"کل ہم نے مسند کے ترک کے احوال میں سے کچھ پڑھے۔ اور ایک یہ مثال اس میں ذکر ہوئی تھی، قرآن میں آیا ہے: "قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي"۔ شارح نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو 'أَنتُمْ' ہے، یہ مسند الیہ ہے اور اس کا مسند فعل محذوف ہے۔ اصل میں کلام یوں ہے: "قُل لَّوْ تَمْلِكُونَ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي"۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ 'لَوْ' حروفِ شرط میں سے ہے اور حروفِ شرط ہمیشہ فعل پر داخل ہوتے ہیں، اسم پر کبھی داخل نہیں ہوتے۔ اور یہاں پر تو اسم پر داخل ہو رہا ہے، معلوم ہوا فعل کو حذف کیا گیا ہے اور اس کو حذف کرنے کی وجہ یہ کہ 'تَمْلِكُونَ' مفسَّر تھا اور آگے دوبارہ 'تَمْلِكُونَ' اس کی تفسیر، اور مفسَّر اور تفسیر جب دونوں بالکل متحد ہوں تو دونوں کو ذکر کرنا جائز نہیں۔ تو ایک کو حذف کیا گیا، فعلِ مسند کو حذف کیا گیا اور اس کے اندر جو ضمیرِ متصل تھی، اس کو منفصل کی صورت میں وہاں رکھ دیا گیا تو مسند حذف ہوا اور مسند الیہ باقی ہے۔" "اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: "فَصَبْرٌ جَمِيلٌ"۔ اور یہ دونوں احتمال رکھتا ہے، یہاں اس کو مسند بنا لیں اور اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں، یا اس کو مسند الیہ بنا لیں اور اس کے لیے خبر محذوف نکال لیں۔ 'فَصَبْرٌ جَمِيلٌ أَجْمَلُ'۔ تو آپ نے 'صَبْرٌ جَمِيلٌ' کو مبتدا بنایا۔ اور 'فَأَمْرِي صَبْرٌ جَمِيلٌ' مبتدا نکال لیا آپ نے اور 'صَبْرٌ جَمِيلٌ' کو اس کے لیے خبر بنایا، کہ 'میرا معاملہ صبرِ جمیل ہونا چاہیے'۔ تو حذف کے اندر دیکھو فائدہ بڑھ گیا، امکان نکل آیا، آپ ایک ترکیب بھی کر سکتے ہیں اور دوسری بھی کر سکتے ہیں، لیکن اگر ذکر ہوتا تو پھر ایک ہی ترکیب ہو سکتی تھی۔" "اور جہاں تک مسند کے ذکر کے نکات کا تعلق ہے، انہوں نے بتلایا آپ کو کہ کچھ وہی نکات ہیں جو کہاں پر ذکر ہوئے تھے؟ مسند الیہ میں ہوئے تھے۔ یا اس لیے مسند کو ذکر کیا جاتا ہے تاکہ متعین ہو جائے کہ مسند کیا ہے؟ اسم ہے یا فعل۔ اسم ہوگا تو ثبوت کا فائدہ دے گا اور فعل ہوگا تو تجدد کا فائدہ دے گا۔ اور کبھی کبھار وہ مفرد لایا جائے گا۔ کب مفرد ہوگا؟ جبکہ وہ غیرِ سببی ہو اور تقوّی کے لیے مفید بھی نہ ہو۔ کتنی شرطیں ہیں؟ دو شرطیں ہیں۔ مسند کو مفرد لایا جائے گا یعنی جملہ نہیں لایا جائے گا، کتنی شرطیں ہیں؟ دو شرطیں ہیں: کہ کلام کے اندر مسند، جس کو ہم نے مفرد ذکر کیا، وہ کیا ہوگا؟ غیرِ سببی ہوگا۔ غیرِ سببی ہونے کا کیا معنی؟ صفت بہ حالِہِ ہوگا یا صفت بہ حالِ متعلقہِ؟ صفت بہ حالِہِ ہوگا۔ اور تقویٰ کا فائدہ بھی نہیں دے گا۔ اس کے برعکس اگر تقویٰ کا فائدہ دیا یا مسند کیا ہوا؟ سببی ہوا، تو پھر وہ جملہ ہوگا، مفرد نہیں ہوگا۔ تو جملے کے لیے کتنی صورتیں آئیں؟ کب جملہ لائیں گے؟ جبکہ وہ سببی ہو یا تقویٰ کا فائدہ دے۔ تو ان دونوں میں سے ایک فائدہ ضرور ہوگا، اگر دونوں نہیں ہیں پھر کیا ہوگا؟ مفرد ہوگا۔" "اور مسندِ سببی کس کو کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر خبر میں موجود وصف کس کے لیے ثابت ہو؟ مسند الیہ کے لیے ثابت ہو، تو اس کو کیا کہیں گے؟ ثابت ہے، غیرِ سببی کہیں گے۔ اگر ثابت نہیں ہے، تو پھر؟ سببی کہیں گے۔ لیکن ایک شرط اور بھی ہے، جملہ بھی ہو، کیا ہو؟ جملہ بھی ہو۔ مسند الیہ کے لیے وصف ثابت بھی ہو اور جملہ بھی ہو تو یہ کیا کہلائے گا؟ غیرِ سببی کہلائے گا۔" "فَخَرَجَ الْمُسْنَدُ، پس نکل گیا یہ مسند، جیسے 'زَيْدٌ مُنْطَلِقٌ أَبُوهُ'۔ یہ نکل گیا مولانا، ترکیب دیکھیں: 'زَيْدٌ' مرفوع لفظاً مبتدا، 'مُنْطَلِقٌ' صیغہ اسمِ فاعل، 'أَبُوهُ' مضاف مضاف الیہ مل کر 'مُنْطَلِقٌ' کا فاعل بھئی، 'مُنْطَلِقٌ' کا کیا بنے گا؟ فاعل بنے گا۔ بھئی آپ کو میں نے بتایا تھا جیسے فعل فاعل کو چاہتا ہے، اسی طرح اسمِ فاعل بھی کس کو چاہتا ہے؟ فاعل کو چاہتا ہے۔ ہاں، عموماً ضمیر ہوتی ہے، یہاں اسمِ ظاہر آ رہا ہے، جیسے 'ضَرَبَ' کے اندر کبھی ضمیر ہوتی ہے، کبھی آگے 'زَيْدٌ' اسمِ ظاہر آ جایا کرتا ہے۔ تو یہاں 'مُنْطَلِقٌ' صیغہ اسمِ فاعل، 'أَبُوهُ' مضاف مضاف الیہ مل کر اس کا فاعل۔ اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر، کیونکہ 'مُنْطَلِقٌ' جملہ ہے؟ نہیں، بلکہ کیا ہے؟ شبہ جملہ۔ آپ نے پڑھا پیچھے بھئی کہ اس کی مشابہت کس کے ساتھ ہے اسمِ فاعل کی؟ فعل کے ساتھ بھی مشابہت ہے اور اسمِ جامد کے ساتھ بھی مشابہت ہے۔ 'أَنَا مُنْطَلِقٌ'، 'أَنْتَ مُنْطَلِقٌ'، 'هُوَ مُنْطَلِقٌ'، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ تو اس وجہ سے یہ جملے کے مشابہ تو ہے، جملہ نہیں۔ تو یہ شبہ جملہ ہو کر 'زَيْدٌ' کی خبر۔" "اب بتلائیے آپ یہ مسند ہے، 'مُنْطَلِقٌ أَبُوهُ' مسند ہے، اسناد ہو رہا ہے 'زَيْدٌ' کی طرف۔ یہ مسندِ سببی ہے یا غیرِ سببی؟ وہ تین شرطیں تلاش کرو۔ پہلی شرط: مسند جملہ ہونا چاہیے، یہ جملہ ہے؟ نہیں، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ غیرِ سببی ہوا۔ کیونکہ یہ مفرد ہے، اس لیے کہ یہ مفرد ہے اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ"۔ یہ بھی خارج ہوا مسند، اس میں جو ہے 'هُوَ' ضمیرِ شان مولانا، 'اللَّهُ أَحَدٌ' یہ خبر ہے بھئی۔ ضمیرِ شان کس کو کہتے ہیں؟ ایک ضمیر ہوتی ہے کلام کے اندر جو کس کی طرف لوٹے؟ ذہن میں جو شان اور حال آپ نے تصور کیا، اس کی جانب لوٹے اور آپ نے ذہن میں کیا تصور کیا تھا؟ 'اللَّهُ وَاحِدٌ'۔ آگے فوراً آ کر اس کی تفسیر کر دیتے ہیں کہ ذہن میں میں نے یہ تصور کیا تھا، یہ حال تھا بھئی۔ تو "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" 'هُوَ' ضمیرِ شان، 'اللَّهُ أَحَدٌ' مبتدا خبر مل کر اس کے لیے خبر۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اب بتلائیے، 'اللَّهُ أَحَدٌ' یہ پورا جملہ مسند ہے۔ اس میں شرائط دیکھتے ہیں، پھر آپ فیصلہ کریں مسندِ سببی ہے یا غیرِ سببی۔ 'اللَّهُ أَحَدٌ' پہلی شرط: جملہ ہے؟ جملہ ہے، 'اللَّهُ' مبتدا، 'أَحَدٌ' اس کی خبر۔ دوسری شرط: اس کے اندر عائِد ضمیر ہے؟ کوئی ضمیر نہیں ہے، معلوم ہوا یہ سببی ہے یا غیرِ سببی ہے؟ غیرِ سببی ہوا بھئی، کیا ہوا؟ کیونکہ ہم نے کہا تھا عائِد ہو، ضمیر ہو جو لوٹے، یہاں ضمیر نہیں ہے۔ یہاں مولانا ضمیر نہیں، کیوں نہیں؟ کیونکہ 'هُوَ' کس کی طرف راجع تھی؟ وہ شان، وہ حال جو ذہن میں تھا اور وہ کیا تھا؟ 'اللَّهُ أَحَدٌ'۔ تو 'هُوَ' کی تفسیر ہے 'اللَّهُ أَحَدٌ' یعنی 'هُوَ' مفسَّر ہے اور 'اللَّهُ أَحَدٌ' اس کی کیا ہے؟ اور مفسَّر اور تفسیر ایک ہوتے ہیں، تو یہ دونوں جب ہیں ہی ایک، دونوں میں پہلے سے ہی اتحاد موجود ہے، تو اب مزید کسی ربط کے دینے کی ضرورت نہیں۔" "لہذا یہ بھی خارج ہوا، کیونکہ یہاں تعلیق جو ہے مبتدا پر، وہ کس کے ساتھ نہیں ہے؟ عائِد کے ساتھ نہیں ہے۔ اور جیسے 'زَيْدٌ قَامَ' ہے، اور 'زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ'۔ جی، یہ کیا ہے آپ بتلائیے بھئی۔ 'زَيْدٌ قَامَ' 'قَامَ' مسند ہے، جملہ ہے؟ اس کے اندر ضمیرِ عائِد ہے؟ دوسری شرط بھی پوری۔ تیسری: یہ عائِد مسند الیہ تو نہیں کہیں؟ مسند الیہ ہے بھئی، 'قَامَ' فعل، 'هُوَ' ضمیر اس کا فاعل اور فاعل مسند الیہ ہوتا ہے۔ فاعل مسند الیہ ہوتا ہے، تو یہاں پر فاعل مسند الیہ ہے، معلوم ہوا تیسری شرط پوری نہ ہوئی، لہذا معلوم ہوا یہ مسندِ غیرِ سببی ہے۔ اور 'زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ' یہاں پر بتلائیے، 'زَيْدٌ' مبتدا، 'هُوَ قَائِمٌ' اس کی خبر، 'هُوَ قَائِمٌ' جملہ ہے؟ عائِد ضمیر ہے؟ تیسرے: یہ عائِد مسند الیہ تو نہیں؟ مسند الیہ ہے بھئی، کیونکہ 'هُوَ' مبتدا اور 'قَائِمٌ' اس کی خبر ہے اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، لہذا یہ شرط پوری نہ ہوئی، یہ بھی سببی سے خارج ہوا۔ کیونکہ ان کے اندر عائِد جو ہے وہ مسند الیہ ہے اور داخل ہوا اس کے اندر، مسندِ سببی کے اندر، کون سا مسند؟ جیسے 'زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ' 'زَيْدٌ' مبتدا، 'أَبُوهُ قَائِمٌ' اس کی خبر۔ آپ بتلائیے، 'أَبُوهُ قَائِمٌ' یہ پوری خبر ہے، مسند ہے۔ یہ مسند جملہ ہے؟ جملہ ہے۔ دوسری شرط: عائِد ہے؟ ضمیر۔ جی، دوسری بھی پوری۔ تیسری: عائِد مسند الیہ ہے یا غیرِ مسند الیہ؟ غیرِ مسند الیہ، کیونکہ مسند الیہ 'أَبُوهُ' ہے اور 'هُوَ' ضمیر تو مضاف الیہ ہے۔ تو اسی طرح 'زَيْدٌ قَامَ أَبُوهُ'، 'زَيْدٌ مَرَرْتُ بِهِ'، 'زَيْدٌ ضَرَبْتُ عَمْراً فِي دَارِهِ'، ان سب میں آپ یہ تینوں شرائط دیکھ لیجئے کہ یہ سب داخل ہو جائیں گے۔ اور اسی طرح وہ جملے جو کیا واقع ہوئے ہیں؟ خبر واقع ہوئے ہیں مبتدا کے لیے۔ اور تقوّی کا فائدہ نہیں دیتے۔ یہ بھی داخل ہو جائیں گے۔" "اور عمدہ کیا ہے اس کے اندر؟ کہتے ہیں کہ تتبع کیا جائے کلامِ سکاکی کا، اس کی جستجو کی جائے، اس لیے کہ ہم نے اس اصطلاح کو نہیں پایا ان سے جو کہ ان سے پہلے ہیں، ان سے پہلے لوگوں سے یہ اصطلاح نہیں منقول بلکہ یہ انہی کی اصطلاحات ہیں، لہذا اس میں مزید تحقیق کے لیے جستجو انہی کے کلام میں کرنی چاہیے۔" "واما کونہ ای المسند فعلاً فلتقییدہ باحد الازمنۃ الثلاثۃ" مسند کے حذف کے نکات بیان ہوئے، پھر اس کے ذکر میں اس کو مفرد لانے کے نکات بیان ہوئے، مفرد کیوں لاتے ہیں؟ کیونکہ وہ غیرِ سببی ہوتا ہے اور تقوّی کا فائدہ نہیں دیتا۔ اور اب بتلا رہے ہیں کبھی مسند کو فعل کی صورت میں لے کر آتے ہیں: 'زَيْدٌ قَامَ' ایک صورت تھی، آپ کہتے 'زَيْدٌ قَائِمٌ' اور ایک صورت تھی 'زَيْدٌ قَامَ'۔ آپ 'زَيْدٌ قَامَ' کہتے ہیں، یہ 'قَامَ' مسند لے کر آئے، اس کے کیا فائدے ہیں؟ بتلا رہے ہیں کہ مسند کو قید کرنا چاہتے ہیں تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ۔ بوجہ مسند کو قید کرنے کے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ اور وہ تین زمانے کیا ہیں؟ ماضی، اور وہ زمانہ ہے جو آپ کے زمانے سے پہلے ہے، آپ کا زمانے سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں جس کے اندر آپ موجود ہیں۔ ماضی کس کو کہتے ہیں؟ گزرا ہوا زمانہ، یعنی جس زمانے میں آپ موجود ہیں، جو اس سے پہلے گزر چکا وہ کیا ہے؟ ماضی ہے۔ اور مستقبل، وہ زمانہ ہے جس کے وجود کا انتظار کیا جائے اس زمانے کے بعد۔ یعنی جس میں آپ موجود ہیں، اس کے بعد اس کے وجود کا انتظار ہو رہا ہے کہ اس زمانے کے بعد وہ زمانہ آئے گا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مستقبل کہتے ہیں۔ اور حال، اور اس میں اختلاف ہے، علماء بعض لکھتے ہیں کہ حال کا وجود ہے ہی نہیں۔ حال کوئی زمانہ نہیں ہے، زمانے دو ہیں: ایک ماضی ہے اور ایک مستقبل۔ کہتے ہیں حال کس چیز کا نام ہے؟ حال تو ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک باریک پردہ ہے بس۔ حال کون سا ہے؟ یہ حال ہے؟ یہ تو گزر گیا۔ یہ حال ہے؟ یہ تو گزر گیا۔ کس کو آپ حال کہہ رہے ہیں؟ ایک لمحہ پہلے یہ مستقبل تھا، دوسرے لمحے میں یہ ماضی بن گیا۔ تو حال کدھر ہے بھئی؟ حال کا وجود ہی نہیں ہے، ایک لمحہ پہلے دیکھو یہ لمحہ مستقبل ہے، آنے والا ہے، وہ چلا گیا بھئی، کیا بن گیا؟ ماضی ہوا۔ سیکنڈ کی بات نہیں ہو رہی بھئی، سیکنڈ بھی بڑی دیر رکا رہتا ہے بھئی۔ انتہائی قلیل تقسیم بھی کر لیں مولانا وقت کی، ابھی آنے والا ہے، ابھی گزر جائے گا بھئی فوراً۔ تو معلوم ہوا حال کہتے ہیں کوئی چیز نہیں۔ بعض کہتے ہیں نہیں بھئی، حال ہے، ہاں اس کا وقت بڑا مختصر ہے، وہ ایک لمحہ ہے، کیا ہے؟ ایک لمحہ ہے اور جو مسلسل بدلتا جا رہا ہے، یہ لمحہ حال ہے، گزر گیا، یہ لمحہ حال ہے، گزر گیا، یہ لمحہ حال ہے، گزر گیا بھئی، بڑی رفتار سے۔ تو حال ہے تو، سارا پیچھے گزر گیا ماضی، آگے جتنے آنے والا ہے مستقبل، اور حال کیا ہے؟ بڑا باریک سا ان کے درمیان وقت ہے، جو نا قابلِ تقسیم ہے، اتنا قلیل ہے کہ مزید اس میں تقسیم کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ تحقیق ہے مولانا، تحقیقی قول حال کے بارے میں۔ ہاں، عرف میں حال طویل ہے مولانا۔ میں کہتا ہوں 'ہم سبق پڑھ رہے ہیں' یعنی فی الحال، کس کے اندر؟ حال، زمانۂ حال کے اندر۔ معلوم ہوا میں نے تھوڑی سی ماضی ساتھ ملا دی، کچھ مستقبل ساتھ ملا دی اور اب کہہ رہے ہیں ہم کیا کر رہے ہیں؟ سبق پڑھ رہے ہیں۔ ورنہ حال تو کیا تھا؟ وہ قلیل وقت تھا، قلیل وقت تھا، لیکن میں نے حال کے ساتھ سارے کو تعبیر کیا، کچھ وقت جو گزر چکا اور کچھ وقت جو آنے والا ہے، تو عرف میں حال طویل ہے بھئی، عرف کے اعتبار سے، البتہ تحقیقی اعتبار سے حال بڑا قلیل ہے اور اس میں مزید تقسیم کی گنجائش نہیں۔ اور یہاں عرفی تعریف کریں گے، دیکھا؟ وہ اجزاء ہیں جو کس کے آخر میں سے ہیں؟ بھئی، جو ابھی ماضی جتنی گزر گئی اس کا جو آخری حصہ گزرا، ابھی ابھی گزرا، میں نے اس کو بھی حال میں ملایا، اور جو مستقبل آ رہا ہے، اس کے، جو شروع ہو رہا ہے، اس کے وقت کو بھی میں نے ملایا اور کہا 'ہم سبق پڑھ رہے ہیں'۔ تو وہ اواخرِ ماضی اور اوائلِ مستقبل کا نام ہے، جو کیسے ہوں؟ پے در پے ہوں، مسلسل یہ اجزاء ہوں گے، بغیر کسی مہلت اور تاخیر کے، ان کا نام حال ہے۔ اور یہ امرِ عرفی ہے اور یہ جو ہم نے بتلایا آپ کو کہ ماضی کے آخری حصہ کچھ ملا لیتے ہیں اور مستقبل کا ابتدائی حصہ ملا لیتے ہیں، یہ کون سا حال ہے؟ یہ امرِ عرفی ہے۔" "کیونکہ زمانہ فعل کے اندر ہے، زمانہ فعل زمانے پر دلالت کرتا ہے اور زمانے کے اندر تجدد ہے، کیونکہ زمانہ ایسی مقدار ہے، ایسی چیز ہے جو قار الذات نہیں ہے، خود معنیٰ کر رہے ہیں یعنی اس کے اجزاء جمع نہیں ہوتے وجود کے اعتبار سے۔" "تو تجدد لازم ہے زمانے کے ساتھ، اور زمانہ جزو ہے مفہومِ فعل کا، تو فعل تین زمانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ تقیید کا فائدہ دیتا ہے، ساتھ کس چیز کے؟ مفیدِ تجدد بھی ہوتا ہے، تو فعل کے اندر تقیید بھی آ گئی، قید بھی آ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ تجدد بھی آیا، کیونکہ تجدد زمانے کے اندر پایا جاتا ہے اور زمانہ فعل کے مفہوم میں داخل ہے، تو فعل کے اندر بھی کیا آ گیا؟ تجدد آ گیا، تو پھر فعل بھی کبھی تجدد پر دلالت کرتا ہے۔" "اور اسی کی طرف اشارہ کیا اپنے اس قول کے ساتھ: 'مَعَ إِفَادَةِ التَّجَدُّدِ'، کہ یہ متن ہے مولانا، 'مَعَ إِفَادَةِ التَّجَدُّدِ' یہ متن ہے۔ اب متن کو متن کے ساتھ جوڑو: مسند کو فعل لاتے ہیں تاکہ مقید کیا جائے بھئی مسند کو تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ، سب سے مختصر طریقے پر، اور ساتھ کس چیز کا افادہ ہوتا ہے؟ تجدد کا۔" "مثال سے بات سمجھ آئے گی، دیکھئے: جیسے ایک شاعر کہتا ہے: 'أَوَ كُلَّمَا وَرَدَتْ عُكَاظاً'، حمزہ استفہامیہ ہے مولانا، واؤ عاطفہ ہے، درمیان میں عبارت محذوف ہے جس پر عطف ہو رہا ہے۔ عبارت یہ محذوف ہے، عبارت یوں ہے: 'أَحَضَرَتِ الْعَرَبُ فِي عُكَاظَ'، اور یہ استفہامِ تقریری ہے، کیا عرب والے عکاظ میں حاضر ہو گئے؟ سارے قبیلوں والے آ گئے؟ اور تقریری ہے، یعنی یقیناً ایسا ہے، سارے کیا ہیں؟ آ گئے ہیں۔" "اور جب بھی آتا ہے عکاظ میں، عکاظ غیر منصرف ہیں مولانا، علمیت اور تانیث کی وجہ سے۔ مکان کا نام ہے، مکان عکاظ تھا، تو علمیت ہے ایک اور ایک تانیث ہے 'بُقْعَةٌ' کی، 'بُقْعَةٌ' بھئی زمین کا ایک ٹکڑا، تو یہ جگہ تھی، زمین کا ایک ٹکڑا تھا، تو تانیث بھی آئی، علمیت بھی آئی، غیر منصرف۔ جب بھی عکاظ میں کوئی قبیلہ آتا ہے، آگے بتلا رہے ہیں یہ عرب کا بازار تھا، میلہ تھا، اس کے اندر وہ جمع ہوا کرتے تھے، ایک دوسرے کو اشعار سنایا کرتے تھے اور ایک دوسرے پر فخر بیان کیا کرتے تھے اور اس کے اندر بڑے واقعات ہوتے تھے بھئی۔" "یاد رکھو عرب کے اندر کئی اسواق لگتے تھے، کئی بازار لگتے تھے، میلے لگتے تھے، تقریباً دس مشہور میلے تھے ان کے۔ اور سال کے مختلف ایام میں، یہ سوقِ عکاظ جو ہے، عکاظ مقام تھا، طائف کے قریب ہے، وہاں پر لگتا تھا ان کا یہ میلہ اور بازار، اور ذی القعدہ کی ابتدا سے لے کر تقریباً بیس ذی القعدہ تک یہ جاری رہتا تھا بیس دن تک۔ تو نام کیا تھا؟ سوقِ عکاظ۔ لیکن یہ معنیٰ نہیں کہ یہ بازار تھے مولانا، یہ بڑے ان کے، اس کے اندر صرف خرید و فروخت اور تجارت ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ عربوں کے قبیلے اس میں شرکت کرتے، آیا کرتے تھے اور ہر ایک اپنے اپنے کمالات دکھاتا تھا، بڑے بڑے شعراء ان کے آتے، جلسے ہوتے اور اس کے اندر شعراء اپنے کلام کو پیش کیا کرتے تھے بھئی۔ چنانچہ اور نصر کے مقابلے بھی ہوتے، خطیبوں کے بھی مقابلے ہوتے، شاعروں کے بھی مقابلے ہوتے، لیکن نظم کا چرچا نصر سے زیادہ تھا، کیونکہ نظم کیا ہے، اس کو ذہن جلدی قبول کرتا ہے اور جلدی اثر انداز ہوتا ہے۔ تو چنانچہ یہ جو سبعہ معلقات آپ پڑھتے ہیں، یہ وہی قصیدے ہیں جو سوقِ عکاظ میں کہے گئے اور لٹکائے گئے تھے وہاں پر۔ اور اس کی وجہ سے جب آپس میں مقابلے ہوتے، اعلیٰ اشعار کا وہ انتخاب کرتے تھے، ردی اشعار کو وہ رد کیا کرتے تھے، تو اس سے ان کی عربی زبان کی تہذیب اور نشوونما میں ان بازاروں نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ فیصلے ہوتے تھے، یہ فصیح کلام ہے اور یہ غیر فصیح کلام ہے، اور پھر وہ اشعار جو جنگل کی آگ کی طرح پورے عرب میں پھیل جایا کرتے تھے۔" "تو چنانچہ شاعر جو ہوتا تھا، ہر قبیلے والا اپنے شاعر کا بڑا اکرام کیا کرتا تھا اور شاعر ہر قبیلے کا بے تاج بادشاہ ہوا کرتا تھا بھئی۔ اپنے اشعار میں آ کر اپنے حسب، نسب، اپنی فخر کی باتیں بیان کیا کرتے تھے اور دوسروں پر اپنی بڑائی جتلا یا کرتے تھے۔ نیز یہاں تجارت بھی ہوتی ان کی، چمڑے کی تجارت کرتے تھے، ہر چیز کی، جانوروں کی تجارت، کپڑے کی تجارت، غلاموں، باندیوں کی تجارت۔ اور بنو تمیم والے اس کے منتظمِ اعلیٰ ہوتے تھے۔ اس سوقِ عکاظ کے یہ سب سے بڑا میلہ جو سب سے بڑا بازار لگتا تھا، بنو تمیم والے اس کے رئیس ہوتے تھے، اور بازار میں کوئی جھگڑا ہوتا، کوئی مسئلہ ہوتا، تو بنو تمیم کا رئیسِ اعلیٰ اس کو حل کیا کرتا تھا اور اس کی مجلس بڑی محترم اور معزز ہوتی تھی اور سب اس کا احترام کرتے اور اس کے فیصلوں کو قبول کرتے تھے۔ اسی طرح کبھی کسی چیز کے نرخ وغیرہ میں بھی کوئی جھگڑا آتا، تو بنو تمیم کا رئیس ہی کیا کرتا تھا اس کا۔ اسی سوقِ عکاظ کے اندر حضرت زید بن حارثہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو متبنیٰ تھے، ان کو خریدا گیا تھا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے اور جو بعد میں انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں ان کو اپنا بیٹا قرار دیا۔ اور یہ چونکہ ذی القعدہ میں منعقد ہوتا تھا اور وہاں ڈاکوؤں وغیرہ کا بڑا خطرہ ہوتا تھا، لیکن ذی القعدہ میں منعقد ہونے کی وجہ سے یہ اشہرِ حرم میں سے تھا بھئی، اس کے فوراً بعد حج کے ایام شروع ہوتے تھے، تو حرمت کے مہینوں کا عرب بڑا احترام کرتے تھے بھئی، بے انتہا احترام۔ حتیٰ کہ اس زمانے کے اندر کسی کے سامنے اس کے باپ کا قاتل بھی آ جاتا تھا تو اس کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔" "تو بڑے بڑے بہادر لوگ آتے، شاعر آتے، سب حاضر ہوتے، تو شاعر ان اشعار میں اپنی تعریف بیان کر رہا ہے، اپنی جرأت بیان کر رہا ہے۔ کہتا ہے کہ عکاظ میلے کے اندر جب بھی کوئی قبیلہ آتا ہے، وہ اپنے منتظم کو بھیجتے ہیں۔ میری طرف بھیجتے ہیں، وہ آتا ہے اور میرے چہرے کو غور سے دیکھتا ہے اور پہچاننے کی کوشش کرتا ہے، بتلانا یہ چاہتا ہے، یہاں پر جب آیا کرتے تھے تو بعض اس قسم کے قاتل وغیرہ جن کی لڑائی ہوتی، اپنے چہروں کو ڈھانپ کر رکھتے تھے بھئی۔ تو یہ کہتا ہے میں اپنے چہرے کو ڈھانپ کر نقاب بھی نہیں اوڑھ کر رکھتا تھا، بتا رہا ہے، وہ آتے اور ہر قبیلے والا آ کر کیا کرتا؟ مجھے تلاش کرتا اور میرے علامتیں پہچاننے کی کوشش کرتا تھا، تو یہ شاعر بھی اور میں اتنا جری آدمی ہوں کہ میں نے نقاب بھی نہیں اوڑھا اور ایسا جرأت والا آدمی ہوں کہ ہر ہر قبیلے سے میری دشمنی ہے، ہر ہر قبیلے والے لوگوں کو میں نے قتل کیا ہوا ہے، اتنا جرأت والا آدمی ہوں میں۔ تو اس بات کو شاعر بیان کر رہا ہے۔ اور بعضوں نے کہا کہ یہ شاعر، اس نے قتل کیا تھا کسی کو، تو اس کا بیٹا جو ہے آیا بار بار آتا اور اس کو غور سے دیکھتا تھا کہ یہ وہ شخص ہے۔ تو اس سے بات کی اور پھر اس نے پوچھا بھئی کیا بات ہے، تو مجھے غور سے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس نے کہا کہ اگر میں تجھے کسی جنگ میں پاتا، تو یا تو میں تجھے قتل کر دیتا یا تو مجھے قتل کر دیتا، میں تجھے ہرگز کسی صورت میں میں تجھے چھوڑتا نہ۔ تو معلوم ہوا بازار میں وہ، اس میلے میں، اشہرِ حرم میں کسی کو کچھ نہیں کہتے تھے، دیکھئے: 'أَوَ كُلَّمَا وَرَدَتْ عُكَاظاً قَبِيلَةٌ بَعَثُوا إِلَيَّ عَرِيفَهُمْ' وہ بھیجتے ہیں میری طرف اپنے منتظم کو۔ اور عریف القوم، القائم بامراہم، اور کسی قوم کا عریف، وہ ان کا منتظم ہوتا ہے، وہ منتظم ہوتا ہے ان کے امور کا۔ منتظم، متولی اور منتظم ہوتا تھا، جو اس بات میں مشہور ہوتا تھا اور معروف ہوتا تھا۔ بھیجتے ہیں اپنے عریف کو، جب بھی کوئی قبیلہ عکاظ میں آتا ہے، وہ اپنے عریف، اپنے منتظم، یعنی اپنے سردار کو بھیجتے ہیں 'يَتَوَسَّمُ' 'يَتَوَسَّمُ' کا کیا معنی؟ 'أَنْ يَصْدُرَ عَنْهُ تَفَرُّسُ الْوُجُوهِ' اس سے صدور ہوتا ہے، چہروں کے تفرس کا۔ تفرس کا معنی غور سے دیکھنا، پہچاننے کی کوشش کرنا۔ تو وہ چہروں کو غور سے دیکھتا ہے اور پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے صدور ہوتا ہے چہروں کے تفرس کا اور ان کے اندر غور و فکر کا، 'شَيْئاً فَشَيْئاً' تھوڑا تھوڑا کر کے، 'وَلَحْظَةً فَلَحْظَةً' لمحہ بہ لمحہ۔ تو مقامِ استشہاد 'يَتَوَسَّمُ' ہے مولانا، مقامِ استشہاد اس کو 'يَتَوَسَّمُ' فعل اور اس کے اندر فاعل ضمیر، جو کس کو راجع؟ عریف کو۔ تو یہ مسند کو فعل کی صورت میں لے کر آئے، کیوں؟ یہ بتلانے کے لیے کہ یہ جو چہروں کو پہچاننے کی کوشش ہے، یہ ایک مرتبہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ بار بار تجدد کے طریقے پر ہوتی ہے۔" "واما کونہ ای المسند اسماً فلافادۃ عدمہما" کبھی کبھار مسند کو اسم لاتے ہیں، تو کہتے ہیں مسند کا اسم ہونا بوجہ فائدہ دینے کے ان دونوں کے عدم کا، یعنی کس چیز کا؟ ایک تو کیا فعل میں کتنی شرطیں لگائی تھیں؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ قید کرنے کا فائدہ دیتا ہے اور تجدد کا۔ تو جہاں تین زمانوں میں سے ایک کے ساتھ قید کرنا مقصود نہ ہو اور تجدد بھی مقصود نہ ہو، وہاں پھر ہم خبر کو کس کی صورت میں لاتے ہیں؟ مسند کو اسم کی صورت میں۔ یعنی افادۂ دوام اور ثبوت کے لیے، یعنی دوام اور ثبوت کا فائدہ دینے کے لیے، اور یہ کیوں ہوتا ہے دوام اور ثبوت؟ کہتے ہیں بہت سے اغراض جو اس سے متعلق ہوتی ہیں، کوئی بھی غرض ہو جس وجہ سے آپ ثبوت اور دوام لانا چاہتے ہیں تو جملہ اسمیہ لاتے ہیں، مسند کو اسم کی صورت میں لاتے ہیں۔ جیسے ایک شاعر کہتا ہے: 'لَا يَأْلَفُ الدِّرْهَمُ الْمَضْرُوبُ صُرَّتَنَا' نہیں محبت کرتا درہم، مضروب وہ جس پر مہر لگی ہو، وہ درہم جس پر مہر لگی ہو وہ محبت نہیں کرتا 'صُرَّتَنَا' ہماری تھیلی سے، جو درہموں کی تھیلی ہے، کوئی بھی درہم ہماری تھیلی سے محبت نہیں کرتا۔ خود بتلا رہے ہیں صرّہ کس کو کہتے ہیں؟ جس کے اندر دراہم کو رکھا جائے، 'لٰكِنْ يَمُرُّ عَلَيْهَا وَهُوَ مُنْطَلِقٌ' لیکن وہ اس پر گزرتا ہے اس حال میں کہ وہ چلنے والا ہوتا ہے، اس حال میں کہ گزرنے والا ہوتا ہے۔ شاعر اپنی سخاوت کی تعریف کر رہا ہے اور سخاوت کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ درہم ہماری تھیلیوں کے اندر باقی نہیں رہتے بلکہ آتے ہیں، سائل آتے ہیں ہم ان کو عطا کر دیتے ہیں، وہ ختم ہو جاتے ہیں، اور آتے ہیں اور سائل آتے ہیں ہم ان کو عطا کرتے ہیں، ختم ہو جاتے ہیں، اور یہ سلسلہ دائمًا جاری ہے۔ دائمًا جاری ہے ہماری یہ سخاوت کہ درہم آ رہے ہیں لیکن اور گزرتے جا رہے ہیں، ہم سائلین کو دے رہے ہیں، یعنی کہ درہم کو ہماری تھیلی سے محبت ہی نہیں ہے، اس کے اندر وہ ٹھہرتا ہی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو 'الدِّرْهَمُ الْمَضْرُوبُ' فاعل، 'صُرَّتَنَا' مفعول، درہم محبت نہیں کرتے ہماری تھیلی سے۔ ملا عصام نے عجیب بات لکھی، کہتے ہیں بھئی مشہور تو یہی ہے کہ درہم فاعل ہے، صرّہ مفعول ہے، لیکن کہتے ہیں میرے نزدیک درہم کو مفعول بناؤ اور تھیلی کو کیا بناؤ؟ فاعل بناؤ، تاکہ مزید فائدہ حاصل ہو، اگر درہم کو فاعل بناؤ گے معنیٰ یہ: درہم ہماری تھیلی سے محبت نہیں کرتے، بلکہ یوں کہو: ہماری تھیلی درہم سے محبت نہیں کرتی، تاکہ کامل سخاوت کا پتہ چل جائے بھئی کہ ہماری تھیلی ٹھہرنے نہیں دیتی کسی درہم کو، وہ چلے جاتے ہیں۔ تو جب یہ کہا کہ ہماری تھیلی درہم سے محبت نہیں کرتی، وہم پیدا ہوا مولانا، کہ شاید آپ کو درہم ملتے ہی نہیں ہوں گے۔ سمجھ میں آیا؟ تو 'لٰکِنْ' استدراک کے لیے آتا ہے، ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو، اس کو کیا کرتا ہے؟ تو 'لٰکِنْ' کے ذریعے کہا: 'لٰکِنْ يَمُرُّ عَلَيْهَا' آتے رہتے ہیں لیکن گزرتے ہیں، 'وَهُوَ مُنْطَلِقٌ' اس حال میں کہ وہ کیا ہوتے ہیں؟ گزرنے والے ہوتے ہیں، مقامِ استشہاد 'مُنْطَلِقٌ' ہے مولانا، 'هُوَ' کے لیے خبر اسم لے کر آئے، 'اِنْطَلَقَ' فعل نہیں لے کر آئے، کس چیز پر دلالت کرنے کے لیے؟ دوام پر، یعنی کہ انطلاق کا تھیلی سے چلے جانا درہم کے لیے ثابت ہے دائمًا۔" "قال الشیخ عبد القاھر" شیخ عبد القاہر فرماتے ہیں: اچھا، ماتن کی بات سے کیا پتہ چلا؟ ماتن کے کلام سے پتہ چلا کہ فعل فائدہ دیتا ہے تجدد کا اور اسم فائدہ دیتا ہے دوام کا، ثبوت اور دوام کا۔ حالانکہ شیخ عبد القاہر نے کیا فرمایا تھا؟ شیخ عبد القاہر فرماتے ہیں کہ فعل فائدہ دیتا ہے صرف حدوث کا اور اسم فائدہ دیتا ہے صرف ثبوت کا۔ اور آپ نے کہا حدوث کے ساتھ ساتھ فعل تجدد کا بھی دیتا ہے اور اسم ثبوت کے ساتھ ساتھ دوام کا بھی فائدہ دیتا ہے، تو آپ نے تو زائد کر دیں دو چیزیں اس میں بڑھا دیں ان میں۔ تو یہ شیخ عبد القاہر کے کلام کو نقل کریں گے کہ انہوں نے کیا کہا ہے صرف اسم ثبوت کا فائدہ دیتا ہے، دوام کا فائدہ نہیں دیتا، لیکن اس کا جواب میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ وضع کے اعتبار سے ثبوت کا ہی فائدہ دیتا ہے، البتہ قرینۂ خارجیہ کی وجہ سے دوام بھی، اب دونوں کی بات درست ہو گئی، ماتن کی بات بھی درست، شیخ کی بات بھی۔ شیخ کے کہنے کا مقصد یہ ہے، اصلِ وضع میں فعل صرف حدوث کا فائدہ دے گا، اسم صرف ثبوت کا فائدہ دے گا۔ البتہ اور ماتن کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں تو حدوث ہی ہے لیکن قرینہ ملے گا تو تجدد بھی، اور اصل کے اندر تو ثبوت ہی ہے اسم کے اندر لیکن جب قرینہ ملے گا تو دوام بھی آ جائے گا۔ لہذا اس کے لیے تتبع کیا جائے کلامِ سکاکی کا، اس کی جستجو کی جائے، اس لیے کہ ہم نے اس اصطلاح کو نہیں پایا ان سے جو کہ ان سے پہلے ہیں، ان سے پہلے لوگوں سے یہ اصطلاح نہیں منقول بلکہ یہ انہی کی اصطلاحات ہیں، لہذا اس میں مزید تحقیق کے لیے جستجو انہی کے کلام میں کرنی چاہیے۔" "واما تقیید الفعل بالشرط" جی، آگے آپ کو بتلائیں گے کبھی کبھار فعل کو مقید بھی کرتے ہیں، مقید کیوں کرتے ہیں؟ مثلاً میں کہتا ہوں 'ضَرَبَ زَيْدٌ' زید نے پٹائی کی، کبھی میں اس کی قید بڑھاتا ہوں، کس کی پٹائی کی؟ 'عَمْراً' یہ جو مفعول میں لے کر آیا یہ قید بن گیا، معلوم ہوا ضرب کس کے اندر بند ہے؟ عمرو کے اندر بند ہے، یہ قید ہے مولانا، تو یہ مفعول لہ، مفعول بہ، مفعول معہ وغیرہ یہ ساری کیا ہوتی ہیں؟ قید۔ 'ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْراً فِي الْجُمُعَةِ' 'فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ' اس نے اور قید بڑھا دی کہ ضرب پہلی قید تھی کہ عمرو ہی میں بند ہے، نیز بتا دیا کہ اب صرف جمعے کے دن میں ہی ہوئی ہے، کسی اور وقت میں نہیں ہوئی، تو جتنی قیدیں بڑھائیں گے وہ قید ہیں، بڑھتی جائیں گی۔" "تو کہتے ہیں قید بڑھاتے ہیں، فعل کو مقید کرتے ہیں ان سب چیزوں کے ساتھ، کس لیے؟ فائدے کو بڑھانے کے لیے۔ ایک ہے نفسِ فائدہ، ایک ہے زائد فائدہ۔ نفسِ فائدہ مسند الیہ سے پورا ہو جاتا ہے، فاعل سے کیا ہوتا ہے؟ اور زیادہ فائدہ وہ کس سے ہوتا ہے؟ مفعول بہ، مفعول معہ وغیرہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کبھی کبھار قید بڑھاتے ہیں شرط کے ساتھ، فعل کو مقید کرتے ہیں شرط کے ساتھ۔" "مثال کے طور پر: 'أُكْرِمُكَ إِنْ تُكْرِمْنِي' میں تیرا اکرام کروں گا اگر تو میرا اکرام کرے، یہاں دیکھو جزا مقدم ہے اور 'إِنْ تُكْرِمْنِي' شرط کیا ہے؟ مؤخر۔ دوسری صورت عکس کر دو، شرط مقدم کر دو: 'إِنْ تُكْرِمْنِي أُكْرِمْكَ' اگر تو میرا اکرام کرے گا تو میں تیرا اکرام کروں گا۔ تو کبھی کبھار قید کیا جاتا ہے شرط کے ساتھ فعل کو، پس ایسے اعتبارات کی وجہ سے، یعنی خاص وہ نکات جن کا اعتبار کیا جاتا ہے اور ایسے حالات کی وجہ سے جو تقاضا کرتے ہیں، کیا تقاضا کرتے ہیں؟ کہ فعل کو مقید کیا جائے اس شرط کے ساتھ۔" "تو ایسے اعتبارات کی وجہ سے کہ ان کو پہچانا نہیں جا سکتا مگر یہ کہ پہچانا جائے اس تفصیل کو جو کس کے درمیان ہے؟ ادواتِ شرط میں ہے، یعنی جو حروفِ شرط ہیں اور اسمائے شرط ہیں، تفصیل میں۔" "تو آپ کیا کرتے ہیں کبھی کبھار اپنے فعل کو مقید کر دیتے ہیں شرط کے ساتھ، اور یہ مختلف نکات کی وجہ سے ہوتا ہے، مختلف حالات کی وجہ سے ہوتا ہے، اور ان حالات کے جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم معرفت حاصل کریں ان ادواتِ شرط کی، جن چیزوں کے ذریعے شرط بناتے ہیں جملے کو۔ 'اِنْ' ہے، 'إِذَا' ہے، اور 'مَنْ' وغیرہ جو شرطیہ، شرط کے لیے آتے ہیں، ان کی تفصیل کا پتہ ہوگا کہ فلاں کس چیز کے لیے ہے، فلاں کس چیز کے لیے ہے، تو آپ اس کے مطابق اس اعتبار کے مطابق اس کو قید بنائیں گے۔ مثلاً 'إِنْ' ہے مولانا، 'إِنْ' کس لیے آتا ہے؟ شک کے لیے، اور 'إِذَا' ہے، 'إِذَا' کس لیے آتا ہے؟ یقین کے لیے۔ تو 'إِنْ' ایسے موقع پر استعمال کریں گے جہاں معاملہ مشکوک ہو اور 'إِذَا' کو ایسے مواقع پر استعمال کریں گے جہاں معاملہ یقینی ہو۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: 'إِنْ تُكْرِمْنِي أُكْرِمْكَ' اگر تو میرا اکرام کرے گا تو میں تیرا اکرام کروں گا۔ تو کیا تمہارا اکرام کرنا یہ یقینی ہے کہ تم میرا اکرام کرو؟ یہ یقینی تو نہیں۔ لیکن اگر میں کہنا چاہتا ہوں کہ جب سورج طلوع ہوگا تو دن ہوگا، تو کیا سورج کا طلوع ہونا یقینی ہے یا مشکوک ہے؟ یقینی ہے، تو وہاں 'إِذَا' لائیں گے: 'إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ'۔ تو مقامِ شک میں 'إِنْ' لائیں گے اور مقامِ یقین میں 'إِذَا'۔ تو جب آپ کو ان حروف کی یہ تفصیل پتہ ہوگی کہ یہ حرف یقین کے لیے ہے، یہ حرف شک کے لیے ہے، یہ جملہ ماضی پر داخل کرنا ہے، اس کو مضارع پر داخل کرنا ہے، تو پھر ہی آپ کیا کریں گے ان نکات کے مطابق ان کو استعمال کریں گے۔ اگر آپ کو پتہ ہی نہیں ہے تو نکات کے مطابق ان کو استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے اسی وجہ سے انہوں نے کہا کہ کبھی کبھار مقید کرتے ہیں شرط کے ساتھ، پس ایسے اعتبارات کی وجہ سے کہ ان اعتبارات کو پہچانا نہیں جا سکتا مگر یہ کہ پہچان ہو اس تفصیل کی جو کس کے درمیان ہے؟ حروفِ شرط ہیں اور اسمائے شرط ہیں، تفصیل میں۔" "پس نکل گیا یہ مسند، جیسے 'زَيْدٌ مُنْطَلِقٌ أَبُوهُ'۔ یہ نکل گیا مولانا، کیونکہ یہاں مسند مفرد ہے، اس لیے کہ یہ مفرد ہے اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ"۔ یہ بھی خارج ہوا مسند، اس لیے کہ یہاں عائِد جو ہے وہ مسند الیہ ہے اور داخل ہوا اس کے اندر، مسندِ سببی کے اندر، کون سا مسند؟ جیسے 'زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ'۔ اس میں یہ تینوں شرائط دیکھ لیجئے کہ یہ سب داخل ہو جائیں گے۔ اسی طرح وہ جملے جو کیا واقع ہوئے ہیں؟ خبر واقع ہوئے ہیں مبتدا کے لیے اور تقوّی کا فائدہ نہیں دیتے۔ یہ بھی داخل ہو جائیں گے۔" "اور عمدہ کیا ہے اس کے اندر؟ کہتے ہیں کہ تتبع کیا جائے کلامِ سکاکی کا، اس کی جستجو کی جائے، اس لیے کہ ہم نے اس اصطلاح کو نہیں پایا ان سے جو کہ ان سے پہلے ہیں، ان سے پہلے لوگوں سے یہ اصطلاح نہیں منقول بلکہ یہ انہی کی اصطلاحات ہیں، لہذا اس میں مزید تحقیق کے لیے جستجو انہی کے کلام میں کرنی چاہیے۔" "اور کبھی کبھار فعل کو مقید بھی کرتے ہیں شرط کے ساتھ، اور کہتے ہیں بوجہ مسند کو قید کرنے کے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ، اور وہ تین زمانے کیا ہیں؟ ماضی، اور وہ زمانہ ہے جو آپ کے زمانے سے پہلے ہے، آپ کا زمانے سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں جس کے اندر آپ موجود ہیں۔ ماضی کس کو کہتے ہیں؟ گزرا ہوا زمانہ، یعنی جس زمانے میں آپ موجود ہیں، جو اس سے پہلے گزر چکا وہ کیا ہے؟ ماضی ہے۔ اور مستقبل، وہ زمانہ ہے جس کے وجود کا انتظار کیا جائے اس زمانے کے بعد۔ یعنی جس میں آپ موجود ہیں، اس کے بعد اس کے وجود کا انتظار ہو رہا ہے کہ اس زمانے کے بعد وہ زمانہ آئے گا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مستقبل کہتے ہیں۔ اور حال، اور اس میں اختلاف ہے، علماء بعض لکھتے ہیں کہ حال کا وجود ہے ہی نہیں۔ حال کوئی زمانہ نہیں ہے، زمانے دو ہیں: ایک ماضی ہے اور ایک مستقبل۔ کہتے ہیں حال کس چیز کا نام ہے؟ حال تو ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک باریک پردہ ہے بس۔ حال کون سا ہے؟ یہ حال ہے؟ یہ تو گزر گیا۔ یہ حال ہے؟ یہ تو گزر گیا۔ کس کو آپ حال کہہ رہے ہیں؟ ایک لمحہ پہلے یہ مستقبل تھا، دوسرے لمحے میں یہ ماضی بن گیا۔ تو حال کدھر ہے بھئی؟ حال کا وجود ہی نہیں ہے، ایک لمحہ پہلے دیکھو یہ لمحہ مستقبل ہے، آنے والا ہے، وہ چلا گیا بھئی، کیا بن گیا؟ ماضی ہوا۔ سیکنڈ کی بات نہیں ہو رہی بھئی، سیکنڈ بھی بڑی دیر رکا رہتا ہے بھئی۔ انتہائی قلیل تقسیم بھی کر لیں مولانا وقت کی، ابھی آنے والا ہے، ابھی گزر جائے گا بھئی فوراً۔ تو معلوم ہوا حال کہتے ہیں کوئی چیز نہیں۔ بعض کہتے ہیں نہیں بھئی، حال ہے، ہاں اس کا وقت بڑا مختصر ہے، وہ ایک لمحہ ہے، کیا ہے؟ ایک لمحہ ہے اور جو مسلسل بدلتا جا رہا ہے، یہ لمحہ حال ہے، گزر گیا، یہ لمحہ حال ہے، گزر گیا، یہ لمحہ حال ہے، گزر گیا بھئی، بڑی رفتار سے۔ تو حال ہے تو، سارا پیچھے گزر گیا ماضی، آگے جتنے آنے والا ہے مستقبل، اور حال کیا ہے؟ بڑا باریک سا ان کے درمیان وقت ہے، جو نا قابلِ تقسیم ہے، اتنا قلیل ہے کہ مزید اس میں تقسیم کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ تحقیق ہے مولانا، تحقیقی قول حال کے بارے میں۔ ہاں، عرف میں حال طویل ہے مولانا۔ میں کہتا ہوں 'ہم سبق پڑھ رہے ہیں' یعنی فی الحال، کس کے اندر؟ حال، زمانۂ حال کے اندر۔ معلوم ہوا میں نے تھوڑی سی ماضی ساتھ ملا دی، کچھ مستقبل ساتھ ملا دی اور اب کہہ رہے ہیں ہم کیا کر رہے ہیں؟ سبق پڑھ رہے ہیں۔ ورنہ حال تو کیا تھا؟ وہ قلیل وقت تھا، قلیل وقت تھا، لیکن میں نے حال کے ساتھ سارے کو تعبیر کیا، کچھ وقت جو گزر چکا اور کچھ وقت جو آنے والا ہے، تو عرف میں حال طویل ہے بھئی، عرف کے اعتبار سے، البتہ تحقیقی اعتبار سے حال بڑا قلیل ہے اور اس میں مزید تقسیم کی گنجائش نہیں۔ اور یہاں عرفی تعریف کریں گے، دیکھا؟ وہ اجزاء ہیں جو کس کے آخر میں سے ہیں؟ بھئی، جو ابھی ماضی جتنی گزر گئی اس کا جو آخری حصہ گزرا، ابھی ابھی گزرا، میں نے اس کو بھی حال میں ملایا، اور جو مستقبل آ رہا ہے، اس کے، جو شروع ہو رہا ہے، اس کے وقت کو بھی میں نے ملا رہی اور کہا 'ہم سبق پڑھ رہے ہیں'۔ تو وہ اواخرِ ماضی اور اوائلِ مستقبل کا نام ہے، جو کیسے ہوں؟ پے در پے ہوں، مسلسل یہ اجزاء ہوں گے، بغیر کسی مہلت اور تاخیر کے، ان کا نام حال ہے۔ اور یہ امرِ عرفی ہے اور یہ جو ہم نے بتلایا آپ کو کہ ماضی کے آخری حصہ کچھ ملا لیتے ہیں اور مستقبل کا ابتدائی حصہ ملا لیتے ہیں، یہ کون سا حال ہے؟ یہ امرِ عرفی ہے۔" "اور بوجہ یہ کہ فعل دلالت کرتا ہے اپنے ہیئت کے ساتھ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے پر، تو فعل تین زمانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ تقیید کا فائدہ دیتا ہے، ساتھ کس چیز کے؟ مفیدِ تجدد بھی ہوتا ہے، تو فعل کے اندر تقیید بھی آ گئی، قید بھی آ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ تجدد بھی آیا، کیونکہ تجدد زمانے کے اندر پایا جاتا ہے اور زمانہ فعل کے مفہوم میں داخل ہے، تو فعل کے اندر بھی کیا آ گیا؟ تجدد آ گیا، تو پھر فعل بھی کبھی تجدد پر دلالت کرتا ہے۔" "اور اسی کی طرف اشارہ کیا اپنے اس قول کے ساتھ: 'مَعَ إِفَادَةِ التَّجَدُّدِ'، کہ یہ متن ہے مولانا، 'مَعَ إِفَادَةِ التَّجَدُّدِ' یہ متن ہے۔ اب متن کو متن کے ساتھ جوڑو: مسند کو فعل لاتے ہیں تاکہ مقید کیا جائے بھئی مسند کو تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ، سب سے مختصر طریقے پر، اور ساتھ کس چیز کا افادہ ہوتا ہے؟ تجدد کا۔" "مثال سے بات سمجھ آئے گی، دیکھئے: جیسے ایک شاعر کہتا ہے: 'أَوَ كُلَّمَا وَرَدَتْ عُكَاظاً قَبِيلَةٌ بَعَثُوا إِلَيَّ عَرِيفَهُمْ' وہ بھیجتے ہیں میری طرف اپنے منتظم کو، 'وَهُوَ سُوقٌ لِلْعَرَبِ' یہ عرب کا بازار تھا، میلہ تھا، 'كَانُوا يَجْتَمِعُونَ فِيهِ' اس کے اندر وہ جمع ہوا کرتے تھے، 'فَيَتَنَاشَدُونَ' ایک دوسرے کو اشعار سنایا کرتے تھے 'وَيَتَفَاخَرُونَ' اور ایک دوسرے پر فخر بیان کیا کرتے تھے 'وَكَانَتْ فِيهِ وَقَائِعُ' اور اس کے اندر بڑے واقعات ہوتے تھے بھئی۔" "اور جب بھی آتا ہے عکاظ میں کوئی قبیلہ، وہ اپنے منتظم کو بھیجتے ہیں میری طرف، وہ آتا ہے اور میرے چہرے کو غور سے دیکھتا ہے اور پہچاننے کی کوشش کرتا ہے، بتلانا یہ چاہتا ہے، یہاں پر جب آیا کرتے تھے تو بعض اس قسم کے قاتل وغیرہ جن کی لڑائی ہوتی، اپنے چہروں کو ڈھانپ کر رکھتے تھے بھئی۔ تو یہ کہتا ہے میں اپنے چہرے کو ڈھانپ کر نقاب بھی نہیں اوڑھ کر رکھتا تھا، بتا رہا ہے، وہ آتے اور ہر قبیلے والا آ کر کیا کرتا؟ مجھے تلاش کرتا اور میرے علامتیں پہچاننے کی کوشش کرتا تھا، تو یہ شاعر بھی اور میں اتنا جری آدمی ہوں کہ میں نے نقاب بھی نہیں اوڑھا اور ایسا جرأت والا آدمی ہوں کہ ہر ہر قبیلے سے میری دشمنی ہے، ہر ہر قبیلے والے لوگوں کو میں نے قتل کیا ہوا ہے، اتنا جرأت والا آدمی ہوں میں۔ تو اس بات کو شاعر بیان کر رہا ہے۔" "تو مقامِ استشہاد 'يَتَوَسَّمُ' ہے مولانا، مقامِ استشہاد 'يَتَوَسَّمُ' فعل اور اس کے اندر فاعل ضمیر، جو کس کو راجع؟ عریف کو۔ تو یہ مسند کو فعل کی صورت میں لے کر آئے، کیوں؟ یہ بتلانے کے لیے کہ یہ جو چہروں کو پہچاننے کی کوشش ہے، یہ ایک مرتبہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ بار بار تجدد کے طریقے پر ہوتی ہے۔" "واما کونہ ای المسند اسماً فلافادۃ عدمہما" کبھی کبھار مسند کو اسم لاتے ہیں، تو کہتے ہیں مسند کا اسم ہونا بوجہ فائدہ دینے کے ان دونوں کے عدم کا، یعنی کس چیز کا؟ ایک تو کیا فعل میں کتنی شرطیں لگائی تھیں؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک کے ساتھ قید کرنے کا فائدہ دیتا ہے اور تجدد کا۔ تو جہاں تین زمانوں میں سے ایک کے ساتھ قید کرنا مقصود نہ ہو اور تجدد بھی مقصود نہ ہو، وہاں پھر ہم خبر کو کس کی صورت میں لاتے ہیں؟ مسند کو اسم کی صورت میں۔ یعنی افادۂ دوام اور ثبوت کے لیے، یعنی دوام اور ثبوت کا فائدہ دینے کے لیے، اور یہ کیوں ہوتا ہے دوام اور ثبوت؟ کہتے ہیں بہت سے اغراض جو اس سے متعلق ہوتی ہیں، کوئی بھی غرض ہو جس وجہ سے آپ ثبوت اور دوام لانا چاہتے ہیں تو جملہ اسمیہ لاتے ہیں، مسند کو اسم کی صورت میں لاتے ہیں۔ جیسے ایک شاعر کہتا ہے: 'لَا يَأْلَفُ الدِّرْهَمُ الْمَضْرُوبُ صُرَّتَنَا' نہیں محبت کرتا درہم، مضروب وہ جس پر مہر لگی ہو، وہ درہم جس پر مہر لگی ہو وہ محبت نہیں کرتا 'صُرَّتَنَا' ہماری تھیلی سے، جو درہموں کی تھیلی ہے، کوئی بھی درہم ہماری تھیلی سے محبت نہیں کرتا۔ خود بتلا رہے ہیں صرّہ کس کو کہتے ہیں؟ جس کے اندر دراہم کو رکھا جائے، 'لٰكِنْ يَمُرُّ عَلَيْهَا وَهُوَ مُنْطَلِقٌ' لیکن وہ اس پر گزرتا ہے اس حال میں کہ وہ چلنے والا ہوتا ہے، اس حال میں کہ گزرنے والا ہوتا ہے۔ شاعر اپنی سخاوت کی تعریف کر رہا ہے اور سخاوت کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ درہم ہماری تھیلیوں کے اندر باقی نہیں رہتے بلکہ آتے ہیں، سائل آتے ہیں ہم ان کو عطا کر دیتے ہیں، وہ ختم ہو جاتے ہیں، اور آتے ہیں اور سائل آتے ہیں ہم ان کو عطا کرتے ہیں، ختم ہو جاتے ہیں، اور یہ سلسلہ دائمًا جاری ہے۔ دائمًا جاری ہے ہماری یہ سخاوت کہ درہم آ رہے ہیں لیکن اور گزرتے جا رہے ہیں، ہم سائلین کو دے رہے ہیں، یعنی کہ درہم کو ہماری تھیلی سے محبت ہی نہیں ہے، اس کے اندر وہ ٹھہرتا ہی نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو 'الدِّرْهَمُ الْمَضْرُوبُ' فاعل، 'صُرَّتَنَا' مفعول، درہم محبت نہیں کرتے ہماری تھیلی سے۔ ملا عصام نے عجیب بات لکھی، کہتے ہیں بھئی مشہور تو یہی ہے کہ درہم فاعل ہے، صرّہ مفعول ہے، لیکن کہتے ہیں میرے نزدیک درہم کو مفعول بناؤ اور تھیلی کو کیا بناؤ؟ فاعل بناؤ، تاکہ مزید فائدہ حاصل ہو، اگر درہم کو فاعل بناؤ گے معنیٰ یہ: درہم ہماری تھیلی سے محبت نہیں کرتے، بلکہ یوں کہو: ہماری تھیلی درہم سے محبت نہیں کرتی، تاکہ کامل سخاوت کا پتہ چل جائے بھئی کہ ہماری تھیلی ٹھہرنے نہیں دیتی کسی درہم کو، وہ چلے جاتے ہیں۔ تو جب یہ کہا کہ ہماری تھیلی درہم سے محبت نہیں کرتی، وہم پیدا ہوا مولانا، کہ شاید آپ کو درہم ملتے ہی نہیں ہوں گے۔ سمجھ میں آیا؟ تو 'لٰکِن' استدراک کے لیے آتا ہے، ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو، اس کو کیا کرتا ہے؟ تو 'لٰکِنْ' کے ذریعے کہا: 'لٰکِنْ يَمُرُّ عَلَيْهَا' آتے رہتے ہیں لیکن گزرتے ہیں، 'وَهُوَ مُنْطَلِقٌ' اس حال میں کہ وہ کیا ہوتے ہیں؟ گزرنے والے ہوتے ہیں، مقامِ استشہاد 'مُنْطَلِقٌ' ہے مولانا، 'هُوَ' کے لیے خبر اسم لے کر آئے، 'اِنْطَلَقَ' فعل نہیں لے کر آئے، کس چیز پر دلالت کرنے کے لیے؟ دوام پر، یعنی کہ انطلاق کا تھیلی سے چلے جانا درہم کے لیے ثابت ہے دائمًا۔" "قال الشیخ عبد القاھر" شیخ عبد القاہر فرماتے ہیں: اچھا، ماتن کی بات سے کیا پتہ چلا؟ ماتن کے کلام سے پتہ چلا کہ فعل فائدہ دیتا ہے تجدد کا اور اسم فائدہ دیتا ہے دوام کا، ثبوت اور دوام کا۔ حالانکہ شیخ عبد القاہر نے کیا فرمایا تھا؟ شیخ عبد القاہر فرماتے ہیں کہ فعل فائدہ دیتا ہے صرف حدوث کا اور اسم فائدہ دیتا ہے صرف ثبوت کا۔ اور آپ نے کہا حدوث کے ساتھ ساتھ فعل تجدد کا بھی دیتا ہے اور اسم ثبوت کے ساتھ ساتھ دوام کا بھی فائدہ دیتا ہے، تو آپ نے تو زائد کر دیں دو چیزیں اس میں بڑھا دیں ان میں۔ تو یہ شیخ عبد القاہر کے کلام کو نقل کریں گے کہ انہوں نے کیا کہا ہے صرف اسم ثبوت کا فائدہ دیتا ہے، دوام کا فائدہ نہیں دیتا، لیکن اس کا جواب میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ وضع کے اعتبار سے ثبوت کا ہی فائدہ دیتا ہے، البتہ قرینۂ خارججی کی وجہ سے دوام بھی، اب دونوں کی بات درست ہو گئی، ماتن کی بات بھی درست، شیخ کی بات بھی۔ شیخ کے کہنے کا مقصد یہ ہے، اصلِ وضع میں فعل صرف حدوث کا فائدہ دے گا، اسم صرف ثبوت کا فائدہ دے گا۔ البتہ اور ماتن کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اصل میں تو حدوث ہی ہے لیکن قرینہ ملے گا تو تجدد بھی، اور اصل کے اندر تو ثبوت ہی ہے اسم کے اندر لیکن جب قرینہ ملے گا تو دوام بھی آ جائے گا۔ لہذا اس کے لیے تتبع کیا جائے کلامِ سکاکی کا، اس کی جستجو کی جائے، اس لیے کہ ہم نے اس اصطلاح کو نہیں پایا ان سے جو کہ ان سے پہلے ہیں، ان سے پہلے لوگوں سے یہ اصطلاح نہیں منقول بلکہ یہ انہی کی اصطلاحات ہیں، لہذا اس میں مزید تحقیق کے لیے جستجو انہی کے کلام میں کرنی چاہیے۔" "واما تقیید الفعل بالشرط" جی، آگے آپ کو بتلائیں گے کبھی کبھار فعل کو مقید بھی کرتے ہیں، مقید کیوں کرتے ہیں؟ مثلاً میں کہتا ہوں 'ضَرَبَ زَيْدٌ' زید نے پٹائی کی، کبھی میں اس کی قید بڑھاتا ہوں، کس کی پٹائی کی؟ 'عَمْراً' یہ جو مفعول میں لے کر آیا یہ قید بن گیا، معلوم ہوا ضرب کس کے اندر بند ہے؟ عمرو کے اندر بند ہے، یہ قید ہے مولانا، تو یہ مفعول لہ، مفعول بہ، مفعول معہ وغیرہ یہ ساری کیا ہوتی ہیں؟ قید۔ 'ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْراً فِي الْجُمُعَةِ' 'فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ' اس نے اور قید بڑھا دی کہ ضرب پہلی قید تھی کہ عمرو ہی میں بند ہے، نیز بتا دیا کہ اب صرف جمعے کے دن میں ہی ہوئی ہے، کسی اور وقت میں نہیں ہوئی، تو جتنی قیدیں بڑھائیں گے وہ قید ہیں، بڑھتی جائیں گی۔" "تو کہتے ہیں قید بڑھاتے ہیں، فعل کو مقید کرتے ہیں ان سب چیزوں کے ساتھ، کس لیے؟ فائدے کو بڑھانے کے لیے۔ ایک ہے نفسِ فائدہ، ایک ہے زائد فائدہ۔ نفسِ فائدہ مسند الیہ سے پورا ہو جاتا ہے، فاعل سے کیا ہوتا ہے؟ اور زیادہ فائدہ وہ کس سے ہوتا ہے؟ مفعول بہ، مفعول معہ وغیرہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کبھی کبھار قید بڑھاتے ہیں شرط کے ساتھ، فعل کو مقید کرتے ہیں شرط کے ساتھ۔" "مثال کے طور پر: 'أُكْرِمُكَ إِنْ تُكْرِمْنِي' میں تیرا اکرام کروں گا اگر تو میرا اکرام کرے، یہاں دیکھو جزا مقدم ہے اور 'إِنْ تُكْرِمْنِي' شرط کیا ہے؟ مؤخر۔ دوسری صورت عکس کر دو، شرط مقدم کر دو: 'إِنْ تُكْرِمْنِي أُكْرِمْكَ' اگر تو میرا اکرام کرے گا تو میں تیرا اکرام کروں گا۔ تو کبھی کبھار قید کیا جاتا ہے شرط کے ساتھ فعل کو، پس ایسے اعتبارات کی وجہ سے، یعنی خاص وہ نکات جن کا اعتبار کیا جاتا ہے اور ایسے حالات کی وجہ سے جو تقاضا کرتے ہیں، کیا تقاضا کرتے ہیں؟ کہ فعل کو مقید کیا جائے اس شرط کے ساتھ۔" "تو ایسے اعتبارات کی وجہ سے کہ ان اعتبارات کو پہچانا نہیں جا سکتا مگر یہ کہ پہچان ہو اس تفصیل کی جو کس کے درمیان ہے؟ ادواتِ شرط میں ہے، یعنی جو حروفِ شرط ہیں اور اسمائے شرط ہیں، تفصیل میں۔" "پس نکل گیا یہ مسند، جیسے 'زَيْدٌ مُنْطَلِقٌ أَبُوهُ'۔ یہ نکل گیا مولانا، کیونکہ یہاں مسند مفرد ہے، اس لیے کہ یہ مفرد ہے اور اسی طرح اللہ کا یہ قول ہے: "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ"۔ یہ بھی خارج ہوا مسند، اس میں جو ہے 'هُوَ' ضمیرِ شان مولانا، 'اللَّهُ أَحَدٌ' یہ خبر ہے بھئی۔ ضمیرِ شان کس کو کہتے ہیں؟ ایک ضمیر ہوئی کلام کے اندر جو کس کی طرف لوٹے؟ ذہن میں جو شان اور حال آپ نے تصور کیا، اس کی جانب لوٹے اور آپ نے ذہن میں کیا تصور کیا تھا؟ 'اللَّهُ وَاحِدٌ'۔ آگے فوراً آ کر اس کی تفسیر کر دیتے ہیں کہ ذہن میں میں نے یہ تصور کیا تھا، یہ حال تھا بھئی۔ تو "قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" 'هُوَ' ضمیرِ شان، 'اللَّهُ أَحَدٌ' مبتدا خبر مل کر اس کے لیے خبر۔ ترکیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اب بتلائیے، 'اللَّهُ أَحَدٌ' یہ پورا جملہ مسند ہے۔ اس میں شرائط دیکھتے ہیں، پھر آپ فیصلہ کریں مسندِ سببی ہے یا غیرِ سببی۔ 'اللَّهُ أَحَدٌ' پہلی شرط: جملہ ہے؟ جملہ ہے، 'اللَّهُ' مبتدا، 'أَحَدٌ' اس کی خبر۔ دوسری شرط: اس کے اندر عائِد ضمیر ہے؟ کوئی ضمیر نہیں ہے، معلوم ہوا یہ سببی ہے یا غیرِ سببی ہے؟ غیرِ سببی ہوا بھئی، کیا ہوا؟ کیونکہ ہم نے کہا تھا عائِد ہو، ضمیر ہو جو لوٹے، یہاں ضمیر نہیں ہے۔ یہاں مولانا ضمیر نہیں، کیوں نہیں؟ کیونکہ 'هُوَ' کس کی طرف راجع تھی؟ وہ شان، وہ حال جو ذہن میں تھا اور وہ کیا تھا؟ 'اللَّهُ أَحَدٌ'۔ تو 'هُوَ' کی تفسیر ہے 'اللَّهُ أَحَدٌ' یعنی 'هُوَ' مفسَّر ہے اور 'اللَّهُ أَحَدٌ' اس کی کیا ہے؟ اور مفسَّر اور تفسیر ایک ہوتے ہیں، تو یہ دونوں جب ہیں ہی ایک، دونوں میں پہلے سے ہی اتحاد موجود ہے، تو اب مزید کسی ربط کے دینے کی ضرورت نہیں۔" "لہذا یہ بھی خارج ہوا، کیونکہ یہاں تعلیق جو ہے مبتدا پر، وہ کس کے ساتھ نہیں ہے؟ عائِد کے ساتھ نہیں ہے۔ اور جیسے 'زَيْدٌ قَامَ' ہے، اور 'زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ'۔ جی، یہ کیا ہے آپ بتلائیے بھئی۔ 'زَيْدٌ قَامَ' 'قَامَ' مسند ہے، جملہ ہے؟ اس کے اندر ضمیرِ عائِد ہے؟ دوسری شرط بھی پوری۔ تیسری: یہ عائِد مسند الیہ تو نہیں کہیں؟ مسند الیہ ہے بھئی، 'قَامَ' فعل، 'هُوَ' ضمیر اس کا فاعل اور فاعل مسند الیہ ہوتا ہے۔ فاعل مسند الیہ ہوتا ہے، تو یہاں پر فاعل مسند الیہ ہے، معلوم ہوا تیسری شرط پوری نہ ہوئی، لہذا معلوم ہوا یہ مسندِ غیرِ سببی ہے۔ اور 'زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ' یہاں پر بتلائیے، 'زَيْدٌ' مبتدا، 'هُوَ قَائِمٌ' اس کی خبر، 'هُوَ قَائِمٌ' جملہ ہے؟ عائِد ضمیر ہے؟ تیسرے: یہ عائِد مسند الیہ تو نہیں؟ مسند الیہ ہے بھئی، کیونکہ 'هُوَ' مبتدا اور 'قَائِمٌ' اس کی خبر ہے اور مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، لہذا یہ شرط پوری نہ ہوئی، یہ بھی سببی سے خارج ہوا۔ کیونکہ ان کے اندر عائِد جو ہے وہ مسند الیہ ہے اور داخل ہوا اس کے اندر، مسندِ سببی کے اندر، کون سا مسند؟ جیسے 'زَيْدٌ أَبُوهُ قَائِمٌ' 'زَيْدٌ' مبتدا، 'أَبُوهُ قَائِمٌ' اس کی خبر۔ آپ بتلائیے، 'أَبُوهُ قَائِمٌ' یہ پوری خبر ہے، مسند ہے۔ یہ مسند جملہ ہے؟ جملہ ہے۔ دوسری شرط: عائِد ہے؟ ضمیر۔ جی، دوسری بھی پوری۔ تیسری: عائِد مسند الیہ ہے یا غیرِ مسند الیہ؟ غیرِ مسند الیہ، کیونکہ مسند الیہ 'أَبُوهُ' ہے اور 'هُوَ' ضمیر تو مضاف الیہ ہے۔ تو اسی طرح 'زَيْدٌ قَامَ أَبُوهُ'۔" "فَلِهٰذَا اكْتُفِيَ فِيهِ بِالتَّوَجُّهِ" "لہذا اکتفا کیا جائے گا اس مسند کے اندر کس چیز پر؟ متوجہ ہونے پر ہی اکتفا کر لیا جائے گا۔ یہ شخص چلے گا، جیسے ہی چلے گا، متوجہ ہوگا، تو کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔" "وَفِي غَيْرِهِ تَوَقَّفُوا عَلَىٰ حَقِيقَةِ الْفِعْلِ" "اور اس کے علاوہ جو مسند ہے اس کے اندر وہ موقوف رہے گا احرام کس پر؟ حقیقتِ فعل پر۔ حقیقتِ فعل پایا جائے، یعنی یہ پہنچے راستے میں اور کس کو پا لے؟ اپنے ہدی کو پا لے اور یا اس کو ہانکے، حقیقتِ فعل پایا جائے، پھر محرم بنے گا، ویسے محرم نہیں بنے گا۔" "تقریر یہاں تک سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ ہاں تو باقی ہدی کا چونکہ اختصاص مکہ کے ساتھ نہیں، اس لیے وہاں حقیقتِ فعل کا ہونا ضروری ہے کہ یہ شخص اس جانور تک پہنچے اور پھر اس کو ہانکے۔ اور اس ہدی کا اختصاص کس کے ساتھ ہے؟ مکہ کے ساتھ ہے۔ جب مکہ کے ساتھ اختصاص ہے، اس کا وجوب آتا ہی کہاں پر ہے؟ مکہ میں آتا ہے۔ تو لہذا صرف متوجہ ہونے پر ہی اکتفا کر لیا جائے گا، یہ شخص چلے گا، جیسے ہی چلے گا، متوجہ ہوگا، تو کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا، بشرطیکہ اس نے احرام کی نیت کی ہو۔" "چلیے بس، ہٰذا ہو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔"