اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم. یا داود انا جعلناکہ خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الهوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ ان الذین یضلون عن سبیل اللہ لهم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب۔ یا داود انا جعلناکہ خلیفۃ فی الارض۔ اب اللہ تعالی حضرت داود علیہ السلام سے خطاب فرما رہے ہیں یعنی جو ان کو حکم دیا گیا تھا اس کا ذکر کیا جا رہا ہے قران میں۔ یا داود اے داود انا جعلناکہ بلاشبہ ہم نے آپ کو بنایا ہے خلیفۃ فی الارض زمین میں خلیفہ۔ ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ فاحکم بین الناس بالحق پس آپ فیصلہ کیجیے لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ یعنی انصاف کے ساتھ۔ ولا تتبع الهوی اور اتباع نہ کیجیے ہوا، بھئی ہوا، خواہش نفس کو کہتے ہیں۔ خواہش نفس بھئی، ہوا چاہے اچھی ہو چاہے بری ہو۔ خواہش نفس بھئی اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی ہو سکتی ہے، لیکن تو یہ، لیکن پھر یہ استعمال ہونے لگا بھئی بری خواہش نفس کے اندر بھئی۔ تو اب یہ کس کے اندر استعمال ہوتا ہے؟ بری خواہش نفس ہی کے اندر استعمال ہوتا ہے، اسی لیے اللہ فرما رہے ہیں ولا تتبع الهوی اور پیروی نہ کیجیے نفسانی خواہشوں کی، نفسانی خواہش کی پیروی نہ کیجیے۔ فیضلک عن سبیل اللہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ امر، نہیں، استفہام وغیرہ کے بعد اگر فعل مضارع آئے تو وہ ان کا جواب کہلاتا ہے اور اس فعل مضارع پر اگر ف یا و داخل نہ ہوں تو وہ مجزوم ہوتا ہے۔ اور اگر ف یا و داخل ہوں تو وہ منصوب ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی دیکھیے یہ منصوب ہے فیضلک۔ ولا تتبع الهوی اور خواہش نفس کی پیروی نہ کیجیے فیضلک تو وہ گمراہ کر دیں گی آپ کو عن سبیل اللہ اللہ کے راستے سے۔ تو وہ گمراہ کر دیں گی آپ کو اللہ کے راستے سے۔ اے داود خواہش نفس کی پیروی نہ کیجیے۔ یعنی اگر پیروی کریں گی تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گی بھئی۔ ان الذین یضلون عن سبیل اللہ بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے، لهم عذاب شدید ان کے لیے سخت عذاب ہے بما نسوا یوم الحساب۔ نسی ینسٰی کے معنے ہوتے ہیں بھول جانے کے، با سبب یہ ہے بما نسوا بوجہ اس کے جو انہوں نے بھلا دیا تھا یوم الحساب حساب کے دن کو یعنی قیامت کو۔ ترجمہ سمجھ میں اگیا بھئی؟ تو فیضلک کا کیا معنی کیا؟ گمراہ کر دیں گیا یعنی اگر ان کو کی پیروی آپ ان کی پیروی نہ کیجیے، اگر پیروی کریں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گی بھئی۔ تو با محاورہ یوں کیجیے ترجمہ بھئی۔ یا داود انا جعلناکہ خلیفۃ فی الارض اے داود بیشکہ ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، فاحکم بین الناس بالحق پس آپ فیصلہ کیجیے لوگوں میں انصاف کے ساتھ، ولا تتبع الهوی فیضلک عن سبیل اللہ اور خواہش نفس کی پیروی نہ کیجیے ورنہ وہ گمراہ کر دیں گی آپ کو اللہ کے راستے سے۔ ورنہ وہ گمراہ کر دیں گی آپ کو اللہ کے راستے سے۔ ان الذین یضلون عن سبیل اللہ بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے، ان کے لیے سخت عذاب ہے کیوں اس وجہ سے کیونکہ انہوں نے بھلا دیا تھا قیامت کے دن کو۔ وما خلقنا السماوات والارض وما بينهما باطلا اور ہم نے پیدا نہیں کیا آسمان کو اور زمین کو وما بينهما اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، ہم نے ان کو پیدا نہیں کیا باطلا باطل بھئی یعنی بیکار، بے فائدہ۔ اللہ فرما رہے ہیں وما خلقنا السماوات والارض وما بينهما باطلا اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، ان کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ ذلک ظن الذین کفروا یہ گمان ہے ان لوگوں کا جنہوں نے کفر کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا کہ یہ زمین اور آسمان وغیرہ تو ویسے ہی پیدا کیے گئے ہیں بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں ہم نے ان کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا، ویسے ہی پیدا نہیں کر دیا۔ فویل للذین کفروا من النار۔ پس ہلاکت، ویل کہتے ہیں ہلاکت کو بھئی، ہلاکت۔ فویل پس ہلاکت ہے للذین کفروا ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا من النار یہ بیان ہے اس ہلاکت کا یعنی کہ اگ۔ یعنی کہ اگ بھئی پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا یعنی کہ اگ۔ معنی سمجھ میں اگیا بھئی؟ یہ من النار کس کا بیان ہے؟ ویل کا ہلاکت ہے یعنی کیا چیز ہے ان کے لیے؟ ہلاکت کیا ہے؟ اگ ہے بھئی اگ۔ تو با محاورہ ترجمہ ہمارے بعض علماء نے بڑا پیارا کیا بھئی فویل للذین کفروا من النار۔ پس وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کی شکل میں ان کے لیے ہلاکت ہے اگ کی صورت میں۔ ان کے لیے ہلاکت ہے اگ کی صورت میں، اگ کی شکل میں۔ فویل للذین کفروا من النار پس ہلاکت ہے اگ کی شکل میں ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا۔ امنجعل الذین آمنوا و عملوا الصالحات كالمفسدين في الارض کیا ہم کر دیں گے ان لوگوں کو جو جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے؟ کیا ہم ان کو کر دیں گے المفسدين في الارض ان لوگوں کی طرح جو فساد مچانے والے ہیں زمین کے اندر۔ کیا وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے کیا ہم ان کو زمین میں فساد مچانے والوں کی طرح کر دیں گے؟ کیا یعنی کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ امنجعل المتقين كالفجار یا کیا ہم کر دیں گے پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح؟ فجار فاجر، بدکار بھئی۔ امنجعل المتقين كالفجار کیا ہم کر دیں گے پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح؟ اللہ فرما رہے ہیں کیا ہم نے آسمان اور زمین کو بیکار پیدا کر دیا؟ تو نہیں، ایسا نہیں ہے، ان زمین اور آسمان کو ہم نے بیکار پیدا نہیں کیا، یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جو کفر کرنے والے ہیں۔ کفر کرنے والے ہیں، ان کو ہم نے بیکار پیدا نہیں کیا۔ اور کیا وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل اچھے عمل کیے کیا ان کو ہم زمین میں فساد مچانے والوں کی طرح کر دیں گے بھئی؟ دنیا میں آپ دیکھتے ہیں بہت سے لوگ وہ نیکی کرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں، اللہ کے راستے پر چلتے ہیں۔ تو اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اللہ کے احکامات کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کرتے۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں بھئی۔ فساد پھیلاتے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کیا ان نیک لوگوں کو ہم ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو فاسد ہیں؟ بلکہ نہیں، آخرت کا ایک نظام ہے جو ہم نے رکھا ہے، جو اس دنیا کے بعد ہوگا اور پھر وہاں پر اچھے اور برے لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا بھئی۔ تو یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ امنجعل المتقين كالفجار کیا ہم کر دیں گے پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح؟ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ نیکوکاروں کو ہم اچھا بدلہ دیں گے، یقیناً یقیناً آخرت کا دن آنے والا ہے اور پھر اس وقت ہر چیز کا فیصلہ ہوگا۔ تو یہ برابر نہیں ہے کہ دنیا میں زندگی گزار لی اور گزر گئے، چلے گئے۔ نہیں، آگے ان کو ان کے اعمال کا جواب دینا پڑے گا۔ کتاب انزلناه الیک مبارک لیدبروا آیاتہ۔ ای هذا کتاب مبتدا محذوف ہے بھئی۔ کہ یہ کہ ایک کتاب ہے انزلناه الیک جسے ہم نے نازل کیا ہے آپ کی طرف مبارک۔ کیسی کتاب ہے؟ مبارک، جو مبارک ہے۔ ليدبروا آياته تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں میں ولیتذكر اولوالالباب اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے۔ اولوالالباب عقل والے، عقل والے۔ لب عقل کو کہتے ہیں، الباب اس کی جمع۔ اور اولو یہ ذو کی جمع ہے من غیر لفظہ بھئی۔ اسی لفظ سے تو نہیں، لیکن اسی کی جمع ہے۔ جیسے ذو مفرد کے لیے آتا ہے، ذو مال کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا بھئی، تو جمع کے لیے اولو کا لفظ اسی طرح استعمال ہے۔ وليتذكر اولوالالباب اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے۔ بھئی میں نے آپ کو بتایا ہے نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کی کیا بنتا ہے؟ صفت۔ کتاب نکرہ ہے انزلناه الیک، اس کے بعد فعل آیا تو یہ اس کی صفت بنے گا۔ یہ صفت اول ہے، اور مبارک یہ صفت ثانی ہے۔ تو کتاب موصوف کی دو صفتیں آ گئیں۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آتے ہیں۔ اور یہ تو ایک طریقہ، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صفت عربی میں مؤخر ہوتی ہے، اردو میں مقدم ہوتی ہے۔ مثلا آپ کہتے ہیں رجل شجاع، رجل موصوف، شجاع صفت، لیکن اردو میں ترجمہ کریں گے تو کہیں گے بہادر آدمی، دیکھو بہادر جو صفت تھی اس کو آدمی پر مقدم کر دیا گیا۔ تو یہ دونوں طریقے ہیں موصوف صفت کے ترجمے کے کہ پہلا طریقہ یہ کہ موصوف صفت کو موصوف پر مقدم کر دیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مقدم بے شک نہ کریں، تو پھر موصوف سے پہلے کیا لفظ لے آئیں؟ ایسا یا ایسی۔ تو یہاں دو صفتیں آ گئیں، ایک کو دونوں طریقے استعمال کر لیں بھئی۔ با محاورہ ترجمہ ہو جائے گا بہترین۔ ایک کو مقدم کر دیں، ایک کو موؤخر ہی رکھیں اور جو موؤخر رکھی ہے، اس کے لیے کیا لے آئیں؟ ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں، تو دیکھیے کتاب انزلناه الیک مبارک یہ ایسی مبارک کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر نازل کیا ہے۔ لیدبروا آیاتہ تاکہ وہ لوگ غور کریں اس کی آیتوں میں ولیتذكر اولوالالباب اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے۔ تو اللہ فرما، اللہ نے پہلے ذکر فرمایا کیا زمین اور آسمان کو ہم نے بیکار پیدا کیا ہے، تمہارا کیا خیال ہے؟ اور یہ کیا ہم نیک لوگوں کو بھی مفسدوں کی طرح کر دیں گے؟ نہیں، بلکہ آگے کیا کرنا پڑے گا؟ ہر ایک کو اپنے اعمال کا جواب دینا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا یوم حساب ضروری ہے۔ جب یوم حساب کا آنا ضروری ہے، تو اس کے پہلے سے اللہ فرماتے ہیں، ہم نے بتلا بھی دیا، کتاب بھی نازل کر دی ہے، تاکہ تم جان لو کہ کس طریقے پر چل کر ہمیں کامیابی ملے گی اور کس طریقے کی صورت میں ناکامی ملے گی بھئی۔ ووهبنا لداود سليمان۔ اور عطا کیا ہم نے داود علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام۔ ہم نے داود علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام عطا کیے بھئی۔ سلیمان علیہ السلام بیٹے ہیں حضرت داود علیہ السلام کے۔ یعنی ان کو ہم نے یہ بیٹا عطا کیا۔ ووهبنا لداود سليمان اور عطا کیا ہم نے داود علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام نعم العبد۔ نعم العبد۔ بھئی نعم افعال مدح میں سے ہے، اور آپ جانتے ہیں افعال مدح جو ہیں ایک فاعل چاہتے ہیں اور ایک مخصوص بالمدح۔ تو یہ العبد یہ اس کا فاعل ہے، اور مخصوص بالمدح محذوف ہے۔ نعم العبد ھوا۔ ھوا، وہ اور ضمیر راجع ہے حضرت سلام علیہ السلام کو۔ یاد سلیمان ہی کو محذوف نکالنے بھئی، نعم العبد سلیمان ہو۔ کیا ہی اچھے بندے تھے، کیا ہی اچھے بندے ہیں سلیمان۔ یہ ترجمہ بھئی، یہ انشائے مدح کے لیے ہے۔ نعم العبد ہوا، بڑے ہی اچھے بندے ہیں وہ۔ انہوا، بے شک وہ رجوع کرنے والے تھے۔ یا، اسی کے مطابق ترجمہ کر لیں بھئی کیونکہ وہ گزر چکے ہیں، نعم العبد۔ لیکن پھر تو خبر بن جائے گی بھئی، انشاء ہے بھئی انشاء۔ بڑے ہی اچھے بندے ہیں سلیمان، انہوا، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والے تھے، یعنی اللہ کی طرف بھئی۔ انہوا، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والے تھے، اذ عرض علیہ بالعشی صافینات الجیاد۔ عرض یعرض کے معنی ہوتے ہیں پیش کرنے کے۔ اذ عرض علیہ، جب ان پر پیش کیے گئے، ہا ضمیر راجع ہے سلیمان علیہ السلام کو۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام پر پیش کیے گئے، بالعشی، یرحمک اللہ۔ عشی کس وقت کو کہتے ہیں؟ किस वक्त से किस वक्त तक को भाई؟ زوال سے لے کر صبح تک کا جو وقت ہے یہ سارا کیا کہلاتا ہے؟ عشی۔ اذ عرض علیہ بالعشی، جس وقت پیش کیے گئے ان پر شام کے وقت صافینات الجیاد۔ صافینات جمع ہے صافینات کی، اور جیاد جمع ہے جواد کی، جواد بھئی و مشدد نہیں پڑھنا۔ جواد، عمدہ گھوڑے کو کہتے ہیں بھئی۔ جواد، عمدہ گھوڑے کو، اور جواد و کو مشدد پڑھیں تو اس کے معنی سخی کے ہیں بھئی، سخی آدمی۔ تو صافینات جمع ہے صافینات کی، اور صافینات، وہ گھوڑا، عمدہ نسل کا وہ گھوڑا، جو تین قدم، تین پاؤں اس نے زمین پر رکھے ہوتے ہیں، اور چوتھا پاؤں جو ہے اس کو اٹھا کر رکھتا ہے اس کے صرف کھر کا کنارہ جو ہے، وہ زمین پر لگا ہوتا ہے۔ تین پاؤں پورے رکھے ہوئے ہیں زمین پر، تین قدم، اور ایک پاؤں اس کا صرف کنارہ زمین پر لگایا ہوتا لگا ہوتا ہے۔ اس طریقے سے وہ کھڑا ہوتا ہے، اور یہ عمدہ نسل والے گھوڑوں کی علامت ہے بھئی، عمدہ نسل والے گھوڑے جو ہیں۔ اچھی نسل والے۔ تو صافینات، معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو معنی اس کا کر لیں اچھی نسل والے، اچھی نسل والے۔ الجیاد، عمدہ بھئی، اعلیٰ۔ اذ عرض علیہ بالعشی صافینات الجیاد، جب پیش کیے گئے سلیمان علیہ السلام پر شام کے وقت اچھی نسل کے عمدہ گھوڑے۔ فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی۔ فقال، پس فرمایا حضرت سلیمان علیہ السلام نے، انی احببت، بے شک میں نے پسند کیا۔ انی احببت، بے شک میں نے پسند کیا حب الخیر، خیر سے مراد ہے مال مال بھئی۔ حب الخیر، مال کی محبت کو، عن ذکر ربی، ای لاجل ذکر ربی، عن کس کے معنی میں؟ لام کے معنی میں بھئی۔ اللہ، ای لاجل ذکر ربی، اپنے پروردگار کے ذکر کی وجہ سے۔ میں نے مال کی محبت کو پسند کیا، اختیار کیا یعنی، میں نے مال کی محبت کو اختیار کیا، عن ذکر ربی، ای لاجل ذکر ربی، اپنے پروردگار کے ذکر کی وجہ سے۔ حتا توارت بالحجاب۔ یہاں تک کہ وہ چھپ گئے۔ حتا توارت، یہاں تک کہ وہ گھوڑے چھپ گئے۔ توارت کا معنی چھپ گئے۔ بھئی۔ حتا توارت، یہاں تک کہ وہ چھپ گئے بالحجاب۔ حجاب کس کو کہتے ہیں؟ پردے کو یعنی اوٹ مڑا اوٹ مراد ہے۔ حتا توارت بالحجاب، یعنی یہاں تک کہ وہ چھپ گئے اوٹ میں۔ پردے کے پیچھے چھپ گئے بھئی، وہ اوٹ بھی تو پردہ ہی بن گئی نا، اس کے پیچھے چھپ گئے، اب نظر نہیں آ رہے۔ حتا توارت بالحجاب، یہاں تک کہ وہ چھپ گئے اوٹ کے پیچھے، یا یہاں تک کہ وہ چھپ گئے اوٹ میں۔ تو فرمانے لگے، ردّوہ علی۔ لوٹاؤ ان گھوڑوں کو علی، مجھ پر۔ وہ گھوڑے پھر لے کر آؤ میرے پاس، ان کو لوٹاؤ مجھ پر۔ فقفق مسح بالسوق والاعناق، فقفق، پس شروع ہو گئے مسح، ہاتھ پھیرنا۔ بالسوق والاعناق، سوق جمع ہے ساق کی۔ پنڈلی کو کہتے ہیں پنڈلی کو۔ اعناق جمع ہے عنق کی۔ گردن کو کہتے ہیں۔ فقفق مسح بالسوق والاعناق، پس شروع ہو گئے ہاتھ پھیرنا ان کی پنڈلیوں اور گردانوں پر۔ پس ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا محبت کی وجہ سے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی، پس سلیمان علیہ السلام نے فرمایا، بے شک میں نے اختیار کیا مال کی محبت کو اپنے پروردگار کے ذکر کی وجہ سے۔ حتا توارت بالحجاب، یہاں تک کہ وہ گھوڑے چھپ گئے اوٹ میں۔ ردّوہ علی، تو فرمانے لگے، ردّوہ علی، ان گھوڑوں کو پھر میرے پاس لاؤ۔ فقفق مسح بالسوق والاعناق، پس شروع ہو گئے ان کی پنڈلیوں اور گردانوں پر ہاتھ پھیرنا۔ پس ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ ترجمہ کیا میں نے ایک تفسیر کے مطابق بھئی۔ پہلی تفسیر کے مطابق بھئی، حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے بڑی عظیم حکومت نصیب فرمائی تھی، اور تو آپ نے، آپ حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے، اور آپ نے بہت سے گھوڑے تیار کر رکھے تھے جہاد کے مقصد کے لیے بھئی۔ تو ایک دن شام کے وقت بھئی، گھوڑوں کو آپ کے سامنے پیش کیا گیا، آپ ان کے معائنے کے لیے تشریف لائے۔ اور گھوڑوں کا معائنہ فرماتے رہے، یہاں تک کہ گھوڑے آپ کے سامنے۔ جی، گھوڑوں کا معائنہ فرماتے رہے بھئی۔ اب سیکڑوں کی تعداد میں گھوڑے ہیں بھئی۔ تو انبیاء کی نظر ہر وقت اللہ کی طرف رہتی ہے، تو فرمانے لگے کہ بھئی یہ جو میں گھوڑوں کو دیکھ رہا ہوں اور ان سے میری محبت ہے، یہ اس وجہ سے نہیں کہ ان کی وجہ سے میری شان و شوکت ہے، یا میرا دبدبہ ہے، یا یہ دنیاوی مال ہے، اس لیے مجھے محبوب ہے، میری ان سے محبت بھی اللہ کی وجہ سے ہے۔ میں نے ان کو کس لیے تیار کیا ہے؟ جہاد کے لیے تیار کیا ہے، تو یہ جو مال سے میری محبت بھی ہے، وہ اللہ کی وجہ سے ہے، اللہ کی یاد کے لیے ہے، ویسے نہیں ہے بھئی، تو انبیاء کی نظر ہر وقت اللہ کی طرف رہتی ہے۔ چنانچہ معائنہ فرماتے رہے یہاں تک کہ گھوڑے گزر گئے سارے، اوٹ میں چلے گئے، چھپ گئے۔ تو آپ نے یہ فرمایا، اور کہ بھئی ان گھوڑوں سے میری محبت بھی وہ اللہ کی یاد کی وجہ سے ہے، کسی اور وجہ سے نہیں ہے۔ پھر فرمانے لگے کہ، جب گھوڑے اوٹ میں چھپ گئے، کہ پھر ان کو میرے پاس لے کر آؤ ذرا، پھر لے کر آئے اور آپ ان کی گردنوں پر اور پنڈلیوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے لگے بھئی۔ تو مال سے بھی محبت کس وجہ سے تھی؟ اللہ کے لیے تھی بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی، یہ ایک تفسیر کے مطابق ترجمہ ہوا بھئی۔ دوبارہ سن لیں اس کے مطابق ترجمہ، دوسرا ترجمہ بالکل مختلف ہوگا بھئی، سننا بھئی۔ پہلا ترجمہ دوبارہ سنیں۔ فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی، پس فرمایا سلیمان علیہ السلام نے، بے شک میں نے اختیار کیا مال کی محبت کو عن ذکر ربی، اپنے پروردگار کی یاد کی وجہ سے۔ حتا توارت بالحجاب، یہاں تک کہ چھپ گئے وہ گھوڑے اوٹ میں۔ ردّوہ علی، لوٹاؤ ان کو مجھ پر، ان کو پھر میرے پاس لے کر آؤ۔ فقفق مسح بالسوق والاعناق، پس شروع ہو گئے ان کی پنڈلیوں اور گردانوں پر ہاتھ پھیرنا، یعنی ان کی پنڈلی، ان کی پنڈ، یہ ترجمہ کریں بھئی۔ تو شروع، تو ان کی پنڈلیوں اور گردانوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ دوسری تفسیر بھئی۔ دوسری تفسیر جو زیادہ مشہور ہے اور اکثر مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے گھوڑے تیار کر رکھے تھے جہاد کے لیے، ایک دن عصر کے وقت، عصر کے قریب، آپ ان گھوڑوں کے معائنے میں مشغول ہوئے، بھئی، سیکڑوں کی تعداد میں گھوڑے ہیں، آپ کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ آپ ان کے دیکھنے میں، ان کے معائنے میں اتنے مگن ہوئے کہ خیال ہی نہ رہا، یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور آپ کی عصر کی نماز فوت ہو گئی بھئی، عصر کی عبادت آپ کی فوت ہو گئی۔ تو اس وقت پھر آپ کی توجہ ہوئی کہ اوہ، یہ تو وقت گزر گیا، میری تو عبادت رہ گئی عصر کی، اور اتنا دکھ ہوا، اتنا دکھ ہوا کہ فرمایا ان گھوڑوں کو پھر لے کر آؤ میرے پاس۔ اب اگرچہ ان گھوڑوں سے ان کی محبت بھی اللہ کے لیے تھی بھئی، لیکن اللہ کی عبادت ان سے رہ گئی تھی ان کی وجہ سے، جس کی وجہ سے ان کو اتنا دکھ ہوا کہ فرمایا، ان گھوڑوں کو پھر میرے پاس لے کر آؤ، اور پھر آپ نے تلوار اٹھائی اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر مارنا شروع کر دی، یعنی سب کو اللہ کے راستے میں قربان کر دیا بھئی۔ سب کو اللہ کے راستے میں قربان کر دیا، اور اس زمانے میں گھوڑوں کی قربانی جائز تھی بھئی، تو سب گھوڑے انہوں نے، کہ ان کی وجہ سے میری ایک نماز رہ گئی، سب کو اللہ کے راستے میں قربان کر دیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھیے اس کے مطابق ترجمہ یہ ہوگا بھئی۔ فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی۔ پس فرمایا سلیمان علیہ السلام نے، بے شک میں نے اختیار کیا مال کی محبت کو، پسند کیا میں نے مال کی محبت کو، عن ذکر ربی، اپنے پروردگار کے ذکر کے مقابلے میں۔ پہلے بھی کیا ترجمہ تھا، اپنے پروردگار کی یاد کے لیے، اب اپنی پروردگار کی یاد کے مقابلے میں کہ میں اس میں مشغول رہا۔ پس فرمایا کہ، بے شک میں نے اختیار کیا، یا پسند کیا، جو بھی ترجمہ آپ کر لیں، بے شک میں نے پسند کیا مال کی محبت کو، اپنے پروردگار کی یاد کے مقابلے میں۔ حتا توارت بالحجاب، یہاں تک کہ چھپ گیا، کون چھپ گیا؟ سورج بھئی، اب ضمیر کس کو لوٹائیں؟ سورج کی طرف بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو سورج بھئی، ما قبل میں عشی کا ذکر آیا، اسی سے سورج کا پتہ، مفہوم سمجھ میں آ گیا تھا بھئی۔ حتا توارت بالحجاب، یہاں تک کہ سورج چھپ گیا اوٹ میں۔ پردے میں چھپ گیا، یعنی غروب ہو گیا۔ تو بڑے افسوس کرنے لگے، اور فرمایا، ردّوہ علی، ان گھوڑوں کو مجھ پر لوٹاؤ، ان کو پھر میرے پاس لے کر آؤ۔ فقفق مسح بالسوق والاعناق، پس شروع ہو گئے، مسع کا معنی ہاتھ سے چھونا، یہاں مراد ہے، یعنی تلوار مارنے لگے بھئی۔ تو شروع ہو گئے چھونا، ان کی پنڈلیوں اور گردانوں کو، یعنی ان پر تلوار مارنا آپ نے شروع کر دی بھئی۔ فقفق مسح بالسوق والاعناق، پس آپ ان کی پنڈلیوں اور گردانوں پر تلوار چلانے لگے، یہ معنی ہوا بھئی۔ پس فقفق مسح بالسوق والاعناق، پس آپ نے چھونا شروع کر دیا پنڈلیوں اور گردانوں کو، کس کے ذریعے؟ یعنی تلوار کے ذریعے، یعنی تلوار مارنا شروع کر دی۔ ولقد فتّنا سلیمان والقینا علی کرسیہ علی کرسیہ جسدا ثم اناب۔ اور تحقیق البتہ آزمایا ہم نے سلیمان علیہ السلام کو۔ ولقد فتّنا سلیمانا، کیا ترجمہ بھئی؟ اور تحقیق البتہ آزمایا ہم نے سلیمان علیہ السلام کو۔ تو ولقد، یہ تحقیق کے لیے اتا ہے، کہ اس بات میں کوئی شک اور شبہ نہیں بھئی۔ تو بعض ہمارے علماء نے، اور ایک بڑا پیارا ترجمہ کیا اگر آپ کو پسند ائے تو و لقد فتنا سلیمانا۔ و یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آزمایا سلیمان علیہ السلام کو۔ و القینا علی کرسیہ جسدا اور ڈال دیا ہم نے ان کی کرسی پر یعنی ان کے تخت پر جسدا ایک دھڑ ایک جسم۔ ہم نے ڈال دیا ان کی کرسی پر۔ کرسی سے کیا مراد یعنی کہ تخت بھئی بادشاہ تھے بھئی۔ و القینا علی کرسیہ جسدا اور ڈال دیا ہم نے ان کے تخت پر ایک دھڑ ثم اناب پھر انہوں نے رجوع کیا۔ و یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آزمایا سلیمان علیہ السلام کو اور ہم نے ڈال دیا ان کے تخت پر ایک دھڑ ایک دھڑ کو ایک جسم کو ثم اناب پھر انہوں نے رجوع کیا۔ بھئی یہاں پر۔ اس کا کیا معنی۔ ایک تو تفسیر وہ جو اسرائیلی روایات ہیں بھئی۔ اسرائیلی روایات جو یہود وغیرہ بھئی یہ واقعات یہ تورات اور انجیل وغیرہ میں بھی ان کا ذکر تھا لیکن وہاں ان کو یہودیوں نے بگاڑ دیا بھئی۔ ان کی واقعات کی صورتیں ہی بالکل مسخ کر دیں بھئی۔ تو وہ پھر۔ جس نے جس طرح خراب کیا پھر اس کے مطابق بڑی روایات وغیرہ تو ان سے بھی مفسرین بعض باتیں لیتے ہیں اگر وہ درست ہوں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی۔ تو یہ بھی ان کی اسرائیلی روایات میں سے ہے۔ کہ کیا معنی اس کا۔ بھئی ایک بڑی لمبی کہانی ہے۔ ایسی کہانی جیسے آپ ناولوں وغیرہ میں پڑھتے ہوں گے بھئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بھئی دیکھیے آگے۔ پی پیچھے ذکر آیا انہوں نے تمام گھوڑوں کو قربان کر دیا۔ تمام گھوڑوں کو قربان کر دیا۔ تو۔ اور اللہ نے ان کو بڑی عظیم حکومت دی تھی بھئی ہواؤں پر۔ پرندوں پر انسانوں پر جنوں پر سب کی ان کی حکومت تھی بھئی۔ تو وہ یہود بیان کرتے ہیں بھئی اسرائیلی روایات۔ بنو اسرائیل والے ہیں نا وہ یہود تو ان کو اسرائیلی روایات کہا جاتا ہے۔ تو اسرائیلی روایات کے مطابق بیان کرتے ہیں بھئی کہتے ہیں بھئی حضرت سلیمان علیہ السلام کی جو طاقت اور حکومت تھی نا یہ ان کی جو قوت تھی وہ ان کی انگوٹھی میں رکھی تھی اللہ نے۔ اور تو وہ ایک مرتبہ غسل کے لیے گئے اور انگوٹھی بیوی کے حوالے کی بھئی کیونکہ اس پر اللہ کا نام لکھا ہوا تھا اسم اعظم۔ تو وہ ایک جن تھا جو آپ کی طاق میں تھا کہ کسی طرح مجھے موقع ملے اور میں یہ انگوٹھی لے لوں۔ چنانچہ بھئی وہ جب گئے تو یہ جن حضرت سلیمان علیہ السلام کی صورت بنا کر ان کی بیوی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اب وہ انگوٹھی دو وہ سمجھی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ہے اس نے انگوٹھی دے دی انگوٹھی دی بس اس نے پہنی اب وہ سلیمان علیہ السلام کی طرح سب چیزوں پر حکومت کرنے لگا بھئی۔ تو چالیس دن یا کتنے دن تک کہتے ہیں وہ حکومت کرتا رہا سلیمان علیہ السلام اپنی جان بچاتے پھر رہے تھے بھئی۔ اور۔ کوئی ان کی بات مانتا ہی نہیں تھا وہ کہتے تھے میں ہوں سلیمان وہ کہتے تھے نہیں بھئی آپ کیسے وہ تو بات اس وقت تخت پر بیٹھے حکومت کر رہے ہیں بھئی محل میں موجود ہیں۔ اور پھر وہ جو جن تھا وہ ایک دن کہیں دریا کے پاس تھا تو وہ انگوٹھی اس کے ہاتھ سے نکلی اور دریا میں گر پڑی اس کو ایک مچھلی نے نگل لیا پھر وہ مچھلی حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہیں مچھلی خریدی۔ وہ مچھلی حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچ گئی آپ نے مچھلی کو کاٹا تو بیچ میں سے وہی انگوٹھی نکل آئی آپ پھر بادشاہ بن گئے۔ ایک عجیب ناول کی طرح کی کہانی بنائی ہوئی ہے ان لوگوں نے بھئی بھئی حضرت سلیمان علیہ السلام کے تو اللہ نے فرشتے جو ہیں ان کو بھی مقرر کر رکھا تھا ان کے احکام ماننے کے لیے جو جنات سرکشی کرتے تھے تو باقاعدہ فرشتے جو تھے وہ جنات تو بھی دکھائی نہیں دیتے تھے تو جنات کو کوڑے لگتے تھے بھئی چنانچہ جنات کی جرات ہی نہیں ہوتی تھی خلاف ورزی کرنے کی بھئی۔ اور انگوٹھی میں وہ ساری طاقت ایک عجیب سی بات بھئی۔ اچھا تو چلیے یہ بھی میں نے کہا آپ کو سنا دوں بھئی۔ تو یہ اسرائیلی روایات میں سے ہیں بھئی اور۔ پھر اس کا کیا معنی۔ تو بعض مفسرین جو نے ذکر کیا ہے۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جو ہیں۔ ان کی ستر بیویاں تھیں۔ ایک دن کہنے لگے کہ آج میں اپنی تمام بیویوں سے صحبت کروں گا اور ان سے مجھے اللہ اولاد نصیب فرمائیں گے اور ان سب کو میں مجاہد بناؤں گا جہاد کریں گے سب۔ لیکن انشاءاللہ کہنا کہنا بھول گئے انشاءاللہ نہیں کہا اللہ کو ان کی یہ بات پسند نہ آئی۔ چنانچہ انہوں نے تب بیویوں سے صحبت کی۔ اور لیکن کسی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ایک بیوی سے ایک ادھورا بچہ پیدا ہوا جسے وہ دائی اٹھا کر لائی۔ اور آپ کے پاس تخت پر ڈال دیا۔ کہ یہ بچہ آپ کا پیدا ہوا ہے ادھورا بچہ تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں روایت میں آتا ہے کہ اگر اگر سلیمان علیہ السلام انشاءاللہ کہہ دیتے تو ویسا ہی ہوتا جیسے کہ ان کی تمنا تھی ویسے ہی اللہ فرما دیتے بھئی۔ تو وہ جو دائی نے وہ جو ادھورا بچہ لا کر ان کے پاس تخت پر ڈالا اس کا ذکر ہے بھئی۔ و لقد فتنا سليمانا اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آزمایا سلیمان علیہ السلام کو و القينا على كرسيه جسدا اور ڈال دیا ہم نے ان کے تخت پر ایک جسم کو ایک دھڑ کو ثم اناب پھر انہوں نے رجوع کیا۔ قال رب اغفر لي تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا رب اغفر لي اے میرے پروردگار میری مغفرت فرما مجھے معاف فرما۔ و هب لي ملكا اور عطا فرما مجھے ایک ایسی حکومت ایسی بادشاہی لا ينبغي لأحد جو مناسب نہ ہو کسی ایک کے بھی من بعدي میرے بعد۔ اے اللہ مجھے میرے گناہ کو معاف فرما اور مجھے ایسی بادشاہی نصیب فرما جو کسی ایک کے بھی مناسب نہ ہو میرے بعد یعنی کسی ایک کے لائق بھی نہ ہو بھئی۔ کسی ایک کے لائق بھی نہ ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی۔ قال رب اغفر لي اے میرے پروردگار مجھے میری مغفرت فرما و هب لي ملكا اور عطا فرما۔ و ہب یہب سے حب امر ہے عطا فرما۔ و هب لي ملكا اور عطا فرما مجھے ایسی بادشاہی لا ينبغي لأحد من بعدي جو لائق نہ ہو کسی کے بھی میرے بعد۔ یعنی میرے بعد اور کسی کو نہ ملے ایسی بادشاہی اے اللہ مجھے نصیب فرما۔ یہی ہے معنی کہ ایسی بادشاہی نصیب فرما جو کوئی مجھ سے چھین نہ سکے بھئی۔ انك أنت الوهاب بے شک آپ بہت بخشنے والے ہیں فسخرنا له الريح پس ہم نے مسخر کر دیا ان کے لیے ہوا کو۔ ہم نے ان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا یعنی ان کے قابو میں دے دیا ہوا کو۔ فسخرنا له الريح پس ہم نے ان کے قابو میں دے دیا ہوا کو تجري بأمره جو چلتی تھی ان کے حکم سے۔ رخاء نرمی سے حيث أصاب جہاں وہ۔ اصابہ کے معنی پہنچنے کے۔ یعنی جہاں وہ پہنچنا چاہتے۔ ہم نے ہوا کو ان کے قابو میں دے دیا جو ان کے حکم سے چلتی تھی رخاء نرمی سے بھئی۔ دھیمے انداز میں بھئی۔ یہ نہیں کہ آندھی وغیرہ کی شکل میں جو تکلیف کا باعث ہو تجري بأمره جو چلتی تھی ان کے حکم سے رخاء نرمی سے حيث أصاب جہاں وہ پہنچنا چاہتے ہوا ان کو لے جاتی ان کے تخت کو۔ و الشياطين اس کا عطف اور ریح پر ہے اور قابو میں دے دیے ہم نے ان کے سرکش جن بھئی۔ شیطان کس کو کہتے ہیں وہی شریر جن بھئی شریر جن۔ اور ہم نے قابو میں دے دیے ان کے شریر جنات كل بناء وغواص۔ بناء کہتے ہیں تعمیر کرنے والا معمار بھئی معمار تعمیر کرنے والا۔ جو بھئی جو عمارتیں تعمیر کرتا ہے اسے آپ کیا کہتے ہیں۔ معمار کہتے ہیں یا اور۔ مستری کہہ لیں بھئی جو عمارتیں یعنی تعمیر کرتے تھے بھئی۔ بنا یبنی کے معنی ہوتے ہیں عمارت بنانے کے تعمیر کرنے کے۔ و الشياطين كل بناء وغواص غواص کہتے ہیں غوطے لگانے والے۔ غوطے لگانے والے پانی میں بھئی سمندر میں۔ تو یہ جنات تھے ہر طرح کی تعمیر کرنے والے۔ اور غوطے لگانے والے یہ ان کے لیے عمارتیں جیسی وہ چاہتے تھے عمارتیں بناتے تھے اور کچھ جو تھے غوطے لگاتے تھے سمندر میں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے موتی وغیرہ نکالتے تھے بھئی۔ و الشياطين كل بناء وغواص۔ اور قابو میں کر دیے ان کے لیے ہم نے ہر طرح۔ و الشياطين شریر جنات كل بناء كل بناء ہر طرح کے تعمیر کرنے والے وغواصين اور غوطے لگانے والے۔ و الشياطين كل بناء وغواص اور شریر جنات ہر طرح کے تعمیر کرنے والے ہر طرح کے تعمیر کرنے والے وغواص اور غوطے لگانے والے۔ و آخرين مقرنين في الأصفاد في الأصفات اور دوسرے۔ یہ تعمیر کرنے والے اور غوطے لگانے والے یہ جو جنات تھے ان کو بھی ان کے قابو میں دے دیا و آخرين اور دوسرے جنات کو بھی مقرنين في الأصفاد۔ مقرن کے معنی باندھے ہوئے بھئی باندھے گئے باندھے گئے۔ أصفاد کہتے ہیں بیڑیوں کو۔ اور دوسرے جنات جو جکڑے گئے تھے في الأصفاد۔ بیڑیوں میں زنجیروں میں۔ اور دوسرے جنات جن کے قابو میں دے دیے مقرنين في الأصفاد جو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے بیڑیوں میں جکڑے گئے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جو جن شریر ہوتا لوگوں کو تکلیف وغیرہ دیتا تو اس کو بیڑیوں میں جکڑ دیتے تھے ان میں باندھ دیتے تھے بھئی۔ فسخرنا له الريح تجري بأمره رخاء حيث أصاب والشياطين كل بناء وغواص وأخرين مقرنين في الأصفاد اور قابو میں دے دی ہم نے ان کے ہوا جو چلتی تھی ان کے حکم سے نرمی سے جہاں وہ پہنچنا چاہتے تھے اور شریر جنات بھی ہر طرح کے تعمیر کرنے والے اور غوطہ زن و آخرين اور دوسرے بھی جو بیڑیوں میں جکڑے گئے تھے جو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ هذا عطاؤنا یہ ہماری عطا ہے۔ یہ ہماری بخشش ہے فامنن پس آپ احسان کیجیے۔ من یمن کے معنی احسان کرنے کے۔ فامنن پس آپ احسان کیجیے أو أمسك یا آپ روک لیجیے۔ أمسك يمسك کے معنی روک لینا۔ بغير حساب بغیر حساب کے۔ اللہ فرما رہے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے ہماری بخشش ہے عطا ہے۔ اور آپ کسی کو اس میں سے کچھ دیں یا کسی کو کچھ بھی نہ دیں اس کو روک لیں۔ فامنن آپ احسان کریں یعنی کسی کو کچھ دیں۔ یا أمسك یا اس کو کیا کر لیں۔ روک لیں آپ۔ بغير حساب بغیر حساب کے ہے یہ یعنی آپ سے اس کے بارے میں کوئی حساب نہیں لیا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں یہ ہماری طرف سے عطا ہے۔ اور آپ کسی کو اس میں سے کچھ دیں نہ دیں آپ سے اس بارے میں کوئی۔ کچھ نہیں پوچھا جائے گا بھئی پورا اختیار اللہ تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو دے دیا۔ انہوں نے بادشاہی چاہی تھی نا تو اللہ نے بھی ایسی بادشاہی دی کہ ویسیسی بادشاہی کسی اور کو نہیں ملی بھئی۔ اور ایسی بادشاہی کہ بادشاہوں کی طرح جس کو آگے پھر کسی پوچھ کا خطرہ ہی نہ ہو بھئی بادشاہ کو کسی کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا سب اس کے ماتحت ہوتے ہیں تو اللہ نے بھی یہاں کہا ہم نے بھی ایسی بادشاہی دی ہے کہ ہم بھی اب آپ کا اس سے حساب نہیں لیں گے ہم نے آپ کو عظیم بادشاہی دے دی زمین کے اندر۔ هذا عطاؤنا یہ ہماری عطا ہے فامنن پس آپ احسان کیجیے أو أمسك یا روک لیجیے بغير حساب بغیر حساب کے۔ وإن له عندنا لزلفى وحسن مآب اور بے شک ان کے لیے یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ہمارے پاس لزلفی۔ خاص قرب ہے و حسن مآب اور اچھا ٹھکانہ ہے۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔