اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم والله خلقكم من تراب ثم من نطفة ثم جعلكم أزواجا وما تحمل من أنثى ولا تضع إلا بعلمه وما يعمر من معمر ولا ينقص من عمره إلا في كتاب إن ذلك على الله يسير والله خلقكم اور الله نے پیدا کیا تمہیں من تراب مٹی سے ثم من نطفة پھر نطفے سے ثم جعلكم أزواجا پھر بنایا تمہیں جوڑے جوڑے والله خلقكم من تراب اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں مٹی سے یعنی حضرت آدم علیہ السلام جنہیں مٹی سے بنایا گیا ثم من نطفة پھر نطفے سے یعنی پھر ان کے بعد آ گئے ان کی نسل نطفے سے چلائی گئی ثم جعلكم أزواجا پھر بنایا تمہیں جوڑے جوڑے وما تحمل من أنثى اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مؤنث ولا تضع اور نہ جنم دیتی ہے إلا بعلمه مگر اللہ کے علم سے وما تحمل من أنثى اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مادہ ولا تضع اور نہ جنتی ہے إلا بعلمه مگر اللہ کے علم کے ساتھ یعنی یہ سب اللہ کے علم میں ہے وما يعمر من معمر اور نہ عمر دی جاتی ہے من معمر کسی عمر دیے ہوئے کو اور نہ عمر دی جاتی ہے کسی عمر دیے گئے کو ولا ينقص اور نہ کم کی جاتی ہے من عمره اس کی عمر میں سے إلا في كتاب مگر وہ کتاب میں ہے یعنی لوح محفوظ میں درج ہے إن ذلك على الله يسير یقیناً یہ اللہ پر آسان ہے یقیناً یہ اللہ پر آسان ہے وما يعمر من معمر عمر يعمر عمر دینا وما يعمر اور نہ عمر دی جاتی ہے من معمر معمر اسم مفعول ہے جس کو عمر دی گئی ہو اور نہ عمر دی جاتی ہے کسی عمر دیے ہوئے کو ولا ين (یعنی کسی ایک کو) مم عمر سے کیا مراد ہے؟ کسی ایک کو اور نہ عمر دی جاتی ہے کسی ایک کو لیکن کسی ایک کو تعبیر اسی معمر لفظ کے ساتھ کر دیا گیا کیونکہ اس سے پہلے يعمر لفظ آیا تھا بھئی تو بسا اوقات ایک لفظ دوسرے لفظ کے پڑوس میں واقع ہونے کی ہوتا ہے تو اس کو بھی اسی لفظ کے ساتھ تعبیر کر دیا جاتا ہے تو یہاں وما يعمر من أحد بھئی عمر نہیں دی جاتی کسی ایک کو لیکن پھر اس احد کو کس کے ساتھ تعبیر کر دیا گیا معمر لفظ کے ساتھ کیونکہ اس سے پہلے کون سا لفظ آیا تھا يعمر آیا تھا تو عمر نہیں دی جاتی کسی عمر کسی ایک کو یا کسی عمر دیے ہوئے کو ترجمہ آپ جس انداز میں بھی کر لیں دونوں طرح صحیح ہے بھئی ولا ينقص اور نہ کم کی جاتی ہے من عمره اس کی عمر میں سے ہا ضمیر اسی معمر کو راجع بھئی إلا في كتاب مگر کس کے اندر ہے کتاب یعنی لوح محفوظ کے اندر یہ سب درج ہے بھئی کسی کو اللہ تعالی لمبی عمر دیتے ہیں کسی کو تھوڑی عمر دیتے ہیں اللہ فرما رہے ہیں یہ سب لوح محفوظ میں درج ہے وما يعمر من معمر کس جس کسی کو لمبی زندگی دی جاتی ہے ولا ينقص من عمره اور جو کسی کی عمر میں سے کم کی جاتی ہے یہ سب لوح محفوظ میں درج ہیں دنیا میں آپ دیکھتے ہیں بعض لوگوں کی عمریں بڑی طویل ہوتی ہیں اور بعض کی عمر کم ہوتی ہے جلدی انتقال ہوا ختم ہو گئے تو کہہ رہے اللہ فرماتے ہیں یہ سب لوح محفوظ میں ہم نے درج کر دیا ہے تو یہ جو آیا اور عمر نہیں دی جاتی کسی عمر دیے ہوئے کو یہ وہ ذات جس کی عمر طویل کی گئی اور لا ينقص من عمره اور کم نہیں کی جاتی کسی کی عمر میں سے تو یہ وہ دوسری ذات ایک وہ ذات جس کی عمر طویل ہے ایک وہ انسان جس کی عمر لمبی ہے اور ایک وہ انسان جس کی عمر تھوڑی ہے بھئی تھوڑی ہے تو دونوں لوح محفوظ میں درج ہیں کس کی عمر کتنی ہوگی یا مراد ایک ہی ذات ہے ایک شخص جس کو لمبی عمر دی گئی اور اس کی عمر میں سے پھر جو کم ہوتا ہے اسی کی عمر میں سے جو کم ہوتا ہے یہ سب لوح محفوظ میں درج ہوتا ہے پہلا کیا معنی کیا جس کو ایک وہ شخص جس کو لمبی عمر دی گئی دوسرا وہ شخص جس کو کم عمر دی گئی دونوں الگ الگ ذاتیں ہیں یہ پہلا مفہوم بھئی دوسرا مفہوم یہ کہ ایک ہی شخص جس کو لمبی عمر دی گئی عمر دی گئی اور پھر اس کی عمر میں سے جو کم ہوتا ہے مثلاً لوح محفوظ میں لکھا ہوتا ہے اس شخص کو مثلاً 100 سال زندگی دی گئی ہے تو دیکھو درج ہے کہ جس کی لمبی عمر دی گئی لوح محفوظ میں درج ہے پھر اسی کے نیچے لکھا جاتا ہے آج ایک دن اس کی زندگی کا گزر گیا آج دو دن گزر گئے آج تین دن گزر گئے یہ وہ 100 میں سے کم ہوتے جا رہے ہیں بھئی 100 سال تھے اب یہ ایک دن گزر گیا ایک دن کم ہو گیا اب دو دن گزر گئے دو دن کم ہو گئے اب تین دن گزر گئے تین دن کم ہو گئے تو یہ معنی ہے کسی کو جو عمر دی جاتی ہے اور اس کی عمر میں جو کمی ہوتی ہے یہ جو گزرتی چلی جاتی ہے وہ مراد ہے یہ سب لوح محفوظ میں درج ہے بھئی معنی مفہوم سمجھ میں آگیا بھئی تو کہتے ہیں اللہ فرماتے ہیں وما يعمر من معمر اور عمر نہیں دی جاتی کسی عمر دیے ہوئے کو ولا ينقص من عمره اور کم نہیں کی جاتی اس کی عمر میں سے إلا في كتاب مگر لوح محفوظ میں إن ذلك على الله يسير یقیناً یہ اللہ پر آسان ہے وما يستوي البحران اور برابر نہیں ہو سکتے دو سمندر برابر نہیں ہو سکتے دو سمندر هذا عذب فرات سائغ شرابه هذا عذب یہ میٹھا ہے فرات فرات کے دو معنی ہیں بھئی ایک معنی بہت میٹھا بھئی بہت میٹھا هذا عذب یہ میٹھا ہے فرات بہت میٹھا سائغ شرابه خوشگوار ہے شرابه اس کا پینا سائغ شرابه خوشگوار ہے اس کا پینا تو فرات کا ایک معنی میں نے کیا بیان کیا بہت میٹھا بھئی ایک میٹھا پانی ہوتا ہے ایک کڑوا پانی جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی میٹھے سے مراد یہ نہیں ہے روح افزا ملا ہوا ہو چینی ملی ہوئی ہو وہ میٹھا مراد نہیں یہ جو ہم پانی پیتے ہیں اسی کو کیا کہا جاتا ہے میٹھا پانی بھئی تو یہ بعض علاقوں کا کڑوا ہوتا ہے تو جی وہ تو پینا ہی مشکل ہو جاتا ہے انسان کے لیے جبکہ یہ جو آسانی سے پیا جاتا ہے خوشگوار ہوتا ہے پیاس بجھانے والا ہوتا ہے جی تو فرات کا ایک معنی ہے بہت میٹھا اور فرات کا دوسرا معنی بعض مفسرین لکھتے ہیں پیاس بجھانے والا پیاس بجھانے والا هذا عذب یہ میٹھا ہے فرات پیاس بجھانے والا ہے سائغ شرابه خوشگوار ہے اس کا پینا سائغ کے معنی ہیں جو آسانی سے حلق سے گزر جائے بھئی سائغ کا کیا معنی جو آسانی سے حلق سے گزر جائے بھئی بھئی پانی اگر سخت نمکین ہو جیسے سمندر کا پانی ہوتا ہے سمندر کا پانی سخت نمکین ہوتا ہے بھئی تو اس کو تو حلق سے گزارنا ہی مشکل ہوتا ہے حلق سے گزرتا ہے حلق کو جلا دیتا ہے جبکہ یہ میٹھا پانی یہ آسانی سے حلق سے گزر جاتا ہے تو اس کا ترجمہ خوشگوار کے کریں بھئی سائغ شرابه خوشگوار ہے اس کا پینا شرابه یہ فاعل ہے سائغ کے لیے بھئی جیسے فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح صفت کے صیغے کے لیے بھی فاعل یا نائب الفاعل کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ شرابه کو رفع جو ہے سائغ دے رہا ہے یہ اس کے لیے فاعل ہے صائغ خود اسم فاعل اور شرابه اس کے لیے فاعل هذا عذب فرات سائغ شرابه یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا ہے خوشگوار ہے اس کا پینا وهذا ملح أجاج اور یہ نمکین ہے أجاج کڑوا کڑوا ہے ملح نمک کو بھی کہتے ہیں اور نمکین کو بھی کہتے ہیں بھئی تو یہاں نمکین کے معنی میں بھئی وهذا ملح أجاج اور یہ نمکین ہے أجاج کڑوا ہے تو بھئی پانی دو قسم کے ہوتے ہیں، تو اللہ فرما رہے ہیں دو سمندر برابر نہیں ہو سکتے۔ ایک وہ جس کا پانی خوشگوار ہو، میٹھا ہو، پیاس بجھانے والا ہو اور ایک کیا نمکین اور کڑوا ہو، تو یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تو سمندر یہ دو سمندر بھئی. ایک تو یہ سمندر جس کا پانی سخت نمکین ہوتا ہے اور ایک یہ جو دریا وغیرہ ہیں وہ مراد ہیں بھئی جن کا پانی میٹھا ہوتا ہے. اور دونوں کو بحران کہا گیا بھئی دونوں سمندر بھئی. ایک کو کبھی غلبہ دے کر دونوں کو سے ایک ہی لفظ بنا لیا جاتا ہے، جیسے بھئی والدین. والدین. حالانکہ والدین تو تثنیہ ہے والد کی بھئی۔ ایک تو ہے والد، دوسری ہے والدہ، لیکن والدہ پر بھی کیا لفظ کس لفظ کا اطلاق کر دیا گیا؟ والد ہی کا تو گویا کہ دو والد اور اس یہی تثنیہ والدین بنا لیا گیا بھئی. سمجھ میں آیا بھئی؟ والدین، یا اسی طرح جیسے قمرین بھئی۔ چاند اور سورج کو قمرین کہتے ہیں بھئی. تو یہاں پر بھی قمر تو ایک ہے لیکن سورج پر بھی قمر کا اطلاق کر دیا گیا تو گویا کہ دو قمر ہو گئے تو قمرین کہتے ہیں بھئی. یا جیسے عمرین بھئی. حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ساتھ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی عمر کے لفظ کا نام کا عمر کے نام کا اطلاق کر دیا جاتا ہے. تو گویا دو عمر ہوئے تو پھر اس کو کس کے ساتھ ذکر کرتے ہیں؟ عمرین، مراد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہوتے ہیں بھئی. تو یہاں بھی اسی طرح بھئی. یا پھر بحر سے بحر ہی مراد ہیں بھئی، سمندر سے سمندر ہی مراد ہیں. سمندر کے اندر بھی کہتے ہیں بعض جگہ، بعض حصے اس کے میٹھے پانی پر مشتمل ہوتے ہیں. میٹھا اور نمکین پانی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، لیکن اللہ کی قدرت کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملتے نہیں ہیں بھئی. میٹھا الگ ہے تو الگ ہی رہتا ہے اور نمکین اس سے الگ ہوتا ہے، اور اس کا مشاہدہ بہت سے لوگ کر چکے ہیں. کہ بعض جگہ سمندر میں میٹھے پانی کے دھارے جاری ہوتے ہیں، اور وہ درمیان میں کچھ حصہ جو ہوتا ہے وہ میٹھا ہی مٹھی میٹھے پانی ہی کی ایک گویا کہ پٹی سی چلی جاتی ہے سمندر کے اندر. اور وہ نمکین نہیں ہوتی اور دونوں پانی اپس میں مکس بھی نہیں ہوتے بھئی. تو اللہ فرما رہے ہیں، تو یہ مثال ہے بھئی مومن اور کافر کی بھئی، اللہ فرماتے ہیں: وما يستوي البحران، دو سمندر اپس میں برابر نہیں ہو سکتے. هذا عذب فرات سائغ شرابه، یہ میٹھا ہے، پیاس بجھانے والا ہے، خوشگوار ہے اس کا پینا. وهذا ملح أجاج، اور یہ نمکین ہے، کڑوا ہے. تو یہ دو برابر نہیں ہو سکتے، دونوں الگ قسم کے ہیں. اسی طرح مومن کی اور کافر کی مثال ہے. مومن اور کافر کی مثال ہے بھئی. مومن کی مثال میٹھے پانی کی طرح اور کافر کی مثال نمکین کڑوے پانی کی طرح. ومن كل تأكلون لحما طريا، ومن كل. یاد رکھیے کل کے لفظ پر جب بھی تنوین آئے یہ دراصل عوض ہوتی ہے مضاف الیہ سے بھئی. کیونکہ کل مضاف الیہ چاہتا ہے، کل کا کیا معنی؟ پورا، سارا. کس چیز کا پورا؟ کس چیز کا سارا؟ وہ مضاف الیہ چاہیے اس کے لیے بھئی. تو وہ لیکن جب تنوین آ جائے تو سمجھ جائیں یہ تنوین کس چیز کا عوض ہے؟ مضاف الیہ، مضاف الیہ کو حذف کر کے اس کی جگہ تنوین دے دی گئی. ومن كل أي ومن كل واحد، ان دونوں میں سے ہر ایک سے تأكلون، تم खाते ہو لحما طريا، لحم بھئی گوشت، طريا تازہ. اور ہر ایک سے تم खाते ہو تازہ گوشت. تازہ گوشت. مراد مچھلیاں ہیں بھئی, مچھلی. ومن كل تأكلون لحما طريا، اور ہر ایک میں سے تم खाते ہو تازہ گوشت. بھئی تازہ گوشت یاد رکھیے عام لوگوں میں عرف میں مچھلی کو کے جو ہے لحم کا اطلاق نہیں ہوتا مچھلی پر. لحم گوشت بھئی. چنانچہ آپ اردو میں بھی اسی طرح کرتے ہیں بھئی کوئی آپ ساتھی ایک دوسرے کو کبھی یہ نہیں کہتا کہ آج میں نے مچھلی کا گوشت کھایا بلکہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے مچھلی کھائی، تو عربی میں بھی اسی طرح ہے. جی چنانچہ فقہاء لکھتے ہیں اگر کوئی شخص قسم اٹھا لے کہ واللہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا. اور پھر مچھلی کھا لے تو حانث نہیں ہوگا، کیونکہ مچھلی گوشت کا لفظ جب بول دیا تو مچھلی اس میں داخل نہیں ہے بھئی. جی البتہ قرآن میں اس پر لحم کا اطلاق ہوا ہے. اور وہ باعتبار اس کے غذایت اور فائدے کے اعتبار سے ہوا ہے کہ جس طرح انسان گوشت کھاتا ہے اور اپنی خوراک بناتا ہے، اسی طرح انسان مچھلی کو بھی کیا کرتا ہے؟ کھاتا ہے اور اپنی خوراک بناتا ہے اس اعتبار سے. وتستخرجون حلية, اور نکالتے ہو تم لوگ حلية، زیور. تلبسونها. حلية نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد فعل آیا اور پھر یہ عموماً اس کی صفت بنتا ہے. حلية تلبسونها، ایسا زیور تلبسونها جسے تم پہنتے ہو. جی، تو اللہ فرما رہے ہیں ہر ایک سے تم جو ہے تازہ گوشت کھاتے ہو اور نکالتے ہو ایسا زیور جسے تم پہنتے ہو. ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اس سے زیور نکلتا ہے. یعنی کہ بھئی وہ موتی وغیرہ جو نکلتے ہیں سمندر سے اور پھر اسے مرد و عورت بطور زیور کے پہنتے ہیں. وتستخرجون حلية، اور نکالتے ہو تم اس سے ایسا زیور تلبسونها جسے تم لوگ پہنتے ہو. ویسے تو زیور کفار مرد بھی پہنتے ہیں، عورتیں بھی، ہماری شریعت میں صرف کس کے لیے اجازت ہے؟ عورتوں کے لیے اجازت ہے بھئی. تو پھر تلبسونا، تلبسونا کون سا صیغہ آیا؟ جمع مذکر حاضر کا. تو یہ مذکر کا صیغہ کیوں ذکر کیا گیا؟ یہاں تو کیا ذکر ہونا چاہیے؟ مؤنث کا صیغہ. مؤنث کا صیغہ. تو ایک جواب تو یہ کہ بھئی مردوں کو غلبہ دیا گیا، عورتیں انہی کے اندر شامل ہیں بھئی. غلبہ کس کو دیا گیا؟ مردوں کو دیا گیا تو ان کو ذکر کر دیا گیا، عورتیں انہی میں سے ہیں، انہی کی جنس میں سے ہیں، انہی میں داخل ہیں، انہی میں شامل ہیں بھئی. دوسرا جواب یہ, کہ بھئی وہ عورتیں پہنتی کس کے لیے ہیں زیور؟ مردوں کے لیے، اس لیے تلبسونا مذکر کا صیغہ ذکر کر دیا گیا. معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وتستخرجون حلية تلبسونها، اور تم نکالتے ہو اس میں سے ایسا زیور تلبسونها کہ پہنتے ہو تم اسے، وترى الفلك فيه مواخر, اور تو دیکھتے ہو. وترى الفلك، اور تم دیکھتے ہو کشتیاں فيه، ان میں سے ہر ایک کے اندر مواخر. مواخر جمع ہے ماخرۃ کی. ماخرۃ، ماخرۃ کی بھئی. ماخرۃ کا معنی ہے پھاڑنے والی، کاٹنے والی. بھئی کشتی جو ہے وہ پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہے، کاٹتی ہوئی چلتی ہے بھئی. تو وہ ماخرۃ ہوئی بھئی. ماخرۃ. اور فلک بھئی آپ جانتے ہیں فلک مذکر مفرد بھی فلک آتا ہے اور جمع بھی فلک آتا ہے. وترى الفلك، اور تو دیکھ تو دیکھتا ہے الفلك، کشتیوں کو فيه، ان میں یعنی فی كل واحد، ان میں سے ہر ایک کے اندر مواخر, کہ وہ پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں. لتبتغوا من فضله، تاکہ تم تلاش کرو من فضله، اللہ کے فضل میں سے. یعنی یہ کھانے پینے کی چیزیں اور تجارت وغیرہ کرو، یہ کشتیوں کے ذریعے، اور کھانے پینے کی چیزیں یعنی مچھلیاں وغیرہ حاصل کرتے ہو، موتی حاصل کرتے ہو وغیرہ. اور تجارت کرتے ہو بھئی. ولعلكم تشكرون، اور تاکہ تم شکر ادا کرو. وترى الفلك، اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو فيه، فی كل واحد، ان میں سے ہر ایک کے اندر مواخر، اس حال میں کہ وہ پانی کو پھاڑنے والی ہوتی ہیں، یعنی پانی کو پھاڑتے ہوئے چلتی ہیں. اور تو دیکھتا ہے کشتیوں کو ان میں کہ پانی کو پھاڑتے ہوئے چلتی ہیں لتبتغوا من فضله، تاکہ تم تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے ولعلكم تشكرون، اور تاکہ تم شکر ادا کرو. معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو دیکھیے یہ جو نمکین، ایک کڑوا پانی ہے، سمندر ہے، اور ایک پھر میٹھے پانی، تو یہ دونوں کی مثال دونوں ذکر کیے گئے، کہ مومن کی مثال میٹھے پانی کی طرح ہے اور کافر کی مثال کڑوے پانی کی طرح ہے، اور ان دو یہ دو سمندر جو ہیں ان میں سے ہر ایک میں سے تم تازہ گوشت بھی حاصل کرتے ہو، زیور وغیرہ بھی حاصل کرتے ہو، اور اس میں کشتیاں بھی چلتی ہیں جن کے لیے تم اللہ کا فضل تلاش کرتے ہو، تجارت کرتے ہو، مچھلیاں وغیرہ حاصل کرتے ہو، موتی حاصل کرتے ہو. تو یہ مومن اور کافر کی مثال ذکر کی گئی. اور نفع، جس طرح مومن میں نفع ہے اسی طرح کافر میں بھی کچھ نہ کچھ نفع تو ہے دنیاوی اعتبار سے بھئی، دنیاوی اعتبار سے. سمجھ میں آیا بھئی؟ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بھئی دیکھیے نا دو مثال، یہ دو سمندر ذکر کیے گئے، کیا مراد ہے کہ کون کون مومن اور کافر مراد ہیں، تو آپ کے ذہن میں یہ اشکال نہ آئے کہ یہاں تو آ رہا ہے دونوں سے ہی نفع حاصل ہو رہا ہے. تو بھئی دنیاوی اعتبار سے کافر سے بھی نفع ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، اس کے ساتھ بھی معاملات ہوتے ہیں اس اور، اس کے ساتھ معاملات وغیرہ ہوتے ہیں، تجارت وغیرہ. آپس کے ساتھ ہوتی ہے، سب کچھ تو نفع اس میں بھی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، لیکن بہرحال فضیلت تو وہی مومن ہی کو ہے، جیسے یہاں پر فضیلت جو ہے وہ میٹھے اور خوشگوار پانی ہی کو ہے۔ وما یستوی البحرانی اور دو سمندر برابر نہیں ہو سکتے ہذا عذب فرات سائغ شرابہ یہ میٹھا ہے، پیاس بجھانے والا ہے، خوشگوار ہے اس کا پینا، ہذا ملح اجاج اور یہ نمکین ہے، کڑوا ہے، ومن کل تأکلون لحما طریا اور ہر ایک سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت، وتستخرجون حلیۃ تلبسونھا اور نکالتے ہو زیور کہ پہنتے ہو اسے تم، وتر الفلک فیہ مواخرا اور دیکھتے ہو کشتیاں ان میں سے ہر ایک میں مواخرا اس حال میں کہ وہ پھاڑنے والی ہوتی ہیں پانی کو، یعنی پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں، لتبتغوا من فضلہ تاکہ تم تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے، ولعلکم تشکرون اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ یولج اللیل النہار داخل کرتا ہے رات کو دن میں۔ یولج اللیل، اللیل، دیکھیے قرآن کا اپنا رسم الخط ہے، ورنہ اصولاً یہاں دو لام ہونے چاہیے تھے بھئی۔ ایک لیل کا لام اور ایک ال، الف لام جو اس پر داخل ہو بھئی۔ لیکن میں نے بتایا قرآن کا اپنا رسم الخط ہے، وہ رسم الخط بھی توقیفی ہے بھئی۔ توقیفی ہے۔ تو لہٰذا جیسا ہے اس اسی طرح اس کو لکھا جائے گا۔ یولج، وہ اللہ داخل کرتے ہیں اللیل رات کو النہار دن میں، ویولج النہار فی اللیل اور داخل کرتے ہیں دن کو رات میں۔ دن کو رات میں داخل کرتے ہیں اور رات کو دن میں بھئی۔ معنی میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ بھئی جیسے سردیوں کے اندر دن چھوٹے ہوتے ہیں، مثلاً آج کل پانچ بجے ہی مغرب ہو جاتی ہے، اور گرمیوں میں مغرب سات سوا سات بجے ہوتی ہے، تو دیکھیے یہ دو سوا دو گھنٹے اس وقت تو رات کا حصہ ہیں، لیکن گرمیوں میں یہی کس کا حصہ بن جائیں گے؟ دن کا بھئی۔ تو یہ ہے کہ رات کو اللہ دن میں داخل کر دیتے ہیں، رات کا حصہ ہے اس کو کس میں داخل کر دیں گے؟ دن، دن کا حصہ بنا دیں گے، اور پھر گرمیوں کے بعد پھر جب سردیاں آئیں گی تو وہ جو دن کا حصہ تھا پھر اسے کس میں داخل کر دیں گے؟ رات میں داخل کر دیں گے۔ تو اسی صبح کے وقت میں بھی اسی طرح ہوتا ہے اور شام میں بھی بھئی۔ یولج اللیل النہار، دا، وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں، ویولج النہار فی اللیل اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، وسخر الشمس والقمر اور مسخر کر دیا اس نے سورج کو اور چاند کو، اور مسخر کر دیا یعنی کام میں لگا دیا، اور کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو، دونوں اپنا اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ سورج مشرق سے روزانہ طلوع ہوتا ہے اور ہمارے لیے روشنی کا، روشنی فراہم کرتا ہے اور دن ہو جاتا ہے، جبکہ رات، چاند جو ہے وہ رات کو نکلتا ہے اور اس کے لیے رات میں روشنی ہوتی ہے، اور اس کے لیے ہم مہینوں کا حساب رکھتے ہیں وغیرہ بھئی۔ وسخر الشمس والقمر اور کام میں لگا دیا سورج کو اور چاند کو، کل یجری لأجل مسمى، کل یجری، ہر ایک چل رہا ہے لأجل، اجل کہتے ہیں مدت کو۔ مدت بھئی، مسمى یعنی مقررہ، مقررہ۔ کل یجری لأجل مسمى، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت مقررہ تک، ایک وقت مقررہ تک یہ چلتے رہیں گے یہاں تک کہ پھر قیامت قائم ہو جائے بھئی، یعنی قیامت تک چلتے رہیں گے۔ ذلکم اللہ ربکم۔ ذلکم بھئی، میں نے بتلایا تھا یہ کم کیا ہے؟ حرف خطاب ہے بھئی، یہ صرف اتنا بتلاتا ہے کہ خطاب کتوں سے کیا جا رہا ہے؟ اس کا معنی نہیں ہوتا بھئی۔ ذلکم اللہ ربکم، یہ ہے اللہ ربکم، تمہارا پروردگار، لہ الملک اسی کے لیے بادشاہی ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارے پروردگار جو، جنہوں نے تم پر یہ جس کی، جس کی یہ یہ قدرتیں ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔ بھئی، ذلکم اللہ ربکم، یہ ہیں اللہ تمہارے پروردگار، لہ الملک اسی کے لیے بادشاہی ہے۔ والذین تدعون من دونہ، اور وہ تدعون کہ تم پکارتے ہو من دونہ، ای من دون اللہ، اللہ کے علاوہ۔ اور وہ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ، ما یملکون من قطمیر، قطمیر کہتے ہیں بھئی، کھجور کی گھٹلی پر ایک باریک سا غلاف سا، چھوٹا، وہ پردہ سا ہوتا ہے، اگر آپ نے کبھی غور کیا ہو بھئی۔ کھجور کی گھٹلی پر وہ باریک سا وہ، باریک سی جھلی سی اور باریک سا وہ پردہ سا اس کے اوپر ہوتا ہے، اسے قطمیر کہتے ہیں بھئی، قطمیر بھئی۔ تو اللہ فرماتے ہیں اور وہ لوگ جن کو تو، اور وہ، یعنی معبودان باطلہ مراد ہیں، اور وہ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ ما یملکون من قطمیر، وہ تو اس کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں بھئی، کتنی معمولی سی چیز ہے، لیکن وہ اس کے بھی مالک نہیں ہیں، اللہ تو وہ ہے جس کی قدرتیں اوپر بیان ہوئیں، بھئی، دو سمندر ہیں، ہر ایک میں تمہارے وہ دو سمندر تمہارے لیے چلا دیے، ہر ایک میں تمہارے نفع ہیں، ان میں سے زیور بھی نکالتے ہو، اس میں سے تازہ گوشت بھی نکالتے ہو، انہی کے ذریعے تم تجارت بھی کرتے ہو، اس نے تمہارے لیے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا، دن کو رات میں داخل کرتا ہے، رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اور ہر ایک کو چلا دیا ہے ایک مقررہ وقت تک، قیامت تک، یہ سب چلتے رہیں گے اسی طرح، اور یہ ہے اللہ، جبکہ وہ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو، وہ تو کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں۔ والذین تدعون من دونہ، اور وہ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ، وہ مالک نہیں ہیں کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی، ان تدعوہم، اگر تم پکارو ان کو، لا یسمعوا دعاءکم، تو نہ سنیں تمہاری پکار کو۔ اگر تم ان کو پکارو، تو تم، اولاً تو تمہاری پکار سن ہی نہیں سکتے بھئی، یہ بت وغیرہ جو تم نے بنائے ہیں، یہ تمہاری پکار کو سنتے، سن ہی نہیں سکتے، ولو سمعوا، اور اگر سن لیں، اگر بالفرض وہ سن بھی لیں، مستج، مستجابوا لکم، تو جواب نہ دے سکیں تمہیں، استجابہ کا کیا معنی ہے؟ جواب دینا، مستجابوا لکم تمہیں جواب نہ دے سکیں۔ تو استجابہ کا ایک معنی ہے جواب دینا، اور استجابہ کا ایک معنی ہے قبول کرنا بھئی، قبول کرنا۔ آپ بھی کہتے ہیں، اللھم استجب دعاءنا، اے اللہ ہماری دعا قبول فرما لیجیے۔ جی، تو دونوں معنی سمجھ میں آ گئے استجابہ کے بھئی؟ پہلا کیا معنی؟ جواب دینا۔ اور دوسرا معنی؟ قبول کرنا۔ قبول کرنا مراد ہے حاجت پوری کرنا۔ اللہ جب ہماری دعا قبول کرتے ہیں کیا معنی ہم، ہوتا ہے؟ ہماری وہ حاجت پوری کر دیتے ہیں۔ تو دیکھیے پہلا معنی ولو سمعوا مستجابوا لکم، اگر سن لیں، تم جواب نہ دے سکیں تمہیں بھئی، ما نافیہ ہے، مستجابوا لکم، تمہیں جواب نہ دے سکیں۔ دوسرا معنی، ولو سمعوا، اور اگر سن بھی لیں مستجابوا لکم، تو تمہاری حاجت پوری نہ کر سکیں، تمہاری مراد پوری نہ کر سکیں۔ یا قبول نہ کر سکیں، جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ ان تدعوہم لا یسمعوا دعاءکم، اگر تم، ان تدعوہم اگر تم ان کو پکارو، لا یسمعوا دعاءکم، تو نہ سنے تمہاری پکار کو، ولو سمعوا، اور اگر سن لیں مستجابوا لکم، تو جواب نہ دے سکیں تمہیں، مستجابوا لکم، مراد پوری نہ کر سکیں تمہاری، ویوم القیامۃ یکفرون بشرککم، اور قیامت کے دن یکفرون، یہ انکار کریں گے بشرککم تمہارے شرک کا۔ یہ قیامت کے دن کیا کریں گے؟ تمہارے شرک کا انکار کریں گے، یعنی تم نے ان کو جو میرے ساتھ شریک ٹھہرایا تھا یہ انکار کریں گے اس کا کہ, "اے اللہ، ہم نے تو ان کو نہیں کہا تھا کہ ہمیں آپ کا شریک ٹھہرائیں، آپ کا شریک بنائیں۔ ہماری کیا مجال کہ اس طرح کی کوئی بات کرتے، یہ یہی لوگ شیاطین کے، شیاطین کے کہنے پر چلتے تھے اور ہمیں آپ کا شریک بناتے تھے۔" تو قیامت کے دن وہی مشرکین جو ان کی عبادت کرتے تھے، ان کے سامنے سجدے کرتے تھے، اس نیت سے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے، قیامت کے دن یہ الٹا انہی کے خلاف بولیں گے کہ، "اے اللہ، ہم نے تو ان کو یہ نہیں کہا تھا کہ ہمیں آپ کا شریک کریں، اور ہمیں کوئی، ہمیں یہ پسند نہیں تھا کہ ہمیں آپ کا شریک کریں، تو ان کی اور بھی زیادہ ان کے لیے تکلیف اور غم کا باعث بنے گا، کہ ان کے پیچھے ہی تو ہم نے ساری زندگیاں گزار دیں، اور آج ہمیں یہ الٹا ہمارے ہی خلاف گواہی دے رہے ہیں بھئی۔" ولا ینبئک مثل خبیر، اور خبر نہیں دے گا، نبأ ینبئک کے معنی خبر دینا، اطلاع دینا، بتلانا۔ ولا ینبئک، اور خبر نہیں دے گا آپ کو مثل خبیر، خبیر باخبر، باخبر کے مثل، باخبر جیسی، باخبر کی طرح کوئی آپ کو خبر نہیں دے گا۔ اللہ کی ذات سب کچھ جاننے والی ہے، وہ فرما رہے ہیں کہ میں جب تمہیں بتلا رہا ہوں، ساری حقیقت تم پر واضح کر رہا ہوں، تو اب کیا بات چھپی ہوئی رہ گئی؟ اور بتلائے، باخبر کی، میری طرح یعنی کوئی تمہیں نے خبر نہیں دے گا۔ ان تدعوہم لا یسمعوا دعاءکم، اگر پکارو تم ان کو تو یہ تمہاری پکار کو نہ سنیں، ولو سمعوا مستجابوا لکم، اور اگر سن لیں مستجابوا لکم، تو تمہاری مراد پوری نہ کر سکیں، ویوم القیامۃ یکفرون بشرککم، اور قیامت کے دن انکار کریں گے تمہارے شرک کا، ولا ینبئک مثل خبیر، اور خبر نہیں دے گا تجھے باخبر کے مثل، باخبر کی طرح کوئی تمہیں خبر نہیں دے گا۔ چلیے بس، بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔