اعوذ بالله من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم و اذکر عبدنا ایوب اذ ناد ربہ انی مسنی الشیطان بنصب و عذاب ارکض برجلك هذا مغتسل بارد و شراب و وہبنا لہ اہلہم و مثلہم معہم رحمۃ منا و ذکر لولی الالباب و اذکر عبدنا ایوب اور یاد کیجیے ہمارے بندے ایوب کو اذ ناد ربہ جب پکارا انہوں نے اپنے پروردگار کو انی مسنی الشیطان کہ چھوا ہے مجھے شیطان نے بنصب نصب کا معنی تھکن اور اسی طرح اس کا معنی مصیبت شیطان نے مجھے چھوا ہے مصیبت کے ساتھ و عذاب اور تکلیف کے ساتھ تو نصب کا کیا معنی کیا؟ مصیبت مراد اس سے بیماری ہے بھئی بیماری بیماری بھی مصیبت ہے بھئی بھئی حضرت ایوب علیہ السلام ان کو اللہ تعالی نے بڑی آسودہ زندگی نصیب فرمائی تھی خوب کھیت تھے، مویشی تھے، باندیاں، غلام، اولاد اور بیوی بھی ایسی جیسے وہ چاہتے تھے تو بڑی اچھی اور آسودہ زندگی نصیب فرمائی تھی اور پھر اس کے بعد اللہ کی طرف سے ان پر آزمائش آئی اور کھیت سارے جل گئے مویشی سارے مر گئے اور اولاد وغیرہ گھر والے جو تھے ان پر چھت گری سب دب کر مر گئے اور ان کو بیماری لگ گئی بیمار ہو گئے سخت صرف ایک بیوی تھی ان کے ساتھ جو خدمت کرنے والی باقی سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور پھر بھی اللہ کا ہر حال میں شکر ادا کرتے رہے، صبر کرتے رہے صبر کرتے رہے اور کہتے ہیں کہ یہ بیماری ان کو 17، 18 سال تک رہی اتنی تکلیف، اتنی پریشانی اور اتنی بیماری حد سے زیادہ بیمار ہو گئے لاغر ہو گئے 18 سال کوئی بیمار رہے آپ سوچیں اس کا کیا حال ہوگا اور تو اتنی تکلیف پہنچی ان کو اتنی تکلیف یہاں تک کہ لوگ یہ باتیں کرنے لگے کہ یقیناً ایوب سے کوئی بڑا بھاری گناہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ان پر یہ تکلیف آئی ہے بیماری تو وہ برداشت کر رہے تھے آہستہ آہستہ صبر سے لیکن جب لوگوں کی یہ باتیں پہنچی انہیں تو بڑی تکلیف ہوئی تو بالاخر انہوں نے اللہ سے دعا کی پہلے تو صبر کے ساتھ رہے جب یہ باتیں بھی پہنچی تو اللہ سے دعا کی تو رحمت الہی کو جوش آیا اور اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ آپ اپنا پاؤں زمین پر ماریں انہوں نے اپنا پاؤں زمین پر مارا تو وہاں ایک پانی کا چشمہ جاری ہو گیا اور حکم ہوا کہ اس چشمے کے اندر آپ غسل کر لیں اور اس سے پانی پی لیں چنانچہ اس میں غسل کیا اور پانی پیا تو فورا آنن فانن تندرست ہو گئے بھئی بیوی ان کی ہر وقت خدمت میں لگی رہتی تھی وہ کسی کام کے لیے ادھر ادھر گئی تھی واپس آئی تو یہ تو اسی وقت آنن فانن تندرست ہو چکے بہترین لباس آ گیا جنت سے ان کے لیے وہ واپس آئی بیماری میں تو یہ لاغر، کمزور اور اب بالکل صحت مند بہترین کپڑے پہنے ہیں وہ واپس آئی تو پہچان ہی نہ سکی کہنے لگی بھئی یہاں ایک کمزور بیمار آدمی پڑا ہوا تھا اس کو نہیں دیکھا تم نے وہ کدھر گیا؟ তো فرمانے لگے میں ہی ایوب ہوں پہچانا نہیں مجھے تو اس طرح اللہ نے پھر ان کے جو اولاد وغیرہ ہلاک ہوئی تھی چھت کے نیچے دب کر کہتے ہیں اللہ نے ان سب کو پھر زندہ فرما دیا ان کے لیے اور بعض کہتے ہیں کہ اور اولاد اللہ نے ان کو نصیب فرما دی پہلے سے بھی دگنی بھئی پہلے جتنی اولاد تھی بیٹے آگے بیٹوں کی اولاد وغیرہ تو وہ اس سے دگنی اللہ نے نصیب فرما دی بھئی تو اس کا ذکر آ رہا ہے یہاں پر دیکھیے بھئی و اذکر عبدنا ایوب اور یاد کیجیے ذکر کیجیے ہمارے بندے داؤد ایوب علیہ السلام کا اذ ناد ربہ جس وقت پکارا انہوں نے اپنے پروردگار کو انی مسنی الشيطان بنصب و عذاب کہ مجھے چھوا ہے شیطان نے بیماری اور تکلیف کے ساتھ یہ تو لفظی ترجمہ ہوا بمحاورہ ترجمہ اذ ناد ربہ جب پکارا انہوں نے اپنے پروردگار کو انی مسنی الشيطان بنصب و عذاب کہ شیطان نے لگا دی ہے مجھے بیماری اور تکلیف شیطان نے مجھے بیماری اور تکلیف لگا دی ہے بھئی کرنے والے سب کچھ اللہ تعالی ہی ہیں کسی کو نعمتیں اور راحتیں ملیں تو کرنے والے اللہ ہی، کسی پر تکلیف، بیماری، مصیبت آئے تو وہ کرنے والے بھی اللہ ہی لیکن ادب کا تقاضا یہی ہے کہ جو کوئی تکلیف، پریشانی اور غم ہو اس کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ شیطان کی طرف سے بھئی، شیطان کی طرف بھئی تو چنانچہ حضرت ایوب علیہ السلام نے بھی انتہا درجے کا ادب کا طریقہ اپناتے ہوئے اس بیماری اور تکلیف کی نسبت کس کی طرف کی؟ شیطان کی طرف کی بھئی شیطان کی طرف ارکض برجلك پھر انہوں نے دعا کی بھئی تو اللہ کی طرف سے حکم آیا ارکض رکا يركض کے معنی ہوتے ہیں پاؤں مارنے کے، لات مارنے کے بھئی ارکض آپ لات ماریے برجلك اپنے پاؤں سے یہ تو لفظی ترجمہ ہوا بمحاورہ ترجمہ بھئی ارکض برجلك آپ اپنا پاؤں ماریے آپ اپنا ارکض برجلك آپ اپنا پاؤں ماریے یعنی زمین پر آپ زمین پر اپنا پاؤں ماریے هذا مغتسل بارد و شراب یہ پانی ہے غسل کا ٹھنڈا و شراب اور پینے کا یہ ٹھنڈا پانی ہے غسل کے لیے اور پینے کے لیے مغتسل بھئی یہ بظاہر لگتا ہے شاید ظرف کا صیغہ ہے بھئی ظرف کا لیکن مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ یہ اس میں ظرف نہیں ہے بلکہ اس میں مفعول ہے بھئی اس میں مفعول بھئی دیکھیے اس میں مفعول ضارب کا کیا معنی ہے؟ پٹائی کرنے والا یعنی ما يضرب ما يضرب وہ جو پٹائی کرتا ہے ضارب کا کیا معنی؟ ما يضرب مضروب کا کیا معنی ہے؟ ما يضرب وہ جو جس کی پٹائی کی جاتی ہے تو ضارب کا معنی ہوا ما يضرب، مضروب کا معنی ہوگا ما يضرب آقل کا کیا معنی ہوگا؟ ما يأكل وہ جو کھاتا ہے عقل کاف چھوٹا کاف ہے آقل کا کیا معنی؟ ما يأكل جو کھاتا وہ جو کھاتا ہے اور معقول کا کیا معنی؟ ما يؤكل وہ جس کو کھایا جاتا ہے جس کو کھایا جائے اچھا شارب کا کیا معنی؟ ما يشرب وہ جو پیتا ہے وہ جو پیتا ہے مشروب کا کیا معنی ہوگا؟ ما يشرب وہ جس کو پیا جاتا ہے تو یہاں اسی طرح یہ آیا مغتسل تو مغتسل ہے بمعنی ما يغتسل بہ ما يغتسل وہ بہ جس کے ذریعے وہ جس کے ذریعے غسل کیا جاتا ہے ما يغتسل بہ وہ جس کے ذریعے غسل کیا جاتا ہے معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ باقیوں کی طرح ہی ہے بھئی مضروب کا کیا معنی تھا؟ ما يضرب، معقول کا کیا معنی تھا؟ ما يؤكل، مشروب کا کیا معنی تھا؟ ما يشرب صرف بہ اس میں زائد آ گیا مغتسل کا کیا معنی؟ ما يغتسل بہ وہ جس کے ذریعے غسل کیا جائے اور غسل کس کے ذریعے کیا جاتا ہے؟ پانی کے ذریعے تو مغتسل سے کیا مراد ہوا؟ پانی پانی بھئی غسل پھر کیا کیا گیا؟ ما يغتسل بہ بھئی آپ جانتے ہیں کہ فعل کے لیے فاعل چاہیے فعل معروف کے لیے اور فعل مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے تو پھر ما يغتسل بہ کس معنی میں ہوا؟ ما يغتسل کا کیا معنی ہوا؟ کہ غسل کیا جائے یعنی مغتسل کیا معنی ہوا؟ ما يغتسل بہ بہ کو ذرا الگ رکھیں معقول کا کیا معنی تھا؟ ما يؤكل، مشروب کا کیا معنی تھا؟ ما يشرب تو یہاں بھی کیا تھا ما يغتسل ما يغتسل بہ بہ کو ذرا بہ کو الگ رکھیں ما يغتسل جس سے غسل کیا تو اس کو پھر اس میں کیا کیا گیا؟ با کو حذف کر لیا گیا اس کو کہتے ہیں حذف اور ہا کو اس کے ساتھ ملا دیا گیا اسی کا نائب اسی کا فاعل مجہول ہے اسی کا نائب فاعل بنا دیا گیا کیا کیا گیا؟ بہ تھا نا بہ میں سے با کو کیا کر لیا گیا؟ حذف اور ہا ضمیر رہ گئی اس کو اسی کے اندر لے آئے اس کے ساتھ ملا دیا گیا اور اس کا کیا بنا دیا گیا؟ نائب فاعل بنا دیا گیا بھئی اس کے اندر لے آئے ملا دیا اس کے ساتھ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس میں گویا حذف و ایصال ہوا ہے کیا ہوا ہے؟ حذف و ایصال ہوا ہے صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بس اس میں صرف اتنا ہے اس میں حذف و ایصال ہوا ہے بھئی ارکض برجلك آپ اپنا پاؤں ماریے هذا مغتسل بارد و شراب یہ پانی ہے غسل کا ٹھنڈا و شراب اور پینے کا یہ پانی ہے غسل کا اور پینے کا ٹھنڈا هذا مغتسل بارد و شراب یہ پانی ہے ٹھنڈا غسل کا اور پینے کا (یعنی غسل کے لیے اور پینے کے لیے) و وہبنا لہ اہلہم اور عطا فرما دیے ہم نے ان کو ان کے گھر والے ان کے گھر والے ہم نے ان کو عطا فرما دیے جیسے میں نے بتلایا بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ انہی گھر والوں کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا اور بعض نے کہا کہ انہی کو نہیں اور گھر والے اور اولاد اور جیسی جتنی تھی اس سے زیادہ اللہ نے عطا فرما دی و وہبنا لہ اہلہم اور عطا فرما دیے ہم نے ان کو ان کے گھر والے و مثلہم اور ان کے برابر ہی معہم ان کے ساتھ ان کے گھر والے بھی عطا فرمائے اور ان کے برابر ان کے ساتھ اور بھی عطا فرما دیے (یعنی دگنے عطا فرما دیے) وہم اصلاحہم معہم اور ان کے برابر ان کے ساتھ ہم نے عطا فرما دیے ان کو ان کے گھر والے بھی اور ان کے گھر والوں کے برابر ان کے ساتھ وہ بھی ہم نے ان کو عطا فرما دیے رحمت مننا بطور رحمت کے ہماری طرف سے و ذکر لولی الالباب اور بطور یاد کے عقل والوں کے لیے بطور بطور رحمت کے ہماری طرف سے یہ ہم نے ان کے گھر والے اور ان کے گھر والوں کے برابر اور ان کو عطا فرما دی اور بطور رحمت کے و ذکر لولی الالباب اور بطور یاد کے عقل والوں کے لیے یا یوں کہیں بطور یادگار کے وہ جس کو یاد کیا جائے اسے کیا کہتے ہیں یادگار بطور یادگار کے عقل والوں کے لیے تاکہ عقل والوں کے لیے یہ یادگار ہو بھئی عقل والوں کے لیے کیا ہو یادگار ہو کہ اگر تم بھی اسی طرح صبر سے کام لیتے رہے دنیوی تکالیف اور پریشانیوں اور آزمائشوں پر تو اللہ تعالی تمہاری بھی تمام تکالیف اور پریشانیوں کو ختم فرما دیں گے تو یہ معنی ہے و وہبنا لہ اہلہم و مثلہم معہم اور عطا فرما دیے ہم نے ان کو ان کے گھر والے بھی اور ان کے گھر والوں کے برابر اور بھی ان کے ساتھ رحمت مننا ہماری طرف سے بطور رحمت کے و ذکر لولی الالباب اور عقل والوں کے لیے بطور یادگار کے وخذ بيدك ضغثا اور لیجیے آپ اپنے ہاتھ میں ضغثا تنکوں کی ایک مٹھی لیجیے آپ اپنے ہاتھ میں تنکوں کی ایک مٹھی یعنی آپ اپنے ہاتھ میں تنکوں کی ایک مٹھی پکڑیے فاصرب بہ پس ماریے اس سے ولا تحنث اور حانث نہ ہویے اپنی قسم نہ توڑیے حانث ہونے کا کیا معنی ہے؟ قسم کو توڑنا ولا تحنث آپ اپنی قسم نہ توڑیے بھئی حضرت ایوب علیہ السلام جس زمانے میں بیمار تھے بہت شدید بیمار اور یہ بھی یاد رکھیے بعض مفسرین حضرات نے لکھا کہ اتنے ایسے بیمار تھے کہ سارے جسم پر آبلے پڑ گئے اور ان آبلوں میں کیڑے پڑ گئے تھے بھئی اتنی سخت تکلیف ان پر آئی لیکن دیگر مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ نہیں یوں نہ کہو بھئی یہ درست نہیں ہے انبیاء پر ایسی بیماری نہیں آ سکتی جس سے لوگ گھن کھائیں اور نفرت کرنے لگیں بھئی یہ تو ایسی بیماری ہے جس سے لوگ کیا کرتے ہیں گھن کھاتے ہیں اور نفرت کرنے لگتے ہیں تو انبیاء پر بیماری یا تکلیف یا کوئی چیز آئے تو وہ ان پر آزمائش تو ہوگی لیکن اس قسم کی تکلیف یا آزمائش یا کوئی ایسی چیز مصیبت ان پر نہیں آ سکتی کہ جس کی وجہ سے لوگ ہی ان سے نفرت کرنے لگیں بھئی بات سمجھ میں آگئی تو چنانچہ معلوم ہوا اور بیماری وغیرہ تھی سخت بیماری تھی لیکن اس قسم کی بیماری نہیں تھی بھئی تو بھئی اتنے سالوں تک اس بیماری میں رہے بھئی اور صرف ایک وفادار بیوی وہی ان کی خدمت کرتی رہتی تھی یعنی اتنی بیماری کے اندر اتنے عرصے تک خدمت کرتے رہے اس کی وفاداری کا کیا عالم ہوگا بھئی اور چنانچہ پریشان تو تھیں ہی وہ بھی تو ایک مرتبہ کہتے ہیں ابلیس جو ہے ایک حکیم کا روپ دھار کر وہاں آیا بھئی تو ان کی بیوی سے ملا اور کہنے لگا کہ میں تمہیں دوائی دے دیتا ہوں علاج کا طریقہ بتا دیتا ہوں آپ کے خاوند اس سے ٹھیک ہو جائیں گے لیکن تم نے پھر یہ کہنا ہے جب یہ ٹھیک ہو جائیں کہ اس کو حکیم نے فلاں حکیم جو تھا اس نے شفا دی ہے اللہ کی طرف نسبت نہیں کرنی بلکہ اس حکیم کی طرف نسبت کرنی ہے کہ اس حکیم وہ جو آیا تھا اس نے ان کو شفا دی ہے اب بیوی بیچاری سادہ سی ان کا دل کچھ اس بات کی طرف مائل ہوا دوائی وغیرہ بھی لی نہیں لیکن مائل ہوا کچھ کہ اس سے اگر شفا مل جائے کتنی بڑی بات ہے میرے خاوند سالوں سے بیمار ہیں اور سخت تکلیف میں ہیں تو مائل ہوا کچھ ان کا ذہن اس طرف خیر انہوں نے بعد میں آکر حضرت ایوب علیہ السلام سے ذکر کیا کہ اس طرح ایک آدمی ہے وہ کہتا ہے کہ میں دوائی وغیرہ دے دوں گا علاج اس کا میں بتا دوں گا یہ ٹھیک ہو جائیں گے لیکن پھر تم نے یہ کہنا ہے کہ حکیم نے فلاں جو حکیم ہے اس نے شفا دی ہے بھئی حضرت ایوب علیہ السلام کو یہ بات سن کر بڑی تکلیف ہوئی کہ شیطان کی اب مشتہر اور میرے گھر والوں تک رسائی ہو گئی ہے کہ ان کے بھی وہ ایمان پر ڈاکہ ڈالنا چاہتا ہے چنانچہ بڑا غصہ آیا اور آپ نے قسم اٹھا لی اس بیماری کی حالت میں کہ واللہ اگر میں ٹھیک ہو گیا تو تمہیں سو لکڑیاں ماروں گا بھئی سو لاٹھیاں ماروں گا تم تم نے کیسے شیطان کی اس بات کی طرف تمہارا ذہن مائل ہوا بھئی اگرچہ انہوں نے تسلیم نہیں کیا صرف ذہن تھوڑا مائل ہوا تھا لیکن پھر بھی کہا کیسے تمہارا ذہن ان کی طرف مائل ہو گیا تمہارے تمہیں سو لاٹھیاں لگاؤں گا میں ٹھیک ہو جاؤں چنانچہ جب اللہ نے شفا دے دی تو اب یہ پریشان کہ میں نے تو قسم اٹھائی ہے اور یہ میری بیوی تو بڑی وفادار ہے اتنی میری اس نے خدمت کی اٹھارہ سال تک نہ جب میں چلنے کے قابل نہ پھرنے کے قابل یہ میرا خیال بھی رکھتی رہی مجھے کھلاتی بھی رہی پلاتی بھی رہی تو اللہ تعالی نے خود ہی ترکیب بتلا دی بھئی کہ آپ قسم نہ توڑیے یوں کیجیے سو تنکوں کی مٹھی ہاتھ میں لیجیے اور ایک ہی دفعہ مار لیجیے ان کو بھئی تو یہ اللہ تعالی نے حیلہ بتلاایا ان کو اپنی قسم پوری کرنے کا تو یہی اللہ ذکر فرما رہے ہیں وخذ بيدك ضغثا ضغث کہتے ہیں مٹھی کو بھئی یہ لکڑیوں وغیرہ یا تنکوں کی یا گھاس کی جو بھی چیز جو ہاتھ میں آجائے مٹھی کے اندر آجائے بھئی جیسے یہ جھاڑو ہوتا ہے بھئی تو اس طرح بھئی تو اللہ فرماتے ہیں وخذ بيدك ضغثا اور آپ لیجیے اپنے ہاتھ میں تنکوں کی ایک مٹھی فاصرب بہ پس ماریے اس سے ولا تحنث اور قسم نہ توڑیے انا وجدناه صابرا بے شک ہم نے ان کو صبر کرنے والا پایا یعنی حضرت ایوب علیہ السلام بے شک ہم نے ان کو صبر کرنے والا پایا نعم العبد نعم فعل مدح میں سے ہے یہ فاعل چاہتا ہے العبد اس کا فاعل ہے اور ایک یہ مخصوص بالمداح چاہتا ہے وہ محذوف ہے نعم العبد ہو یا نعم العبد ایوب بڑے ہی اچھے بندے تھے ایوب انہو اواب بے شک وہ بہت رجوع کرنے والے تھے یعنی اللہ کی طرف بے شک وہ اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے بھئی یاد رکھیے یہ اللہ تعالی نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حیلہ بتلایا اپنی قسم پوری کرنے کا تو کیا اب باقی لوگوں کے لیے بھی حیلہ کرنا جائز ہے یا جائز نہیں تو یاد رکھیے وہ حیلہ جس کے ذریعے کوئی شرعی حکم یا شرعی حق باطل ہوتا ہو کسی کا وہ حیلہ جائز نہیں ہے بھئی مثلا لوگوں نے زکوٰۃ ساقط کرنے کے حیلے بنا رکھے ہوتے ہیں بھئی سمجھ میں آیا بھئی حیلے بنا لیتے ہیں اور تاکہ زکوٰۃ ہم پر آئے ہی نہ بھئی مثلا چھ مہینے گزر گئے چھ مہینے بعد اپنی بیوی کو کہا آج سے میرے سارے مال کی مالک تو ہے سال گزر جائے گا پھر تو زکوٰۃ آ جائے گی چھ مہینے بعد ہی بیوی کو مالک بنا دیا اگلے چھ مہینے بعد بیوی نے پھر کہا کہ آج سے میں نے تجھے سارے مال کا مالک بنا دیا اب سال کسی پہ بھی نہیں گزرتا سمجھ میں آئی بات تو یہ حیلے ہیں یاد رکھیے یہ جائز نہیں ہے بھئی یہ حرام ہے حرام ہاں ویسے کوئی نیکی کے کام میں کوئی حیلہ کیا جائے تو وہ جائز ہے بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی अच्छा وذكر عبادنا إبراهيم وإسحاق ويعقوب أولي الأيدي والأبصار اور یاد کیجیے ذکر کیجیے عبادنا ہمارے بندوں ابراہیم علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کا أولي الأيدي ہاتھوں والے والابصار ای أولي الأبصار اور ابصار کا عطف ہے ایدی پر أولي الأيدي ہاتھوں والے اور آنکھوں والے اور ذکر کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم اسحاق یعقوب علیہم الصلوۃ والسلام کا جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے بھئی ہاتھوں والے ہم بھی ہیں آنکھوں والے ہم بھی ہیں لیکن اللہ ان کے ساتھ فرما رہے ہیں وہ ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے بھئی ان کے ہاتھ اور پاؤں صرف اللہ کی بندگی کے لیے استعمال ہوتے تھے ان کی آنکھیں صرف نیک کاموں کے لیے استعمال ہوتی تھیں صرف وہ چیزوں کو دیکھ کر اور یقین اور ایمان میں ترقی ہوتی چلی جاتی بھئی تو اس لیے اللہ نے فرمایا کہ وہ ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے بھئی إنا أخلصناهم بخالصة ذكرى الدار بے شک ہم نے ان کو خالص کر لیا تھا چن لیا تھا بخالصة أي بخصلة خالصة یا بصفة خالصة ایک خالص صفت کے ساتھ یعنی ایک خاص صفت کے ساتھ بے شک ہم نے ان کو چن لیا تھا ایک خاص وصف کے ساتھ بھئی وہ کیا وصف تھا؟ ذكرى الدار یہ بدل ہے خالصتن سے اور سمجھ میں آیا بھئی وصف خصلة خالصة یا صفة خالصة خالصة صفت ہے موصوف محذوف ہے خصلة یا صفة تو یہ جو آگے ذكرى الدار ہے یہ اسی سے بدل ہے تو وہ مجرور تو یہ بھی مجرور ہے بھئی بات سمجھ میں آئی بھئی؟ آپ کہیں گے اس پہ تو جر نہیں ہے اس پہ تو نصب آ رہا ہے بھئی یہ الف مقصورہ ہے دراصل اس کے آخر میں ذکرا ذکرا الف ہے اور اجتماع ساکنین کی وجہ سے پھر الف گر گیا بھئی اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف حرف مدہ کیا ہوتا ہے؟ گر جاتا ہے تو الف حرف مدہ تھا اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر گیا بھئی جیسے مثلا آپ کہیں بھئی دیکھیں ایک لفظ ہے ابا قاسم نصبی حالت میں اب کا لفظ آیا بھئی کوئی جملہ تھا مثلا ابا قاسم تو اب کے آخر میں کیا ہے؟ الف ہے ابا قاسم اسی طرح اگر اب قاسم پر ذرا الف لام لے آؤ آپ کیا پڑھیں گے؟ اب القاسم تو دیکھو اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف کیا ہوا؟ گر گیا تو الف اجتماع ساکنین سے یہاں بھی گر گیا بھئی تو اعراب اس کا یہ حالت جری میں ہے اور اعراب تینوں حالتوں میں تقدیر ہو گا اس میں کیونکہ الف مقصورہ ہے آخر میں بے شک ہم نے ان کو چن لیا تھا ایک خاص وصف کے ساتھ یعنی کہ اس گھر کی یاد ذکرا یاد الدار وہ گھر بھئی معین گھر کے الف لام کی اشارہ ہے وہ گھر یعنی جنت بھئی یعنی جنت بھئی یا یوں کہیں آخرت بھئی آخرت بھئی بے شک ہم نے ان کو چن لیا تھا ایک خاص وصف کے ساتھ یعنی کہ اس گھر کی یاد یہ ترجمہ کر لیں یہی ترجمہ کر لیں بے شک ہم نے ان کو چن لیا تھا ایک خاص وصف کے ساتھ یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ کہ وہ ہر وقت وہ آخرت ہی کو یاد کرتے تھے تو ترجمہ آخری آیت کا سمجھ میں آگیا بھئی إنا أخلصناهم بخالصة ذكرى الدار بے شک ہم نے ان کو چن لیا تھا ایک خاص وصف یعنی آخرت کی یاد یوں با محاورہ یوں کر لیں اور بہتر بھئی بے شک ہم نے ان کو ایک خاص صفت یعنی آخرت کی یاد کے لیے چن لیا تھا چلیے بس بھئی ہذا هو المراد واللہ اعلم بحقيقة الكلام