اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم قل یا عباد الذین امنوا اتقوا ربکم للذین احسنوا فی هذه الدنیا حسنه و ارض الله واسعه انما یوف الصابرون اجرهم بغیر حساب قل یا عباد الذین قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے یا عبادی یہاں یا حذف ہوئی ہے بھئی دال کا کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے یا عباد الذین امنوا اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو اتقوا ربکم تم ڈرو اپنے پروردگار سے للذین احسنوا وہ لوگ جنہوں نے نیکی کی احسنہ کے معنی نیکی کرنے کے للذین احسنوا فی هذه الدنیا وہ لوگ جنہوں نے نیکی کی اس دنیا کے اندر ان کے لیے حسنہ اچھا ہے بھلائی ہے للذین احسنوا فی هذه الدنیا حسنہ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اچھائی کی نیکی کی اس دنیا کے اندر ان کے لیے بھلائی ہے معنی سمجھ میں آیا بھئی کہ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان لوگوں کے لیے بھلائی ہے بھئی آخرت میں تو فی هذه الدنیا کو احسنوا سے جوڑا بھئی احسنوا فی هذه الدنیا جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی بعضوں نے فی هذه الدنیا کو حسنہ سے جوڑا للذین احسنوا وہ لوگ جنہوں نے نیکی کی ان کے لیے فی هذه الدنیا حسنہ اس دنیا میں بھلائی ہے اس دنیا میں بھی یعنی انہیں اس کا بدلہ دیا جاتا ہے آخرت میں تو دیا ہی جائے گا و ارض الله واسعه اور اللہ کی زمین وسیع ہے یہ اس وقت ہم سورہ زمر پڑھ رہے ہیں اور یہ مکی سورت ہے یعنی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور یہ وقت مسلمانوں کے لیے بڑی تکلیف اور سختی کا تھا ہر طرف سے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے تو اللہ فرما رہے ہیں و ارض الله واسعه اللہ کی زمین وسیع ہے یعنی اے مسلمانوں اگر یہاں تمہیں تنگ کیا جاتا ہے تکلیف دی جاتی ہے اور دین پر عمل نہیں کرنے دیا جاتا تو اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے یہاں سے کسی اور طرف جا سکتے ہو جہاں تم آسانی سے دین پر عمل کر سکو معنی سمجھ میں آگیا بھئی و ارض الله واسعه اور اللہ کی زمین وسیع ہے انما یوف الصابرون اجرهم بغیر حساب انما یوف الصابرون وفی یوفی کا معنی بدلہ دینا انما یوف الصابرون بدلہ دیا جائے گا صبر کرنے والوں کو اجرہم ان کا اجر یعنی ان صبر کرنے والوں کو ان کا اجر دیا جائے گا بغیر حساب بغیر حساب کے یعنی صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب اجر ان کو دیا جائے گا بھئی صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا بھئی اور انما آیا بھئی انما انما حصر پیدا کرتا ہے اور تو یہاں جز اخیر میں حصر آئے گا بغیر حساب کے اندر بھئی انما یوف الصابرون اجرهم بغیر حساب صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب ہی دیا جائے گا بھئی صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب ہی دیا جائے گا بھئی بھئی اللہ فرما رہے ہیں و ارض الله واسعه اللہ کی زمین وسیع ہے اگر یہاں دین پر تمہیں صحیح طرح عمل نہیں کرنے دیا جاتا تو اللہ کی زمین وسیع ہے کسی اور طرف چلے جاؤ جہاں پر آسانی سے دین پر عمل کر سکو اور چونکہ یہاں سے جاؤ گے تو اپنا وطن چھوڑنا پڑے گا اپنے عزیز رشتہ دار سب کچھ اپنا مال یہاں چھوڑ کر جانا پڑے گا تو اس پر تکلیف آئے گی تو اس تکلیف پر صبر کرنا صبر کرنے والوں کو تو اللہ بے حساب اجر دے گا بھئی انما یوف الصابرون اجرهم بغیر حساب صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب ہی دیا جائے گا قل انی امرت ان اعبد الله مخلصا له الدين قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے انی امرت بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے ان اعبد الله کہ میں اللہ کی عبادت کروں مخلصا له الدين خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے دین کو قل انی امرت ان اعبد الله مخلصا له الدين اے پیغمبر آپ فرما دیجیے بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو دین کا کیا معنی عبادت بھئی اسی کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے میں اس اللہ کی عبادت کروں یہ مجھے حکم دیا گیا ہے و امرت ان اکون اول المسلمین اور مجھے حکم دیا گیا ہے یہ کہ میں ہو جاؤں پہلا فرمانبردار یہ کہ میں ہو جاؤں اول المسلمین فرمانبرداروں میں سے پہلا یعنی پہلا فرمانبردار ہو جاؤں معنی سمجھ میں آگیا بھئی بھئی پہلے فرمانبردار بھئی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی تو سب سے پہلے آپ ہی اس پر عمل کرنے والے ہوتے یا یوں کہیں اس امت کے اندر سب سے پہلے فرمانبرداری کرنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں بھئی تو یہ تو اس عالم شہادت کے اندر ہے بھئی عالم شہادت کے اندر اس امت کے اندر سب سے پہلے فرمانبردار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور عالم غیب میں اولین و آخرین میں سے سب سے پہلے فرمانبرداری کرنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں بھئی و امرت ان اکون اول المسلمین اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا فرمانبردار ہو جاؤں یا یوں ترجمہ کر لیں جیسا لفظی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار میں ان میں سے پہلا ہو جاؤں جو فرمانبرداری کرنے والے ہیں و امرت ان اکون اول المسلمین اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا فرمانبردار ہو جاؤں یا یہ معنی کا ترجمہ کر لیں و امرت ان اکون اول المسلمین اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے پہلا ہو جاؤں قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے انی اخاف بے شک میں ڈرتا ہوں ان عصیت ربی اگر میں نافرمانی کروں اپنے پروردگار کی تو میں ڈرتا ہوں کس سے عذاب یوم عظیم بڑے دن کے عذاب سے میں ڈرتا ہوں بڑے دن کے عذاب سے قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ بے شک میں اگر اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں ڈرتا ہوں عظیم دن کے عذاب سے قل الله اعبد مخلصا له الد مخلصا له دینی اے پیغمبر آپ فرما دیجیے الله اعبد لفظ اللہ منصوب ہے یہ مفعول واقع ہو رہا ہے اعبد کے لیے اور مفعول مؤخر ہو اعبد الله تو معنی ہوگا میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور مفعول کو مقدم کر دیا گیا تو تقدیم ما حقہ تاخیر يفید الحصر والقصر والتخصيص حصر قصر تخصیص کا ایک ہی معنی ہے بھئی جو بھی آپ استعمال کر لیں تو لہذا اب حصر آگیا اب کیا معنی کریں گے میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں قل الله اعبد اے پیغمبر آپ فرما دیجیے میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں مخلصا له دینی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنی عبادت کو فعبدو ما شئتم من دونہ پس تم عبادت کرو ما شئتم جو جس کی تم چاہو من دونہ اس اللہ کو چھوڑ کر بھئی یہ بطور ڈانٹ کے بطور دھمکی کے فرمایا جا رہا ہے بھئی یہ معنی نہیں کہ ان کو اجازت ہے اب جس کی چاہیں عبادت کریں بلکہ یہ بطور دھمکی کے ہے کہ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے عبادت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے فعبدو ما شئتم من دونہ پس تم عبادت کرو اللہ جس کی تم چاہتے ہو اللہ کو چھوڑ کر اللہ کو چھوڑ کر تم جس کی عبادت کرنا چاہتے ہو اس کی عبادت کرو آخر میں تمہیں خود معلوم ہو جائے گا جس راستے پر تم جیمے ہوئے ہو اور اسے چھوڑنا ہی نہیں چاہتے اس کا انجام تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا قل ان الخاسرین الذین خسروا انفسهم خسر یفخسر و کے معنی ہوتے ہیں تجارت میں نقصان اٹھانا تجارت میں نقصان اٹھانا خاسر تجارت میں نقصان اٹھانے والا یا یوں کہیں گھاٹے کا سودا کرنے والا خاسر کسے کہیں گے گھاٹے کا سودا کرنے والا आगे आ रहा है خسرو انفسهم جب خسیرہ کا مفعول ذکر ہو خسیر الشیئا خسیر زید شیئا تو معنی ہوتا ہے اس چیز کا ہاتھ سے نکل جانا اس چیز کو کھو دینا اس کو ہار بیٹھنا خسیر زید المال زید مال کو مال زید کے ہاتھ سے نکل گیا بھئی مال زید کے ہاتھ سے یعنی زید نے مال کو کھو دیا زید مال کو ہار بیٹھا معنی سمجھ میں آگیا بھئی اب دیکھیے ترجمہ بھئی قل ان الخاسرین الذین بھئی دیکھیے الخاسرین یہ ان کا اسم ہے اور الذین خسروا یہ آگے اس کی خبر ہے بھئی اور مبتدا اسم یعنی ان کا یہ بھی معرفہ اور آگے خبر بھی معرفہ اور مبتدا کے ساتھ خبر بھی معرفہ ہو تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتے ہیں حصر کا فائدہ دیتے ہیں تخصیص کا قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ان الخاسرین کہ بے شک گھاٹے کا سودا کرنے والے تو الذین وہی لوگ ہیں دیکھو یہ حصر والا معنی آ گیا کہ بے شک گھاٹے کا سودا کرنے والے تو وہی لوگ ہیں الذین خسروا انفسهم واهلیهم یوم القیامه جو جو اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو ہار بیٹھیں گے یوم القیامتی قیامت والے دن ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی اسی لیے میں نے خسیرہ کا بتلایاہ خسیرہ کا معنی ہے تجارت میں نقصان اٹھانا گھاٹے کا سودا کرنا اور آگے اس کے ساتھ مفعول ہو تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے کہ وہ چیز اس شخص کے ہاتھ سے نکل جائے بھئی قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے ان الخاسرین الذین کہ بے شک گھاٹے کا سودا کرنے والے تو وہی لوگ ہیں الذین خسروا انفسهم واهلیهم یوم القیامه جو ہار بیٹھیں گے اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن اپنی جانوں کو بھی ہار بیٹھیں گے بھئی جہنم میں ان کو ڈال دیا جائے گا اور اپنے گھر والوں کو بھی ہار بیٹھیں گے یعنی وہ اگر ایمان لاتے تو ان کے لیے جنت میں حوریں ہوتیں وہ ان کے گھر والے تو ان کو بھی اپنے اس شرک کی وجہ سے وہ ان کو قیامت کے دن کھو بیٹھیں گے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی یا اس لیے کہ بھئی قیامت کے دن جہنم میں ڈالا جائے گا تو اگر جنت میں جاتے تو ان کے بیویوں ان کے پاس ہی رہتیں وہ بھی ایمان والی اگر ہوتیں لیکن اب جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو ان کو کھو بیٹھیں گے بھئی الا ذلک هو الخسران المبین الا حرف تنبیہ ہے یاد رکھو ذلک هو الخسران المبین یہی واضح گھاٹا ہے یہی واضح نقصان ہے الا ذلک هو الخسران المبین یاد رکھو یہی کھلا کھلا نقصان ہے یہی کھلا نقصان ہے لهم من فوقهم ظلل من النار ومن تحتهم ظلل ظلل یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ ظلل جمع ہے ظلہ کی بھئی اور ظلہ سائبان کو کہتے ہیں وہ چیز جو سایہ کرنے والی ہو جس شکل میں بھی ہو چاہے بڑے پہاڑ کی صورت میں ہے اور چاہے بادل وغیرہ کی صورت میں ہے یہ سب چیزیں اس میں آ جائیں گی بھئی سایہ کرنے والی تو اللہ فرما رہے ہیں لهم من فوقهم ظلل ان کے لیے ان کے اوپر کس سے بھی سائبان ہوں گے من النار آگ کے ومن تحتهم ظلل اور ان کے نیچے بھی سائبان ہوں گے بھئی یعنی وہ آگ کے بڑے بڑے شعلے جو پہاڑوں کی صورت میں ہوں گے وہ انہوں نے ان کو گھیر رکھا ہوگا اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی لهم من فوقهم ظلل من النار ان کے لیے ان کے اوپر سے بھی آگ کے سائبان ہوں گے ومن تحتهم ظلل اور ان کے نیچے سے بھی سائبان ہوں گے ذلک يخوف الله به عباده ذلک یہی وہ چیز ہے يخوف الله به کہ ڈراتے ہیں اللہ بھی اس کے ذریعے عباده اپنے بندوں کو یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے اللہ ڈراتے ہیں اپنے بندوں کو ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی ذلک يخوف الله به عباده یہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے بھی جس کے ذریعے ذلک يخوف الله به یہی وہ چیز ہے کہ ڈراتے ہیں اللہ جس کے ذریعے عباده اپنے بندوں کو یا عبادی فاتقون يا عبادی دیکھو یہاں یا حذف ہوئی ہے دال کا کسرہ دلالت کر رہا ہے فاتقونی یہاں پر بھی یا حذف ہوئی ہے بھئی يا عبادی فاتقون اے میرے بندو پس تم مجھ سے ڈرو يا عبادی فاتقون اے میرے بندو پس تم مجھ سے ڈرو والذین اجتناب الطاغوتا اور وہ لوگ جنہوں نے اجتناب کیا طاغوت سے طاغوت شیطان کو بھی کہتے ہیں اسی طرح ہر باطل چیز اسے بھی طاغوت کہا جاتا ہے بھئی طاغوت شیطان کو بھی کہتے ہیں اور ہر باطل چیز کو بھی طاغوت کہا جاتا ہے چاہے وہ باطل معبود ہو یا کوئی اور باطل چیز والذین اجتناب الطاغوتا اور وہ لوگ جنہوں نے اجتناب کیا طاغوت سے یعنی جو طاغوت سے بچتے رہے ان يعبدواها یہ کہ اس کی عبادت کریں و انابو الی الله اور رجوع کیا انہوں نے اللہ کی طرح لھم البشرى۔ انہی کے لیے خوشخبری ہے، ان کے لیے خوشخبری ہے۔ والذین اجتناب طاغوت ان یعبدواھا اور وہ لوگ جنہوں نے اجتناب کیا طاغوت سے، یا یوں کہیں شیطان سے کہہ لیں، یا باطل معبود کہہ لیں۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اجتناب کیا شیطان سے ان یعبدواھا یہ کہ اس کی عبادت کریں و انابو الی اللہ اور رجوع کیا اللہ کی طرف لھم البشرى ان کے لیے خوشخبری ہے فبشر عبادی۔ ای فبشر عبادی۔ دال کا کسرہ بتلا رہا ہے یہاں یا حذف ہوئی ہے۔ فبشر عبادی، پس اے پیغمبر آپ خوشخبری دے دیجیے عبادی میرے بندوں کو۔ بھئی والذین اجتناب طاغوتا اور وہ لوگ جنہوں نے اجتناب کیا شیطان سے، اگر طاغوت کا معنی شیطان کے کر لیں، اور وہ لوگ جنہوں نے اجتناب کیا شیطان سے ان یعبدواھا کہ اس کی عبادت کریں، یعنی اس کی عبادت سے جو بچے جنہوں نے اس کی عبادت نہیں کی۔ بھئی شیطان کی تو عبادت نہیں کرتے لوگ تو کس کی کرتے ہیں، یا بتوں وغیرہ کی کرتے ہیں اور بھئی وہ شیطان کے کہنے پر چونکہ کرتے ہیں تو گویا ان کی عبادت کس کی عبادت ہے؟ شیطان ہی کی عبادت ہے۔ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ۔ وہ لوگ یستمعون القول۔ سمع کے سننے کے، یستمع حروف بڑھ گئے تو معنی بھی بڑھ گیا۔ یستمعون۔ توجہ سے سنتے ہیں القول بات کو۔ الذین یستمعون القول وہ لوگ جو توجہ سے سنتے ہیں بات کو فیتبعون احسنہ، پس پیروی کرتے ہیں احسنہ اس میں سے جو بہتر ہے۔ اس میں سے جو بہترین ہوتی ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ لوگ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ، وہ لوگ جو بات کو غور سے سنتے ہیں فیتبعون احسنہ پھر اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔ یعنی مومنین جو ہیں وہ سنتے تو ہر بات ہیں اور پیروی کس کی کرتے ہیں، کس پر چلتے ہیں؟ جو ان میں سے بہترین ہوتی ہے۔ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ، وہ لوگ جو غور سے سنتے ہیں بات کو فیتبعون احسنہ پھر پیروی کرتے ہیں ان میں سے بہترین کی اولئک الذین ھداھم اللہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے و اولئک ھم اولو الباب اور یہی وہ لوگ ہیں جو عقل والے ہیں۔ الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ، وہ لوگ جو غور سے سنتے ہیں بات کو فیتبعون احسنہ پھر اس میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں، یعنی بہترین بات کی پھر پیروی کرتے ہیں اولئک الذین ھداھم اللہ، یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے و اولئک ھم اولو الباب اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔ افمن حق علیہ کلمت العذاب کیا پس وہ شخص جس پر حق ہو گیا عذاب کا کلمہ، جس پر ثابت ہو گئی عذاب کی بات۔ افمن حق علیہ کلمت العذاب، کیا پس وہ شخص جس پر ثابت ہو گئی عذاب کی بات افانت تنقذ من فی النار۔ کیا پس آپ چھڑائیں گے اس کو اگ سے، اس شخص کو جو اگ میں ہے۔ کیا آپ چھڑا سکتے ہیں اس شخص کو جو اگ میں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین مکہ کے حال پر دل میں بہت کڑھتے تھے اور آپ کو تکلیف ہوتی تھی کہ یہ ایمان نہیں لاتے! تو اللہ تعالی بطور تسلی کے فرما رہے ہیں کہ ان مشرکین مکہ میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جن پر ہماری عذاب کی بات ثابت ہو چکی ہے۔ جو اللہ نے ذکر فرمایا تھا لا املأن جھنم من الجنۃ و الناس اجمعین، ان پر ہماری، مشرکین مکہ میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جن پر ہماری عذاب کی بات ثابت ہو چکی ہے۔ ہمارے علم ازلی کے مطابق یہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے، یہ جہنمی ہیں۔ تو کیا جو شخص جہنم میں ہے آپ اس کو چھڑا سکتے ہیں؟ آپ کیوں غم کھاتے ہیں بھئی؟ یہ ہیں ہی جہنمی اور جو جہنمی ہے آپ کیا آپ اس کو چھڑا سکتے ہیں؟ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ افمن حق علیہ کلمت العذاب، کیا پس وہ شخص کہ جس پر ثابت ہو چکی ہے عذاب کی بات افانت تنقذ۔ انقذ ینقذ کے معنی چھڑانے کے ہیں۔ افانت تنقذ من فی النار، کیا پس آپ چھڑا سکتے ہیں من اس شخص کو فی النار جو اگ میں ہو؟ لاکن الذین اتقوا ربھم، لیکن وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے، جو۔ لاکن الذین اتقوا ربھم، لیکن وہ لوگ جو ڈرے اپنے پروردگار سے لھم غرف، ان کے لیے بالا خانے ہیں۔ غرف جمع ہے غرفتہ کی۔ بالا خانے کو کہتے ہیں بھئی۔ بالائی منزل، بھئی، اوپر والی منزل۔ لاکن الذین اتقوا ربھم، لیکن وہ لوگ جو ڈرے اپنے پروردگار سے لھم غرف، ان کے لیے ایسے بالا خانے ہیں۔ من فوقھا غرف، کہ ان کے اوپر اور بالا خانے ہیں۔ غرف نکرہ آیا۔ من فوقھا غرف۔ من فوقھا یہ خبر مقدم ہے، غرف مبتدا مؤخر ہے۔ تو یہ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا، اور جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے لہذا یہ اس پہلے غرف کے لیے صفت بنے گا، اور موصوف صفت سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی کا لفظ۔ تو یہ معنی ہے لھم غرف من فوقھا غرف، ان کے لیے ایسے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالا خانے ہیں۔ مبنیت۔ بنا یبنی کے معنی عربی میں ہیں تعمیر کرنے کے بھئی، بنانے کے۔ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تعمیر کرنے کے اور اردو میں یہ جو تعمیر کرتے ہیں ہے لفظ عربی میں عمر یعمر تعمیر کے معنی آباد کرنے کے ہوتے ہیں بھئی۔ تو عربی میں اردو میں ہم تعمیر کہتے ہیں لیکن یہی تعمیر کا لفظ عربی میں ہو تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے آباد کرنا۔ اور اردو میں جسے ہم تعمیر کہتے ہیں اس کے لیے عربی میں کیا لفظ ہے؟ بنا یبنی تعمیر کرنا۔ مبنیت بھئی، اس میں مفعول آیا بھئی، مبنیت تعمیر کیے ہوئے تعمیر کیے ہوئے، یعنی بنائے گئے بھئی، بنائے گئے، یعنی بھئی تیار شدہ بھئی، کیا معنی ہے؟ تیار شدہ۔ لھم غرف من فوقھا غرف مبنیت، ان کے لیے ایسے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالا خانے ہیں تیار شدہ، یعنی یہ نہیں کہ اس وقت یہ بنائے جائیں گے ان کے لیے اللہ فرما رہے ہیں یہ ابھی سے ان کے لیے تیار ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ تجري من تحتھا الانھار، بہتی ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں۔ ان کے لیے بالا خانوں پر بالا خانے ہیں بھئی، یعنی اونچے اونچے کئی کئی منزلہ بالا خانے ہیں اور ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی بھئی۔ اللہ وہ چیزیں بیان فرما رہے ہیں جو انسان کو پسند ہیں کہ بھئی دیکھو میں نے ایسے ایسے انعامات تمہارے لیے تیار کر رکھے ہیں، تم میرے راستے پر آ جاؤ اور توحید پر آؤ، عبادت صرف میرا حق ہے، کسی اور کی عبادت جائز نہیں بھئی۔ بھئی اونچی جگہ ہو، انسان اس پر بیٹھا ہو اطمینان سے، اور نیچے نہریں بہہ رہی ہوں، ٹھنڈا پانی بہہ رہا ہو، ہر طرف تاحد نگاہ حسین و جمیل بھئی سبزہ پھیلا ہوا ہو، تو یہ منظر نگاہوں کو کتنی کتنی فرحت کتنی فرحت اور سکون بخشتا ہے، کتنی لذت محسوس ہوتی ہے، یہ تو دنیا کے اندر یہ لذت ہے، جنت جس کے حسن و جمال کی کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا، وہاں کیا حال ہوگا؟ کتنی لذت ہوگی وہاں پر بھئی! اونچے اونچے کئی کئی منزلہ بالا خانے ہیں اور نیچے جنت کی نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر طرف وہ جنت کا سبزہ ہو بھئی، جنت کا سبزہ۔ لاکن الذین اتقوا ربھم، لیکن وہ لوگ جو ڈرے اپنے پروردگار سے لھم غرف من فوقھا غرف مبنیت، ان کے لیے ایسے بالا خانے ہوں گے، ایسے تیار شدہ بالا خانے ہوں گے جن کے اوپر اور بالا خانے ہیں تجري من تحتھا الانھار، بہتی ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں، وعد وعد اللہ، بھئی یہ پہلے بھی اس طرح کی آیت گزر چکی۔ وعد اللہ کس معنی میں ہے؟ ای وعد اللہ وعدا، وعد اللہ یہ مفعول مطلق ہے بھئی۔ مف وعد تو یہ اضافت فاعل کی طرف کر دی گئی بھئی۔ تو اصل میں کیا تھا؟ وعد اللہ وعدا، اللہ یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ نے وعدہ فرما لیا ہے۔ وعد اللہ یہ اللہ کا وعدہ ہے، یا یوں کہیں، اللہ نے وعدہ فرما لیا ہے، لا يخلف اللہ المیعاد۔ لا يخلف اللہ، اللہ خلاف نہیں کرتے المیعادا، وعدے کے۔ اللہ وعدے کے خلاف نہیں فرماتے، جو ایک مرتبہ اللہ وعدہ فرما دیتے ہیں اسی کے مطابق کرتے ہیں۔ لا يخلف اللہ المیعاد، اللہ وعدے کے خلاف نہیں کرتے۔ میعاد بھئی وعدہ بھئی۔ الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فسلكہ ينابيع في الارض۔ الم تر کیا تو نے دیکھا نہیں ان اللہ انزل من السماء ماء، کہ اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی، فسلکہ، سلک یسلک کے معنی چلانے کے، فسلکہ، پھر اس کو چلایا ينابيع جمع ہے ينبوع کی، ينبوع چشمے کو کہتے ہیں بھئی، پس چلایا اس کو ينابيع في الارض، زمین میں چشمے۔ زمین میں چشموں میں اس کو چلا دیا۔ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ بارش ہی کا پانی جو چشموں کی صورت میں پھر زمین سے مختلف مقامات سے نکلتا ہے، معلوم ہوا چشموں کا یہ جاری ہونے کا ایک سبب یہ بارش کا پانی ہے بھئی۔ ہو سکتا ہے اور بھی اسباب ہوں، اور کی نفی نہیں ہے یہاں پر، صرف اتنا بتایا گیا کہ اس پانی کو اللہ چشموں کی صورت میں زمین میں جاری فرما دیتے ہیں، چنانچہ یہ تجربہ بھی ہے، جس علاقے میں چشمے ہوتے ہیں ان کا اپنا تجربہ ہے کہ جب بارشیں کم ہو جائیں تو چشموں کا پانی کم ہو جاتا ہے بھئی۔ الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فسلكہ ينابيع في الارض، کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نازل فر، کہ اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی، پس چلا دیا اس کو، اس کو زمین کے چشمے، چلا دیا اس کو زمین میں چشموں، ثم یخرج بہ زرعا، پھر نکالتا ہے اللہ اس کے ذریعے، اس پانی کے ذریعے زرعا، کھیتی کو، فصلا، مختلف۔ الوانہ، الوانہ یہ فاعل ہے مختلف کے لیے، مختلفان اس میں فاعل ہے اور آپ جانتے ہیں اس میں فاعل بھی فعل کی طرح عمل کرتا ہے، صفت کے صیغے بھی فعل کی طرح عمل کرتے ہیں، جیسے فعل اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے، اپنے مفعول کو نصب دیتا ہے وغیرہ، یہ صفت کے صیغے بھی اسی طرح عمل کرتے ہیں، اور جس طرح فعل کا فاعل اس کے اندر کبھی ضمیر ہوتی ہے، کبھی اسم ظاہر۔ ضرب کہا تو اس کے اندر ہوا ضمیر ہے، اور ضرب زید کہا تو اب فاعل اس میں اسم ظاہر ہے، اب ضرب کے اندر ضمیر نہیں ہے۔ اسی طرح مختلفان یہ اس میں فاعل ہے اور اس کے لیے فاعل چاہیے، اگر الوانہ نہ ہوتا تو اسی کے اندر ہوا ضمیر فاعل ہوتی، لیکن اب آگے الوانہ اس کا فاعل اس میں ظاہر آ گیا تو اب اس کے اندر ضمیر نہیں ہوگی بھئی۔ ثم یخرج بہ زرعا، پھر نکالتے ہیں اس کے لیے، اس کے ذریعے اللہ ایسی، ایسی فصل۔ مختلفان الوانہ، کہ مختلف ہوتے ہیں اس کے رنگ بھئی۔ مختلف ہوتے ہیں اس کے رنگ۔ یعنی ایسی کھیتی نکالتے ہیں مختلفان الوانہ، کہ بدلتے ہیں اس کے رنگ۔ اس کے رنگ بدلتے ہیں بھئی، ابتدا میں کھیتی کا اور رنگ ہوتا ہے، پھر پکنے کے قریب ہوئی اور رنگ ہوا، جب پک گئی تو اور رنگ ہوا، بھئی کئی رنگ بدلتی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی، اس کے ذریعے اللہ ایسی کھیتی نکالتے ہیں جو۔ کئی کئی رنگ بدلتی ہے، یہ ترجمہ کر لیں۔ ثم یخرج بہ زرعا زرعا مختلفان الوانہ، پھر اس کے لیے نکالتے ہیں ایسی کھیتی جو کئی کئی رنگ بدلتی ہے رحمۃ اللہ۔ تو یہ معنی، یعنی ایک ہی کھیتی ہے، وہ کئی کئی رنگ بدلتی ہے یا۔ اس کے ذریعے نکالتے ہیں ایسی فصل کو مختلفان الوانہ، جس کے رنگ مختلف ہیں، یعنی فصلیں مختلف ہیں، ہر ایک کا اپنا اپنا رنگ ہے بھئی، تو دونوں ترجمے کر سکتے ہیں، پہلے ترجمے کے مطابق ایک ہی کھیتی جو کئی کئی رنگ بدلتی ہے، دوسرے ترجمے کے مطابق مختلف کھیتیاں جن کے رنگ مختلف ہیں۔ ثم تو دوسرا ترجمہ یوں کریں گے، ثم یخرج بہ زرعا مختلفان الوانہ، پھر نکالتے ہیں اس کے ذریعے ایسی کھیتیاں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، ثم یھیج، پھر وہ خشک ہو جاتی ہے، ھاج یھیج کے معنی خشک ہونا، ثم یھیج، پھر وہ خشک ہو جاتی ہے، فتراہ مصفرّا، پس تو دیکھتا ہے اس کو مصفرّا، اس حال میں کہ وہ زرد ہوتی ہے۔ پھر یعنی پھر تو اس کو زرد دیکھتا ہے، بھئی جب کھیتی پک جاتی ہے، اس کا رنگ زرد ہو جاتا ہے، ثم یجعله حطاما، حطام کا معنی ہے، ٹکڑے، چھوٹے ٹکڑے بھئی، یعنی ریزے ریزے بھئی۔ ثم یجعله حطاما، پھر اللہ اس کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔ یا یہ ترجمہ کر لیں، پھر اللہ اس کو چورا چورا کر دیتے ہیں، بھئی کھیتی جب پک گئی، جب اس میں سے دانے نکالے جاتے ہیں تو کیا کیا جاتا ہے؟ کھیتی کو چورا چورا کر دیا جاتا ہے۔ الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی فسلکہ ينابيع في الارض، پس چلا دیا اس کو، اس کو زمین کے چشموں میں، ثم یخرج بہ زرعا پھر نکالتا ہے اس کے ذریعے ایسی کھیتی مختلفان الوانہ، جو کئی کئی رنگ بدلتی ہے، ثم یھیج، پھر وہ خشک ہو جاتی ہے فتراہ مصفرّا، تو تو اسے زرد دیکھتا ہے، ثم یجعله حطاما، پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے، یا یوں کر لیں، ثم یجعله حطاما، پھر اسے ریزہ ریزہ کر دیتا ہے، ان في ذلك لذكري لولی الالباب، بے شک اس کے اندر البتہ نصیحت ہے عقل والوں کے لیے۔ بے شک اس کے اندر البتہ نصیحت ہے عقل والوں کے لیے، عقل والے اس سے بڑی نصیحت اور بڑی عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔ کہ جس طرح کھیتی، جو ہے ایک بیج سے ایک پودا اگتا ہے اور بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اپنے عروج کو پہنچتا ہے، بڑا حسین و دلکش دکھائی دیتا ہے اور پھر وہ خشک ہو جاتا ہے اور چورا چورا ہو جاتا ہے ذرہ ذرہ اور ختم ہو جاتا ہے، اور پھر، ا ختم ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان کی پیدائش ایک نطفے سے ہوتی ہے اور پھر وہ بڑھتے بڑھتے جوانی تک پہنچتا ہے، تمام قوتیں عروج پر ہوتی ہیں، بڑا حسین و جميل دکھائی دیتا ہے، لیکن پھر وقت جوں جوں گزرتا ہے، اس پر بڑھاپا آ جاتا ہے، سارا حسن و جمال، ساری قوتیں ختم ہو جاتی ہیں، اور پھر بالآخر فنا ہو کر زمین میں مل جاتا ہے، ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد اسی فصل کے بیج سے، اسی سے اللہ دوبارہ نئی فصل اگا دیتے ہیں، تو اسی طرح اللہ پھر انسان کے جو ذرات ہیں، اسی کو دوبارہ بنا کر پھر نئی زندگی اس کو دے دیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المراد، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔