اعوذ بالله من الشیطان الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم۔ الذی جعل لکم من الشجر الاخبر ناراً فاذا انتم منه توقدون۔ اولیس الذی خلق السماوات والارض بقادر علی ان خلق مثلہم، بلی وھو الخلاق العلیم۔ انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون۔ الذی جعل لکم، وہ ذات جس نے بنایا تمہارے لیے من الشجر الاخبر ناراً، سرسبز درخت سے آگ، آگ کو۔ فذا انتم منہ توقدون، پس، اچانک تم اس سے آگ جلاتے ہو۔ منہ کی ہا ضمیر کس پر عائد؟ شجر اخضر کو۔ پس، اچانک تم اب اس سے آگ جلاتے ہو۔ یعنی فوراً تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔ فوراً تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔ الذی جعل لکم، دوبارہ سنیے ترجمہ، الذی جعل لکم من الشجر الاخبر ناراً، وہ ذات جس نے بنا دی تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ۔ فذا انتم منہ توقدون، پس فوراً تم، فذا انتم منہ توقدون، پس فوراً تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔ اور قد یقد کے معنی آگ جلانا بھئی۔ بھئی دو معنی میں نے کل بیان کر دیے تھے۔ بعضوں نے بیان کیا کہ یہ درخت جو ہیں، یہی سرسبز درخت، یہ جب خشک ہو جاتی ہیں تو اسی کی لکڑی جو ہے اس کو بطور ایندھن کے استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے آگ جلاتے ہیں بھئی۔ اور بعض علماء نے ذکر کیا کہ عرب کے اندر بھئی دو درخت تھے، مرخ اور عافار، ان کی شاخوں کو سرسبز شاخیں ہوتیں، ان کو آپس میں رگڑتے تو اس سے آگ نکلتی تھی بھئی، اس سے آگ جلایا کرتے تھے۔ یا اسی طرح جیسے بانس کے درخت کے بارے میں آتا ہے کہ تیز ہوا چلے تو اس کی شاخیں جب آپس میں رگڑ کھاتی ہیں تو اس سے آگ پیدا نکلتی ہے، بعض اوقات اسی سے جنگل میں آگ بھی لگ جاتی ہے بھئی۔ جی۔ نئی تفسیر بھئی، میں ذکر کر رہا تھا کہ قرآن کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے، لا تنقضی عجائبہ۔ نئے نئے نکات گزرتے زمانے کے ساتھ نئے نئے نکات کا پتہ چلتا ہے قرآن کے اندر بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ، کہ وہ ذات جس نے تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ بنائی اور اب فوراً تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔ بھئی دیکھیے، انسان کے زندہ رہنے کے لیے آکسیجن گیس ضروری ہے۔ ہوا کے اندر آکسیجن گیس شامل ہوتی ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں تو پھیپھڑوں کے اندر وہ آکسیجن گیس استعمال ہو جاتی ہے اور باقی اسی طرح ہوا سانس کے ذریعے ہم نکال دیتے ہیں۔ اور جو استعمال آکسیجن ہوتی ہے اور پھر وہ جسم کے اندر کاربن ڈائی آक्साइड ایک گیس ہے، اس میں بدل جاتی ہے اور تو انسان یعنی جب سانس لیتا ہے تو اس میں استعمال ہوتی ہے آکسیجن گیس۔ اور جو سانس باہر نکالتا ہے، اس میں پھر کاربن ڈائی آक्साइड گیس زیادہ ہوتی ہے جو بدن سے نکلی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ایک نظام اللہ نے چلا رکھا ہے بھئی، جہاں آکسیجن نہیں ہوگی وہاں انسان چاہے ہوا موجود ہو لیکن آکسیجن نہ ہو اس میں تو انسان سانس نہیں لے سکے گا اور فوراً مر جائے گا وہاں پر بھئی۔ فوراً مر جائے گا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آپ پڑھتے رہتے ہیں بھئی کہ کسی نے مثلاً کمرے میں کوئلے جلائے، آگ جلائی اور سو گیا اور صبح پھر وہ مر چکے ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہ آکسیجن گیس کمرے میں ختم ہو جاتی ہے اور جل جب کوئی آگ جو جلتی ہے، اس آگ کے جلنے میں بھی آکسیجن گیس استعمال ہوتی ہے۔ اگر آکسیجن گیس نہ ہو تو آگ ہی نہ جلے بھئی۔ تو آگ اس میں جلتی ہے اور پھر وہ اس میں بھی پھر وہ آکسیجن کاربن ڈائی آक्साइड میں بدلتی ہے بھئی جو زہریلی گیس ہے انسان کے لیے، جانوروں کے لیے۔ تو وہ کمرے کے اندر پھر وہ آکسیجن ساری استعمال ہو جاتی ہے جلنے کے عمل میں اور کاربن ڈائی آक्साइड زہریلی گیس وہ بھر جاتی ہے، چنانچہ کمرہ رات بھر بند رہے تو پھر وہ لوگ ہی اندر مر جاتے ہیں بھئی، نیند کے اندر پتہ بھی نہیں چلتا بھئی۔ یہ تو آپ پڑھتے ہی ہوں گے اخبارات وغیرہ میں بھئی۔ تو اور یہ جو پودے ہیں، پودے، اللہ نے ایسا نظام بنایا کہ انسان آکسیجن گیس استعمال کرتا ہے تو کاربن ڈائی آक्साइड خارج کرتا ہے، تو یہ تو آکسیجن تیزی سے استعمال ہوتی چلی جائے بھئی ہم ہر وقت سانس لیتے رہتے ہیں اور کاربن ڈائی آक्साइड بڑھتی چلی جائے۔ اللہ نے اس کے لیے عجیب نظام بنایا بھئی، عجیب کہ یہ جو پودے ہیں، پودے، یہ کاربن ڈائی آक्साइड کو استعمال کرتے ہیں اور آکسیجن کو خارج کرتے ہیں۔ چنانچہ ہم جو کاربن ڈائی آक्साइड خارج کرتے ہیں وہ ان کے کام آتی ہے اور وہ جو آکسیجن خارج کرتے ہیں وہ پھر ہمارے کام آتی ہے بھئی۔ تو یہ اللہ کا عجیب نظام ہے بھئی۔ اور یہی آکسیجن میں نے ذکر کیا آگ کے جلنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر آکسیجن گیس نہ ہو آپ پھر آگ جلانا چاہیں آگ نہیں جلے گی بھئی۔ آگ نہیں جلے گی۔ اور اس کا آپ تجربہ بھی کر سکتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی موم بتی جلائیں اور اس کے اوپر آپ ایک جگ کو الٹا شیشے کے جگ کو الٹا کر رکھ دیں۔ آپ دیکھیں گے آدھے منٹ کے اندر اندر وہ موم بتی جلتے جلتے ایک دم بجھ جائے گی بھئی۔ خود مشاہدہ کر لیں گے آپ۔ اب دیکھیے، بھئی کس نے بجھایا، اس طرح بجھے گی تیزی سے جیسے کوئی خود بجھایا پھونک مار کر وغیرہ بھئی۔ تو یہ دراصل وہ جگ جب آپ نے الٹا دیا بند کر دیا تو ہوا ساری اندر بند ہو گئی، اس میں کچھ آکسیجن بھی تھی۔ تو جب وہ جلنے لگی موم بت جل رہی ہے موم بتی، وہ آکسیجن تیزی سے استعمال ہوتی چلی گئی اور وہ ختم ہو گئی اور وہ ختم ہوتے ہی پھر وہ آگ کیا ہو جاتی ہے؟ بند ہو جاتی ہے، بجھ جاتی ہے بھئی۔ تو دیکھیے، یہ جو آگ جلنے کے لیے آکسیجن ضروری اور یہ آکسیجن کہاں سے آتی ہے؟ سرسبز درختوں سے، سرسبز پودوں سے۔ تو اسی کا ذکر ہو رہا ہے، الذی جعل لکم من الشجر الاخبر ناراً، وہ ذات جس نے بنائی تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ، فاذا انتم منہ توقدون، پس فوراً تم اس سے آگ جلا لیتے ہو بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس میں گویا آکسیجن گیس جو آگ کے جلنے کے لیے ضروری ہے اور جو سرسبز پودوں سے حاصل ہوتی ہے، اس کی طرف اشارہ ہے واضح بھئی۔ معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی، تو اب یہ معنی کیا جائے بھئی تو یہ معنی اس میں عموم آگیا۔ پہلے تھا صرف وہ دو چار درخت بھئی، وہ مرخ، عافار اور اسی طرح بانس وغیرہ کے درخت، ان سے آگ جلایا کرتے تھے وہ مراد۔ اب معلوم ہوا، اب آکر سائنس نے بتلایا کہ نہیں بھئی، ہر سرسبز درخت اسی طرح ہے، اس سے آکسیجن نکلتی ہے اور اس آکسیجن ہی سے کیا کرتے ہیں ہم؟ اس کی مدد سے آگ جلاتے ہیں۔ یہ معنی ہے، الذی جعل لکم من الشجر الاخبر ناراً، وہ ذات جس نے بنایا تمہارے لیے سرسبز درخت سے آگ کو، فاذا انتم منہ توقدون، پس فوراً تم اس سے آگ جلا لیتے ہو بھئی۔ اولیس الذی خلق السماوات والارض بقادر علی ان خلق مثلہم، بلا وھو الخلاق العلیم۔ اولیس الذی، کیا نہیں وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو بقادر، کہ وہ قادر ہو۔ یعنی کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، کیا وہ قادر نہیں ہے؟ علی اس بات پر، ان یخلق مثلہم، کہ پیدا کر دے ان کے مثل بھئی۔ ان کے مثل، ان جیسوں کو۔ بھئی یہ کفار انکار کرتے ہیں، کہتے ہیں ہڈیاں جب گل جائیں گی، بوسیدہ ہو جائیں گی، ریزہ ریزہ ہو جائیں گی، ان کو پھر کیسے زندہ کیا جائے گا، یہ کیسے زندہ ہو سکتی ہیں؟ کیا ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا؟ بار بار مذاق کے انداز میں سوال کرتے ہیں۔ اللہ فرما رہے ہیں کہ بھئی وہ رب جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، جو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے پر قادر ہے، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کر دے؟ ایک دفعہ یہ جب مر جائیں، پھر ان کو کیا کر دے؟ دوبارہ پیدا کر دے، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے؟ بلا، کیوں نہیں۔ کیوں نہیں۔ وھو الخلاق العلیم۔ اور وہ بڑا پیدا کرنے والا، العلیم، جاننے والا ہے۔ خلاق بھئی مبالغے کا صیغہ ہے، خوب پیدا کرنے والا، العلیم، جاننے والا ہے۔ اولیس الذی خلق السماوات والارض بقادر کیا وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو، کیا وہ قادر نہیں ہے علی ان یخلق مثلہم اس بات پر کہ وہ پیدا کر دے ان جیسوں کو، ان کے مثل کو، بلا کیوں نہیں، وھو الخلاق العلیم، اور وہ بڑا پیدا کرنے والا جاننے والا ہے۔ انما امرہ اذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون۔ انما امرہ، اس کا معاملہ تو یہ ہے، اللہ کا معاملہ تو یہ ہے اذا اراد شیئاً، جب وہ ارادہ کر لیتا ہے کسی چیز کا ان یقول لہ کن، یہ کہ کہہ دیتا ہے اس سے، کن، ہو جا۔ فیکون، تو وہ ہو جاتی ہے۔ اللہ کی ذات اتنی عظیم، اتنی قدرتوں والی، وہ تو اللہ تو جب کسی چیز کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو فرماتے ہیں ہو جا، بس وہ چیز ہو جاتی ہے فوراً بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ انما امرہ، اس اللہ کا معاملہ تو یہ ہے اذا اراد شیئاً، جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کا ان یقول لہ، تو یہ کہ کہہ دیتا ہے اسے کن، کہ ہو جا۔ فیکون تو وہ ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔ فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء، پس پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے، ملکوت، جس کے ہاتھ میں ہے یعنی جس کے قبضہ قدرت میں ہے، ملکوت کل شیء، ہر چیز کی بادشاہی۔ ملک ملک بادشاہی کو کہتے ہیں بھئی، سلطنت، حکومت۔ اسی میں و اور تا ملا کر اسی مادے کے ساتھ یہ مبالغے کا صیغہ ہے بھئی، مبالغے کا و اور تا مبالغے کے طور پر۔ مبالغے، یعنی عظیم بادشاہی بھئی، عظیم بادشاہی۔ فسبحان الذی، پس وہ پاک ہے وہ ذات۔ پس، فسبحانہ، پس پاک ہے وہ ذات الذی بیدہ، کہ جس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ ملکوت کل شیء، ہر چیز کی بادشاہی، والیہ ترجعون، اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی، اچھی طرح۔ آگے دیکھیے بھئی، سورہ صافات بھئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ والصافات صفا، فالزاجرات زجرا۔ والصافات صفا، فالزاجرات زجرا، فتالیات ذکرا. والصافات صفا. قسم ہے صف باندھنے والے فرشتوں کی صفان صف باندھنا، یہ مفعول مطلق ہے بھئی. صفان صف باندھنا. اور صافات صف باندھنے والے اس کا موصوف محذوف ہے بھئی، ملائکہ بھئی. ملائکہ. قسم ہے صف باندھنے والوں کی. قسم ہے، وہ قسم کے لیے بھئی. والصافات صفا قسم ہے صف باندھنے والوں کی، فالزاجرات زجرا پھر ڈانٹ ڈپٹ کرنے والوں کی زجرا، فزاجرات ڈانٹنے والے، زجرا ڈانٹنا، یہ مفعول مطلق ہے بھئی. سمجھ میں آیا بھئی، یہ مفعول مطلق ہے، تو اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا بھئی، ہاں یہ اس کے کلام میں اپنا فائدہ دیتا ہے جو کہ نحو میں آپ پڑھ چکے ہیں بھئی. سمجھ میں آیا، یہ مجاز وغیرہ کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے، تاکید پیدا کرتا ہے اور نوع وغیرہ بعض اوقات بیان کرتا ہے. والصافات صفا قسم ہے صف باندھنے والوں کی، فالزاجرات زجرا پھر ڈانٹنے والوں کی، فتالیات ذکرا پھر تلاوت کرنے والے ذکر کی، پھر ذکر کی تلاوت کرنے والوں کی. ذکر سے یا تو ذکر مراد ہے اللہ کا یا قرآن مراد ہے بھئی. معنی سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ یہ سب صفات ذکر ہو رہی ہیں، موصوف محذوف ہے بھئی. تو موصوف جو ہے یا تو ملائکہ ہیں. قسم ہے صف باندھنے والے ملائکہ کی، پھر ڈانٹنے والے ملائکہ کی، پھر ذکر کی تلاوت کرنے والے ملائکہ کی. یا اس سے مراد جماعتیں ہیں مومنین کی بھئی. قسم ہے صف باندھنے والی جماعتوں کی، یعنی مومنین جو نماز میں صفیں بناتے ہیں، صفیں باندھتے ہیں. یا جو جہاد میں صفیں بناتے ہیں بھئی. قسم ہے ان جماعتوں کی جو صفیں بناتی ہیں. اسی طرح فالزاجرات زجرا، زجر کا معنی ہوتا ہے ڈانٹ ڈپٹ کرنا، روک ٹوک کرنا کسی چیز سے بھئی. تو یا تو اس سے ملائکہ مراد ہیں کہ آگے ذکر آئے گا کہ شیاطین جو ہیں وہ آسمان کی طرف جاتے ہیں تاکہ ملائکہ کی باتیں سنیں، اللہ نے جو حکم احکام وغیرہ نازل کیے ہیں یا جن امور کا فیصلہ فرمایا ہے، تاکہ اس کی خبریں وہاں سے حاصل کریں تو فرشتے ان کو ڈانٹ کر بھگا دیتے ہیں بھئی. تو یا تو وہ فرشتے مراد ہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے، یا پھر مومنین وہ کی جماعتیں مراد ہیں جو اپنے نفسوں کو بھی کی بھی روک ٹوک کرتے ہیں برائی سے اور دوسروں کی بھی روک ٹوک کرتے ہیں برائی سے اور نیکی کا حکم دیتے ہیں. یا مجاہدین کی مراد ہیں جو روک ٹوک کرنے والے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے ہیں جن کی ڈانٹ ڈپٹ بڑی ہی سخت ہے اور کفار کے دلوں میں خوف پیدا کرنے والی ہے. فتالیات ذکرا، پھر قسم ہے ذکر کی تلاوت کرنے والوں کی، یا اس سے بھی اسی طرح یا تو ملائکہ مراد ہیں یا مومنین مراد ہیں جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں، جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں وغیرہ بھئی، معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ والصافات صفا فالزاجرات زجرا فتالیات ذکرا، قسم ہے صف باندھنے والوں کی اور پھر ڈانٹنے والوں کی، پھر ذکر کی تلاوت کرنے والوں کی. یہ ہے قسم بھئی، قسم کے لیے جواب قسم چاہیے، کس چیز پر قسم اٹھائی جا رہی ہے، کس بات کے لیے قسم اٹھائی جا رہی ہے، یہ آگے جواب قسم ہے. ان الٰہکم لواحد، یقیناً تمہارا معبود البتہ ایک ہی ہے. یہ مشرکین مکہ کیا کرتے ہیں، انہوں نے بہت سے معبود بنا رکھے ہیں یا اسی طرح اس دنیا کے اندر لوگوں نے بہت سے جھوٹے معبود بنا رکھے ہیں، اللہ قسم کھا کر فرما رہے ہیں کہ یقیناً تمہارا معبود البتہ ایک ہی معبود ہے بھئی. جی تو کس کی قسم اٹھائی گئی اس میں؟ وہ فرشتے جو صفیں بنانے والے ہیں، ڈانٹنے والے ہیں، ذکر کرنے والے ہیں یا وہ مومنین جو صفیں بنانے والے ہیں، ڈانٹنے والے ہیں اور تلاوت کرنے والے ہیں. یاد رکھیے یہاں پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی یا مومنین کی جماعتوں کی قسم اٹھائی ہے ان کی قسم کھائی ہے اللہ تعالی ہر چیز کے خالق ہیں، ہر چیز کے مالک ہیں تو اللہ کی مرضی جس کی چاہے اپنی مخلوق میں سے قسم اٹھائے اور انسان مخلوق ہے اور مخلوق کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھائے تو اللہ تعالیٰ خالق ہیں وہ جس کی چاہیں قسم اٹھا سکتے ہیں لیکن مخلوق کو منع کر دیا گیا کہ وہ خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم نہ اٹھائیں، خالق کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھانا، اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھانا، یہ مخلوق کے لیے جائز نہیں ہے بھئی. اللہ کی ذات کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھانا جائز نہیں ہے بھئی مخلوق کے لیے. تو قسم کا ایک مقصد تو ہوتا ہے کلام میں تاکید پیدا کرنا، نیز کلام میں بلاغت وغیرہ کے اعتبار سے اس میں حسن پیدا کرنا بھئی. آپ کے سامنے کوئی شخص جب کسی بات کو تسلیم نہ کرے، انکار کرے تو آپ بھی اس کے سامنے قسم اٹھا کر وہ بات دہراتے ہیں بھئی، تو جو انکار کرنے والا ہوتا ہے، اس کے سامنے زوردار کلام ذکر کرنے کے لیے کیا کی جاتی ہے؟ قسم اٹھائی جاتی ہے. اور قرآن کے اندر عموماً جن چیزوں کی قسمیں اٹھائی گئیں وہ عموماً دلیل ہوتی ہیں اس بات کے لیے جس پر قسم اٹھائی گئی۔ یہاں کس بات پر قسم اٹھائی گئی؟ ان الٰہکم لا، یقیناً تمہارا پروردگار ایک اس بات کی اس بات پر قسم اٹھائی گئی اور کس کی قسم اٹھائی گئی؟ یہ فرشتوں وغیرہ کی تو جس چیز کی قسم اٹھائی گئی یعنی یہ فرشتے وغیرہ یہ دلیل ہیں اس بات کی جس پر قسم اٹھائی جا رہی ہے کہ اللہ تعالی کی ذات ایک ہی ہے بھئی، یہ سب چیزیں کیا ہیں؟ تو یعنی مقسم بہی جس کی قسم اٹھائی جائے وہ دلیل ہوتی ہے عموماً مقسم علیہ کی قرآن کے اندر عموماً یہی طریقہ ہے بھئی، عموماً آپ دیکھیں گے کہ مقسم بہی وہ دلیل ہوتی ہے مقسم علیہ کی. جی معنی اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی. رب السماوات والارض وما بینہما ورب المشارق پرور جو وہ پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا وما بینہما اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ورب المشارق اور رب ہے مشرقوں کا تو اس کا معنی چاہے تو پروردگار کے ساتھ کر لیں رب السماوات والارض یا اس کے معنی مالک کے ساتھ کر لیں بھئی رب السماوات یقین ان الٰہکم لواحد یقیناً تمہارا پروردگار البتہ ایک ہے رب السماوات والارض مالک ہے آسمانوں کا اور زمین کا وما بینہما اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ورب المشارق اور مشرقوں کا مالک ہے یہ پہلے ذکر ہو چکا کہ سورج ہر روز الگ جگہ سے طلوع ہوتا ہے، ہر روز کچھ معمولی سا فرق ہوتا ہے تو سال کے 365 دن ہیں تو یہ تین 365 مشرقیں ہوئیں، ہر جگہ کیا ہے طلوع ہونے کی مشرق تو اس اعتبار سے جمع ذکر کیا گیا بھئی اور جہاں پر مفرد اگر ذکر ہو تو اس سے مراد جانب ہے، جہت مشرق۔ جہت مشرق تو ایک ہی ہے اگرچہ سورج معمولی سا بدلتا ہے لیکن جہت اور جانب تو کیا ہے مشرق کی مشرق تو ایک ہی جانب ہے مغرب دوس جیسے دوسری جانب ہے بعض جگہ تثنیہ ذکر ہو رب المشرقین بھئی تو وہاں مراد ہے سردی اور گرمی کے بھئی سردی کے مشرق اور گرمی کے گرمی میں سورج الگ جگہ سے طلوع ہوتا ہے اور سردی میں الگ جگہ سے رب السماوات والارض مالک ہے آسمانوں کا اور زمین کا وما بینہما اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ورب المشارق اور مالک ہے مشرقوں کا انا زیننا السماء الدنيا بزینۃ الكواکب یقیناً ہم نے مزین کیا اس دنیا کے آسمان کو اس دنیا کے آسمان کو بزینۃ الكواکب بزینۃ ایک زینت کے ساتھ ہم نے مزین کیا آسمان دنیا کو ایک زینت کے ساتھ، بھئی وہ زینت کیا ہے؟ الكواکب یہ بدل ہے زینت سے بھئی یعنی کہ ستارے یعنی کہ ستارے انا زیننا السماء الدنيا بزینۃ یقیناً ہم نے مزین کیا آسمان دنیا کو سجاوٹ کے ساتھ الكواکب (یعنی کہ ستارے) ہم نے مزین کیا آسمان دنیا کو ستاروں کی سجاوٹ سے معلوم ہوا یہ تمام ستارے آسمان دنیا سے نیچے ہیں بھئی تمام ستارے کیا ہیں آسمان دنیا سے یعنی پہلے آسمان سے نیچے نیچے ہیں کیونکہ اللہ کیا فرما رہے ہیں ہم نے آسمان دنیا کو مزین کیا کس کے ساتھ؟ ستاروں کے ساتھ معلوم ہوا یہ اس سے نیچے ہیں، یہ اس کے لیے زینت ہیں، اوپر والے آسمانوں میں ستارے نہیں ہیں بھئی اور یہ کائنات کتنی وسیع ہے میں پہلے بیان کر چکا کہ بعض ستاروں کی روشنی اربوں سال میں زمین تک پہنچتی ہے بھئی اور یہ سب زمین پہلے آسمان سے نیچے نیچے ہیں، پہلا آسمان ان سے بھی اوپر ہے بھئی یہی اللہ ذکر فرما رہے ہیں جبکہ قدیم فلاسفہ کا نظریہ یہ تھا کہ یہ ستارے آسمان کے اندر لگے ہوئے ہیں جیسے کیل چھت میں لگا ہوا ہو بھئی اور آ یہ اٹھویں آسمان پر لگے ہوئے ہیں بھئی آٹھویں آسمان پر بہرحال یہ تو پرانے ان فلاسفہ کے نظریات بھئی اور آج سائنس بھی ان چیزوں کو قرآن کی جو جو باتیں ہیں، سائنس جوں جوں ترقی کر رہی ہے اور مزید اسرار ظاہر ہو رہے ہیں بھئی اتنی عظیم اتنی وسیع کائنات بھئی اربوں سال میں روشنی پہنچتی ہے اور پہلا آسمان ابھی اس سے بھی اوپر ہے وہ معلوم نہیں کتنا اوپر ہے بھئی بے شک ہم نے مزین کیا آسمان دنیا کو ایک زینت کے ساتھ یعنی ایک زینت یعنی ستاروں کے اللہ فرما رہے ہیں ہم نے مزین کیا۔ بھئی آپ تو شہر میں رہتے ہیں، آپ نے آسمان کے حسن و جمال کا مشاہدہ کبھی کیا ہی نہیں بھئی۔ رات کے وقت، یہاں تو آپ رات کے وقت دیکھتے ہیں، دو چار آٹھ دس ستارے ہی نظر آتے ہیں، کچھ نظر ہی نہیں آتا اور بھئی، اور تاریکی ہی تاریکی اوپر۔ ہاں۔ اگر کسی ایسے علاقے میں جائیں جہاں بجلی نہ ہو۔ نیچے کی روشنی ہوتی ہے تو اوپر والے پھر ستارے باریک چھوٹے جو ہوتے ہیں، وہ دکھائی ہی نہیں دیتے، اگر کسی ایسے علاقے میں جائیں جہاں روشنی نہ ہو کسی دیہات وغیرہ میں اور فضا بھی صاف ہو بھئی، یہاں کی طرح دھوئیں سے بھری ہوئی نہ ہو، تو آپ دیکھیں گے اتنے ستارے، اتنے ستارے کہ بیان نہیں ہو سکتا اور اتنا حسین و جمیل منظر ہوتا ہے آسمان کا کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ اتنے ستارے، اتنے حد سے زیادہ بھئی، تھوڑی سی جگہ کے اندر بھی آسمان کی آپ دیکھیں گے، آپ کو سیکڑوں ستارے نظر آئیں گے بھئی، پورا آسمان ستاروں سے بھرا ہوتا ہے اور بڑا ہی حسین و جمیل دکھائی دیتا ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں انا زیننا السماء الدنيا بزینۃ الكواکب، یقیناً ہم نے مزین کیا آسمان دنیا کو ایک زینت یعنی ستاروں کے ساتھ و حفظاً من كل شیطان مارد۔ حفظاً یہ مفعول مطلق ہے فعل محذوف ہے اے و حافظناہا حفظاً، حافظناہا، ہم نے اس کی حفاظت کی حفظاً حفاظت کرنا من كل شیطان مارد، ہر سرکش شیطان سے، مارد کا کیا معنی؟ سرکش۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ و حافظناہا حفظاً، تو فعل یہاں محذوف ہے اور حفظاً اس کے لیے مفعول مطلق ہے اور ہم نے اس کی حفاظت کی من كل شیطان مارد، ہر سرکش شیطان سے، لا یسمعون الٰہ الملئ الاعلٰے۔ نہیں سن سکتے الٰہ الملئ الاعلٰے۔ اوپر والوں کی مجلس بھئی، ملائے اعلیٰ، اوپر کی مجلس، اوپر کی جماعت یعنی مراد فرشتوں کی جماعت ہے، ملائے اعلیٰ سے کیا مراد ہے اوپر کی جماعت فرشتوں کی جماعت۔ لا یسمعون الٰہ الملئ الاعلٰ، نہیں سن سکتے اوپر کے مجلس کو و یقذفون، اور مارے جاتے ہیں من كل جانب، ہر جانب سے، دحوراً بھاگنے کے لیے و لہم عذاب واصب، اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے، واصب، دائمی بھئی، دائمی، ہمیشہ کا۔ دحوراً، یہ مفعول لہ ہے بھئی ضربتہ تأدیباً، پٹائی کی میں نے اس کی کس لیے کی؟ ادب سکھانے کے لیے جو علت بیان کرتا ہے و یقذفون من كل من كل جانب دحوراً، اور مارے جاتے ہیں ہر جانب سے دحوراً بھاگنے کے لیے۔ بھئی، یہ شیاطین نے آسمان میں جگہیں مقرر کر رکھی تھیں، جگہیں بنا رکھی تھیں جہاں جا کر یہ بیٹھتے تھے اور اوپر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے۔ اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا کہ دنیا کے اندر یوں کر دو یا یوں کر دو، جو بھی حکم نازل ہوتا، فرشتے اوپر والے فرشتے ان سے نیچے والے پوچھتے بھئی اللہ نے کیا ذکر کیا، کیا حکم اللہ نے نازل کیا، پیچھے ذکر ہو چکا اور پھر اس طرح درجہ بدرجہ ہوتے ہوتے یہاں تک کہ آسمان دنیا کے جو فرشتے ہیں ان تک بات پہنچتی بھئی، وہ آپس میں ایک دوسرے کو بتاتے کہ اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا ہے۔ شیاطین وہاں بیٹھے ہوتے چھپ کر، وہ ان کی یہ بات سن لیتے اور پھر وہ اوپر والے شیاطین نیچے والوں کو بتاتے، نیچے والے اس سے نیچے والوں کو، یہاں تک کہ دنیا کے میں جو نیچے شیاطین ہوتے ان تک بات پہنچتی اور پھر جو جادوگر اور کاہین وغیرہ ہوتے تھے، کاہین نجومی کی طرح ہوتے تھے جو غیب کی خبریں بتانے کے دعویٰ کیا کرتے تھے قدیم زمانے میں، جیسے آجکل نجومی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ اس طرح کے اس زمانے میں جو ہوتے تھے، ان کو کاہین کہا جاتا تھا کہ جو جن کا دعویٰ ہوتا تھا، ہم غیب کی خبریں جانتے ہیں، غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔ تو چنانچہ شیاطین جو ہیں وہ خبر پھر یہ کائنوں کو بتلاتے اپنی، ایک خبر سچی ہوتی اس میں اپنی طرف سے نو جھوٹ ملا کر بتا دیتے بھئی۔ اور کاہین پھر اس میں اپنی طرف سے مزید سو جھوٹ ملا کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے تھے۔ تو چونکہ بات سونی تو فرشتوں سے ہی ہوتی تھی، تو کوئی ایک سو میں سے ایک تو وہ سچی ہی تھی تو جب اس طرح پیش ہو جاتا واقعہ آج ہو جاتا تو کہتے دیکھا بھئی ہم نے کہا نہیں تھا بھئی اس طرح ہوگا بھئی۔ پھر اس کے بعد ایسا ہوا کہ جب شیاطین جو ہیں آسمان میں باتیں سننے کے لیے جاتے، تو فرشتے ان کو بھگا دیتے، فرشتے ان کو مار کر بھگا دیا کرتے تھے اور اگر کوئی ایک آدھ شیطان، کوئی ایک آدھی بات سن بھی لیتا، تو ایک جلتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لپکتا اور اس کو جلا کر ختم کر دیتا، یا پھر جلا دیتا یا بچ جاتا، بہرحال تو کوئی ایک آدھی بات کوئی اچک لیتا۔ یعنی گویا سخت پہرے بٹھا دیے گئے آسمانوں پر۔ تو شیاطین ابلیس کے پاس آئے کہ پہلے تو ہم اس طرح باتیں سن لیتے تھے، اب تو کوئی کا دکا بات بھی ہمارے پلے نہیں آتی، ہم جاتے ہیں، فرشتے ہمیں بھگا دیتے ہیں اور کوئی ایک آدھ بات کوئی سن لیتا ہے، تو اس کے پیچھے آگ کا شعلہ لگ جاتا ہے۔ تو شعلہ لگ جاتا، وہ اس کو تو جلا کر مثلاً ختم بھی کر دیا، وہ نیچے والے کو بات اگر بتانے میں کامیاب ہو جاتا تو کوئی ایک آدھی بات نکل آتی، ورنہ بات نہیں لا سکتے تھے اوپر سے کوئی۔ الا من خطف الخطفۃ۔ خطفہ یخطف کے معنی اچک لینا، جھپٹا مار کر کوئی چیز چھین لینا، خطفہ یخطف کے کیا معنی؟ اچک لینا۔ تو میں نے بتایا کوئی ایک ادھا کوئی ایک آدھی بات اچک لیتا اور پھر اس کے پیچھے فوراً بھڑکتا ہوا شعلہ لگ جاتا اور اسے جلا کر ختم کر دیتا، ہاں اس دوران اگر وہ نیچے والے کو بتانے میں کوئی کامیاب ہو جاتا تو کوئی ایک آدھی بات آ جاتی، ورنہ بات نہیں لا سکتے تھے اوپر سے کوئی۔ الا من خطف الخطفۃ مگر کوئی، مگر وہ جو اچک لے الخطفۃ، بھئی آپ نے پڑھا ہے بھئی، کہ آپ نے پڑھا کہ فاعلتن وزن بھئی، ہدایۃ النحو میں آپ نے پڑھا ہوگا اور اسی طرح قافیہ میں بھی آ جائے گا، کہ مفعول مطلق جو ہے کبھی وہ فاعلتن وزن پر آتا ہے، اسی طرح کبھی فیلتن وزن پر بھی آتا ہے۔ فاعلتن تعداد بتلانے کے لیے آتا ہے، جلسُت جلسةً میں ایک مرتبہ بیٹھا، جلسُت جلسةً میں دو مرتبہ بیٹھا، جلسُت جلسات میں کئی مرتبہ بیٹھا۔ تو فاعلتن وزن عدد بتلانے کے لیے آتا ہے اور فیلتن وزن نوع بتلانے کے لیے آتا ہے، جلسُت جلسۃ القاری، میں کس طرح بیٹھا؟ قاری کے بیٹھنے کی طرح بھئی، تو یہاں بھی فاعلتن آیا اور عدد بتلانے کے لیے ایک، بھئی الا من خطف الخطفۃ مگر کوئی ایک آدھ بات اچک لے، فتبعہ شہاب ثاقب، تو اس کا پیچھا کرتا ہے، اس کے پیچھے لگ جاتا لگا لگ جاتا، شہاب ثاقب، شہاب کہتے ہیں آگ کے شعلے کو، آگ کے انگارے کو بھئی، دہکتا ہوا انگارہ، ثاقب کا معنی ہے چمکدار، روشن۔ الا من خطف الخطفۃ مگر کوئی ایک ادھ بات اچک لے، تو اس کے پیچھے لگ جاتا ہے شہاب ثاقب، روشن شعلہ، چمکتا ہوا شعلہ، چمکتا ہوا انگارہ بھئی، چمکتا ہوا انگارہ۔ یہ آپ آسمان میں دیکھتے ہیں بھئی، بعض اوقات ستارہ ٹوٹتا ہوا اور جلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تو آج کی سائنس کہتی ہے کہ یہ فضا کے اندر بھئی دور خلا کے اندر بڑے بڑے پتھر وغیرہ یہ خلا میں گردش کر رہے ہوتے ہیں اور پھر یہ جب زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں، تو ہوا ہوتی ہے اور ہوا کے اندر داخل ہوتے ہیں اور ان کی رفتار حد سے زیادہ رفتار ہوتی ہے بھئی، ایک سیکنڈ میں کئی کئی میل کی رفتار ہوتی ہے، ایک سیکنڈ میں 15، 20، 30، 30 میل یا اتنی رفتار بھئی، اندازہ تو لگائیں ایک سیکنڈ میں، تو جس کی وجہ سے ان کو فوراً آگ ہوا سے رگڑ کی وجہ سے آگ لگ جاتی ہے اور جل جاتے ہیں۔ تو یہ تو سائنسی توجیہ ہے بھئی۔ بہرحال، یہ بھی وجہ ہو، اور جو بھی ہو، انہی یہ جو ٹوٹتے ستارے ہیں، ان سے شیاطین کے جلانے کا کام بھی لیا جاتا ہے بھئی اور پوری تفصیلی اور حقیقت تو اللہ جانتے ہیں، لیکن بہرحال قرآن نے اتنا بیان کر دیا کہ ان کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ شیطانوں کو جلانے کا کام بھی لیا جاتا ہے بھئی۔ الا من خطف الخطفۃ مگر کوئی ایک آدھ مرتبہ اچک لے، تو اس کے اس کے پیچھے لگ جاتا ہے چمکتا ہوا شعلہ، تو اس کے پیچھے چمکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے یا روشن شعلہ لگ جاتا ہے۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المراد، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔