مولانا، علمِ بیان ہم نے شروع کیا تھا۔ علمِ بیان میں یہ پڑھیں گے ہم کہ ایک معنی کو مختلف طریقوں سے کیسے ادا کیا جائے گا، یعنی وہ طریقے جو مختلف ہوں کس اعتبار سے؟ وضوح اور خفاء کے اعتبار سے، بھئی۔ پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بیانی… علمِ بیان والے جو ہیں انہوں نے علمِ… دلالت، دلالتِ مطابقی کو یہ کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ وضعی کہتے ہیں۔ اور دلالتِ التزامی اور دلالتِ تضمنی کو یہ کیا کہتے ہیں؟ عقلی کہتے ہیں، عقلی کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد، اب کل ہم نے پڑھا کہ شرط دلالتِ التزامی کی جو ہے وہ لزومِ ذہنی ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا لزوم تین قسم پر ہے۔ لزوم ذہن میں بھی ہوگا اور خارج میں بھی ہوگا، جیسے زوجیت کا لزوم ہے کس کے ساتھ؟ اربعہ کے ساتھ۔ جفت ہونا لازم ہے اربعہ کے ساتھ، ذہن میں بھی اور خارج میں بھی۔ خارج میں بھی یہ اس سے جدا نہیں ہو سکتا، ذہن میں بھی آپ اس کو جدا کرنے کی کوشش کر لیں، آپ اربعہ سے زوجیت کو جدا نہیں کر سکتے۔ ایک وہ لزوم ہے جو صرف ذہن کے اندر ہے، جیسے عمیٰ کے ساتھ بصر لازم ہے۔ جیسے ہی نابینا ہونے کا تصور آپ کے ذہن میں آئے گا، فوراً ہی اس کے ساتھ بینا ہونے کا تصور بھی آ جائے گا۔ اس لیے کہ نابینا ہونا کہتے ہی اس کو ہیں کہ وہ… نابینا کہتے ہی اس کو ہیں جس کی کیا تھی؟ جس میں بینائی کی، بینائی کی جس میں صلاحیت ہو، بھئی۔ اور ایک تیسرا لزومِ ذہنی ہے صرف کہ ذہن میں… ہاں، یہ تو گزر گیا، صرف خارج میں لزوم ہے، ذہن میں لزوم نہیں۔ اس کی مثال دی تھی جیسے سیاہی لازم ہے خارج میں کوّے کے ساتھ، لیکن ذہن میں لازم نہیں، بھئی۔ آپ اس کو جدا بھی کر سکتے ہیں۔ ایک ایسا کوّا تصور کر سکتے ہیں جو بالکل سبز رنگ کا ہو، بھئی، یا ایسا کوّا تصور کر سکتے ہیں جو سفید رنگ کا ہو۔ معلوم ہوا ذہن میں لزوم ہوتا تو جدائی نہ ہوتی۔ تو یہاں بتلا رہے ہیں کہ لزوم سے مراد لزومِ ذہنی ہے، خارج سے قطع نظر، خارج میں چاہے لزوم ہو، چاہے لزوم نہ ہو۔ پھر اس کے بعد یہ جو لزوم ہے، اس سے کون سا لزوم مراد ہے؟ لزومِ بیّن مراد ہے یا غیر بیّن؟ تو عند الب… علمِ بیان والوں کے نزدیک دلالتِ التزامی میں جو لزوم آتا ہے وہ کون سا ہوگا؟ جی، مطلق ہے مولانا، چاہے لازمِ بیّن ہو چاہے لازمِ غیر بیّن، جبکہ مناطقہ کے نزدیک جو لزوم ہوتا ہے وہ کون سا ہوتا ہے؟ بیّن ہوتا ہے، بیّن، بھئی۔ لازمِ بیّن اور غیر بیّن کس کو کہتے ہیں؟ لازمِ بیّن… غیر بیّن کہتے ہیں کہ صرف ملزوم اور لازم کے تصور سے عقل کو یقین نہیں ہوتا ان دونوں میں لزوم کا، جب تک… کیونکہ درمیان میں کئی واسطے ہوتے ہیں۔ جیسے کثرتِ رماد، بھئی، راکھ کا زیادہ ہونا اور سخاوت، تو سخاوت کے ساتھ راکھ کا زیادہ ہونا لازم ہے۔ لیکن اس لزوم… ان دو لازم اور ملزوم دونوں کا تصور، بھئی سخاوت ہے ملزوم اور اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ راکھ کا زیادہ ہونا۔ ان دونوں کا آپ تصور کر لیں، پھر بھی مولانا، ان دونوں میں لزوم کا یقین عقل کو نہیں ہوتا۔ کیونکہ درمیان میں کئی واسطے ہیں۔ واسطے اس طرح کہ جو زیادہ سخی ہوگا اس کے گھر مہمان زیادہ آئیں گے، مہمان زیادہ آئیں گے تو کھانا زیادہ بنے گا، کھانا زیادہ بنے گا تو لکڑیاں زیادہ جلیں گی، لکڑیاں زیادہ جلیں گی تو راکھ زیادہ ہوگی۔ تو درمیان میں تین چار واسطے آ گئے، بھئی۔ تو صرف ملزوم اور لازم کے تصور سے لزوم کا یقین نہیں ہوتا بلکہ درمیان میں واسطے ہوتے ہیں۔ اور لازمِ بیّن جو ہے، اس کے دو معنی بیان کیے تھے: ایک بالمعنی الاخص اور ایک بالمعنی الاعم۔ بالمعنی الاخص یہ تھا کہ صرف ملزوم کے تصور سے ہی عقل کو لزوم کا یقین ہو جاتا ہے۔ یعنی ملزوم کا تصور کرتے ہی فوراً کس کا تصور آتا ہے؟ لازم کا تصور آتا ہے اور عقل کو ان دونوں میں لزوم کا یقین ہوتا ہے۔ جیسے ناب… عمیٰ، مولانا، نابینا ہونا۔ جیسے ہی نابینا ہونے کا تصور ذہن میں آئے گا، فوراً کس کا؟ بینا ہونے کا تصور بھی ذہن میں آ جائے گا۔ تو صرف دیکھیے، آپ نے تصور صرف ملزوم نابینا ہونے کا کیا تھا اور ساتھ ہی لازم یعنی بصر بھی آ گیا۔ تو یہ لازمِ بیّن ہے بالمعنی الاخص۔ اور ایک لازمِ بیّن بالمعنی الاعم ہے، بھئی۔ لازمِ بیّن بالمعنی الاعم کا یہ… کہ وہ لازم ہے کہ جہاں صرف لازم اور ملزوم کا تصور ہی، غور سے سنو بھئی، جہاں صرف لازم اور ملزوم کا تصور ہی کافی ہو کس کے لیے؟ لزوم کا یقین ہونے کے لیے۔ کیا بات کافی ہو؟ صرف لازم اور ملزوم کا تصور ہی کافی ہو۔ میں نے یہ نہیں کہا ضروری ہو، یہ معنی نہیں ہے کہ دونوں کا تصور ہونا چاہیے پھر لزوم کا، بس ان دونوں کا ہی کافی ہے۔ اب چاہے بات ایک سے ہی چل جائے، چاہے کام دونوں سے چل جائے، تیسرے واسطے کی طرف جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو میں نے کہا کافی ہو، اب چاہے ایک سے چل جائے پھر بھی بات درست، مولانا، اور دو سے چل جائے پھر بھی بات درست۔ تو صرف ملزوم کے تصور سے لزوم کا یقین ہو جائے وہ بھی اس میں داخل ہوا، دونوں کے لزوم سے… دونوں کے تصور سے لزوم کا یقین ہو جائے جیسے زوجیت اور اربعہ، دونوں کا تصور کیا تو لزوم کا یقین ہو گیا۔ اور جیسے عمیٰ ہے، مولانا، اس کا تصور صرف ایک ہی چیز کا کیا تو پھر بھی لزوم کا یقین ہو گیا۔ تو لزوم کا یقین ان دو… دونوں کے تصو… ان دونوں لازم اور ملزوم کا تصور کافی ہو لزوم کے تصور… تو چاہے ایک سے ہی کا… کام چل جائے، چاہے دونوں سے۔ تو یہ عام ہے، مولانا، وہ بالمعنی الاخص کو بھی شامل ہے کیونکہ اس میں ایک ہی ملزوم سے ہی بات چلتی تھی، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ یہ معنی ہے بالاعم کا، بھئی۔ تو کہتے ہیں مولانا، مناطقہ کے… تو علمِ بیان والوں کے نزدیک لزومِ بیّن اور لزومِ غیر بیّن دونوں کو یہ شامل ہے، جبکہ مناطقہ کے نزدیک دلالتِ التزامی میں صرف کیا ہوتا ہے؟ لزومِ بیّن ہوتا ہے۔ اور کہتے ہیں مناطقہ کی اصطلاح یہاں مراد نہیں ہے، لزومِ بیّن صرف مراد نہیں ہے، ورنہ دو خرابیاں لازم آئیں گی۔ ایک تو یہ کہ بہت سے مجازات اور کنایات اس سے خارج ہو جائیں گے، مولانا۔ کس سے؟ دلالتِ التزامی سے، حالانکہ وہ بھی اس کے اندر داخل ہیں۔ دوسری خرابی یہ لازم آئے گی کہ اگر اس سے لزومِ… لازمِ بیّن مراد لیں، تو اس صورت میں تو وضوح اور خفاء میں فرق ہی نہیں رہے گا، بھئی۔ لازمِ بیّن میں تو سارے مساوی ہو جائیں گے، بھئی۔ کیا ہوں گے؟ مساوی ہوں گے سارے۔ ہر ایک لازمِ بیّن ہے تو فوراً ہی کیا ہوتا ہے؟ عقل کو ان دونوں میں لزوم کا یقین ہوتا ہے، تو ایک کی دلالت دوسرے پر آسانی سے ہو جائے گی، بھئی، تو سارے مساوی ہوں گے، تو وضوح اور خفاء نہیں رہے گا، مولانا۔ پھر انہوں نے کہتے ہیں ذہنی کی قید اس لیے لگائی کیونکہ خارج سے تعلق نہیں ہے بھئی، اس کی شرط نہیں ہے۔ جی، اور اس کے بعد علامہ ابنِ حاجب کے اعتراض کو نقل کیا، بھئی، کہ آپ نے کیا کہا کہ لزومِ ذہنی ضروری ہے، مناطقہ بھی کہتے ہیں لزومِ ذہنی چاہیے، علمِ بیان والے بھی کیا کہتے ہیں؟ لزومِ ذہنی چاہیے۔ ہاں، تفسیر میں اختلاف کرتے ہیں: لزومِ ذہنی سے کیا مراد ہے؟ ہے البتہ اس پہ دونوں کا اتفاق کہ دلالتِ التزامی میں کیا چاہیے؟ لزومِ ذہنی۔ اس میں اتفاق، لیکن پھر آگے تفسیر میں اختلاف: علمِ بیان والے کہتے ہیں بیّن بھی مراد ہے اور غیر بیّن بھی مراد ہے، اور مناطقہ کہتے ہیں صرف کیا مراد ہے؟ بیّن مراد ہے۔ تو معلوم ہوا آپ کا کہنا یہ ہے: لزومِ ذہنی ضروری ہے۔ حالانکہ علامہ ابنِ حاجب نے لکھا ہے کہ لزومِ ذہنی میں اختلاف ہے کہ دلالتِ التزامی میں لزومِ ذہنی ہے یا نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی، انہوں نے یہ جو کہا نا کہ لزومِ ذہنی میں اختلاف ہے، اس سے ان کی یہی مراد تھی جو مصنف کہنا چاہتے ہیں۔ مصنف نے جو بتلایا، بھئی، جو شرح میں علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا وہ کیا؟ کہ لزومِ ذہنی میں اختلاف اسی بات کے اندر ہے کہ یہاں لازمِ غیر بیّن مراد ہے یا بیّن مراد ہے۔ یہ معنی نہیں تھا اس ان کے یہ کہنے کا کہ لزومِ ذہنی میں اختلاف ہے کہ بعض اس کو مانتے ہیں لزومِ ذہنی کو اور بعض نہیں مانتے۔ مانتے تو سبھی ہیں لزومِ ذہنی ہے، ہاں اس کی انواع میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں دونوں مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں ایک ہی مراد ہے۔ تو بعض کہتے ہیں کہ لازمِ بیّن بالمعنی الاخص مراد ہے، مولانا، اور بعض کیا کہتے ہیں؟ مطلقاً مراد ہے، اس میں انہوں نے اختلاف ذکر کیا۔ چنانچہ مصنف نے آگے آنے والی عبارت کے ذریعے بھی اشارہ کر دیا کہ لزومِ ذہنی سے لزومِ بیّن صرف نہیں مراد، بلکہ لزومِ غیر بیّن بھی مراد۔ کیسے؟ انہوں نے کہا: ”ولو لاعتقاد المخاطب بعرف“، اگرچہ مخاطب کا اعتقاد عرف پر ہونے کی وجہ سے لزوم کیوں نہ ہو، معلوم ہوا کوئی واسطہ آ گیا، کیا آ گیا؟ واسطہ آ گیا، بھئی۔ عرف آ گیا واسطہ، مولانا، عرف نہ ہوتا تو معلوم ہوا لزوم نہ ہوتا۔ تو یہ عرف کا اعتب… عرف میں شیر کے ساتھ بہادری لازم ہے، مولانا۔ شیر کے ساتھ کیا ہے؟ بہادری لازم ہے، مولانا، تو یہ عرفِ عام کی وجہ سے اس کے ذہن میں آیا لزوم۔ تو کہتے ہیں لزوم عام ہے، چاہے عرفِ عام کی وجہ سے آئے یعنی عوام کی وجہ سے، بھئی، اور چاہے عرفِ خاص کی وجہ سے آئے۔ عرفِ خاص سے کیا مراد ہے؟ کسی خاص علم، فن یا پیشے والے لوگ، بھئی، ان کی ہر ایک کی اپنی اصطلاح ہوتی ہیں، اصطلاحات ہوتی ہیں، بھئی، ہر پیشے والوں کی۔ ہر علم والوں کی، بھئی، مناطقہ کی اپنی اصطلاحات، علمِ نحو والوں کی اپنی اصطلاحات، بازار میں آپ چلے جائیں، بھئی، جس دکان والوں کی… ان کی اپنی اپنی اصطلاحات ہوتی ہیں چیزوں کے نام وغیرہ، تو ہر ایک وہ، اس پیشے والے سب اس کو جانتے ہیں، بھئی، سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو اس کے لیے کوئی واسطہ چاہیے۔ لزومِ ذہنی غیر بیّن کے لیے واسطہ کبھی عرفِ عام ہوگا، کبھی عرفِ خاص ہوگا، کبھی اس کے علاوہ قرینہ وغیرہ یا دلالتِ مقام ہوگی، بھئی۔ پھر اس کے بعد مصنف نے آپ کو بتلایا، بھئی، کیا بتلایا؟ کہ یہ جو ہم نے بات کی تھی کہ ایک معنی کو مختلف طرق سے لانا، یہ لانا دلالتِ وضعیہ میں نہیں ہوگا، یعنی دلالتِ مطابقی میں نہیں ہوگا، بلکہ صرف کس میں ہوگا؟ دلالتِ تضمنی اور التزامی میں ہوگا۔ وجہ یہ کہ دلالتِ مطابقی کے اندر وضوح اور خفاء نہیں۔ بھئی، یہ ایک معنی ہے، بھئی، صرف ایک، اس معنی کے لیے چار لفظ وضع ہیں مثلاً، آپ ایک لفظ بولیں گے، اس کی بھی دلالت واضح ہوگی، یہ دوسرا لفظ بولیں گے، اس کی بھی دلالت کیا ہوگی؟ واضح ہوگی، تیسرا اور چوتھا بولیں گے تو سب کی دلالت مساوی ہوگی، سب کی دلالت اوضح ہوگی، کمی زیادتی کا تعلق نہیں ہوگا۔ تو اس لیے دلالتِ مطابقی اس کے اندر وضوح اور خفاء میں فرق نہیں آتا۔ تو اگر آدمی کو… تو دلالتِ مطابقی میں کیا ہوتا ہے؟ آدمی کو وضع کا پتہ ہوتا ہے۔ اگر اس کو وضع کا پتہ ہے تو چاروں لفظوں کی دلالت اپنے معنی پر کیا ہوگی؟ برابر ہوگی اور خوب ظاہر ہوگی۔ جیسے ہی آپ اسد بولیں گے فوراً کیا آئے گا؟ شیر ذہن میں۔ جیسے غضنفر بولیں گے فوراً کیا آئے گا؟ شیر۔ جیسے ہی لیث یا حارث بولیں گے تو کیا آئے گا؟ شیر ذہن میں آئے گا۔ اس لیے کہ ہر ایک کی دلالت کامل ہے، آپ کو وضع کا پتہ ہے۔ اور اگر وضع کا پتہ نہیں ہے تو پھر خفاء نہیں رہے گا، پھر تو سرے سے دلالت ہی نہیں ہوگی۔ آپ کو لیث کے معنی کا ہی نہیں پتہ ایک آدمی کو، تو اس کے سامنے لیث کہیں تو کیا اس کی دلا… اس کو شیر کا معنی سمجھ میں آئے گا؟ نہیں۔ تو یا تو اس میں معنی… وضع کا پتہ ہے تو سمجھ میں آ جائے گا، وضع کا نہیں پتہ تو سرے سے سمجھ میں ہی نہیں آئے گا۔ یہ معنی… یہ نہیں کہ کچھ ایک میں وضوح زیادہ ہے، ایک میں خفاء زیادہ ہے۔ یا تو دو ہی صورتیں ہیں: یا دلالت ہوگی یا سرے سے ہی نہیں ہوگی، بھئی۔ جی، اس کے بعد کہتے ہیں: ماتن نے جو ہے ”لم يكن كل واحد من الألفاظ دالا عليه“ کے ذریعے، مولانا، ماقبل میں ایجابِ کلی آیا تھا تو اس کی نقیض کیا لے کر آئے؟ سالبہ جزئیہ لے کر آئے۔ اس لیے کہ موجبہ کلیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ سالبہ جزئیہ۔ کہ اس کو ہر معنی کے… اس کو یہ… ورنہ ہر لفظ دلالت کرنے والا نہیں ہوگا۔ چاہے بعض ہوں، چاہے بعض بھی نہ ہوں، بس۔ ہر لفظ، اگر وضع کا پتہ ہے، ہر لفظ کی وضع کا پتہ ہے تو ہر لفظ کیا کرے گا؟ اپنے معنی پر دلالت کرے گا، اور اگر ہر لفظ کی وضع کا پتہ نہیں تو ہر لفظ اپنے معنی موضوع لہ پر دلالت نہیں کرے گا۔ اب چاہے کچھ کا پتہ ہو، کچھ کر لیں، اور چاہے کسی ایک کا بھی نہ پتہ ہو، مولانا، تو کوئی بھی نہیں کرے گا دلالت، سب کو شامل ہے۔ کیونکہ آپ نے پڑھا تھا، سلبِ جزئی میں عموم ہوتا ہے بمقابلہ کس کے؟ سلبِ کلی کے۔ کیونکہ دو صورتیں ہیں، مولانا: سلبِ کلی کے اندر ایک بھی فرد پایا گیا تو کیا ہو جائے گی؟ وہ ختم ہو جائے گی، ایجاب… ایک بھی فرد پایا گیا تو… یہ ایک بھی فرد کی نفی ہوئی، مولانا، تو ایجابِ کلی نہیں رہے گا۔ جیسے مثلاً میں کہتا ہوں: تمام انسان بیٹھے ہوئے ہیں، اب ایک بھی انسان کھڑا ہوا تو فوراً یہ ایجابِ کلی کیا ہے؟ ٹوٹ جائے گا۔ تو اس میں ایک ہی حالت ہے کہ سارے بیٹھے ہوئے ہوں۔ اور اس کے مقابلے میں سلبِ جزئی ہے، میں کہتا ہوں: بعض انسان کھڑے نہیں۔ بعض انسان کھڑے نہیں، اب چاہے س… بعض کھڑے ہوں، بعض بیٹھے ہوں تب بھی یہ کلام صادق، سارے بیٹھے ہوئے ہوں پھر بھی یہ کلام صادق۔ کیونکہ اس میں یہ تو میں نے نہیں کہا کہ بعض کھڑے ہیں، میں نے تو صرف اتنا کہا: بعض انسان کھڑے نہیں۔ تو یہ صادق آ رہا ہے دونوں حالتوں پر، تو معلوم ہوا سلبِ جزئی کے اندر کیا ہے؟ عموم زیادہ ہے۔ اس پر کسی نے اشکال کیا، بھئی، کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم نہیں کہ آپ کو وضع کا علم ہو تو مساوات رہے گی، کیا رہے گی؟ مساوات رہے گی۔ آپ نے کہا تھا دلالتِ مطابقی کے اندر یعنی دلالتِ وضعی کے اندر، جس کو علمِ بیان والے وضعی کہتے ہیں، دلالتِ وضعی کے اندر ظہور اور خفاء نہیں ہے، ساری آپس میں برابر ہیں، بھئی۔ کہتے ہیں: نہیں، بھئی، ہم خود آپ… ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایسے لفظ جن کی وضع کا ہمیں پتہ ہوتا ہے، اس کی دلالت بعض اوقات فوراً ہو جاتی ہے، بعض اوقات تھوڑا سا غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ جیسے کسی شخص کے سامنے، بھئی، زید کا بھی پتہ ہے اس کو، غضنفر کا بھی پتہ ہے، لیکن زید اکثر… اسد کا اس کو اکثر پتہ ہے، وہ اسد کا لفظ کثرت سے استعمال کرتا ہے، تو اسد کی دلالت شیر پر فوری ہو جائے گی۔ غضنفر کا اس نے دو چار سال پہلے پڑھا تھا کہ غضنفر بھی کس کو کہتے ہیں؟ شیر کو۔ اب غضنفر بھی بولا جائے، وضع کا اس کو پتہ ہے لیکن اس کی دلالت میں کئی لمحے اس کو تامل کرنا پڑے گا پھر جا کر اس کو اس کا معنی سمجھ میں آئے گا۔ اب حالانکہ دونوں دلالتِ مطابقی ہیں، لیکن ایک میں ظہور ہے اور ایک میں کیا ہے؟ خفاء۔ علامہ تفتازانی نے اس اعتراض کو رد کر دیا کہ یہ ہماری بحث سے متعلق ہی نہیں۔ اس لیے کہ ہماری بحث چل رہی ہے دلالت کے اندر، بھئی، کس کے اندر؟ اور دلالت بھی ایسی جس میں وضع کا پتہ ہو۔ جب غضنفر کی وضع آپ کے ذہن سے نکل گئی تو یوں سمجھو گویا آپ کو وضع کا پتہ ہی نہیں۔ جب وضع کا پتہ ہی نہیں ہے تو پھر تو دلالت ہی نہ ہوئی، مولانا۔ پھر تو دلالت ہی نہ ہوئی۔ اور ہم نے کہا تھا وضع کا پتہ ہو، یعنی ذہن میں حاضر ہو وضع، مولانا۔ جب ذہن میں حاضر ہوگی، اب میں جیسے ہی اسد کہتا ہوں فوراً سمجھ گئے، جیسے غضنفر کہتا ہوں فوراً سمجھ گئے، اب کوئی ظہور اور خفاء نہیں، بھئی۔ تو لہٰذا آپ کے اعتراض کا تعلق تھا وضع کے ساتھ، اور ہماری بحث چل رہی ہے کس کے اندر؟ دلالت، کہ دلالت میں ظہور اور خفاء ہوگا، اور آپ کی بات چل رہی ہے، آپ نے اعتراض کیا کہ وضع کا علم ہوگا یا نہیں ہوگا، یا بھول گیا ہوگا۔ جی، ”ويتأتى الإيراد المذكور بالعقلية“، ہاں، کیا کہا تھا؟ علمِ بیان کے اندر ایک معنی کو کیا کیا جائے گا؟ مختلف طرق سے ادا کرنے کا طریقہ سکھا… یہ علم طریقہ بتلاتا ہے، بھئی۔ اور وہ طرق مختلف ہوتے ہیں کس چیز کے اندر؟ وضوح اور خفاء کے اندر۔ ہاں، تو کہتے ہیں یہ جو ایک معنی کو مختلف طرق سے لانا، یہ جاری ہو… جاری ہوتا ہے دلالتِ عقلیہ میں۔ کس میں جاری ہوتا ہے؟ اور دلالتِ عقلیہ سے کیا مراد ہے؟ تضمنی اور التزامی۔ کیونکہ علمِ بیان والوں نے تضمنی اور التزامی دونوں کا نام کیا رکھا ہے؟ عقلیہ رکھا ہے۔ تو دلالتِ عقلیہ کے اندر یہ وضوح اور خفاء والی بات جاری ہوگی، مولانا۔ کیونکہ دلالتِ تضمنی میں کیا ہوتا ہے؟ کل بول کر جز مراد ہوتا ہے، اور دلالتِ التزامی میں ملزوم بول کر لازم مراد ہوتا ہے، تو یہ دلالتِ عقلی ہے اور اس کے اندر کبھی ظہور ہوگا اور کبھی خفاء ہوگا۔ ظہور کیسے ہوگا، مولانا؟ جیسے دلالتِ التزامی ہے، بھئی، دلالتِ التزامی۔ دلالتِ التزامی میں جوں جوں واسطے بڑھتے جائیں گے، مولانا، خفاء بڑھتا جائے گا۔ ملزوم بول کر کیا مراد لینا ہے؟ لازم۔ تو ملزوم اور لازم میں یا تو واسطہ ہوگا یا واسطہ نہیں ہوگا، یا ایک سے زیادہ واسطے ہوں گے۔ تو جوں جوں واسطے بڑھتے جائیں گے، دلالت میں کیا آتا جائے گا؟ خفاء آتی جائے گی، بھئی، خفاء آئے گی۔ کس طرح؟ دیکھو، میں تین جملے بولتا ہوں: ”زيدٌ كثيرُ الضيفان“، زید بہت مہمانوں والا ہے۔ معلوم ہوا زید سخی ہے، زید کیا ہے؟ سخی ہے۔ ہاں، کنجوس ہوگا اس کے پاس تو کوئی مہمان آئے گا ہی نہیں، ایک دفعہ غلطی سے آ جائے گا تو توبہ کرے گا پھر دوبارہ نہیں آئے گا۔ ہاں، جو سخی آدمی ہوگا وہ خوش ہوگا، اس کے پاس جتنے مہمان آئیں، بھئی۔ اور کنجوس کیا کرے گا؟ مہمان آئے تو انتظار کرے گا کب نکلے گا یہ یہاں سے۔ تو ”زيدٌ كثيرُ الضيفان“، زید کیا ہے؟ کثیر مہمانوں والا ہے۔ بھئی، اب درمیان میں کوئی واسطہ نہیں، کیونکہ جو سخی ہوگا اس کے مہمان زیادہ ہوں گے، مولانا۔ تو یہاں کثیر الضیفان لازم ہے کس کے ساتھ؟ سخاوت کے ساتھ۔ تو سخاوت ملزوم اور کثیر الضیفان کیا ہے؟ لازم ہے۔ تو لازم سے فوراً ذہن کس کی طرف گیا ہے؟ ملزوم کی طرف۔ تو مولانا، یہ لازم اس کے قریب تھا، لازم کیا تھا؟ قریب تھا۔ درمیان میں کوئی واسطہ تھا؟ نہیں۔ اب ذرا واسطہ بڑھائیں، بھئی: زید بہت لکڑیاں جلانے والا ہے۔ اب واسطہ بڑھ گیا: زید سخی ہے، کیونکہ اس کے پاس مہمان زیادہ آتے ہیں، مہمان زیادہ آتے ہیں تو اس کو کھانا زیادہ بنانا پڑتا ہے، کھانا زیادہ بنانا پڑتا ہے تو زیادہ لکڑیاں جلانا پڑتی ہیں۔ تو دیکھو، اب سخاوت میں اور اس کے اندر کیا ہوا؟ واسطے آ گئے، واسطے آ گئے۔ تو اب یہ زید زیادہ لکڑیاں جلانے والا ہے، اس زیادہ لکڑیاں جلانے نے بھی سخاوت پر دلالت کی، لیکن درمیان میں واسطے بڑھنے کی وجہ سے اب دلالت میں کیا آ گیا؟ کچھ خفاء آ گیا۔ تو وہ جو تھا کثیر الضیفان، اس کی دلالت سخاوت پر اوضح تھی، اور اس کی دلالت کچھ کیا ہے؟ کچھ اس کے مقابلے میں خفی ہے۔ پھر ایک واسطہ اور بڑھا دیتے ہیں: ”زيدٌ كثيرُ الرماد“، زید کیا ہے؟ زیادہ راکھ والا ہے۔ اب اور بڑھ گیا واسطہ، کیسے؟ زید سخی ہے، جب سخی ہے تو اس کے پاس مہمان زیادہ آتے ہیں، مہمان زیادہ آتے ہیں تو کھانا زیادہ بنتا ہے، کھانا زیادہ بنتا ہے تو لکڑیاں زیادہ جلتی ہیں، لکڑیاں زیادہ جلتی ہیں تو راکھ زیادہ ہوتی ہے۔ دیکھو، ایک واسطہ اور پیچھے ہم چلے گئے، بھئی۔ تو اب اس کی دلالت اس سے بھی زیادہ کیا ہوئی؟ خفی ہوئی، ثانی سے بھی زیادہ خفی۔ تو دلالتِ، مولانا، التزامی کے اندر ظہور اور خفاء آئے گا، کیونکہ ایک چیز کے لازم جو ہے کبھی واسطے کے ساتھ ہوگا اور کبھی بغیر واسطے کے ہوگا۔ اسی طرح دلالتِ تضمنی جو ہے، مولانا، اس کے اندر بھی ظہور اور خفاء آئے گا۔ اس لیے کہ کبھی کبھار کل کے جز پر دلالت ہے، کبھی جز کے جز پر دلالت ہے، کبھی جز کے جز کے جز پر دلالت ہوگی، اور کبھی اس سے بھی آگے جز پر دلالت ہوگی۔ مثلاً انسان، بھئی، انسان کس کو کہتے ہیں؟ حیوانِ ناطق۔ تو انسان کی دلالت صرف حیوان پر، حیوان اس کا جز ہے، صرف حیوان پر یہ واضح ہے، مولانا، کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ آگے حیوان کا جز ہے، مولانا، حیوان کس کو کہتے ہیں؟ جس میں نامی ہے، متحرک ہے، اور حساس، متحرک بالارادہ ہے اور حساس ہے۔ تو دیکھو، حیوان کا جز کیا نکلا؟ جسمِ نامی۔ اب ان… تو یہ جز کا جز ہوا: انسان کا جز حیوان، حیوان کا جز جسمِ نامی۔ تو اب انسان کی دلالت جسمِ نامی پر، اس میں کچھ خفاء ہے، کیونکہ درمیان میں ایک واسطہ آ گیا، بھئی۔ پھر اس جز کا جز ہے، مولانا: جسمِ نامی کا جز ہے جسمِ مطلق۔ کیا ہے؟ پہلے مطلق جسم ہونا، پھر اس مطلق جسم میں کیا ہو؟ نمو ہو، بڑھنا پایا جائے، بھئی۔ جیسے حیوان بڑھتا نہیں ہے، مولانا؟ درخت لگا دیں، وہ بڑھتا نہیں ہے؟ تو ایک جسمِ مطلق ہوتا ہے، عام جسم، اور ایک جسمِ نامی پھر کہ جس میں بڑھنا پایا جائے۔ تو جسمِ نامی کا جز کیا ہے؟ جسمِ مطلق۔ تو یہ جز کے جز کا جز ہوا۔ تو انسان کی دلالت جسمِ مطلق پر یہ اور خفی ہوئی۔ کیونکہ انسان کا جز ہے حیوان، حیوان کا جز ہے جسمِ نامی، جسمِ نامی کا جز کیا ہے؟ جسمِ مطلق۔ جسمِ مطلق کا جز ہے جوہر، تو اب انسان کی دلالت کس پر؟ جوہر پر، یہ اخفیٰ ہوئی، مولانا، کیا ہوئی؟ کیونکہ یہ جز کے جز کے جز کا جز ہے، مولانا۔ تو درمیان میں جوں جوں واسطے بڑھتے جائیں گے، تو دلالتِ تضمنی میں بھی ثابت ہوا خفاء اور وضوح جاری ہوتا ہے، اور دلالتِ التزامی میں بھی کیا جاری ہوتا ہے؟ وضوح اور خفاء۔ دیکھیے بھئی: ”ويتأتى الإيراد المذكور“ اور آتا ہے مذکورہ ایراد یعنی لانا، وہ جو تھا ایک معنی کو کئی طرق سے لانا، یہ جاری ہوتا ہے ”بالعقلية“، کس میں؟ دلالتِ عقلیہ میں، یعنی تضمنی اور التزامی میں، ”من الدلالات لجواز أن يختلف مراتب اللزوم في الوضوح“، دلالتوں میں سے، اس لیے کہ ممکن ہے کہ لزوم کے مراتب مختلف ہوں وضاحت کے اندر، بعض واضح ہوں اور بعض خفی ہوں۔ لزوم کے مرتبے کیا ہوں، مولانا؟ مختلف ہوں۔ اب یاد رکھو یہ جو متن میں لزوم کا لفظ آیا، اس سے کیا مراد ہے؟ دلالتِ التزامی نہیں مراد، دلالتِ التزامی بھی مراد ہے اور دلالتِ تضمنی بھی مراد ہے، اس لیے کہ دونوں میں لزوم ہے۔ بھئی، کل کے ساتھ جز لازم ہے یا نہیں، بھئی؟ ہاں، تو اس میں بھی لزوم آ گیا، اور اسی طرح ملزوم کے ساتھ بھی کیا ہے؟ ملزوم اور لازم میں بھی کیا ہے؟ لزوم ہے۔ تو دلالتِ التزامی میں بھی لزوم آ رہا ہے اور دلالتِ تضمنی میں بھی لزوم آ رہا ہے۔ دیکھیے، علامہ تفتازانی خود بتلائیں گے کہ دونوں مراد ہیں: ”أي مراتب لزوم الأجزاء للكل“، یعنی لزوم الاجزاء للکل، اجزاء کا لزوم کس کے ساتھ؟ کل کے ساتھ۔ اس کے مراتب جو ہیں ”في التضمن“، یہ کس میں ہوتے ہیں؟ تضمنی میں، یہ بھی مولانا… یعنی تضمنی میں بھی یہ مختلف ہوتے ہیں، ”ومراتب لزوم اللوازم“، اور لوازم، بھئی، کا لزوم کس کے ساتھ؟ ”للملزوم“، یہ ملزوم کرو لفظ، بھئی، یہ ملزوم ہونا چاہیے، واؤ انہوں نے نہیں لکھا۔ لوازم جمع ہے لازم کی، اور لازم کا لزوم کس کے ساتھ؟ ملزوم کے ساتھ، کس دلالت میں؟ التزامی میں۔ بھئی، ملزوم اور لازم کس میں، التزامی میں ہوتے ہیں، اور جز اور کل کس میں ہوتے ہیں؟ تضمنی میں۔ تو کہتے ہیں مراتبِ لزوم مختلف ہوں گے، لزوم چاہے جز اور کل میں ہو یعنی دلالتِ تضمنی میں ہو، یا یہ لزوم لازم اور ملزوم میں ہو یعنی دلالتِ التزامی میں ہو۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ التزامی اور تضمنی دونوں کو شامل کیا، بھئی۔ ”وهذا في الالتزام ظاهر“، اور یہ بات دلالتِ التزامی میں ظاہر ہے۔ کون سی بات؟ بھئی، جو انہوں نے کہا نا کہ لزوم کے اندر خفاء اور ظہور ہوتا ہے، کبھی ظہور ہوتا ہے اور کبھی خفاء ہوتا ہے، یہ دلالتِ التزامی میں بھی ہوتا ہے اور دلالتِ تضمنی میں بھی۔ کہتے ہیں: دلالتِ التزامی میں یہ ظاہر ہے یہ بات، کیسے؟ ”فإنه يجوز أن يكون للشيء لوازم متعددة“، اس لیے کہ جائز ہے، ممکن ہے ایک چیز کے کئی لوازم ہوں، ”بعضها أقرب إليه من بعض“، بعض اس کے قریب ہوں بعض کے مقابلے میں۔ جیسے میں نے ابھی بتایا: سخاوت کے ساتھ لازم ہے کیا؟ زیادہ مہمانوں کا ہونا، یہ بھی اس کا ایک لازم ہے۔ سخاوت کے ساتھ لازم ہے لکڑیوں کا جلانا زیادہ، یہ بھی کیا ہے؟ اس کا لازم ہے۔ سخاوت کے ساتھ لازم ہے راکھ کا زیادہ ہونا۔ لیکن ان میں سے زیادہ مہمانوں کا ہونا یہ اس کے سب سے قریب ہے، لکڑیوں کا زیادہ جلانا ذرا اس سے دور ہے، اور راکھ کا زیادہ ہونا اس سے بھی دور ہے۔ تو دیکھو، یہ ہیں سارے لازم، لیکن بعض بعض کے مقابلے میں دور ہیں، بھئی، دور ہیں۔ اس لیے کہ ممکن ہے ایک شے کے بہت سے لوازم ہوں اور بعض بعض کے مقابلے میں قریب ہوں۔ ”وأسرع انتقالا منه إليه“، اور بعض، مولانا، زیادہ تیز ہوں باعتبار انتقال ہونے، انتقال کے، ”منه“ یعنی اس شے سے، ”إليه“ ان بعضِ لوازم کی طرف، بھئی۔ ان بعضِ لوازم کی طرف، بھئی، بعض کی طرف تیزی، اس شے سے اس لازم کی طرف تیزی سے انتقال ہوتا ہے، اور بعض میں کچھ تاخیر ہوتی ہے۔ بھئی دیکھو، سخاوت سے زیادہ مہمانوں کی طرف کیا ہے؟ ذہن تیزی سے منتقل ہوتا ہے، لیکن لکڑیاں زیادہ جلانے کی طرف ذرا تاخیر لگی، اور راکھ کے زیادہ ہونے کی طرف اور زیادہ تاخیر ہوگی۔ ”فيمكن تأدية الملزوم بالألفاظ الموضوعة لتلك اللوازم“، تو لہٰذا ممکن ہے ملزوم کو ادا کرنا ایسے الفاظ کے ساتھ جو وضع کیے گئے ہیں ان لوازم کے لیے۔ تو ملزوم کو ادا کرنا، ملزوم کون تھا؟ سخاوت، ایسے الفاظ کے ساتھ جو وضع کیے گئے ہیں کن کے لیے؟ ان لوازم کے لیے، وہ لوازم کیا ہیں، مولانا؟ زیادہ مہمان ہونا، لکڑیوں کا جلانا زیادہ، اور زیادہ راکھ ہونا۔ تو یہ زیادہ راکھ کا ہونا یہ کس کے لیے وضع ہے؟ لازم کے لیے۔ زیادہ مہمانوں کا ہونا یہ بھی کیا ہے؟ لازم ہے۔ زیادہ لکڑیاں جلانا یہ بھی کیا ہے؟ لازم ہے۔ اور ملزوم کیا تھا؟ کس کے ساتھ یہ لازم ہیں؟ سخاوت کے ساتھ۔ جی، تو ادا کرنا ملزوم کا ایسے الفاظ کے ساتھ جس کو وضع کیا گیا تھا ان لوازم کے لیے، ”المختلفة الدلالة عليه وضوحا وخفاء“، کہ جس کی دلالتیں کیا ہیں، مولانا؟ مختلف ہیں اس پر، وضوح اور خفاء کے اعتبار سے، بھئی۔ تو ہر ایک کی دلالت مختلف ہے: کثیر الضیفان کی مختلف ہے، مولانا، کثرتِ احراقِ حطب کی مختلف ہے، کثیر الرماد کی مختلف ہے وضوح اور خفاء میں۔ ”وكذا يجوز أن يكون للازم ملزومات“، اور اسی طرح ممکن ہے کہ ایک لازم کے لیے کیا ہوں؟ کئی ملزومات ہوں، مولانا۔ ایک لازم کے کئی ملزومات، کیسے؟ بھئی، روشنی ہے، سورج کے ساتھ روشنی لازم ہے، لیکن اس کے اور بھی ملزوم ہیں، اور کس کے ساتھ روشنی لازم ہے؟ آگ کے ساتھ بھی روشنی لازم ہے، اور کیا ہے؟ بجلی کے ساتھ بھی روشنی، لالٹین کے ساتھ بھی روشنی، تو دیکھو لازم ایک ہی اور ملزومات کیا ہیں؟ کئی ہیں، ملزومات کئی ہیں، مولانا۔ تو کہتے ہیں ممکن ہے ایک ہی لازم کے بہت سے ملزومات ہوں۔ جی، اور ان ملزومات میں سے بعض کے ساتھ اس کا لزوم زیادہ واضح ہو بمقابلہ کس کے؟ بعض کے ساتھ۔ ”فيمكن تأدية اللازم بالألفاظ الموضوعة للملزومات المختلفة وضوحا وخفاء“، تو ممکن ہے ادا کرنا اس لازم کو، کس کے الفاظ کے ساتھ؟ وہ الفاظ جو وضع ہوئے ہیں کس کے لیے؟ بھئی، ملزوم بول کر کیا مراد لینا؟ لازم مراد لینا۔ اور وہ الفاظ مختلف ہیں، مولانا، وضوح اور خفاء میں۔ بھئی، سورج کے ساتھ بھی ایک روشنی ہے، اور ایک روشنی آگ کے ساتھ بھی ہے، اور کس کے ساتھ زیادہ تعلق ہے، بھئی؟ سورج کے ساتھ وضوح میں زیادہ ہے، آگ کے ساتھ کم۔ یا یوں کہو حرارت کر لو اور زیادہ بات آسان ہوگی: سورج کے ساتھ بھی حرارت لازم ہے، آگ کے ساتھ بھی حرارت لازم ہے، لیکن کس کے ساتھ زیادہ لزوم ہے؟ آگ کے ساتھ، بھئی۔ آگ کا تصور آتے ہی فوراً کیا آئے گا؟ حرارت کا تصور آئے گا، لیکن سورج کے ساتھ نہیں۔ ”فيمكن تأدية اللازم بالألفاظ“، اچھا، ایسے الفاظ کے ساتھ جو وضع کیے گئے ہوں گے ملزوماتِ مختلفہ کے لیے وضوح اور خفاء کے۔ تو کبھی کبھار، مولانا، دیکھیے، خلاصۂ کلام انہوں نے یہ کیا کہ ہو سکتا ہے ایک… ایک چیز کے بہت سے لازم ہوں، کس کی بات چل رہی ہے؟ دلالتِ التزامی، ایک لازم ہوگا اور ایک کیا ہوگا؟ ملزوم۔ تو کبھی کبھار ایک ہی ملزوم کے کئی لازم ہوتے ہیں، لیکن کچھ قریب ہوتے ہیں اور کچھ بعید ہوتے ہیں۔ تو قریب پر اس ملزوم کو بول کر لازم مراد لیا جائے، یا مولانا یوں کہیں: یہ کچھ قریب ہیں، یہ قریب والا بول کر یہ ملزوم مراد لینا، یہ دلالت کیا ہوگی؟ واضح۔ دور والا لازم بول کر یہ ملزوم مراد لینا کیا؟ خفی ہوگا۔ اور کبھی کبھار ملزوم بول کر لازم مراد دیا جاتا ہے، بھئی۔ تو ہو سکتا ہے ایک ہی چیز کئی… ایک ہی چیز کے کئی ملزوم ہوں جیسے روشنی ہے، اس کے کئی ملزوم ہیں، مولانا: یہ سورج کے ساتھ بھی ہے، بلب کے ساتھ بھی ہے، لالٹین کے ساتھ بھی ہے، آگ کے ساتھ بھی ہے۔ تو کبھی کبھار کیا کیا جائے گا؟ لازم بول کر کس کو مراد دیا… کیا مراد لیا جائے گا؟ ملزوم مراد لیا جائے گا۔ تو چونکہ اس کے ملزوم مختلف ہیں، بعض پر اس کا تعلق قریبی ہے، بعض کے ساتھ تعلق میں کچھ خفاء ہے، تو لہٰذا جس کے ساتھ تعلق قریبی ہے وہ کیا ہوگا؟ اس پر دلالت اس کی واضح ہوگی، اور جس کے ساتھ تعلق ذرا خفی ہے اس پر دلالت اس کی خفی ہوگی۔ کیونکہ لازم بول کر کیا مراد لے رہے ہیں؟ ملزوم۔ تو جب لازم اور ملزوم میں تعلق خوب واضح ہوگا تو دلالت بھی واضح، اگر تعلق کچھ میں خفاء تو… ”وأما في التضمن“، باقی تضمنی کے اندر، بھئی۔ بھئی، تضمنی کے اب دلالتِ التزامی کی بات ختم ہوئی، اب دلالتِ تضمنی کا بتائیں گے، اس میں بھی ظہور اور خفاء جاری ہوتا ہے، کیسے؟ ”فلأنه يجوز أن يكون المعنى جزءا من شيء“، کیونکہ جائز ہے کہ معنی جو ہے جز ہو کس کا؟ کسی چیز کا۔ بھئی، میں نے وہی بات نہیں کی تھی؟ ایک چیز کا جز ہوتا ہے، کبھی جز کا جز، کبھی جز کے جز کا جز، تو جز پر اس کی دلالت واضح، جز کے جز پر خفی، اور جز کے جز کے جز پر اور زیادہ خفی، یہی بات اب کر رہے ہیں، بھئی۔ ”فلأنه يجوز أن يكون المعنى جزءا من شيء“، ممکن ہے معنی جو ہے وہ جز ہو کسی چیز کا، ”أو جزء الجزء من شيء آخر“، یا ممکن ہے وہ معنی جو ہے جز الجز ہو کسی چیز کا، کسی دوسری چیز کا، ”فدلالة الشيء الذي يكون ذلك المعنى جزءا منه“، پس دلالت ایسی چیز کی کہ وہ معنی اس کا جز ہے، ”على ذلك المعنى“، اس معنی پر، یہ ”على ذلك المعنى“ متعلق ہے کس پر؟ کس کے ساتھ؟ دلالت کے ساتھ، بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے، بھئی؟ ویسے نہیں سمجھ میں آئے گا، یہ ”على ذلك المعنى“ درمیان میں آ رہا ہے، یہ وہ شروع میں دلالت سے متعلق ہے۔ دلالت ایسی چیز کی کہ وہ معنی اس کا جز ہے، اس شے کی دلالت ”على ذلك المعنى“، اس معنی پر، ”أوضح من دلالة الشيء الذي يكون ذلك المعنى جزء جزئه“، وہ زیادہ واضح ہوگی اس چیز کی دلالت سے کہ وہ شے جو ہے ایسی تھی کہ ”ذلك المعنى جزء من جزئه“، اس کے جز کا جز ہو۔ بھئی، ایک چیز ہے اس کا آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ انسان بول کر کیا مراد لینا چاہتے ہیں؟ صرف حیوان، تو یہ حیوان اس کا جز ہے، اس پر دلالت واضح ہوگی۔ آپ انسان بول کر جسم مراد لینا چاہتے ہیں، یہ تو اس کے جز کا جز ہے، تو اس پر دلالت اس کی کیا ہوگی؟ خفی ہوگی۔ تو یہی بات کر رہے ہیں کہ یہ زیادہ واضح ہوگی اس کی دلالت اس چیز سے کہ جس کے معنی کا وہ کیا ہو؟ وہ معنی اس کے جز کا جز ہو۔ ”مثلا دلالة الحيوان على الجسم“، مثال کے طور پر دلالت حیوان کی جسم پر، ”أوضح من دلالة الإنسان عليه“، حیوان کی دلالت جسم پر یہ زیادہ واضح ہے بمقابلہ انسان کی دلالت کس پر؟ جسم پر۔ حیوان کا تو فو… حیوان کس کو کہتے ہیں؟ جسمِ نامی۔ تو وہ جس میں نامی، اس کے تو جز ہی آ رہا ہے فوراً جسمِ نامی، تو حیوان کی دلالت جسمِ نامی پر کیا ہوگی؟ زیادہ واضح۔ جبکہ انسان کا بھی جسم جز ہے، لیکن براہِ راست جز ہے یا جز کا جز ہے؟ جز کا جز ہے۔ تو لہٰذا اس کی دلالت کیا ہوگی؟ ذرا خفی ہوگی۔ ”ودلالة الجدار على التراب أوضح من دلالة البيت عليه“، بھئی، دیوار ہے، دیوار کے اجزاء ہیں مٹی، دیوار کے اجزاء کیا ہیں؟ مٹی، اور دیواروں سے ہی بنا ہے گھر، تو گھر کے اجزاء ہوئے دیواریں، اور دیواروں کے اجزاء کیا ہوئے؟ مٹی۔ تو ایک ہے گھر کی دلالت مٹی پر، اور ایک ہے دیواروں کی دلالت مٹی پر، کون سی واضح ہے؟ دیواروں کی دلالت مٹی پر، کیونکہ وہ اس کے براہِ راست جز ہے اور دوسرا کیا ہے؟ جز کا جز ہے، بھئی۔ ”فإن قلت“، یہ ایک اعتراض نقل کریں گے، آگے اس کا جواب بتلائیں گے۔ اعتراض یہ کسی نے کیا، اعتراض اگر آپ یہ کرنا چاہتے ہیں کہ بھئی معاملہ برعکس ہے، آپ نے کیا کہا: کل بول کر کل کی دلالت کس پر ہوگی؟ جز پر۔ تو آپ نے کہا پہلے کل کا تصور ذہن میں آئے گا، پھر جز کا، پھر جز کے جز کا، تو اس کی وجہ سے کیا آئے گا؟ خفاء۔ معاملہ برعکس ہے: بھئی، کل بنتا ہے جز پر، پہلے جز آئے گا تو پھر کیا بنے گا؟ کل بنے گا۔ تو جز مقدم ہوا، تو جز پر دلالت کیا ہے؟ مقدم ہوئی، بھئی۔ آپ کا جز… اور جز کے جز پر اور کیا ہوئی؟ مقدم ہوئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کل کس سے بنتا ہے؟ جز سے، اور وہ جز پھر آگے کس سے بنا اپنے؟ اپنے جز سے۔ تو معلوم ہوا جز مقدم ہے، اور جز کا جز اور مقدم ہے، اور جز کے جز کا جز اور مقدم ہے۔ تو لہٰذا اس کی دلالت واضح ہونی چاہیے اور باقی کی کیا ہونی چاہیے؟ خفی ہونی چاہیے۔ کہتے ہیں بھئی، آپ نے بات کی ترکیب کی، اور ہم بات کر رہے تھے تحلیل کی۔ آپ بات کس کی کر رہے ہیں؟ ترکیب کی، اور ہم بات کر رہے ہیں تحلیل کی۔ ترکیب کیسے؟ آپ نے جڑنے کا طریقہ اپنایا: پہلے جز آیا، اس جز کے ساتھ جز ملا، تو پھر کیا بن گیا؟ کل بنا، اور یہ کل بھی آگے جز تھا، تو اس کے ساتھ اور جز ملے تو پھر یہ کیا بن گیا؟ بھئی دیکھو نا، انسان کا جز کیا؟ حیوان، حیوان کا جز کیا؟ جسمِ نامی، جسمِ نامی کا جز کیا؟ جسمِ مطلق۔ اچھا، جسمِ مطلق کے اندر نمو بھی آ گیا، اس کے ساتھ متحرک بھی آ گیا، اس کے ساتھ حساس بھی آ گیا، یہ چیزیں ساتھ مل گئیں، یہ کیا بن گیا؟ حیوان بن گیا، کیا بن گیا؟ حیوان۔ اچھا، اس حیوان کے ساتھ ناطق آ کر ملا، یہ تو… اچھا، تو حیوان کیا ہوا؟ اجزاء بنے حیوان، کل بن گیا، حیوان کیا بن گیا؟ کل بن گیا۔ باقی اجزاء تھے نا، یہ کل بنا۔ اس کل کے ساتھ مزید ایک اور کل… ایک اور جز آ کر ملا، اور وہ کیا؟ ناطق، تو پھر یہ دونوں مل کر یہ جز ہوئے کس کے؟ انسان کے۔ تو یہ دونوں مل کر کیا بن گئے؟ انسان بن گئے۔ تو پہلے کیا آیا تھا، مولانا؟ جسمِ نامی وغیرہ آئے، سب سے پہلے جوہر آیا، پھر جسمِ مطلق آئے گا، پھر اس کے بعد جسمِ نامی ہے، متحرک، حساس، پھر اس کے بعد ناطق آ کر ملے گا، پھر جا کر کیا ہوگا؟ انسان بنے گا۔ تو آپ بات کر رہے ہیں ترکیب کی، جڑتا بن رہی ہے بھئی، چیز کیا ہے؟ چیز کے بننے کی بات کی، جیسے دیوار ہے: پہلے کیا ائے گا، مولانا؟ اینٹیں آئیں گی مولانا، پلس… اینٹیں آئیں گی، سیمنٹ ائے گا، پھر جا کر کیا بنے گی؟ دیوار بنے گی۔ اور ہم بات کر رہے ہیں دلالتِ مطابقی کی… اوہ کس کی؟ دلالتِ التزامی اور دلالتِ تضمنی کی۔ اور دلالتِ التزامی اور تضمنی میں کیا ہوتا ہے؟ ایک پورے موضوع لہ کے لیے ایک لفظ وضع ہے، آپ اس موضوع لہ کے کس کا ارادہ کرتے ہیں؟ جز کا۔ تو پہلے کل کا تصور آئے گا تو پھر کس کا تصور ائے گا؟ جز کا۔ جیسے انسان بول کر، مولانا، انسان، اس کا دلالتِ مطابقی کس پر ہے؟ حیوانِ ناطق پر، اور پھر اس کا جز کیا ہے؟ حیوان۔ تو انسان کی دلالت پہلے حیوانِ ناطق پر آئے گی، اس کے بعد کس کی طرف جائیں گے ہم؟ حیوان کی طرف۔ تو یہاں کل مقدم ہے اور جز مؤخر، کیونکہ یہاں تحلیل ہو رہی ہے۔ چیز اب پہلے کل تھی، اب تو… ٹوٹ کر کیا بنی؟ جز، پھر آگے ٹوٹ کر کیا بنے گی؟ جز کا جز بنے گی۔ تو یہاں ہے تحلیل، چیز کی تحلیل ہو رہی ہے، اور آپ نے جو اعتراض کیا وہ کس میں کیا؟ کہ وہ چیز جڑ رہی تھی۔ تو ہماری بحث ہے دلالتِ التزامی اور تضمنی میں اور وہاں تحلیل ہے، ترکیب نہیں۔ ”فإن قلت بل الأمر بالعكس فإن فهم الجزء سابق على فهم الكل“، اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ معاملہ برعکس ہے، مولانا، اس لیے کہ جز کا سمجھنا یہ مقدم ہوگا کس پر؟ کل کے سمجھنے پر۔ ”قلت نعم“، علامہ تفتازانی کہتے ہیں: جی ہاں، آپ کی بات ٹھیک ہے، ”ولكن المراد هاهنا انتقال الذهن إلى الجزء وملاحظته بعد فهم الكل“، لیکن مراد یہاں پر انتقال کرنا ہے ذہن کا کس کی طرف؟ جز کی طرف، اور اس جز کو ملاحظہ کرنا ہے، ”بعد فهم الكل“، کس کے بعد؟ کل کے سمجھنے کے بعد۔ ”وكثيرا ما يفهم الكل من غير التفات إلى الأجزاء“، بلکہ بسا اوقات کل کو سمجھا جاتا ہے اجزاء کی طرف سرے سے توجہ ہی نہیں ہوتی۔ آپ نے تو کہا تھا نا جز مقدم ہے، پہلے جز آئے گا پھر جا کر کیا آئے گا؟ کل آئے گا۔ بلکہ یہاں تو معاملہ برعکس ہے، بسا اوقات کل ذہن میں آتا ہے اور جز کی طرف ذہن بھی نہیں جاتا۔ بسا اوقات کل کی طرف التفات ہو… کل سمجھ میں آتا ہے بغیر توجہ کیے اجزاء کی طرف، جیسے کہ ذکر کیا ہے مولانا، شیخ اور رئیس العقلاء ابو علی سینا نے شفا، اپنی کتاب شفا کے اندر، ”أنه يجوز أن يخطر النوع بالبال ولا يلتفت الذهن إلى الجنس“، وہ فرماتے ہیں کہ ممکن… یہ ممکن ہے کہ کوئی نوع، مولانا، کوئی نوع دل میں آئے، ”خطر يخطر“ کا کیا معنی؟ دل میں آنا، ”بال“ کہتے ہیں دل کو، مولانا، بال کس کو کہتے ہیں؟ دل کو کہتے ہیں، بھئی۔ کہ کوئی نوع، مولانا، دل کے اندر آئے، اور ذہن کا التفات جنس کی طرف نہ ہو، جنس کیونکہ نوع کس سے بنے گی؟ جنس اور فصل سے۔ تو جنس یعنی اس کا جز ہے، تو جز کی طرف ذہن جائے گا ہی نہیں، یہ بھی ممکن ہے، بھئی۔ ”ثم اللفظ المراد به اللازم“، اچھا، اب یہاں سے آپ کو یہ نئی بات کریں گے، بھئی۔ انہوں نے تحقیق کر دی، بھئی، علمِ بیان کی تعریف کی تحقیق کر رہے تھے، بھئی۔ اب کس کی بات کریں گے؟ اس فن میں کس چیز سے بحث کریں گے آپ کو یہ بتلائیں گے، پھر بحث شروع کریں گے اس کے بعد۔ دیکھیے: اب بتائیے مولانا، ادھر دیکھیے توجہ سے، بھئی: دلالتِ التزامی کے اندر موضوع لہ مراد ہوتا ہے یا غیر موضوع لہ؟ غیر موضوع لہ، وہ موضوع لہ ہے یا غیر موضوع لہ ہے؟ غیر موضوع لہ۔ انسان کی دلالت حیوان پر، انسان تو وضع ہے حیوانِ ناطق، تو یہ موضوع لہ ہے یا غیر موضوع لہ ہے صرف حیوان پر؟ یہ غیر موضوع لہ ہے، بھئی۔ بھئی، کل کل کے لیے وضع ہے کہ جز کے لیے؟ کل کے لیے، ہاں، تو موضوع لہ کل ہے، جز نہیں، تو جز غیر موضوع لہ ہوا، جز کیا ہوا؟ غیر موضوع لہ۔ اسی طرح سورج کی دلالت روشنی، ٹکیہ وغیرہ سارے مجموعے پر، یہ تو کل ہے، تو یہ اس کے لیے دلالتِ مطابقی۔ اور اگر صرف روشنی یا صرف کیا مراد لیں؟ ٹکیہ مراد لیں، تو صرف روشنی مراد لیں تو روشنی اس کے ساتھ لازم ہے، تو یہ موضوع لہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ غیر موضوع لہ۔ تو دلالتِ تضمنی میں بھی غیر موضوع لہ پر دلالت ہوتی ہے، دلالتِ التزامی میں بھی غیر موضوع لہ پر۔ اچھا، بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ آسان بات ہے، بڑی آسان، بھئی۔ تو دلالتِ التزامی میں بھی مولانا، غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے گا، دلالتِ تضمنی میں بھی کس کا ارادہ کیا جائے گا؟ غیر موضوع لہ کا۔ لیکن اس غیر موضوع لہ کے ساتھ ساتھ کیا موضوع لہ کا ارادہ بھی ممکن ہوگا یا نہیں؟ اگر ممکن ہے تو اس کا نام ہے کنایہ، اگر ممکن نہیں ہے تو اس کا نام ہے مجاز۔ توجہ سے بھئی، کنایہ اور مجاز سمجھ میں آ گیا تو آسان ہو جائے گی بات آگے بھئی، سارے باب میں۔ مجاز کس کو کہتے ہیں؟ لفظ بول کر موضوع لہ مراد لے رہے ہیں یا غیر موضوع لہ؟ غیر موضوع لہ مراد لینا۔ اور غیر موضوع لہ کے ساتھ موضوع لہ کا ارادہ بھی ممکن ہوگا یا ارادہ ممکن نہیں ہوگا؟ اگر ارادہ ممکن ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کنایہ، اور اگر ارادہ ممکن نہ ہو تو؟ مجاز۔ دیکھو، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی: ”رأيتُ أسداً يضحكُ“، میں نے ایک شیر دیکھا اس حال میں کہ وہ ہنس رہا تھا، ”رأيتُ أسداً يضحكُ“۔ بتلائیے اسد، اسد بول کر شیر مراد ہے، موضوع لہ مراد ہے یا غیر موضوع لہ؟ کون مراد ہے؟ رجلِ شجاع مراد ہے۔ تو دیکھو اسد سے مراد ہوا غیر موضوع لہ۔ اب بتائیے، موضوع لہ بھی میں مراد لے سکتا ہوں اس جملے کے اندر؟ ”رأيتُ أسداً يضحكُ“، میں نے ایک اسد کو ہنستے ہوئے دیکھا، ایک شیر کو ہنستے ہوئے دیکھا۔ حقیقی شیر ہنس سکتا ہے؟ نہیں بھئی، یہاں ہنسنا تو خاصہ ہے کس کا؟ انسان کا۔ معلوم ہوا اب لفظ استعمال ہو رہا ہے غیر موضوع لہ میں اور موضوع لہ کا ارادہ ممکن نہیں ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ اور اگر موضوع لہ کا بھی ارادہ کر سکیں تو پھر کیا ہے؟ کنایہ۔ جیسے ”زيدٌ كثيرُ الرماد“، کیا معنی؟ زید زیادہ راکھ والا ہے۔ تو کیا زیادہ راکھ والا مراد ہے یا سخاوت مراد ہے؟ سخاوت مراد ہے۔ تو کثیر الرماد، مولانا، اپنے موضوع لہ میں ہے یا غیر موضوع لہ میں ہے؟ غیر موضوع لہ میں، لیکن کیا اس سے موضوع لہ مراد لے سکتے ہیں؟ معنی خراب تو نہیں ہوگا؟ زید زیادہ راکھ والا ہے، یہ بھی صحیح ہے مولانا، کوئی خرابی آئی؟ نہیں۔ تو اگر وہ لفظ جس کو آپ نے موضوع لہ میں استعمال کیا… غیر موضوع لہ میں استعمال کیا ہے، اب اس سے موضوع لہ کا ارادہ بھی ممکن ہے یا ممکن نہیں ہے؟ اگر ارادہ ممکن ہے تو اس کا نام کنایہ، اگر ممکن نہیں تو اس کا نام مجاز۔ بھئی، سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ ”ثم اللفظ المراد به لازم ما وضع له“، پھر وہ لفظ جس کے ساتھ ارادہ کیا جائے، کس کا ارادہ کیا جائے؟ ”لازم ما وضع له“، موضوع لہ کے لازم کا۔ ”سواء كان اللازم“، بھئی، لازم کا پہلے کیا معنی کیا تھا؟ بھئی، یہ وہ والا لازم نہیں ہے جو دلالتِ التزامی میں آتا ہے لازم و ملزوم، بلکہ لازم یعنی کل کے ساتھ جز لازم ہے اور ملزوم کے ساتھ لازم کا لزوم ہے۔ تو لازم سے مراد جز بھی ہے یہاں پر اور وہ دوسرا لازم بھی ہے۔ بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟ خاموش بیٹھے ہیں آپ لوگ، کیا بات ہے؟ بھئی، میں یہاں لازم کا لفظ بولا، لازم سے مراد کیا ہے؟ وہ نہیں ہے جو دلالتِ التزامی میں آتا ہے ایک ملزوم ہوتا ہے ایک لازم، بھئی، بلکہ یہاں دو چیزیں مراد ہیں: وہ لازم بھی مراد ہے اور دوسرا جز بھی مراد ہے، کیونکہ جز بھی لازم ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ کل کے ساتھ۔ پھر وہ لفظ جس کے ساتھ ارادہ کیا جائے لازمِ موضوع لہ کا، خود بتلا رہے ہیں: ”سواء كان اللازم داخلا“، برابر ہے کہ وہ لازم داخل ہو اس چیز کے اندر ”كما في التضمن“، جیسے کس میں ہوتا ہے؟ تضمنی میں ہوتا ہے، ”أو خارجا“، یا خارج ہو اس سے ”كما في الالتزام“، جیسے کس میں ہوتا ہے؟ دلالتِ التزامی میں ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں وہ لفظ جس کے ساتھ ارادہ کیا جائے لازمِ موضوع لہ کا، ”إن قامت قرينة على عدم إرادته أي إرادة ما وضع له“، اگر کوئی ایسا قرینہ قائم ہو گیا علیٰ عدمِ ارادتہ یعنی ارادۂ ما وضع لہ، یعنی موضوع لہ کے ارادہ نہ ہونے پر کوئی قرینہ قائم ہو گیا کہ وہ مراد نہیں لے سکتے، ”فمجاز“، تو اس کا نام کیا ہے؟ مجاز، ”وإلا فكناية“، ورنہ اس کا نام کنایہ ہے۔ ”فعند المصنف الانتقال في المجاز والكناية كلاهما من الملزوم إلى اللازم“، پس مصنف کے نزدیک انتقال ہوگا مجاز اور کنایہ دونوں کے اندر، ملزوم سے کس کی طرف؟ ملزوم سے لازم کی طرف۔ اور علامہ سکاکی کے نزدیک کس سے کس کی طرف تھا؟ لازم سے ملزوم کی طرف انتقال ہوتا تھا، بھئی، مجاز اور کنائے میں۔ دیکھیے، ایک ملزوم ہے، ایک لازم ہے۔ سورج ہے ملزوم، روشنی کیا ہے؟ لازم۔ علامہ سکاکی کیا فرماتے ہیں؟ کہ روشنی لازم سے انتقال ہوگا کس کی طرف؟ سورج کی طرف، روشنی ہے تو سورج ہے، روشنی نہیں تو سورج نہیں، ہاں، اسی طرح؟ روشنی ہے تو سورج ہے، روشنی نہیں تو سورج بھی نہیں۔ جبکہ علام… مصنف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کے اندر انتقال ہوگا ملزوم سے لازم کی طرف، سورج سے کس پر ہوگا؟ روشنی کی طرف انتقال ہوگا، نہ کہ روشنی سے سورج کی طرف انتقال ہوگا۔ ”فعند المصنف الانتقال في المجاز والكناية كلاهما من الملزوم إلى اللازم“، مصنف کے نزدیک انتقال ہوگا مجاز اور کنایہ دونوں کے اندر ملزوم سے کس کی طرف؟ لازم کی طرف، جبکہ علامہ سکاکی کے نزدیک لازم سے ملزوم کی طرف۔ اور یہ درست نہیں ہے، مولانا، مصنف کے نزدیک، ”إذ لا دلالة للازم من حيث إنه لازم على الملزوم“، اس لیے کہ لازم کی کوئی دلالت نہیں ہے اس حیثیت سے کہ وہ لازم ہے، کس پر دلالت نہیں ہے؟ ملزوم پر، کیونکہ ہو سکتا ہے یہ لازم کسی اور ملزوم کی وجہ سے ہو۔ ”إلا أن إرادة الموضوع له جائزة في الكناية دون المجاز“، مگر یہ کہ ارادہ موضوع لہ کا جائز ہوتا ہے کنایہ کے اندر نہ کہ مجاز میں۔ بھئی، یہ اچھی طرح سمجھ لینا کنائے اور مجاز میں، بھئی، فرق، کہ کنائے کے اندر موضوع لہ کا بھی ارادہ ہو سکتا ہے، مجاز میں موضوع لہ کا ارادہ نہیں ہو سکتا۔ ”وقدم المجاز عليها“، اور مجاز کو مقدم کیا اس پر یعنی کنایہ پر، ”لأن معناه“، یعنی المجاز، یعنی مجازی، یہ مولانا یہاں ”أي“ کا لفظ ہونا چاہیے نسخے کے اندر، یہ کاتب کی غلطی ہے، دیگر نسخوں میں موجود ہے۔ یہ ہا ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں، ہا سے کیا مراد ہے؟ یعنی مجاز، اس لیے کہ مجاز کا معنی کیا ہے؟ اس لیے کہ مجاز جو ہے، کا معنی جو ہے، ”كجزء معناها“، کس کے معنی کے جز کی طرح ہے؟ یعنی کنایہ کے۔ یعنی مجا… بھئی، سوال پیدا ہوا کہ مجاز کو کنائے پر مقدم کیوں کیا؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ کنایہ بمکتبۂ کل کے ہے اور مجاز بمرتبۂ جز کے ہے، اور جز کیا ہوتا ہے؟ پہلے اینٹیں آئیں گی تو پھر دیوار بنے گی، کہ پہلے دیوار بنے گی پھر اینٹیں، بھئی؟ پہلے اینٹیں آئیں گی پھر دیوار۔ تو خارج کے اندر جز مقدم ہوتا ہے کل پر، تو جب خارج میں مقدم ہے جز، طبعاً، یعنی طبع کے اندر، طبع کا کیا معنی؟ خارج میں، طبع کے اندر جز مقدم ہے کل پر، تو وضع کے اندر بھی انہوں نے کیا کر دیا؟ جز کو مقدم کر دیا کل پر۔ کس طرح، بھئی؟ مجاز کس طرح جز ہے کنائے کا؟ کہتے ہیں: دیکھو، کنائے کے اندر دو چیزیں ہیں: آپ غیر موضوع لہ کا بھی ارادہ کر سکتے ہیں اور موضوع لہ کا بھی ارادہ کر سکتے ہیں، جبکہ مجاز کے اندر صرف غیر موضوع لہ کا ارادہ ہے، موضوع لہ کا ارادہ نہیں ہے۔ تو اس کے دو جز ہوئے، یہ بمرتبۂ کل کے ہوا، اور اس کا ایک… اس سے صرف غیر موضوع لہ مراد لے سکتے ہیں، یہ بمنزلہ کس کے ہوا؟ جز کے ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بھئی، کنائے کے اندر دو چیزیں ہیں: غیر موضوع لہ کا ارادہ تو ہے ہی، اس کے ساتھ اور کس کا ارادہ ممکن ہے؟ موضوع لہ کا، تو اس میں کتنی چیزیں آئیں؟ دو چیزیں: غیر موضوع لہ کا ارادہ بھی اور موضوع لہ کا۔ اور مجاز کے اندر صرف کیا؟ غیر موضوع لہ، تو یہ ایک ہی پر مشتمل ہوا، تو یہ کنایہ ہوا کل کی طرح، دو چیزیں، اور مجاز کس کی طرح ہوا؟ اس کے جز کی طرح ہوا، کیونکہ اس میں ایک چیز ہے، اور جز کیا ہوتا ہے؟ مقدم ہوتا ہے کل پر۔ ”لأن معنى المجاز هو اللازم فقط ومعنى الكناية يجوز أن يكون هو اللازم والملزوم“، اس لیے کہ مجاز کا معنی صرف لازم ہوگا اور کنائے کا معنی جائز ہے کہ وہ لازم ہو، اور ملزوم… اچھا، جائز ہے کہ وہ لازم اور ملزوم جمیعاً، ممکن ہے کہ اس کا… اس سے کیا ارادہ ہو؟ لازم کا بھی اور ملزوم دونوں کا، ”والجزء مقدما على الكل طبعا“، اور جز مقدم ہوتا ہے کل پر طبعاً یعنی خارج کے اندر، ”فيقدم بحث المجاز على بحث الكناية وضعا“، لہٰذا مقدم کی جائے گی مجاز کی بحث کنائے کی بحث پر وضع کے اندر بھی۔ ”وإنما قال كجزء معناها“، بھئی، ماتن نے کیا کہا؟ مجاز کا معنی کنائے کے معنی کے جز کی طرح ہے، یہ نہیں کہا اس کا جز ہے، ”كجزء“ ہی کیوں کہا؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ حقیقت میں جز نہیں۔ ”وإنما قال كجزء معناها لظهور أنه ليس جزء معناها حقيقة“، کہ اس کے معنی کے جز کی طرح ہے، اس لیے کہ یہ بات ظاہر ہے کہ اس کے معنی کا جز نہیں ہے حقیقۃً۔ ”فإن معنى الكناية ليس هو مجموع اللازم والملزوم“، اس لیے کہ کنایہ وہ مجموعہ لازم اور ملزوم کا نہیں ہے۔ بھئی، کنائے میں کیا ارادہ کیا جاتا ہے؟ غیر موضوع لہ کا، لیکن موضوع لہ کا ارادہ بھی جائز ہے، تو ایک وقت میں ایک ہی ہوگا نہ کہ دونوں ہوں گے۔ تو دونوں اکٹھے ہوتے تو یہ کل بنتا، اور یہاں تو ایک وقت میں ایک ہی ہے، تو لہٰذا یہ بمنزلۂ کل کے ہوا نہ کہ حقیقۃً کل ہوا۔ ”ليس هو مجموع اللازم والملزوم بل هو اللازم مع جواز إرادة الملزوم“، اس لیے کہ وہ مجموعہ لازم اور ملزوم کا نہیں ہے بلکہ وہ تو صرف لازم ہے، البتہ ملزوم کا ارادہ بھی جائز ہے۔ ”ثم منه ما يبتنى على التشبيه“، پھر اس میں سے یعنی مجاز میں سے ایک وہ قسم ہے جس کی بنا کس پر ہے؟ تشبیہ پر، جس کی بنیاد تشبیہ پر ہے۔ دیکھو، ادھر دیکھو بھئی: مجاز کے اندر لفظ کو کس معنی میں استعمال کیا؟ موضوع لہ میں یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں، اور موضوع لہ کا ارادہ کر سکتے ہیں؟ موضوع لہ کا ارادہ نہیں کر سکتے، اور کنایہ کے اندر موضوع لہ کا ارادہ کر سکتے ہیں۔ اچھا، اب مجاز کے اندر آپ نے غیر موضوع لہ کا ارادہ کیا، یہ موضوع لہ ہے اور یہ غیر موضوع لہ ہے، بھئی، آپ نے لفظ بولا موضوع لہ کا اور ارادہ کس کا کیا؟ غیر موضوع لہ کا، ان دونوں میں لازمی بات ہے کوئی تعلق ہونا چاہیے، بغیر تعلق کے نہیں ہو سکتا۔ ورنہ مولانا، کتاب بول کر آپ مراد لینا چاہتے ہیں سائیکل، کوئی تعلق ہی نہیں ہے، وہ بھی غیر موضوع لہ ہے لیکن کوئی تعلق ہے؟ نہیں۔ کوئی تعلق ہوگا تو پھر اب وہ تعلق کبھی کبھار تشبیہ کا ہوتا ہے، کبھی غیر تشبیہ کا۔ اگر تشبیہ کا ہو، کس میں؟ موضوع لہ اور غیر موضوع لہ میں تعلق تشبیہ کا ہو تو اس کو کہتے ہیں استعارہ، کیا کہتے ہیں؟ استعارہ۔ اور اگر تشبیہ کا تعلق نہ ہو تو پھر اس کو کہتے ہیں مجازِ مرسل، کیا کہتے ہیں؟ مجازِ مرسل۔ تو معنی موضوع لہ اور غیر موضوع لہ میں تعلق تشبیہ کا ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ، اور غیر موضوع لہ اور موضوع لہ میں تعلق تشبیہ کے علاوہ ہو تو؟ مجازِ مرسل۔ ”زيدٌ أسدٌ“، زید شیر ہے، اسد موضوع لہ میں استعمال ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں، اچھا، پہلے تو یہ طے کرو یہ کنایہ ہے یا مجاز ہے؟ مجاز ہے۔ بھئی، یہاں اسد سے اصلی شیر مراد لے سکتے ہیں؟ زید کی دُم ہے؟ تو اصلی شیر ہو سکتا ہے وہ؟ تو یہاں اسد اپنے موضوع لہ میں نہیں استعمال بلکہ غیر موضوع لہ میں، اور موضوع لہ کا ارادہ ممکن نہیں ہے، جب نہیں ممکن معلوم ہوا یہ مجاز ہے۔ جب مجاز ہے، اب پھر دیکھو: موضوع لہ اور غیر موضوع لہ کے اندر علاقہ تشبیہ کا ہے یا غیر تشبیہ کا ہے؟ کس کا ہے؟ تشبیہ کا۔ زید کو آپ شیر کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں، کس چیز کے اندر؟ بہادری کے اندر، معلوم ہوا علاقہ تشبیہ کا ہے، اور جب علاقہ موضوع لہ اور غیر موضوع لہ میں تشبیہ کا ہو یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر مولانا، علاقہ غیر تشبیہ کا ہو، مثلاً آپ کہتے ہیں: نہر بہہ رہی ہے، نہر بہہ رہی ہے، بھئی نہر بہتی ہے یا پانی بہتا ہے؟ پانی بہتا ہے۔ بول تو آپ نہر رہے ہیں، تو یہ موضوع لہ استعمال… موضوع لہ کے معنی میں مستعمل ہے یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ میں، اور علاقہ کیا ہے دونوں میں، تعلق کیا ہے؟ تشبیہ دے رہے ہیں؟ نہیں، ہاں، یہ نہر اس کا مکان ہے، مولانا، نہر کیا ہے؟ مکان ہے، مولانا۔ تو آپ نے بولی… بولا لفظِ نہر اور مراد لیا ما فی النہر، نہر کے اندر جو چیز ہے یعنی پانی، کیا مراد لیا؟ پانی، تو لفظ کو کس معنی میں استعمال کیا؟ غیر موضوع لہ میں، اور علاقہ ان دونوں میں کیا ہے؟ پانی اور اس نہر کے اندر تعلق کون سا ہے؟ تشبیہ کا نہیں ہے، اور کون سا تعلق ہے؟ بھئی، غیر تشبیہ تو ہے، غیر تشبیہ میں بھی تو پھر بہت سے علاقے آتے ہیں، یہاں کون سا تعلق ہے؟ وہ ظرف ہے اس کے لیے، کیا ہے؟ مکان ہے، مولانا، تو کوئی نہ کوئی تعلق ہونا چاہیے: نہر بول کر پانی مراد۔ آپ کا ساتھی شربت لے کر آیا، سمجھ میں آیا؟ آپ نے کہا: ایک گلاس میں بھی پیوں گا، ایک گلاس میں بھی پیوں گا۔ تو بھئی، گلاس تو سٹیل کا ہے، آپ گلاس کیسے پیئیں گے؟ گلاس پی سکتے ہیں؟ آپ بولتے تو ہیں عام: گلاس بول کر ما فی الغلاس، وہ چیز جو گلاس میں ہے وہ مراد ہے، مولانا۔ اور پھر تو یہ آپ نے گلاس کو موضوع لہ میں استعمال کیا یا غیر موضوع لہ میں؟ غیر موضوع لہ کے، اور دونوں میں علاقہ تشبیہ کا ہے یا غیر تشبیہ کا؟ اور وہ کیا علاقہ ہے؟ وہ اس کے لیے ظرف ہے، وہ کیا ہے؟ ظرف ہے۔ اچھا، تو کہتے ہیں مولانا: پھر مجاز میں سے ایک قسم وہ ہے جس کی بنا کس پر ہے؟ تشبیہ پر ہے، ”وهو الاستعارة“، پھر دیکھا مولانا، بات ”ثم منه“، پھر مجاز میں سے ما وہ ایک وہ قسم ہے ”يبتنى على التشبيه“، جس کی بنا کس پر ہے؟ ”وهو الاستعارة التي كان أصلها التشبيه“، وہ استعارہ ہے جس کی اصل کیا ہے، مولانا؟ تشبیہ ہے۔ ”فتعين التعرض له“، لہٰذا متعین ہو گیا اس کے درپے ہونا بھی، لہٰذا چونکہ ہم نے مجاز کی بحث کرنی ہے، اور مجاز کے اندر کیا ضروری… تشبیہ ضروری ہے… ہاں چلو، تو ان کے اندر تعلق کون سا ہے؟ تشبیہ کا ہے، لہٰذا جب مولانا ہم نے بحث کرنی ہے مجاز کی، اور مجاز کے اندر ایک تشبیہ بھی آتی ہے تو تشبیہ کی ہمیں بحث کرنی پڑی، لہٰذا متعین ہوا اس کے پیچھے تعرض کرنا بھی یعنی تشبیہ کے ساتھ۔ ”له“ ضمیر کا مرجع بتلایا: کس کے ساتھ تعرض کرنا ضروری ہے؟ تشبیہ کے ساتھ بھی، ”قبل التعرض للمجاز“، مجاز کے… مجاز کو چھیڑنے سے پہلے تشبیہ کو چھیڑنا بھی ضروری ہے۔ ”الذي أحد أقسامه الاستعارة“، جس کی ایک قسم کیا ہے؟ استعارہ ہے، ”المبنية على التشبيه“، اور اس استعارہ کی بنیاد کس پر ہے؟ تشبیہ پر ہے۔ ”ولما كان في التشبيه مباحث كثيرة وفوائد جمة“، اور جب تشبیہ کے اندر چونکہ بہت سے مباحث ہیں، ”وفوائد جمة“، جمّہ کا معنی بھی کثیر، اور بہت زیادہ فوائد ہیں، ”لم يجعل مقدمة لبحث الاستعارة بل جعل مقصدا برأسه“، لہٰذا اس کو بحثِ استعارہ کے لیے مقدمہ نہیں بنایا گیا، ”بل جعل مقصدا برأسه“، برأسہٖ کا معنی مستقلاً، بلکہ اس کو مقصد بنا دیا مستقل۔ بھئی، ایک اعتراض کا جواب: اعتراض یہ کہ معلوم ہوا اصل بحث ہم نے مجاز سے کرنی ہے، لیکن چونکہ مجاز کے اندر تشبیہ آئے گی تو تشبیہ کو بھی ہم کیا کر رہے ہیں؟ ذکر، تو بھئی، تشبیہ کو مقدمہ بنا دو مجاز کے لیے، آپ نے اس کو علیحدہ باقاعدہ باب کی صورت کے اندر ذکر کر دیا۔ کہتے ہیں: بھئی، چونکہ اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں، تو کثرتِ فوائد کی وجہ سے ہم نے اس کو مقدمہ نہیں بنایا بلکہ مستقل اس کو مقصد ہی بنا لیا۔ ”فانحصر المقصود من علم البيان في الثلاثة“، لہٰذا بند ہو گیا مقصود علمِ بیان کے اندر فی الثلاثۃ، کتنی چیزوں میں؟ تین چیزوں میں: ”التشبيه“، ایک تشبیہ، ایک مجاز اور ایک کنایہ ہے۔ ھٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔