اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم فاقبل بعضهم على بعض يتساءلون قال قائل منهم اني كان لي قرين يقول انك لمن المصدقين بھئی جنتیوں کا ذکر چل رہا تھا بھئی۔ اس سے پہلے جہنمیوں کا ذکر آیا اور اس کے بعد پھر جنتیوں کا ذکر آیا۔ جی تو یہ جنتیوں کا ذکر چل رہا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں فاقبل بعضهم على بعض يتساءلون پس متوجہ ہوں گے ان میں سے بعض بعض پر يتساءلون پوچھیں گے۔ یعنی باہم ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ یعنی جنتی بیٹھے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں گے۔ فاقبل بعضهم على بعض يتساءلون پس متوجہ ہوں گے وہ ایک دوسرے کی طرف يتساءلون پوچھتے ہوئے۔ یا یوں ترجمہ کر لیں فاقبل بعضهم على بعض يتساءلون پس ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر يتساءلون پوچھیں گے ایک دوسرے سے۔ قال قائل منهم کہے گا ایک کہنے والا ان میں سے انی كان لي قرين کہ بے شک میرا ایک ساتھی تھا۔ قرین کہتے ہیں ساتھی کو، ہم نشین کو۔ قال قائل منهم انی كان لي قرين کہے گا ایک کہنے والا ان میں سے، ان جنتیوں میں سے کہے گا بھئی ایک کہنے والا انی كان لي قرين کہ بے شک میرا ایک ساتھی تھا يقول کہتا تھا انک لمن المصدقين کیا واقعی تم بھی لمن المصدقين البتہ تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟ کہ میرا ایک ساتھی تھا يقول کہتا تھا انک لمن المصدقين کیا واقعی تم بھی سچ ماننے والوں میں سے ہو؟ سچا ماننے والوں میں سے ہو؟ یعنی کہ آخرت کو، آخرت کو۔ وہ تو آخرت کو نہیں مانتا تھا، میرا ساتھی تھا وہ مجھ سے کہتا تھا بھئی انک لمن المصدقين کیا واقعی تم بھی سچ ماننے والوں میں سے ہو آخرت کو؟ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ اذا متنا وكنا ترابا وعظاما انا لممدين کیا جب ہم مر جائیں گے وكنا ترابا وعظاما اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے انا لممدين کیا یقیناً ہم جزا دیے جائیں گے، بدلہ دیے جائیں گے۔ مدین مبیع وزن پر ہے بھئی۔ اس میں مفعول کا صیغہ۔ مدین جن کو بدلہ دیا گیا ہو، جن کو بدلہ دیا جائے بھئی۔ لفظی ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ انا لممدين کیا ہم بدلہ دیے جائیں گے؟ یعنی کیا ہمیں بدلہ دیا جائے گا ہمیں؟ قال قائل منهم انی كان لي قرين کہے گا ان میں سے ایک کہنے والا کہ میرا ایک ساتھی تھا يقول کہتا تھا انک لمن المصدقين کیا واقعی تم بھی سچ ماننے والوں میں سے ہو آخرت کو؟ اذا متنا وكنا کیا جب ہم مٹی ہو کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے کیا واقعی ہمیں بدلہ دیا جائے گا؟ قال هل انتم مطلعون اب وہ جنتی یہ اس کی بات سنا رہا تھا پھر اپنے ساتھیوں سے کی طرف کو کہے گا هل انتم مطلعون اطلاع کے معنی ہوتے ہیں اوپر سے کسی کو دیکھنا بھئی اوپر کی جانب سے۔ آپ بھئی ایک اونچی جگہ پر ہیں، کوئی نیچے کی طرف ہے، آپ اس کی طرف جھانک کر جو دیکھتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ اطلاع۔ اوپر سے نیچے کی طرف کسی کو جھانک کر دیکھنا۔ قال تو وہ کہے گا هل انتم مطلعون اپنے باقی ساتھیوں سے کہے گا وہ جنتی جو یہ بات سنا رہا تھا هل انتم مطلعون کیا تم جھانک کر اسے دیکھو گے؟ کیا تم جھانک کر دیکھو گے؟ یعنی اسے، کیا تم کیا تم جھانک کر دیکھو گے؟ یعنی کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو جہنم میں؟ وہ تو آخرت کو نہیں مانتا تھا تو یقیناً کہاں ہوگا؟ جہنم میں ہوگا تو کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ تو یہ قول ہے اس جنتی کا وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا ہے بھئی۔ یا یہ فرشتے ان سے کہیں گے یا اللہ فرمائیں گے بھئی۔ کیا تم اس کو جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو وہ جو دنیا میں تمہیں کہا کرتا تھا کہ تم پر حیرت کا اظہار کرتا تھا اور کہتا تھا کیا واقعی تم آخرت کو مانتے ہو اور اور جو آخرت کا انکار کرتا تھا، جزا و سزا کا انکار کرتا تھا، کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ قال هل انتم مطلعون کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ فطلع فطلع پس وہ جھانکے گا فراه پس اس کو دیکھے گا فی سوائل جحیم جہنم کے وسط میں۔ فطلع پس وہ جھانکے گا فراه پس اس کو دیکھے گا فی سوائل جحیم جہنم کے وسط میں۔ فی سوائل جحیم جہنم کے وسط میں۔ یا یوں ترجمہ کر لیں فی سوائل جحیم جہنم کے بیچوں بیچ۔ فطلع پس وہ جھانکے گا فراه پس اس کو دیکھے گا فی سوا الجحیم جہنم کے بیچوں بیچ۔ قال وہ کہے گا بھئی یہ جنتی اب اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گا جہنمی کو۔ قال کہے گا تاللہ تا قسم کے لیے ہے بھئی تاللہ خدا کی قسم ان کتلا تر دین قریب تھا کہ البتہ تم مجھے ہلاک ہی کر دیتا۔ تو تو مجھے آخرت مجھے کہا کرتا تھا بھئی کیسے انسان زندہ ہو سکتا ہے جب مٹی ہو جائے گا، اگر میں تیری بات مان لیتا تو پھر تو نے تو مجھے ہلاک ہی کر دیا تھا، میں بھی آج تیری طرح جہنم میں پڑا ہوتا۔ کاد یکادو کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ قریب کے بھئی افعال مقاربہ میں سے آپ پڑھ چکے ہیں۔ اور تردین اردا یردی کے معنی ہیں ہلاک کرنا۔ لتردینی بھئی دیکھیے یہاں یا محذوف ہے، نون کا کسرہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ تو وہ جنتی کہے گا اس جہنمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہ خدا کی قسم قریب تھا کہ تو تو مجھے ہلاک ہی کر دیتا بھئی، میں تو برباد ہی ہو گیا تھا اگر میں نے تیری بات مان لی ہوتی، یہ تو اللہ کا فضل ہوا میں نے تیری بات نہیں مانی، تیری باتوں کی طرف توجہ نہیں کی اور چنانچہ آج اس عذاب سے میں محفوظ ہوں اور جنت کی نعمتوں میں ہوں۔ اور یہ جو ان آیا بھئی آیت کے اندر ان یاد رکھیے یہ ان مخففه من المثقلہ ہے۔ یہ آپ نے پڑھا ہے بھئی ان اور ان یہ مشدد ہیں، مسقلہ ہیں، کبھی کبھار ان میں سے ایک نون کو حذف کر لیا جاتا ہے۔ تو ان کو کیا پڑھتے ہیں؟ ان اور پھر ان کو کیا پڑھتے ہیں؟ ان۔ اس کو کہتے ہیں مخففه من المثقلہ بھئی۔ تخفیف اس میں کر دی گئی بھئی ہلکا بنا دیا گیا لفظ کو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی ان کا پڑھنا ذرا دشوار تھا، ان کا پڑھنا آسان ہے بھئی تو یہ تخفیف آ گئی اس کے اندر۔ اور جب یہ مخفف ہو تو پھر اس کے عمل کو لغو کرنا بھی جائز ہے کہ یہ عمل کرے گا ہی نہیں۔ اور پہلے تو یہ ان صرف مبتدا اور خبر پر داخل ہوتا تھا، جب یہ مخفف ہو جائے پھر یہ افعال پر بھی داخل ہو سکتا ہے بھئی، افعال پر بھی۔ جیسے یہاں دیکھیے کتا فعل پر داخل ہے۔ کادا کیا ہے بھئی؟ کادا یکادو افعال مقاربہ میں سے ہے نا، فعل ہے تو یہ اس پر داخل ہو رہا ہے۔ لیکن ہر فعل پر نہیں داخل ہوگا۔ ان افعال پر پھر یہ داخل ہو سکتا ہے جو خود آگے مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں بھئی۔ تو کادا بھی کیا چاہتا ہے؟ ایک اسم اور ایک خبر چاہتا ہے بھئی۔ قال تاللہ ان کتلا تر دین وہ کہے گا خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک ہی کر دیتا ولو لا نعمت ربی لکن تو من المحضرین اور اگر نہ ہوتی میرے پروردگار کی نعمت، یعنی میرے پروردگار کا انعام نہ ہوتا یا یعنی اگر میرے پروردگار کا فضل نہ ہوتا لکن تو من المحضرین تو البتہ میں بھی حاضر کیے ہوؤں میں سے ہوتا یعنی عذاب کے اندر۔ ولولا نعمت ربی لكنتم من المحضرين اور اگر میرے پروردگار کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی عذاب میں حاضر کیا ہوا حاضر کیے ہوؤں میں سے ہوتا۔ افمان نحن بميتين۔ اب پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوگا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی جنتی جنت میں ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں، وہیں پر یہ سارا ماجرہ پیش آ رہا ہے۔ اب اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوگا بھئی۔ توجہ ہوگی اس کی اچانک کہ بھئی جنت میں تو اب کبھی موت آنی ہی نہیں اللہ تعالی فرماتے ہیں تو خوشی سے، سرور کی وجہ سے کتنی عظیم خوشی بھئی نعمتیں اتنی نعمتیں مل گئیں اور پھر اس کے بعد کبھی ان نعمتوں نے ختم ہی نہیں ہونا۔ موت نے کبھی آنا ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کیا سرور ہوگا، کیا خوشی ہوگی جسے لفظوں میں ہی بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی، کوئی پریشانی غم اس کے بعد کبھی آنا ہی نہیں بھئی۔ تو وہ متوجہ ہو کر اپنے ساتھیوں کو کہے گا افمان نحن بميتين کیا ہم پھر مریں گے نہیں؟ کیا ہم پر پھر موت نہیں آئے گی۔ الا موتتنا الاولى سوائے ہماری پہلی موت کے یعنی وہ جو دنیا میں تھی۔ کیا اس دنیا کی پہلی موت کے علاوہ اب ہم پر موت نہیں آئے گی۔ جو ایک دفعہ آ چکی ہے اس کے بعد کیا واقعی ہم پر اب پھر کبھی موت نہیں آئے گی، خوشی کی وجہ سے اپنے ساتھیوں کو کہے گا۔ وما نحن بمعذبين اور کیا ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا یعنی اب کبھی عذاب کا آگے خطرہ ہی نہیں ہے بھئی، خوشی کی وجہ سے وہ کہہ رہا ہے بھئی۔ افمان نحن بميتين کیا پس ہم نہیں مریں گے۔ الا موتتنا الاولى مگر وہ جو ہماری پہلی موت تھی وما نحن بمعذبين۔ اس کا رب بھی اسی ماں پر ہے ما نحن بم۔ اور کیا ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ ان هذا لهو الفوز العظیم۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ افمان نحن بميتين۔ کیا پھر ہم نہیں مریں گے۔ الا موتتنا الاولى مگر۔ وہ ہماری پہلی موت۔ وما نحن بمعذبين۔ اور کیا ہم۔ کیا ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ ان هذا لهو الفوز العظیم یقیناً یہ البتہ عظیم کامیابی ہے۔ لمثل هذا فلیعمل العاملون۔ اس قسم کی کامیابی کے لیے فلیعمل العاملون عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ تو اللہ فرماتے ہیں ان هذا لهو الفوز العظیم یقیناً یہی البتہ بڑی عظیم کامیابی ہے لمثل هذا فلیعمل العاملون۔ هذا اشارہ کس کی طرف؟ فوز کی طرف۔ اس جیسی کامیابی کے لیے، کے لیے فلیعمل العاملون عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ أذلك خير نزلا ام شجرة الزقوم۔ کیا یہ بہتر ہے؟ نزل کہتے ہیں مہمان نوازی کو بھئی۔ أذلك خير نزلا۔ کیا یہ بہتر ہے با اعتبار مہمان نوازی کے ام شجرة الزقوم یا زقوم کا درخت۔ کیا یہ بہتر ہے مہمان نوازی کے اعتبار سے یہ جو ہم نے پیچھے نعمتیں ذکر کر دیں جنتیوں کی ام شجرة الزقوم یا۔ زقوم کا درخت بھئی۔ علماء نے بعض نے لکھا کہ نزل۔ مہمان نوازی مہمان کے آنے پر جو ابتدا میں چیزیں اس کے سامنے پیش کی جائیں یہ نزل ہے بھئی۔ یعنی ابتدائی آؤ بھگت جو ہوتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ نزل۔ تو یہ جو پیچھے ذکر ہوا جنت کی نعمتیں ذکر ہوئیں، وہ۔ ان پر شراب کے جام پیش کیے جائیں گے اور دودھ سے زیادہ سفید۔ اور سراپا لذت جو ہوگی ایسی شراب۔ اور حوریں ہیں ان کی اور پھر وہ اسی طرح یہ نعمتیں جو ہیں یہ، یعنی ابتدا کی یہ نعمتیں ہیں تو آگے کی کیا ہوں گی؟ خود ہی اس سے اندازہ لگا لیجیے بھئی، کیا کیا نعمتیں ہوں گی وہ اللہ ہی جانتے ہیں بھئی۔ أذلك خير نزلا ام شجرة الزقوم کیا یہ بہتر ہے مہمان نوازی کے اعتبار سے ام شجرة الزقوم یا زقوم کا درخت۔ زقوم ایک درخت ہے بھئی۔ جہنم کے اندر۔ جہنم کے اندر۔ آگے تفصیل اسی کی آ رہی ہے۔ انا جعلناها فتنة للظالمين یقیناً ہم نے بنایا ہے اس درخت کو آزمائش ظلم کرنے والوں کے لیے، ہم نے اس درخت کو ظلم کرنے والوں کے لیے آزمائش بنا دیا ہے۔ دنیاوی اعتبار سے بھی آزمائش ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی آزمائش ہے۔ دنیاوی اعتبار سے آزمائش ہے بھئی۔ ان کفار کے لیے کہ ان کے سامنے اس کو ذکر کیا گیا تو مانتے ہی نہیں ہیں بھئی۔ کہ جہنم میں بھئی آپ کہتے جہنم تو آ ہی گیا ہے درخت آگ کے اندر کیسے ہو سکتا ہے؟ آگ تو درخت کو جلا دیتی ہے۔ ختم کر دیتی ہے۔ تو دنیاوی اعتبار سے اس کو تسلیم کرنا بھی ان کے لیے ایک آزمائش ہے بھئی اور اخروی اعتبار سے تو ہے ہی آزمائش کہ۔ آگے تفصیل آ رہی ہے کتنا کتنی بڑی آزمائش ہے۔ ان کے لیے کتنی تکلیف کا باعث ہے۔ انا جعلناها فتنة للظالمين یقیناً اس درخت کو ہم نے آزمائش بنایا ہے ظلم کرنے والوں کے لیے، انها شجرة یقیناً وہ ایک درخت ہے تخرج جو نکلتا ہے فی اصل الجحیم جہنم کی تہہ میں، جہنم کی جڑ میں۔ وہ ایک درخت ہے کہاں سے نکلتا ہے؟ جہنم کی جڑ سے یعنی جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے، وہاں۔ یعنی۔ وہاں سے جڑیں اس کی وہاں ہیں، وہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ اور تو جڑیں وہاں ہوں گی اور اس کی شاخیں وہ پھیلی ہوئی ہوں گی جہنم میں بھئی۔ انها شجرة تخرج فی اصل الجحیم یقیناً وہ ایک ایسا درخت ہے جو نکلتا ہے جہنم کی تہہ سے۔ طلعها كانہ رؤوس الشياطين۔ طلعها اس کے خوشے جو ہیں، طلعن خوشے کو کہتے ہیں، خوشہ۔ خوشہ جانتے ہو کہ نہیں بھئی۔ خوشہ بھئی وہ پھولوں کا جو گچھا ہو بھئی، پھولوں کا۔ گچھا ہو، اکٹھا اس کو کیا کہیں گے؟ خوشہ یا اسی طرح جو پھل وغیرہ کا جو گچھا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ خوشہ کہتے ہیں بھئی۔ اب معنی سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا۔ یا اسی طرح یہ پھل کو بھی کہتے ہیں بھئی۔ طلعن کسے کہتے ہیں؟ پھل کو بھی کہتے ہیں۔ طلعها اس کا خوشہ جو ہے کانہ رؤوس الشیاطین گویا کہ وہ شیطانوں کے سر ہیں۔ اس کا خوشہ کس طرح ہے؟ جیسے کہ شیاطین کے۔ سر ہوتے ہیں بھئی شیاطین کے۔ عرب کے ہاں جب کوئی۔ چیز انتہائی۔ قبیح اور مکروہ صورت والی ہوتی۔ تو اسے وہ شیطان کے ساتھ تشبیہ دیتے تھے، اسے شیطان کہتے تھے بھئی کہ یہ تو کیا ہے؟ شیطان ہے بھئی جو انتہائی قبیح، انتہائی مکروہ شکل والی چیز ہوتی بھئی۔ تو اللہ فرما رہے ہیں طلعها کانہ رؤوس الشیاطین اس کے خوشے جو ہیں گویا کہ وہ شیطانوں کے۔ سر ہیں۔ اسی طرح۔ سانپ جو ہے اس کو بھی شیطان کہا جاتا ہے بھئی۔ تو بعض علماء نے اس کا پھر یہ ترجمہ کیا کہ اس کے خوشے جو ہیں گویا کہ سانپوں کے سر ہیں بھئی یعنی سانپوں کے پھن ہیں۔ ان کے خوشے کس کی طرح ہیں جیسے سانپ کے۔ پھن ہوتے ہیں بھئی۔ تو شجرہ زقوم کیا ہے؟ ایک درخت ہے جو جہنم میں پیدا ہوتا ہے، جہنم میں اگتا ہے۔ جہنم کی تہہ سے، اس کی جڑ سے اور اللہ فرما رہے ہیں اس کے خوشے۔ اس کے پھل پھول کس کی طرح ہیں۔ وہ شیطانوں کے سر کی طرح ہے اور میں نے بتایا کوئی چیز جو عرب کے ہاں انتہا انتہائی قبیح اور مکروہ صورت والی ہوتی تو اسے کس سے تشبیہ دیتے؟ شیطان کے ساتھ بھئی۔ شیطان کے ساتھ۔ تو یہ شجرہ زقوم کتنی مکروہ صورت والا اس کے خوشے اور اس کے پھل ہوں گے۔ کتنی مکروہ صورت والے اللہ نے ان کو بنایا ہوگا کہ اسی سے آپ اندازہ لگا لیں کہ خالقِ ارض و سما اس کو رؤوس الشیاطین فرما رہے ہیں بھئی۔ تو کتنی مکروہ صورت ہوگی جو ہمارے تصور سے بھی بالا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ چلیے بس بھئی۔ واللہ اعلم بحقیقت الكلام۔