کل مولانا ہم نے اطناب کی آٹھویں قسم اعتراض پڑھی تھی۔ اعتراض کہتے تھے کہ درمیانِ کلام میں یا دو متصل کلاموں کے بیچ میں ایک یا زیادہ جملوں کو لانا جن کے لیے کوئی محل اعراب بھی نہ ہو اور وہاں پر نکتہ جو ہے دفعِ ایہام کے علاوہ ہو۔ اور جیسے وہ نکتہ تنزیہ ہو سکتا ہے جیسے اللہ کے اس قول میں: ﴿وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ﴾ تو یہ ”سُبْحَانَهُ“ اصل میں کیا ہے؟ ”سَبَّحْتُ سُبْحَانَهُ“ یا ”أُسَبِّحُ سُبْحَانَهُ“۔ تو یہ جملہ درمیان میں پاکی بیان کرنے کے لیے اللہ کی ذکر کیا گیا بھئی۔ یہ جملہ معترضہ ہے بھئی۔ یا کبھی دعا ہو گی جیسے: ”إِنَّ الثَّمَانِينَ وَبُلِّغْتَهَا قَدْ أَحْوَجَتْ سَمْعِي إِلَى تَرْجُمَانِ“ کہ 80 سال جو ہیں انہوں نے محتاج کر دیا ہے میرے کانوں کو ترجمان کا بھئی کہ دوبارہ آواز کو دہرانے والا چاہیے ہوتا ہے بلند آواز سے تاکہ مجھے سمجھ میں آجائے بات۔ ”وَبُلِّغْتَهَا“ تو بھی پہنچایا جائے 80 سال تک، یہ کسی لمبی عمر کی دعا دے رہا ہے بھئی۔ تو یہ دعا کے طور پر جملہ معترضہ آیا بھئی اور شروع میں جو یہ واو آیا اس کو واوِ اعتراضیہ کہتے ہیں، نہ یہ عاطفہ ہے نہ یہ حالیہ ہے بھئی۔ اور کبھی کبھار جملہ معترضہ لاتے ہیں تنبیہ کرنے کے لیے، جیسے: ”وَاعْلَمْ فَعِلْمُ الْمَرْءِ يَنْفَعُهُ أَنْ سَوْفَ“ یہ ”أَنْ سَوْفَ“ ان مخففہ من المثقلہ ہے، اس کا اسم ضمیرِ شان محذوف ہے بھئی، اصل میں ہے ”أَنَّهُ سَوْفَ يَأْتِي“ کہ یقیناً جو عنقریب آ جائے گا ہر وہ چیز جو مقدر کی گئی ہے۔ یعنی تقدیر میں جو چیز ہے وہ آ جائے گی عنقریب۔ یہ مفعول ہے ”أَنْ سَوْفَ يَأْتِي كُلُّ مَا قُدِّرَ“ کس کا؟ ”إعْلَمْ“ کا۔ تو ”إعْلَمْ“ فعلِ امر ہے آگے مفعول، درمیان میں ”فَعِلْمُ الْمَرْءِ يَنْفَعُهُ“ یہ ذکر کیا گیا بھئی۔ کس لیے؟ تنبیہ کرنے کے لیے۔ جس چیز پر امر کر رہا ہے اس پر کیا کر رہا ہے؟ کہ جان لے اور پھر بتایا کہ جاننا آدمی کو کیا کرتا ہے؟ نفع دیتا ہے۔ جی۔ اچھا، تو چنانچہ پھر علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ یہ اعتراض، یہ تتمیم سے مباین ہوا مولانا۔ اس لیے کہ تتمیم ہمیشہ کیا ہو گی؟ فضلہ ہو گی اور فضلہ کے لیے محلِ اعراب ہو گا، حالانکہ ہم نے اس میں بتایا کہ اعتراض کے لیے کوئی محلِ اعراب نہیں۔ نیز یہ مباین ہو گی مولانا تکمیل سے بھی، اس لیے کہ تکمیل کس لیے آتی ہے؟ دفعِ ایہام کے لیے آتی ہے، اور یہ دفعِ ایہام کے لیے کبھی بھی نہیں آئے گا بھئی اعتراض۔ نیز یہ بتلایا کہ یہ ایغال سے بھی مباین ہے کیونکہ ایغال آخرِ کلام میں آتا ہے اور اس کے بارے میں آپ کو بتایا کہ یہ کلام کے بیچ میں آتا ہے بھئی۔ ہاں البتہ کہتے ہیں بعض تذییل کی صورتوں کو یہ شامل ہو گا۔ تذییل جبکہ وہ تذییل جملہ ہو، اس کے لیے کوئی محلِ اعراب نہ ہو اور دو جملتین متصلتین معناً کے بیچ میں وہ آ جائے تو اس پر وہ اعتراض بھی ہے اور تذییل بھی ہے۔ اور پھر مثال اس کی ذکر کی ماتن نے کہ جو اعتراض اکثر من الجملہ ہو بھئی، جیسے: ﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ﴾ تو دیکھو پہلے آیا: ﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾ تم آؤ اپنی بیویوں کے پاس جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے۔ آگے کہاں بھئی؟ کہاں اللہ نے کہاں آنے کا حکم دیا؟ وہ بیان آگے آیا ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ﴾ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، یعنی موضع جو موضعِ حرث ہے وہاں پر آؤ بھئی موضعِ حرث میں، تو یہ بیان ہے اس کے لیے۔ درمیان میں مولانا یہ ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ اللہ پسند کرتے ہیں توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتے ہیں کس کو؟ پاک رہنے والوں کو، اس کو ذکر کیا گیا ترغیب دینے کے لیے جس چیز کا حکم دیا گیا تھا اور جس چیز سے منع کیا گیا تھا اس سے متنفر کرنے کے لیے، اس سے دور کرنے کے لیے۔ جی۔ پھر اس کے بعد بعض دیگر علماء کا مذہب بیان کیا کہ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ اعتراض میں انہوں نے کیا کہا تھا؟ نکتہ کیا ہونا چاہیے؟ دفعِ ایہام کا نکتہ نہ ہو، لیکن بعض کہتے ہیں نہیں دفعِ ایہام کا نکتہ بھی ہو سکتا ہے۔ جی۔ پھر انہوں نے جنہوں نے کہا تھا کہ دفعِ ایہام کا نکتہ ہو سکتا ہے ان میں سے پھر بعض دیگر علماء اور تھے، انہوں نے کہا بلکہ کلام کے آخر میں بھی آ سکتا ہے، آپ نے تو کیا کہا تھا کلام کے بیچ میں آئے گا، یہ آخر میں بھی آ سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اگر یہ تفسیر کی جائے اعتراض کی، تو اب کیا تفسیر کیا ہوئی مولانا؟ کلام کے درمیان میں بھی آ سکتا ہے آخر میں بھی آ سکتا ہے اور نکتہ دفعِ ایہام بھی ہو سکتا ہے اور دفعِ غیر ایہام ہاں اور تو اس کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو اب تو اور بھی چیزیں اس میں اس میں عموم اور بڑھ گیا، جب عموم بڑھا تو چند اور صورتوں کو بھی یہ شامل، جیسے مولانا یہ تذییل کو مطلقاً داخل ہو گئی اس کے اندر، اس لیے کہ تذییل کیا ہو گی مولانا؟ ہمیشہ ایسا جملہ ہو گی جس کے لیے کوئی محلِ اعراب نہیں ہو گا، وہ تو اس کے اندر ہی داخل ہو گئی۔ اور اسی طرح تکمیل کی بعض صورتیں بھی اس کے اندر داخل ہو گئیں بھئی۔ اچھا۔ اور پھر بعضوں پھر اور انہی میں سے انہی قائلین میں سے جنہوں نے کہا تھا نکتہ دفعِ ایہام بھی ہو سکتا ہے، انہی میں سے بعض نے کہا کہ اعتراض کا جملہ ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ غیرِ جملہ بھی، ہاں جملے کے علاوہ تو غیرِ جملہ بھی ہو سکتا ہے مولانا۔ تو اب تو اور زیادہ عموم آ گیا مولانا، جب اور عموم آیا تو اور مزید صورتوں کو یہ کیا ہوا؟ شامل ہو گیا۔ تتمیم اور تکمیل کی بھی بعض صورتوں کو شامل ہو گیا۔ تو چنانچہ یہ آٹھ طریقے تھے۔ کہتے ہیں اس کے علاوہ بھی کبھی کبھار اطناب اور طریقوں سے بھی کیا جاتا ہے، جیسے مثال: ﴿الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ﴾ وہ فرشتے جنہوں نے اٹھایا ہوا ہے عرش کو اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ تسبیح بیان پاکی بیان کرتے ہیں ساتھ حمد کے ساتھ اپنے رب کی، اپنے رب کی حمد کے ساتھ ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ﴿وَيُؤْمِنُونَ بِهِ﴾ اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو یہاں اطناب ہے مولانا، لیکن یہ آٹھ قسموں میں سے کسی ایک میں بھی داخل نہیں ہے بھئی۔ اور وہ یہ کہ ﴿وَيُؤْمِنُونَ بِهِ﴾ یہ مولانا اس میں اس کی وجہ سے اطناب آیا، کیونکہ جو بھی شخص ان فرشتوں کو کا معتقد ہے، ان کا اعتقاد رکھتا ہے وہ یقیناً یہ بھی جانتا ہے کہ یہ فرشتے کیا ہیں اللہ پر ایمان رکھتے ہیں بھئی یقیناً۔ تو فرشتے اللہ پر یہ ایمان رکھتے ہیں۔ تو لہٰذا ایمان رکھتے ہیں۔ تو یہ لیکن چونکہ شرفِ ایمانی کا اظہار ہو رہا ہے اس جملے کی وجہ سے، لہٰذا اس کے ذکر اس نے کیا کر دیا کلام میں حسن پیدا کر دیا بھئی۔ جی۔ تو دیکھیے، پھر آگے آیا: ”لَمْ يُذْكَرْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ لِأَنَّ إِيمَانَهُمْ لَا يُنْكِرُهُ“ ماتن نے ”لَا يُنْكِرُهُ“ کہا تھا، علامہ تفتازانی نے اس کا ترجمہ ”لَا يَجْهَلُهُ“ سے کیا بھئی، کس سے کیا؟ ماتن نے کہا تھا کیونکہ ایمان کا کوئی انکار نہیں کرتا۔ علامہ تفتازانی کہتے ہیں ایمان سے کوئی جاہل نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ ماتن نے کیا ذکر کیا؟ عدمِ انکار۔ اور بات ہو رہی ہے علم کی۔ کس کی ہو رہی ہے؟ بھئی یہ جملہ لایا گیا حالانکہ پہلے سے اس کا پہلے کلام سے علم ہے اس کا کہ یہ جو فرشتے ہیں وہ یقیناً کیا ہیں اللہ پر پہلے سے علم ہے، تو ”لَا يُنْكِرُهُ“ عدمِ انکار مستلزمِ علم نہیں مولانا۔ کسی چیز کا انکار نہ کرنا، اس کا یہ معنی ہوتا ہے کہ آدمی کو اس کا پتہ ہے؟ یہ ضروری تو نہیں بھئی، انکار نہ کرنا علم کو مستلزم نہیں بھئی۔ جی، ہاں کبھی ہو سکتا ہے پتہ ہے پھر بھی انکار نہیں کر رہا، کبھی ہو سکتا ہے پتہ ہی نہیں جب پتہ ہی نہیں تو انکار کس چیز کا بھئی؟ تو عدمِ انکار مستلزمِ علم نہیں ہے۔ اسی لیے علامہ تفتازانی نے اس کا معنی ”لَا يَجْهَلُهُ“ کے ساتھ کیا، اور عدمِ جہل مستلزمِ علم ہے۔ جب جہالت نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟ علم ہے بھئی۔ تو یہ جو ہے آٹھ صورتوں میں سے کسی ایک میں بھی داخل نہیں بھئی۔ تو اس میں ایمان کی شرافت کو ظاہر کیا گیا اور ترغیب دی گئی ایمان کے اندر بھئی۔ اور کبھی کبھار کہتے ہیں ایجاز اور اطناب قلت اور کثرتِ حروف کے اعتبار سے ہوتے ہیں کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ کلامِ آخر کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ پہلے تو نسبت تھی معنی کی طرف، معنی تھوڑا ہے لفظ زیادہ ہیں تو اطناب، معنی اور لفظ برابر ہیں تو مساوات، معنی زیادہ ہے لفظ تھوڑے ہیں تو ایجاز۔ لیکن اب کہتے ہیں کبھی کبھار دوسرے کلام کی طرف نسبت کرتے ہوئے ایسا ہوتا ہے کہ ایک کلام ایک معنی کو ادا کر رہا ہے دوسرا بھی اسی معنی کو ادا کر رہا ہے، لیکن ایک کے لفظ زیادہ ایک کے تھوڑے، تو جس کے الفاظ زیادہ ہوں گے اس کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ مطنب، اور جس کے تھوڑے ہیں اس کو موجز کہہ دیتے ہیں۔ جیسے: ”يَصُدُّ عَنِ الدُّنْيَا إِذَا عَنَّ سُؤْدَدٌ“ کہ وہ میرا ممدوح جو ہے اعراض کرتا ہے دنیا سے جب سرداری ظاہر ہو جائے۔ یعنی سرداری کے لیے چاہے مشقت ہی کیوں نہ ہو اور دوسری طرف دنیا ہو، تو وہ سرداری کو مشقت کے ساتھ جو سرداری ہے اس کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اگرچہ دنیا اپنے حسین ترین صورت میں ہی کیوں نہ اس کے سامنے ظاہر ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حسین ترین صورت میں۔ اور دوسرے شعر کے اندر کیا کہا؟ ”وَلَسْتُ بِنَظَّارٍ إِلَى جَانِبِ الْغِنَى“ میں ہرگز دیکھنے والا نہیں، میں دیکھنے والا نہیں ہوں کس کی طرف؟ مالداری کی جانب، ”إِذَا كَانَتِ الْعُلْيَا فِي جَانِبِ الْفَقْرِ“ جبکہ کیا ہو؟ بلندی کس میں ہو؟ عزت اور بلندی فقر کی جانب میں ہو، ایک طرف غنیٰ دولت ہے مال ہے، دوسری طرف بلندی سرداری عزت ہے اور فقر ہے تو میں کس کو جانب کس کو ترجیح دیتا ہوں؟ سرداری اور فقر کو ترجیح دیتا ہوں اور غنیٰ کی جانب نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا بھئی دولت کی طرف۔ اس پر اشکال ہوتا ہے، شعر میں آیا ”وَلَسْتُ بِنَظَّارٍ“، ”نَظَّار“ تو ہے مبالغے کا صیغہ یعنی زیادہ دیکھنا۔ ناظر کہتے ہیں دیکھنے والا، نظار زیادہ دیکھنے والا۔ تو ”لَسْتُ بِنَظَّارٍ“ میں زیادہ دیکھنے والا نہیں ہوں غنیٰ کی جانب بھئی، معلوم ہوا کچھ دیکھنے والا ہے۔ کچھ دیکھنے والا ہے۔ تو جواب اس کا کیا ہے مولانا؟ جواب وہی ہے جو اس آیت کا دیا جاتا ہے: ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾ اور آپ کا رب ذرہ بھر ظلم کرنے والا بھی نہیں بندوں پر۔ تو وہاں بھی ”ظَلَّام“ مبالغے کا صیغہ آیا۔ تو مبالغے کا، ظالم کہتے ہیں ظلم کرنے والا، ظلام بہت زیادہ ظلم کرنے والا، تو ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾ تو معنی تو یہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ آپ کا رب بندوں پر زیادہ ظلم کرنے والا نہیں، معلوم ہوا تھوڑا ظلم کرنے والا، حالانکہ یہ معنی بھی درست نہیں یہ بھی کفریہ معنی ہے مولانا۔ تو پھر کیا معنی؟ تو کہتے ہیں بھئی یہاں دراصل مبالغے کی نفی نہیں ہے بلکہ نفی میں مبالغہ ہے مولانا۔ مبالغے کی نفی نہیں ہے بلکہ نفی میں مبالغہ ہے۔ مبالغے کی نفی کیا معنی؟ مبالغے کی نفی یہ تھی: میں زیادہ دیکھنے والا نہیں۔ تو زیادہ دیکھنا مبالغہ ہے نا، تو اس زیادہ کو ختم کر دو۔ یعنی دیکھنے والا تو ہوں لیکن زیادہ دیکھنے والا نہیں۔ یہی معنی بن رہا تھا بظاہر نا، کہ میں زیادہ دیکھنے والا نہیں اور یہ کیا ہے مبالغے کی نفی ہے، یعنی زیادہ دیکھنے والا نہیں ہوں تھوڑا دیکھنے والا یہ معنی بظاہر سمجھ میں آ رہا تھا۔ کہتے ہیں لیکن یہاں یہ یہ جو معنی سمجھ میں آ رہا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبالغے کی نفی، یہ مبالغے کی نفی ہو رہی ہے ”لَسْتُ“ داخل ہو رہا ہے تو کہتے ہیں یہاں مبالغے کی نفی نہیں ہے بلکہ نفی میں مبالغہ ہے۔ نہ دیکھنے والا اور نہ دیکھنے کے اندر مبالغہ ہے، بالکل نہیں دیکھنے والا، بالکل نہیں دیکھنے والا۔ صورت سمجھ میں آئی دونوں کی بھئی؟ تو ایک ہے مبالغے کی نفی، ایک ہے نفی میں مبالغہ، یہاں نفی میں مبالغہ ہے۔ اسی طرح آیت میں ہے کہ آپ کا رب بالکل ظلم کرنے والا نہیں اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی بھئی۔ اور اسی کے قریب ہے کہتے ہیں اللہ تعالی کا یہ قول: ﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ﴾ اللہ سے سوال نہیں ہوتا جو وہ کرتے ہیں اور بندوں سے کیا ہو گا؟ سوال ہو گا، اللہ پوچھیں گے بھئی۔ تو یہاں پر دیکھیے، اور آگے اسی معنی کو ایک شاعر ادا کر رہا ہے، وہ کہتا ہے: ”وَنُنْكِرُ“ ہم چاہیں تو لوگوں کے جس قول کو چاہیں رد کر دیں، ہمارے غلبے اور ہماری حکومت اور ہمارے دبدبے کا یہ حال ہے کہ جس کے قول کو چاہیں رد کر دیں اور ٹھکرا دیں مولانا، اور لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ہمارے قول کو رد کرنے کی جرات نہیں رکھتا بھئی۔ تو یہ مولانا اب اسی معنی کو آیت میں بھی ادا کیا گیا اور اسی معنی کو شعر میں بھی ادا کیا گیا، لیکن شعر بڑا طویل آیت کے الفاظ بڑے مختصر، تو معلوم ہوا یہ آیت میں ایجاز ہے اور شعر کے اندر اطناب ہے مولانا۔ لیکن قریب کہا، قریب کہا۔ کیونکہ دونوں اصلِ معنی میں کہا تھا متحد ہونے چاہئیں اور یہ دونوں اصلِ معنی میں مساوی اور متحد نہیں۔ اس لیے کہ آیت کے اندر فعل کا ذکر آیا ہے اور فعل عام ہے، کلام قول کو بھی شامل ہے اور غیرِ قول کو بھی، جبکہ شعر کے اندر صرف قول کا تذکرہ آیا باقی افعال کو وہ شامل نہیں۔ جبکہ آیت میں تمام افعال کا تذکرہ ذکر آ گیا مولانا۔ اور نیز اس میں مولانا لطیف اشارہ کر دیا مصنف نے علمِ کلام علمِ معانی کے اختتام پر کہ ہمارا کلام بڑا بلند درجے کا ہے معمولی کلام نہیں بھئی۔ ہم چاہیں جس کے قول کو رد کر دیں، ہم نے جگہ جگہ علامہ تفتازانی کے اور علامہ سکاکی کے قول کو رد کیا، دیگر علماء کے اقوال کو ہم نے رد کیا، تو ہم جس کے قول کو چاہیں رد کر دیں ہمارا ہماری بات بڑی وزنی ہے بڑی قوی ہے، لیکن کوئی اور ہماری بات کو رد نہیں کر سکتا۔ الفن الثاني علم البيان جی، تو فنِ اول ختم ہوا مولانا، یہ فنِ ثانی ہے علمِ بیان بھئی۔ علمِ بیان میں ہمیں یہ بتلایا جائے گا کہ ایک معنی کو مختلف طریقوں سے کیسے ادا کیا جائے۔ ایک معنی کو مختلف طریقوں سے کیسے ادا کیا جائے جو وضوح اور خفاء میں مختلف ہوں۔ ایک کی دلالت معنی پر ظاہر ہو تو ایک کی دلالت معنی پر کیا ہو؟ خفی ہو۔ تو مختلف مواقع کے اعتبار سے مختلف انداز میں کلام کی ضرورت پڑتی ہے بھئی۔ کہیں مولانا ظاہری دلالت والا کلام لانا پڑتا ہے اور کہیں پر مخفی جس کی دلالت مخفی ہو ایسے کلام کو لانا پڑتا ہے بھئی۔ اس کا کتنا اثر ہوتا ہے؟ جیسے ایک بادشاہ تھا اس نے خواب میں دیکھا کہ اس کے سارے دانت گر گئے ہیں بھئی۔ اس نے معبر کو بلوایا بھئی تعبیر کرو اس خواب کے بارے خواب کے، بتاؤ بھئی یہ خواب میں نے دیکھا ہے۔ تعبیر کرنے والے نے بتلایا کہ بادشاہ سلامت، معلوم ہوا آپ کے سارے رشتہ دار آپ کی زندگی ہی میں آپ کے سامنے مر جائیں گے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ چڑھا بھئی، کہا لے جاؤ بھئی اس کو جیل کے اندر ڈال دو بھئی، یہ کیسی اس نے تعبیر کی ہے بھئی۔ سارے رشتہ دار، بیٹے، بیویاں، سب رشتہ دار مر جائیں گے آپ کے۔ دوسرے کسی اور کو بلواؤ بھئی، ایک اور معبر کو بلوایا، بھئی میں نے خواب دیکھا ہے میرے سارے دانت گر گئے ہیں کیا تعبیر ہے؟ کہنے لگا: بادشاہ سلامت، معلوم ہوا آپ کی زندگی اپنے سارے خاندان والوں سے زیادہ طویل ہو گی۔ بادشاہ بڑا خوش ہوا بھئی اور بڑا انعام دیا اس کو۔ تو دیکھو وہی بات تھی لیکن ایک نے اس کو تعبیر دوسرے انداز میں کیا صراحتاً بات کر دی، اور دوسرے نے اس کو کیا کیا کنایہ کے انداز میں بات کی کہ جس سے مطلوب بھی حاصل ہوا اور بات ناخوشگوار بھی نہ رہی بھئی۔ تو یہ علم ہے جس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ ایک معنی کو مختلف طرق سے ادا کرنے کا طریقہ آتا ہے بھئی۔ جیسے مولانا ایک معنی ہے: ”زَيْدٌ كَرِيمٌ“ کیا معنی؟ زید سخی ہے۔ اسی معنی کو اب دوسرے الفاظ میں یوں ادا کریں گے، مختلف طریقوں سے۔ ایک کیا ہوا ”زَيْدٌ كَرِيمٌ“۔ ”زَيْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ“ ”زَيْدٌ جَبَانُ الْكَلْبِ“ ”زَيْدٌ مَهْزُولُ الْفَصِيلِ“ سب کا معنی وہی ہے بھئی۔ لیکن ایک کی دلالت اوضح، باقی کی میں کچھ بعد میں خفاء۔ تو یہ طریقہ علمِ بیان ہمیں سکھلائے گا بھئی۔ ”زَيْدٌ كَرِيمٌ“ کا معنی زید سخی۔ ”زَيْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ“ زید بڑی راکھ والا ہے۔ بھئی بڑی راکھ والا؟ اس لیے بھئی یہ بھی سخاوت کے لیے سخی کے لیے بولا جاتا ہے، کیونکہ اس کے گھر ہر وقت مہمان آتے جاتے رہتے ہیں تو ہر وقت کھانا وغیرہ تیار ہوتا رہتا ہے اور کھانا تیار ہو گا تو راکھ بھی زیادہ پڑی ہو گی۔ تو زیادہ راکھ والا ہونا یہ کنایہ ہے کس سے؟ سخی ہونے سے۔ اسی طرح ”زَيْدٌ جَبَانُ الْكَلْبِ“ زید بزدل کتے والا ہے۔ بھئی اس لیے کہ زید کے گھر دن رات مہمان آتے رہتے ہیں، جب مہمان آتے ہیں تو لوگوں کی آمد و رفت کی وجہ سے کتا بھی کیا ہے؟ ڈرتا رہتا ہے بھئی۔ اور ایک وہ گھر ہے جس کے اندر کبھی کوئی مہمان آیا ہی نہیں مولانا، وہ کتا تو کسی ایک کو بھی قریب نہیں آنے دے گا بھئی۔ اور جہاں دن رات آتے رہتے ہیں مہمان تو کتا کسی کو بھی کچھ نہیں کہتا نہ چھیڑے گا، تو کہا اس کا کتا گویا کہ بزدل ہے بھئی۔ اسی طرح ”زَيْدٌ مَهْزُولُ الْفَصِيلِ“ بھئی، زید کی اونٹنی کا بچہ کمزور ہے۔ یہ بھی کنایہ سخاوت سے بھئی۔ معلوم ہوا اونٹنی کا بچہ کمزور اس لیے ہے کہ زید اونٹنی کا دودھ اسے پینے ہی نہیں دیتا بلکہ دن رات مہمان آ رہے ہیں تو اونٹنی کا دودھ کن کو پیش کیا جاتا ہے؟ مہمانوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ ”قَدَّمَهُ عَلَى الْبَدِيعِ لِلِاحْتِيَاجِ إِلَيْهِ فِي نَفْسِ الْبَلَاغَةِ“ مقدم کیا اس کو علمِ بدیع پر ”لِلِاحْتِيَاجِ إِلَيْهِ فِي نَفْسِ الْبَلَاغَةِ“ اس لیے کہ احتیاج ہے اس کی طرف مولانا نفسِ بلاغت کے اندر، ”وَتَعَلُّقِ الْبَدِيعِ“ یہ عطف ہو رہا ہے احتیاج پر، تعلق کا عطف ہے احتیاج پر، ”وَتَعَلُّقِ الْبَدِيعِ بِالتَّوَابِعِ“ اور اس وجہ سے مقدم کیا بدیع پر کہ بدیع کا تعلق کس سے ہے؟ توابع سے ہے۔ بھئی علمِ بدیع کے ذریعے کلام میں حسن پیدا کیا جاتا ہے اور علمِ بیان کے ذریعے تعقیدِ معنوی سے حفاظت ہوتی ہے۔ کس سے؟ تعقیدِ معنوی سے۔ معلوم ہوا علمِ بیان جز ہے بلاغت کا اور وہ علمِ بدیع خارج ہے بلاغت سے کہ حق میں، اور جو چیز جز ہو وہ مقدم ہو گی اور جو تابع ہو وہ کیا ہو گی؟ مؤخر ہو گی۔ تو چونکہ علمِ بیان کے ذریعے کس سے حفاظت ہو گی؟ تعقیدِ معنوی۔ تعقیدِ معنوی کس کو کہتے تھے؟ کہ لفظ کی دلالت معنیٰ مراد پر کیا ہو؟ واضح نہ ہو، اس کو کیا کہتے تھے؟ تعقیدِ معنوی کہتے تھے۔ تو تعقیدِ معنوی یہ ضروری ہے فصاحت کے اندر مولانا، اور فصاحت ضروری ہے بلاغت کے لیے، معلوم ہوا تعقیدِ معنوی سے بچنا ضروری ہے کس کے لیے؟ بلاغت کے لیے، تو معلوم ہوا یہ علم جز ہے کس کا؟ علمِ بلاغت کا، تو یہ مقدم ہوا۔ ”قَدَّمَهُ عَلَى الْبَدِيعِ“ مقدم کیا اس کو بدیع پر کیونکہ احتیاج ہے اس کی نفسِ بلاغت کے اندر ”وَتَعَلُّقِ الْبَدِيعِ بِالتَّوَابِعِ“ اور علمِ بدیع کا تعلق توابعِ بلاغت سے ہے۔ ”وَهُوَ عِلْمٌ أَيْ مَلَكَةٌ يُقْتَدَرُ بِهَا عَلَى إِدْرَاكَاتٍ جُزْئِيَّةٍ أَوْ أُصُولٌ وَقَوَاعِدُ مَعْلُومَةٌ“ جی۔ ”وَهُوَ عِلْمٌ يُعْرَفُ بِهِ إِيرَادُ الْمَعْنَى الْوَاحِدِ بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ“ یہ وہ علم ہے جس کے ذریعے جانا جاتا ہے لانا ایک معنی کو مختلف طریقوں سے۔ وہ علم ہے جس کے ذریعے ایک معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کرنے کا طریقہ جانا جاتا ہے کہ ایک معنی کو مختلف انداز میں کیسے ادا کرنا ہے بھئی، ”وَالطُّرُقِ مُخْتَلِفَةٌ فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ“ اس معنی مراد پر دلالت کرنے میں وضاحت واضح ہونے کے اعتبار سے، کسی کی دلالت اوضح ہو گی معنی مراد پر، بھئی یہ معنی آپ نے ادا کرنا ہے، یہ ایک آپ عبار عبارت لے کر آئے، یہ عبارت اس معنی پر خوب ظاہر طریقے سے دلالت کر رہی ہو گی یا واضح طریقے سے دلالت نہیں کر، تو اس اعتبار سے طریقے مختلف ہوں گے مولانا، بعض میں دلالت اوضح ہو گی، بعض میں واضح ہو گی، بعض میں خفی ہو گی، بعض میں اخفیٰ ہو گی مولانا، تو یہ طریقے یہ کس سے معلوم ہوں گے ہمیں؟ علمِ بیان، تو علمِ بیان وہ علم ہے جس کے ذریعے جانا جاتا ہے کسی ایک معنی کو ادا کرنے کا مختلف طریقوں کے ساتھ ادا کرنے کا ادا ادا کرنا جانا جاتا ہے ادا کرنا وہاں۔ اب انہوں نے کیا کہا؟ ”وَهُوَ عِلْمٌ“ وہ علم ہے۔ علم کے دو معنی گزرے تھے مولانا علمِ معانی کی ابتداء میں آپ نے پڑھے تھے، علم کے دو معنی انہوں نے بیان کیے تھے کیا؟ ایک تو علم نام ہے ملکہ کا، ”وَهُوَ عِلْمٌ أَيْ مَلَكَةٌ يُقْتَدَرُ بِهَا عَلَى إِدْرَاكَاتٍ جُزْئِيَّةٍ“ وہ ملکہ ہے جس کے ساتھ قادر ہوا جاتا ہے ادراکاتِ جزئیہ پر بھئی۔ بھئی ملکہ آپ نے پڑھا تھا یعنی نفس کے اندر ایک کیفیت ہے کیفیتِ راسخہ جو نفس کے اندر کیا ہو جائے؟ پختہ ہو جائے، جس کے ذریعے انسان اس قسم کی عبارت لانے پر کیا ہو؟ قادر ہو جائے، مختلف انداز کی عبارت لانے پر قادر، اس میں قدرت پیدا ہو جائے، پختہ قدرت پیدا ہو جائے جو اس سے آسانی سے جدا نہ ہو، تو اس کو کہتے ہیں ملکہ بھئی۔ ایک ہے حالت جو تھوڑی دیر کے لیے آئی ختم ہو گئی، اور ایک ہے ملکہ کہ پختہ کیفیت آ گئی اب آسانی سے جدا نہیں ہوتی۔ ”أَوْ أُصُولٌ وَقَوَاعِدُ مَعْلُومَةٌ“ یہ علم بمعنی معلوم کے ہے مولانا اور اس سے کیا مراد ہیں؟ وہ اصول اور قواعد جو معلوم ہیں، وہ اصول اور قواعد جو معلوم ہیں۔ تو کہتے ہیں علم سے مراد آپ چاہے ملکہ لے لیں آپ چاہے قواعدِ معلومہ لے لیں دونوں صحیح ہیں۔ کیسے؟ علمِ علمِ بیان وہ نام ہے ملکے کا، کس کا نام ہے؟ دیکھیے علم کی جگہ ملکہ رکھو، وہ اس ملکے کا نام ہے جس کے ذریعے ایک معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کرنے کا طریقہ انسان کیا کر سکتا ہے؟ جب وہ ملکہ انسان میں آ جاتا ہے تو وہ ایک معنی کو کیا کرتا ہے؟ مختلف طریقوں سے ادا کر سکتا ہے۔ یا مولانا وہ قواعد کا نام ہے اس علمِ بیان اس کے اندر جو قواعد بیان ہوں گے، تو علمِ بیان ان قواعد کا نام ہے کہ جب یہ قواعد انسان کے ذہن میں سارے حاضر ہوں گے تو ان کی مدد سے اب وہ کیا کر سکتا ہے؟ ایک معنی کو مختلف طریقوں سے ادا کر سکتا ہے۔ ”أَيْ مَلَكَةٌ“ ملکے کا نام ہے ”يُقْتَدَرُ بِهَا عَلَى“ کہ قادر ہوا جاتا ہے اس کے سبب سے کس پر؟ ”إِدْرَاكَاتٍ جُزْئِيَّةٍ“ پر، ”أَوْ أُصُولٌ وَقَوَاعِدُ مَعْلُومَةٌ“ یا مولانا یہ اصول اصول اور قواعد ایک معنی مولانا، عطفِ تفسیری ہے، یا یہ قواعدِ معلومہ کا نام ہے۔ تو علم کے دونوں معنی، دو معنی میں استعمال ہوتا ہے دونوں صحیح ہیں بھئی۔ ”يُعْرَفُ بِهِ إِيرَادُ الْمَعْنَى الْوَاحِدِ“ جانا جاتا ہے اس کے سبب سے ایک معنی کو لانا کہ کس طرح لانا ہے، ”أَيْ الْمَدْلُولِ عَلَيْهِ“ وہ معنی جس پر دلالت کی گئی ہے، دلالت کی جائے مولانا جس پر دلالت کی جائے ”بِكَلَامٍ“ ایسے کلام کے ساتھ ”مُطَابِقٍ لِمُقْتَضَى الْحَالِ“ جو مطابق ہو کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ مطابق ہو گا، ”بِطُرُقٍ وَتَرَاكِيبَ مُخْتَلِفَةٍ“ کس کے ساتھ؟ طرق اور تراکیب ایک معنی، عطفِ تفسیری ہے، کہ وہ کئی تراکیب یا کئی طریقوں کے ساتھ ”مُخْتَلِفَةٍ“ اور وہ طریقے مختلف ہوں گے ”فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ“ کس چیز کے اندر؟ اس معنی پر دلالت کے واضح ہونے میں مختلف، اس معنی پر دلالت کے واضح ہونے میں وہ طریقے کیا ہوں گے؟ مختلف ہوں گے۔ بعض طریقوں کی دلالت کیا ہو گی؟ اوضح ہو گی، بعض کی کیا ہو گی؟ واضح ہو گی، بعض کی کیا ہو گی؟ خفی ہو گی، بعض کی اخفیٰ ہو گی۔ ”عَلَيْهِ“ ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں: ”أَيْ عَلَى ذَلِكَ الْمَعْنَى“ اس معنی پر، ”بِأَنْ يَكُونَ“ یہ با سببیہ بھی بنا سکتے ہیں با تصویریہ بھی مولانا، بصورت اس کے کہ بعض طرق جو ہیں وہ ”وَاضِحُ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ“ ان کی دلالت اس معنی پر کیا ہو گی؟ واضح ہو گی ”وَبَعْضُهَا أَوْضَحَ“ اور بعض کیا ہوں گے؟ اوضح ہوں گے۔ ”بَعْضُ الطُّرُقِ وَاضِحَ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ وَبَعْضُهَا أَوْضَحَ وَالْوَاضِحُ خَفِيٌّ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْأَوْضَحِ“۔ یہ علامہ خلخالی کا رد کر رہے ہیں مولانا۔ علامہ خلخالی نے کیا کہا تھا؟ کہ ”فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ وَخَفَائِهَا“۔ انہوں نے وضوح کا ذکر مصنف نے کیا خفاء کا ذکر نہیں کیا، تو علامہ خلخالی نے تقدیرِ عبارت یہاں آگے نکالی محذوف نکالا، انہوں نے کیا کہا؟ ”فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ وَخَفَائِهَا“ کہ وضوحِ دلالت میں مختلف ہوں گی اور خفائے دلالت میں مختلف ہوں گی۔ علامہ تفتازانی رد کر رہے ہیں کہ نہیں بھئی خفاء کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ جب ایک معنی اوضح ہے دوسرا معنی کیا ہے؟ واضح ہے، تو معلوم ہوا اس کا درجہ کچھ کم ہے تو یہ اس کی بنسبت کچھ خفی ہوا، کیا ہوا؟ خفی ہوا، تو لہٰذا جب اسی کے اندر خفاء آ گیا تو خفاء کو الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ”وَالْوَاضِحُ خَفِيٌّ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْأَوْضَحِ“ اور واضح وہ خفی ہوتا ہے کس کی نسبت سے؟ ایک خفی ایک واضح ہے ایک اوضح ہے بھئی، تو واضح خفی ہے اوضح کی نسبت سے، ”فَلَا حَاجَةَ إِلَى ذِكْرِ الْخَفَاءِ“ تو لہٰذا کوئی حاجت نہیں مولانا کہ خفاء کو بھی ذکر کیا جائے۔ ”وَتَقْيِيدُ الِاخْتِلَافِ بِالْوُضُوحِ“ اچھا، بھئی انہوں نے کیا کہا؟ وہ تراکیب مختلف ہوں گی، وہ تراکیب کیا ہوں گی؟ کس چیز میں؟ ”فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ“ اس معنی پر دلالت کے واضح ہونے میں، ہاں واضح ہونے میں، اس معنی پر دلالت کے واضح ہونے میں وہ کیا ہوں گے؟ تو یہ ”فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ“ بھئی وہ تراکیب مختلف ہوں گی، آگے قید بڑھا دی کس چیز میں؟ وضوح ”فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ عَلَيْهِ“، یہ قید کیوں بڑھائی بھئی؟ دلالت کے واضح ہونے میں۔ بس جواب دے رہے ہیں مولانا کہ اس لیے کہ تراکیب اور طرق مختلف ہو سکتے ہیں الفاظ کے اعتبار سے، اس کو خارج کر دیا۔ دیکھو مثلاً میں نے کہا تھا ”زَيْدٌ كَرِيمٌ“، پھر میں نے کیا کہا ”زَيْدٌ كَثِيرُ الرَّمَادِ“، تو ایک اور پھر میں نے کہا ”زَيْدٌ مَهْزُولُ الْفَصِيلِ“، ”زَيْدٌ جَبَانُ الْكَلْبِ“، تو یہ ان میں ان طریقوں کی دلالت معنی مراد پر مختلف ہے، بعض کی کیا ہو گی؟ واضح ہو گی، بعض کی اوضح ہو گی، بعض کی خفی ہو گی، بعض کی اخفیٰ ہو گی۔ لیکن بعض اوقات صرف مختلف تو ہوتے ہیں لیکن سب برابر ہوتے ہیں، صرف الفاظ بدلے جاتے ہیں، اس کو نکال دیا مصنف نے کہ سب اگر برابر ہیں اور ان میں وضوح میں فرق نہیں ہے وہ اس میں داخل نہیں۔ مثلاً آپ کیا کہتے ہیں شیر کے بارے میں کیا بتانا چاہتے ہیں ”رَأَيْتُ أَسَدًا“ میں نے ایک شیر کو دیکھا، آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں ”رَأَيْتُ لَيْثًا“ میں نے ایک شیر کو دیکھا، آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں ”رَأَيْتُ حَيْدَرَةَ“ میں نے کس کو دیکھا؟ شیر کو دیکھا، آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں ”رَأَيْتُ غَضَنْفَرَ“ میں نے کس کو دیکھا؟ غضنفر کو دیکھا، آپ اور کیا کہہ سکتے ہیں؟ جی؟ ہاں ”رَأَيْتُ أَسَدًا“ بھی کہہ سکتے ہیں، اسی طرح ”رَأَيْتُ حَارِثًا“ یہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ تو دیکھیے یہ الفاظ مترادف ہیں تو اس سے وضوح اور خفاء میں کوئی فرق آیا؟ نہیں، تو یہ الفاظ تو یہ طرق مختلفہ ہیں لیکن یہ مختلف ہیں کس اعتبار سے؟ صرف الفاظ اور عبارت کے اعتبار سے مختلف ہیں وضوحِ دلالت کے اعتبار سے مختلف نہیں، تو اس کو ماتن نے خارج کر دیا ”فِي وُضُوحِ الدَّلَالَةِ“ قید کے ذریعے۔ ”وَتَقْيِيدُ الِاخْتِلَافِ بِالْوُضُوحِ“ اور یہ جو قید کیا مولانا اختلاف کو کس کے ساتھ؟ وضوح کے ساتھ، یہ کیوں کیا؟ ”لِيُخْرِجَ“ تاکہ نکال دے ”مَعْرِفَةَ إِيرَادِ الْمَعْنَى الْوَاحِدِ بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ“ جاننا کس کو؟ معنی واحد کو کے لانے کو جاننا ”بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ“ مختلف طریقوں کے ساتھ اور وہ مختلف کس چیز میں ہیں؟ ”فِي اللَّفْظِ وَالْعِبَارَةِ“ ان کو نکالنے کے لیے مولانا اختلاف کو وضوح کے ساتھ کیا کیا؟ قید کیا بھئی۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ ”وَاللَّامُ فِي الْمَعْنَى الْوَاحِدِ لِلِاسْتِغْرَاقِ الْعُرْفِيِّ“ اور لام جو آ رہا ہے ”الْمَعْنَى الْوَاحِدِ“ مولانا، اس میں لام کون سا ہے؟ لامِ استغراقی ہے اور استغراقِ عرفی مراد ہے۔ ایک استغراقِ حقیقی ہے آپ پڑھ چکے ہیں مولانا، ہر ہر فرد اس میں داخل ہو جائے بھئی، ہر ہر فرد اس میں جیسے ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“، تمام آلہہ کی نفی ہو گئی مولانا سوائے اللہ کے، یہ استغراق کیا ہے؟ حقیقی۔ اور ایک استغراقِ عرفی ہے: ”جَمَعَ الْأَمِيرُ الصَّاغَةَ“ امیر نے کس کو جمع کیا؟ سناروں کو، تو ساری دنیا کے سنار مراد ہیں یا صرف اس کی مملکت یا شہر کے؟ صرف شہر یا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استغراقِ عرفی کہتے ہیں۔ تو یہاں بھی استغراقِ عرفی مراد ہے مولانا استغراقِ حقیقی نہیں۔ کس طرح؟ انہوں نے کہا ایک معنی کو لانے کے مختلف طریقوں کو جانا جائے۔ اب یہ جو انہوں نے کہا نا یہ معنی واحد کو ان اس معنی واحد سے مراد ایک ہی معنی مراد ہے یا سارے جتنے بھی معانی ممکن ہیں مولانا وہ سارے مراد ہیں؟ تو اگر سارے جتنے بھی ممکن ہے یہ استغراقِ حقیقی ہو گا۔ کہتے ہیں سارے معانی مراد ہیں لیکن استغراق حقیقی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ اس لیے کہ حقیقی انسان قادر ہی نہیں ہے اس بات پر کہ سارے معانی اس کو معلوم ہو جائیں جتنے بھی ممکن ہیں۔ تو پھر کہتے ہیں استغراقِ عرفی ہے، استغراق ہے بھی اور جو عرف میں، یعنی جتنے ارادوں کے ساتھ اس کا قصد اس کا ارادہ متعلق ہو سکتا ہے، جتنے کے ساتھ جتنے کا وہ ارادہ کر سکے، جس معنی کا بھی متکلم ارادہ کرنا چاہے اس کو مختلف طریقوں سے ادا کرنے پر قادر ہو تو کیا کہیں گے وہ ماہر ہے کس کا؟ علمِ بیان کا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”وَاللَّامُ فِي الْمَعْنَى الْوَاحِدِ لِلِاسْتِغْرَاقِ الْعُرْفِيِّ“ لام جو ہے معنی واحد کے اندر استغراقِ عرفی کے اندر ہے۔ جی، معلوم ہوا ایک آدمی ہے اس کو ایک معنی مختلف طریقوں سے ادا کرنا آتا ہے، مثلاً ”زَيْدٌ كَرِيمٌ“ زید سخی ہے، وہ اس کو کئی طریقوں سے ادا کر دیتا ہے، تو کیا وہ علمِ بیان کا ماہر کہلائے گا بھئی؟ جی؟ نہیں، ایک معنی کو جاننے سے کوئی نہیں علمِ بیان کا ماہر کہلائے گا، بلکہ کیا؟ جب تک جتنے جس معنی کا بھی وہ ارادہ کرے اس کو کئی طریقوں سے ادا کر سکے، جس معنی کا بھی وہ ارادہ کرے اس کو کئی معنوں سے ادا کر سکے، اس میں پختہ کیفیت آ جائے پھر اس کو کیا کہیں گے؟ یہ علمِ بیان کا ماہر ہے۔ ”أَيْ كُلُّ مَعْنًى وَاحِدٍ يَدْخُلُ تَحْتَ قَصْدِ الْمُتَكَلِّمِ وَإِرَادَتِهِ“ یعنی ہر وہ معنی ہر معنی واحد جو داخل ہو کس سے؟ متکلم کے قصد کے تحت داخل ہو اور اس کے ارادے کے تحت داخل ہو، ”فَلَوْ عَرَفَ وَاحِدٌ إِيرَادَ مَعْنَى قَوْلِنَا زَيْدٌ جَوَادٌ بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ“ اگر جان لیے کسی ایک نے لانا ہمارے اس قول کے معنی کو، ہمارا قول کیا ہے ”زَيْدٌ جَوَادٌ“، اس یہ جو قول ہم نے کیا اس کے معنی کو وہ لا سکتا ہے کوئی ایک شخص ”بِطُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ“ کس کے ساتھ؟ مختلف طریقوں کے ساتھ، ”لَمْ يَكُنْ بِمُجَرَّدِ ذَلِكَ عَالِمًا بِالْبَيَانِ“ تو صرف یہی جاننے سے وہ علمِ بیان کا ماہر ایک معنی اوپر انہوں نے معنی واحد کا یہ نہیں کہ ایک معنی، بلکہ جو بھی ایک جو کوئی بھی معنی ہو اس کو کیا کر سکے؟ مختلف طریقوں سے ادا کرنے پر وہ قادر ہو۔ ”ثُمَّ لَمَّا لَمْ يَكُنْ كُلُّ دَلَالَةٍ قَابِلًا لِلْوُضُوحِ وَالْخَفَاءِ أَرَادَ أَنْ يُشِيرَ إِلَى تَقْسِيمِ الدَّلَالَةِ وَتَعْيِينِ مَا هُوَ الْمَقْصُودُ هَاهُنَا“ پھر مولانا چونکہ ہر دلالت، اب انہوں نے بات کرنی ہے وضوحِ دلالت اور خفائے دلالت کی۔ بعض کی دلالت کس کیا ہو گی؟ اوضح ہو گی، بعض کی کیا ہو گی؟ واضح ہو گی۔ تو اب بتلانا چاہتے ہیں یہ وضوح اور خفاء کن دلالتوں میں ممکن ہے؟ کیونکہ دلالت کی کئی قسمیں آپ نے پڑھی ہیں: دلالتِ لفظیہ ہے، وضعیہ ہے، لفظیہ ہے، غیر لفظیہ ہے مولانا، دلالتِ عقلیہ ہے، طبعیہ ہے، تو کئی قسمیں مطابقی ہے، تضمنی ہے، التزامی وغیرہ کئی چیزیں پڑھی ہیں آپ نے، تو اب بتلائیں گے آپ کو کہ کون سی دلالت اس میں وضوح اور خفاء جاری ہو سکتا ہے، اور کون سی دلالت ہیں جن میں وضوح اور خفاء جاری آگے چل کر آپ کو بتائیں گے کہ دلالتِ مطابقی یہاں مراد نہیں کیونکہ اس میں وضوح ہی وضوح ہے اس میں خفاء اس کی دلالت ہمیشہ اوضح اور واضح ہو گی مولانا، البتہ دلالتِ تضمنی اور التزامی کی بات کریں گے بھئی۔ تو یہ بات دیکھیے بھئی، تو اب اس کو خارج کریں گے۔ ”ثُمَّ لَمَّا لَمْ يَكُنْ“ پھر جب نہیں تھی ”كُلُّ دَلَالَةٍ“ ہر دلالت ”قَابِلًا لِلْوُضُوحِ وَالْخَفَاءِ“ وضوح اور خفاء کو قبول کرنے والی نہیں تھی ہر دلالت، ”أَرَادَ“ ارادہ کیا ماتن نے ”أَنْ يُشِيرَ إِلَى تَقْسِيمِ الدَّلَالَةِ“ کہ اشارہ کرے کس کی طرف؟ دلالت کی تقسیم کی طرف ”وَتَعْيِينِ مَا هُوَ الْمَقْصُودُ هَاهُنَا“ اور اشارہ کرے اس تعیین کی طرف اس چیز کی تعیین ”وَهُوَ الْمَقْصُودُ هَاهُنَا“ جو یہاں پر علمِ بیان میں کیا ہے؟ مقصود ہے۔ تو تعیین کا عطف مولانا ”أَنْ يُشِيرَ“ پر بھی ہو سکتا ہے، ارادہ کیا اشارہ کرنے کس کی طرف؟ تقسیمِ دلالت کی طرف اشارہ کرنے کا ارادہ کیا، اور ارادہ کیا تعیینِ ما ھو المقصود ھاھنا وہ چیز جو مقصود ہے اس کی تعیین کا، اور تعیین کا عطف تقسیم پر بھی صحیح ہے مولانا۔ ”فَقَالَ“ تو وہ کہتے ہیں: ”وَدَلَالَةُ اللَّفْظِ“ اور لفظ کی دلالت، بھئی آپ نے پڑھا ہے دلالت دو قسم پر ہے: دلالتِ لفظیہ اور غیر لفظیہ۔ تو جب دلالتِ لفظ کہا تو کیا خارج ہوئیں؟ غیر لفظیہ خارج ہوئیں۔ ”وَدَلَالَةُ اللَّفْظِ يَعْنِي دَلَالَتَهُ الْوَضْعِيَّةَ“ دیکھا، آگے شارح نے ایک اور قید بڑھا دی دلالتِ وضعیہ۔ اس لیے کہ دلالتِ لفظی پھر تین قسم پر ہیں مولانا: یا کیا ہو گی؟ وضعی ہو گی، یا عقلی ہو گی، یا طبعی ہو گی۔ دلالتِ لفظی جس میں دال کیا ہو؟ لفظ ہو۔ پھر اس کی تین قسمیں ہیں وضعی، یا تو یہ دال لفظ جو دلالت کر رہا ہے معنی پر یہ باعتبارِ وضع کے ہو گا، مثلاً زید کا لفظ کس کے لیے وضع کیا آپ نے؟ ذاتِ زید کے لیے وضع کیا، تو جب بھی زید بولیں گے فوراً کس پہ دلالت ہو گی؟ تو اس کا تعلق وضع سے ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ ایک دلالتِ عقلی ہے مولانا، زید کے لفظ کو ذرا الٹا دو بھئی کیا بنا؟ دیز۔ دیوار کے پیچھے کسی نے کہا دیز، اب دیز کا کوئی معنی ہے؟ لیکن دیز لفظ ہے، تلفظ کیا ہے یا نہیں اس نے اس پر؟ تو لفظ تو ہے لیکن وضع نہیں۔ البتہ تو کسی معنی کا پتہ نہیں چلا آپ کو، ہاں یہ پتہ چل گیا کہ دیوار کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ دیوار کے پیچھے تو یہ دلالتِ عقلیہ ہے، عقل نے آپ کو بتایا اور دلالت کون لفظ دلالتِ لفظیہ عقلیہ ہوئی۔ اور تیسری دلالتِ طبعیہ مولانا، جو بمقتضائے طبیعت کی وجہ سے ہو، جیسے اح اح کی آواز مولانا۔ اب یہ آواز ہے اس پر تلفظ ہوا ہے، لیکن یہ کیا کسی معنی کے لیے وضع ہے؟ ہاں البتہ تو اس سے آپ کو اتنا پتہ چل گیا کہ یہ کس وجہ سے ہے؟ سینے کے درد ہے یا تکلیف وغیرہ ہے کوئی اس کی وجہ سے ہے۔ تو یہ طبیعت سے جو تعلق ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالتِ طبعی کہتے ہیں، تو یہ کون سی ہوئی؟ دلالتِ لفظی طبعی ہوئی بھئی۔ اسی طرح غیر لفظی بھی ہیں۔ تو انہوں نے کہا دلالتِ لفظ بھئی، یعنی غیر لفظی کو نکال دیا۔ پھر لفظی کے اندر چونکہ تین قسمیں تھیں ایک وضعی، ایک عقلی اور ایک طبعی، تو علامہ تفتازانی نے دلالتِ وضعی کی قید لگا کر بتلا دیا کہ یہاں پر کون نہیں مراد؟ عقلی بھی مراد نہیں اور طبعی بھی مراد نہیں، اس لیے کیونکہ آگے تقسیم ہونے لگی ہے اور جو آگے تقسیم ہے وہ صرف دلالتِ وضعی کی ہے دلالتِ عقلی اور طبعی کی نہیں ہے۔ اب خود بیان کریں گے دیکھیے بھئی: ”وَبَيَانُ ذَلِكَ أَيْ بَيَانُ ذَلِكَ“ اور اس کا بیان یہ ہے: ”لِأَنَّ الدَّلَالَةَ“ اس لیے کہ دلالت جو ہے ”هِيَ كَوْنُ الشَّيْءِ بِحَيْثُ يَلْزَمُ مِنَ الْعِلْمِ بِهِ الْعِلْمُ بِشَيْءٍ آخَرَ“ یہ ہونا ہے ایک چیز کا اس طور پر کہ اس کے ساتھ اس کو جاننے سے ایک اور چیز کا علم ہو جائے، اس کو جاننے سے ایک اور چیز کا علم ہو جائے۔ جیسے مولانا زید کہا تو زید سے فوراً کس پہ دلالت ہوئی؟ ذات پر، تو ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے۔ ”وَالْأَوَّلُ هُوَ الدَّالُّ“ اور اول کو دال کہتے ہیں اور ثانی کو مدلول کہتے ہیں۔ ”ثُمَّ الدَّالُّ إِنْ كَانَ لَفْظًا فَالدَّلَالَةُ لَفْظِيَّةٌ وَإِلَّا فَغَيْرُ لَفْظِيَّةٍ كَدَلَالَةِ الْخُطُوطِ وَالْعُقُودِ وَالنُّصُبِ وَالْإِشَارَاتِ“۔ یہ دوالِ اربعہ ہیں مولانا۔ خطوط سے کیا مراد ہیں؟ جی؟ بھئی یہ جو آپ پڑھ رہے ہیں نا یہ خطوط ہیں سارے۔ خط کھینچے ہوئے ہیں یعنی کاتب ہے بھئی۔ یہ معنی نہیں ہے سیدھا خط ہی بھئی، یہ جو لکھا ہوا ہے یہ خط ہیں مولانا تحریر، حروف مولانا۔ اب دیکھو یہ الفاظ ہیں، آپ منہ سے کچھ بھی نہ بولیں، ان پہ نظر دوڑاتے جائیں آپ نے سبق پڑھا ہو تو، آپ کو معنی سمجھ میں آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تلفظ تو آپ نہیں کر رہے، لیکن یہ الفاظ یہ خطوط دلالت کر رہے ہیں اپنے معنی کے اوپر۔ تو یہ دلالتِ غیر لفظی ہے، دلالتِ غیر لفظی، ہاں جب تلفظ کریں گے تو وہ بن جائے گی دلالتِ لفظی بن جائے گی۔ عقود سے کیا مراد ہے بھئی؟ جی؟ ہاں، عقود یہ مولانا، یہ عربوں نے وضع کیا تھا ایک کے لیے، یہ عربوں نے وضع کیا دو کے لیے، یہ عربوں نے وضع کیا تین کے لیے، یہ عربوں نے وضع کیا چار کے لیے، یہ عربوں نے وضع کیا مولانا پانچ کے لیے، یہ عربوں نے وضع کیا ہے چھ کے لیے، یہ عربوں نے وضع کیا ہے سات کے لیے، آٹھ کے لیے، اسی طرح دس ہزار تک ہے مولانا۔ یہ دو ہاتھوں پر وہ کتنی گنتی شمار کرتے تھے؟ دس ہزار تک وہ کوئی عدد بتانا چاہتے یوں کر کے اشارہ کر دیتے مولانا فوراً دوسرے کو سمجھ میں آ جاتا، تو یہ کیا ہیں؟ عقود ہیں مولانا۔ اب لفظ کوئی بولا میں نے یوں کیا بھئی، آپ فوراً سمجھ گئے بھئی ایک مراد ہے، کتنا مراد ہے؟ ایک۔ اچھا جی۔ ”وَالنُّصُبِ“، نصب کیا ہے بھئی؟ مختلف چیزوں کی جو علامتیں مقرر کی ہوں مولانا، نصب کی ہوں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جیسے آپ سفر میں جاتے ہیں مولانا جگہ جگہ کیا ہوتا ہے؟ نشانات لگے ہوتے ہیں بھئی۔ لیکن بھئی ان پر تو لکھا بھی ہوتا ہے۔ ہاں؟ لکھا ہوا پھر تو یہ دلالت یہ تو خطوط میں داخل ہو جائے گا۔ کوئی اور اس طرح کی نشانیاں ہوں لکھا نہ ہو مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ تو آگے اشارات آ رہے ہیں بھئی۔ ہاں بس بھئی کسی بھی کام میں کوئی چیز نصب کر دی جائے، کیا کی جائے؟ کوئی نصب کر دی جائے کہ یہ اس جگہ اس چیز کے لیے متعین ہے مولانا، وہ نصب میں داخل ہو جائے گی بھئی۔ اسی طرح اشارات ہیں مولانا۔ بھئی اشارات گاڑیاں چل رہی ہیں بھئی، سرخ لائٹ جلتی ہے فوراً رک جاتی ہے، پھر مولانا ابھی سرخ ہی جل رہی ہوتی ہے سڑک پر وہ کراس کرنا شروع، پاکستانی ٹریفک کو اپنے اشارے کو نہیں دیکھتے دوسروں کا دیکھتے ہیں، جیسے ہی وہ بند ہونے لگے ادھر سے چل پڑتے ہیں مولانا۔ حالانکہ اپنا بھی بند ہے اشارہ لیکن ادھر بند ہو گیا بس بھئی نکلو پھر۔ سمجھ میں آیا؟ دور اندیش لوگ ہیں بھئی، بڑی دور تک نظر ہوتی ہے ان لوگوں کی۔ اچھا، تو اشارہ سرخ جلتا ہے گاڑی رک جاتی ہے بھئی، اور سبز اشارہ جلتا ہے تو گاڑی اب نہ مولانا کوئی تلفظ ہوا کچھ بھی نہیں ہوا، لیکن کیا ہوا آپ نے معنی سمجھ لیا کہ اس کا معنی کیا ہے؟ اس کا معنی ہے چلنا، اب اس کا معنی ہے رکنا، تو یہ مولانا دوالِ اربعہ ہیں۔ تو یہ دلالت کیا تھیں؟ غیر لفظیہ وضعیہ، کیونکہ ان سب میں وضع کا دخل ہے مولانا، آپ کو پتہ ہے کہ یہ چیز اس کے لیے وضع ہے۔ ”ثُمَّ الدَّلَالَةُ اللَّفْظِيَّةُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ لِلْوَضْعِ مَدْخَلٌ فِيهَا أَوْ لَا“ پھر دلالتِ لفظیہ میں وضع کا دخل ہو گا یا وضع کا دخل نہیں ہو گا۔ علامہ تفتازانی نے یہ بتایا نا، ابھی وہ کس میں بتا رہے ہیں ساری آپ کو کہ دلالت یا تو لفظ ہو گا دال یا لفظ نہیں ہو گا، اگر دال لفظ نہیں ہے تو وہ غیر لفظی ہے وہ اس کی تو بات ہی چھوڑیں، اگر دلالت کرنے والا لفظ ہے پھر اس کے اندر مولانا وضع کا دخل ہو گا یا وضع کا دخل نہیں ہو گا۔ اگر وضع کا دخل ہے تو وضعیہ، اگر وضع کا دخل نہیں تو عقلیہ یا طبعیہ، عقلیہ یا بھئی عقلی عقل دلالت کرتی ہے جیسے دیوار کے پیچھے کوئی شخص ہے دیز اس نے لفظ کہا، یا مولانا طبیعت جیسے اح اح نے دلالت کی کس پر؟ سینے کے درد پر، تو ان میں وضع کا دخل نہیں ہے۔ تو جب اب انہوں نے کہا کہ اس دلالت کے اندر وضع کا دخل ہو گا یا وضع کا دخل نہیں ہو گا، وضع کا دخل ہو تو کون سی ہوئی؟ دلالتِ لفظیہ وضعیہ، اگر وضع کا دخل نہ ہو تو دلالتِ لفظیہ عقلیہ یا طبعیہ، تو وہ دو شمار ہیں۔ ”فَالْأُولَى هِيَ الْمَقْصُودَةُ بِالنَّظَرِ هَاهُنَا“ تو مقصود بالنظر یہاں پر کون سی ہے؟ جی کس میں توجہ ہماری اس وقت یہاں کس کی طرف ہے؟ وضعیہ کی طرف مولانا، لفظیہ وضعیہ کی طرف۔ ”وَهِيَ كَوْنُ اللَّفْظِ بِحَيْثُ يُفْهَمُ مِنْهُ الْمَعْنَى عِنْدَ الْإِطْلَاقِ“ پس جو وہ ہونا ہے لفظ کا اس طور پر کہ اس سے کیا سمجھ میں آئے؟ معنی سمجھ میں آئے ”عِنْدَ الْإِطْلَاقِ“ جب اس کو مطلق بولا جائے، قرینہ وغیرہ کوئی بھی نہ ہو مولانا، مطلق لفظ ہے، ”بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْعَالِمِ بِوَضْعِهِ“ کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ ایسے شخص کی طرف، العالم جو کیا ہے جاننے والا ہے ”بِوَضْعِهِ“ اس کی وضع کو۔ بھئی لفظ کا دیکھو، لفظ کا اس طور پر ہونا کہ جب بھی اس لفظ کو بولا جائے اس کا معنی فوراً سمجھ میں آ جائے بشرطیکہ وہ شخص اس وضع کو جاننے والا ہو، اس لغت کا جاننے والا ہو۔ بھئی عربی ہے، عربی آپ نے کہا ”جَاءَ“، تو ”جَاءَ“ کہا عربی جاننے والا فوراً سمجھ گیا اس کا معنی، لیکن جس کو عربی نہیں آتی وہ اس کا معنی سمجھے گا؟ نہیں، اسی لیے کہا کہ وضع کا اس کو پتہ ہو، جب وضع کا پتہ ہو گا تو فوراً کہ یہ لفظ اس معنی کے لیے وضع ہے، تو اب اس کو فوراً کیا پتہ چل جائے گا؟ اس سے یہ معنی مراد ہے۔ تو مولانا ”الْعَالِمِ بِوَضْعِهِ“ کی قید اس لیے لگائی تاکہ دلالتِ طبعیہ کو خارج کر دے اور دلالتِ عقلیہ کو خارج کر دے کیونکہ اس میں وضع کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں دلالتِ لفظیہ وضعیہ وہ لفظ کا اس طور پر ہونا ہے کہ اس سے معنی سمجھ میں آ جائے جب وہ لفظ قرینوں سے خالی بولا جائے، کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے معنی سمجھ میں آئے گا؟ وہ وہ شخص جو جاننے والا ہے کس چیز کو؟ اس کی وضع کو، وہ اس کے معنی کو سمجھ لے گا بھئی۔ ”وَهَذِهِ الدَّلَالَةُ إِمَّا عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ اللَّفْظُ لَهُ“ یا تو یہ مولانا یا تو یہ کیا ہو گی؟ ہاں یا تو یہ دلالت ہو گی مولانا تمام ”مَا وُضِعَ اللَّفْظُ لَهُ“ جس کے لیے لفظ کو وضع کیا گیا ہے یعنی موضوع لہ، یا تو یہ دلالت کرے گا لفظ کس پر؟ اپنے سارے موضوع لہ پر، ”كَدَلَالَةِ الْإِنْسَانِ عَلَى الْحَيَوَانِ النَّاطِقِ“ کس پر؟ حیوانِ ناطق پر، انسان کی دلالت حیوانِ ناطق پر یہ کون سی دلالت ہے؟ یہ مطابقی ہے۔ اور مولانا انسان کی دلالت صرف حیوان پر یا صرف ناطق پر یہ کون سی ہے؟ تضمنی۔ بھئی لفظ کے اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کیا کہلاتی ہے؟ مطابقی، اپنے موضوع لہ کے جز پر دلالت کیا کہلاتی ہے؟ تضمنی، اور اپنے موضوع لہ کے لازم اور خارج پر دلالت کیا کہلاتی ہے؟ التزامی۔ تو تین قسمیں ہیں مولانا منطق میں: ایک کو کہتے ہیں مطابقی، دوسری کو کہتے ہیں تضمنی، تیسری کو کہتے ہیں التزامی، لیکن اب ہم پڑھ رہے ہیں علمِ بیان، علمِ بیان والوں کی اپنی اصطلاحات ہیں۔ علمِ بیان والے پہلی قسم جو ہے مطابقی، اس کو کہتے ہیں وضعی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وضعی، اور باقی جو دو قسمیں ہیں تضمنی اور التزامی دونوں کا ایک ہی نام وہ رکھتے ہیں اور وہ نام ہے عقلی، کیا ہے؟ تو ان کے نزدیک دلالت یا وضعیہ ہو گی یا عقلیہ ہو گی مولانا۔ علمِ بیان والوں نے کتنے نام رکھے؟ دو نام رکھے۔ اول کیا؟ وضعی، وہ کون سی ہے؟ مطابقی، اور دوسرا نام کیا ہے؟ عقلی، عقلی کس کا نام ہے؟ تضمنی اور التزامی کا۔ اس لیے مولانا کہ دلالتِ مطابقی کہتے ہیں اس میں وضع کا دخل ہے۔ آپ نے لفظِ زید بولا اور زید نے کس پر دلالت کی؟ ذاتِ زید پر، یا آپ نے لفظِ انسان بولا اور انسان نے کس پر دلالت کی؟ حیوانِ ناطق پر، خود بخود کی یا یہ وضع ہوا تھا اس کے لیے؟ جس کے لیے وضع ہوا تھا، تو دلالتِ مطابقی وہ کہتے ہیں یہ وضعی ہے۔ اور دلالتِ تضمنی، بھئی انسان کی دلالت صرف حیوان پر یا انسان کی دلالت صرف ناطق پر، یا مولانا لفظِ زید بولا آپ نے اور زید سے مراد اس کا ہاتھ لیا صرف، کیا لیا؟ ہاتھ، تو بھئی لفظِ زید تو وضع تھا پورے شخص کے لیے، آپ اس سے کیا لے رہے ہیں؟ اس کا صرف ایک جز مراد لے رہے ہیں، تو یہ اس کے لیے وضع تھا؟ نہیں، لہٰذا اس کو وضعی نہیں کہتے۔ ہاں تو جز پر جو دلالت کی یہ عقل نے کی، کس نے کی؟ عقل کے واسطے سے ہوئی۔ انسان کی دلالت تو حیوان انسان تو حیوانِ ناطق کے لیے وضع تھا، اس نے تو حیوانِ ناطق پر دلالت کرنا تھی، لیکن صرف حیوان پر جو دلالت کی اس نے یہ وضع کے اعتبار سے کی یا عقل کی وجہ سے کی؟ عقل کے اعتبار سے، عقل نے بتلایا یہ جز ہے اس کا، یہ کیا ہے؟ جز ہے، تو اس پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے، تو یہ عقل کی۔ اسی طرح مولانا یہ جو لازم ہوتا ہے لازم پر بھی دلالت کس کے واسطے سے ہوئی؟ عقل کے واسطے سے ہوئی، جیسے انسان کی دلالت کس پر؟ ضاحک پر یا قابلیتِ کتابت پر مولانا، تو ضاحک پر انسان کی جو دلالت ہے وہ عقل کے واسطے سے ہے کیونکہ انسان جو ہے اس کے ساتھ لازم ہے کیا؟ ضحک لازم ہے، کیا لازم ہے؟ ضحک لازم ہے۔ تو مولانا جو مطابقی ہوتی ہے اس میں دلالت ہوتی ہے با اعتبار وضع کے، اور باقی جو دو قسمیں ہیں ان میں دلالت ہوتی ہے بواسطہ عقل کے اس لیے ان کا نام عقلی رکھا۔ تو یہی بات کر رہے ہیں: ”إِمَّا عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ اللَّفْظُ لَهُ“ یا تو دلالت ہو گی سارے موضوع لہ پر جیسے انسان کی دلالت حیوانِ ناطق پر، ”أَوْ عَلَى جُزْئِهِ“ یا جزِ موضوع لہ پر ہو گی ”كَدَلَالَةِ الْإِنْسَانِ عَلَى الْحَيَوَانِ أَوْ عَلَى النَّاطِقِ“ جیسے انسان کی دلالت صرف کس پر؟ صرف حیوان یا صرف ناطق پر، ”أَوْ عَلَى خَارِجٍ عَنْهُ“ یا خارج پر ہو گی ”كَدَلَالَةِ الْإِنْسَانِ عَلَى الضَّاحِكِ“ انسان کی دلالت ضاحک پر، ”وَتُسَمَّى الْأُولَى“ اور اولیٰ کو کہتے ہیں، اول نہیں مولانا یہ اولیٰ اولیٰ ہونا چاہیے بھئی دلالت ہے مؤنث ہے مولانا، ”وَتُسَمَّى الْأُولَى أَيْ الدَّلَالَةُ عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ لَهُ وَضْعِيَّةً“ پہلی کو کیا کہتے ہیں؟ یعنی تمام موضوع لہ پر جو دلالت ہو وضعیہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ وضعیہ کہتے ہیں علمِ بیان والوں کے نزدیک، ”لِأَنَّ الْوَاضِعَ إِنَّمَا وَضَعَ اللَّفْظَ لِتَمَامِ الْمَعْنَى“ اس لیے کہ واضع نے تو وضع کیا ہے لفظ کو کس کے لیے؟ تمام معنی کے لیے، نہ کہ جز اور نہ کہ لازم کے لیے، تو یہ دلالتِ وضعی ہے۔ ”وَتُسَمَّى كُلٌّ مِنَ الْأَخِيرَيْنِ“ اور دونوں میں سے آخری میں سے ہر ایک کو کہتے ہیں، کون بھئی ہر ایک؟ ”أَيْ الدَّلَالَةِ عَلَى الْجُزْءِ وَالْخَارِجِ“ دلالت علی الجز اور دلالت علی الخارج، اس میں ان میں سے ہر ایک کو کہتے ہیں ”عَقْلِيَّةً“، ”لِأَنَّ دَلَالَةَ اللَّفْظِ عَلَى الْجُزْءِ وَالْخَارِجِ إِنَّمَا هِيَ مِنْ جِهَةِ حُكْمِ الْعَقْلِ“ اس لیے کہ دلالت لفظ کی جز پر اور خارج پر یہ کس جہت سے ہے؟ عقل کے حکم سے ہے، عقل حکم لگاتی ہے کیا؟ ”بِأَنَّ حُصُولَ الْكُلِّ“ ”بِأَنَّ حُصُولَ الْكُلِّ“ کہ کل کا جو حصول ہے، آگے دیکھو ”يَسْتَلْزِمُ حُصُولَ الْجُزْءِ“ وہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ وہ مستلزم ہے کس کو؟ بھئی جب کل آ رہا ہے تو اس کے ساتھ کیا ہے؟ تو کل کے ساتھ جز بھی لازم ہے، جز بھی ہے، اور اسی طرح ”وَحُكْمُ بِأَنَّ الْمَلْزُومَ يَسْتَلْزِمُ اللَّازِمَ“ کہ ملزوم کے ساتھ کیا لازم ہے؟ ملزوم مستلزم ہے لازم کو بھی۔ عبارت سمجھ میں آئی بھئی؟ عطف کر رہے ہیں دو چیزوں کا، تو حصولِ کل کے ساتھ تعلق ہے ”يَسْتَلْزِمُ حُصُولَ الْجُزْءِ“ کا، اور ”بِأَنَّ الْمَلْزُومَ“ اس کے ساتھ تعلق کس کا ہے؟ ”يَسْتَلْزِمُ اللَّازِمَ“ کا تعلق ہے بھئی۔ کہ عقل فیصلہ کرتی ہے ”بِأَنَّ حُصُولَ الْكُلِّ وَالْمَلْزُومِ“ کہ کل اور ملزوم کا جو حصول ہے ”يَسْتَلْزِمُ حُصُولَ الْجُزْءِ أَوِ اللَّازِمِ“ وہ جز کے یا لازم کے حصول کو مستلزم ہے۔ ”وَالْمَنْطِقِيُّونَ يُسَمُّونَ الثَّلَاثَةَ وَضْعِيَّةً“ اور مناطقہ جو ہیں وہ تینوں کو وضعی کہتے ہیں۔ علمِ بیان والوں نے وضعی صرف کس کا نام رکھا؟ مطابقی کا، اور باقی دو کا نام عقلی، جبکہ علمِ مناطقہ تینوں کو وضعی کہتے ہیں۔ ”يُسَمُّونَ الثَّلَاثَةَ وَضْعِيَّةً“ تینوں کو وضعیہ کہتے ہیں ”بِاعْتِبَارِ أَنَّ لِلْوَضْعِ مَدْخَلًا فِيهِ“ بایں اعتبار کہ وضع کا ان میں بھی دخل ہے۔ مناطقہ کہتے ہیں چونکہ اس میں وضع کا دخل ہے اس لیے انہوں نے نام اس کا وضع رکھا وضعی رکھا، کس طرح؟ بھئی جب تک انسان حیوانِ ناطق کے لیے وضع نہ ہو، اچھا پہلے یہ بتاؤ انسان کی دلالت پورے حیوانِ ناطق پر یہ کیا ہے؟ مطابقی۔ انسان کی دلالت صرف حیوان یا صرف ناطق پر؟ تضمنی۔ انسان کی دلالت صرف ضاحک پر؟ التزامی۔ اچھا، تو جب تک اپ کو جب تک وضع نہ ہو کہ انسان کا لفظ حیوانِ ناطق کے لیے وضع ہے، تب تک اس کے اس کے بغیر انسان صرف حیوان پہ دلالت کر سکتا ہے؟ صرف ضاحک پر کر سکتا ہے؟ تو جب تک وہ وضع نہیں آئے گی تو اس وقت تک مولانا کل یا خارج پر بھی دلالت نہیں آئے گی۔ تو چونکہ کل یا جز یا خارج پر جو دلالت آتی ہے وہ بھی کس کی وجہ سے آتی ہے؟ وضع کیونکہ بھئی اس لفظ کو وضع کیا تھا اس پورے معنی کے لیے، اور اسی معنی کے ایک اب جز پر بھی دلالت، اگر اس معنی کے لیے یہ وضع ہی نہیں تو اس کے جز پر بھی دلالت نہیں ہو گی۔ تو اس لیے انہوں نے اس کا نام کیا رکھا وضعی، ”أَنَّ لِلْوَضْعِ مَدْخَلًا فِيهِ“ کہ وضع کا ان میں دخل ہے۔ ”وَيَخُصُّونَ الْعَقْلِيَّةَ بِمَا تُقَابِلُ الْوَضْعِيَّةَ وَالطَّبْعِيَّةَ“ اور وہ خاص کرتے ہیں عقلی کو اس کے ساتھ جو مقابل ہے کس کے؟ وضعی اور بھئی انہوں نے تقسیم کی تھی تین قسمیں مناطقہ نے بنائی تھیں: عقلی، طبعی اور وضعی، عقلی اور طبعی، تو ان کے نزدیک عقلی مقابل تھی کس کی؟ طبعی اور وضعی کے مقابلے میں، بھئی کس تقسیم میں کی تھی؟ زید کے لفظ کی دلالت کس پر؟ ذاتِ زید پر، یہ کیا ہے؟ وضعی۔ بھئی دیوار کے پیچھے سے کسی نے دیز کہا، یہ کون سی ہے؟ عقلی۔ اح اح کی دلالت سینے کے درد پر طبعی۔ تو انہوں نے بھی ایک نام عقلی استعمال کیا، لیکن انہوں نے جو عقلی استعمال کیا وہ کس کے مقابلے میں ہے؟ طبعی اور وضعی کے مقابلے میں۔ اور انہوں نے جو عقلی استعمال کیا علمِ بیان والوں نے وہ کس چیز کا نام ہے؟ مطابقی اور تضمنی اور التزامی کا نام ہے۔ ”كَدَلَالَةِ الدُّخَانِ عَلَى النَّارِ“ جیسے دھوئیں کی دلالت کس پر؟ آگ پر، یہ کون سی دلالت ہے بھئی؟ لفظ ہے دال؟ نہیں، اچھا معلوم ہوا غیر لفظی ہے، طبیعت کی وجہ سے ہے یا عقل کی وجہ سے ہے یا وضع کی وجہ سے ہے؟ عقلی، یہ عقلی غیر لفظی کی مثال ہے۔ ”وَتُقَيَّدُ الْأُولَى مِنَ الدَّلَالَاتِ الثَّلَاثِ بِالْمُطَابَقَةِ“ اور مقید کیا جاتا ہے اولیٰ کو تین دلالتوں میں سے کس کے ساتھ؟ مطابقت یعنی اس کو دلالتِ مطابقی کہتے ہیں ”لِتَطَابُقِ اللَّفْظِ وَالْمَعْنَى“ کیونکہ لفظ اور معنی ایک دوسرے کے مطابق ہوتے ہیں۔ ”وَالثَّانِيَةُ بِالتَّضَمُّنِ“ اور مقید کیا جاتا ہے دلالتِ ثانیہ کو کس کے ساتھ؟ تضمن کے ساتھ ”لِكَوْنِ الْجُزْءِ فِي ضِمْنِ الْمَعْنَى الْمَوْضُوعِ لَهُ“ اس لیے کہ جز کس میں ہوتا ہے؟ معنی موضوع لہ کے ضمن میں ہوتا ہے جز، تو اس لیے اس کو تضمنی کہتے ہیں۔ ”وَالثَّالِثَةُ بِالِالْتِزَامِ“ اور تیسری کو کیا کہتے ہیں؟ التزامی کہتے ہیں ”لِكَوْنِ الْخَارِجِ لَازِمًا لِلْمَوْضُوعِ لَهُ“ اس لیے کہ وہ خارج لازم ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ موضوع لہ کے ساتھ۔ تو وجہ تسمیہ بھی ہر ایک کی بتلا دی مولانا، مطابقی کو مطابقی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ لفظ اور معنی ایک دوسرے کے مطابق ہوتے ہیں۔ تضمنی کو کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں جز پہ دلالت ہوتی ہے اور جز کس کے ضمن میں ہوتا ہے؟ کل کے ضمن میں ہوتا ہے۔ اور تیسری کو التزامی کہتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ خارج ہے اور اس کے ساتھ لازم ہے، جب لازم ہے تو التزامی اس کا نام رکھ دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب علامہ تفتازانی ایک اعتراض کریں گے بھئی، منطق ان کا پسندیدہ میرا خیال موضوع ہے بھئی علامہ تفتازانی، کوئی منطقی بات آ جائے تو بال کی کھال اتارتے ہیں بھئی، دیکھو سمجھ میں آیا بھئی؟ کس طرح؟ انہوں نے کہا آپ نے تعریف کس کی کی؟ مطابقی جو کیا ہو؟ دلالت کرے کس پر؟ پورے موضوع لہ پر۔ تضمنی جو جز پر۔ اور التزامی جو لازم پر۔ کہتے ہیں بھئی یہ تو تعریفیں آپ نے ایسی کیں کہ ان کا آپس میں تداخل ہو رہا ہے مولانا۔ بعض کے افراد بعض میں داخل ہو جائیں گے۔ مطابقی کے داخل ہو سکتے ہیں کس کے اندر؟ تضمنی، تضمنی کے داخل ہو سکتے ہیں کس میں؟ التزامی میں، التزامی کے داخل ہو سکتے ہیں کس میں؟ مطابقی میں۔ تو یہاں پر ایک یعنی جامع مانع تعریف نہیں ہے بھئی، مانع نہیں ہے ان کی تعریف، کس طرح؟ کہتے ہیں دیکھو، شمس ہے شمس، سورج، اس میں دو چیزیں ہیں: ایک اس کی وہ ٹکيا ہے، اس کا وہ جسم ہے، اور دوسری اس کی روشنی ہے۔ تو سورج کس کو کہتے ہیں؟ اس ٹکيا اور روشنی کے مجموعے کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ کس چیز کا مجموعہ ہے؟ اس جسم، یہ جو جسم ہے اور اس کی روشنی ہے ان دونوں کے مجموعے کا کیا نام ہے؟ سورج۔ معلوم ہوا صرف ٹکيا یہ جز ہے، صرف روشنی یہ بھی کیا ہے؟ جز ہے۔ ہاں بلکہ یہ لازم ہے اس کے ساتھ، کیا ہے؟ لازم ہے مولانا۔ تو یہ مولانا اس لازم یہ اس کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے۔ یہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ تو مولانا سورج جو ہے یہ اس جسم کا نام ہے اور اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ روشنی، تو یعنی اس سارے کا نام ہی سورج ہے، اس سارے کا ہی کیا نام ہے؟ سورج ہے۔ پھر اسی لفظِ سورج کو وضع کیا گیا دوبارہ وضع کر لیں آپ، کس کے لیے؟ صرف وہ روشنی کے لیے، شعاعوں کے لیے بھی وضع کر لیں۔ پھر اسی لفظِ سورج کو آپ صرف وضع کر لیں کس کے لیے؟ صرف ٹکيا کے لیے بھی وضع کر لیں۔ اب مولانا سورج جب اس کو وضع کیا گیا ہے مجموعے کے لیے، تو سارے مجموعے پر اس کی دلالت کون سی ہے؟ مطابقی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ بھئی اس سورج کو وضع کیا گیا ہے صرف ٹکيا کے لیے، تو اس سورج کی دلالت ٹکيا پر کون سی ہے؟ بھئی وضع ہی صرف ٹکيا کے لیے ہوا ہے۔ جی؟ ہاں، آٹھ دس پندرہ اقوال ہیں اس میں علماء کے، بڑے بڑے کبار علماء کا اختلاف ہے اس میں۔ بھئی دیکھو، تین تین الفاظ وضع کیے آپ نے، ایک سورج اور روشنی ان کا مجموعہ، اس کا کیا نام رکھا؟ سورج، اس کا نام بھی کیا رکھا؟ سورج۔ اچھا بھئی روشنی کو ذرا الگ کر دو صرف ٹکيا ہے، اس کا بھی کیا نام رکھا؟ الگ نام رکھا آپ نے۔ پھر صرف بھئی وہ روشنی الگ پکڑو، اس کا بھی کیا نام رکھا؟ سورج۔ تو ہر ایک کے لیے الگ الگ وضع آ گئی، مجموعے کے لیے ایک وضع ہے، ایک ایک جز کے لیے وضع ہے، ایک دوسرے لازم کے لیے وضع ہے۔ اب اس سورج کی دلالت مجموعے پر کون سی ہے؟ کیونکہ یہ اس پورے مجموعے کے لیے یہ لفظ کیا تھا؟ وضع تھا، تو یہ دلالتِ مطابقی۔ اور اسی طرح اسی لفظِ سورج کو وضع کیا تھا ہم نے کس کے لیے صرف؟ تو صرف ٹکيا ہو اس کے لیے لفظِ سورج بولا اور صرف میں نے مراد ٹکيا لی مولانا، یہ کون سی دلالت ہے؟ یہ بھی مطابقی ہے کیونکہ اس کو وضع ہی صرف کس کے لیے کیا گیا تھا؟ پورے موضوع لہ پہ دلالت کر رہا ہے۔ پھر اسی لفظِ سورج کو وضع کیا تھا صرف کس کے لیے؟ روشنی کے لیے، تو صرف روشنی پر اس کی دلالت یہ بھی کون سی ہے؟ کیونکہ وضع ہی اس کے لیے ہوا ہے اپنے پورے موضوع لہ پر دلالت کر رہا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب مولانا دیکھو، میں نے لفظ بولا سورج اور کون سا سورج بولا جو وضع تھا پورے مجموعے کے لیے، کس کے لیے وضع تھا؟ پورے مجموعے کے لیے۔ اب اس میں سے میں نے مراد لی صرف ٹکيا، صرف کیا مراد لی؟ اب مولانا یہ کل ہے یا جز ہے؟ جز۔ تو یہ اس سورج کی دلالت اس جز پر یہ کون سی ہے؟ تضمنی ہے۔ تو یہ تو دلالتِ تضمنی ہے لیکن اسی وقت میں یہ دلالتِ مطابقی بھی ہے کیونکہ اسی سورج کو ہم نے کس کے لیے وضع کیا تھا؟ ٹکيا کے لیے بھی وضع کیا تھا۔ پھر میں صرف روشنی لیتا ہوں، تو سورج جب پورا مجموعہ جب مراد تھا اس میں سے صرف میں نے لفظِ سورج بولا لیکن مراد کیا ہے صرف؟ روشنی، تو یہ کل ہے یا لازم ہے اس کا؟ یہ اس کا لازم ہے، تو یہ مولانا کون سی دلالت ہوئی؟ التزامی، تو یہ سورج کی دلالت روشنی پر التزامی ہے، لیکن بعینہٖ اسی وقت یہ دلالتِ مطابقی بھی ہے کیونکہ اس کو وضع کس کے لیے کیا تھا؟ روشنی کے لیے۔ تو مولانا ایک دلالت کا فرد دوسرے میں کیا ہوا؟ داخل ہو گیا۔ دیکھیے: ”فَإِنْ قِيلَ إِذَا فَرَضْنَا لَفْظًا مُشْتَرَكًا بَيْنَ الْكُلِّ وَجُزْئِهِ“ اگر یہ اعتراض کیا جائے اگر ہم ایک لفظِ مشترک کو مولانا فرض کر لیں کل اور جز کے درمیان ”وَلَازِمِهِ“ اور اس کے لازم کے درمیان، ”كَلَفْظِ الشَّمْسِ الْمُشْتَرَكِ“ جیسے کہ لفظِ شمس جو ہے مشترک ہو مثال کے طور پر ”بَيْنَ الْجِرْمِ“ جسم میں یعنی ٹکيا میں بھی ”وَالشُّعَاعِ“ اور کس میں؟ روشنی میں بھی ”وَمَجْمُوعِهِمَا“ اور ان دونوں کے مجموعے کو بھی، تو یہ مشترک ہے مولانا جسم کے لیے بھی ہے، شعاع کے لیے بھی ہے اور ان دونوں کے، ”فَإِذَا أُطْلِقَ عَلَى الْمَجْمُوعِ مُطَابَقَةً“ جب اس کا اطلاق کیا جائے مجموعے پر با اعتبار کس طریقے پر؟ مطابقی طریقے پر ”وَاعْتُبِرَ دَلَالَتُهُ عَلَى الْجِرْمِ“ اور اعتبار کیا جائے اس کی دلالت کس پر؟ ٹکيا پر ”تَضَمُّنًا“ وہ کون سی ہے؟ تضمنی ہے ”وَالشُّعَاعِ الْتِزَامًا“ اور شعاع پر کون سی ہے؟ التزامی۔ ”فَقَدْ صَدَقَ عَلَى هَذَا التَّضَمُّنِ وَالِالْتِزَامِ“ تو اسی تضمنی اور اسی التزام پر صادق آ رہا ہے ”أَنَّهَا دَلَالَةُ اللَّفْظِ عَلَى تَمَامِ الْمَوْضُوعِ لَهُ“ کہ یہ تو دلالت ہو رہی ہے لفظ کی اپنے تمام موضوع لہ پر۔ ”وَإِذَا أُطْلِقَ عَلَى الْجِرْمِ أَوِ الشُّعَاعِ“ اور جب اطلاق کیا جائے اس کا کس پر؟ صرف ٹکيا یا صرف شعاع پر ”مُطَابَقَةً“ کس اعتبار سے؟ مطابقی، بھئی کیونکہ اس کے لیے وضع ہے، تو یہ دلالتِ مطابقی ہوئی، ”صَدَقَ عَلَيْهَا أَنَّهَا دَلَالَةُ اللَّفْظِ عَلَى جُزْءِ الْمَوْضُوعِ لَهُ“ لیکن اس پر صادق آ رہا ہے کہ یہ دلالت کس پر ہے؟ لفظ کی دلالت ہے اپنے موضوع لہ کے جز پر یہ بھی صادق آ رہا ہے، ”أَوْ لَازِمِهِ“ یا موضوع لہ کے لازم پر، ”وَحِينَئِذٍ يَنْتَقِضُ تَعْرِيفُ كُلٍّ مِنَ الدَّلَالَاتِ الثَّلَاثِ بِالْأُخْرَيَيْنِ“ اور اس صورت میں ٹوٹ جاتی ہے تینوں دلالتوں میں سے ہر ایک کی تعریف باقی دو کے ساتھ۔ تین دلالتیں ہیں نا بھئی: تضمنی، التزامی اور مطابقی، تو مطابقی ٹوٹ جائے گی ان دو کے ساتھ تضمنی اور التزامی، التزامی ٹوٹ جائے گی مولانا تضمنی اور مطابقی کے ساتھ، اور تضمنی ٹوٹ جائے گی التزامی اور مطابقی کے ساتھ۔ ہاں تو یہی معنی ہے ٹوٹ جائے گی ہر ایک دلالت کی تعریف دوسری دو کے ساتھ۔ ”وَالْجَوَابُ“ جواب علامہ تفتازانی دے رہے ہیں مولانا۔ دیکھو، امور دو قسم پر ہیں: امورِ حقیقی اور امورِ نسبی۔ امورِ حقیقی وہ ہیں جس میں معنی کا تعقل غیر پر موقوف نہیں ہوتا، بھئی مکان ہے، دکان ہے، کتاب ہے، کسی اور چیز پر اس کا مفہوم موقوف ہے؟ نہیں، جبکہ بعض چیزیں ان میں تضایف ہوتا ہے مولانا جیسے باپ اور بیٹا۔ باپ کس کو کہتے ہیں؟ جس کا بیٹا ہو، بیٹا کس کو کہتے ہیں؟ جس کا باپ ہو۔ تو کہتے ہیں بھئی یہ امورِ اضافیہ میں سے ہے اور امورِ اضافیہ میں ہمیشہ حیثیت کی قید ملحوظ ہوتی ہے۔ حیثیت کی قید ملحوظ نہ ہو پھر تو بڑا مسئلہ بن جائے گا بھئی۔ دیکھو زید ہے، زید آپ کہتے ہیں باپ ہے، زید کیا ہے؟ باپ ہے، تو بھئی یہی زید بیٹا بھی ہے، تو یا تو وہ باپ ہو سکتا تھا یا بیٹا ہو سکتا تھا، آپ کہہ رہے ہیں باپ بھی ہے اور بیٹا بھی ہے۔ تو جواب اس کا کیا؟ حیثیت بدل گئی، باپ ہے کس کی طرف؟ عمر کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور بیٹا ہے کس کی طرف؟ خالد کی طرف نسبت کرتے ہوئے کہ خالد کا بیٹا ہے اور عمر کا باپ ہے۔ تو ایک ہی چیز کی طرف نسبت کرتے ہوئے وہ باپ بیٹا نہیں ہے بلکہ ایک کی طرف نسبت کرتے ہوئے باپ ہے اور ایک کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیٹا ہے۔ تو یہ حیثیت کی قید امورِ اضافیہ میں ملحوظ ہوتی ہے، تو یہاں بھی یہ امورِ اضافیہ میں سے ہیں مولانا، تو یہاں بھی حیثیت کی قید ملحوظ ہے اور جب وہ قید ملحوظ ہو گی تو اشکال وارد نہیں ہو گا۔ دیکھیے: ”وَالْجَوَابُ أَنَّ قَيْدَ الْحَيْثِيَّةِ مَأْخُوذٌ فِي تَعْرِيفِ الْأُمُورِ الَّتِي تَخْتَلِفُ بِاعْتِبَارِ الْإِضَافَاتِ“ اور جواب یہ کہ حیثیت کی قید ماخوذ ہے یعنی معتبر ہے ان امور کی تعریف کے اندر جو بدل جاتے ہیں کس اعتبار سے؟ اضافت یعنی نسبتوں کے بدلنے سے بدلتے ہیں، ”حَتَّى أَنَّ الْمُطَابَقَةَ هِيَ دَلَالَةٌ عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ لَهُ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ تَمَامُ مَا وُضِعَ لَهُ“ یہاں تک کہ مطابقت یہ دلالت ہے تمام موضوع لہ پر اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہے تمام موضوع لہ ہے۔ تو مطابقت یہ دلالت ہے پورے موضوع لہ پر اس حیثیت سے کہ وہ کیا ہے پورا موضوع لہ ہے، اور تضمنی دلالت ہے جزِ موضوع لہ پر اس حیثیت سے کہ وہ کیا ہے جزِ موضوع لہ ہے، اور التزامی دلالت ہے اس کے لازم پر اس حیثیت سے کہ وہ لازمِ موضوع لہ ہے۔ دیکھیے، تین لفظ الگ الگ آپ نے وضع کیے تھے نا؟ جی۔ تو آپ نے کہا تھا ایک دلالت دوسری دلالت میں داخل ہو رہی ہے، تو کہتے ہیں بھئی یہاں حیثیت کی قید ملحوظ ہے اور جب حیثیت کی قید ملحوظ ہو تو یہ ایک دوسرے میں داخل نہیں ہوتے۔ کس طرح؟ ہم نے کہا شمس، اس کی دلالت پورے اس پر ٹکيا اور روشنی پر، یہ کیا ہے دلالتِ مطابقی، اور اس کی دلالت صرف ٹکيا پر یہ کون سی ہے؟ تضمنی۔ آپ نے کہا تھا اسی وقت میں یہ کیا بھی بن رہی ہے دلالتِ مطابقی بھی بن رہی ہے، کہتے ہیں نہیں حیثیت کی قید لگاؤ وہ داخل نہیں ہو گی۔ شمس کی دلالت کس پر؟ ٹکيا پر اس حیثیت سے کہ وہ کیا ہے جزِ موضوع لہ ہے، اس حیثیت سے کہ وہ جزِ موضوع لہ ہے اب مولانا مطابقی لا سکتے ہو؟ نہیں، کیونکہ مطابقی تو اس حیثیت سے ہے کہ وہ پورا موضوع لہ ہے، اور ہم نے کون سی حیثیت رکھی ہے؟ جزِ موضوع لہ والی، جب جزِ موضوع لہ والی حیثیت رکھی تو مطابقی داخل ہو سکتی ہے؟ اسی طرح ہم نے کہا شمس کی دلالت صرف روشنی پر، یہ کیا ہے التزامی، اس حیثیت سے کہ یہ کیا ہے؟ لازمِ موضوع لہ ہے، اس حیثیت سے کہ یہ لازمِ موضوع لہ ہے، موضوع لہ تو اصل میں مجموعہ ہے لیکن یہ اس کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے، تو ہم نے اس کا کیا نام رکھا؟ التزامی۔ اب مولانا آپ کہتے ہیں اس پر تو دلالتِ مطابقی بھی صادق آ رہی ہے، بھئی اس حیثیت سے کہ یہ جزِ موضوع لہ ہے جب جز کی بات آ گئی اب کل کی ہو سکتی ہے؟ اب مطابقی صادق آ سکتی ہے؟ آ ہی نہیں سکتی مولانا۔ حیثیت کی قید کا فائدہ پتہ چلا؟ اس حیثیت سے کہ وہ جز ہے۔ تو یہی بات کر رہے ہیں کہ مطابقت جو ہے یہ دلالت ہے سارے موضوع لہ پر اس حیثیت سے کہ پورا موضوع لہ ہے، اور تضمنی جو ہے وہ دلالت ہے جزِ موضوع لہ پر اس حیثیت سے کہ یہ جز ہے اس چیز کا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، اور التزام جو ہے وہ دلالت ہے لازمِ موضوع لہ پر اس حیثیت سے کہ یہ لازم ہے اس چیز کا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے۔ ”وَكَثِيرًا مَا يَتْرُكُونَ هَذَا الْقَيْدَ اعْتِمَادًا عَلَى شُهْرَةِ ذَلِكَ وَانْسِيَاقِ الذِّهْنِ إِلَيْهِ“ اور بسا اوقات ترک کر دیتے ہیں بھئی اس قید کو اس کی شہرت پر اعتماد کرتے ہوئے اور ذہن کے اس کی طرف چلنے اور رہنمائی پانے کی وجہ سے۔ ذہن کیا کرتا ہے اس کی طرف خود بخود چلا جاتا ہے اور خود بخود رہنمائی پا لیتا ہے۔ تو یہ ”انْسِيَاق“ لفظ ہے مولانا، ”انْسِبَاق“ نہیں ہے۔ چلیے بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔