اعوذ بالﷲ من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم إلا عباد الله المخلصين أولئك لهم رزق معلوم فواكه وهم مكرمون إلا عباد الله المخلصين مگر الله کے وہ بندے جو خالص کیے گئے ہیں اللہ کے وہ بندے جو مخلصین ہیں جو خالص کیے گئے ہیں یعنی اللہ کے چنے ہوئے بندے بھئی إلا عباد الله المخلصين مگر الله کے چنے ہوئے بندے بھئی اس سے پہلے اس سے پہلے کفار کا ذکر ہو رہا تھا جنہیں جنہیں عذاب دیا جائے گا اس کے بعد اب اللہ کے نیک بندوں کا ذکر آ گیا جنہیں جنت اور جنت کی نعمتیں دی جائیں گی بھئی إلا استثناء کے لیے آتا ہے بھئی إلا مگر اللہ کے وہ بندے جو چنے ہوئے ہیں یعنی اللہ کے مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے اللہ کے برگزیدہ بندے برگزیدہ کا بھی وہی معنی چنے ہوئے اللہ کے برگزیدہ بندے یہ استثناء ہے یہ جو پیچھے آیا تھا انکم لزائق العذاب یقیناً تم عذاب البتہ دردناک عذاب کو چکھو گے مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے تو یہ اس اس سے استثناء ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے مستثنیٰ متصل بھئی جو پہلے تو داخل ہو مستثنیٰ منہ میں اور پھر کیا کیا جائے اس کو الا کے ذریعے نکال لیا جائے اور یہ تو ان میں پہلے ہی داخل نہیں ہیں بھئی وہ عذاب کو چکھنے والوں میں داخل ہی نہیں ہیں تو یہ مستثنیٰ منقطع ہوا إلا عباد الله المخلصين مگر الله کے چنے ہوئے بندے اولئک لهم رزق معلوم اولئک یہ لوگ جو ہیں لہم رزق معلوم ان کے لیے معلوم رزق ہوگا ان لوگوں کے لیے معلوم رزق ہوگا معلوم رزق یعنی بھئی جس کا جس کا علم ہو چکا ہے باقی صورتوں میں بعض بعض جگہ بیان کر دیا گیا بھئی قرآن کے اندر باقی جگہوں پر ان کا ذکر کر دیا گیا تو إلا عباد الله المخلصين مگر الله کے چنے ہوئے بندے اولئک لهم رزق معلوم ان لوگوں کے لیے معلوم رزق ہوگا فواكه یعنی کہ میوے یعنی کہ میوے یہ بدل ہے رزق معلوم سے یہ بدل ہے اور آپ جانتے ہیں بدل مبدل منہ کا اعراب ایک ہوتا ہے تو رزق معلوم یہ مرفوع تھا تو فواكه بھی کیا آیا مرفوع آیا البتہ وہ غیر منصرف ہے بھئی کیونکہ جمع منتہی الجنوع ہے بھئی جمع منتہی الجنوع تو اس لیے اس پر تنوین نہیں آئی بھئی اور فاکهہ یہ جمع ہے فاکهہ کی بھئی فاکهة کی فاکهہ اس پھل کو کہا جاتا ہے جس کو صرف لذت کے طور پر کھایا جائے بھئی غذا کے طور پر نہیں بلکہ صرف لذت کے طور پر کھایا جائے بھئی جنت کے میں جو پھل ہوں گے یا اسی طرح جو کھانے کی چیزیں ہوں گی وہ صرف لذت کے طور پر ہوں گی جسم کی حفاظت کے لیے نہیں بھئی کیونکہ جسم ایسا انسان کا جو جسم ہے وہ ابدی بنا دیا جائے گا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ابدی ہوگا بھئی معنی سمجھ میں آیا بھئی تو یہاں تو ہم کھاتے ہیں اپنی بقا کے لیے اگر نہیں کھائے گا کوئی شخص تو ختم ہو جائے گا بھئی لیکن وہاں پر ایسا نہیں وہاں پر جتنے کھانے جتنی نعمتیں ہوں گی وہ سب لذت کے لیے ہوں گی بھئی جنت کی عجیب نعمتیں ہوں گی بھئی عجیب پھل ہوں گے جن کی حقیقت اللہ ہی جانتے ہیں انسان جو چاہے گا وہ اس کو وہاں ملے گا ایک پرندہ اڑتا ہوا جا رہا ہو مثلاً آپ کا دل چاہے گا کہ کاش اس کا گوشت ہوتا میں اس وقت کھا لیتا آپ کے دل میں تمنا آئے گی فورا ہی وہ پرندہ نیچے گرے گا پلیٹ میں تیار ہو کر ایک دم آپ کے سامنے آ جائے گا بھئی پکا ہوا تیار بھئی آپ اس کو کھا لیں گے اور ہڈیاں بچ گئیں جب آپ کھا لیں گے پھر اس پر اسی طرح گوشت بنے گا پر لگیں گے ایک دم وہ اڑ کر چلا جائے گا بھئی سمجھ میں آیا بھئی عجیب نعمتیں ہوں گی وہاں کی اور یہاں تو آپ کھانا کھاتے ہیں کھانا کھایا آپ کا پیٹ بھر گیا اس کے بعد اعلیٰ سے اعلیٰ چیز بھی آپ کی پسندیدہ ترین چیز بھی آپ کے سامنے رکھ دی جائے آپ کہتے ہیں نہیں بھئی اس کو اٹھاؤ سامنے سے میں بالکل نہیں کھا سکتا سمجھ میں آیا بھئی دل ہی نہیں کرتا پھر کھانے کو بھئی حالانکہ پسندیدہ ترین چیز ہوتی ہے جنت کے اندر ایسا نہیں بھئی جنت میں آپ کے سامنے مثلاً بیسوں قسم کے کھانے برتنوں میں پیش ہوں گے اور آپ پہلے سے کھانا شروع کریں گے آخر والے برتن تک کھاتے چلے جائیں گے لذت میں کوئی کمی نہیں آئے گی بھئی اسی طرح لذت جیسے بھوک کے اندر خوب لذت لذیذ کھانا آپ کو معلوم ہوتا ہے تو وہاں سب نعمتیں بطوریہ لذت کے ہوں گی جسم کی بقا کے لیے نہیں ہوں گی بھئی اولئک لهم رزق معلوم فواكه ان لوگوں کے لیے معلوم رزق ہوگا یعنی کہ میوے وھم مکرمون اور ان کا اکرام کیا جائے گا مکرم جس کا اکرام کیا جائے جس کی عزت کی جائے وھم مکرمون اور ان کا اکرام کیا جائے گا ان کی عزت کی جائے گی في جنات النعیم نعمتوں کی جنت میں بھئی نعمتوں کی نعمتوں کی جنت میں ان کی عزت کی جائے گی على سرر متقابلين سرر جمع ہے سریر کی تخت بھئی تخت على سرر متقابلين تختوں پر متقابلین متقابل ایک دوسرے کی طرف رخ کیے ہوئے متوجہ ہوئے یعنی آمنے سامنے ایک دوسرے کی طرف رخ کیا ہوگا یعنی آمنے سامنے على سرر متقابلين تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے جنت میں بھی آپ کی اسی طرح مجلسیں ہوں گی بھئی تختوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے بھئی على سرر متقابلين تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے یطاف علیهم بکاس من معين يطاف علیهم گھمائے جائیں گے ان پر گھمائے جائیں گے یعنی پھرائے جائیں گے ان پر پھرائے جائیں گے ان پر بکاس کیا چیز جام بھئی کاس کس کو کہتے ہیں جام بھئی کاس جام کو کہتے ہیں لیکن جب وہ شراب سے بھرا ہوا ہو اس وقت اس کو کاس کہا جاتا ہے بھئی جنتی شراب پیش کی جائے گی بھئی کاس جام لیکن کون سا جام جو بھرا ہوا ہو بعضوں نے کہا کہ شراب کی تخصیص نہیں ہے کوئی بھی جام جو مشروب سے بھرا ہوا ہو پھر اس وقت اس کو کاس کہتے ہیں خالی ہو تو پھر کاس نہیں کہتے خالی ہو تو پھر کاس نہیں کہتے بھئی تو بھرے ہوئے جام ہوں گے من معين معین معین اصل میں کہتے ہیں جاری پانی کو بہتے ہوئے پانی کو مراد یہاں شراب ہے بھئی پھر گھمائے جائیں گے یعنی پھرائے جائیں گے ان پر بہتی ہوئی شراب کے بھرے ہوئے جام بہتی ہوئی شراب کے بھئی جنت میں پانی کی بھی نہر اور دودھ کی بھی شراب کی بھی اور شہد کی بھی اور وہ ان کی کیا کیفیت ہوگی وہ اللہ ہی جانتے ہیں اور یہ آپ کی طرح چھوٹی موٹی نہریں نہیں بھئی ایک ایک نہر کا یہ عالم ہوگا کہ اگر اس کو دنیا اس پوری دنیا کو اس کے اندر پھینکا جائے تو یوں لگے جیسے ایک بڑے دریا میں کنکر پھینکا ہو آپ نے بھئی تو وہاں پر وہ شراب پیش کی جائے گی۔ بیضاء سفید سفید جو کہ سفید ہوگی یہ صفت ہے اسی خمر کی بھئی وہ شراب جو بہتی ہوگی بیضاء سفید ہوگی لذة للشاربين بھئی لذ اور لذیذ دونوں کا ایک معنی ہے لذ اور لذیذ اور اسی سے لذ بمانی لذیذ کے اسی کے ساتھ تانیث کے لیے تا ملا دی جائے تو کیا بن جائے گا لذت جیسے ضارب اور ضاربۃ بھئی اس میں تا ملا کر مونث کے لیے تا تو خمر بھی چونکہ مونث ہے عربی میں مونث سماعی ہے تو اس کے لیے دیکھو صفت بیضاء یہ بھی مونث لائی گئی بھئی بیضاء مونث ہے کس کی ابیض کی اور لذ کی تانیث کیا ہے لذت تو بمانی لذیذ کے یہ بھی مونث صفت لائی گئی تو بیضاء یہ بھی صفت ہے اور خمر کی اور لذت یہ بھی صفت ہے اور دونوں مجرور ہیں لیکن بیضاء پر کسرہ نہیں آیا کیونکہ یہ غیر منصرف ہے بھئی بیضاء سفید ہوگی لذت لذیذ ہوگی لذت والی ہوگی للشاربین پینے والوں کے لیے پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی بیضاء سفید ہوگی لذت للشاربین پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی یہ ایک معنی بھئی يطاف علیهم بکاس من معين بيضاء لذت للشاربين پھرائے جائیں گے ان پر شراب کے جام بھرے ہوئے شراب کے جام من معين بہتی ہوئی شراب میں سے بہتی ہوئی شراب کے جام جو ہیں ان پر گھمائے جائیں گے جو کہ سفید ہوگی لذت دینے والی لذیذ ہوگی پینے والوں کے لیے معنی سمجھ میں آیا بھئی یا لذتاً اس کو وہ لذ کی تانیث نہ بنائیں یہ مصدر ہے بھئی لذت مصدر بھی آتا ہے لذت مصدر بھی آتا ہے تو مصدر کا اطلاق کسی چیز پر بعض اوقات بطور مبالغہ کے کیا جاتا ہے جیسے آپ کے انہیں پڑھا ہوگا بھئی زید عدل ہونا تو چاہیے زید عادل لیکن کبھی کیا کر دیتے ہیں مصدر کا حمل ہی ذات پر کر دیا جاتا ہے زید عدل یہ بتلانے کے لیے کہ زید سراپا عدل ہے عادل کا تو کیا معنی تھا زید عادل زید عدل کرنے والا ہے لیکن جب مصدر کا حمل کیا تو مبالغہ آ گیا اس کے اندر بھئی زید عدل زید عدل کرنے والا نہیں زید تو سراپا ہی عدل ہے بھئی زید تو سراپا عدل ہے تو یہاں بھی لذتا للشاربين جو کہ وہ شراب جو ہے وہ سراپا لذت ہوگی پینے والوں کے لیے یعنی اتنی لذت ہوگی اس میں کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا معنی سمجھ میں آ گیا بھئی بیضاء سفید ہوگی لذتا للشاربين سراپا لذت ہوگی پینے والوں کے لیے لا فيها غول ولا هم عنها ينزفون غول کہتے ہیں شراب کے بعد جو سر درد ہو سر کی گرانی ہو اس کو غول کہتے ہیں بھئی یا اسی طرح شراب کے بعد جو نشہ ہو اس کو بھی غول کہا جاتا ہے تو شراب پینے سے جو سر درد ہو اسے بھی کہتے ہیں اسے بھی غول کہتے ہیں لا فيها غول نہ تو اس شراب کے اندر سر درد ہوگا ولا هم عنها ينزفون اور نہ وہ اس سے بہکیں گے بھئی دنیاوی شراب کے اندر کئی نقصانات بھئی کئی خرابیاں ہیں ایک خرابی تو یہ کہ اس کے پینے کے بعد سر میں گرانی محسوس ہوتی ہے دوسری خرابی یہ کہ اس کے پینے کے بعد انسان مدہوش ہو جاتا ہے اس کی عقل ہی چلی جاتی ہے اسے کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں کر رہا بھئی نیز تیسری خرابی یہ اس کے پینے سے قے آتی ہے چوتھی خرابی یہ کہ اس کی وجہ سے بدن کو بھی نقصان ہوتا ہے بھئی تو کئی نقصانات ہیں دنیاوی شراب کے لیکن جنتی شراب میں ان میں سے کوئی چیز نہیں ہوگی بھئی ان خرابیوں میں سے ان میں کوئی خرابی نہ ہوگی چنانچہ اللہ فرما رہے ہیں لا فيها غول نہ تو اس سے سر درد ہوگا جو شراب کی وجہ سے جو ہوتا ہے وہ سر درد وہ اس میں نہیں ہوگا ولا هم عنها ينزفون اور یہ نہ یہ اس سے بہکیں گے بھئی یعنی ان کی عقلیں بھی نہیں زائل ہوں گی بھئی عقلیں بھی زائل نہیں ہوں گی معنی سمجھ میں آ گیا بھئی وعندهم قاصرات الطرف عين جی یہ اب حوروں کا تذکرہ آ گیا بھئی وعندهم قاصرات الطرف عين اور ان کے پاس قاصرات الطرف طرف کہتے ہیں آنکھ کو آنکھ قصر کا معنی بند کرنا بھئی روکنا یعنی مراد ہے جھکانا بھئی عین جمع ہے عیناء کی بھئی عیناء جیسے بیضاء تھا نا اسی طرح عیناء اس کی جمع ہے عین اور عیناء کہتے ہیں بڑی آنکھوں والی بھئی جو عورت جس کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں اس کو کیا کہتے ہیں عیناء بھئی جو حسن کی علامت ہے بھئی تو وہ حوریں کیسی ہوں گی بڑی آنکھوں والی ہوں گی وعندهم اور ان کے پاس قاصرات الطرف عين نگاہ جھکانے والی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی اور ان کے پاس نگاہ جھکانے والی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی قاصرات الطرف بھئی نگاہ جھکانے والی تو قصر کا کیا معنی بند کرنا جھکانا بھئی اس کا معنی نگاہ کو جھکانے والی ہوں گی یا تو اس کا حقیقی معنی مراد یہی معنی مراد ہے یعنی شرم اور حیا ہوگی ان میں اتنی شرم اور حیا کہ اس کی وجہ سے وہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں گی بھئی یا معنی یہ کہ نگاہ کو جھکانے والی ہوں گی یعنی اپنے خاوندوں سے اتنی محبت کرنے والی ہوں گی اتنی وفادار ہوں گی کہ ان کے علاوہ کسی کی طرف دیکھیں گی نہیں بالکل بھئی یہ معنی ہوا نگاہ کو جھکانے والی ہوں گی یعنی کسی اور کی طرف دیکھنے والی نہیں ہوں گی بعضوں نے کہا نگاہ کو جھکانے والی یعنی اپنے خاوندوں کی نگاہ کو جھکانے والی ہوں گی یعنی ان میں اتنا حسن و جمال ہوگا کہ خاوند کسی اور کی طرف کبھی دیکھ ہی نہیں پھر صورت سمجھ میں آ گئی بھئی وعندهم قاصرات الطرف عين اور ان کے پاس نگاہ جھکانے والی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی كانهن بيض مكنون گویا کہ وہ چھپائے ہوئے انڈے ہیں بیض اس میں جنس ہے اس کا مفرد بیضۃ آتا ہے انڈے کو کہتے ہیں مکنون چھپائے ہوئے پوشیدہ کیے ہوئے جس طرح انڈا جو ہے اس کو پرندہ اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتا ہے اور وہ ہر قسم کے گرد و غبار سے صاف ستھرا ہوتا ہے وہ بھی انہی کی طرح ہوں گی تو عرب جو ہیں یہ حسن و جمال کے اندر رنگ کے اندر عورتوں کی اور صفا عورتوں کی تشبیہ انڈوں سے دیا کرتے تھے بھئی اور بالخصوص شتر مرغ کے انڈے سے کہ وہ بڑا خوبصورت ہوتا ہے صاف ستھرا اور اس میں سفیدی کے ساتھ کچھ زردی کا رنگ ہوتا ہے انڈے بالکل سفید نہیں ہوتا بلکہ کچھ سفیدی کے ساتھ زر رنگ ملا ہوا ہوتا ہے اور یہ رنگ عورتوں میں ان کے نزدیک سب سے پسندیدہ رنگ تھا کہ سفیدی کے ساتھ زردی کی آمیزش ہو جیسے مردوں کے اندر سب سے پسندیدہ رنگ جو تھا ان کے نزدیک کہ سفیدی کے اندر کچھ سرخی کی آمیزش ہو گئی بالکل سفید رنگ ہو عورت کا ہو یا مرد کا ہو یہ پسندیدہ نہیں تھا بلکہ پسندیدہ کیا ہے عورت کے رنگ میں کیا ہو کچھ زردی ہو گئی اور مرد کے رنگ میں کچھ سرخی بھئی تو یہاں تشبیہ دی گئی كانهن بيض مکنون گویا کہ وہ انڈے ہیں چھپائے ہوئے صفائی کے اندر بھئی کس چیز میں صفائی کے اندر یا رنگ کے اندر بھئی چلیے بس بھئی ھذا هو المراد واللہ اعلم بحقيقة الكلام