اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم. وإن يونس لمن المرسلين، إذ أبق إلى الفلك المشحون، فساهم فكان من المدحضين. وإن يونس لمن المرسلين، اور یقیناً یونس علیہ السلام البتہ پیغمبروں میں سے تھے. وإن يونس لمن المرسلين، اور یقیناً یونس علیہ السلام پیغمبروں میں سے تھے، إذ أبق، أبق کے معنی ہیں بھاگنے کے بھئی، بھاگنا. إذ أبق إلى الفلك المشحون، جب وہ بھاگے بھری ہوئی، مشحون کا معنی بھری ہوئی، فلك کشتی، إذ أبق إلى الفلك المشحون، جب وہ بھاگے بھری ہوئی کشتی کی طرف. حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ آ رہا ہے. حضرت یونس علیہ السلام ان کو اللہ تعالی نے عراق کے شہر نینوا کی طرف بھیجا تھا بھئی. عراق کے شہر نینوا، نینوا کی طرف بھیجا. اور وہ لوگ بت پرستی میں مبتلا تھے، آپ انہیں سات برس تک مسلسل دعوت و تبلیغ فرماتے رہے. لیکن ان کا، ان کی جو ہے کفر اور شرک بڑھتا ہی چلا گیا. پیغمبر کی دعوت پر ذرا بھی توجہ نہیں دیتے، تو حضرت یونس علیہ السلام نے ان سے فرمانے لگے کہ اگر تم نے توبہ نہ کی، تم نے بت پرستی کو نہ چھوڑا، تو تین دن کے اندر تین دن بعد اللہ کا عذاب آئے گا بھئی، تین دن کے بعد. دو دن گزر گئے، تیسری جب رات آئی تو حضرت یونس علیہ السلام بستی سے نکل گئے بھئی. بستی سے نکل گئے. اور ادھر بستی کے جو سمجھدار لوگ تھے، انہوں نے کہا کہ تیسرے دن کہ دیکھو بھئی یونس کا پتہ کرو وہ جھوٹ نہیں بولتے. انہوں نے کہا تھا تین دن بعد عذاب آئے گا، اگر وہ ابھی تک بستی میں ہیں تو اس کا مطلب ہے انہوں نے ویسے ہی کہا تھا، اور اگر نکل کر جا چکے ہیں تو اس کا مطلب ہے عذاب آنے والا ہے. ادھر آسمان پر عذاب کے آثار نمودار ہوئے، نہایت سیاہ رنگ کے بادل آئے، پوری بستی پر چھا گئے. اور ان سے دھواں نکل رہا ہے، ان آثار کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، یونس علیہ السلام کا پتہ کروایا تو وہ بھی نہیں ہیں، گھبرا گئے کہ واقعی یہ تو اب لگتا ہے عذاب آ پہنچا ہمارے اوپر. چنانچہ سارے بستی والے بستی سے باہر جنگل میں نکل آئے، اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے لیا، اپنے سارے جانوروں کو بھی ساتھ لے کر نکل گئے. اور سارے رو رو کر اللہ کے سامنے چیخنے، پکارنے، فریاد کرنے لگے، رونے لگے. بڑے بھی رو رہے ہیں، بچے دیکھ رہے ہیں بڑوں کو وہ بھی تکلیف اور پریشانی کی وجہ سے اور یہ حالت دیکھ کر وہ بھی چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، جانور اس صورتحال کو دیکھ رہے ہیں وہ بھی بڑی آوازیں نکال رہے ہیں. اور اس طرح رو رو کر اللہ سے معافی مانگنے لگے کہ اے اللہ ہم بت پرستی سے، بت پرستی سے توبہ کرتے ہیں، اور ہم جو جو حضرت یونس علیہ السلام باتیں لے کر آئے ہیں اللہ ہم ان سب پر ایمان لے کر آتے ہیں. چنانچہ اللہ تعالی کو، اللہ نے رحم فرماتے ہوئے ان پر سے عذاب کو ٹال دیا، عذاب چلا گیا، ختم ہوا. ادھر حضرت یونس علیہ السلام نکلے تھے باہر، انہیں اس واقعے کی خبر نہیں. انہوں نے دیکھا کہ تیسرا دن آ گیا ہے اور گزر رہا ہے اور عذاب ابھی تک نہیں آیا بستی پر. تو اب، اب اگر میں بستی میں جاؤں گا تو کہیں ایسا نہ ہو، لوگ یہ نہ کہیں انہوں نے جھوٹ بولا تھا اور کہیں مجھے قتل ہی نہ کر دیں بھئی. چنانچہ بستی میں واپس جانے کے بجائے آپ دریا کی طرف چلے گئے بھئی. اور وہاں ایک کشتی تھی، بھری ہوئی، لوگ مسافر بیٹھے ہیں اس میں، آپ بھی اس میں سوار ہو گئے. کشتی جب چلی، بیچ دریا میں پہنچی، تو بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ وہاں رک گئی. بعض کہتے ہیں وہاں چکر کھانے لگی، بعض کہتے ہیں کہ ڈوبنے کے قریب ہو گئی، وزن اس میں اتنا زیادہ تھا. تو جو ملاح تھے اس کشتی کے، وہ کہنے لگے ان کا جیسے ان کا اپنا عقیدہ تھا کہ بھئی لگتا ہے کشتی میں کوئی غلام کسی کا بھاگ کر آیا ہے، مالک سے بھاگ آیا ہے، اور اس وجہ سے اب کشتی آگے نہیں جا رہی، تو اب قرعہ اندازی کر لیں، پتہ چلے کون ہے وہ. چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی، حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکل آیا. پھر کئی مرتبہ قرعہ اندازی کی، ہر مرتبہ انہی کا نام نکلتا تھا بھئی. چنانچہ ان کو دریا میں پھینک دیا گیا، بعد میں روایات میں ہے، وہ خود دریا میں کود گئے. تو ایک دریا میں کودے تو ایک بڑی مچھلی جو ہے، اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو نگل لیا. بہت بڑی مچھلی سالم کا سالم نگل گئی ان کو بھئی. اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ دیکھو یونس علیہ السلام جو ہیں، ان کو کوئی نقصان نہ پہنچے، یہ اسی طرح تمہارے پیٹ میں رہیں لیکن ان کو نقصان نہ پہنچے۔ چنانچہ آپ، بعض روایات میں آتا ہے کہ چند گھنٹے اس کے پیٹ میں رہے، بعض میں روایات میں آتا ہے تین دن تک رہے، اور اسی طرح چالیس دنوں تک کی روایات ملتی ہیں بھئی. اور پھر اس کے بعد اور مچھلی کے پیٹ میں، آپ تسبیح پڑھنے لگے اللہ کی، لا الہ الا انت سبحانک انی كنت من الظالمين. چنانچہ یہ تسبیح پڑھتے رہے، اللہ فرماتے ہیں اگر یہ تسبیح وہ نہ پڑھتے، تو قیامت تک وہ اسی طرح مچھلی کے پیٹ میں رہتے بھئی، قیامت تک. یعنی اسی کو ہم ان کی قبر بنا دیتے مراد یہ ہے بھئی، یہ نہیں معنی کہ مچھلی قیامت تک زندہ رہے گی اور یہ، معنی یہ ہے اسی کو ہم قبر بنا دیتے، پھر دنیا میں آنا ان کو باہر نکلنا نصیب نہ ہوتا بھئی، وہیں ختم ہو جاتے. تو چنانچہ، پھر اللہ کے حکم سے مچھلی نے ان کو ایک کنارے پر ایک کھلی جگہ پر اگل دیا. اور آپ بڑے کمزور ہو چکے تھے، اور حتیٰ کہ آپ کے جسم کے سارے بال جو ہیں وہ گر گئے تھے بھئی، معدے کے اندر رہے بھئی، معدے کے اندر تو ویسے ہی چیز ختم ہو جاتی ہے جو بھی ہو. تو بڑی بیمار تھے اور بڑے کمزور ہو چکے، اور کھال کی ایسی حالت، بال گر گئے، جلد ایسی ہو چکی کہ سورج کی شعاع بھی پڑے تو تکلیف ہوتی تھی ان کو، کوئی مکھی بھی بدن پہ بیٹھتی تھی تو حد درجے ان کو تکلیف ہوتی تھی. پھر اللہ کے حکم سے، بطور معجزے کے، ان کو کہ وہاں اللہ نے کدو کی ایک بیل اگا دی بھئی. اور کدو کی بیل، وہ تو زمین پر پھیلی ہوتی ہے بھئی، بیل جانتے ہیں یا نہیں بھئی، وہ پودا جو زمین پر پھیلا ہو، یا دیوار پر جسے چڑ، پھیلا دیا جاتا ہے، جس کا تنا نہیں ہوتا، اسے بیل کہتے ہیں. تو وہ کدو کی بیل تھی، لیکن بطور معجزہ کے، حضرت یونس علیہ السلام کے معجزے کے طور پر، اس کو اللہ نے تنا بنا دیا بھئی. تنے والے درخت کی شکل میں وہ بیل ہو گئی بھئی. اور اس نے حضرت یونس علیہ السلام پر سایہ کر لیا. اور، تو یہ ایک تو شاید اس سے ان کی غذا بھی ہو، کہ اس سے ان کو قوت حاصل ہو، اور نیز یہ کہتے ہیں اس بیل کی یہ خاصیت ہے، کہ اس سے مکھی دور بھاگتی ہے بھئی، اس پر نہیں بیٹھتی بھئی. تو اس کی، سے مکھیوں سے بھی حفاظت ہو گئی جس کی وجہ سے ان کو بڑی تکلیف ہوتی تھی، اور اسی طرح جنگل سے ایک بکری آ جاتی جو انہیں دودھ پلا دیتی تھی، تو اس طرح وہ پھر تندرست ہو گئے بھئی، تندرست ہو گئے. تو وہی واقعہ ذکر کیا جا رہا ہے. اور حضرت یونس علیہ السلام جب بستی سے نکلے تھے یا جب دریا کی طرف گئے، تو ابھی اللہ کی طرف سے حکم نہیں آیا تھا. انہوں نے اجتہادی غلطی کی بھئی، اجتہادی غلطی. ان کا خیال تھا کہ بھئی اب تو عذاب آیا ہی آیا، تو میں نکل جاتا ہوں، ابھی اللہ کا حکم نہیں آیا اور اس سے پہلے ہی یہ نکل گئے، اور یا، یہ معنی کہ وہ دریا کی طرف چلے گئے، اور اللہ کے حکم کے بغیر ہی، چنانچہ اللہ کی طرف سے سخت تنبیہ آئی بھئی، سخت تنبیہ آئی، اور پھر یہ مچھلی نے ان کو نگل لیا اور اس طرح وہ تکلیف میں مبتلا ہوئے بھئی. تو اگرچہ یہ اجتہادی غلطی تھی، گناہ یہ کسی بھی درجے میں نہیں. نہ صغیرہ ہے نہ کبیرہ، گناہ بھی نہیں، لیکن چونکہ ان کا مقام بڑا اونچا تھا، وہ پیغمبر تھے بھئی، اور پیغمبر کی شان بڑی اونچی، تو اللہ کی طرف سے جتنا مقام اونچا ہو، اتنی ہی سخت تنبیہ آ کرتی ہے. کہ آپ، یعنی ان کا یہ فعل صرف خلاف اولیٰ تھا، بہتر یہ تھا کہ کیا کرتے، اللہ کے حکم کا انتظار کرتے، تو صرف خلاف اولیٰ تھا ان کا یہ عمل، لیکن پھر بھی اللہ کی طرف سے دیکھو سخت تنبیہ آئی، سخت پکڑ آئی، اور مچھلی نے ان کو نگل لیا اور اس طرح وہ تکلیف وغیرہ میں مبتلا ہوئے بھئی. یہ واقعہ سارا سمجھ میں آ گیا اچھی طرح بھئی، تو یہ وہی واقعہ ذکر ہو رہا ہے. وإن يونس لمن المرسلين، اور یقیناً یونس علیہ السلام پیغمبروں میں سے تھے، إذ أبق إلى الفلك المشحون، جب وہ بھاگے، إلى الفلك المشحون بھری ہوئی کشتی کی طرف. جب وہ بھاگے بھری ہوئی کشتی کی طرف. یا، الی آتا ہے بھئی انتہائی غایت کے لیے بھئی. کس لیے آتا ہے؟ انتہائی غایت کے لیے، معلوم ہوا یہ بھاگنے کی انتہا کہاں پر ہوئی؟. کہاں پہنچے؟ بھری ہوئی کشتی تک. تو لہذا، بعضوں نے پھر یہ ترجمہ کیا. إذ أبق إلى الفلك المشحون، جب وہ بھاگ کر پہنچے، اس بھری ہوئی کشتی میں. پہلا معنی میں نے کیا کیا؟ جب وہ بھاگے بھری ہوئی کشتی، تو لیکن دوسرا معنی بڑا بہترین ہو جاتا ہے. إذ أبق إلى الفلك المشحون، جب بھاگ کر وہ پہنچے اس بھری ہوئی کشتی میں. الف، الف لام آیا نا کوئی متعین کشتی ہے، وہ تو اس کا لفظ لے آئیں. جب وہ بھاگ کر پہنچے اس بھری ہوئی کشتی میں، فساهم، پس وہ قر، وہ قراندازی، ساهم کے معنی ہوتے ہیں قراندازی میں مقابلہ کرنا. قراندازی میں باہم کیا کرنا؟ مقابلہ کرنا. فساهم، پس وہ قراندازی میں شریک ہوئے، یہ معنی. فساهم، پس وہ قراندازی میں شریک ہوئے، فکان من المدحضين. أضه يدهض کے معنی ہوتے ہیں کسی کو دھکا دینا. أضه يدهض کے کیا معنی؟ کسی کو دھکا دینا. اور یہاں آیا مدحضر، اسم مفعول، دھکیلا ہوا، جس کو دھکا دیا گیا ہو بھئی، جس کو دھکا دیا گیا ہو. اور مراد ہے مغلوب بھئی، کیا معنی کریں یہاں؟ مغلوب کا. کیونکہ جس کو دھکا دیا گیا، دھکا دے کر گرا دیا گیا، تو وہ کیا ہو گیا؟ مغلوب ہی ہو گیا بھئی، تو یہ لازمی اور معنی مراد. تو فساهم، پس وہ قراندازی میں شریک ہوئے، فکان من المدحضين، پس وہ، ہو گئے من المدحضين مغلوبوں میں سے، یعنی مغلوب ہو گئے، پس وہ کیا ہو گئے؟ مغلوب ہو گئے. یعنی وہی خطا وار ٹھہرے، انہی کا نام نکل آیا بھئی. سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب مغلوب ہو گئے، یعنی دوسرے غالب آ گئے، یعنی ان کا نام نکل آیا بھئی، تو یہ یعنی خطا وار ٹھہرے. تو لہذا بعضوں نے یہی ترجمہ کیا، فکان من المدحضين، پس یہی خطا وار ٹھہرے. فالتقمه الحوت، إلتقما بھئی. پس نگل لیا ان کو مچھلی نے. إلتقما کے معنی؟ نگل لینا، لقمہ بنا لینا. فالتقمه الحوت، پس نگل لیا ان کو مچھلی نے، وهو مليم، اس حال میں کہ یہ ملامت کرنے والے تھے، یعنی اپنے آپ کو. अपने आप को ملامت کرنے والے تھے بھئی، انہیں بھی احساس ہو گیا کہ قراندازی میں بار بار میرا نام نکل رہا ہے، معلوم ہوا یہ من جانب اللہ ہے، میں نے یقیناً غلطی کی، مجھے اللہ کے حکم کا انتظار کرنا چاہیے تھا. تو وہ ملامت کرنے والے تھے، اور کس کو ملامت کر رہے تھے؟ اپنے آپ کو. فالتقمه الحوت، پس نگل لیا ان کو اس مچھلی نے، وهو مليم، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کرنے والے تھے. فلولا أنه كان من المسبحين، پس اگر نہ ہوتے وہ تسبیح کرنے والوں میں سے. میں نے بتلایا وہ کون سی تسبیح کرنے لگے؟ لا الہ الا انت سبحانک انی كنت من الظالمين، بھئی یہ بڑی فضیلت والی تسبیح ہے بھئی، اس کو اپنے معمولات میں شامل کرنا چاہیے بھئی. فلولا أنه كان من المسبحين، پس اگر نہ ہوتے وہ تسبیح بیان کرنے والوں. مع سے یا یوں کر لیں ترجمہ، تسبیح کا کیا معنی ہوتا ہے؟ اللہ کی پاکی بیان کرنا تو یہ ترجمہ کر لیں اگر یہ نہ ہوتے اللہ کی پاکی بیان کرنے والوں میں سے، لبث فی بطنه تو البتہ رہتے، لبث کا معنی باقی رہنا، ٹھہرنا، لبث فی بطنه তো البتہ باقی رہتے، ٹھہرتے فی بطنه اس کے پیٹ میں الی یوم یبعثون دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک، دوبارہ زندہ کیا جانے ایک دن تک بھئی. بعض کس کو کہتے ہیں؟ موت کے بعد جو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اٹھایا جائے گا اس کو بعث کہا جاتا ہے. لبث فی بطنه الی یوم یبعثون تو البتہ ٹھہرے باقی رہتے اس کے پیٹ میں دوبارہ زندہ کیا جانے کے دن تک. فنبذناه بالعراء نبذہ کے معنی ہیں پھینکنے کے، ڈالنے کے. عراء کہتے ہیں چٹیل میدان یعنی جس میں کوئی درخت وغیرہ پودے نہ ہوں، کھلا میدان بھئی، کھلا میدان. فنبذناه بالعراء پس ہم نے ڈال دیا ان کو بالعراء ایک کھلے میدان میں. وهو سقيم اس حال میں کہ وہ بیمار تھے، بیمار تھے. پس ڈال دیا ہم نے ان کو ایک کھلے میدان میں اس حالت میں کہ وہ بیمار تھے، وانبتنا عليه شجرة من يقطين. انبتہ کے معنی ہیں اگانے کے بھئی، وانبتنا عليه اور اگا دیا ہم نے ان پر شجرة ایک درخت من يقطين. یقطین کہتے ہیں بیل کو بھئی، بیل. جیسے کدو وغیرہ کی بیل ہوتی ہے، تو یہ جو بیل والا پودا ہوتا ہے، بغیر تنے کے اس کو یقطین کہتے ہیں عربی میں بھئی، بیل کو. اور بعضوں نے کہا کہ یہ خاص طور پر ہر بیل کو نہیں بلکہ خاص طور پر یہ کدو کی بیل کو کہتے ہیں بھئی، یقطین کسے کہتے ہیں؟ کدو۔ بعضوں نے کہا ہر بیل کو یقطین کہتے ہیں، بعضوں نے کہا نہیں کدو ہی جو ہے اسی کی بیل کو یقطین کہتے ہیں. اور میں نے بتایا کہ بطور معجزے کے یہ بیل زمین پر نہیں تھی بلکہ اس کا باقاعدہ تنا تھا، اس نے ان کے اوپر سایہ کر لیا. تو تو ترجمہ کیا کریں شجرة شجرة من يقطين ایک بیل دار درخت بھئی. ایک درخت من يقطين جو کس میں سے تھا؟ بیلدار تھا. یعنی کہ بیلدار بھئی، وانبتنا عليه شجرة من يقطين اور اگا دیا ہم نے ان پر ایک بیلدار درخت بھئی. وارسلناه الى مائة ألف أو يزيدون اور بھیجا ہم نے ان کو الی مائة ألف ایک سو ہزار، ایک سو ہزار کتنے ہوتے ہیں بھئی؟ 100 ہزار. ہاں ایک لاکھ، سمجھ میں آیا بھئی؟ 100 ہزار یعنی ایک لاکھ. وارسلناه الى مائة ألف اور بھیجا ہم نے ان کو ایک لاکھ کی طرف او یزیدون یا اس سے زیادہ. اور ہم نے ان کو ایک لاکھ افراد یا زیادہ کی طرف بھیجا بھئی، ایک لاکھ افراد یا زیادہ. بعضوں نے اور تو میں نے اور کا کیا ترجمہ کیا؟ یا، بعض فرماتے ہیں بعض مفسرین حضرات کہ یہاں او بمعنے بلکہ ہے بھئی. او کبھی کبھار بلکہ کے معنی میں بھی آتا ہے بھئی، آپ آگے پڑھیں گے کتابوں کے اندر. اور بھیجا ہم نے ایک ان کو ایک لاکھ لوگوں کی طرف بلکہ زیادہ کی طرف. بھئی یہ کیا معنی ہوا ایک لاکھ کی طرف یا ایک لاکھ سے زیادہ کی طرف؟ بھئی معنی یہ ہے کہ اگر ان کے صرف جو بالغ مرد اور عورتیں ہیں، ان کو شمار کیا جائے تو وہ ایک لاکھ تھے اور بچوں کو بھی ساتھ ملایا جائے تو ایک لاکھ سے زیادہ تھے. یا یہ معنی کہ بھئی بھئی دیکھیے عدد میں بعض اوقات کسر کو چھوڑ دیا جاتا ہے. آپ کے پاس مثلاً 63، 64 روپے ہیں، کوئی آپ سے پوچھے کتنے پیسے ہیں بھئی؟ آپ مختصر سا کہتے ہیں بھئی 60 روپے ہیں، وہ کسر جو اوپر تھوڑے بہت زیادہ ہوتے ہیں ان کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ چھوڑ دیا جاتا ہے، ذکر نہیں کیا جاتا بھئی، جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں. بعض میں 60 کا ذکر ہے، بعض میں 63 کا ذکر ہے، بعض میں 65 وغیرہ کا ذکر ہے بھئی. تو مفسرین حضرات جواب دیتے ہیں محدثین حضرات کہ جنہوں نے 60 کہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تو 63 برس تھی، لیکن جنہوں نے 60 کہا، انہوں نے کسر کو چھوڑ دیا بھئی. سمجھ میں آیا بھئی؟ کسر وہ تھوڑی بہت جو اوپر ہے اس کو ذکر نہیں کیا جاتا، ایک سیدھا عدد ذکر کر دیا جاتا ہے 60 سال، اور جنہوں نے 65 ذکر کیا، انہوں نے پیدائش کے سال کو الگ شمار کیا، وفات کے سال کو الگ شمار کیا، تو اس اعتبار سے انہوں نے 65 کہہ دیا بھئی، حالانکہ درمیان کے اعتبار سے پوری عمر کتنی بنتی ہے؟ 63 سال بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح، یا تو کیا معنی؟ پہلا معنی کیا؟ کہ ایک لاکھ بالغ تھے اور بچوں کو ملائیں تو زیادہ تھے، یہ معنی ہے. یا کیا معنی؟ ایک لاکھ تھے اگر بغیر کسر کے کہیں، اور اگر کسر کے ساتھ کہیں تو زائد تھے. وارسلناه الى مائة ألف أو يزيدون اور بھیجا ہم نے ان کو ایک لاکھ کی طرف یا زیادہ کی طرف، فآمنوا پس وہ ایمان لے آئے، وہ ایمان لے آئے بھئی. یہ صرف حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی خصوصیت ہے کہ اللہ کا عذاب جو ہے وہ آنے کے بعد پھر ٹال دیا گیا بھئی، اور کسی قوم کے ساتھ ایسا نہیں ہوا. اب اس بات میں مفسرین کا اختلاف ہے بھئی، یاد رکھیے سب سے پہلے تو یہ بات کہ جب عذاب میں اوپر آ جائے سر پر انسان پر جب عذاب آ جائے، اس نے عذاب کا مشاہدہ کر لیا، عذاب میں گرفتار ہو گیا. اب اس وقت وہ ایمان لاتا ہے تو اس ایمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اب تو اس نے سب کچھ دیکھ لیا، اب ایمان لا رہا ہے، اب اس اور حالانکہ ایمان بالغیب ضروری ہے بھئی. تو عین جب عذاب آ جائے، عذاب کے بیچ میں وہ پڑ گیا، ابھی مرا نہیں، مرنے سے پہلے بھی اگر وہ کلمہ بھی پڑھ لے گا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی. جیسے فرعون نے جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تعاقب میں لشکر لے کر روانہ ہوا اور اللہ تعالی نے بحر قلزم کے اندر راستے بنا دیے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں سے نکلے، فرعون نے پیچھے اپنا پورا لشکر پیچھے ڈال دیا بھئی. جب درمیان میں پہنچے تو اللہ کی طرف سے حکم آ گیا، دریا، سمندر پھر آپس میں مل گیا اور وہ فرعون اسی میں غرق ہو گیا بھئی. اور عین جب وہ غرق ہو رہا تھا اس وقت اس نے پھر اس نے بھی کلمہ پڑھا تھا بھئی، اور سمجھ میں آیا بھئی، کہ میں ایمان لے آتا ہوں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ. لیکن یہ عذاب کا جب مشاہدہ کر لیا، اس میں گرفتار ہو گیا، اب ایمان لانے کا کوئی اعتبار نہیں بھئی، ایمان پہلے کا معتبر ہے. تو اب یہ جو یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب کو ہٹایا گیا، کیا یہ ان عذاب کو دیکھنے کے بعد یہ ایمان لائے اور وہ ایمان قابلِ قبول ہو گیا؟ تو بعض اس طرف گئے ہیں، بعضوں نے کہا کہ ہاں یہ اس قوم کی خصوصیت ہے کہ عذاب کو باقاعدہ انہوں نے دیکھ لیا، مشاہدہ کر لیا اور پھر بھی ان کے ایمان کو اللہ نے کیا کیا؟ قبول فرما لیا. بعض کہتے ہیں نہیں نہیں، یہ وہ ایمان عذاب کی حالت میں یعنی لائے. عذاب کی انہوں نے صرف علامتیں دیکھی تھیں ابھی بھئی، عذاب کو نہیں دیکھا تھا لیکن اس کی علامتیں انہوں نے صرف دیکھی تھیں، تو یہ اس سے پہلے ہی ایمان لے آئے اور اس پہلے ایمان لانا تو بالاتفاق کیا ہے؟ مقبول ہے، درست ہے بھئی. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس میں مفسرین دونوں طرف گئے ہیں بھئی. بعضوں نے کہا یہ ان کی خصوصیت ہے، عذاب انے کے بعد ان کا ایمان کو قبول کر لیا، اللہ تعالی نے ان پر خصوصی فضل فرمایا. بعض کہتے ہیں نہیں، یہ وہ عذاب یہ ابھی صرف انہوں نے علامتیں دیکھی تھیں اور اسی وقت ایمان لے آئے بھئی. فآمنوا پس وہ لوگ ایمان لے آئے، فمتعناهم الى حين پس متاع کے معنی نفع دینا بھئی، پس ہم نے ان کو نفع دیا الی حين ایک وقت تک. یہ ایمان لے آئے بھئی، ہم نے ان کو ہلاک نہیں کیا، پھر ان کو نفع دیا ایک وقت تک یعنی جب تک ان کی زندگی تھی بھئی. فآمنوا فمتعناهم الى حين پس وہ ایمان لے آئے، پس ہم نے ان کو نفع دیا ایک وقت تک، فاستفتهم الربك البنات ولهم البنون. بھئی یہاں تک واقعات ذکر ہو رہے تھے مختلف انبیاء کے اور ان کی قوموں کے. اب پھر اللہ تعالی اہل مکہ جن کے لیے یہ مثالیں بیان کی جا رہی تھیں، کہ ان کی طرف پھر اللہ خطاب فرما رہے ہیں. فاستفتهم پس اے پیغمبر استفتہ کا معنی پوچھنا، فاستفتهم پس اے پیغمبر آپ ان سے پوچھیے، ان مکہ والوں سے پوچھیے الی ربك البنات ولهم البنون کیا آپ کے پروردگار کے لیے بیٹیاں ہیں اور ولہم البنون اور ان کے لیے بیٹے؟. یہ اہل مکہ کا عقیدہ یہ تھا، مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کا کہ یہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں بھئی. فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں. تو اللہ تعالی فرما رہے ہیں، اے پیغمبر ذرا ان سے پوچھیے بھئی. اپنے لیے تو یہ بیٹی کو پسند نہیں کرتے، پیدا ہو تو ان میں سے بعض اس کو زندہ زمین میں دفن کر دیتے ہیں بھئی، اتنا اتنا شرم اور عیب اور عار کا باعث سمجھتے ہیں اس کو بھئی. اور پروردگار کے لیے اولاد، اول تو پہلے یہی بات غلط ان کی کہ پروردگار کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اولاد بھی ثابت کرتے ہیں تو کون سی مؤنث اولاد ثابت کرتے ہیں؟ اپنے لیے بیٹے پسند ہیں اور اللہ کے لیے کیا ثابت کرتے ہیں؟ بیٹیاں ثابت کرتے ہیں. تو یہی بات بیان ہو رہی ہے. فاستفتهم پس پوچھیے آپ ان سے الی ربك البنات کیا آپ کے پروردگار کے لیے تو بیٹیاں ہیں ولہم البنون اور ان کے لیے بیٹے ہیں؟ ام خلقنا الملائكة إناثا وهم شاهدون یا کیا ہم نے پیدا کیا فرشتوں کو اناثا مؤنث یعنی عورتیں؟. یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں پیدا کیا وھم شاہدون اس حال میں کہ یہ یہ دیکھ رہے تھے. یعنی جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا، کیا اس وقت یہ دیکھ رہے تھے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ مؤنث ہیں؟ کس بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ فرشتے مؤنث ہیں بھئی، عورتیں ہیں بھئی؟. ام خلقنا الملائكة إناثا وھم شاہدون یا کیا ہم نے پیدا کیا فرشتوں کو عورتیں اور یہ دیکھ رہے تھے. الا انهم من إفكهم ليقولون الا آگاہ رہو، حرف تنبیہ ہے بھئی، حرف تنبیہ، الا آگاہ رہو، بعضوں نے ترجمہ کیا خبردار، جس کا حرف تنبیہ ہے، بعضوں نے ترجمہ کیا سن لو. سن لو. الا آگاہ رہو إنهم من إفكهم ليقولون یقیناً یہ، افق کہتے ہیں جھگڑا ہوا جھوٹ بھئی، جو اپنی طرف سے جو بات گھڑی جائے اس کو افق ان کہتے ہیں بھئی، یعنی جھوٹ بھئی. افقهم ان کا من گھڑت، ان کی من گھڑت بات، افقہم کا کیا ترجمہ کریں گے؟ ان کی من گھڑت بات یا ان کا من گھڑت جھوٹ. الا انهم من إفكهم ليقولون یقیناً یہ لوگ اپنے من گھڑت جھوٹ کے سے کہتے ہیں. یہ اپنے اپنے من گھڑت جھوٹ سے یہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں وہ آگے آ رہا ہے. الا انهم من إفكهم ليقولون آگاہ رہو یقیناً یہ اپنے من گھڑت جھوٹ سے یا البتہ یہ کہتے ہیں ولد الله اللہ کے اولاد ہوئی. اللہ بھئی، ان کا عقیدہ یہ تھا. ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ فرشتے مؤنث ہیں اور یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں، اور جب ان سے پوچھا جاتا اچھا اگر یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں تو ان کی مائیں کون ہیں؟ تو کہتے بڑے بڑے جو جنات ہیں، سردار جنات، ان کی بیٹیاں وہ ان کی مائیں ہیں، یعنی العیاذ باللہ، دوسرے لفظوں میں یوں کہو وہ اللہ کی بیویاں ہیں، وہ کیا ہیں؟ اللہ کی بیویاں ہیں، یہ ان کا عقیدہ تھا بھئی، اس کا بھی آگے ذکر آ رہا ہے بھئی. تو یعنی ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور جنات کی بیٹیاں، سردار جنات جو ہیں، ان کی بیٹیاں ان کی مائیں ہیں. سمجھ میں آئی بات؟ تو ولد اللہ لفظی ترجمہ تو کیا بنے گا؟ اللہ نے جنم دیا، اللہ اولاد، جنم تو یعنی ماں نے دیا ہے. اللہ یعنی اللہ کیا ہو گیا صاحب اولاد ہے یوں کہیں بھئی. ولد الله اللہ کے اولاد ہوئی. وإنهم لكاذبون اور یقیناً یہ البتہ جھوٹے ہیں. الا انهم من إفكهم ليقولون ولد الله وإنهم لكاذبون آگاہ رہو یہ اپنے من گھڑت جھوٹ سے کہتے ہیں کہ اللہ کے اولاد ہوئی اور یقیناً یہ البتہ جھوٹے ہیں. اصطفى البنات على البنين اصطفى اصل میں ہے اصطفى، حمزہ ہے استفہام کا اور اصطفى فعل ہے بھئی، شروع میں حمزہ وصل ہے مقصور بھئی، اصطفى يصطفي اصطفاءً بھئی. تو اصطفى، شروع میں حمزہ وصل تھا اور حمزہ وصل کیوں لاتے ہیں؟ کیونکہ اگلا حرف ساکن تھا اور ساکن سے تو عربی میں ابتدا ہو نہیں سکتی، یعنی صاد ساکن تھا تو شروع میں کیا لے آئے؟ حمزہ وصل، پھر جب شروع میں حمزہ استفہام آ گیا تو اب حمزہ وصل کی حاجت نہ رہی، لہذا اس کو گرا دیا گیا اور باقی اصطفى. اِصطفى البناتِ کیا پسند کیا، اِصطفى کے معنی چُن لینا، پسند کرنا بھئی۔ اِصطفى البناتِ علی البنین، کیا چُن پسند کی اللہ نے بیٹیاں علی البنین بیٹوں پر؟ کیا۔ اللہ نے اپنے لیے تو تم بیٹے پسند کرتے ہو، اور کیا اللہ نے اپنے لیے بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیاں پسند کر لیں؟ اِصطفى البناتِ علی البنین، کیا پسند کی بیٹیاں، کیا اللہ نے پسند کی بیٹیاں علی البنین بیٹوں پر؟ یہی یوں ترجمہ کر لیں کیا پسند کیں اللہ نے بیٹیاں بیٹوں کے مقابلے میں۔ ما لکم کیا ہوا تمہیں؟ کیف تحکُمون؟ کیسا فیصلہ کرتے ہو تم؟ ما لکم تمہیں کیا ہو گیا؟ کیف تحکُمون تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟ یا یوں ترجمہ کر لیں حکم احکام کے معنی فیصلہ کرنا بھئی۔ کیا کیف تحکُمون تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟ یا کیا معنی کر لیں؟ کیف تحکُمون؟ تم کیسا اِنصاف کرتے ہو؟ ما لکم تمہیں کیا ہو گیا؟ کیف تحکُمون تم کیسا اِنصاف کرتے ہو؟ اَفلا تذکّرون! پس کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے؟ تذکَّرَ کے معنی ہیں نصیحت قبول کرنا، اِسی طرح تذکَّرَ کے معنی ہیں یاد کرنے کے، یاد کرنے کے. سمجھ میں آیا بھئی؟ جی تو یہاں ترجمہ پھر یوں کر لیں اَفلا تذکّرون۔ پس کیا تم سوچ سے کام نہیں لیتے؟ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟ کیا تم سوچ سے کام نہیں لیتے؟ اپنے لیے تو تم بیٹے پسند کرتے ہو اور وہ جو سب کو پیدا کرنے والا ہے، سب کچھ تمہیں دینے والا ہے، اس کے لیے کیا پسند کرتے ہو؟ کیا ثابت کرتے ہو؟ بیٹیاں، بھئی کیسا فیصلہ کرتے ہو؟ کیا تم سوچ نہیں رکھتے؟ کیا تم دھیان نہیں دیتے؟ تو بہرحال جو بھی آپ ترجمہ جو آپ کو مناسب لگے اَفلا تذکّرون پس کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے؟ یا اَفلا تذکّرون کر بس کیا تم سوچ سوچتے نہیں ہو یا عقل نہیں رکھتے ہو؟ اَفلا تذکّرون یا پس کیا تم دھیان نہیں دیتے؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ یاد کرنا ہے ناں تذکَّرَ کا ایک معنی کیا ہے؟ یاد کرنا، یاد کرنا یعنی یاد کرنا یعنی توجہ دینا، دھیان کرنا کسی چیز کی طرف تو وہ معنی کر لیں اَفلا تذکّرون پس کیا تم دھیان نہیں دیتے، دھیان نہیں کرتے۔ اَم لكم سلطانٌ مبینٌ؟ سلطان بمعنی دلیل کے بھئی اَم لكم سلطانٌ مبینٌ یا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟ تم کس بنا پر یہ کہتے ہو؟ کیا تمہارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟ فأتوا بِکتابِکُمْ اِن کنتم صادقین. فأتوا پس لے آؤ تم بِکتابِکُمْ اپنی کتاب اِن کنتم صادقین اگر تم سچے ہو. بھئی! تم کس بنا پر یہ کہتے ہو کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور وہ مؤنث ہیں؟ کوئی عقل تو یہ بات تسلیم کرتی نہیں تو پھر کوئی یہ عقلی عقل کے اعتبار سے یہ بات تو درست نہیں، پھر تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہوگی تو نقلی دلیل ہے کوئی کتاب ہے، لے آؤ اس کو پیش کرو۔ کس بنا پر تم یہ بات کرتے ہو اور اِسنی جُرأت کرتے ہو؟ فأتوا بِکتابِکُمْ اِن کنتم صادقین پس لے آؤ اپنی کتاب اگر تم سچے ہو. وجعلوُا بینہُ وبینَ الجِنَّةِ نسباً اور بناتے ہیں وہ اللہ کے درمیان، بینہُ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ اللہ کو وجعلوُا بینہُ وبینَ الجِنَّةِ نسباً اور بناتے ہیں وہ اللہ کے درمیان وبینَ الجِنَّةِ اور جنّات کے درمیان نسباً رشتہ داری وہ اللہ کے اور جنّات کے درمیان رشتہ داری بناتے ہیں بھئی جیسے ابھی بات گزر گئی کہ کیا کہتے تھے کہ یہ فرشتے کس کی ان کی مائیں کون ہیں؟ بڑے سردار جنّات جو ہیں، ان کی بیٹیاں ہیں. وجعلوُا بینہُ وبینَ الجِنَّةِ نسباً اور بناتے ہیں وہ اللہ کے اور جنّات کے درمیان رشتہ داری ولقد عَلِمَتِ الجِنَّةِ انَّہم لمحضرون اور تحقیق البتہ جانتے ہیں جنّات یعنی ان کو معلوم ہے انَّہم لمحضرون کہ یقیناً البتہ وہ حاضر کیے جائیں گے یعنی عذاب میں جنّات جانتے ہیں کہ وہ کیا ہوں گے؟ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے. یعنی جنّات کو بھی یہ معلوم ہے جو ان میں ایمان رکھنے والے جنّات ہیں ان کو معلوم ہے کہ جو ہم میں کافر جنّات ہیں وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے، جنّات کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ جو اِن میں مشرک ہیں وہ کافر ہیں، وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے. ولقد عَلِمَتِ الجِنَّةِ انَّہم لمحضرون اور تحقیق جنّات کو یہ معلوم ہے کہ یقیناً وہ حاضر کیے جائیں گے حاضر کیے ہوؤں میں سے ہوں گے وہ وہ البتہ حاضر کیے جائیں گے یعنی عذاب میں سبحان اللہِ عمَّا یصِفُون پاک ہے اللہ عمَّا اس چیز سے یصِفُون جو یہ بیان کرتے ہیں وصف یصِفُ کے معنی ہوتے ہیں کوئی صفت بیان کرنا، چاہے اچھی ہو چاہے بُری وصف یصِفُ کے کیا معنی؟ کوئی صفت بیان کرنا، چاہے اچھی صفت ہو چاہے بُری تو اللہ فرما رہے ہیں سبحان اللہِ پاک ہے اللہ کی ذات عمَّا اس چیز سے یصِفُون جو یہ بیان کرتے ہیں، جو صفت یہ بیان کرتے ہیں، اللہ کی ذات اس سے پاک ہے، اللہ کو اولاد کی کوئی حاجت نہیں. الاَّ عبادَ اللہِ المخلصین مگر اللہ کے جو برگزیدہ بندے ہیں، مگر اللہ کے جو چُنے ہوئے بندے ہیں یہ اِستثناء ہے محضرون سے بھئی کہ جنّات جانتے ہیں کہ البتہ وہ حاضر کیے جائیں گے مگر جو اللہ کے مخلص بندے ہیں، وہ یعنی عذاب میں حاضر نہیں کیے جائیں گے تو یہ اس سے اِستثناء ہوا اور اس مستثنی منقطع ہے بھئی کیونکہ بندے اللہ کے نیک بندے، یہ ان جنّات میں سے تو نہیں ہے کہ پہلے ان میں داخل ہوں اور پھر الاَّ کے ذریعے کیا کیا جائے؟ نکالا جائے، یہ پہلے ہی ان سے الگ ہیں، جن الگ ہیں، انسان الگ ہیں بھئی. فإنَّکم وما تعبدونَ پس یقیناً تم وما تعبدونَ اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو، ما انتم علیہ بفاتنین نہیں ہو تم علیہ اُس اللہ پر، ہا ضمیر کس کو راجع؟ اللہ کو، علیہ کی ھا ضمیر نہیں ہو تم علیہ اْس اللہ پر بفاتنین فتنَ یفتِنُ کے معنی ہوتے ہیں گمراہ کرنا فاتِن اُسی سے اِس میں فاعل ہے گمراہ کرنے والے فإنَّکم وما تعبدونَ ما انتم علیہ بفاتنین پس یقیناً تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو ما انتم علیہ بفاتنین، تم نہیں ہو اُس اللہ پر گمراہ کرنے والے کسی کو یعنی کسی شخص کو اس اللہ کے بارے میں گمراہ کرنے والے نہیں ہو یعنی تم اس اللہ کے بارے میں کسی شخص کو گمراہ نہیں کر سکتے اللہ فرما رہے ہیں بھئی کہ اے مشرکین مکہ، اے مشرکین عرب تم اور تمہارے معبود جو ہیں وہ تم سب مل کر بھی کسی کو اللہ کے بارے میں گمراہ نہیں کر سکتے کسی کو اللہ کے بارے میں گمراہ مفہوم سمجھ میں آگیا بھئی؟ فإنَّکم وما تعبدونَ پس یقیناً تم اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو، یہ کم یہ معطوف علیہ ہے، وما تعبدونَ اس پر عطف ہے، معطوف معطوف علیہ مل کر یہ اِنَّ کا اِسم ہوا اور ما انتم علیہ بفاتنین یہ ساری کیا ہے؟ اِنَّ کی خبر ہے پس یقیناً تم اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو یعنی تمہارے معبود، پس یقیناً تم اور تمہارے معبود جو ہیں نہیں ہیں وہ اللہ کے بارے میں کسی کو گمراہ کرنے والے وہ کیا با محاورہ یوں کر لیں پس یقیناً تم اور تمہارے جو معبود ہیں وہ اللہ کے بارے میں کسی کو گمراہ نہیں کر سکتے الاَّ من ہو صالِ الجَحیم مگر وہ جو جہنم میں جلنے والا ہے مگر وہ جو جہنم میں جلنے والا ہے یعنی جس کے لیے اللہ نے جہنم میں جلنا مقدر کر دیا ہے انہی کو تم گمراہ کر سکتے ہو، باقی کسی کو اللہ کی ذات کے بارے میں گمراہ نہیں کر سکتے بھئی اور جن کے بارے میں اللہ نے جہنم کو مقدر کر دیا ہے یعنی اور مقدر بھی انہی کے لیے کیا ہے جو خود ہی کس کو چاہتے ہیں دراصل؟ گمراہی کو چاہتے ہیں بھئی تو انہوں نے اپنے اختیار سے اس راستے کو پسند کیا ہے بھئی تو صالِ اس میں فاعل ہے بھئی اِس میں فاعل صَلِیَ یصْلَى سے بھئی صَلِیَ یصْلَى صَلِیَ یصْلَى کے معنی ہیں آگ میں جلنا الاَّ من ہو صالِ الجَحیم مگر وہ جو جہنم میں جلنے والے ہیں وما مِناَّ اِلاَّ لہٗ مقامٌ معلومٌ اب یہ آگے اللہ تعالی فرشتوں کی طرف سے گویا ان کی زبان میں فرما رہے ہیں آگے اللہ تعالی فرشتوں کی طرف سے گویا فرشتوں کی زبان میں فرما رہے ہیں کہ آگے یہ بات جو ہے یہ فرشتوں کی ہے بھئی جیسے انسان کی طرف سے اللہ انسان کی زبان میں بہت سی جگہ قرآن میں دعائیں ذکر فرماتے ہیں انسان کی طرف سے انسان کی زبان میں اللہ دعائیں ذکر فرماتے ہیں جیسے قرآن میں آتا ہے بھئی سورہ فاتحہ میں اِیّاک نعبدُ وایّاک نستعین ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں وایّاک نستعین اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں یہ اللہ انسان کی زبان میں فرما رہے ہیں بھئی سمجھ میں آیا ورنہ تو یہ تو خالق کا کلام ہے بھئی سمجھ میں ورنہ پھر کیا معنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں لیکن خالق یہ انسان کی زبان میں فرما رہے ہیں چنانچه بعض مناظروں وغیرہ میں بعض ہندوؤں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا کہ تم کہتے ہو قرآن اللہ کی کتاب ہے اللہ کا کلام ہے اور قرآن میں تو شروع ہی اللہ ذکر آتا ہے اِیّاک نعبدُ ہم تیری عبادت کرتے ہیں یہ اللہ کس کو فرما رہے ہیں ہم تیری عبادت کرتے ہیں؟ یہ اِشکال سمجھ میں آیا؟ تو یہ اِشکال وہ کرتے تھے تو ہمارے علماء اللہ تعالی کی کروڑ ہا رحمتیں ہوں اُن پر جنہوں نے آج تک চৌہتر سو سال گزر گئے بھئی دین حق کو اسی شکل میں باقی اور زندہ رکھا جس طرح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا کوئی معمولی سا بھی راستے سے ہٹنے کی کوشش کرتا ہے وہیں پر فوراً اس کی گرفت دیتے ہیں بھئی سمجھ میں آیا علماء کو اللہ نے قرآن کی کا محافظ بنایا، حفاظت فرمانے والے اللہ ہیں لیکن اللہ نے اسباب پیدا فرمائے ہر چیز کے بھئی تو اللہ قرآن کے الفاظ کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں قرآن کے معانی کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں قرآن کے رسم الخط کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ہر چیز اسی طرح ہے بھئی تو بعضوں نے پھر یہ اعتراض کیا تو ہمارے علماء نے جواب دیا کہ بھئی جب سکول میں انسان پڑھنے جاتا ہے تو استاد کہتا ہے لکھو بھئی بخدمتِ جناب اُستاد صاحب مؤدبانہ گزارش ہے کہ مجھے تو دن سے بخار ہے اس لیے میں سکول میں حاضر نہیں ہو سکا درخواست لکھواتے ہیں یا نہیں؟ بھئی عجیب بات ہے یہ استاد کس کو لکھوا رہا ہے بھئی؟ یہ سکھا رہا ہے شاگردوں کو جیسے درخواست سکھائی جاتی ہے شاگردوں کو اسی طرح یہاں اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ اسی رنگ میں یہ سکھایا جا رہا ہے اس طرح مانگو بھئی یہ دعا اللہ سے کرو بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ اللہ فرشتوں کی طرف سے ان کی زبان میں فرما رہے ہیں اب یہ آگے فرشتوں کا وہ کلام جو اللہ فرما رہے ہیں کہ فرشتوں کو تم اللہ کی بیٹیاں بنات قرار دیتے ہو فرشتے وہ تو یہ کہتے ہیں وما مِناَّ اِلاَّ لہٗ مقامٌ معلومٌ وما مِناَّ ما نافیہ بھئی اور نہیں ہے ہم میں سے نہیں ہے ما مشابہ بھی لیسا نفی کے لیے بھئی اور نہیں ہے ہم میں سے کوئی اِلاَّ لہٗ مقامٌ معلوم مگر اس کا ایک معلوم مقام ہے، ایک معین مقام ہے ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے یہ با محاورہ ترجمہ ہوا ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے اس مقام سے وہ آگے نہیں بڑھتا ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے وانا لنحن الصّافُّون اور یقیناً ہم صفیں باندھے رکھتے ہیں ہم اللہ کے حضور میں صفیں باندھے رکھتے ہیں یا تو عبادت کے لیے یا اللہ کے احکام کے منتظر رہتے ہیں صفیں بنا کر کب اللہ کی طرف سے حکم کوئی نازل ہوتا ہے اور ہم اس کو بجا لائیں، اس پر عمل کریں وانا لنحن الصّافُّون اور یقیناً ہم صفیں بنائے رکھتے ہیں، صفیں باندھے رکھتے ہیں وانا لنحن المسبّحون اور یقیناً البتہ ہم پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور یقیناً وانا لنحن المسبّحون اور یقیناً ہم پاکی بیان کرتے رہتے ہیں یرحمُک اللہ کہ فرشتے کیا کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے اور ہم یقیناً ہم صفیں بنائے رکھتے ہیں وانا لنحن المسبّحون اور یقیناً ہم تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں تو اللہ فرما رہے ہیں کہ بھئی تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہو فرشتوں کا تو اللہ کے حضور میں یہ حال ہوتا ہے جو وہ کہ وہ کہ ان کے لیے معین مقامات ہیں اور وہ صفیں بنائے رکھتے ہیں اللہ کے حکم کے انتظار میں یا اللہ کی عبادت میں اور وہ ہر وقت کیا کرتے ہیں اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں تو تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہو اور فرشتوں کا یہ حال ہے کہ وہ خود کیا کہتے ہیں کہ ہمارا ہر ایک کا ایک معین مقام ہے اور ہم اللہ کے لیے صفیں بنائے رکھتے ہیں اور اس کی تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں۔ وإن کانوا لیقولون إن کانوا یاد رکھیے بھئی یہ ان مخففہ من الثقیلہ ہے پہلے بھی بات گزر چکی کہ ان اور ان ان میں شد ہے نون پر لیکن کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے ایک نون کو حذف کر دیا جاتا ہے تو اس کو مخففہ کہتے ہیں لفظ کو ہلکا بنا دیا گیا ایک حرف اس کا اڑا دیا گیا تو ان سے کیا بن جاتا ہے؟ ان اور ان سے ان بھئی اور پھر جب پہلے بھی میں بیان کر چکا کہ ان کو جب مخففہ بنایا جائے تو پھر اس صورت میں کبھی پھر بھی یہ اسی طرح اپنے اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع اور اس کے عمل کو لغو کر دینا بھی جائز ہے یعنی پھر یہ سرے سے عمل کرتا ہی نہیں ہے اور پھر جب یہ عمل کرتا ہی نہیں ہے تو اس صورت میں اس کو فعل پر بھی داخل کر دیا جاتا ہے ورنہ تو ویسے یہ فعل پر داخل نہیں ہوتا یہ تو ایک اسم اور ایک خبر پر داخل ہوتا ہے لیکن پھر یہ فعل پر بھی داخل ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی ہر فعل پر داخل نہیں ہوتا اُس فعل پر داخل ہوگا جو خود آگے ایک اسم اور ایک خبر پر داخل ہوتا ہے اور آگے کان آیا اور کان بھی کس پر داخل ہوتا ہے ایک اسم اور ایک خبر پر بھئی یہ ان میں ہے بھئی ان میں جب اس کو مخففہ کر لیا جائے تو پھر کبھی یہ عمل کرتا ہے اور کبھی عمل نہیں کرتا اور یاد رکھیے یہ ویسے ایک بات ذکر کر دیتا ہوں کہ کبھی جب ان کو مخففہ بنایا جائے ان بنا لیں تو پھر اس کا اسم ضمیر شان کو بناتے ہیں جو ہمیشہ محذوف ہوتی ہے جب بھی کہیں کوئی یہ اجائے ان کا لفظ اجائے اور اس کے ساتھ لکھا ہو یہ مخففہ ہے تو اتنا تو آپ سمجھ گئے کہ یہ اصل میں کیا تھا انّا ساتھ ایک اور بات بھی ہمیشہ سمجھ جانا کہ اس کا اسم بھی محذوف ہے گویا یہ اصل میں انّھو تھا بھئی وہ ہا ضمیر جو ضمیرِ شان ہے وہ اس کا اسم اور آگے جو ذکر ہوگا وہ اس کی خبر ہوگی بھئی صورت سمجھ میں آگئی تو وہاں صرف اتنا ذکر ہوگا یہ ان مخففہ ہے بس دوسری بات آپ خود سمجھ جانا کہ اس کا اسم کیا ہے ضمیرِ شان محذوف ہے جی تو یہ انّا سے مخففہ ہے بھئی یہ قرآن میں جو آ رہا ہے وإن کانوا لیقولون اور یقیناً یہ کہتے تھے کانوا لیقولون یہ لوگ کہے بھئی مکہ والے کہتے تھے جب دوسروں کو دیکھتے کہ ان کے پاس کتابیں ہیں اور یہ پوری طرح اس پر عمل نہیں کرتے تو پھر ان سے کہتے تھے کہ بھئی اگر ہمارے پاس کوئی اللہ کی کتاب آتی تو ہم تم سب سے بڑھ کر اس پر عمل کرتے وہی اللہ ذکر فرما رہے ہیں وإن کانوا لیقولون اور یقیناً یہ کہا کرتے تھے لو ان عندنا ذكراً من الأولين اگر ہوتا ہمارے پاس کوئی ذکر، ذکر سے یعنی کوئی نصیحت ہوتی یا ذکر سے مراد کتاب ہے، کیا مراد ہے؟ کتاب، اگر ہمارے پاس کوئی کتاب آتی من الأولين کس میں سے؟ پہلے لوگوں میں سے یعنی پہلے لوگوں کی طرح اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی طرح کوئی کتاب آتی، لکنا عباد اللہ المخلصین تو البتہ ہوتے ہم اللہ کے مخلص، خالص کیے ہوئے بندے یعنی خاص بندے، اللہ کے خالص کیے ہوئے بندے ہوتے یعنی اللہ کے خاص بندے ہوتے اگر ہمارے پاس کتاب آتی ہم سب سے بڑھ کر اس پر عمل کرتے اور یہ یہ البتہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی کتاب ہوتی پہلے لوگوں کی طرح لکنا عباد اللہ المخلصین تو البتہ ہم اللہ کے خاص بندے ہوتے، فکفروا به فسوف يعلمون فکفروا به پس انہوں نے انکار کیا اس کا، اللہ فرماتے ہیں پھر ہم نے کتاب بھیج دی ان کے پاس اور سب سے عظیم تر کتاب ہم نے ان کے پاس بھیجی فکفروا به پس انہوں نے کیا کیا؟ انکار کیا اس کا، فکفروا به پس انہوں نے اس کا انکار کیا فسوف يعلمون پس عنقریب یہ جان لیں گے ولقد سبقت كلمتنا لعبادنا المرسلين اور تحقیق گزر چکا سبقت جو سبقت کر چکا، پہلے ہو چکا ولقد سبقت اور تحقیق البتہ گزر چکی كلمتنا ہماری بات لعبادنا المرسلين ہمارے بندے المرسلین جو پیغمبر ہیں اور تحقیق گزر چکی ہماری بات ہمارے ان بندوں کے بارے میں جو پیغمبر ہیں، ہمارے جو بھیجے ہوئے بندے ہیں یوں کر لیں ترجمہ، ہمارے جو بھیجے ہوئے بندے ہیں ان کے بارے میں ہماری بات گزر چکی یعنی گزر چکی یعنی طے ہو چکی، مقرر ہو چکی معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کہ ہمارے جو بھیجے ہوئے بندے ہیں ان کے بارے میں ہماری بات طے ہو چکی ہے، گزر چکی ہے کیا گزر چکی؟ کیا طے ہو چکی؟ وہ آگے آ رہی ہے کہ انهم لهم المنصورون کہ منصور کا کیا معنی ہوتا ہے؟ جس کی مدد کی گئی ہو کہ انهم لهم المنصورون کہ ان کی مدد کی جائے گی، ان کی کیا ہوگی؟ ان کی مدد کی جائے گی ولقد سبقت كلمتنا لعبادنا المرسلين اور تحقیق البتہ طے ہو چکی ہے ہماری یہ بات ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے بارے میں معنی سمجھ میں آ گیا بھئی ولقد سبقت كلمتنا لعبادنا المرسلين انهم لهم المنصورون اور تحقیق البتہ طے ہو چکی ہے ہماری یہ بات ہمارے ان بندوں کے لیے جو بھیجے گئے ہیں کہ انهم لهم المنصورون کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی وإن جندنا لهم الغالبون اور یقیناً ہمارا لشکر، جُند کہتے ہیں لشکر کو بھئی، یقیناً ہمارا لشکر لهم الغالبون البتہ وہی غالب ہوگا، ہمارا لشکر ہی کیا ہوگا؟ غالب ہوگا بھئی بھئی اللہ فرما رہے ہیں ہماری طرف سے یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جو ہمارے بندے ہیں بھیجے ہوئے یعنی جو ہمارے پیغمبر ہیں ان کی مدد کی جائے گی اور وہی غالب ہوں گے، حالات کتنے ہی پلٹے کھائیں، کبھی کفار ہی کیوں نہ بظاہر غالب آ جائیں لیکن بالآخر آخر کار غالب کس نے آنا ہے؟ ہمارے ہی بندوں نے غالب آنا ہے، یہ بات طے ہو چکی ہے بھئی تو بظاہر کہیں شکست بھی آ جائے لیکن بالآخر پھر فتح کس کی ہوگی؟ اللہ فرماتے ہیں ہمارے بندوں کی فتح ہوگی سمجھ میں آیا بھئی؟ افغانستان کے اندر آپ دیکھتے ہیں اس وقت اگرچہ امریکہ حاوی ہے لیکن یہ اب یہ اولاً تو بالکل غالب نظر آ رہا تھا، اب دیکھیے ان کے بھی ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں، اب انہیں بھی اپنی شکست کے آثار نظر آنے لگے ہیں، بھئی دیکھیے تو سہی ایک قوم کتنی طاقتور ہے، ان کے خلائی سیارچے، ان کے ہوائی جہاز، ان کے ٹینک، ان کے پاس جدید ترین آلات، سب کچھ ہے ان کے پاس، دوسری طرف افغانی قوم ہے، کچھ مسلمان ہیں، سادہ سے بیچارے کسی مشین کو تو جانتے ہی نہیں ہیں بھئی، کوئی آلات ان کے پاس ہیں ہی نہیں ہیں، کھانے کے لیے روٹی بھی نہیں ہوتی بھئی، لیکن دیکھیے اللہ کی قدرتیں کس طرح یہ ان کو ختم کرتے چلے جا رہے ہیں بھئی، کس طرح بھئی؟ تو اللہ فرماتے ہیں بالآخر فتح کس کی ہوگی؟ ہمارے ہی بندوں کی فتح ہوگی، اگرچہ درمیان میں حالات کتنے ہی پلٹے کھا لیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تو یہ اللہ چاہیں تو ان کو ایک آن میں ختم کر دیں امریکہ والوں کو، لیکن اللہ اپنے بندوں کو بھی تو دیکھنا چاہتا ہے کون میرے راستے میں اس مشکل کے اندر، اس مشکل میں جب غیر تو غیر اپنے بھی دشمن بن چکے، کون میرے راستے پر اپنی سر دھڑ جان کی بازی لگا دیتا ہے، تو پھر اس کے مطابق اللہ نے آخرت میں کتنی عظیم نعمتیں تیار کی ہیں، وہ ہمارے ہم ہمارے دلوں اور کبھی ہم نے نہ دیکھیں نہ سنیں، بڑی عظیم نعمتیں بھی تو اللہ نے آگے تیار کر رکھی ہیں بھئی فتول عنهم حتى حين پس آپ ان سے رخ موڑ لیجیے، تولّی کا کیا معنی؟ رخ موڑ لینا، اعراض کرنا، فتول عنهم پس اے پیغمبر تولّی امر ہے یاد رکھیے بھئی فتول عنهم حتى حين پس آپ ان سے رخ موڑ لیجیے حتى حين ایک وقت تک، کچھ وقت تک بھئی، یعنی اے پیغمبر آپ ان کی رخ موڑ لیجیے گا کیا معنی؟ یعنی ان کی تکالیف اور پریشانیوں کی پرواہ نہ کیجیے، فتول عنهم حتى حين پس آپ کچھ وقت تک ان کی پرواہ نہ کیجیے، ان کا خیال نہ کیجیے، وابصرهم اور دیکھتے رہیے ان کو، آپ ان کو ابصرهم ان کو دیکھیے یعنی دیکھتے رہیے، وابصرهم اور ان کو دیکھتے رہیے فسوف يبصرون پس عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے، آپ بھی ان کو دیکھتے رہیے عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے کس طرح ہماری پکڑ آتی ہے ان پر أفبعذابنا يستعجلون استاجل يستاجلو کے معنی ہیں جلدی کرنا بھئی، جلدی مچانا، أفبعذابنا يستعجلون کیا ہمارے عذاب میں یہ جلدی مچاتے ہیں؟ مشرکینِ مکہ مذاق اڑاتے تھے، اے پیغمبر آپ ہمیں عذاب سے ڈراتے ہیں، عذاب لاتے کیوں نہیں، لے کر آؤ نا، جلدی لے کر آؤ، ہم بھی دیکھیں کیا عذاب تم لے کر آتے ہو، مذاق اڑاتے تھے بھئی، تو اللہ فرماتے ہیں أفبعذابنا يستعجلون کیا پس یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں؟ فاذا نزل بساحتهم پس جب وہ نازل ہوگا وہ عذاب بساحتهم ان کے صحن میں، ساحہ کہتے ہیں صحن کو، جب عذاب ان کے صحن پر اترے گا یعنی اِن پر اترے گا بھئی، ساحہ بول کر قوم مراد لے لیتے ہیں، عرب کیا کر لیتے ہیں؟ قوم کے ذکر میں ساحہ کے لفظ پر اکتفا کر لیتے ہیں، تو مراد یہی لوگ ہیں بھئی، فاذا نزل بساحتهم جب وہ عذاب اتر آئے گا ان کے صحن پر، فساء صباح المنذرين، فسا ء فساء صباح المنذرين پس بڑی ہی بُری وہ ڈرائے ہوؤں کی وہ صبح ہوگی، پس بڑی ہی بُری ہوگی وہ صبح ان ڈرائے ان خبر منذرين بھئی اس کا کیا معنی کریں گے؟ ڈرائے ہوئے، ڈرائے گئے، ایک اور معنی میں نے بتلایا تھا بھئی، بڑا پیارا معنی خبردار کیے ہوئے، أنذر يندر کے معنی ڈرانے کے ہیں، لیکن بہترین ترجمہ اس کا خبردار کرنے کے، بھئی، منذر کا کیا معنی کرتے ہیں عام طور پر؟ ڈرانے والے، اس کے بجائے اگر اس کا ترجمہ کر لیں خبردار کرنے والے بھئی تو کتنا لطف بڑھ جاتا ہے بھئی، خبردار کرنے والے، تو کیا فرما رہے ہیں اللہ؟ فساء صباح المنذرين، سا افعالِ ذم میں سے ہے بھئی، یہ انشائے ذم کے لیے آتا ہے، مذمت بیان کرنے کے لیے بھئی، فساء صباح المنذرين، تو، فساء صباحاً یہاں محذوف ہے بھئی، بھئی آپ نے پڑھا افعالِ مدح و ذم جو ہیں ان کے لیے ایک فاعل چاہیے ہوتا ہے، اور ایک مخصوص بالمدا یا مخصوص بالذم چاہیے ہوتا ہے، تو اس سا کے اندر ھوا ضمیر ہے، وہ ہے اس کا فاعل، اور آگے صباحاً اس کی تمیز ہے، وہ محذوف ہے بھئی، بھئی بڑی ہی بُری ہے وہ، کیا بُری ہے؟ کیا چیز صباحاً، تمیز آ گئی یعنی کہ صبح بھئی، اور صبح کے اعتبار سے بڑی، صباح المنذرين یہ کیا ہے؟ مخصوص بالذم ہے، مخصوص بالذم فساء صباح المنذرين پس وہ خبردار کیے ہوؤں کی بڑی ہی بُری صبح ہوگی، وہ صبح خبردار کیے ہوؤں کی بڑی ہی بُری صبح ہوگی، ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ فاذا نزل بساحتهم پس جب اترا نازل ہوگا وہ عذاب بساحتهم ان کے صحن میں، فساء صباح المنذرين پس بڑی ہی بُری صبح ہوگی وہ خبردار کیے ہوؤں کی وہ صبح، وتول عنهم حتى حين اور آپ ان کا ان کی پرواہ نہ کیجیے کچھ وقت تک، وہی بھئی پہلے بھی آ چکا ہے، اور آپ ان سے ان سے رخ پھیر لیجیے کچھ وقت تک، یعنی ان کا خیال نہ کیجیے کچھ وقت تک، وابصر فسوف يبصرون اور آپ دیکھتے رہیے، پس عنقریب یہ دیکھ لیں گے، سبحان ربك رب العزة عما يصفون، پاک ہے آپ کا پروردگار رب العزةِ عزت والا، عما يصفون اس سے جو یہ بیان کرتے ہیں، پاک ہے آپ کا پروردگار رب العزةِ جو عزت والا ہے، عزت والا پروردگار تو یوں ترجمہ کر لیں سبحان ربك رب العزة عما يصفون پاک ہے آپ کا عزت والا پروردگار اس چیز سے جو یہ بیان کرتے ہیں، وسلام على المرسلين، اور سلامتی ہو پیغمبروں پر، والحمد لله رب العالمين، اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين، یہ آیتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم عموماً فرض نمازوں کے بعد پڑھا کرتے تھے بھئی، ان کی بڑی فضیلت ہے بھئی، فرض نمازوں کے بعد پڑھتے چلیے بس بھئی, ھذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام