے والے ہی دوزخ والے ہیں۔ لاجَرَمَ أنما تدعوننی إلیه یقین یقینی وہ جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو لیس له دعوة في الدنيا ولا في الآخرة وہ نہیں ہے پکارے جانے کے لائق دنیا میں اور نہ آخرت میں وأن مردنا إلی اللہ اور ہمیں اللہ کی طرف لوٹنا ہے وأن المسرفین هم أصحاب النار اور حد سے تجاوز کرنے والے ہی دوزخ والے ہیں۔ فستذكرون ما أقول لكم۔ سین مضارع پر داخل ہو بھئی تو کس کے ساتھ خاص کر دیتا ہے اسے؟ مستقبل کے ساتھ اور مستقبل قریب کے لیے یہ آتا ہے۔ فستذكرون پس عنقریب تم یاد کرو گے ما أقول لكم وہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔ پس عنقریب تم یاد کرو گے وہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔ یعنی میری دعوت قبول کر لو اس دین حق کی طرف آ جاؤ۔ ورنہ پھر تباہی میں پڑ جاؤ گے اور میری ان باتوں کو یاد کرو گے جو میں تمہیں اس وقت کر رہا تم سے کہہ رہا ہوں لیکن پھر اس وقت یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ فستذكرون ما أقول لكم پس عنقریب تم یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں وأفوض أمري إلى اللہ۔ فوض یفوض تفویضا کے معنی ہے سپرد کرنا۔ سونپنا۔ سپرد کرنا سونپنا۔ حوالہ کرنا۔ وأفوض أمري إلى اللہ۔ اور میں سپرد کرتا ہوں أمری اپنا معاملہ إلی اللہ اللہ کی ت کی طرف اللہ کو۔ وأفوض أمري إلى اللہ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں میں اپنا معاملہ اللہ کو سونپتا ہوں۔ إن الله بصیر بالعباد۔ بے شک اللہ دیکھنے والے ہیں بالعباد تمام بندوں کو۔ بے شک اللہ دیکھنے والے ہیں تمام بندوں کو یہ تمام ترجمہ میں نے کس کا کیا بھئی؟ الف لام کا شاباش بھئی۔ استغراقی الف لام استغراقی۔ تو اس تمام کے ساتھ ترجمہ ہوگا۔ إن الله بصیر بالعباد بے شک اللہ دیکھ رہے ہیں تمام بندوں کو بے شک اللہ دیکھنے والے ہیں تمام بندوں کو۔ تو یہ العباد میں جو الف لام آیا یہ کون سا ہے؟ الف لام استغراقی ہے تو اس تمام کے ساتھ ترجمہ ہوگا۔ تو کیا ترجمہ میں نے کیا إن الله بصیر بالعباد بے شک اللہ دیکھنے والے ہیں تمام بندوں کو۔ اور زیادہ بہترین ترجمہ کر لیں بھئی۔ إن الله بصیر بالعباد بے شک اللہ دیکھ رہے ہیں تمام بندوں کو۔ فوقاه الله سیئات ما مكروا۔ وقى يقي کے معنی بچانے کے۔ فوقاه۔ پھر بچا لیا اس کو۔ یہاں ضمیر کس کو راجع ہے؟ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ ضمیر اس رجل مومن کو راجع ہے پس بچا لیا اس رجل مومن کو اللہ نے۔ وہ جو فرعون والے لوگ جو تھے وہ بری جو تدبیریں کر رہے تھے اللہ نے اس مرد مومن کو ان تدبیروں سے بچا لیا۔ بعض مفسرین نے لکھا کہ یہ ضمیر جو ہے یہ لوٹ رہی ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو۔ فوقاه الله یہ سارا مشورہ کی جو بات چلی اور شروع ہوئی تھی فرعون نے شروع کی کس کے بارے میں شروع کی تھی؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہی میں شروع اسی کے درمیان میں اس رجل مومن نے اپنی تقریر کی اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی تو یہ ہاں ضمیر کہتے ہیں حضرت موسی علیہ السلام کو راجع فواقہ اللہ تو بچا لیا ان کو یعنی حضرت موسی علیہ السلام کو سیئاتی ما مکروا سیئاتی ما مکروا یہ سیئات بھئی یہ اس وقت منسوب ہے بھئی کیا ہے؟ یہ کسرہ جو ہے یہ دراصل اس کا نصب اتا ہی اس شکل میں ہے کسرہ کی صورت میں کیونکہ یہ کون سا صیغہ ہے؟ جمع مونث سالم، جمع مونث سالم کا نصب کس شکل میں اتا ہے؟ کسرہ کی صورت میں تو سیئات برائیاں، ما مکروا وہ جو تدبیریں کر رہے کی تھیں انہوں نے فواقہ اللہ سیئاتی ما مکروا پس بچا لیا ان کو اللہ نے سیئاتی ما مکروا وہ جو انہوں نے تدبیریں کی تھیں ان کی برائی سے یعنی اس کے ضرر سے، ان کے نقصان سے پس اللہ نے موسی علیہ السلام کو بچا لیا ان کی تدبیروں کے ضرر سے وحاق با ال فرعون اور نازل ہوا فرعون والوں پر ال فرعون بھئی ال کا لفظ گزشتہ پہلے بھی گزرا تھا، میں نے بتلایا تھا کہ ال کسے کہتے ہیں؟ کسی شخص کے متبعین اسی طرح اس کے خاندان والے، قوم والے تو یہاں ال فرعون کا کیا ترجمہ کر لیں؟ فرعون والے یا فرعون کے لوگ یا فرعون کے متبعین جو بھی آپ ترجمہ کر لیں وحاق با ال فرعون سوء العذاب اور نازل ہوا فرعون کے لوگوں پر سوء العذاب برا عذاب فرعون کے لوگوں پر برا عذاب نازل ہوا بھئی جیسا کہ آپ سن چکے ہوں گے پڑھ چکے ہوں گے کہ وہ حضرت موسی علیہ السلام کے پیچھے، ان کی قوم کے پیچھے پورا لشکر لے کر گیا اور حضرت موسی علیہ السلام کے لیے اللہ نے سمندر میں راستے بنا دیے، حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر ان میں سے گزرے، فرعون نے بھی راستوں کو دیکھا تو پورا لشکر اپنا ان کے پیچھے ڈال دیا انہی راستوں پر اور پھر جب بیچ میں وہ پہنچے فرعون کے لشکر والے اور ادھر حضرت موسی علیہ السلام کی قوم والے آخری شخص بھی نکل گیا تو اللہ نے سمندر کو پھر ملنے کا حکم دے دیا اور چنانچہ وہ سارے اسی کے اندر غرق ہو گئے بھئی تو اللہ فرما رہے ہیں فواقہ اللہ پس اللہ نے موسی علیہ السلام کو بچا لی, یعنی ان کو بھی ان کی ساری قوم بھی جو ان کے ہمراہ تھی اور اس مرد مومن کو بھی ان کے ساتھ بھئی فواقہ اللہ سیئاتی ما مکروا پس بچا لیا ان کو اللہ نے سیئاتی ما مکروا وہ جو تدبیریں کی تھیں انہوں نے ان کے ضرر سے، ان کی تو پس اللہ نے بچا لیا ان کو ان لوگوں کی تدبیروں کے ضرر سے وحاق با ال فرعون سوء العذاب اور نازل ہوا فرعون کے لوگوں پر برا عذاب النار یعرضون علیھا غدوا و عشیا اگ پیش کی جاتی ہے ان پر علیھا ان پر نہیں یعرضون وہ پیش کیے جاتے ہیں النار آگ یعرضون کہ وہ پیش کیے جاتے ہیں وہ لوگ جو فرعون کے لوگ ہیں وہ لوگ پیش کیے جاتے ہیں علیھا آگ پر غدوا و عشیا صبح کے وقت اور شام کے وقت النار یعرضون علیھا آگ کہ وہ پیش کیے جاتے ہیں آگ پر صبح کے وقت اور شام کے وقت ویوم تقوم الساعة اور جس دن قائم ہوگی قیامت یعنی اس وقت بھی وہ اگ پر پیش کیے جائیں گے ویوم تقوم الساعة اور جس دن کی قیامت قائم ہوگی ادخلوا ال فرعون اشد العذاب تو یہ حکم ہوگا اللہ کی طرف سے ادخلوا ال فرعون داخل کر دو فرعون کے لوگوں کو اشد العذاب سخت ترین عذاب میں, داخل کر دو فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے؟ النار یعرضون علیھا آگ کہ وہ لوگ پیش کیے جاتے ہیں اس آگ پر غدوا و عشیا صبح اور شام یہ آیت ان آیتوں میں سے ہے جس سے استدلال کیا جاتا ہے عذاب قبر پر بھئی کس پر استدلال کیا جاتا ہے؟ عذاب قبر پر کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عذاب قب عذاب قبر برحق ہے ویوم تقوم الساعة آگے وہ قیامت کا الگ ذکر آ رہا ہے معلوم ہوا اس سے پہلے ہی صبح اور شام ان کو کس پر پیش کیا جاتا ہے؟ آگ پر بھئی یعنی عالم برزخ میں کس میں؟ عالم برزخ میں، انسان کے مرنے کے بعد قیامت تک کا جو عالم ہے اس کو عالم برزخ کہا جاتا ہے مرنے کے بعد سے لے کر قیامت تک کا جو عالم ہے اسے عالم برزخ کہا جاتا ہے تو ان کو پیش کیا جاتا ہے آگ پر صبح اور شام یعنی صبح اور صبح شام ان کو جہنم میں ان کا ٹھکانہ دکھلایا جاتا ہے یا تو یہ معنی عذاب تو ہے اور ساتھ ان کو جہنم میں جو ان کا ٹھکانہ ہے وہ بھی ان کو صبح اور شام دکھایا جاتا ہے تاکہ ان کا غم اور بڑھ جائے بھئی کہ ابھی بھی عذاب میں ہیں اور آگے بھی سخت ترین عذاب ہمارا انتظار کر رہا ہے جیسے مومن شخص کو صبح شام جنت میں اس کا جو ٹھکانہ ہے وہ قبر میں دکھایا جاتا ہے بھئی یا معنی یہ ہے النار یعرضون علیھا کہ وہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں صبح اور شام کہ یعنی آگ کا عذاب دیا جاتا ہے ان کو صبح اور شام اور صبح اور شام کا یہ معنی نہیں کہ صبح کے وقت عذاب دیا جاتا ہے اور پھر شام کے وقت وہ مراد دوام ہے بھئی کیا مراد ہے؟ دوام کہ ہر وقت ان کو آگ کا عذاب دیا جا رہا ہے، آگ کا عذاب اور آپ بھی اپنے کلام میں اس طرح استعمال کرتے ہیں دوام کے لیے صبح اور شام کو ذکر کر دیتے ہیں کسی سے مثلاً کہتے ہیں کہ بھئی وہ کام تو میں صبح شام کر رہا ہوں کیا معنی ہوتا ہے؟ یعنی ہر وقت میں اسی میں لگا ہوا ہوں ویوم تقوم الساعة اور جس دن کی قیامت قائم ہوگی ادخلوا تو یہ حکم ہوگا ادخلوا ال فرعون اشد العذاب داخل کرو فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں و اذ یتحاجون فی النار اور جس وقت وہ جھگڑا کریں گے تحاج کون سا باب ہے؟ باب تفاعل، اور باب تفاعل جانبیں سے فعل کو چاہتا ہے تو یتحاجون کا کیا معنی؟ وہ ایک دوسرے سے جھگڑے گے، آپس میں جھگڑے گے باہم جھگڑے گے جو بھی آپ ترجمہ کر لیں و اذ یتحاجون فی النار اور جس وقت وہ ایک دوسرے سے جھگڑے گے آگ میں یا یوں ترجمہ کر لیں اور جس وقت وہ آپس میں جھگڑے گے آگ میں فیقول الضعفاء تو کہیں گے کمزور للذین استکبرو ان سے جو تکبر کرتے تھے ان میں جو کمزور ہیں وہ جو بڑے تھے جو تکبر متکبرین تھے ان سے کہیں گے جہنم کے اندر فیقول الضعفاء للذین استکبرو تو کہیں گے کمزور ان سے جو غرور کرتے تھے انا کنا لکم تبعا تبع بمعنی تابع کے واحد اور جمع دونوں کے لیے یہ اسی طرح تبع کا لفظ استعمال ہوتا ہے تبع کا لفظ استعمال ہوتا ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آپ پڑھتے ہیں تابعی اور تبع تابعی تو وہاں یہ وہی لفظ ہے بھئی واحد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور جمع کے لیے بھی بمعنی تابع کے تو کہیں گے وہ جو کمزور ہیں للذین استکبرو ان سے جو غرور کرتے تھے انا کنا لکم تبعا کہ بے شک ہم تمہارے تابع تھے ہم تو بے شک ہم تو تمہارے تابع تھے تمہارے پیچھے چلنے والے لوگ تھے فہل انتم مغنون عنا فہل انتم پس کیا تم مغنون عنا کفایت کرنے والے ہو عنا ہم سے اغنا یغنی کے معنی ہوتے ہیں بے نیاز کرنا اغنا یغنی کا کیا معنی ہے؟ بے نیاز کرنا فہل انتم مغنون عنا پس کیا تم بے نیاز کرنے والے ہو، بے نیاز کرو گے عنا ہم سے یعنی کیا تم کفایت کرو گے عنا ہماری طرف سے نصیب من النار ایک حصہ من النار آگ میں سے یا یوں ترجمہ کر لیں فہل انتم مغنون عنا پس کیا تم کافی ہو جاؤ گے عنا ہماری طرف سے نصیب من النار آگ کے حصے سے ہم وہ بھئی ضعیف کہیں گے تب غرور کرنے والوں سے کہ دنیا میں دیکھو ہم تمہارے پیچھے چلا کرتے تھے ہر بات میں اور تمہارے پیچھے چلنے ہی نے ہمیں یہاں تک بھی پہنچایا تو کیا تم اب ہم سے آگ کا کچھ حصہ دور کر لو گے؟ خود اپنے اوپر لے لو گے اس کو؟ فہل انتم مغنون عنا نصیب من النار پس کیا تم دور کر دو گے ہم سے آگ کا ایک حصہ قال الذین استکبرو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے غرور کیا جنہوں نے تکبر کیا انا کل فیھا بے شک ہم سب اسی میں ہیں وہ کیا کہیں گے تو غرور کرنے والے؟ کہ بے شک ہم سب اسی جہنم ہی میں ہیں ان اللہ قد حکم بین العباد بے شک اللہ تعالی تحقیق فیصلہ فرما چکے تمام بندوں میں بے شک اللہ تعالی فیصلہ فرما چکے تمام بندوں میں وقال الذین فی النار اور کہیں گے وہ لوگ جو اگ میں ہیں لخزنة جھننما خزنہ جمع ہے خازن کی کس کو کہتے ہیں؟ محافظ کو اور نگران کو تو وہ کہ وہ کہیں گے وہ لوگ جو اگ میں ہیں لخزنة جھننما جہنم کے نگرانوں سے ادعو ربکم کہ تم دعا کرو اپنے پروردگار سے یخفف عنا خفف یخففو کے کیا معنی؟ ہلکا کرنا یخفف عنا کہ وہ ہلکا کر دے ہم سے یوما کسی دن من العذاب عذاب میں سے جہنمی جہنم کے نگران فرشتوں سے کہیں گے کہ تم اپنے پروردگار سے دعا کرو یخفف عنا یوما من العذاب کہ کسی دن تو ہم سے عذاب کو ہلکا کر دے کہ کسی دن سے عذاب کو ہلکا کر دے ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ وقال الذین فی النار اور کہیں گے وہ لوگ جو اگ میں ہیں لخزنة جھننما جہنم کے نگرانوں سے، جہنم کے نگران فرشتوں سے ادعو ربکم کہ تم دعا کرو اپنے پروردگار سے یخفف عنا یوما من العذاب کہ ہلکا کر دے کسی روز کو ہم سے عذاب کو قالو وہ کہیں گے اولم تکن تاتیکم رسلکم بالبینات اولم تکو یہ تکو اصل میں کیا تھا؟ تکون پھر و کس کی وجہ سے گر گیا؟ لم کی وجہ سے بھئی جزم حالت جزم میں و گر جاتا ہے تو کیا بن گیا؟ تکن اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ کبھی کبھار آخر سے تخفیف کرتے ہوئے عربی میں نون کو بھی گرا لیا جاتا ہے تو تکو رہ گیا لم تکو قالو وہ کہیں گے وہ فرشتے جواب میں کہیں گے بھئی اولم تکو کیا نہیں تھے تم تاتیکم رسلکم بالبینات کہ آتے تھے تمہارے پاس تمہارے پیغمبر بالبینات واضح دلیلوں کے ساتھ اور اتا یاتی کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ آنے کے اور اس کا صلہ باہ آ جائے تو پھر کیا معنی کرتے ہیں؟ لانے کے پھر متعدی والا ترجمہ کرتے ہیں کیونکہ باہ تعدیہ کا فائدہ دیتا ہے قالو وہ فرشتے ان سے کہیں گے اولم تکن تاتیکم رسلکم بالبینات کیا نہیں لاتے تھے تمہارے رسول تمہارے پاس واضح دلیلیں کیا تمہارے رسول تمہارے پاس واضح دلیلیں لے کر نہیں آتے تھے؟ قالو بلا وہ کہیں گے کیوں نہیں وہ کہیں گے کیوں نہیں یعنی وہ دلائل لے کر آتے تھے قالو فدعو تو فرشتے کہیں گے ان سے پھر قالو تو فرشتے ان سے کہیں گے فدعو سو پھر دعا کر پھر تم دعا کرو وہ فرشتوں سے کہہ رہے ہیں نا کہ تم اللہ سے دعا کرو ہم سے کسی روز تو عذاب کو ہلکا کر دے تو فرشتے جواب میں کیا کہہ رہے ہیں کہ کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے تھے واضح دلیلیں لے کر دنیا میں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں آتے تھے تو فرشتے اب کہیں گے قالو فدعو وہ کہیں گے فدعو تو پھر تم دعا کرو یعنی فرشتے کہیں گے کہ وہ انہوں وہ فرشتوں سے کہیں گے کہ ہم دعا کرو اللہ ہم سے اس کبھی تو عذاب کو ہلکا کر دے تو فرشتے کہیں گے کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے ہمارا کام سفارش کرنا نہیں ہے، سفارش کرنا تو پیغمبروں کا کام ہے، کیا وہ تمہارے پاس نہیں آتے تھے دنیا میں؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں آتے تھے لیکن ہم نے ان کی بات نہیں مانی تو فرشتے پھر انہیں کہیں گے پھر خود دعا کرتے رہو، ہم دعا نہیں کر سکتے، ہم سفارش نہیں کر سکتے قالو فدعو تو وہ کہیں گے فدعو پھر دعا کرتے رہو یا پھر دعا کرو وما دعاء الکافرین الا فی ضلال اور نہیں ہوگی کافروں کی دعا الا فی ضلال مگر گمراہی میں کافروں کی دعا تو گمراہی ہی میں ہوگی یعنی بے اثر ہی رہے گی کافروں کی دعا تو بے اثر ہی رہے گی ضائع ہی رہے گی وما دعاء الکافرین الا فی ضلال اور کافروں کی دعا تو بے اثر ہی رہے گی چلیے بس بھئی یہ ہا هو المراد والله اعلم بحقیقت الکلام