اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یا ایہا النبی اتق اللہ ولا تطع الکافرین والمنافقین ان اللہ کان علیما حکیما۔ واتبع ما یوحی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیرا۔ وتوکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا۔ آج ہم سورہ احزاب پڑھیں گے۔ بھئی اس صورت کے اندر غزوہ خندق کی تفصیل ا رہی ہے۔ وہ واقعہ ذکر ہو رہا ہے۔ اس لیے اس کو سورہ احزاب کہا جاتا ہے۔ بھئی۔ غزوہ خندق بھئی۔ جو سن پانچ ہجری میں شوال کے اندر پیش ایا۔ اور جس میں دشمن کو روکنے کے لیے مسلمانوں نے خندق کھودی۔ تو اسے غزوہ خندق بھی کہتے ہیں اور غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں۔ احزاب جمع ہے حزب کی۔ حزب کی اور حزب کہتے ہیں جماعت کو اور گروہ کو۔ تو چونکہ اس غزوے کے اندر بھی کفار کی طرف سے بہت سی جماعتیں عرب کے بڑے بڑے قبیلے اکٹھے ہو کر ا گئے تھے۔ تو اس لیے اس کو کیا کہا جاتا ہے غزوہ احزاب کہا جاتا ہے۔ بھئی۔ یا ایہا النبی اتق اللہ۔ اے پیغمبر اتق اللہ۔ اتقا کے معنی ڈرنے کے ہیں۔ اتق اللہ اللہ سے ڈریے۔ اتق اللہ اللہ سے ڈریے۔ بھئی۔ اللہ سے ڈریے کیا معنی؟ کیا پیغمبر اللہ سے ڈرتے نہیں تھے؟ تو یاد رکھیے یہاں ترجمہ یہ نہ کیجیے گا اللہ سے ڈریے۔ بلکہ ترجمہ یوں کیجیے اے پیغمبر اللہ سے ڈرتے رہیے۔ یعنی ڈرتے تو آپ ہیں اسی حال پر مداومت کا حکم دیا جا رہا ہے دوام کا ہمیشگی کا بھئی۔ اے پیغمبر اللہ سے ڈرتے رہیے۔ ولا تطع الکافرین والمنافقین اور اطاعت نہ کیجیے آپ کافروں کی اور منافقوں کی۔ یعنی کہنا نہ مانیے ان کا۔ یا ایہا النبی اتق اللہ اے پیغمبر اللہ سے ڈرتے رہیے اور کہنا نہ مانیے کافروں کا اور منافقوں کا۔ ان اللہ کان علیما حکیما یقیناً اللہ خوب علم رکھنے والے خوب حکمت والے ہیں۔ یقیناً اللہ خوب علم والے خوب حکمت والے ہیں۔ تو ترجمہ کیا کریں گے میں نے بتلایا پیغمبر اللہ سے ڈرتے رہیے۔ اور بازوں نے کہا کہ یہ خطاب پیغمبر کو ہے اور مراد امت ہے۔ کہ اے مومنو اللہ سے ڈرتے رہو۔ کفار اور منافقوں کی بات نہ مانو۔ واتبع ما یوحی الیک من ربک اور اتباع کیجیے پیروی کیجیے ما اس چیز کی یوحی الیک جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف من ربک آپ کے پروردگار کی طرف سے۔ ان اللہ کان بما تعملون خبیرا۔ یقیناً اللہ خوب باخبر ہے جو تم عمل کرتے ہو۔ یقیناً اللہ جو تم عمل کرتے ہو اس سے پورا باخبر ہے۔ تو یہ بما تعملون کا تعلق جار مجھ رو رہے بھئی اس کے لیے یہ ہمیشہ کسی چیز سے متعلق ہوں گے ان کے لیے متعلق چاہیے۔ وہ متعلق خبیرا مؤخر ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی تو یہ اس کے ساتھ مؤخر کر کے ذرا جوڑیں پھر ترجمہ آپ کو صحیح سمجھ میں آئے گا۔ کیسے بن جائے گی عبارت بھئی ان اللہ کان خبیرا بما تعملو بما تعملونا۔ یقیناً اللہ باخبر ہیں جو تم عمل کرتے ہو۔ اسی طرح ہے ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ تو یہاں بھی علی کل شیء قدیر سے متعلق ہے بھئی۔ تو اس کو مؤخر کریں پھر آپ کو ترجمہ واضح سمجھ میں آئے گا۔ ان اللہ قدیر علی کل شیء اللہ یقیناً اللہ قادر ہیں ہر چیز پر تو یہاں بھی اسی طرح بھئی۔ ان اللہ کان بما تعملون خبیرا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ جو تم عمل کرتے ہو اس سے پورے باخبر ہیں۔ وتوکل علی اللہ اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ وکفی باللہ وکیلا۔ اور اللہ کافی ہیں بطور کارساز کے وکیلا بطور کارساز کے یعنی کام بنانے والے کے بطور کام بنانے والے۔ وکفی باللہ۔ یاد رکھیے یہ با زائدہ ہے۔ اور لفظ اللہ یہ مجھ رور ہے لفظاً لیکن مرفوع ہے محلاً یہ فاعل ہے کفا کے لیے ای کف اللہ۔ ای کف اللہ یعنی کہ اللہ کافی ہیں بھئی۔ تو کفا باللہ میں یہ با کیا ہے؟ زائد ہے بھئی۔ اور اللہ کافی ہیں وکیلا بطور کارساز کے۔ ما جعل اللہ ل رجل من قلبین فی جوفہ۔ ما جعل اللہ اللہ نے نہیں بنائے یہ ما نافیہ ہے بھئی نفی کے لیے۔ ما جعل اللہ نہیں بنائے اللہ نے ل رجل کسی شخص کے لیے من قلبین دو دل فی جوفہ اس کے اندر۔ جوف اندر والا حصہ بھئی سمجھ میں آیا بھئی۔ کوئی چیز ہو اس کے اندر کا حصہ جو ہے اس کا پیٹ جو ہے اسے کیا کہا جاتا ہے؟ جوف کہتے ہیں۔ تو یہاں کہ اللہ نے کسی شخص کے دو دل نہیں بنائے فی جوفہ اس کے اندر یعنی اس کے سینے میں۔ ما جعل اللہ ل رجل من قلبین فی جوفہ نہیں بنائے اللہ نے کسی شخص کے دو دل اس کے سینے میں۔ وما جعل ازواجكم اللائی تظاہرون منہن امهاتكم۔ اور نہیں بنایا اللہ نے تمہاری بیویوں کو تمہاری وہ بیویاں۔ ازواجکم اللائی تمہاری وہ بیویاں۔ اللائی یہ اس میں موصول ہے بھئی۔ جمع مؤنث کا جمع مؤنث کے لیے جی۔ وما جعل ازواجکم اللائی اور نہیں بنایا اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو تظاہرون منہن کہ تم اظہار کر لیتے ہو جن سے امهاتکم تمہاری مائیں بھئی اظہار آپ جانتے ہیں بھئی اصول و شاشی میں پڑھ چکے ہوں گے کہ ظہار کسے کہتے ہیں کہ بیوی کو تشبیہ دینا ماں کے ساتھ کوئی شخص مثلاً اپنی بیوی سے یوں کہتا ہے انت علی کظہری أمي۔ تم میرے لیے میرے لیے اسی طرح ہے جس طرح میری ماں کی پشت بھئی۔ تو بیوی کو تشبیہ دینا ماں کے ساتھ یا اسی طرح کسی ایسے عورت کے ساتھ جو انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے یعنی جس سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ ظہار بھئی۔ اور عرب میں جب کوئی شخص اس طرح اپنی بیوی کو کہہ دیتا تھا زمانہ جاہلیت میں تو اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس شخص پر حرام سمجھا جاتا تھا۔ بھئی۔ جبکہ اسلام نے بھی بتلایا کہ بھئی اسلام نے بتلایا کہ ہمیشہ کے لیے تو حرام نہیں ہوئی لیکن یہ بہت بڑی اور غلط بات تم نے منہ سے کہی ہے کہ بیوی کو ماں کے مثل کہہ دیا حرمت کے اندر۔ تو لہذا اب تم پھر اسی بیوی کے پاس ساتھ رہنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں اس کا کفارہ دینا پڑے گا۔ بھئی غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا اگر یہ غلام باندی نہ ملے یا اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے۔ اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو پھر کیا کرے؟ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا تو پھر اس کے بعد بیوی حلال ہو جائے گی۔ تو یہ ہے ظہار بھئی ظہار۔ تو اللہ فرما رہے ہیں وما جعل ازواجكم اللائی تظاہرون منہن امهاتکم۔ اور نہیں بنایا اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم اظہار کر لیتے ہو امهاتکم تمہاری مائیں یعنی ان بیویوں کو جن سے تم اظہار کر لیتے ہو انہیں تمہاری مائیں نہیں بنایا بھئی۔ تو اس طرح کہہ دینے سے وہ سچ مچ کی ماں نہیں بن گئی حقیقی ماں نہیں بن گئی کہ تم کہتے ہو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انسان پر کیا ہو گئی؟ حرام ہو گئی جیسے کہ زمانہ جاہلیت میں سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ البتہ چونکہ ایک بڑی غلط بات کہی ہے تو اب تمہیں کیا کرنا پڑے گا؟ کفارہ دینا پڑے گا اور وہ تمہاری ماں نہیں بنی بس یہ کفارہ دے دو پھر تم اس کے ساتھ رہ سکتے ہو۔ وما جعل ادعيائكم ابناءكم۔ اور نہیں بنایا۔ ادعیاء جمع ہے دعی کی دعیون۔ دعی لے پالک بھئی منہ منہ بولا جیسے بعض کیا کرتے ہیں کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتے ہیں کہ ہمارا بیٹا ہے۔ یعنی منہ بولے بیٹے مراد ہیں بھئی اس سے۔ اور نہیں بنایا اللہ نے ادعيائكم تمہارے منہ بولوں کو یعنی منہ بولے بیٹوں کو ابناءکم تمہارے بیٹے یعنی وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا۔ وما جعل ادعيائكم ابناءکم اور نہیں بنایا تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا سچ مچ کا بیٹا۔ ذالک قولکم بافواهکم۔ یہ تو تمہاری بات ہے من ب افواهکم تمہارے منہ سے۔ یہ تو تمہارے منہ کی بات ہے بھئی یہ جو تم نے اپنے منہ سے کہی ہے اللہ نے تو ان کو تمہارا سچ مچ کا بیٹا نہیں۔ بنایا۔ ذالک آیا بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا ذالک اس میں اشارہ ہے اس کے آخر میں یہ کاف حرفیہ خطابیہ ہے۔ اور یہ قم جو اس وقت آپ کو ذالک کے آخر میں قم دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ضمیر نہیں ہے بلکہ حرف خطاب ہے اور یہ صرف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خطاب کتنے سے ہو رہا ہے۔ مثلاً زید دور کھڑا ہے میرے سامنے ایک آدمی ہو تو میں زید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہوں گا ذالک زید۔ ترجمہ کیا ہوگا؟ وہ زید ہے وہ کاف کا ترجمہ نہیں ہوگا بھئی معلوم ہوا یہ حرف ہے بھئی۔ تو صرف اس نے اتنا بتایا کہ مخاطب ایک ہے اور مذکر ہے۔ اور دو ہوں مخاطب زید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں کیا کہوں گا؟ ذالکما زید۔ ترجمہ پھر بھی وہی ہوگا وہ زید ہے اگر میرے سامنے تین یا زیادہ افراد ان کو میں زید کی طرف اشارہ کر کے بتلا رہا ہوں تو یوں کہوں گا ذالکم زید بھئی۔ تو ترجمہ پھر بھی وہی ہوگا وہ زید ہے لیکن کم نے صرف کیا بتلایا کہ میرے مخاطب اس وقت دو سے زیادہ ہیں بھئی دو سے زیادہ ہیں۔ ذالکم قولکم بأفواہکم یہ تو تمہارے منہ کی بات ہے۔ واللہ یقول الحق اور اللہ حق بات کہتے ہیں وھو یھدی السبیل اور وہ ہدایت دیتے ہیں سیدھے راست اور وہی ہدایت دیتے ہیں سیدھے راستے کی السبیل بھئی۔ السبیل سے مراد سبیل حق ہے بھئی الف لام عہد خارجی ہے۔ مراد کیا ہے اس سے؟ الف لام کی جیسے میں نے بتایا کسی چیز کی طرف متعین چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ تو سبیل سے ہر راستہ نہیں مراد بلکہ کون سا راستہ مراد ہے؟ سبیل حق مراد ہے، سیدھا راستہ مراد ہے۔ واللہ یقول الحق اور اللہ حق بات کہتے ہیں وھو یھدی السبیل اور وہ سیدھے راستے کی ہدایت دیتے ہیں۔ بھئی اللہ فرما رہے ہیں ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ اللہ نے نہیں بنایا کسی شخص کے دو دل اس کے سینے میں۔ اور وہ تمہاری بیویاں جن سے تم اظہار کر لیتے ہو انہیں تمہاری مائیں نہیں بنایا۔ اور وہ جن کو تم نے اپنا منہ بولا بیٹا جنہیں کہتے ہو انہیں تمہارا حقیقی اور سچ مچ کا بیٹا نہیں بنایا یہ یہ تو تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ تو یہ عرب میں کہتے ہیں ایک شخص تھا۔ بڑا ہی ذہین اور فہیم قسم کا انسان بڑا قوی حافظہ اللہ نے اس کو دیا تھا اور بڑا ہوشیار اور چالاک تھا۔ اور نام تھا اس کا ابو معمر جمیل ابن معمر۔ ابو معمر میم عین میم را۔ ابو معمر جمیل ابن معمر۔ تو یہ بڑا ہی چالاک اور تیز اور قوی حافظے والا انسان تھا۔ تو یہ کہتا تھا کہ میرے دو دل ہیں۔ اور لوگ بھی یہی سمجھتے کہ اتنا ذہین اور فہیم ہے اتنا ہوشیار ہے اور اتنا قوی حافظہ ہے اس کے دو دل ہیں بھئی سب میں یہ بات مشہور تھی۔ اور کہتا تھا کہ میرے دو دل ہیں اور محمد جو کچھ کہتے ہیں اس سے بہتر تو میرا ایک دل ہی سمجھتا ہے ان سے زیادہ۔ ان سے تو اس طرح یہ مذاق وغیرہ اڑاتا تھا۔ غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار کو شکست ہونے لگی تو یہ بھی بھاگا۔ دوسروں کے ساتھ مشرکین کی طرف سے آیا تھا لڑنے کے لیے یہ بھی بھاگا اور اتنا بدحواس ہوا بھئی جب موت کا خوف اتا ہے تو انسان کی کیا حالت ہوتی ہے۔ بھاگا بدحواس ہو کر ایک جوتا پاؤں میں تھا تو ایک جوتا ہاتھ کے اندر۔ بھاگتے بھاگتے ابو سفیان کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ابو سفیان نے کہا بھئی کیا ہوا؟ کیا حال ہے لوگوں کا؟ اس نے کہا کہ لوگوں کو شکست ہو گئی ہے ہمارے لوگوں کو شکست ہو گئی ہے تو ابو سفیان نے کہا کیا بات ہے تم نے ایک جوتا تو پاؤں میں پہن رکھا ہے دوسرا ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے۔ تو وہ ایک دم چونک اٹھا کہتا ہے اچھا میں تو سمجھ رہا تھا شاید دونوں جوتے میں نے پاؤں میں پہنے ہوئے ہیں۔ تو کہتے ہیں پھر لوگوں کو پتہ چلا بھئی اس کے کوئی دو دل نہیں ہیں اگر اس کے دو دل ہوتے تو پھر اسے ضرور پتہ لگ جاتا کہ ایک جوتا میں نے ہاتھ میں پکڑ رکھا ہے کہ اتنا بدحواس ہو اسے پتہ ہی نہیں چلا۔ تو بعضوں نے کہا یہ اس شخص کے بارے میں جو وہ لوگوں میں مشہور تھا اور وہ بھی کہتا تھا اور لوگ بھی کہتے تھے کہ اس کے دو دل ہیں تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ نے کسی شخص کے دو دل نہیں بنائے بھئی، کسی شخص کے دو دل نہیں بنائے اس کے سینے میں۔ اور بعضوں نے کہا نہیں یہ ویسے محض اللہ فرما رہے ہیں ظہار اور یہ جو منہ بولے بیٹوں کی بات ائی اس کی مناسبت سے اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے۔ جیسے کسی شخص کی دو مائیں نہیں بنائیں۔ بیوی کو ظہار کہنے سے وہ بیوی ماں بیوی کے ساتھ ظہار کرنے سے بیوی ماں نہیں بن جاتی۔ کسی شخص کی دو مائیں نہیں ہو سکتیں، ماں تو وہی ہے حقیقی جس نے جنم دیا ہے، دوسری ماں نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جس کو تم نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا ہے تو اس کا باپ تو وہی ہے، دوسرا اس کا باپ نہیں۔ یعنی دو شخص اس کسی ایک کے باپ نہیں ہو سکتے، باپ تو ایک ہی ہوتا ہے حقیقت کے اندر تو اللہ نے ان کی مناسبت سے ذکر فرمایا۔ جس طرح اللہ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے، اسی طرح کسی شخص کی دو مائیں نہیں ہو سکتیں، کسی شخص کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔ ماں باپ تو ایک ہی ہوتے ہیں حقیقت میں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بعضوں نے اس واقعے کی نسبت کی کہ اس شخص کے رد کے طور پر اللہ نے فرمایا اور بعضوں نے کہا یہ ویسے اللہ نے بطور مثال کے ذکر کیا کہ جس طرح کسی کے ہم نے دو دل نہیں بنائے اسی طرح کسی کی دو مائیں بھی نہیں ہو سکتیں، اسی طرح کسی کے دو باپ بھی نہیں ہو سکتے۔ نیز بھئی یہ آیہ وما جعل ادعیاءکم ابناءکم اور نہیں بنایا تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے سچ مچ کے بیٹے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو نبوت سے پہلے اپنا منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا۔ اور یہاں تک کہ وہ تمام لوگوں میں اور اس وقت منہ بولا بیٹا جس کو بنا لیا جاتا تھا اسے حقیقی بیٹے کی طرح ہی سمجھا جاتا تھا۔ اور چنانچہ لوگوں میں بھی وہ زید ابن محمد کے نام سے مشہور تھے بھئی۔ زید ابن محمد کے نام سے مشہور تھے۔ اور ہوا اس طرح تھا کہ حضرت زید بن حارثہ بچے تھے، چھوٹے تھے، ان کو کسی نے اغوا کر لیا اور غلام بنا کر بیچ دیا۔ اور پھر بکتے ہوئے حضور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ہیں ان کے ایک رشتہ دار جو ہیں وہ خرید لائے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مبارکہ تھیں، ان کے حوالے کیا۔ حضرت خدیجہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا اور تو پھر یہ حضور کی خدمت میں رہتے تھے، خدمت کرتے۔ بعد میں کسی طرح کوئی شخص ان کا آیا۔ اس نے آ کر دیکھا کہ وہ جو فلاں لوگوں کا بچہ گم ہوا تھا وہ تو یہاں پر ہے، مکہ میں موجود ہے۔ چنانچہ اس نے جا کر ان کے رشتہ داروں کو خبر دی۔ اس کے والد، چچا، بھئی وغیرہ سب آئے اور آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپ کی تعریف و توصیف فرمائی کہ اپ تو لوگوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ تو تعریف وغیرہ کی مقصد یہ تھا کہ ہمارا کام ہو جائے، ہم ان سے اپنے بچے کو واپس لینے آئے ہیں اور پھر تعریف کرنے کے بعد پھر ذکر کیا کہ یہ ہمارا بچہ اپ کے پاس ہے، یہ کسی نے غلام بنا کر دھوکے سے بیچ ڈالا۔ یہ غلام نہیں ہے یہ تو ہمارا بیٹا ہے، ازاد ہے۔ یہ اپ ہمارے حوالے کر دیں ہمیں دے دیں، ہم اپ کے نہایت احسان مند ہوں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں اس سے بہتر بات تمہیں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا جی ضرور بتائیے۔ کہا کہ یہ اس سے اسی سے پوچھ لیتے ہیں۔ اس کی مرضی ہے اگر یہ میرے پاس رہنا چاہتا ہے اور اگر یہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے تو میں اسے نہیں روکوں گا۔ وہ کہنے لگے اس سے بڑھ کر اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا گیا۔ والدین کو دیکھا، ماں، چچا وغیرہ بھائیوں کو دیکھا، پہچانا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہیں لینے ائے ہیں تو انہوں نے انکار کر دیا کہ نہیں میں سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس رہوں گا۔ تو ان کے والدین نے کہا کہ بھئی تم غلامی کو ازادی پر ترجیح دے رہے ہو کہنے لگے تمہیں کیا معلوم یہ میرا یہاں کتنا خیال رکھتے ہیں۔ تو پھر جب والدین نے دیکھا کہ بیٹا اسی پر خوش ہے، اسی حالت میں راضی ہے، کسی تکلیف میں نہیں ہے تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے اپ یہیں رہیں۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اتنے خوش ہوئے ان کی بات سے کہ فرمایا آج سے تم میرے بیٹے ہو۔ چنانچہ وہ زید ابن محمد کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ہر ایک ہی انہیں زید ابن محمد کہنے لگا کیونکہ اس زمانے میں منہ بولا بیٹا بھی کس کی طرح سمجھا جاتا تھا؟ حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ پھر حضرت زید بن حارثہ جو ہیں ان کا نکاح ہوا حضرت زینب بنت جحش سے اور پھر بعد میں حضرت زید بن حارثہ نے انہیں طلاق دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہو گیا حضرت زینب بنت جحش سے۔ تو اس پر مشرکین مکہ باتیں کرنے لگے کہ کہ بھئی دیکھو محمد نے تو اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے اوروں کو منع کرتے ہیں کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کسی صورت میں جائز نہیں ہے اور خود نکاح کر لیا ہے۔ تو اس پر اللہ کی طرف سے یہ ایت نازل ہوئی کہ وہ لوگ کہ وہ جنہیں تم نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا ہے وہ وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں ہیں۔ وہ تمہارے وہ تمہارے حقیقی بیٹے نہیں ہیں یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں تو اللہ تعالی اس پر اللہ نے فرمایا کہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو اللہ نے تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا۔ وہ کسی کو بیٹا کہنے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور اس پر حقیقی بیٹے کے احکام نہیں لاگو ہو جاتے کہ اس کی بیوی کیا ہو جائے دوسرے پر حرام ہو جائے ہمیشہ کے لیے، ایسا نہیں ہے۔ واللہ یقول الحق اور اللہ حق بات کہتے ہیں وھو یھدی السبیل اور وہ سیدھے راستے کی، وہی سیدھے راستے کی ہدایت دیتے ہیں۔ ادعوہم لابائھم آگے اسی کا حکم بیان ہو رہا ہے کہ منہ بولے بیٹوں کو ائندہ ان کے اصل باپ کی طرف نسبت کر کے بلایا کرو بھئی۔ کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ ائندہ یعنی ان کو زید ابن محمد نہ کہو، زید ابن حارثہ کہا کرو۔ چنانچہ اس کے بعد پھر وہ زید ابن حارثہ ہی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ادعوہم پکارو تم ان کو لابائھم ان کے باپوں کی نسبت سے ھو اقسط عند اللہ یہ زیادہ انصاف والی بات ہے اللہ کے نزدیک۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ادعوہم لابائھم پکارو تم ان کو یعنی ان منہ بولے بیٹوں کو لابائھم ان کے باپ باپوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے ھو اقسط عند اللہ یہ زیادہ انصاف والی بات ہے اللہ کے نزدیک۔ وھو اقسط عند اللہ یہ زیادہ انصاف والی بات ہے اللہ کے نزدیک۔ اقسط بھئی اس میں تفضیل ہے اور اس میں تفضیل اپ جانتے ہیں کہ دوسرے پر زیادتی بتلانے کے لیے اتا ہے لیکن یہاں کسی یہاں یہ مطلق زیادتی کے معنی میں ہے بھئی۔ کسی دوسری چیز پر زیادتی بتلانے کے لیے نہیں ہے کہ اس کے مقابلے میں زیادہ انصاف کی بات ہے، کسی دوسری بات کے مقابلے میں بلکہ مطلق زیادتی بتلانا مقصود ہے۔ یہ ہوا اقسط عند اللہ یہ زیادہ انصاف والی بات ہے یعنی پورے انصاف والی بات ہے۔ یہ زیادہ انصاف والی بات ہے اللہ کے نزدیک۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ وھو اقسط عند اللہ یہ زیادہ انصاف والی بات ہے اللہ کے نزدیک۔ فإن لم تعلموا آباءھم فإخوانکم فی الدین وموالیکم پس اگر تم نہ جانتے ہو ان کے باپوں کو، یعنی پتہ ہی نہیں کون ہے باپ ان کا۔ فان لـ فـ إن لم تعلموا آباءھم پس اگر تم نہ جانتے ہو ان کے باپوں کو فإخوانکم فی الدین تو وہ تمہارے بھئی ہیں دین میں، یعنی تمہارے دینی بھئی ہیں۔ وموالیکم اور تمہارے رفیق ہیں، تمہارے ساتھی ہیں۔ فإن لم تعلموا آباءھم پس اگر تم نہ جانو ان کے باپوں کو فإخوانکم فی الدین تو وہ تمہارے دین میں بھئی ہیں وموالیکم اور تمہارے رفیق ہیں۔ ولیس علیکم جناح فیما أخطأتم بہ ولکن ما تعمدت قلوبکم وـ وـ وليس علیکم تو اللہ نے حکم دے دیا کہ آئندہ اس کو کس سے منہ بولے بیٹوں کو کس سے کس نسبت سے پکارا جائے؟ ان کے اصل باپ کی طرف نسبت کر کے بلایا کرو بھئی۔ کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ ان کو آئندہ یعنی ان کو زید ابن محمد نہ کہو، زید ابن حارثہ کہا کرو۔ ولیس علیکم جناح اور نہیں ہے تم پر کوئی حرج یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں ہے فیما أخطأتم بہ اس میں جو تم سے غلطی ہو جائے۔ اور تم پر کوئی حرج نہیں کوئی گناہ نہیں فیما أخطأتم بہ جس میں تم سے غلطی ہو جائے۔ یعنی غلطی سے اگر پکار بیٹھو تو اس میں کوئی گناہ نہیں، کوئی حرج نہیں بھئی، بے دھیانی میں پکارا۔ ولکن ما تعمدت قلوبکم لیکن جس کا ارادہ کر لیں تمہارے دل، یعنی جس کا دل سے تم ارادہ کر لو اس وہ ٹھیک نہیں ہے بھئی۔ وہ گناہ والی بات ہے، اللہ نے جب ایک دفعہ منع فرما دیا تو اب پھر اس طرح جان بوجھ کر کرنا یہ کیا ہے؟ یہ گناہ کی بات ہے۔ تو یہ معنی ہے وليس علیکم جناح فیما أخطأتم بہ اور نہیں ہے تم پر کوئی حرج اس میں کہ جو تم غلطی کرو ولکن ما تعمدت قلوبکم لیکن وہ جس کا ارادہ کریں تمہارے دل۔ وكان اللہ غفورا رحیما اور اللہ خوب بخشنے والے اور نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ وكان اللہ غفورا رحیما اور اللہ بہت بخشنے والے، نہایت رحم کرنے والے ہیں۔ النبی أولى بالمؤمنین من أنفسھم وأزواجھم أمهاتھم نبی أولى زیادہ لائق ہیں۔ نبی زیادہ لائق ہیں مومنین پر من أنفسھم ان کے نفسوں سے۔ یعنی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ نبی زیادہ تعلق رکھتے ہیں مومنین سے ان کے نفسوں سے بھی۔ أولى اس میں تفضیل ہے بھئی، اس میں تفضیل کے استعمال کے تین طریقے آپ نے پڑھے ہیں یا اضافت کے ساتھ ہوگا یا من کے ساتھ، یا من کے ساتھ یا علیف لام کے ساتھ بھئی اور یاد رکھیے ان تین طریقوں میں سے من کے ساتھ جو ہے وہ اصل طریقہ ہے آپ کتب نحو کے اندر پڑھیں گے بھئی۔ تو یہاں یہ من کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے أولى اور آگے من أنفسھم نبی زیادہ تعلق رکھتے ہیں مومنین کے ساتھ من أنفسھم ان کے نفسوں کے مقابلے میں، ان کی اپنی جانوں کے مقابلے میں۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ یعنی انسان سب سے زیادہ خیر اپنے نفس کی چاہتا ہے۔ کس کی چاہتا ہے؟ اپنے نفس کی، ہر معاملے میں وہ اپنے نفس ہی کا نفع دیکھتا ہے سب سے بڑھ کر۔ اللہ فرما رہے ہیں نبی زیادہ تعلق والے ہیں مومنین پر ان کے نفسوں سے بھی۔ یعنی جس طرح انسان اپنے نفس کا خیال رکھنے والا ہے، پیغمبر اس سے بھی بڑھ کر تم لوگوں کا خیال رکھنے والے ہیں۔ پیغمبر اس سے بھی بڑھ کر ان کا خیال رکھنے والے ہیں۔ یعنی پیغمبر کو اس سے بھی بڑھ کر ان کی فکر ہے۔ پیغمبر کی خواہش ہے، ہر ایک جو ہے جنت میں چلا جائے، جہنم سے بچ جائے۔ جہنم کے عذاب سے اس کی حفاظت ہو جائے۔ ایک یہ معنی بھئی۔ دوسرا معنی بعض مفسرین نے کیا مومنین کو پیغمبر سے زیادہ لگاؤ ہے اپنی جانوں سے بھی۔ جو ایمان والے ہوتے ہیں ان کو پیغمبر سے ان کو پیغمبر کے ساتھ اپنی جانوں سے بھی بڑھ کر لگاؤ ہوتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دونوں ترجمے کے مفسرین نے ایک معنی یہ کہ پیغمبر جو ہیں وہ زیادہ تعلق رکھتے ہیں یعنی مومنین پر ان کے نفسوں سے بھی بڑھ کر ان کا خیال رکھتے ہیں۔ جس طرح وہ اپنے نفس کا خیال رکھتے ہیں اور دوسرا معنی کیا کہ مومنین کو جو ہیں مومنین جو ہوتے ہیں وہ پیغمبر سے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں۔ النبی أولى بالمؤمنین من أنفسھم پیغمبر زیادہ تعلق رکھتے ہیں مومنین سے ان کے نفسوں سے بھی وأزواجھم أمهاتھم اور ان کی جو ازواج ہیں، پیغمبر کی جو بیویاں ہیں أمهاتھم مومنین کی مائیں ہیں۔ اور پیغمبر کی بیوی ان کی مائیں ہیں بھئی۔ تو یہاں ازواج مطہرات کو امت کی مائیں قرار دیا گیا، مومنین کی مائیں قرار دیا گیا۔ اور یہ بھی ماں کی طرح ہی ہیں لیکن ہر اعتبار سے نہیں بھئی، حرمت نکاح کے سلسلے میں اور عزت اور تکریم کے لحاظ سے کہ عزت میں تمہاری اسی طرح ہیں جیسے تمہاری مائیں ہیں بھئی۔ یعنی جس طرح اپنے ماؤں کی عزت کرتے ہو اسی طرح بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ان کی عزت کی جائے۔ اور نیز جس طرح اپنی ماں سے نکاح حرام ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی تمہاری مائیں ہیں ان کے ساتھ بھی کیا ہے نکاح پیغمبر علیہ السلام کی وفات کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان سے نکاح کر سکے بھئی، کیونکہ یہ ان کی مائیں ہیں۔ باقی تمام احکام کے اندر نہیں بھئی، وراثت کے مسئلے میں نہیں کہ جن کا انتقال ہوتا ہے تو ماں کی وراثت بیٹوں کو ملتی ہے، تو مومنین کہیں ہمیں بھی وراثت ملے نہیں بھئی اس اعتبار سے نہیں۔ نیز پردے کے اعتبار سے بھی نہیں بھئی، ماں سے تو پردہ نہیں ہوتا لیکن یہ مومنین سے کیا کرتی تھیں امہات المؤمنین؟ پردہ کرتی تھیں، اس حکم میں بھی نہیں مراد بھئی۔ اور نیز بھئی ماں کی بیٹی سے تو نکاح جائز نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو اپنی بہن ہوتی ہے، لیکن یہاں ان ماؤں کی بیٹیوں کو امت کی بہنیں نہیں قرار دیا گیا۔ چنانچه حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بیٹیاں جو ہیں دو کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا، ایک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا۔ تو اگر وہ بھی بہنیں ہوتیں پھر کہ تو نکاح جائز ہی نہ ہوتا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو تو وہ امت کی مائیں ہیں کس چیز کے اندر؟ حرمت نکاح کے اندر بھئی۔ وأزواجھم أمهاتھم اور ان کی بیویاں اور اور پیغمبر کی بیویاں أمهاتھم ان مومنین کی مائیں ہیں۔ وأولو الارحام بعضھم أولى ببعض فی کتاب اللہ من المؤمنین والمھاجرین أولوالأرحام بھئی، رشتہ دار اولوالأرحام رشتہ دار۔ رشتہ داری والے اولوالأرحام رشتہ داری والے۔ أولو ذو ذو آتا ہے نا جیسے ذو مال کا کیا معنی ہوتا ہے مال والا۔ اور اسی طرح جمع أولو آتی ہے ذو کی من غیر لفظہ۔ تو یہ بھی اسی طرح اولوالأرحام رشتے والے یعنی رشتہ دار۔ وأولوالأرحامی اور رشتہ دار جو ہیں بعضھم أولى ببعض وہ بعض ان میں سے وہ اولی ہیں بعض سے، یعنی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ بعضھم بببعض ان میں سے بعض، بعض کے ساتھ۔ تو اس کا ترجمہ کیا جائے گا ایک دوسرے کے ساتھ۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ ایک دوسرے۔ وأولوالأرحامی اور رشتہ دار جو ہیں بعضھم أولى ببعض وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ تعلق رکھتے ہیں فی کتاب اللہ اللہ کی کتاب میں۔ یعنی لوح محفوظ مراد ہے یا اللہ کا فیصلہ مراد ہے۔ اللہ کی کتاب میں یعنی اللہ کے فیصلے میں۔ بھئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو جتنے مہاجرین ساتھ آئے تھے وہ تو اپنے سارے رشتہ داروں کو وہیں مکہ میں چھوڑ ائے تھے، وہ کافر تھے یہ ایمان کی حالت میں مدینہ منورہ آ گئے۔ اب ان کا کوئی عزیز وغیرہ وہاں پر نہیں تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے جو رہائشی مسلمان تھے انصار بھئی، انصار، انصار کے ساتھ ان کی مواخات کر دی۔ ایک ایک مہاجر کو ایک ایک انصاری کا بھئی بنا دیا۔ کیا بنا دیا؟ ایک ایک انصاری کو ایک ایک مہاجر کا بھئی بنا دیا گیا اور پھر انصار نے اپنے مہاجرین بھائیوں کی اس حد تک مدد کی کہ انسان حیران رہ جاتا ہے، کیسے عجیب لوگ تھے کس طرح پیغمبر کے اللہ کے حکم پر ہر چیز قربان کر دیا کرتے تھے۔ اور پھر وراثت کے اندر بھی بھئی یہاں جب بھئی بنا دیا تو وراثت میں بھی اس کا حصہ ہو شریک ہوتا تھا بھئی۔ تو یہاں آیت میں اب بتلایا جا رہا ہے کہ وأولوالأرحام بعضھم أولى ببعض فی کتاب اللہ اور جو قری رشتہ دار ہیں وہ ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں اللہ کی کتاب میں من المؤمنین والمھاجرین مومنین اور مہاجرین سے۔ مومنین اور اور اور مومنین اور مہاجرین سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں رشتہ دار بھئی ایک دوسرے سے بھئی۔ بعد میں اور رشتہ دار بھی مسلمان ہو کر آ گئے بھئی تو اللہ تعالی نے کیا حکم دے دیا؟ کہ اب وہ جو وراثت والا سلسلہ تھا جن دو میں اخوت قائم کی گئی تھی، وہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے تھے لیکن اب تو رشتہ دار وغیرہ بھی مسلمان ہو گئے اور رشتہ داروں کا ایک دوسرے سے تعلق زیادہ ہوتا ہے، وہ زیادہ حقدار ہیں وراثت کے بنسبت کس کے؟ ان بھائیوں کے۔ لذا اب وراثت جو ہے وہ ان کے جو رشتہ دار وغیرہ ہیں ان کو ملا کرے گی، ان مہاجرین جو جن کے ساتھ اخوت قائم کی گئی تھی انہیں نہیں ملے گی بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی کیا مراد ہے؟ ہاں رشتہ داروں کا تعلق وہ ان کا زیادہ تعلق ہوتا ہے تو یعنی اب رشتہ وراثت میں ان کا حق ہوگا بھئی، ان کا حق نہیں ہے بھئی اب وہ وارث نہیں بنیں گے یہ وارث بنیں گے جو رشتہ دار ہیں ان کے ۔ ولوالارحام بعضهم أولى ببعض في كتاب الله من المؤمنين والمهاجرين۔ بھئی اولی، اس میں تفصیل ایا اور آگے من آ رہا ہے من کے ساتھ یہ استعمال ہو رہا ہے ۔ کہ رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں مومنین اور مہاجرین کے مقابلے میں۔ یعنی اور دوسرے مومنین اور مہاجرین سے زیادہ آپس میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ فی کتاب اللہ کا کیا معنی میں نے کیا؟ اللہ کا فیصلہ یا لوح محفوظ بھئی۔ اور رشتہ دار جو ہیں وہ ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں اللہ کے فیصلے میں مومنین اور مہاجرین سے یا اولوالارحام رشتہ دار وہ ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں لوح محفوظ میں مومنین اور مہاجرین سے یعنی اللہ نے لوح محفوظ میں درج فرما دیا ہے کہ رشتہ دار ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں کس کے مقابلے میں دوسرے مومنین اور مہاجرین کے مقابلے میں۔ الا ان تفعلوا الی اولیائکم معروفا مگر یہ کہ کرو تم اپنے دوستوں اپنے رفیقوں کی طرف اپنے دوستوں کی طرف معروفا کوئی نیکی۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے مددگاروں کے ساتھ کوئی نیکی کرنا چاہو۔ معروفا کوئی نیکی کرنا چاہو مراد اس سے وصیت ہے بھئی۔ ہاں ان کے لیے وہ میراث میں حق دار نہیں ہیں اگر ان کے لیے وصیت کوئی کرنا چاہو تو الگ بات ہے وہ کرنے کی اجازت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی۔ یاد رکھیے جب انسان کا انتقال ہوتا ہے تو جو مال وہ چھوڑ کر مرتا ہے اس میں سے سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا بندوبست کیا جاتا ہے ۔ پھر اس کے بعد دوسرے نمبر پر اس پر اگر کسی اس نے کسی کے قرضے دینے ہوں تو ان قرضوں کی ادائیگی کی جاتی ہے چاہے سارا مال ہی اس میں ختم کیوں نہ ہو جائے وہ مقدم ہے میراث سے بھئی۔ پھر جب قرضے بھی ادا کر دیے یا کوئی تھے ہی نہیں تو پھر تیسرا حق آئے گا وصیت اس نے کوئی کی ہو تو وہ وصیت نافذ کی جائے گی جیسا اس نے کہا اس کے مطابق لیکن وصیت کے اندر پھر یاد رکھیے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت درست نہیں ہے بھئی۔ اگر کی بھی ہو صرف تیسرے حصے کے اندر وصیت نافذ کریں گے اور دو حصے وارثوں کے ہوں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی تو صرف تیسرے حصے کی وصیت کر سکتا ہے انسان بھئی۔ اگر زیادہ کی بھی کر لے میں نے بتلایا صرف تیسرے حصے میں وصیت نافذ ہوگی۔ باقی میں اس نے کہا میرا سارا مال زید کو دے دینا مرنے والے نے کہا تو اس کا سارا مال زید کو نہیں دیں گے صرف کتنا دیں گے؟ جو تیسرا حصہ قرضوں وغیرہ کے بعد بچے گا اس کا صرف تیسرا حصہ دیں گے۔ اور اگر رشتہ دار وارث اجازت دے دیں پھر سارا بھی دے سکتے ہیں جب وارث خود اجازت دے دیں گے کیا کریں؟ سارا دے دیں۔ تو یہ معنی ہے الا ان تفعلوا الی اولیائکم معروفا مگر یہ کہ تم کرو اپنے دوست ساتھیوں کے ساتھ معروفا کوئی نیکی یعنی ان کے لیے اگر کوئی وصیت کرنا چاہو تو وہ کر سکتے ہو۔ کان ذالک فی الکتاب مسطورا یہ کتاب کے اندر لکھا ہوا ہے یعنی لکھا جا چکا ہے۔ کان ذالک فی الکتاب مسطورا یہ کہ اس کتاب کے اندر لکھا جا چکا ہے یعنی لوح محفوظ میں یا اسی کتاب قرآن مراد ہے یا تورات مراد ہے تورات میں یہ حکم دیا جا چکا ہے لکھا جا چکا ہے۔ اس میں یہ اللہ درج فرما چکے ہیں لوح محفوظ میں یہ حکم کتاب میں لکھا جا چکا ہے یا قرآن کے اندر کہ اس میں بھی ابھی اللہ نے جیسے ذکر کر دیا یہ حکم قرآن کے اندر لکھا جا چکا ہے۔ واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح وإبراہیم وموسی وعیسی ابن مریم واخذنا منہم میثاقا غلیظا واذ اخذنا من النبیین۔ ای اذکر اذکر یہاں محذوف نکالیں گے اور اے پیغمبر یاد کیجیے اذ اخذنا جب ہم نے لیا من النبیین پیغمبروں سے میثاقہم ان کا عہد۔ بس جب پیغمبروں سے ہم نے ان کا عہد لیا ان کا قرار لیا۔ عہد و قرار بھئی۔ جب پیغمبروں سے ہم نے ان کا عہد و قرار لیا ان سے ان کا وعدہ ان سے وعدہ لیا۔ واذ اخذنا اور اے پیغمبر یاد کیجیے جب ہم نے لیا پیغمبروں سے میثاقہم ان کا عہد ومنک اور آپ سے ومن نوح اور نوح سے وإبراہیم اور ابراہیم سے وموسی اور موسی سے وعیسی ابن مریم اور عیسی ابن مریم سے۔ علیہم الصلاۃ والسلام۔ تو ان سے ہم نے عہد لیا واخذنا منہم میثاقا غلیظا اور لیا ہم نے ان سے پکا عہد۔ میثاقا غلیظا پکا عہد پختہ عہد لیا۔ واخذنا منہم میثاقا غلیظا اور لیا ہم نے ان سے پکا عہد۔ بھئی مراد ہے جب حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی ذریت نکالی گئی تھی قیامت تک ان کی جتنی پیدا ہونے والی اولاد ہے سب کو ان کی پشت سے نکالا گیا اور اس وقت اللہ نے ان پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ تم سب کو توحید کی طرف بلاؤ گے اور دین کی طرف بلانے میں کسی قسم کی کمی نہیں کرو گے اور دنیا کے اندر آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرو گے بھئی۔ تو اللہ نے یہ ان سے عہد لیا تھا۔ جیسے اللہ نے سب سے پوچھا تھا ألست بربکم کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے جواب میں کیا کہا تھا؟ بلا کیوں نہیں آپ ہمارے پروردگار ہیں لیکن دنیا میں آ کر پھر بہت سے لوگ اس عہد کو بھول گئے اور بعض نے اسی راستے کو اختیار کیا بھئی۔ واذ اخذنا اور جس وقت لیا ہم نے نبیوں سے ان کا عہد اور آپ سے اے پیغمبر منک آپ سے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام، حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام۔ تو یہاں پانچ انبیاء کا ذکر آیا بھئی منک اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسی اور حضرت عیسی ابن مریم بھئی۔ یہ پانچ انبیاء یاد رکھیے یہ اولو العزم انبیاء کہلاتے ہیں۔ کیا کہلاتے ہیں؟ اولو العزم انبیاء عزم والے انبیاء بھئی ان کا مقام اونچا ہے باقی انبیاء پر تو یہ اولو العزم انبیاء کہلاتے ہیں جن کا ذکر اس آیت میں آپ نے پڑھا بھئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سب سے پہلے آیا منک آپ سے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ آئے تو سب سے آخر میں ہیں لیکن مقام ان کا سب سے بڑھ کر ہے اس لیے ان کو سب سے پہلے ذکر فرمایا اللہ نے۔ واخذنا منہم میثاقا غلیظا اور لیا ہم نے ان سے پکا عہد لیصل الصادقین عن صدقہم تاکہ پوچھے تاکہ پوچھے وہ اللہ الصادقین سچوں سے عن صدقہم ان کے سچ کے بارے میں۔ تاکہ اللہ سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں پوچھے بھئی قیامت کے دن اللہ پوچھیں گے بھئی یہی انبیاء مراد ہیں تاکہ اللہ ان سچوں سے یعنی انبیاء سے ان کے سچ کے بارے میں پوچھے کفار کے سامنے ان کے سے پوچھا جائے گا کہ بتلاؤ بھئی تم نے پیغام میرا پہنچا دیا تھا دعوت دے دی تھی توحید کی طرف ان کو بلایا تھا کہ نہیں بلایا تھا؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اے اللہ آپ جانتے ہیں کہ ہم نے آپ ہی کے راستے کی طرف دعوت دیتے ہوئے زندگی گزاری تو کفار کو لاجواب کرنے کے لیے ان سے ان کے سامنے پوچھا جائے گا۔ لیصل الصادقین عن صدقہم تاکہ پوچھیں اللہ سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں واعد للکافرین عذابا ألیما اور تیار کر رکھا ہے اللہ نے کو کافروں کے لیے دردناک عذاب۔ یا أیہا الذین آمنوا اذکروا نعمت اللہ علیکم اذ جاءتکم جنود فأرسلنا علیہم ریحا وجنودا لم ترواھا وکان اللہ بما تعملون بصیرا۔ اے وہ لوگو یا أیہا الذین آمنوا اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو اذکروا نعمت اللہ علیکم تم یاد کرو اللہ کی نعمت کو اپنے اوپر اللہ کے فضل کو اپنے اوپر اذ جاءتکم جنود جب آئے تم پر لشکر بہت سے لشکر۔ وہی غزوہ خندق کا ذکر شروع ہوا بھئی غزوہ احزاب کا اذ جاءتکم جنود جنود جب آئے تم پر بہت سے لشکر فأرسلنا علیہم ریحا تو پس بھیجی ہم نے ان پر آندھی۔ ریح میں نے بتلایا تھا کہ ایک لفظ ریح ہے ایک ریاح بھئی ریح کا زیادہ تر استعمال کس میں ہے آندھی وغیرہ تیز ہوا جو ہے اس کے لیے استعمال ہوتا ہے زیادہ تر ہمیشہ نہیں لیکن زیادہ تر اور ریاح کا زیادہ تر استعمال کس میں ہے خوشگوار ہوا کے اندر بھئی تو اللہ کیا فرما رہے ہیں فأرسلنا علیہم ریحا ہم نے ان پر تیز ہوا بھیجی آندھی بھیجی۔ فأرسلنا علیہم ریحا پس بھیجی ہم نے ان پر ایک آندھی وجنودا اور ایسے لشکر لم ترواھا کہ تم نے انہیں نہیں دیکھا۔ اس وقت اللہ نے مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتے بھی نازل فرمائے تو مومن فرشتے نازل فرمائے جنہیں مومنین نے آنکھوں سے نہیں دیکھا بھئی۔ اذ جاءتکم جنود جب آئے تمہارے پاس لشکر پس بھی فأرسلنا علیہم ریحا پس بھیجی ہم نے ان پر آندھی وجنودا اور ایسے لشکر لم ترواھا کہ تم نے انہیں نہیں دیکھا وکان اللہ بما تعملون بصیرا اور اللہ جو ہیں اسی طرح بھئی بما تعملون کو کیا کریں ذرا بصیر سے مؤخر کریں پھر ترجمہ آپ کو صحیح سمجھ میں آئے گا۔ کس طرح ہو جائے گا وکان اللہ بصیرا بما تعملون اور اللہ دیکھنے والے ہیں جو تم عمل کرتے ہو اللہ دیکھنے والے ہیں جو تم عمل کرتے ہو۔ وکان اللہ بما تعملون بصیرا اور اللہ جو تم عمل کرتے ہو اسے دیکھنے والے ہیں۔ غزوہ خندق کی تفصیل آپ کو سنانا ہے بھئی۔ غزوہ خندق اور اسی کو غزوہ احزاب بھی کہتے ہیں اس کی تفصیل یاد رکھیے۔ یہ شوال پانچ ہجری میں پیش آیا بھئی شوال پانچ ہجری میں سخت سردی کا زمانہ تھا غلے وغیرہ کی بھی کمی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کا ایک قبیلہ تھا مدینہ منورہ میں بنو نظیر بھئی۔ بنو نظیر ضاد کے ساتھ بھئی۔ بنو نظیر قبیلہ تھا جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے نکال دیا۔ تو یہ لوگ پھر متحرک ہو گئے اور قریش وغیرہ اور دوسرے قبیلوں کے پاس گئے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیا۔ بھئی۔ جنگ کے لیے تیار کرنے لگے مشرکین مکہ کے پاس پہنچے بھئی۔ اور انہیں بلانے لگے ان کی تعریف کرنے لگے اور کہنے لگے ہم تمہارے ساتھ ہیں آپ لوگ ہمارے ساتھ چلیے ان مسلمانوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ مشرکین مکہ نے کہا بھئی پہلے ہمیں یہ بتاؤ تم لوگ بھی اہل کتاب ہو ہمارا دین اچھا ہے محمد کا دین اچھا ہے اور دیکھو تعصب کیسی چیز ہوتی ہے بھئی۔ وہ کہنے لگے کہ بھئی تمہارا دین بہت اعلی ہے محمد کا دین تمہارے سامنے کیا چیز ہے۔ ان کی جب اس طرح کی انہوں نے باتیں کیں مشرکین مکہ بڑے خوش ہوئے بھئی۔ کہ یہ تو یہود ہیں وہ بھی یہ اہل کتاب ہیں یہ بھی ہماری تائید کر رہے ہیں چنانچہ بڑی باتیں وغیرہ ہوئیں بالاخر جو ہیں مشرکین مکہ تیار ہو گئے۔ انہوں نے کہا ہم عورتوں کو بھی تیار کر لیں گے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں اور جب تک ختم نہیں ہو جائیں گے وہاں سے ہٹیں گے نہیں بھاگیں گے نہیں آپ سب تیاری کریں۔ چنانچہ مشرکین مکہ سب تیار تیاریوں میں لگ گئے۔ ادھر سے یہ نکلے بنو غطفان ایک بڑا قبیلہ تھا اس کے پاس جا پہنچے۔ ان کو بھی اسی طرح ابھارا اور تیار کرتے رہے وہ بحث وغیرہ انہوں نے کی تو کہنے لگے اچھا ہم یوں کریں گے۔ اگر آپ ہمارے ساتھ چلیں تو ہم آپ کو خیبر کی ایک سال کی جتنی کھجوریں ہوں گی وہ ساری آپ کو دیں گے بھئی۔ تو بہت بڑی مقدار تھی چنانچہ وہ بھی لالچ میں آئے کہ چلو یہ تو اچھی بات ہے کتنا عظیم نفع ہمیں ہو رہا ہے چلو ہم چلتے ہیں۔ وہ سارے بھی ان کے ساتھ تیار ہو گئے۔ اسی طرح یہود یہ شر پسند ان کا یہ ٹولہ یہ قبیلے قبیلے گھومتے رہے اور کئی قبائل کو انہوں نے تیار کر لیا بھئی۔ کئی قبائل کو۔ چنانچہ شوال پانچ ہجری کے اندر یہ روانہ ہوئے بھئی مدینہ منورہ پر چڑھائی کرنے کے لیے۔ مدینہ مکہ مکرمہ سے ابو سفیان جو ہیں وہ چار ہزار آدمیوں کا لشکر لے کر مر الزہران جگہ پر پہنچے۔ وہیں پر بنو غطفان کا قبیلہ بھی آ کر ان سے ملا۔ بنو اسلم ایک قبیلہ تھا وہ بھی آ گیا۔ بنو اشجع، بنو مرہ، بنو کنانہ اور بنو فزارہ وغیرہ یہ سارے قبیلے وہاں اکٹھے ہو گئے۔ اور ان کی تعداد جو ہے وہ دس ہزار تک پہنچ گئی بھئی۔ بعضوں نے چوبیس ہزار تک ان کی تعداد لکھی ہے بھئی۔ یہ سارے وہاں پر اکٹھے ہو گئے اور پھر وہاں سے مدینہ منورہ پر حملے کے ارادے سے چل پڑے بھئی۔ جب وہ مدینہ کے قریب ہی پہنچ چکے تھے تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ اس طرح وہ تمام عرب کے قبیلے جمع ہو کر مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے مدینہ کے قریب پہنچنے والے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع فرمایا اور ان سے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے۔ بعضوں نے کہا کہ مدینہ کے اندر رہ کر ان سے جنگ لڑی جائے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی یہ ایران کے رہنے والے تھے اور غلام تھے پھر بکتے بکتے اور حق کی تلاش میں یہ مدینہ منورہ پہنچے اور پھر وہاں انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کروایا۔ تو ان کو آزادی ملی۔ تو انہوں نے مشورہ دیا کہ اے اللہ کے پیغمبر ہمارے علاقے میں جب کوئی بڑا دشمن آ جائے کہ جس سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو پھر ہم خندق کھود لیا کرتے ہیں۔ خندق کھود لیتے ہیں اتنی چوڑی کہ جس سے انسان اور گھوڑا عبور نہ کر سکے اور اتنی گہری کہ کوئی اس میں گرے تو پھر آرام سے نکل نہ سکے فورا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ رائے بڑی پسند آئی۔ چنانچہ اسی پر طے پایا کہ خندق کھود لی جائے اور مدینہ منورہ جو ہے وہ کچھ اس طرح واقع تھا کہ اس کے تین طرف سے اس پر حملہ نہیں ہو سکتا تھا بھئی۔ کچھ تو ایک پہاڑی علاقہ تھا کچھ جانب اور کچھ جانب کھجوروں کے گھنے باغات تھے بھئی۔ کچھ لوگ تو بے شک گزر بھی جاتے لیکن پورا لشکر اکٹھے حملہ آور نہیں ہو سکتا تھا اور وہاں کچھ لوگ بھی ہوتے تیر انداز وغیرہ بھی ہوں تو وہ ان کا آسانی سے مقابلہ کر سکتے تھے۔ তো چنانچہ باقی تین طرف سے تو فکر نہیں تھی ایک طرف سے ذرا کھلی جگہ تھی جہاں سے لشکر پورا بیک وقت حملہ آور ہو سکتا تھا۔ تو اس طرف پھر خندق کھودنے کا مشورہ ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشورے کے بعد تین ہزار صحابہ کو لے کر نکلے بھئی۔ کل کتنے تھے مسلمان؟ وہ تین ہزار۔ عورتیں، بچے جو ہیں ان کو قلعے وغیرہ جو مضبوط گھر تھے ان میں چھوڑ دیا گیا اور تین ہزار صحابہ کو لے کر نکلے بھئی۔ اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نشانات لگائے کہ یہاں سے یہاں تک اس طرح خندق کھودنی ہے۔ اور کہتے ہیں ہر دس آدمیوں کے لیے جو ہے وہ چالیس شرعی گز یعنی بیس گز جگہ دس دس آدمیوں کے حوالے کی گئی کہ یہاں سے یہاں تک تم نے کھودنا ہے بھئی۔ سخت زمین ہو بھئی، پتھریلی زمین ہو، سخت سردی کا زمانہ ہو مدینہ کی سردی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ سخت سردی کا زمانہ تھا اور سخت سردی کا زمانہ ہو خوراک کھانے پینے کا بھی بندوبست نہ ہو کتنی تکلیف کے عالم میں۔ لیکن صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر لمحہ جان قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ چنانچہ سارے خندق کھودنے میں لگ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود نگرانی بھی کر رہے ہیں اور ساتھ خود بھی مصروف ہیں، لگے ہوئے ہیں۔ بعض صحابہ بھی حضور کے ساتھ چل پڑے چھوٹے تھے کم سن تھے کہ ہم بھی جنگ کے اندر حصہ لیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ سال سے جو کم عمر کے تھے ان کو واپس فرما دیا اور پندرہ سال کے جو تھے یا زیادہ کے ان کو اجازت دے دی بھئی۔ تو صحابہ خندق کھودنے میں لگ گئے بھئی۔ تو ہر دس آدمیوں کے لیے کتنی کتنی تھی؟ چالیس ذراع زمین بھئی، چالیس ذراع خندق اور چار ایک ذراع ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے یعنی آج کل کے حساب سے بیس گز زمین ہر ایک کے حوالے کی گئی کہ جلد سے جلد یہ کھودنی ہے دشمن سر پر پہنچنا چاہتا ہے۔ دن رات مسلمان اس کے کھودنے میں لگ گئے بھئی۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے یہ بات کی تھی، یہ مشورہ دیا تھا وہ بڑے طاقتور انسان تھے بھئی مضبوط آدمی تھے اکیلے کئی آدمیوں کے برابر کام کر لیا کرتے تھے۔ تو انصار اور مہاجرین اپس میں بحث ہو گئی انصار کہتے یہ ہم میں سے ہیں، مہاجرین کہتے یہ ہم میں سے ہیں بھئی۔ مضبوط آدمی ہیں ہمارے ساتھ معاونت ہوگی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے حضور نے فرمایا سلمان ہم میں سے اہل بیت میں سے ہیں بھئی۔ اس موقع پر حضور نے یہ فرمایا تو چنانچہ کہتے ہیں صحابہ خندق کھودنے میں مصروف تھے جس جگہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ تھے وہ ایک ہی دن میں کئی کئی آدمیوں کے برابر خندق کھود لیا کرتے تھے بھئی۔ کہتے ہیں کھودتے کھودتے ایک جگہ پر ایک بڑا سخت پتھر نکل آیا بھئی۔ اب صحابہ حضرت سلمان فارسی وغیرہ نے پوری کوشش کی لیکن وہ اتنا سخت پتھر تھا کہ ٹوٹ ہی نہیں رہا تھا چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ کہ یا رسول اللہ ایک سفید رنگ کا ایک چٹان اور پتھر نکل آئی ہے۔ ہم نے بڑی کوشش کی اس کو توڑنے کی ہمارے لوہے کے آلات ٹوٹ گئے لیکن وہ پتھر نہیں ٹوٹ رہا اتنا سخت پتھر ہے ہم کیا کریں۔ اگرچہ خندق کو ادھر ادھر بھی تھوڑا سا موڑ کر بنایا جا سکتا ہے لیکن ہمیں یہ پسند نہیں ہوا کہ ہم اس خط سے جو نشان آپ نے لگائے تھے اس سے ادھر ادھر ہو جائیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فورا چل پڑے آپ کے ساتھ اور خندق میں اترے اور کدال لی اور کہتے ہیں پہلی کدال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لگائی تو ایک چمک پیدا ہوئی مدینہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سارا مدینہ روشن ہو گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے تکبیر کہی اللہ اکبر زور سے کہا صحابہ نے بھی بلند آواز سے تکبیر بلند کی اور پتھر کچھ ٹوٹ گیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری ضرب لگائی کدال سے ایک مرتبہ پھر اسی طرح چمک نکلی اور پورا مدینہ روشن ہو گیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ اس طرح روشنی پھیل گئی تھی جیسے تاریک کمرے کے اندر چراغ روشن کریں ایک دم اور روشنی اور نور ہر طرف ایک دم پھیل جاتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے تکبیر کہی صحابہ نے بھی بلند آواز سے تکبیر کہی۔ تیسری مرتبہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے کدال ماری تو پھر پورا مدینہ منورہ روشن ہو گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زور سے تکبیر کہی صحابہ نے بھی بلند آواز سے تکبیر کہی۔ اور وہ پتھر بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا چنانچہ پھر جب حضور تشریف لائے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے پیغمبر آج ہم نے میں نے وہ چیز دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی یعنی وہ روشنی اور چمک دیکھی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں نے پہلی مرتبہ کدال چلائی تو نور نکلا اور اس نور کے اندر مجھے ہیرا اور مدائن جو ہیں ہیرا اور مدائن کے محل دکھلائے دکھائی گئے وہ نظر آئے اس میں مجھے۔ ہیرا جو تھا ہیرا یہ شاہان عراق کا جو ہے دارالحکومت تھا۔ عراق کے جو بادشاہ تھے ان کا دارالحکومت تھا۔ اور مدائن جو ہے کسری کسری جو اس زمانے کی سپر پاور ہوتی تھی بھئی۔ کسری کے محل دکھائی دیے۔ اور جبرائیل امین نے مجھے خوشخبری دی کہ آپ کی امت ان کو فتح کر لے گی۔ اور پھر جب میں نے دوسری مرتبہ کدال چلائی تو مجھے روم کے محل بادشاہ کے محل دکھائے گئے اور جبرائیل امین نے مجھے خوشخبری دی کہ اے پیغمبر آپ کی امت ان کو بھی فتح کرے گی۔ اور پھر تیسری مرتبہ جب میں نے تیسری مرتبہ جب میں نے کدال چلائی اور روشنی نکلی تو تو اللہ تعالی نے مجھے صنعا کے محل اس میں دکھائے اور جبرائیل نے آ کر مجھے خوشخبری دی کہ آپ کی امت ان کو بھی فتح کرے گی۔ چنانچہ مسلمانوں کو بھی مبارکباد دی کہ تم سب کو مبارک ہو ان سب کو اللہ تمہارے ہاتھوں فتح کروائیں گے۔ تو صحابہ کو فتح کی خوشخبری مبارک ہو۔ تو صحابہ یہ صبر سن کر خوش ہوئے۔ لیکن میں نے بتایا بھئی یہ بڑی ہی تکلیف کا عالم تھا۔ اتنی تکلیف کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ شدید سردی ہو دشمن کا خوف الگ ہے کہ سر پر پہنچائی چاہتا ہے اور وہ ہم میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ اور کھانے پینے کا بھی کوئی انتظام وغیرہ نہیں ہے۔ تو اس وقت بڑی ہی تکلیف اور خوف کا عالم تھا۔ اس موقع پر بعض منافقین نے کہا۔ کہ جس کا آگے اللہ قرآن میں بھی ذکر فرماتے ہیں۔ بعض منافقین نے کہا۔ کہ خوف اور ڈر سے تو ہماری اے مومنوں خوف اور ڈر سے تو ہماری یہ حالت ہے کہ کوئی شخص قضاء حاجت کے لیے بھی نہیں جا سکتا اور محمد تمہیں ہیرا مدائن اور روم کے فتح کی خوشخبری دے رہے ہیں یہ تمہیں ویسے ہی دھوکہ اور فریب دیا جا رہا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے بھئی؟ اس دشمن سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ تو ادھر کتنی بڑی سپر پاور طاقتیں ہیں ان کو فتح کرنے کی خوشخبری دی جا رہی ہے۔ صحابہ اپنے کام میں مصروف تھے بھئی۔ خندق کھود رہے ہیں۔ روایات میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان پر نگرانی فرماتے، چکر لگاتے اور صحابہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی محبت اللہ نے ان کو نصیب فرمائی تھی کہ انسان حیران رہتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ہی چکر لگاتے دیکھ کر ہی ان کی سرور اور خوشی کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، انہیں جو خوشی اور سرور ہوتا اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چکر لگاتے۔ صحابہ اشعار پڑھتے بھئی۔ نحن الذین بایعوا محمدا علی الجہاد ما بقینا ابدا۔ نحن الذین بایعوا محمدا ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیعت کی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی علی الجہاد ما بقینا ابدا جہاد پر جب تک ہم باقی ہیں جب تک ہم زندہ ہیں ہم نے محمد کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کر رکھی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی جواب میں فرماتے اللہم لا عیش الا عیش الاخرۃ۔ فاغفر الانصار والمہاجرا۔ اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے دنیا کی زندگی کوئی چیز نہیں۔ اے اللہ آپ مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما دیجیے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم چکر لگاتے۔ صحابہ یہ اشعار پڑھ رہے ہوتے، اپنے کام میں مصروف ہوتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ اشعار پڑھ کر یہ انہیں جواب دیتے تھے۔ حضرت جابر ابن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ خندق کی کھدائی کے دوران سخت بھوک کا عالم تھا۔ صحابہ نے پیٹ پر پتھر باندھ رکھے تھے۔ یہ عرب کا طریقہ تھا شدید بھوک کئی کئی ایک دن کی بھوک نہیں مولانا، دو دو، تین تین، چار چار دن تک کچھ کھانے کو ہی نہیں ملتا تھا۔ ایک دن تو آپ بھی گزار لیتے ہیں روزہ رکھ کے۔ دو تین دن کے بعد آپ کو اندازہ ہو کہ تین دن گزر جائیں بھوک پر انسان کی کیا حالت ہوتی ہے اور پھر اتنا سخت کام کہ سخت زمین کو کھود رہے ہیں بھئی۔ اور شدید سردی کا زمانہ ہے۔ اور پھر دشمن کا خوف الگ ہے کیا کیفیات ہوگی لفظوں میں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تو عرب یہ کرتے تھے پھر پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے تاکہ کچھ کمر کی بھی رہے بھئی۔ پیٹ کچھ دبا رہے تو بھوک کے احساس میں کچھ کمی آ جائے بھئی۔ تو جابر ابن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ صحابہ نے بھی پتھر باندھ رکھے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پیٹ پر پتھر باندھ رکھا ہے۔ پتھر باندھ رکھا ہے۔ میں نے یہ دیکھا تو مجھ سے برداشت نہ ہوا کہ سرور کائنات کی یہ حالت ہو بھئی۔ میں وہاں سے نکلا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ اے اللہ کے پیغمبر مجھے اجازت دیجیے میں ذرا گھر سے ہو آؤں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی۔ میں گھر پہنچا اور بیوی کو بتلایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت ہے بھوک سے کوئی کھانے کی چیز ہو تو بتاؤ مجھے۔ تو بیوی نے کہا کہ ہاں تھوڑے سے جو پڑے ہوئے ہیں وہ تھیلا نکال کر لائی۔ اس میں کہتے ہیں تین چار کلو کے لگ بھگ جو تھی۔ اور ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ تھا۔ تو میں نے اسے کہا کہ تم یوں کرو جلدی سے اس جو سے آٹا بناؤ اور میں اس بکری کے بچے کو ذبح کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ آٹا بنانے لگی اور جب تک وہ اس نے آٹا بنایا اتنی دیر میں میں نے بکری کا بچہ ذبح کر دیا اور وہ گوشت پکانے کے لیے رکھ دیا۔ تو پھر میں چل پڑا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آتا ہوں جب تک یہ کھانا تیار ہو جائے گا۔ بیوی نے کہا دیکھو بھئی کھانا تھوڑا سا ہے تھوڑے ہی آدمی لے کر آنا۔ بے عزتی ہماری نہ کروا دینا تھوڑا سا کھانا یہ نہ ہو پہلے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دینا یہ نہ ہو زیادہ لوگ آ جائیں تو کھانا تھوڑا ہے اور ان کو پورا نہ ہو تو یہ بڑی بے عزتی کی بات ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ وہاں سے نکلے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا اے اللہ کے پیغمبر میں نے کچھ کھانے کا بندوبست کیا ہے۔ آپ ایک دو صحابہ کو بھی ساتھ لے لیں اور میرے ساتھ کھانے کے لیے تشریف لے جائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا بھئی۔ پھر حضور نے سب کی طرف چلو بھئی سارے چلو جابر ابن عبداللہ نے تم سب کی دعوت کی ہے بھئی۔ میں پریشان ہو گیا تھوڑا سا کھانا ہے حضور نے ساروں میں اعلان فرما دیا ہے۔ سارے صحابہ چل پڑے۔ میں پہلے پہنچا گھر۔ بیوی کو جا کر بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو سارے صحابہ کو ساتھ لے کر آ رہے ہیں۔ بیوی نے کہا بھئی صحابیہ بھی عجیب عورتیں تھیں انسان حیران رہتا ہے بھئی۔ کہنے لگی تم نے پیغمبر کو بتا دیا تھا؟ کہنے لگے ہاں میں نے بتا دیا تھا۔ کہتے ہیں بس پھر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ چنانچه حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آٹا گوندھا ہوا تیار پڑا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس پر کچھ پڑا، دم کیا اور دم کے ساتھ کچھ تھوڑا سا لعاب بھی بھئی۔ اس طرح دم کیا کہ وہ کچھ لعاب کے چھینٹے وغیرہ بھی اس میں پڑے بھئی۔ اور پھر برکت کی اس میں دعا کی۔ اور پھر ہانڈیا کے پاس آئے اس پر بھی اسی طرح کچھ دم وغیرہ کیا اور اسی طرح لعاب بھی دم کے ساتھ کچھ لعاب کے ذرات بھی اس میں پڑے اور پھر آپ نے اس کو ڈھانپ دیا اور فرمایا کہ یہ کھانا نکالنا ہے لیکن ہانڈیا کو اتارنا نہیں بھئی۔ اسی طرح اسی طرح اس سے کھانا نکالنا بھئی۔ پھر چناچہ پھر حضور نے فرمایا اب روٹی پکانے والے کو بلاؤ وہ روٹی پکانا شروع کرے۔ چنانچہ وہ روٹی پکانے لگیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود روٹی پر گوشت وغیرہ ڈال کر اس صحابہ کو دیتے رہے کھا صحابہ کھا رہے ہیں بھئی۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کم از کم ایک ہزار سے زیادہ صحابہ نے کھانے کو سیر ہو کر کھایا اور وہ کھا کر بلکہ اتنا زیادہ تھا کہ کچھ چھوڑ کر ہی چلے گئے لیکن کھانے کی وہ ہانڈیا اسی طرح ابل رہی تھی جس طرح جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے بھئی۔ وہ کھاتے چلے گئے۔ پھر حضور نے فرمایا تم لوگ بھی کھاؤ اوروں کو بھی دو۔ چنانچہ اس طرح وہ تھوڑا سا کھانا جسے اللہ تعالی نے ہزار انسانوں سے بھی زیادہ کے لیے پورا فرما دیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا بھئی۔ کسی کو پتہ نہ چلے ورنہ مسلمان اور پریشان ہوں گے اس تکلیف کے عالم میں۔ چنانچہ یہ گئے بھئی۔ اور پھر وہاں پر ان کو پتہ چلا کہ انہوں نے واقعی جو ہے معاہدہ توڑ ڈالا ہے اور ان کی ان کے ساتھ کچھ سخت باتیں بھی ہوئیں وہ یہود کے ساتھ پھر یہ واپس آئے اور اللہ کے رسول کو اطلاع دی کہ اس طرح واقعی انہوں نے معاہدہ توڑ دیا ہے یہ اور یہ خبر چھپنے والی تو تھی نہیں بھئی۔ چھپ چھپی رہتی مسلمانوں کو بھی پتہ چل گیا اب تو مسلمان اور بھی زیادہ پریشان ہو گئے بھئی۔ باہر سے بھی دشمن ہے پورے عرب کی طاقت اٹھ کر اکٹھی ہو کر آگئی ہے اور یہ مسلمان صرف تین ہزار کے لگ بھگ تین ہزار کے آس پاس ہیں اور ادھر مدینہ کے اندر بھی یہود جو ہیں اب وہ جنگ کے لیے تیار ہیں اور کسی وقت وہ حملہ کر سکتے ہیں بھئی۔ اتنا خوف کا عالم، اتنا خوف کا عالم کہ جسے لفظوں میں ایک موت کا خوف والا نا موت کا خوف ایسی چیز ہے کہ انسان اس وقت ہر چیز بھول جاتا ہے، ہر چیز بھول جاتا ہے لیکن انسان صحابہ کو دیکھتا ہے تو حیران رہتا ہے کہ یہ کیسے انسان اللہ نے بنائے تھے کتنی ان کو ہمت دی تھی، کتنی قوت دی تھی۔ باہر کی طرف سے بھی دشمن ہے ملنے کوئی نہیں آیا، قتل کرنے کے لیے سارے آئے ہیں، زندہ نہیں چھوڑیں گے نہ عورتوں کو، نہ بچوں، عورتوں کو باندیاں کنیزیں بنا لیا جاتا تھا، وہ قتل مردوں کو قتل کر دیا جاتا تھا، بچوں کو بھی قتل کر دیا جاتا یا غلام بنا لیا جاتا تھا۔ ادھر اندر بھی فوج اب مدینہ کے اندر ہی گویا ان کے خلاف تیار بیٹھی ہوئی ہے کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں۔ بے انتہا تکلیف کا وقت اور خوف کا وقت تھا یہاں تک کہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ بلغت القلوب الحناجر کلیجے منہ کو آنے لگے تھے بھئی۔ انسان اپنی کیفیت کو خود بیان کرے تو اس میں تو شک و شبہ بھی ہو سکتا ہے شاید یہ ویسے بیان کر رہا ہے بھئی زباں دل کی بات تو لیکن اللہ جو ہر چیز کو جاننے والے ہیں وہ فرما رہے ہیں بلغت القلوب الحناجر کہ اس وقت خوف کا یہ عالم تھا، خوف اور کہ کلیجے منہ کو آنے لگے تھے بھئی۔ کیا کیفیت ہوگی کہ خالقِ عرض و سمافرما رہے ہیں کہ اس وقت کلیجے منہ کو آنے لگے تھے بھئی۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر ابن العوام رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا کہ جاؤ ذرا بنو قریظہ کی خبر لے کر آؤ خفیہ طور پر کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ وہ گئے وہاں اور پھر آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی یا رسول اللہ وہ اپنے قلوں کو صحیح کر رہے ہیں۔ وہ سرحدیں، راستے وغیرہ بند کر رہے ہیں اور جانور وغیرہ وہ اپنے قلوں وغیرہ کے اندر بند کر رہے ہیں جیسے جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ تو اسی دوران جب تکلیف بہت زیادہ بڑھ گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غطفان کا جو قبیلہ آیا تھا قریش کے ساتھ بڑے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ تھا وہ بھی اس کے دو سرداروں کو خفیہ طور پر بلوایا اور ان سے کہا کہ تم یوں کر لو ہم تمہیں مدینہ منورہ کی ایک سال کی تہائی پیداوار تمہیں دے دیں گے تم لوگ قریش کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔ ایک تہائی پیداوار بھئی بہت بڑی مقدار تھی پورے مدینہ منورہ کی۔ جب انہوں نے اتنے مال کا سنا تو تیار ہو گئے کہ ٹھیک ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں لکھ بھی لیا باقاعدہ معاہدہ بھئی۔ صرف دستخط ہونا باقی تھے معاہدہ لکھا بھی جا چکا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت سعد ابن معاذ جو سردار تھے اوس کے اور سعد ابن عبادہ جو سردار تھے قبیلہ خزرج کے ان کو بھی بلوایا اور ان سے کہا میں نے اس طرح کا ان سے معاہدہ کیا ہے تمہاری کیا رائے ہے؟ یہ سنتے ہی وہ بول پڑے اے اللہ کے پیغمبر اگر یہ اللہ کا حکم ہے پھر تو ہمیں پوری طرح یہ تسلیم ہے اور اگر یہ آپ کی اپنی خواہش اور پسند ہے تو بھی ہم اس پر راضی ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ ہمارے فائدے کے لیے کر رہے ہیں تو پھر آپ ایسا نہ کیجیے ہمیں یہ پسند نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں میں نے تو تم لوگوں کے فائدے ہی کے لیے یہ کیا تھا کہ تاکہ دشمن میں پھوٹ پڑ جائے کچھ دشمن تو واپس چلا جائے بھئی۔ ان میں پھوٹ ڈالنے کے لیے تمہارے فائدے کے لیے کیا تھا۔ وہ کہنے لگے یہ بنو غطفان والے یہ ان کے ساتھ تو جب ہماری جنگ نہیں تھی اس وقت بھی یہ بغیر پیسوں کے یا بغیر مہمان نوازی کے ہماری ایک کھجور نہیں کھا سکتے تھے اور آج جب جنگ میں ہمارے مقابلے پر آ گئے ہیں تو یہ ہم سے اتنا بڑا حصہ لے جائیں یہ ہم کبھی ان کو نہیں دیں گے۔ یہ ان کو ہم کبھی نہیں دیں گے چنانچہ معاہدے کو پھاڑ دیا گیا اور وہ جو دو سردار بلائے تھے ان کو نکال دیا گیا، بھیج دیا گیا۔ تو یہ محاصرہ کہتے ہیں تقریبا بیس سے کچھ اوپر دن چوبیس پچیس دن یا اس کے لگ بھگ جاری رہا بھئی۔ قریش نے جو یہ محاصرہ کیا ہوا تھا مدینہ کا۔ اس دوران چھوٹی موٹی لڑائیاں ہوتی رہیں کفار پوری کوشش کرتے تھے کسی طرح خندق کو کہیں سے عبور کر لیں چکر لگاتے تھے ان کے سوار گھوڑوں پر لیکن کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔ درمیان میں خندق ہوتی اس طرف مسلمان تیار بیٹھے ہوتے یہ کوشش بھی کرتے تو وہ تیروں کے ساتھ اور پتھروں کے ساتھ ان کا استقبال کرتے بھئی یہ پھر واپس بھاگنے پر مجبور ہو جاتے۔ تو بہرحال کچھ چند ایک چھوٹی موٹی لڑائیاں بھی ہوئیں۔ کچھ ان کی طرف سے مارے گئے کچھ مسلمانوں کی طرف سے شہید یا زخمی ہو جاتے لیکن بڑی لڑائی نہ ہو سکی بھئی، بڑی لڑائی نہ ہو سکی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ہم سب عورتیں مدینہ کے اندر ایک قلعے کے اندر تھیں۔ تو حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو میں نے دیکھا کہ وہ ایک زرہ پہنے ہوئے نکلے ہیں اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا نیزہ ہے اور اشعار پڑھ رہے ہیں، اشعار پڑھ رہے ہیں جنگ کے۔ عجیب بھئی میں نے بتایا صحابیہ عورتیں عجیب ہیں انسان حیران ہوتا ہے وہ اشعار پڑھ رہے ہیں زرہ پہنی ہوئی ہے کہتے ہیں زرہ ان کی چھوٹی تھی ان کی ماں ان سے کہتی ہے سعد جلدی کرو پیغمبر کے پاس پہنچو تم نے دیر کر دی بھئی۔ جلدی پہنچو ماں بھیج رہی ہے بیٹے کو میدان جنگ کے اندر اور اتنے بڑے دشمن کے مقابلے میں سعد تم نے دیر کر دی جلدی پہنچو۔ چنانچہ وہ زرہ ان کی چھوٹی تھی وہ وہاں گئے وہاں ان کو ایک تیر لگ گیا بھئی وہ زرہ چھوٹی تھی پورے جسم کو تو ڈھانپا نہیں ہوا تھا، بازوؤں پر بھی نہیں تھی تو ایک تیر لگ گیا جس سے ان کی ایک رگ بڑی موٹی رگ کٹ گئی اور خون بند ہی نہیں ہوتا تھا۔ زخمی ہو گئے تو اللہ سے دعا کی۔ اے اللہ اگر قریش سے اس کے بعد بھی کوئی جنگ ہے تو مجھے زندہ رکھ اس جنگ کے لیے۔ مجھے اس قوم سے لڑنا بڑا محبوب ہے، مجھے بڑا پسند ہے اس قوم سے جس نے پیغمبر کو اتنی تکلیفیں دیں اور وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ میرا بڑا جی چاہتا ہے ان لوگوں سے جنگ کروں اور ان کو ختم کر دوں۔ اور اگر اے اللہ ان کے ساتھ اس کے بعد کوئی اور جنگ نہیں ہے تو پھر مجھے اسی زخم کو میری شہادت کا باعث بنا دے۔ اور نیز یہ بھی دعا کی یہ سعد ابن معاذ ان کا یہ قبیلہ اوس کے سردار تھے اور بنو قریظہ وہ جو یہودیوں کا قبیلہ تھا ان کے ساتھ ان کا اسلام کے انے سے پہلے تعلق تھا بڑا بھئی ان کے آپس میں بڑے تعلق ایک دوسرے کے ساتھی تھے بھئی ایک دوسرے کے۔ কিন্তু دیکھو اسلام جب لے آئے اس کے بعد بس محبت بھی اللہ کے لیے ہے تو نفرت بھی اللہ ہی کے لیے ان کی ہو جاتی تھی۔ نہ وہ پرانے تعلق کو دیکھتے تھے نہ رشتہ داری کو دیکھتے تھے نہ کسی اور چیز کو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل میں آ جاتی تھی تو باقی سب محبتیں ختم ہو جاتی تھیں۔ تو یہ بھی انہوں نے پھر دعا کی۔ اے اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جس وقت تک اس بنو قریظہ کے معاملے میں میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں۔ انہوں نے بہت تکلیف ہمیں دی، بہت بڑی غداری کی ہے جب تک ان کا انجام میں نہ دیکھ لوں اے اللہ مجھے موت نہ دینا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ بنو قریظہ نے باقاعدہ رات کو حملہ کرنے کا ارادہ کیا مدینہ منورہ پر تاکہ جو عورتیں اور بچے ہیں ان سب کو قتل کر ڈالیں تو اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی۔ آپ نے پانچ سو صحابہ کو مقرر کیا حفاظت کے لیے مدینہ کی حفاظت کے لیے بھیجا کہ دیکھو وہ حملہ اگر کریں خیال رکھنا ان بچوں اور عورتوں کی حفاظت کرنا۔ لیکن ان کو پھر جرات نہ ہوئی یہودیوں کو۔ اسی طرح ایک دن بھئی روایات میں آتا ہے کہ کفار سارے اکٹھے ہو کر آ گئے بھئی سارے اکٹھے ہو کر آ گئے اور پوری کوشش تھی کہ کسی طرح آج ہر حال میں خندق کو ہم عبور کر لیں بھئی۔ اتنی مشکل میں پڑ گئے مسلمان ان کا مقابلہ کر رہے ہیں، دفاع کر رہے ہیں کہ اسی میں سارا دن گزر گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ جو ہیں ظہر کی نماز بھی ادا نہ کر سکے وہ بھی قضا ہوئی۔ عصر کی نماز بھی قضا ہوئی۔ مغرب کی نماز بھی قضا ہو گئی عشاء کی نماز بھی بڑی دیر سے جا کر پڑی۔ تو انہوں نے بڑا زور لگایا لیکن کامیاب نہ ہو سکے مشرکین اور واپس چلے گئے بھئی۔ واپس چلے گئے۔ پھر بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جو نمازیں قضا ہوئی تھیں ان سب کو بعد ترتیب اسی ترتیب کے ساتھ باقاعدہ اذان و اقامت سے ادا کیا گیا اور صحابہ سے بھی فرمایا صلّوا كما رأيتموني أصلي تم بھی اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ حضرت نعیم ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ یہ اس وقت مسلمان ہوئے تھے لیکن ان کی قوم والوں کو ان کے مسلمان ہونے کا پتہ نہیں تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور کہ یا رسول اللہ میں مسلمان ہو گیا ہوں، ایمان لے آیا ہوں لیکن میری قوم کو اور لوگوں کو میرے مسلمان ہونے کا پتہ نہیں۔ آپ مجھے اجازت دیجیے جھوٹ وغیرہ اور کچھ جھوٹ وغیرہ بولوں تاکہ ان میں پھوٹ ڈل جائے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جنگ تو ہے ہی دھوکے کا نام، ان میں پھوٹ ڈال دو کسی طرح یہ ان کی جمعیت کسی طرح ختم ہو جائے۔ چنانچہ بھئی عجیب ترکیب کی حضرت عبداللہ حضرت نعیم ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے۔ یہاں سے نکلے اور بنو قریظہ والوں کے پاس پہنچے بھئی۔ اور ان سے اجازت وغیرہ لی اور اندر وہ انہوں نے پھر آنے دیا تو ان کے پاس جا کر بیٹھے اور کہنے لگے بھئی تم تو جانتے ہی ہو میں تمہارا خیر خواہ کتنا خیر خواہ ہوں۔ کہنے لگے ہاں ہاں ہمیں معلوم ہے تم واقعی ہمارے خیر خواہ ہو۔ کہتے ہیں میں تمہیں ایک بڑی قیمتی بات بتلانے آیا ہوں ایک میری نصیحت یاد رکھو، اس پر عمل کر لو تو تمہاری اس میں بہتری ہوگی ورنہ بڑے نقصان میں رہو گے۔ کہا کیا نصیحت؟ کہنے لگے بھئی تم عجیب لوگ ہو بھئی وہ قریش والے وہ تو باہر سے آئے ہیں اگر جنگ ہوئی جیت گئے تو مالِ غنیمت وغیرہ وہ لے جائیں گے اور اگر جنگ نہ ہوئی وہ تھک ہار کر اگر واپس بھی چلے گئے تو پھر بھی بہرحال وہ تو واپس چلے جائیں گے ان کا تو اپنا علاقہ ہے اپنی زمینیں ہیں اپنے گھر ہیں چلے جائیں گے۔ اور تم تم نے تو یہیں رہنا ہے تمہاری تو زمینیں یہاں ہیں تمہارے تو گھر یہاں ہیں تمہاری زمینیں یہاں ہیں سب کچھ تمہارا یہاں ہے۔ تم پھر کیا کرو گے مگر مسلمانوں کے مقابلے میں کیسے اپنے آپ کو بچاؤ گے؟ تو یہ کس طرح کیا تم نے کیسے ان کا ساتھ دے دیا اگر دیا ہے تو اب یوں کرو کہ ان سے ان کے بطور ضمانت کے قریش قبیلہ قریش اور بنو غطفان وغیرہ سے کچھ سردار ان سے بطور ضمانت کے لے لو کہ یہ سردار تمہارے ہم اپنے پاس رکھیں گے کہ ہمیں ڈر ہے کہیں تم ہمیں چھوڑ کے نہ چلے جاؤ۔ بنو قریظہ والوں نے کہا ہاں واقعی یہ تو تم نے بڑی عقل والی بات کی ہے، بڑا اچھا مشورہ دیا ہے۔ جو ہم ہمارا تو واقعی اس طرف توجہ ہی نہیں گئی کہ یہ تو یہاں سے چلے جائیں گے پھر ہم کیا کریں گے مسلمانوں کا اگر یہ رہے مسلمان باقی رہے شکست نہ ہوئی ان کو پھر کیا کریں گے ہم ان کے مقابلے میں؟ چنانچہ یہاں سے وہ نکلے حضرت نعیم ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بھئی۔ پھر چھپ چھپا کر قبیلہ قریش میں جا پہنچے۔ قبیلہ قریش والوں کسی کو نہیں پتہ کہ یہ مسلمان ہو چکے ہیں، ابو سفیان وغیرہ سے کہنے لگے کہ آپ لوگوں کو تو پتہ ہی ہے میں آپ لوگوں کا کتنا خیر خواہ ہوں ہمیشہ میں نے آپ لوگوں کے بھلے کی بات کی ہے کبھی نقصان کی بات نہیں کی وہ کہنے لگے ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ آپ ہمارے ہی اپنے آدمی ہیں۔ تو کہنے لگے میں تمہیں خفیہ خبر دینے آیا ہوں لیکن دیکھو کسی کو پتہ نہ چلے۔ کیا کہتے ہیں وہ جو بنو قریظہ والے تھے انہوں نے معاہدہ توڑ دیا تھا لیکن اب ان کو بڑی شرمندگی ندامت ہوئی ہے کہ ہم نے بڑا غلط فیصلہ کیا ہے، اب انہوں نے پھر محمد سے جو ہے بات چیت کی ہے اور کہا ہے کہ ہم آپ سے صلح وغیرہ ہم سے کر لیں ہم سے غلطی ہو گئی ہم نے معاہدہ توڑ دیا تھا ہمیں معاف کر دیں اور اگر ایسے معاف نہیں کرتے تو چلو یوں کرتے ہیں ہم یہ قریش اور غطفان کے چند بڑے بڑے سردار پکڑ کے لائیں گے اور آپ کے حوالے کر دیں گے پھر تو آپ ہم سے راضی ہو جائیں گے یا نہیں ہوں گے راضی؟ تو محمد نے کہا ہاں ٹھیک ہے کچھ سردار لے آؤ تو ہم تم سے راضی ہیں۔ تو دیکھو وہ تم سے کچھ سردار مانگیں گے غلطی سے بھی سردار ان کے حوالے نہیں کرنا نہیں تو وہ محمد کے حوالے کر دیں گے اس کو کہتے ہیں ہاں بے فکر رہیں آپ اس کو ایک سردار ان کے حوالے ہم نہیں کرتے اپنا۔ یہاں سے نکلے بنو غطفان کے پاس پہنچے ان کو بھی اسی طرح سمجھایا کہ دیکھو وہ بنو قریظہ والے تم سے سردار مانگیں گے ان کے حوالے نہ کرنا وہ آگے مسلمانوں کے حوالے کر دیں گے ان کو۔ چنانچہ یہ ترکیب کر کے وہ آ گئے ادھر قریش وغیرہ نے بنو قریظہ وغیرہ کی طرف آدمی بھیجے کہ بھئی اب ہم سوچ رہے ہیں مسلمانوں پر سخت حملہ کریں تم بھی ادھر سے حملہ کرو تاکہ ان کو ختم کریں یہ ہم یہاں رہنے کے لیے نہیں آئے اتنے دن گزر گئے ہیں اور مسئلہ اسی طرح لٹکا ہوا ہے تو ہم ادھر سے حملہ کریں گے تم ادھر سے حملہ کرو مسلمانوں کو ختم کریں تاکہ تو بنو قریظہ والے کہنے لگے نہیں نہیں ہم جب تک تم ہم میں کچھ سردار اپنے ضمانت کے طور پر نہیں دو گے ہم حملہ نہیں کریں گے۔ تم لوگ ہمیں چھوڑ کے چلے جاؤ تو پھر ہماری کون حفاظت کرے گا ہم کیا کریں گے یہاں پر؟ ہمارے گھر یہاں، زمینیں یہاں، جائیدادیں یہاں، سب کچھ یہاں۔ قریش والے انہوں نے جنگ سے اس طرح انکار کیا قریش والے واپس آئے کہ ابو سفیان کو بات سنائی ابو سفیان نے کہا دیکھا بھئی نعیم ابن مسعود بالکل سچ کہہ رہے تھے یہ لوگ جو ہیں ہمارے سرداروں کو ان کے حوالے کرنا چاہتے ہیں بنو غطفان والوں کو بھی اسی طرح ہوا چنانچہ ان میں آپس میں پھوٹ پڑ گئی بھئی، پھوٹ پڑ گئی اور پھر ایک رات اللہ تعالی نے شدید سردی تھی تیز آندی اللہ تعالی نے بھیجی بھئی اور فرشتے مسلمانوں کی مدد کے لیے بھیجے شدید تیز آندی کی وجہ سے ریت اور سنگریزے اڑ اڑ کر انہیں لگنے والے لگے ان کے خیمے الٹ گئے ان کی رسیاں ٹوٹ گئیں چولہے ان کی جو آگ جل رہی تھی وہ بجھ گئی کھانا پکانے کی کوئی صورت نہیں رہی ہانڈیاں الٹ گئیں وہ بھوکے اسی طرح کوئی کھانے پکانے کی صورت نہیں جانور ان کے بدک گئے ادھر ادھر بھاگ گئے تو اتنے تنگ آ گئے اتنی تکلیف میں پڑ گئے کہ ابو سفیان نے کہا بھئی بس بھئی چلتے ہیں کب تک ہم یہاں پڑے رہیں گے یہ تو اب ہماری برداشت سے باہر ہو گئی ہے بات چنانچہ وہ اونٹ پر سوار ہوا اور ادھر دوسرے قبیلے بھی اسی طرح سوار ہوئے اور سارے چلے گئے بھئی۔ تو شدید سردی اور آندی تیز زبردست آندی ان کے جانور بدک گئے، ان کے ہانڈیاں الٹ گئیں، برتن الٹ گئے، آگ بجھ گئی اور ادھر فرشتوں کی فوج وہ نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے، کبھی ایک طرف سے اونچی تکبیر کی آواز آ رہی ہے کبھی دوسری طرف سے اونچی تکبیر کی آواز آ رہی ہوتی تو وہ سخت گھبرا گئے خوف، تکلیف اور سردی اور پریشانی کی وجہ سے پھر یہ جو فرشتوں کی تکبیر سنتے تو اور ان کے دل دہل جاتے تھے چنانچہ وہ راتوں رات سارا کچھ سمیٹ کر وہاں سے سب نکل گئے بھئی، سب نکل گئے۔ جب چلے گئے پھر فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آئندہ یہ ہم پر کبھی حملہ آور نہیں ہوں گے بس اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے آئندہ بھی اور پھر ایسا ہی ہوا کبھی پھر ان کو کسی کو حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی بلکہ پھر مسلمان ہی حملہ کرنے کے لیے جاتے بھئی۔ حضرت حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کے ایک مدت کے بعد کا قصہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ آپ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور اس وقت کی باتیں پوچھیں اور پھر وہ شخص کہنے لگا کہ اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتے تو ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی خدمت کرتے اتنی خدمت کرتے زمین پر انہیں چلنے ہی نہ دیتے انہیں اٹھا کر رکھتے ہر وقت۔ حضرت حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے کہ اے بھتیجے یوں نہ کہو تم نے وہ زمانہ نہیں دیکھا وہ زمانہ کتنی تکلیف اور مصیبتوں والا تھا وہ زمانہ تم نے نہیں دیکھا مجھے یاد ہے کہتے ہیں خوب اچھی طرح وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ غزوہ خندق کے اندر شدید سردی، بھوک اور خوف کے عالم میں ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کون ہے جو جائے اور قریش کی خبر لے کر آئے یعنی کون جائے جاسوسی کر کے آئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں دیکھ کر آئے کون جائے گا قریش کی خبر لے کر آئے گا اس کے لیے اللہ اسے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ حضرت حذیفہ ابن یمان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نے یہ فرمایا لیکن کسی کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ اٹھ کر جواب دیتا کہ اے اللہ کے رسول میں جاؤں گا۔ وہ صحابہ جو پیغمبر کے ہر ہر حکم پر جان قربان کرنے کے لیے تیار تھے لیکن اس وقت خوف، بھوک، تکلیف اور شدید سردی ایسی حالت تھی کہ ہمتیں ہی جواب دے گئی تھیں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کسی میں۔ پھر وہ کسی نے جواب نہیں دیا بھئی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول ہوئے اور پھر اعلان کیا کہ کون ہے جو قریش والوں کی خبر لے کر آئے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ کہتے ہیں اب بھی کسی کی ہمت اتنی بڑی بشارت دے رہے ہیں لیکن ہمت کسی میں نہیں ہو رہی اتنی شدید سردی اس بھوک کے عالم میں ہلنے کے قابل نہیں کوئی شخص سارا دن لڑائی وغیرہ وہ الگ تو ہمت نہیں ہو رہی پھر بھی کسی نے جواب نہیں دیا تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر مجھے پکارا اے حذیفہ! اے حذیفہ ابن یمان! کہتے ہیں اب تو جواب کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا میں کھڑا ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ کیا حالت تھی ذرا دیکھو تو سہی۔ کہتے ہیں اس وقت میں سردی سے بری طرح کانپ رہا تھا بھئی۔ سردی سے بری طرح کانپ رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ جاؤ قریش کی خبر لے کر آؤ۔ میں نے کہا جو حکم اے اللہ کے پیغمبر اور چل پڑا وہاں سے۔ کہتے ہیں جیسے ہی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا وہ ساری سردی اللہ نے غائب کر دی یوں لگا جیسے میں کسی گرم حمام میں چل رہا ہوں اور پھر اسی طرح میں وہاں ان کے پاس پہنچا اور پھر ان کے پاس بیٹھا وہ چھپ کر رات کا وقت تھا آگ جل رہی تھی درمیان میں ابو سفیان بھی بیٹھا ہوا تھا آگ تاپ رہا تھا۔ میں نے تیر کمان پر چڑھایا اور تیر کو کھینچنے چھوڑنے ہی لگا تھا کہ مجھے یاد آیا کہ مجھے اللہ کے رسول نے بھیجتے ہوئے کہا تھا دیکھو صرف خبر لے کر آنی ہے کچھ چھیڑنا وغیرہ نہیں کسی کو۔ چنانچہ اگر میں اس وقت تیر چلاتا تو ابو سفیان کو ضرور وہ تیر لگ جاتا لیکن اللہ کے پیغمبر کی بات یاد آئی چنانچہ میں نے تیر کو واپس رکھ لیا۔ اور تو آگ جل رہی تھی کچھ روشنی لیکن سینکڑوں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں تو میں بھی ان میں جا کر بیٹھ گیا ان کی باتیں سننے کے لیے تو اسی طرح پھر وہ ہوا ہوا وغیرہ تیز آندھی آئی آگ وغیرہ ان کی بجھ گئی ابو سفیان نے کہا ان کو بھی خطرہ تھا کوئی جاسوس نہ آ جائے اس طرح تاریکی میں آئے اور جاسوسی کر کے ہماری خبریں لے جائے ابو سفیان نے زور سے کہا بھئی کوئی جاسوس ان میں نہ ہم میں نہ آیا ہو ہر آدمی اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لے اور اسے پوچھے وہ کون ہے پتہ چلے گا۔ عجیب طریقہ بنانا نا بچنے کی کوئی صورت ہی پھر نہیں رہتی۔ ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ کے پوچھو گے تو پتہ تو چلے گا یہ کون بول رہا ہے کون شخص ہے۔ ہر ایک اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ کر پوچھے کہ کون ہے وہ؟ کہتے ہیں میں ایک دم پریشان ہوا کہ یہ اب تو میرا پتہ چل جائے گا لیکن فورا اللہ نے مدد کی میرے ذہن میں ترکیب آئی اس سے پہلے کہ میرا ساتھ والا بولتا میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے کہا کون ہے بھئی تو؟ اس نے فورا کہا بھئی تو مجھے نہیں جانتا میں فلاں بن فلاں فلاں قبیلے کا فلاں آدمی ہوں۔ میں نے کہا اچھا اچھا پھر تو اپنے ہی آدمی ہو۔ چنانچہ پھر وہ آندھی وغیرہ آئی سب کچھ ان کا الٹ گیا وہ نکل گئے وہاں سے میں نے اللہ کے رسول کو آ کر بتلایا واقعہ بھئی اور پھر کہتے ہیں جب واپسی تک اسی طرح میری ٹھنڈ ختم تھی جب میں واپس پہنچ گیا خبر دے دی پھر اسی طرح وہ سردی شروع ہو گئی جیسے کہ تھی بھئی۔ تو یہ تھا غزوہ احزاب بھئی۔ غزوہ احزاب۔ اللہ کل پھر آگے انشاءاللہ اس کی تفصیل قرآن میں اللہ جو ذکر فرماتے ہیں وہ بھی پڑھ لیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا والاعلم واللہ اعلم بحقیقت الکلام