اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم فإنهم لاكلون منها فمالئون منها البطون ثم إن لهم عليها لشوبا من حميم ثم إن مرجعهم لالى الجحيم بھئی گزشتہ آیتوں کے اندر شجر زقوم کا ذکر چل رہا تھا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے اور اس کے خوشے جو ہیں جس طرح کے شیاطین کے سر ہوں اس طرح ہیں بھئی۔ یعنی انتہائی مکروہ شکل ہے ان کی۔ یہ طالع کا معنی بعضوں نے جیسے پھل کے کیے۔ اس کے پھل جو ہیں کس کی طرح ہیں؟ شیاطین کے سر کی طرح۔ اور بعضوں نے شیاطین کا معنی سانپوں کے کیے۔ بھئی سانپ کو بھی عربی میں شیطان کہہ دیتے ہیں۔ تو وہ گویا ان کے پھل جو ہیں وہ سانپوں کے سر یعنی سانپوں کے پھن کی طرح ہیں۔ اگے اللہ فرماتے ہیں فانہم لا کلون منھا پس یقینا یہ البتہ کھائیں گے اس میں سے فمالئون منھالبطون پس بھریں گے اس سے اپنے پیٹ بھئی۔ اس سے پیٹوں کو کیا کریں گے؟ بھریں گے۔ ملا کے معنی بھرنے کے۔ پس یقینا فانہم لا کلون منھا پس یقینا یہ اس میں سے کھائیں گے فمالئون منھالبطون پس بھریں گے اس سے پیٹ کو۔ بھئی وہ جیسے اس کی صورت انتہائی مکروہ ہے۔ انتہائی خوفناک ہے۔ اسی طرح اس کا ذائقہ، اس کی بدبو وغیرہ ہر چیز میں وہ حد درجے کو پہنچا ہوگا۔ انتہائی خراب ذائقہ، کڑوا ذائقہ اور انتہائی بدبودار۔ تو لیکن بھوک کی شدت ہوگی تو مجبورا وہ اس کو پھر کھائیں گے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ فانہم لا کلون منھا پس یقینا یہ اس میں سے کھائیں گے فمالئون منھالبطون پس بھریں گے اس سے پیٹ، ثم ان لھم علیھا لشوبا من حمیم۔ شوب کہتے ہیں ملائی ہوئی چیز کو۔ ایک چیز کو دوسری کے ساتھ ملایا گیا ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ شوب کہتے ہیں۔ یعنی کہ آمیزہ آمیزہ اور حمیم کہتے ہیں گرم پانی کو بھئی۔ کھولتا ہوا پانی۔ تو وہ اس کو کھائیں گے اور پھر پیاس لگے گی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں ثم ان لھم علیھا پھر یقینا ان کے لیے اس پر لشوب من حمیم البتہ آمیزہ ہوگا کھولتے ہوئے پانی کا۔ آمیزہ ہوگا پھر ان کے لیے اس پر کھولتے ہوئے پانی کا آمیزہ ہوگا یعنی پھر اسے پیئیں گے کھولتا ہوا پانی بھئی اور اس میں یہ جہنمیوں کی پیپ وغیرہ ملی ہوگی وہ ان کو پینے کو دیا جائے گا۔ ثم ان مرجعھم لالى الجحیم پھر یقینا ان کا لوٹنا ہوگا البتہ جہنم کی طرف۔ یعنی پھر ان کو جہنم کی طرف لوٹایا جائے گا۔ تو مرجع یا تو مصدر ہے۔ پھر ان کا لوٹنا ہوگا کس کی طرف؟ جہنم یعنی لوٹیں گے۔ یا مرجع ظرف کا صیغہ ہے لوٹنے کی جگہ یعنی ٹھکانہ مراد۔ پھر ان کا ٹھکانہ ہوگا لالى الجحیم کس کی طرف؟ جہنم کی طرف یعنی پھر ان کو جہنم میں ڈال دیا جہنم میں داخل کر دیا جائے گا۔ بھئی وہ شجر زقوم کھلانے کے لیے ان کو اگ سے نکالا جائے گا۔ شجر زقوم ان کو کھلایا جائے گا اور وہ کھولتا ہوا پیپ ملا پانی وہ پیئیں گے پھر ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی۔ ثم ان مرجعھم لالى الجحیم پھر یقینا ان کا ٹھکانہ جو ہے البتہ جہنم ہی ہے۔ تو یہ معنا بعض نے بیان کیا کہ آگ سے نکالا جائے گا پھر ان کو یہ چیزیں کھلائی پلائی جائیں گی اور پھر آگ میں ڈال دیا جائے گا یا وہیں پر ان کو کھلایا پلایا جائے گا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے یعنی وہیں پر وہ رہیں گے اسی طرح بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ یہ لالى الجحیم دیکھیے لام کے ساتھ الف ہے اس کے اوپر ایک گول دائرہ بنا ہوا ہے۔ تو یہ الف پڑھا نہیں جاتا بھئی۔ تو لالى الجحیم نہیں پڑھنا اس کو کیا پڑھنا ہے؟ لالى الجحیم۔ اور قرآن میں اس طرح اٹھارہ مقامات ہیں جہاں الف لکھنے میں تو ہے لیکن اس کو پڑھا نہیں جاتا۔ اور اس پر پھر یہ علامت لگا دی جاتی ہے جس سے پڑھنے والے کو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس الف کو نہیں پڑھا جائے گا بھئی۔ اور یہ بات پہلے ذکر ہو چکی کہ قرآن کا رسم الخط بھی توقیفی ہے بھئی۔ جیسا اللہ اور اللہ کے رسول نے بتلایا اسی طرح اس کو لکھا گیا چنانچہ اس کے میں بہت سے الفاظ اصل رسم الخط سے ہٹ کر ہیں بھئی۔ تو اصل ضابطے کے مطابق تو یہاں پر یہ الف لکھا ہی نہیں جانا چاہیے لیکن اسی طرح ہے اور اس کو اسی طرح لکھا جائے گا اسی طرح رکھا جائے گا۔ قرآن کے الفاظ کی بھی اللہ حفاظت فرمانے والے ہیں قرآن کے معانی کی بھی اللہ حفاظت فرمانے والے ہیں۔ انھم الفوا آبائھم ضالین یقینا انہوں نے پایا انھم الفوا آبائھم یقینا انہوں نے پایا اپنے آباء و اجداد کو ضالین گمراہ۔ انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو گمراہ پایا فھم على آثارھم یھرعون آثار جمع ہے اثر کی۔ اثر کہتے ہیں نشان کو بھئی کسی چیز کا پیچھے جو نشان رہ جائے کوئی شخص چل گیا اور اس کے پیچھے قدموں کے نشانات رہے اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ اثر کہتے ہیں۔ اللہ فرما رہے ہیں انہوں نے اپنے آباء و اجداد کو گمراہ پایا فھم على آثارھم پس یہ ان کے نشان قدموں کے نشانات پر یھرعون۔ یھرع الرجل کا معنی ہوتا ہے کسی شخص کا بے تابی سے تیزی سے چلنا بھئی۔ یھرع الرجل کا کیا معنی ہے؟ کسی شخص کا بے تابی سے تیزی سے جانا یا دوڑنا۔ پس فھم على آثارھم یھرعون پس یہ ان کے نشانات پر دوڑ رہے ہیں۔ یہ مشرکین جو ہیں رحمک اللہ۔ ان مشرکین مکہ یہ جو ہیں انہوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا ہے پس یہ ان کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں یہ تیزی سے چل رہے ہیں جو بھی ترجمہ کر لیں بھئی۔ پس یہ ان کے پیچھے پیچھے تیزی سے دوڑ رہے ہیں تیزی سے چل رہے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ وہ حق پر تھے یا حق پر نہیں تھے بس جس طریقے پر اپنے باپ دادوں کو پا لیا اسی پر تیزی سے چلے جا رہے ہیں۔ ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین اور تحقیق البتہ گمراہ ہوئے ان سے پہلے بھی اکثر الاولین اکثر اولین اکثر پہلے لوگ جو ہیں۔ ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین اور تحقیق ان سے قبل پہلوں میں سے بہت سے گمراہ ہو چکے۔ ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین اور تحقیق گمراہ ہوئے ان سے قبل بہت سے پہلے پچھلوں میں سے بہت سے۔ ان سے پہلے پچھلے لوگوں میں سے بہت سے لوگ گمراہ ہو چکے۔ ولقد ارسلنا فیھم منذرین اور تحقیق البتہ بھیجا ہم نے ان میں ڈرانے والوں کو یعنی پیغمبروں کو۔ انذر ینذر انذار کے کیا معنی ہیں؟ ڈرانے کے بھئی ولقد ارسلنا فیھم منذرین اور تحقیق بھیجا ہم نے ان میں ڈرانے والوں کو یعنی پیغمبروں کو۔ منذرین کا کیا معنی کیا بھئی؟ ڈرانے والے۔ یا اس کا ترجمہ کر لیں خبردار کرنے والے۔ کیا معنی کر لیں؟ خبردار کرنے والے۔ ولقد ارسلنا فیھم منذرین اور تحقیق البتہ بھیجا ہم نے ان میں خبردار کرنے والوں کو۔ فانظر كيف كان عاقبة المنذرين پس آپ دیکھیے کیسا تھا انجام المجذرین ڈرے ہوؤں کا۔ منذر اس میں مفعول ہے بھئی۔ جی فانظر كيف كان عاقبة المنذرين پس آپ دیکھیے کیسا تھا انجام ڈرے ہوؤں کا یعنی خبردار کیے ہوؤں کا۔ پس آپ دیکھیے خبردار کیے ہوؤں کا کیسا برا انجام ہوا۔ الا عباد اللہ المخلصين مگر اللہ کے وہ بندے جو خالص کیے گئے تھے جو چنے ہوئے تھے۔ الا عباد اللہ المخلصين مگر اللہ کے خالص کیے ہوئے بندے۔ ولقد نادانا نوح فلنعم المجيبون بھئی ما قبل میں ذکر آیا منذرین اور منذرین کا۔ ڈرانے والے اور ڈرائے ہوئے، خبردار کرنے والے اور خبردار کیے ہوئے۔ اب آگے انہی منذرین اور منذرین کے ساتھ قصے بیان ہوں گے، سات واقعات بیان ہوں گے بھئی۔ سات انبیاء اور ان کی قوموں کا ذکر ائے گا بھئی۔ ولقد نادانا نوح فلنعم المجيبون اور تحقیق البتہ پکارا ہم کو نوح علیہ السلام نے فلنعم المجيبون پس کیا اچھے، کیا اچھا جواب دینے والے ہیں ہم فلنعم المجيبون نحن بھئی نعم آپ نے پڑھا افعال مدہ میں سے ہے اور افعال مدہ کے لیے ایک فاعل چاہیے اور ایک مخصوص بالمدہ چاہیے تو مخصوص بالمدہ یہاں محذوف ہے نحن بھئی۔ فلنعم المجيبون نحن پس کیا اور یہ افعال مدہ و ذم جو ہیں یہ انشائے مدہ کے لیے آتے ہیں۔ انشائے مدہ یعنی یوں کہو دوسر کسی کی تعریف کرنا۔ ایک ہے خبر دینا اور ایک ہے تعریف کرنا۔ خبر دے خبر میں کہ صدق اس کے کہنے والے کو صادق یا کاذب کہا جا سکتا ہے۔ اور ایک ہے انشائے مدہ۔ انشائے مدہ میں کہنے والے کو صادق یا کاذب نہیں کیونکہ وہ خبر دے ہی نہیں رہا وہ تو کیا کر رہا ہے؟ انشائے مدہ کر رہا ہے مدہ کو وجود دے رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگیا بھئی۔ تو انشاء کے اندر کسی کو صادق یا کاذب نہیں کہا سکا کہا جا سکتا یہ فرق ہے بھئی انشائے مدہ میں اور خبر مدہ میں۔ تو یہ انشائے مدہ کے لیے ہیں جیسے بھئی اور انشاء کی صورتیں دیکھ لیں قسم انشاء کی قسم ہے کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے تو آپ قسم اٹھانے میں اس کو جھوٹا نہیں کہا جا سکتا بھئی۔ واللہ ای اقسم واللہ واللہ میں خدا کی قسم کھا میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں اب اس بات میں اس کو جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ یہ انشاء ہے انشاء بھئی۔ ہاں آگے جواب قسم کے اعتبار سے سچا یا جھوٹا کہا جائے وہ الگ بات ہے بھئی جو آگے جس بات پر قسم اٹھا رہا ہے وہ جو آگے آئے گی مثلا وہ کہتا ہے یقینا زید کھڑا ہے ہاں اس میں ہم اس کو سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں لیکن یہ جو واللہ اس نے کہا نا یہ جو قسم اٹھائی اس میں اس کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ فلنعم المجيبون سو کیا اچھا جواب دینے والے ہیں ہم بھئی کس چیز کا جواب؟ یہ پیچھے پکار کا ذکر آیا ہے۔ پکار کا کیا ہی اچھا جواب دینے والے ہیں ہم پکار کا۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی۔ تو یہ انشاء مدہ ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے فریاد کی تھی کہ اللہ میں مغلوب ہوں فانتصر پس آپ میری مدد کیجیے تو اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو نجات دی اور ان کی قوم کو ہلاک کر دیا تو اللہ فرما رہے ہیں فلنعم المجيبون کیا ترجمہ کیا؟ تو کیا ہی اچھا جواب دینے والے ہیں ہم پکار کا۔ یا یہ ترجمہ کر لیں بھئی جو ہمارے بعض علماء نے کیا سو ہم کیا خوب فریاد سننے والے ہیں۔ سو ہم کیا خوب فریاد سننے والے ہیں۔ ونجیناہ واہ اور ہم نے نجات دی ان کو واہ اور ان کے گھر والوں کو من الکرب العظیم کرب کہتے ہیں پریشانی کو، غم کو। ونجیناہ اور ہم نے نجات دی نوح علیہ السلام کو واہ اور ان کے گھر والوں کو من الکرب العظیم بڑی بڑے غم سے یا بڑی پریشانی کو। وجعلنا ذریته ھم الباقین اور کر دیا ہم نے ذریته ھم ان کی اولاد کو، ان کی نسل کو ھم الباقین کہ وہی باقی رہے। ھم الباقین کہ وہی باقی رہے। لفظی ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی وجعلنا ذریته ھم الباقین اور کر دیا ہم نے ان کی نسل کو کہ وہی باقی رہے। یعنی ہم نے ان کی نسل ہی کو باقی رہنے دیا، ہم نے ان کی اولاد ہی کو باقی رہنے دیا ذریت اولاد کو کہتے ہیں نسل کو بھئی। وجعلنا تو با محاورہ کیا ترجمہ ہوگا وجعلنا ذریته ھم الباقین اور ہم نے ان کی اولاد ہی کو باقی رہنے دیا। بھئی یہ بات پہلے بھی گزر چکی کہ حضرت نوح علیہ السلام جو ہیں وہ مومنین کو کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے، باقی تمام لوگ غرق ہو گئے اور صرف یہ مومنین بچے اور پھر ان مو یہ مومنین بھی آہستہ آہستہ ختم ہو گئے صرف آپ کے جو تین بیٹے تھے ان سے باقی تمام انسانوں کی نسل چلی بھئی اور ان کے نام کیا تھے؟ حام، سام اور یافس। حام، سام سین سے ہے سام اور یافس ص ہے آخر میں ص بھئی یافس। یہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں جو طوفان آیا تھا اس میں بھی مفسرین کا اختلاف ہے بھئی کہ یہ صرف کسی مخصوص علاقے میں تھا یا پوری دنیا کے اندر تھا। پوری دنیا کے اندر تو بعض اس طرف گئے کہ پوری دنیا کے اندر تھا، پوری دنیا کے لوگ ختم ہو گئے، غرق ہو گئے اور صرف یہی باقی رہے، بعض کہتے ہیں صرف مخصوص مخصوص علاقے میں تھا اور جی معنی سمجھ میں آگیا بھئی وجعلنا ذریته ھم الباقین اور ہم نے ان کی اولاد ہی کو باقی رہنے دیا وتركنا علیہ فی الآخرین اور باقی رکھا ہم پر فل الآخرین بعد میں آنے والوں میں پیچھے آنے والے بعد میں آنے والے اور باقی رکھا علیہ حضرت نوح علیہ السلام پر فل الآخرین بعد میں آنے والوں میں کیا باقی رکھا یہ بات کہ جو آگے آ رہی ہے سلام علی نوح فی العالمین سلامتی ہو نوح پر جہان والوں میں حضرت نوح علیہ السلام پر ہم نے یہ بات بعد والوں میں ہمارے وہ نیک بندے تھے ہم نے بعد والوں میں ان کی یہ بات باقی رہنے دی کون سی بات کہ سلام علی نوح فی العالمین سلامتی ہو نوح پر جہان والوں میں بھئی آپ سب بھی جب بھی حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر آتا ہے آپ کیا کہتے ہیں علیہ السلام ان پر کیا ہو سلامتی ہو یہ مراد ہے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی کہ سلامتی ہو نوح علیہ السلام پر یعنی ہم نے ان کا ذکر خیر باقی رکھا کہ ان کا نام لیا جاتا ہے تو ان پر سلامتی کی دعا کی جاتی ہے بھئی اللہ وہ ترکہ نا کیسے کیسے انبیاء کتنی تکالیف برداشت کیں کتنی استقامت سے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے اور کتنی کتنی ان پر تکالیف آئیں بھئی لفظوں میں جسے بیان نہیں کیا جا سکتا تقریباً یہ ایک ہزار سال تک اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے بھئی ایک ہزار سال آپ سوچیں تو صحیح اور جواب میں ہمیشہ ہنسی مذاق ہی جواب میں ملے بلکہ جہاں سے انسان گزرے وہاں بھی گزرنے والے بھی تالیاں بجانے لگے کہ لو وہ آ گئے پھر آ گئے یا وہ جا رہا ہے بھئی کیسی تکلیف کتنی اذیت کے ساتھ بھئی سب ہنسی مذاق اڑاتے ہیں بات سننا تو دور کی بات ہے گزرنے بھی آرام سے نہ دیا جائے بھئی اور ان انبیاء کی استقامت کا کیا کہنا اس کے باوجود خیر خواہی ہی خیر خواہی کسی طرح یہ لوگ آ جائیں، جہنم سے بچ جائیں کسی طرح جنت کے راستے کی طرف آ جائیں اللہ نے کیا کیا انعامات رکھے ہیں بھئی تو اللہ فرماتے ہیں وتركنا علیہ فی الآخرین اور باقی رکھا ہم باقی رکھا ہم باقی رکھی ہم نے ان پر بعد والوں میں یہ بات کہ سلام علی نوح فی العالمین سلامتی ہو نوح پر جہان والوں میں انا كذلك نجزی المحسنين یقیناً اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو محسن احسان کرنے والے نیکی کرنے والے انہ من عبادنا المؤمنین یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے انہ من عبادنا المؤمنین یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے ثم اغرقنا الآخرین پھر غرق کر دیا ہم نے با باقیوں کو دوسروں کو پھر ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا وان من شیعتہ لابراہیم اور یقیناً ان کے پیروکاروں میں سے البتہ ابراہیم علیہ السلام تھے شیعہ کہتے ہیں گروہ کو جماعت کو بھئی عربی زبان میں شیعہ کا کیا معنی ہے گروہ اور جماعت کے اور اسی طرح پیروکار کسی کے طریقے والا ہونا یہ بھی کیا اس کو بھی کیا کہتے ہیں شیعہ تو وان من شیعتہ لابراہیم اور یقیناً ان کے طریقے والوں میں سے ابراہیم بھی تھے ان کے طریقے والے یا ان کے پیروکار بھئی ان کے راستے والوں میں سے کون تھے؟ ابراہیم علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے بعد تقریباً حضرت نوح علیہ السلام کے دو ہزار چھ سو چالیس سال بعد آئے بھئی دو ہزار چھ سو چالیس سال بعد درمیان میں حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام بھی گزرے بھئی ان دو ہزار چھ سو چالیس سالوں میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے طریقے والوں میں سے تھے ان کے پیروکاروں میں سے تھے کیونکہ بھئی تمام انبیاء کی تمام انبیاء کے اصول دین اور بنیادی دعوت ایک ہی ہے سب کی بھئی اصول دین اور بنیادی دعوت سب کی ایک ہی ہے سب کی تو سب تو اسی لیے کہا گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے راستے والوں میں سے تھے ان کے طریقے والوں میں سے تھے سمجھ ایا سب انبیاء کی بنیادی دعوت ایک ہی ہے توحید کی طرح بلاتے ہیں شرک سے روکتے ہیں آخرت پر یقین کا کہتے ہیں کہ آخرت کو مان لو قیامت قائم ہوگی اور یہ تو بنیادی دعوت سب کی ایک ہی ہے اذ جاء ربہ بقلب سلیم جب وہ آئے اپنے پروردگار کے پاس بقلب سلیم صاف ستھرے دل کے ساتھ جب وہ اپنے پروردگار کے پاس صاف ستھرے دل کے ساتھ یا یہ ترجمہ کر لیں جاء کے ساتھ با ہے بھئی اور جاء کے ساتھ جب با استعمال ہو تو پھر اس کا کیا ترجمہ کیا جاتا ہے لانے کے لانے کے اذ جاء رب ربہ بقلب سلیم جب وہ لائے اپنے پروردگار کے پاس صاف ستھرا دل یعنی قلب سلیم بھئی جو ہر قسم کی اعتقادی اور اخلاقی خرابیوں سے پاک تھا نہ اعتقادی اعتبار سے اس میں کوئی خرابی تھی اعتقادات بھی سارے درست اور نہ اخلاقی بیماریوں میں سے کوئی بیماری تھی بھئی یہ ہے قلب سلیم بھئی اذ جاء ربہ بقلب سلیم جب وہ لے کر آئے اپنے پروردگار کے پاس صاف ستھرا دل لے کر آئے یعنی متوجہ ہوئے اپنے پروردگار کی طرف صاف ستھرا دل لے کر متوجہ ہوئے اذ قال لابیہ وقومہ جس وقت کہا انہوں نے اپنے والد سے و اپنے اب سے وقومہ اور اپنی قوم سے ماذا تعبدون کس چیز کی تم عبادت کرتے ہو وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے تو اپنے قوم سے اپنے والد سے اور اپنے قوم والوں سے کہا ماذا تعبدون تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو افكا آلہۃ دون اللہ تريدون افک کہتے ہیں جھوٹ کو بھئی جھوٹ گھڑنا جھوٹ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ لینا بنا لینا اس کو کہتے ہیں افک افک بھئی افكا آلہۃ دون اللہ تريدون کیا جھوٹ جھوٹ موٹ کے معبود اللہ کے علاوہ تريدون تم چاہتے ہو کیا تم اللہ کے علاوہ جھوٹ موٹ کے معبود چاہتے ہو کیا تم اللہ کے علاوہ جھوٹ موٹ کے معبود چاہتے ہو یہ آلہۃ یہ مفعول ہے تريدون کا آلہۃ یہ مفعول ہے بھئی اور آپ جانتے ہیں کہ فاعل کو تو فعل پر مقدم نہیں کیا جا سکتا البتہ مفعول کو فعل پر مقدم کیا جا سکتا ہے تو اس کو مقدم کیا گیا اور یہ افکاً افکاً یہ مصدر ہے بھئی مصدر مصدر اور یہ یا تو مفعول لہ ہے مفعول لہ جانتے ہو یعنی ضربتہ تأدیباً یہ تأدیباً کیا ہے مفعول لہ جو فعل کی علت بیان کرتا ہے وہ مصدر مفعول لہ کہلاتا ہے تو یہ مفعول لہ ہے کیا معنی ہوا؟ کیا تريدون آلہۃ دون اللہ تم اللہ کے علاوہ اور معبود چاہتے ہو افکاً جھوٹ گھڑنے کی وجہ سے یہ تم نے کیا کیا ہے اپنی طرف سے جھوٹ موٹ کے معبود بنا رکھے ہیں کیا تم اللہ کے علاوہ اور معبود چاہتے ہو جھوٹ گھڑنے کے لیے جھوٹ گھڑنے کی وجہ سے یا یہ افکاً یہ مفعول ہے آلہۃ نہیں مفعول مفعول کون افکاً یہ مفعول ہے اور یہ آلہۃ اس سے بدل ہے بدل اور آپ نے پڑھا ہے بدل اور مبدل منہ کا اعراب ایک ہوتا ہے تو افکاً ہے مصدر اور آلہۃ کیا ہے افکاً ہے مصدر اور مبدل منہ ہے اور آلہۃ اس سے بدل ہے اور افکاً تو ہے مصدر تو اس سے آلہۃ کو بدل بنایا اور آپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کا حمل کبھی ذات پر کیا جاتا ہے किस लिए؟ بطور مبالغہ کے آپ کہتے مثلاً کہتے ہیں زید عادلٌ زید عادل ہے لیکن اس کے بجائے کبھی کیا کہہ دیتے ہیں زید عدلٌ کیا معنی ہوتا ہے؟ یعنی سراپا عدل ہے زید تو یہاں پر بھی افکاً سے آلہۃ کو بدل بنایا گیا یہ بتلانے کے لیے کہ ان کے جو آلہۃ ہیں وہ سراپا افک ہیں بھئی سراپا جھوٹ ہیں بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی تو ترجمہ یہی آسان یہ تو لفظی ترکیب آپ کو بتلا دی بھئی جس طرح یا افکاً کو بعض کہتے ہیں حال بنائیں گے بھئی تريدون کے اندر جو و ضمیر ہے جمع کی مخاطب کی اس سے یہ حال ہوگا کیا تم اللہ کے علاوہ اور معبود چاہتے ہو اس حال میں افکاً ای آفقین مصدر کبھی کس معنی میں ہوتا ہے اسم فاعل کے معنی میں اس حال میں کہ تم جھوٹ گھڑنے والے ہو جھوٹ بنانے والے ہو افكا آلہۃ دون اللہ تريدون کیا جھوٹ موٹ کے معبود اللہ کے علاوہ تريدون تم چاہتے ہو فما ظنكم برب العالمين پس کیا گمان ہے تمہارا تمام جہانوں کے پروردگار کے بارے میں فما ظنكم پس کیا خیال ہے تمہارا برب العالمين تمام جہانوں کے پروردگار کے بارے میں تم نے جھوٹ موٹ کے معبود بنا رکھے ہیں تو تمام جہانوں کے پروردگار کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا تمہیں اس کے وجود میں شک ہے؟ یا اس کے قوت اور مرتبے میں اور قدرت کے اندر شک ہے؟ یا تمہیں اس بات میں شک ہے کہ وہ انتقام نہیں لے سکتا اور عذاب نہیں نازل کر سکتا کس بات نے تمہیں اتنا جری کر دیا کہ تم اس کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ کے معبود بنا کر ان کی عبادت کرتے ہو معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ فما ظنكم برب العالمين پس کیا خیال ہے تمہارا تمام جہانوں کے پروردگار کے بارے میں چلیے بس بھئی بس ہذا واللہ اعلم بحقيقة الكلام