اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔ ذالك عالم الغيب والشهادة العزيز الرحيم۔ الذي أحسن كل شيء خلقه وبدأ خلق الإنسان من طين، ثم جعل نسله من سلالة من ماء مهين۔ ذالك عالم الغيب وہي اللہ غیب کے جاننے والے ہیں و شہادت اور حاضر کے۔ غیب پوشیدہ و پوشیدہ چیزیں شہادت حاضر چیزیں جو ہمارے سامنے ہیں، موجود ہیں جو ہمیں دکھائی دیتی ہیں بھئی۔ ذالك عالم الغيب والشهادة اللہ ہی پوشیدہ اور حاضر کو جاننے والے ہیں، العزيز الرحيم زبردست ہیں، رحم کرنے والے ہیں۔ الذي أحسن كل شيء خلقه اللہ وہ ذات ہے أحسن كل جس نے اچھا بنایا، اچھا کیا كل شيء ہر چیز کو أحسن اچھا کیا، حسین کیا۔ كل شيء مفعول ہے أحسن کے لیے۔ اور خلقه یہ صفت ہے كل شيء کی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا نکرہ کے بعد فعل اجائے تو یہ عموماً اس کی صفت بنتا ہے۔ خلقه یہ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر یہ صفت بنے گا كل شيء کی۔ تو یہاں پر بھی كلہ کی اضافت ہے شيء کی طرف، نکرہ کی اضافت ہو رہی ہے نکرہ کی طرف تو اضافت کے باوجود یہ نکرہ ہی رہے گا بھئی۔ اور جب نکرہ ہے تو اس کے بعد خلقه فعل آیا وہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا بھئی۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ میں نے بتلایا تھا کہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں تو کیسے ترجمہ ہوگا؟ كل شيء خلقه ہر ایسی چیز خلقه جسے اللہ نے پیدا کیا۔ الذي أحسن كل شيء خلقه اللہ وہ ذات ہے جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جسے اس نے بنایا، جسے اس نے پیدا کیا۔ یہ تو لفظی ترجمہ ہوگیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ أحسن فعل ہے اور كل شيء اس کے لیے مفعول ہے اور خلقه اس کی صفت ہے بھئی۔ اللہ نے اچھا بنایا ہر چیز کو جسے اس نے پیدا کیا۔ اور با محاورہ ترجمہ یوں کرلیں بھئی، بڑا پیارا ترجمہ ہو جائے گا۔ الذي أحسن كل شيء خلقه اللہ نے خوب بنائی جو چیز بنائی۔ اللہ نے خوب بنائی جو بھی چیز بنائی بھئی۔ اللہ نے اللہ نے خوب بنائی جو بھی چیز بنائی۔ وبدأ خلق الإنسان من طين بداع اور شروع کیا خلق الإنسان انسان کی پیدائش کو من طین طین مٹی کو کہتے ہیں۔ اور شروع کی انسان کی پیدائش مٹی سے یعنی حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں جن سے انسان کی پیدائش کی ابتدا ہوئی ان کو اللہ نے مٹی سے بنایا تھا۔ اللہ تعالی نے فرشتے بھیجے زمین کی طرف کہ جاؤ زمین سے مٹی لے کر آؤ۔ فرشتے آئے مٹی لینے کے لیے تو زمین انہیں اللہ کا واسطہ دینے لگی کہ تمہیں اس ذات کا واسطہ ہے جس نے تمہیں بھیجا ہے، مجھ سے مٹی نہ لے کر جاؤ۔ اس مٹی جس نے بالآخر جہنم میں پہنچنا ہے مجھ سے نہ لے کر جاؤ۔ تو فرشتوں کو جب اللہ کا واسطہ دیتے تو وہ واپس لوٹ جاتے۔ اللہ پوچھتے بھئی کس چیز نے تمہیں منع کیا تھا میرے حکم پر عمل کرنے سے؟ فرشتے جواب میں کہتے کہ اے اللہ زمین نے آپ کا واسطہ دیا تھا تو جب آپ کا واسطہ دیا تو ہم نے اسے رد کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ رہا آپ کا واسطہ ہمیں کوئی دے رہا ہو تو ہم اسے رد کردیں یہ ہم سے نہ ہو سکا اس لیے ہم واپس آ گئے۔ پھر اللہ تعالی نے حضرت عزرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور وہ آئے اور زمین نے ان سے بھی اسی طرح کہا لیکن وہ کہنے لگے کہ جس ذات نے مجھے بھیجا ہے وہ زیادہ لائق ہیں کہ ان کی بات کو مانا جائے۔ چنانچہ انہوں نے زمین کے ہر حصے سے تھوڑی تھوڑی مٹی اٹھائی۔ سفید بھی، سرخ بھی، سیاہ بھی، سخت بھی، نرم بھی، ہر قسم کی مٹی اٹھا کر لے گئے اور پھر اس مٹی کے ساتھ جنت کا پانی ملایا گیا، جنت کا پانی ملایا گیا اور اس سے پھر اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا اور اس طرح حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی بھئی۔ تو اسی کا ذکر اللہ فرما رہے ہیں وبدأ خلق الإنسان من طين اور شروع کیا انسان کی پیدائش کو مٹی سے۔ وبدأ خلق الإنسان من طين اور ابتدا کی انسان کی پیدائش کی مٹی سے۔ ثم جعل نسله من سلالة من ماء مهين۔ پھر بنایا نسله اس انسان کی نسل کو پھر بنایا اسکی پھر اس انسان کی نسل کو بنایا اس سے مراد اس کی اولاد ہے۔ نسل کے معنی جدا ہونے کے ہوتے ہیں بھئی تو چونکہ اولاد بھی انسان ہی سے جدا ہوتی ہے اسی لیے اس اولاد کو کیا کہا گیا؟ نسل کہا گیا بھئی۔ ثم جعل نسله من سلالة پھر بنایا انسان کی نسل کو من سلالة خلاصے سے۔ سلالہ کہتے ہیں خلاصے کو بھئی، نچوڑی ہوئی چیز بھئی۔ وہ چیز جسے دوسری چیز سے نچوڑا جائے، الگ کیا جائے اسے سلالہ کہتے ہیں عربی میں۔ مراد اس سے نطفہ ہے بھئی نطفہ مادہ منویہ مراد ہے اور وہ بھی چونکہ بہت سے غضاؤں کا نچوڑ ہوتا ہے اس لیے اسے سلالہ کہا بھئی۔ من سلالة نچوڑی نچوڑی ہوئی چیز سے یا خلاصے سے۔ من ماء مهين مہین احانت سے ہے یہ ماء مهين یعنی حقیر پانی، احانت والا پانی یعنی حقیر پانی بھئی، بے قدرہ پانی۔ اور یہ من من ماء مهين یہ بیان ہے سلالہ کا بھئی۔ سمجھ میں آرہا ہے ترجمہ بھئی؟ من سلالة سلالہ کا کیا معنی ہوا؟ خلاصہ۔ بھئی خلاصہ کیا چیز ہے؟ خود اس کا آگے بیان آگیا من ماء مهين یعنی کہ حقیر پانی، یعنی کہ تو یہ من بیانیہ ہے اس کا ترجمہ یعنی کے ساتھ کریں بھئی۔ تو دیکھیے ترجمہ یوں ہوا ثم جعل نسله من سلالة من ماء مهين پھر بنایا انسان کی نسل کو خلاصے یعنی کہ حقیر پانی سے، یعنی کہ حقیر پانی، پھر بنایا انسان کی نسل کو خلاصے یعنی کہ حقیر پانی سے۔ ثم سواه پھر اس کو برابر کیا، درست کیا۔ سوا یسوی تسویہ کے معنی ہیں چیز کو برابر کرنا بھئی۔ مراد اس سے اعضاء کا درست کرنا ہے۔ کہ انسان کی نسل کو کس سے بنایا؟ بے قدرے پانی سے بنایا اس اور پھر اسے برابر کیا یعنی اس کے اعضاء وغیرہ بنائے ماں کے پیٹ میں۔ نطفہ ماں کے پیٹ میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ کچھ ذرا بڑا ہو جاتا ہے تو پھر اس سے اعضاء بننے لگتے ہیں بھئی، اعضاء بننے لگتے ہیں۔ ثم سواه پھر اس کو کیا کرتی، پھر اس کو برابر کیا یعنی اس سے اعضاء وغیرہ بنائے بھئی۔ ونفخ فيه من روحه اور پھونکی فیه اس میں من روحه اپنی روح۔ پھر اس کے اعضاء وغیرہ درست کیے اور پھر اس میں اپنی روح پھونکی۔ نفخہ کے معنی پھونکنا۔ ونفخ فيه من روحه اور پھونکی اس میں اپنی روح۔ बच्चہ جب ماں کے پیٹ میں چار ماہ کا ہو جاتا ہے اور اس کے اعضاء وغیرہ شکل و صورت بن گئے تو پھر اس کے اندر روح پھونکی جاتی ہے بھئی، پھر روح اور روح اپنی روح بھئی روح کی نسبت اللہ تعالی نے اپنی طرف کی۔ ویسے تو تمام چیزیں ہی اللہ تعالی کی ہیں لیکن جس چیز کی عظمت اور عزت بتلانا ہو عزت بتلانا مقصود ہو اس کی اللہ اپنے طرح نسبت کرتے ہیں جیسے بیت اللہ بھئی۔ بیت اللہ اس کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی۔ اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام کے پاس جو اونٹنی بھیجی گئی تھی، اس کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی ناقتہ اللہ، اللہ کی اونٹنی۔ تو ہیں تو تمام چیزیں اللہ کی، لیکن جس کی عظمت اور عزت بتلانا مقصود ہو، اس کی نسبت اللہ اپنی طرف کرتے ہیں۔ روح، بھئی روح کیا چیز ہے؟ اس کی حقیقت پر آج تک انسان واقف نہیں ہو سکا۔ اس کی حقیقت پر آج تک انسان واقف نہیں ہو سکا۔ علماء لکھتے ہیں کہ یہ روح جو ہے، ایک لطیف جسم ہے ہوا کی طرح، بھئی۔ جس طرح ہوا ہوتی ہے، اس طرح کا ایک لطیف جسم ہے، جو انسان کے پورے بدن میں سرایت کیے ہوئے ہوتا ہے۔ جس طرح دودھ کے اندر سفیدی، بھئی۔ دودھ کے ایک ایک جز میں سفیدی ہوتی ہے، یا جیسے گلاب کے اندر اس کا عرق، بھئی۔ گلاب کی ایک ایک پتی میں اس کا وہ عرق پھیلا ہوا ہوتا ہے، سرایت کیے ہوئے ہوتا ہے۔ اسی طرح روح بدن کے ایک ایک جز کے اندر سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے، بھئی۔ اور اسی روح کی وجہ سے یہ زندگی ہے، بھئی۔ دیکھو جب کسی شخص کا انتقال ہو جاتا ہے، وہی آنکھیں ہیں، لیکن اب دیکھ نہیں سکتیں۔ وہی کان، وہی ہیں، بھئی، لیکن اب سن نہیں سکتے۔ زبان وہی ہوتی ہے، لیکن پھر بول نہیں سکتی۔ تو یہ ساری زندگی کس سے ہے؟ روح ہے اصل، بھئی۔ یہ بدن اس کے تابع ہے، بھئی۔ اس بدن میں اس روح کی وجہ سے حیات ہے، زندگی ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں ثم سواہ، پھر اللہ نے اس کے اعضاء درست کیے، ونفخ فيه من روحه، اور پھونکی اس میں اپنی روح۔ وجعل لكم السمْع والأبصار والأفئدة، اور بنا دیے تمہارے لیے، اور بنا دیے تمہارے لیے، السمع، سمع کا مصدر ہے، معنی ہے سننا۔ لیکن مراد اس سے یہاں کان ہیں، بھئی، کان۔ اور بنائے تمہارے کان، والابصار، اور آنکھیں، والافئدۃ، اور دل، بھئی۔ افئدہ جمع ہے، فواد کی، بھئی، فواد۔ افئدہ کس کی جمع ہے؟ فواد کی। افئدہ جمع ہے فواد کی، اور فواد دل کو کہتے ہیں، بھئی، دل کو۔ فواد، فا، واؤ، اور اس واؤ کے اوپر ہمزہ لکھیں گے، اور الف اور دال، بھئی، فواد۔ واؤ کے اوپر ہمزہ آئے گا، بھئی، فواد۔ وجعل لكم السمْع والأبصار والأفئدة، اور بنائے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل۔ بھئی، یہ التفات ہو رہا ہے، آپ دیکھ رہے ہوں گے، غیبت سے خطاب کی طرف۔ میں نے بتلایا تھا کلام کے تین طریقے ہیں، بھئی۔ ایک غیبت، ایک خطاب، اور ایک تکلم، بھئی۔ غیبت، غائب کے انداز میں کلام کیا جائے۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید آیا، اس نے یہ کام کیا اور اس نے یہ کام کیا تو دیکھو، اس کا لفظ لا رہا ہوں، غائب کی بات کر رہا ہوں، بھئی۔ اور پھر، خطاب، جس میں مخاطب سے کلام کیا جائے، بھئی، اس کی طرف رخ کرتے ہوئے۔ اور تکلم، جس میں اپنے بارے میں بات کی جائے، بھئی۔ تو کلام کے تین طریقے ہیں، خطاب، غیبت، اور تکلم۔ تو اس سے پہلے غیبت کا انداز چل رہا تھا، ثم جعل نسله من، دیکھو نسله، پھر بنائی اس کی نسل، یہ اس انسان کی نسل۔ ثم سواہ، پھر اس انسان کو برابر کیا۔ ونفخ فيه، پھر اس انسان میں پھونکی من روحه اپنی روح۔ تو یہاں تو غائب کا انداز چل رہا تھا، آگے اللہ فرماتے ہیں وجعل لكم، اور اللہ نے تمہارے کان بنائے، اللہ نے تمہارے کان بنائے، اب خطاب والا انداز آگیا۔ اور نکتہ اس کے اندر یہ ہے کہ اس سے پہلے روح نہیں تھی، بے جان چیز تھی پتھر کی طرح، اور بے جان چیز سے خطاب نہیں کیا جاتا۔ اب جب ونفخ فيه من روحه، جب اس میں روح پھونک دی گئی، تو اب اس میں جان آگئی، اب وہ خطاب کے قابل بن گیا، اس لیے اب خطاب والا انداز اختیار کیا گیا، بھئی۔ وجعل لكم السمْع والأبصار والأفئدة، اور بنائے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل۔ تو سمع بول کر میں نے بتلایا، کان مراد ہیں، اور اس کو مفرد ذکر کیا گیا، ابصار اور افئدہ کو جمع ذکر کیا گیا، وجہ یہ کہ سمع مصدر ہے، اور مصدر اسم جنس ہوتا ہے، اور اس میں جنس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر، سب پر یہ بولا جاتا ہے۔ تو اس لیے اس میں، اس کو مفرد ذکر کیا گیا۔ بھئی, ایک ہے سمع، ان سننے کی طاقت، اور ایک ہے دیکھنے کی۔ تو علماء نے، علماء میں اس بارے میں اختلاف ہے، بعض علماء فرماتے ہیں کہ آنکھیں اللہ کی بڑی نعمت ہیں۔ آنکھیں اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں، اور جس کو آنکھیں نہیں دی گئیں، تو گویا اس کی اس کو، وہ مردے ہی کی طرح ہے ایک لحاظ سے۔ کوئی چیز وہ دیکھ نہیں سکتا، کسی رنگ کا پتہ نہیں، کسی شکل کا پتہ نہیں، کسی چیز کا علم نہیں۔ تو آنکھیں اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہیں، بعض علماء کہتے ہیں، لیکن جمہور علماء فرماتے ہیں کہ کان اللہ کی بڑی نعمت ہیں، بھئی۔ آنکھیں بھی بہت بڑی نعمت ہیں، اور کان بھی، لیکن کان کا درجہ زیادہ ہے، بھئی۔ وجہ اس کی یہ، کہ کانوں کے ذریعے ہم سنتے ہیں، اور یہ سننا جو ہے، یہ سبب ہے تمام علوم کا، بھئی۔ اگر کان ہی نہ ہوں، تو وہ شخص علم حاصل نہیں کر سکتا، بھئی۔ اگر حاصل کرے تو، وہ طریقے آگئے آج کل آج، مگر پھر بھی بہت تھوڑا علم، بھئی، جو کانوں کے ہوتے ہوئے جو علوم ہیں، ان کا کوئی جز بھی نہیں بنتا وہ، بھئی۔ اور جو شخص بہرہ ہو، یاد رکھیے بچپن سے، وہ گونگا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ کوئی لفظ کبھی سنا ہی نہیں تو بولے کیسے، بھئی؟ تو عموماً جو بہرے جو گونگے ہوتے ہیں، اس کی وجہ دراصل یہ ہوتی ہے کہ ان کی سماعت نہیں ہوتی، بھئی، ان کی۔ سمجھ میں آیا، بھئی، سننے کی طاقت ان کے کانوں میں نہیں ہوتی، تو جب کوئی لفظ ساری زندگی سنا ہی نہیں، تو اگرچہ زبان صحیح بھی ہو، پھر بھی جب لفظ کا اسے پتہ ہی نہیں ہے، تو وہ بات چیت بھی نہیں کر سکتے، بھئی، بات چیت۔ تو علوم کا دارومدار سارا سمع پر ہے، بھئی۔ آپ بھی دیکھتے ہیں کوئی شخص نابینا ہوتا ہے، لیکن بڑا عالمِ دین ہوتا ہے، بھئی۔ نابینا ہوتا ہے، پھر بھی بہت بڑا قاری ہوتا ہے، بھئی۔ تو علوم کا اصل ذریعہ یہ آنکھ، کان ہیں، بھئی، کان۔ اسی لیے چونکہ یہ بڑی نعمت ہے، آنکھیں اس سے چھوٹی نعمت، اس کے مقابلے میں اس سے چھوٹی نعمت ہیں، اگرچہ آنکھیں بھی بہت بڑی اللہ کی نعمت ہیں۔ اسی لیے القرآن میں جہاں بھی سمع و بصر کا ذکر آتا ہے، اللہ تعالی سمع کو مقدم ذکر کرتے ہیں، جیسے یہاں آپ دیکھ رہے ہیں السمع کو ابصار پر مقدم ذکر کیا گیا، بھئی۔ قلما تشکرون، بہت تھوڑا تم شکر ادا کرتے ہو۔ قلما تشکرون، بہت تھوڑا تم شکر ادا کرتے ہو۔ یہ قلیلاً کے بعد جو ما آ رہا ہے، یہ ما قلیلاً کی صفت ہے، بھئی، صفت ہے۔ اور یہ قلیلاً کے اندر جو قِلت کے معنی مفہوم ہو رہے ہیں، قلیلاً سے، یہ اسی کی تاکید ہے، بھئی، اسی میں تاکید پیدا کر رہا ہے۔ تو قلیلاً تشکرون ہو تو معنی کیا ہوگا؟ تم تھوڑا شکر ادا کرتے ہو۔ قلما تشکرون، تم بہت ہی تھوڑا شکر ادا کرتے ہو۔ مراد یہ ہے کہ شکر ادا کرتے ہی نہیں ہو، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ مراد کیا ہے؟ شکر ادا کرتے ہی نہیں ہو تم لوگ۔ وقالوا أإذا ضللْنا في الأرض أإنا لفي خلق جديد، اور وہ کفار کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مل جائیں گے زمین کے اندر؟ ضل یضل کے معنی ہوتے ہیں گم ہو جانا، کھو جانا۔ وہ کہتے ہیں کیا جب ہم زمین میں کھو جائیں گے، گم ہو جائیں گے؟ یعنی زمین میں مل جائیں گے، ضل یضل کسی چیز کے ساتھ اس طرح مل جانا کہ جدا نہ ہو سکے۔ تو یعنی جب ہم زمین کے ساتھ مل جائیں گے، یعنی مٹی بن جائیں گے اور زمین کے ساتھ بالکل رل مل گئے تو کیا؟ أإنا لفي خلق جدید، تو کیا ہم نئی پیدائش میں آئیں گے؟ جی، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ ضللْنا في الأرض کا زمین میں مل جائیں گے، یعنی نیست و نابود ہو جائیں گے بالکل زمین کے اندر۔ تو ترجمہ یوں کرلیں، بھئی۔ وقالوا اور وہ کہتے ہیں، أإذا ظللنا في الأرض أإنا لفي خلق جديد؟ تو کیا ہم رل مل جائیں گے زمین میں، أإنا لفي خلق جديد؟ تو کیا ہم نئی پیدائش میں آئیں گے؟ جب زمین میں رل، نیست و نابود ہو گئے، رل مل گئے تو کیا اس کے بعد پھر ہم نہیں پیدائش میں آئیں گے؟ یہ استفہامِ انکاری ہے، بھئی، یعنی ان کا یہ خیال تھا کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا। كفار کیا سوال کرتے ہیں، بڑے حیرت سے اور تعجب سے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، ایک شخص جب ختم ہو جائے، مٹی ہو گیا، زمین میں مل گیا، اور پھر کیا دوبارہ اس کو بنایا جائے گا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے ایک شخص جب مٹی میں مل گیا، پتہ ہی نہیں اس کا، ایک ایک جز مٹی کے ساتھ مل گیا، اب جدا ہی نہیں ہو سکتا، تو نئی پیدائش میں وہ کیسے آ سکتا ہے؟ بل هم بلقاء ربهم كافرون। بلکہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات ہی کے انکار کرنے والے ہیں। لقاء ملاقات، بھئی। کافرون انکار کرنے والے ہیں، منکر ہیں، منکر। اللہ فرما رہے ہیں وہ لوگ کہتے ہیں کیا جب ہم زمین میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم نئی پیدائش میں آئیں گے؟ پھر ہمیں پیدا کیا جائے گا، ہم دوبارہ نئے سرے سے زندہ ہوں گے؟ بل هم بلقاء ربهم كافرون، بلکہ یہ لوگ تو اپنے پروردگار کی ملاقات ہی کا انکار کرنے والے ہیں। صرف اٹھنے کا انکار نہیں کر رہے، بلکہ یہ لوگ تو اپنے پروردگار کی ملاقات ہی سے ہی منکر ہیں، بھئی، اس کا انکار کرنے والے ہیں। بل هم بلقاء ربهم كافرون، بلکہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات ہی کے کافرون منکر ہیں। قل يتوفاكم ملك الموت الذي وكل بكم ثم إلى ربكم ترجعون। قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے! يتوفاكم تمہیں قبض کر لے گا، یعنی موت دے دے گا، ملك الموتِ موت کا فرشتہ، الذي وكل بكم وہ موت کا فرشتہ الذي وكل بكم جسے مقرر کیا گیا ہے تم پر، ثم إلى ربكم ترجعون پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے। توفی یتوفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا لے لینا، بھئی، پورا لے لینا। کوئی چیز پوری کی پوری اٹھا لینا اور لے لینا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ جی، توفی ہے، یہ। تو قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے! يتوفاكم ملك الموتِ کہ تمہیں اٹھا لے گا ملک الموت پورا کا پورا، یعنی موت دے دے گا تمہیں، اور پورا کا پورا لے لے گا، یعنی اس کے اجزاء میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، یا تم سب کو کیا کرے گا؟ موت دے دے گا، بھئی। ملک الموت جو ہیں، حضرت عزرائیل علیہ السلام ہیں। اور حضرت عزرائیل علیہ السلام یہ اللہ کے چار بڑے اور مقرب فرشتوں میں سے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام، حضرت عزرائیل علیہ السلام، اور حضرت اسرافیل علیہ السلام، یہ چار اللہ کے بڑے اور مقرب فرشتے ہیں، اور جنہیں اللہ نے بے انتہا طاقت دی ہے، ان میں سے حضرت عزرائیل علیہ السلام جو ہیں، وہ روحیں نکالنے پر مقرر ہیں، بھئی، روحیں نکالتے ہیں। تو اس آیت میں آیا قل يتوفاكم ملك الموتِ کہ تمہیں موت دے دے گا ملک الموت، بھئی। بعض آیتوں کے اندر اللہ کا ذکر آیا ہے کہ اللہ موت دیتے ہیں، اور بعض آیتوں کے اندر فرشتوں کا لفظ آیا ہے، جمع کا لفظ کہ فرشتے کیا کرتے ہیں؟ وہ روح قبض کرتے ہیں। تو بعض میں آیا اللہ روح قبض کرتے ہیں، بعض میں آیا فرشتے روح قبض کرتے ہیں، اور یہاں آیا ملک الموت، بھئی। بھئی، اللہ کی طرف تو نسبت اس لیے کی گئی، کیونکہ یہ سب کچھ اللہ ہی کے حکم پر ہوتا ہے، تو جو اللہ ہی کے حکم پر روح جب قبض کر رہے ہیں، تو گویا اللہ ہی روح قبض کر رہے ہیں। یا نیز اس لیے کہ جو شہدائے بحر جو ہیں، سمندر کے شہداء، ان کے بارے میں احادیث میں آتا ہے، کہ ان کی روح جو ہے، اللہ تعالی خود قبض فرماتے ہیں، بھئی، بغیر واسطے فرشتوں کے। ان کی عزت اور تکریم کے طور پر، کہ وہ شخص جو اللہ کے راستے میں ہے، اور سمندر میں شہید ہوا، اور اسی طرح غرق ہوا، بھئی، سمندر میں ڈوب گیا، اللہ کے راستے میں تھا، تو ان کی روح جو ہے، اللہ تعالی بطور عزت اور اکرام کے، بغیر کسی واسطے فرشتے کے، خود قبض فرماتے ہیں। سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو بعض کی اس طرح اللہ ارواح قبض فرماتے ہیں، اور نِز- اللہ کی طرف جو نسبت آئی، وہ دوسری وجہ، ایک تو وجہ یہ ہو گئی کہ بعض کی روح اللہ خود قبض فرماتے ہیں، اور دوسری وجہ میں نے ذکر کی اس لیے، کیونکہ حکم دینے والے کون ہیں؟ اللہ تعالی ہی ہیں، یہ سارا نظام اللہ کے احکامات کے مطابق فرشتے چلا رہے ہیں। اللہ جیسے جیسے حکم دیتے ہیں، وہ اس کے مطابق انتظامات کرتے چلے جاتے ہیں، تو اصل حکم دینے والی اور کرنے والی ذات اللہ تعالی کی ہے। اور بعض آیتوں کے اندر جو ملائکہ اور فرشتوں کی طرف نسبت آئی ہے، تو علماء فرماتے ہیں کہ حضرت عزرائیل علیہ السلام کے بہت سے معاون اور مددگار فرشتے ہیں، جو اللہ نے انہیں مدد کے طور پر ان کے حوالے کیے ہیں، جو روح قبض کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں، اور حضرت عزرائیل علیہ السلام ان کے امیر ہیں، انچارج ہیں، بھئی। تو بہت سے فرشتے ان کے ماتحت ہیں، تو وہ ان کے ساتھ ہیں، اس لیے آیتوں کے اندر بعض آیتوں میں ملائکہ کا ذکر آتا ہے। حضرت عزرائیل علیہ السلام روایات میں آتا ہے کہ ہر گھر میں روزانہ تین چکر لگاتے ہیں، بھئی। ہر گھر میں روزانہ تین مرتبہ چکر لگاتے ہیں। اور فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ اس گھر کے چھوٹے، بڑے، سب کو میں پہچاننے لگتا ہوں، بھئی। سب کو اچھی طرح پہچان لیتا ہوں। حضرت عزرائیل علیہ السلام اب تو خفیہ طور پر آتے ہیں اور روح قبض کرتے ہیں، کسی کو دکھائی نہیں دیتے। پہلے سامنے آتے ہیں اور بتل- کہتے ہیں اس شخص کو کہ میں تمہاری روح قبض کرنے لگا ہوں। تو چنانچہ لوگ پھر ان کو برا بھلا کہتے، برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالی نے لوگوں پر بیماریاں اور امراض مسلط کر دیے، اور ملک الموت پھر خفیہ حالت میں آنے لگے، تو اب لوگوں کی توجہ ملک الموت کے بجائے بیماریوں اور امراض کی طرف ہو گئی، بھئی। بیماریوں اور امراض کی طرف। اور ملک الموت کہتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے، اور آ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے پیغمبر! میں آپ کے روح قبض کرنے آیا ہوں। حضرت موسیٰ علیہ السلام بڑے جلالی طبیعت والے، انہوں نے ایک زوردار تھپڑ لگایا ملک الموت کو اور ان کی ایک آنکھ پھوڑ دی، بھئی। وہ پھر اللہ کے دربار جلال و جمال میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ! میں آپ کے پیغمبر کے پاس گیا ان کی روح قبض کرنے کے لیے، اور انہوں نے اس طرح تھپڑ لگا کر میری آنکھ پھوڑ ڈالی، اور اگر وہ آپ کے نزدیک معزز و مکرم بندے نہ ہوتے، تو میں بھی ان پر سختی کرتا। پیغمبروں کا بھی کیا مقام ہے، کیا شان ہے اللہ کے نزدیک، اندازہ تو لگائیے! پھر فرمایا اللہ نے ملک الموت سے کہ جاؤ، موسیٰ سے کہو کہ بیل کی کھال پر اپنا ہاتھ رکھ دیں، جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئے، ایک ایک بال کے بدلے ایک ایک سال کی زندگی ان کے لیے ہوگی، بھئی، جتنے بھی بال آ گئے। چنانچہ ملک الموت آئے، اور پھر عرض کیا اسی طرح، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہ آپ بیل کی کھال پر ہاتھ رکھ لیں، اللہ فرما رہے ہیں، جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے، اتنی ہی سال مزید آپ کو زندگی میں دے دیتا ہوں। حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ جب وہ سال پورے ہو جائیں، تو ملک الموت نے کہا، پھر آپ کی اس وقت موت آئے گی। تو فرمایا جب موت ہر حال میں آنی ہی آنی ہے، تو پھر ابھی ہی ٹھیک ہے। چنانچہ پھر اس وقت ان کی روح قبض کر لی। روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالی نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا، تو ملک الموت نے، حضرت عزرائیل علیہ السلام نے اللہ سے اجازت طلب کی کہ اے اللہ! مجھے اجازت دیجیے، میں انہیں جا کر یہ خوشخبری سناؤں کہ آپ نے ان کو اپنا خلیل بنا لیا ہے، خلیل بنا لیا ہے। چنانچہ اللہ نے اجازت دے دی، آئے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری دی کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنا خلیل بنا دیا ہے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پر اللہ کا شکر ادا کیا، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک الموت سے پوچھا کہ آپ کفار کی روح قبض کرتے ہیں، ان کے پاس کس شکل میں آپ آتے ہیں؟ تو حضرت عزرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اپ اس حالت میں مجھے دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اصرار کیا تو حضرت عزرائیل علیہ السلام فرمانے لگے اچھا اپ اپنا رخ دوسرا دوسری طرف کر لیجیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رخ دوسری طرف کیا اور پھر واپس مڑے تو دیکھا کہ ایک انتہائی خوفناک شکل کا سیاہ رنگ کا شخص ہے، جس کا سر اسمانوں تک پہنچا ہوا ہے اور انتہائی خوفناک شکل ہے اور منہ سے اگ کے شعلے نکل رہے ہیں اور اس کے پورے بدن پر ہر ہر بال کی جگہ پر سر اور منہ بنے ہوئے ہیں اور ان سے بھی اگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ اس خوفناک اتنا خوفناک منظر تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اتنے اتنے ڈر گئے کہ قریب تھا کہ وہ ان کی روح ہی نکل جائے۔ پھر خوف جب ان کا ختم ہوا اور حضرت عزرائیل علیہ السلام بھی پھر اپنی اس شکل میں آ گئے تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمانے لگے کہ اے عزرائیل کافر کے لیے اللہ نے جتنی تکالیف، مصیبتیں، آزمائشیں دنیا میں رکھی ہیں اس کے بجائے اگر یہ صرف آپ کی صورت ہی دیکھ لے تو یہ صورت کا آپ کی صورت کو دیکھنا ہی اس کے لیے بطور سزا کے کافی ہے، اتنی خوفناک صورت تھی۔ اور پھر پوچھا کہ آپ مومنوں کی روح نکالنے کے لیے کس صورت میں آتے ہیں؟ تو حضرت عزرائیل علیہ السلام فرمانے لگے کہ آپ اپنا رخ ذرا دوسری طرف کر لیں۔ انہوں نے اپنا رخ دوسری طرف کیا اور پھر واپس مڑے تو دیکھا کہ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے ایک انتہائی بے انتہا حسین و جمیل نوجوان کی شکل میں ہیں، اتنے حسین و جمیل اتنے حسین و جمیل کہ بیان نہیں ہو سکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمانے لگے کہ مومن کو موت کے وقت جو ہے اللہ جو ہے اس کو جنت وغیرہ اس کی دکھائی جاتی ہے کہ یہ کچھ اللہ نے تمہارے لیے تیار کیا جو تم اس دنیا کے اندر نیک عمل کرتے رہے ہو۔ ان کے بجائے اگر صرف تمہاری یہ صورت ہی دکھا دی جائے اتنی حسین و جمیل صورت، یہی اس کے لیے بطور انعامِ اعزاز کے کافی ہے۔ اور ملک الموت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا اور اسی طرح بعض روایات میں ہے حضرت حضرت یعقوب علیہ السلام نے پوچھا کہ اے ملک الموت تم کس طرح تمام دنیا کے لوگوں کی روح قبض کرتے ہو؟ کہ ایک شخص ہوتا ہے اس کا انتقال ہوتا ہے وہ دنیا میں ایک کونے میں ہے، مشرق میں ہے کسی دوسرے کا انتقال دنیا کے دوسرے کونے مغرب میں ہو رہا ہے تو کس طرح تم بیک وقت ان سب کی ارواح قبض کرتے ہو؟ تو حضرت عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اس تمام دنیا کو اللہ نے میرے لیے مسخر فرما دیا ہے اور یہ دنیا میرے لیے اسی طرح ہے جس طرح ایک پلیٹ ہوتی ہے اور انسان کے سامنے پلیٹ رکھی ہو اور پلیٹ کے جس حصے سے وہ لقمہ اٹھانا چاہتا ہے، لقمہ اٹھا لیتا ہے اسی طرح میرے لیے اس دنیا کو اللہ نے مسخر کر دیا ہے، میں اس کے جس کنارے سے، جس جگہ سے چاہتا ہوں لوگوں کی ارواح قبض کرتا ہوں۔ اور بعض روایات میں یہ آیا کہ ملک الموت جو ہیں بیٹھے ہوئے ہیں اور تمام دنیا ان کے گھٹنوں کے درمیان ہے اور فرشتے ان کے دائیں بائیں ادب سے کھڑے ہیں اور ملک الموت کے ہاتھ میں ایک تختی ہے جس کی طرف وہ مسلسل دیکھتے رہتے ہیں، ایک لمحہ بھی دائیں بائیں نہیں دیکھتے اور اس تختی پر ان لوگوں کے نام درج ہوتے ہیں جن پر جن کی موت کا وقت آجاتا ہے۔ تو ملک الموت اس کا حکم جیسے ہی کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو حکم دیتے ہیں اور فرشتے فورا اس حکم کو پورا کرنے کے لیے چل پڑتے ہیں بھئی، وہ حکم دے دیتے ہیں کہ فلاں وقت شخص کا وقت پورا ہو گیا اب اس کی روح قبض کر لو۔ اور حضرت عزرائیل علیہ السلام کو بھی کسی شخص کی موت تک علم نہیں ہوتا کہ اس شخص کی موت کا وقت آ گیا ہے۔ عین جب اس کی موت کا وقت ہوتا ہے اس وقت اللہ کی طرف سے ان کو حکم آ جاتا ہے کہ اس شخص کا وقت پورا ہو گیا اس کی روح قبض کر لو۔ اور بعض روایات میں آتا ہے کہ باقاعدہ پرچی اور رقاع آ جاتا ہے اللہ کی طرف سے کہ اس شخص کی روح قبض کر لو، چنانچہ پھر وہ اس کی روح قبض کر لیتے ہیں۔ کہتے ہیں ملک الموت سے پوچھا گیا کہ آپ ارواح کس طرح قبض کرتے ہیں؟ تو فرمانے لگے میں روح کو اپنی طرف بلاتا ہوں، وہ چلی آتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی! اللہ کا عجیب و غریب نظام ہے بھئی۔ انسان کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ اور یہ تمام چیزیں جو ہیں انسان، جنات، شیاطین یہ جانور، چرند، پرند وغیرہ کیا ان سب کی روح ملک الموت ہی قبض کرتے ہیں یا ان کے لیے الگ الگ فرشتے ہیں؟ تو بعض علماء لکھتے ہیں کہ الگ الگ فرشتے ہیں بھئی۔ ملک الموت صرف انسانی ارواح نکالنے پر مقرر ہیں جبکہ جنات کی روح نکالنے کے لیے اور فرشتہ ہے، شیاطین کی روح نکالنے کے لیے اور فرشتہ ہے اور جانوروں وغیرہ چرند، پرند جو ہیں ان کی روح نکالنے کے لیے اور فرشتہ ہے۔ لیکن جمہور کے نزدیک بھئی ملک الموت حضرت عزرائیل علیہ السلام ہی سب کی روح نکالنے پر مقرر ہیں اور ان کے بہت سے مددگار فرشتے ہیں بھئی۔ سب کی روح نکالنے پر یہ مقرر ہیں اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو جانور، پرندے، حشرات وغیرہ ہیں ان کی زندگی جو ہے وہ ذکر اللہ اللہ کی تسبیح کی وجہ سے یہ ہر وقت اللہ کی تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں اور جس وقت بس یہ تسبیح سے غافل ہو جاتے ہیں اس وقت ان پر موت آ جاتی ہے بھئی۔ معلوم ہوا کوئی فرشتہ وغیرہ ان کی روح قبض نہیں کرتا بس ان کی زندگی اس تسبیح کے دم سے ہے جب تک وہ تسبیح ہے یہ بھی زندہ ہیں جب تسبیح سے غفلت ہوتی ہے اسی وقت وہ مر جاتے ہیں بھئی۔ اور ملک الموت کسی شخص کے پاس اجازت لے کر نہیں آتے بھئی۔ لیکن صرف سرور کونین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کے پاس ملک الموت باقاعدہ اجازت طلب کر کے تشریف لائے بھئی۔ تو یہ صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ ان کے پاس ملک الموت باقاعدہ اجازت لے کر حاضر ہوئے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں قل یتوَفاکُم ملک الموت الذي وُکِّل بکم اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ موت دے گا تمہیں ملک الموت۔ توفى کے معنی ہوتے ہیں ایک چیز کو پورا پورا لے لینا بھئی۔ پورا اٹھا لینا، پورا لے لینا۔ تو مراد کیا ہے یعنی پوری جان نکالیں گے یہ نہیں کہ کچھ چھوڑ دیں یا مراد یہ ہے کہ سب کی ہر ایک کی ہر ایک کی جان نکالیں گے۔ قل يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ کہ تمہاری روح قبض کر لے گا، تمہاری جان قبض کر لے گا وہ ملک الموت الذي وُکِّل بکم جو مقرر کیے گئے ہیں تمہارے اوپر ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُؤُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهمْ و لو ترا اور اگر تو دیکھے اے مخاطب بھئی! اس سے کوئی متعین مخاطب نہیں مراد، ہر مخاطب اس سے اس میں شامل ہے بھئی۔ و لو ترا اور اے مخاطب اگر تو دیکھے إِذِ الْمُجْرِمُونَ جس وقت مجرم لوگ نَاكِسُو رُؤُوسِهِمْ سر جھکائے ہوئے ہوں گے عِندَ رَبِّهِمْ اپنے پروردگار کے پاس۔ نکس کے معنی الٹنے کے ہیں بھئی کسی چیز کو الٹ دینا، اوندھا کر دینا۔ یہاں ناکسو رؤوسھم کا معنی ہے سر جھکا دینا، سر نیچے کی طرف کر دینا۔ و لو ترا اور اگر تو دیکھے إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُؤُوسِهِمْ جب مجرم لوگ سر جھکائے ہوئے ہوں گے عِندَ رَبِّهِمْ اپنے پروردگار کے پاس۔ و لو ترا اگر تو دیکھے اے مخاطب بھئی اس سے کوئی متعین مخاطب نہیں مراد، ہر مخاطب اس سے مراد ہے، اے مخاطب و لو ترا اگر تو دیکھے إِذِ الْمُجْرِمُونَ جس وقت مجرم لوگ نَاكِسُو رُؤُوسِهِمْ سر جھکائے ہوئے ہوں گے عِندَ رَبِّهِمْ اپنے پروردگار کے پاس۔ تو یہ لو جو ہے یہ دو جملوں پر داخل ہوتا ہے لو اور دوسرا جملہ یعنی جواب لو یہاں محذوف ہے۔ اے مخاطب اگر تو دیکھے مجرموں کو سر جھکائے ہوئے اپنے پروردگار کے پاس لَرَأَيْتَ أَمْرًا فَظِيعًا یہ ہے جواب لو بھئی یہ محذوف ہے تو البتہ تو بڑا ہی ہولناک منظر دیکھے۔ لَرَأَيْتَ أَمْرًا فَظِيعًا بڑا ہی گھبرا دینے والا، ہولناک منظر دیکھے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس سے میں نے بتلایا کوئی متعین مخاطب نہیں مراد، ہر مخاطب مراد ہے جو شخص بھی دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ مجرموں کا حال اتنا ظاہر ہوگا کہ جو شخص بھی دیکھنے کی صلاحيت رکھتا ہوگا وہ ان کو دیکھے گا، یعنی ہر ایک ان کو دیکھے گا بھئی، ہر ایک ان کو دیکھے گا۔ تو ولو ترا، میں نے بتلایا اس سے کوئی متعین مخاطب نہیں مراد، بلکہ ہر مخاطب مراد ہے، ہر دیکھنے والا مراد ہے۔ بتلانا یہ ہے، مقصد یہ ہے کہ مجرموں کا یہ جو حال ہے اتنا ظاہر ہوگا، اتنا ظاہر ہوگا کہ ہر ایک دیکھے گا اور اس کو کسی پر بھی وہ پوشیدہ نہیں ہوگا بھئی۔ تو اے مخاطب! اگر تو مجرموں کو سر جھکائے ہوئے اپنے پروردگار کے پاس دیکھے اور جس وقت وہ معذرت وغیرہ پیش کر رہے ہوں گے، بڑا ہی ہولناک منظر ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی، بڑے بڑے سرکش جابرین، جو اس دنیا میں توجہ ہی نہیں کرتے تھے اس دین کی طرف اور بلکہ مذاق اڑایا کرتے تھے، وہاں پر اللہ کے حضور میں بڑی عاجزی سے درخواستیں، معذرتیں کر رہے ہوں گے کہ ہمیں پھر دنیا میں بھیج دیجیے، ہم دوبارہ نیک عمل کریں گے۔ نیک عمل کریں گے۔ ربنا ابصرنا و سمعنا فرجعنا نعمل صالحا انا موقنون اے ہمارے پروردگار! ابصرنا ہم نے دیکھ لیا و سمعنا اور ہم نے سن لیا، فرجعنا پس آپ ہمیں واپس لوٹا دیجیے یعنی دنیا کے اندر۔ فرجعنا آپ ہمیں واپس لوٹا دیجیے۔ نعمل صالحا کریں گے ہم اچھے کام۔ انا موقنون یقینا ہمیں ہم یقین کرنے والے ہیں، یعنی ہمیں یقین آگیا۔ وہ مجرم کیا کہیں گے بھئی؟ کیا کہیں گے کفار؟ ربنا ابصرنا اے ہمارے پروردگار! ہم نے دیکھ لیا و سمعنا اور ہم نے سن لیا فرجعنا آپ ہمیں واپس لوٹا دیجیے نعمل صالحا ہم نیکی کی نیکی کریں گے۔ انا موقنون ہمیں یقین آچکا۔ ہم ہم یقین کرنے والے ہیں، یعنی ہمیں یقین آگیا تو وہ کہیں گے اللہ ہمیں واپس دنیا میں بھیج دیجیے۔ مہلت ختم ہو چکی اور اس اب اس کے بعد عمل اور ایمان کی گنجائش نہ ہوگی بھئی۔ دوسری جگہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: لو ردوا لعادوا لما نھو عنہ اگر ان کو واپس لوٹا دیا جائے تو پھر وہی کرنے لگیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا۔ ان کی طبیعت ہی اسی طرح ہے، یہ شر کو پسند کرنے والے لوگ ہیں۔ تو کہیں گے: اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، آپ ہمیں واپس لوٹا دیجیے نعمل صالحا ہم نیک کام کریں گے۔ انا موقنون ہمیں یقین آگیا۔ ولو شئنا لاتينا كل نفس ھداھا ولو شئنا اور اگر ہم چاہتے لاتينا تو البتہ ہم دے دیتے کل نفس ہر نفس کو، ہر جی کو ھداھا اس کی ہدایت۔ اللہ فرما رہے ہیں: ولو شئنا اگر ہم چاہتے تو ہم ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے، اس کو سیدھے راستے پر رکھتے۔ ولكن حق القول منی لاملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین ولكن حق القول منی مگر حق ہو چکا ہے قول میری طرف سے، یعنی ثابت ہو چکا ہے قول میری طرف سے لاملان جھنم البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو من الجنۃ جنوں سے والناس اور لوگوں سے اجمعین دونوں سے۔ انسان اور جنات دونوں سے میں ضرور جہنم کو بھروں گا۔ اللہ فرما رہے ہیں: اگر میں چاہو، اگر ہم چاہتے تو ہم ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے، یعنی ہر نفس کو جو ہے جبراً ہی ہم سیدھے راستے پر رکھ دیتے، لیکن یہ ہماری حکمت کے خلاف ہے۔ ہمارے حکمت کے خلاف ہے کہ ہر ایک کو جبراً ہدایت پر رکھا جائے، ہر ایک کو ہم نے اختیار دیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے، ولكن حق القول منی لیکن یہ قول ثابت ہو چکا ہے میری جانب سے لاملان جھنم کہ میں ضرور بہ ضرور بھر دوں گا جہنم کو من الجنۃ والناس اجمعین جن اور انسان دونوں سے۔ یہ اللہ تعالی نے فرمایا جس وقت ابلیس نے جب سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اور پھر اللہ سے مہلت مانگی تو اللہ تعالی نے اس سے مہلت دے دی تو کہنے لگا کہ اے اللہ! میں ضرور جو ہے ضرور آپ کے بندوں کو گمراہ کروں گا، سوائے آپ کے مخلص بندے کے، وہ بچ جائیں گے مجھ سے، باقی میں ہر ایک کو گمراہ کروں گا۔ تو اللہ فرمانے لگے کہ یاد رکھو میں بھی جہنم کو جنات اور انسانوں سے بھر دوں گا، جو جو تمہارے راستے پر یعنی چلے گا اسے کہاں ڈال دوں گا؟ جہنم میں ڈال دوں گا۔ تو اسی کا اللہ ذکر فرما رہے ہیں کہ اگر ہم چاہتے ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن یہ قول ہماری طرف سے ثابت ہو چکا ہے، ہم نے ہی کہا ہے لاملان جھنم من الجنۃ والناس اجمعین میں ضرور بہ ضرور بھر دوں گا جہنم کو جنوں اور انسانوں دونوں سے۔ فذوقوا بما نسیتم لقاء یومکم ھذا پس چکو تم بسبب اس کے جو تم بھول گئے تھے، یہ جب کفار کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو اس وقت جہنم کے کا داروغہ، جہنم کے پر جو مقرر فرشتے ہیں وہ ان سے کہیں گے یا اللہ تعالی فرمائیں گے بھئی فذوقوا پس چکو تم بما نسیتم یعنی مزہ چکو، پس مزہ چکو تم بسبب اس کے جو تم بھول گئے تھے لقاء یومکم ھذا اپنے اس دن کی ملاقات کو، اپنے اس دن کی ملاقات کو تم جو بھول گئے تھے، اس کی وجہ سے اب یہ مزہ چکو۔ انا نسیناکم بیشک ہم نے تمہیں بھلا دیا یا ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے بھئی یعنی تمہیں چھوڑ دیں گے، اسی نہیں بھلا دینے کا کیا معنی؟ اسی طرح جہنم میں ہی جلتے رہو گے اور اسی حالت میں تمہیں ہم چھوڑ دیں گے ہمیشہ کے لیے۔ انا نسیناکم بیشک ہم نے تمہیں بھلا دیا وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون اور چکو تم ہمیشہ کا عذاب۔ عذاب الخلد ہمیشہ۔ اور چکو تم ہمیشہ کا عذاب بما کنتم تعملون بسسبب اس کے جو تم عمل کیا کرتے تھے۔ انما یومن بایاتنا الذین اذا ذکروا بھا خروا سجدا وسبحوا بحمد ربھم وھم لا یستکبرون انما یومن بایاتنا ہماری آیتوں پر تو وہ ایمان لا, وہی لوگ ایمان لاتے ہیں الذین اذا ذکروا بھا وہ لوگ کہ جب انہیں یاد کروائی جاتی ہیں بھہا وہ آیتیں، ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں جب وہ یاد کروائی جاتی ہیں وہ آیتیں خروا سجدا خرر کے معنی ہیں گرنے کے، تو وہ سجدا جمع ہے ساجد کی۔ یہ حال ہے بھئی! خرر کے اندر جو ضمیر ہے، خرر میں جو یہ واؤ غائب کی ضمیر ہے، جمع جمع مذکر غائب کی ضمیر، اس سے یہ سجدا حال واقع ہو رہا ہے۔ وہ گر جاتے ہیں اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں الذین اذا ذکروا بھہا کہ جب انہیں یاد کروائی جاتی ہیں وہ آیتیں خروا سجدا تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں وسبحوا بحمد ربھم اور وہ تسبیح بیان کرتے ہیں، وہ پاکی بیان کرتے ہیں، بحمد ربھم ساتھ اپنے پروردگار کی حمد کے، حمد کے ساتھ ساتھ پاکی بیان۔ تو وہ پاکی بیان کرتے ہیں ساتھ اپنے پروردگار کی حمد کے وھم لا یستکبرون اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی؟ جی، آیت سجدہ ہم نے تلاوت کی، سبق کے بعد سب ساتھی بھئی سجدہ کر لیں بھئی۔ تتجا فی جدا رہتے ہیں، انہی مومنین کا بیان، انہی کی صفات ذکر ہو رہی ہیں۔ تتجا فا جنوبھم عن المضاجع جدا رہتے ہیں جنوبھم ان کے پہلو عن المضاجع ان کے آرام کی جگہوں سے۔ مضاجع جمع ہے مضجع کی، وہ پہلو لگانے کی جگہ بھئی، یعنی سونے کی اور آرام کرنے کی جگہ، مراد بستر وغیرہ جس پر جہاں انسان آرام کرتا ہے بھئی۔ تتجا فا جدا رہتے ہیں جنوبھم ان کے پہلو عن المضاجع آرام کرنے کی جگہوں سے، سونے کی جگہوں سے۔ یدعون ربھم خوفا و طمعا، خوف اور امید سے۔ خوفا و طمعا۔ یہ حال واقع ہو رہا ہے بھئی یدعون میں یہ جو واؤ ضمیر ہے جمع مذکر غائب کی، اس سے حال ہے بھئی۔ ای خائفینا و طمعینا خائفینا و طمعینا جدا رہتے ہیں ان کے پہلو سونے کی جگہوں سے مراد اس سے وہ نیند نہیں کرتے، راتوں کو سوتے نہیں ہیں، اللہ کے حضور میں تہجد میں، نوافل میں مشغول ہوتے ہیں۔ تتجا فا جنوبھم جدا رہتے ہیں ان کے پہلو سونے کی جگہوں سے یدعون ربھم پکارتے ہیں وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے۔ خوف ہے اللہ کی پکڑ کا، اللہ کے عذاب کا اور امید ہوتی ہے اللہ کے فضل کی۔ تو مومن کی یہ حالت ہوتی ہے ہمیشہ یاد رکھنا، خوف اور امید کے درمیان بھئی۔ ایک طرف اللہ کی پکڑ اور عذاب کا خوف ہوتا ہے تو دوسری طرف اللہ کے فضل کی امید ہوتی ہے اور اسی طرح وہ نیک اعمال کرتا چلا جاتا ہے۔ ومما رزقناھم ينفقون اور اس میں سے جو ہم نے انہیں رزق دیا، ينفقون وہ خرچ کرتے ہیں۔ ومما رزقناھم اور وہ جو ہم نے رزق دیا انہیں اس میں سے ينفقون وہ خرچ کرتے ہیں، یعنی غربا، فقرا پر بھئی۔ فلا تعلم نفس ما اخفي لھم من قرۃ اعین پس نہیں جانتا کوئی نفس کوئی نفس نہیں جانتا ما وہ جو اخفي لھم چھپایا گیا ہے ان کے لیے، پوشیدہ کیا گیا ہے ان کے لیے من قرۃ اعین۔ قرۃ کہتے ہیں ٹھنڈک کو بھئی، ٹھنڈک۔ اعین عینک کی جمع آنکھ بھئی آنکھ۔ پس نہیں جانتا کوئی نفس وہ جو چھپایا گیا ہے ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے۔ یعنی اللہ نے بڑے بڑے انعامات بھئی چھپا رکھے ہیں نیک عمل کرنے والوں کو بطور بدلہ کے دینے کے لیے۔ تو وہ ایسے ایسے انعامات ہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں بھئی، آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ بے انتہا حسین و جمیل اور بے انتہا خوبصورت نعمتیں۔ فلا تعلم نفس ما اخفي لھم من قرۃ اعین پس نہیں جانتے نہیں جانتی کوئی جان وہ جو چھپائی گئی ہیں ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے۔ جزاء بما كانوا يعملون بطور بدلے کے جو وہ عمل کیا کرتے تھے۔ جزاء بھئی یہ مفعول مطلق ہے فعل محذوف کے لیے، ای جوزو جزاء۔ جوزو جزاء بھئی۔ جزا یجازی مجازات سے جوزو ماضی مجہول کا صیغہ ہے، جوزو جزاء بدلہ دیے جائیں گے۔ جوزو جزاء وہ بدلہ دیے جائیں گے بما كانوا يعملون بسسبب اس کے جو وہ عمل کیا کرتے تھے۔ تو یہ بطور بدلہ کے ہیں بھئی یہ چیزیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک کی چیزیں ہیں اللہ نے ان کے لیے چھپا رکھی ہیں اور اللہ نے فرمایا: فلا تعلم نفس کوئی نفس نہیں جانتا، نفس نکرہ ہے اور نکرہ تحت النفی ایا لاء تعلم بھئی اور نکرہ تحت النفی ایا تو وہ عموم کا فائدہ دیتا ہے بھئی۔ تمام افراد کا احاطہ کر لیتا ہے، کوئی نفس نہیں جانتا نہ کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے، نہ کوئی پیغمبر جانتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے کیا کیا نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے، اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں، کسی کان نے نہیں سنی اور کسی دل پر بھی ان کا گزر نہیں ہوا، ایسی ایسی نعمتیں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ تو نہ کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے اور نہ کوئی پیغمبر جانتا ہے کہ اللہ نے کیا کیا نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔ فلا تعلم نفس ما اخفي لھم من قرۃ اعین پس نہیں جانता کوئی نفس وہ جو چھپائی گئی ہیں ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے۔ جزاء بما كانوا يعملون کہ یہ بدلہ ہے بسسبب اس کے جو وہ عمل کیا کرتے تھے۔ افمن كان مومنا كمن كان فاسقا افمن كان مومنا کیا وہ شخص جو مومن ہے كمن كان فاسقا اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو۔ فسق کے معنی نافرمانی کرنے کے۔ افمن كان مومنا کیا بس وہ شخص جو مومن ہے كمن كان فاسقا اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نافرمان ہے؟ لایستوون برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ مومن اور کافر برابر نہیں ہو سکتے، مومن اور نافرمان کافر بھئی۔ خود اللہ بیان فرماتے ہیں آگے تفصیل کہ مومن اور فاسق برابر یعنی کافر برابر نہیں ہو سکتے، ان الذين آمنوا و عملوا الصالحات باقی وہ جو وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، فلہمم جنات الماوی۔ ماوی کہتے ہیں ٹھکانے کو بھئی، ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ فلہمم جنات الماویٰ ان کے لیے جنت ہے، جننتیں ہیں رہنے کی، نزلا بما كانوا يعملون۔ نزل مہمان کے لیے جو کھانا، پینا وغیرہ چیزیں تیار کی جائیں، اسے نزل کہا جاتا ہے بھئی، بطور مہمان نوازی کے یعنی مہمان نوازی۔ تو وہ جو کھانا پینا مہمان کے لیے تیار کیا جاتا ہے اسے کیا کہا جاتا ہے عربی میں؟ نزل بھئی۔ تو وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے جننتیں ہیں رہنے کی، نزلا بطور مہمان نوازی کے بما كانوا يعملون بسسبب اس کے جو وہ عمل کیا کرتے تھے۔ نزلا یہ حال ہے جنات سے بھئی۔ جنتیں اس حال میں کہ وہ مہمان نوازی ہیں۔ اور جنات کی اضافت ماوی کی طرف کی گئی بھئی۔ ماوی، ماوی کا مطلب ترجمہ میں نے بتایا ٹھکانا، رہنے کی جگہ۔ تو چونکہ وہ جنتیں بھی ٹھکانا ہے اور رہنے کی جگہیں ہیں اس لیے جنت جنتوں کی اضافت ماوی کی طرف کی گئی۔ اور بعض علماء نے لکھا کہ یہ جنت کے خاص مقام کا نام ہے بھئی، جیسے مختلف قسم کی جنتیں ہیں تو جنت عدن وغیرہ، اسی طرح یہ بھی ایک جنت کا نام ہے، خاص جو جنت ہے۔ تو باقی وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کرتے رہے تو ان کے لیے جنتیں، ان کے لیے جنتیں ہیں رہنے کی نزلا بما كانوا يعملون بطور مہمان نوازی کے وہ جو عمل کیا کرتے تھے۔ واما الذين فسقوا اور باقی وہ لوگ جنہوں نے نافرمانی کی، فماواهم النار پس ان کا ٹھکانا آگ ہے۔ كلما ارادو ا ان يخرجوا منھا کہ وہ جب بھی ارادہ کریں گے ان يخرجوا منھا کہ نکل آئیں منھا اس میں سے۔ وہ كلما جب بھی وہ ارادہ کریں گے کہ اس میں سے نکل آئیں اعيدوا فيھا تو اس میں لوٹا دیے جائیں گے۔ اس میں پھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے بھئی۔ علماء لکھتے ہیں کہ جہنم کی آگ جہنمیوں کو اٹھا اٹھا کر ادھر ادھر پھینکے گی، اسی طرح مارتے، مارتے، بعض اوقات وہ جنت کے منہ کے قریب آ جائیں گے تو وہ نکلنے کی کوشش کریں گے تو پھر آگ انہیں اوپر سے مارے گی اور نیچے گہرائی تک پہنچا دے گی اور یہ سلسلہ اسی طرح ہمیشہ چلتا رہے گا۔ اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے جہنم کے عذاب سے بھئی۔ وقيل لھم اور کہا جائے گا ذوقوا عذاب النار الذي كنتم به تکذبون۔ وقيل لھم اور ان سے کہا جائے گا کہ تم چکو عذاب النار آگ کے عذاب کو الذي كنتم به تکذبون وہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ وقيل لھم اور ان سے کہا جائے گا ذوقوا عذاب النار الذي كنتم به تکذبون کہ چکو تم آگ کے اس عذاب کو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ولنذیقنھم من العذاب الادنا دون العذاب الاكبر لعلھم يرجعون۔ اور البتہ ہم انہیں ضرور چکھائیں گے من العذاب الادنا۔ ادنا کے معنی قریب کے بھی اور ادنا کے معنی تھوڑے کے بھی بھئی۔ میں نے بتلایا تھا بھئی۔ ادنا کا لفظ پہلے بھی گزرا تھا کہ اس مادہ دال نون واؤ دنو بھی ہو سکتا ہے اور دال نون یا دنی دنی بھئی۔ اور دنو کے معنی ہوتے ہیں قریب ہونے کے اور دنی کے معنی گھٹیا ہونے کے، یعنی یہاں کم ہونا، کم مراد ہے۔ تو یہاں ادنا کے معنی قریب کے بھی کر سکتے ہیں آپ اور تھوڑے کے بھی۔ ولنذیقنھم اور البتہ ہم انہیں ضرور چکھائیں گے من العذاب الادنا تھوڑے عذاب میں سے۔ دون العذاب الاكبر علاوہ بڑے عذاب کے، لعلھم يرجعون تاکہ وہ رجوع کر لیں، تاکہ وہ لوٹ آئیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تھوڑے عذاب کو، تھوڑا عذاب بھی انہیں ہم چکھائیں گے بڑے عذاب کے علاوہ۔ تھوڑا عذاب یہ دنیا کے اندر جو ان پر تکلیفیں، امراض، پریشانیاں، مصیبتیں وغیرہ آتی ہیں اور قحط وغیرہ، یہ جو چیزیں ہیں یہ مراد ہیں بھئی۔ اور عذاب اکبر سے مراد قیامت کے دن کا عذاب ہے بھئی۔ یا قریب کا عذاب بھئی۔ ولنذیقنھم من العذاب الادنا اور البتہ ہم انہیں چکھائیں گے قریبی عذاب میں سے بھی علاوہ بڑے عذاب کے، قریبی عذاب سے بھی وہی دنیا کا عذاب کے وہ قریب ہے اور اخرت کا دور ہے بھئی۔ قریبی عذاب ہم انہیں چکھائیں گے۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ ومن اظلم ممن ذکر بایاتی ربه ثم اعرض عنها ومن اظلم اور کون زیادہ ظالم ہوگا ممن اس شخص سے ذکر بایاتی ربه کہ یاد دلائی جائیں اسے اللہ کی ایتیں ثم اعرض عنها پھر وہ ان سے اعراض کر لے، پھر وہ ان سے منہ موڑ لے۔ ومن اظلم ممن ذکر بایاتی ربه ثم اعرض عنها اور کون زیادہ ظالم ہوگا اس شخص سے جسے اللہ کی ایتیں یاد دلائی جائیں پھر وہ منہ موڑ لے۔ انا من المجرمين منتقمون یقینا ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔ یقینا ہم مجرموں سے انتقام لیں گے۔ ولقد اتینا موسی الکتاب فلا تکن فی مریة من لقائه وجعلناه هدی لبنی اسرائیل ولقد اتینا اور تحقیق ہم نے عطا کی موسی الکتاب موسی علیہ السلام کو کتاب فلا تکن پس نہ ہو جائیں آپ اے پیغمبر فلا تکن پس آپ نہ ہو جائیں فی مریة مریہ کہتے ہیں شک کو بھئی شک۔ فلا تکن فی مریة پس اے پیغمبر آپ نہ ہو جائیں شک میں یعنی آپ شک میں نہ پڑیں من لقائه اس کے ملنے سے۔ آپ شک میں نہ پڑیں اس کے ملنے سے۔ ترجمہ غور سے سننا بھئی یہاں مشکل ہے ترجمہ بھئی۔ تحقیق ہم نے عطا کی موسی علیہ السلام کو کتاب فلا تکن فی مریة من لقائه پس اے پیغمبر آپ شک میں نہ پڑیں اس کے ملنے سے۔ ها ضمیر کس سے راجع ہے بھئی؟ بھئی یاد رکھیے یہ ها ضمیر یا تو راجع ہے کتاب کو یا راجع ہے موسی علیہ السلام کو بھئی۔ کتاب کو راجع ہے یا موسی علیہ السلام کو۔ اگر موسی علیہ السلام کو راجع کریں بھئی تو ترجمہ یہ ہوگا پس آپ شک میں نہ پڑیں حضرت موسی علیہ السلام کے ملنے سے۔ یعنی ان سے ملاقات کے بارے میں لقاء ملاقات ملنا ان سے ملاقات کے بارے میں شک میں نہ پڑیں بھئی۔ تو اگر یہ آیت معراج واقع ہے معراج سے پہلے نازل ہوئی بھئی معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی حضرت موسی علیہ السلام سے چھٹے آسمان پر بھئی۔ تو اگر یہ آیت معراج سے پہلے کی ہو تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالی وعدہ فرما رہے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام سے اے پیغمبر آپ کی ملاقات ہوگی اس میں کسی قسم کے شک و شبہ میں نہ پڑیں۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ اور اگر یہ واقعہ معراج کے بعد کی آیت ہو تو معنی ہوگا کہ اے پیغمبر وہ جو آسمانوں پر موسی علیہ السلام سے آپ کی ملاقات ہوئی تھی اس کے بارے میں شک میں نہ پڑیں وہ کسی قسم کی نظر بندی یا دھوکہ وغیرہ نہیں تھا حقیقتآ آپ کی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ تو خطاب پیغمبر کو ہے اور مراد امت ہے اے امت والو تم شک نہ کرنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا ہوئی تھی حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تھی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ ها ضمیر کس کو راجع کی موسی علیہ السلام کو اور تو ان سے ملنے کے بارے میں شک میں نہ پڑیں یعنی اگر معراج سے پہلے کی یہ آیت ہو واقعہ معراج سے تو اس صورت میں وعدہ کیا جا رہا ہے کہ ان سے آپ کی ملاقات ضرور ہوگی اور اگر واقعہ معراج کے بعد کی ہو تو معنی کیا ہوگا کہ ان سے جو آپ کی ملاقات ہوئی تھی اس کے بارے میں شک میں نہ پڑیں یعنی خطاب پیغمبر کو ہے اور مراد امت ہے کہ اے امت والو تم شک نہ کرنا اس بارے میں۔ دوسری تفسیر بھئی ها ضمیر راجع کریں الکتاب کو۔ الکتاب کو۔ اور اس صورت میں اس سے مراد ہے قرآن بھئی۔ اوپر الکتاب جو آیا تھا اس سے مراد ہے تورات۔ اس سے کیا مراد ہے؟ تورات۔ کیونکہ حضرت موسی علیہ السلام کو تورات دی گئی تھی بھئی۔ اور یہ ها ضمیر بھی اس الکتاب کو راجع ہے لیکن بھئی اب اگر اس کی الکتاب کو راجع کریں تو یہ تو اس کا معنی تو کیا ہو جائے گا؟ اس الکتاب سے کیا مراد ہے تورات تو ها ضمیر بھی اسی کو راجع کی تو کیا معنی ہو جائے گا؟ اس کا معنی بھی تورات ہو جائے گا اور مراد ہے اے پیغمبر آپ شک میں نہ پڑیں اس کتاب کے ملنے سے یعنی قرآن کے۔ کس کے؟ قرآن۔ مراد قرآن ہے تو ها ضمیر کو اگر راجع کرتے ہیں الکتاب کی طرف تو معنی تو کیا ہو جائے گا؟ تورات ہو جائے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تورات دی گئی تھی یا قرآن دیا گیا تھا؟ قرآن دیا گیا ہے۔ تو چنانچہ اس پر علماء لکھتے ہیں بھئی کہ اس صورت میں الکتاب جو ہے اس میں الف لام جنسی لے لیں۔ کیا مراد لے لیں؟ الف لام جنسی تو اور تحقیق ولقد اتینا موسی الکتاب اور تحقیق دی ہم نے موسی علیہ السلام کو بھی جنس کتاب فلا تکن فی مریة من لقائه پس آپ نہ ہو جائیں شک میں من لقائه اس جنس کتاب کے ملنے سے۔ کس کے؟ جنس۔ جنس کتاب میں پھر ساری کتابیں آگئیں بھئی تو جس طرح ان کو ایک جنس کتاب دی گئی تھی اسی طرح آپ کو بھی ایک ان کو تورات دی گئی تھی اور آپ کو قرآن دیا گیا ہے تو ترجمہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی تو اس سے مراد قرآن ہے۔ تو وہی بات خطاب پیغمبر کو ہے اور مراد امت ہے کہ اے امت والو تم شک میں نہ پڑ جانا یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ہے بھئی۔ ولقد اتینا موسی الکتاب اور تحقیق عطا کی ہم نے موسی علیہ السلام کو کتاب فلا تکن فی مریة من لقائه پس آپ شک میں نہ پڑیں اس کتاب یعنی قرآن کے ملنے سے۔ وجعلناه هدی لبنی اسرائیل یہ جعلناه ها ضمیر یہ پھر موسی علیہ السلام کو راجع یا الکتاب کو راجع اور بنایا ہم نے موسی علیہ السلام کو ہدایت بنی اسرائیل کے لیے ان کو کس کے لیے ہدایت بنایا؟ بنی اسرائیل کے لیے یا کتاب اور بنایا ہم نے اس تورات کو اس کتاب کو ہدایت بنی اسرائیل کے لیے وجعل منهم ائمة یهدون یهدون بأمرنا لما صبروا اور بنا دیے ہم نے ان میں سے پیشوا امام ائمہ جمع ہے امام کی بھئی۔ ائمہ جمع ہے امام کی ائمہ بھئی۔ افعلة وزن ہے بھئی افعلة۔ افعلة أئمة تھا اصل میں أئمة بھئی پھر میم کا کسرہ نہ قبل کو نقل حمزہ کو نقل کر کے دے دیا گیا اور میم کا میم میں ادغام کیا گیا تو کیا بن گیا؟ ائمہ۔ اور بنائے ہم نے امام ان کے اندر یهدون بأمرنا کہ وہ ہدایت دیتے تھے ہمارے حکم سے لما صبروا جب وہ صبر کرتے رہے۔ بنی اسرائیل پر بڑی بڑی تکالیف اور مشکلات ائی تھیں اور آپ پڑھ چکے ہیں ان پر تکالیف آئیں فرعون ان کو سخت تکلیفیں دیتا رہا لیکن اس کے باوجود ان انہوں نے ان تمام تکالیف اور پریشانیوں پر صبر کیا اور اللہ کے راستے پر چل لیے تو اللہ فرما رہے ہیں ہم نے ان میں امام بنا دیے جو ان کی رہنمائی کرتے تھے انہیں ہدایت دیتے تھے ہمارے حکم سے۔ تو امام بنا دیے یا امام سے یا تو مراد انبیاء ہیں بھئی۔ کیا ہیں؟ انبیاء مراد ہیں بہت سے انبیاء ان میں بھیجے اللہ نے یا ان کے علماء مراد ہیں وہ علماء کیا کرتے تھے؟ ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ تو اگر اس کا معنی کیا ہو؟ انبیاء امام سے کیا مراد لیں؟ انبیاء تو دیکھیے بھئی وجعل منهم ائمة یهدون بأمرنا اور بنا دیے ہم نے ان میں بہت سے امام جو رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے۔ ہمارے حکم سے۔ تو اس میں ان پر انبیاء پر باقاعدہ وحی آتی ہے تو بأمرنا ہمارے حکم سے ہم حکم دیتے تھے اس کے مطابق وہ رہنمائی کرتے تھے یعنی ان پر وحی نازل کرتے تھے۔ اور اگر ائمہ کا معنی کریں علماء کے بھئی وہ امام جو علماء تھے تو پھر وہ یهدون یهدون بأمرنا وہ رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے۔ تو پھر یاد رکھو اس صورت میں بأمر سے مراد اللہ کی توفیق ہے بھئی۔ کیا معنی ہوگا؟ جو رہنمائی کرتے تھے بأمرنا ہمارے امر سے یعنی ہماری توفیق سے لما صبروا جب انہوں نے صبر کیا۔ وكانوا بایاتنا یوقنون اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ إن ربک هو یفصل بینهم یوم القیامة فیما کانوا فیه یختلفون بے شک آپ کا پروردگار هو یفصل وہی فیصلہ صلہ کرے گا بینہم ان کے درمیان یوم القیامت قیامت کے دن فیما اس بات کے اندر کانوں فیہ یختلفون جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے۔ بے شک آپ کا پروردگار ہی فیصلہ کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن اس بات کے اندر جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ سمجھ میں آیا حق اور باطل کو اللہ جدا کر دیں گے فیصلہ کر دیں گے جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے کوئی مانتا تھا اور کوئی نہیں مانتا تھا۔ اولم یہدی لہم کم أهلکنا من قبلہم من القرون یمشون فی مساکنہم اولم یہدی لہم کیا رہنمائی نہ ہوئی ان لوگوں کی کیا ہدایت نہ ہوئی ان لوگوں کی اس بات سے کہ کم أهلکنا من قبلہم کتنے ہی ہم نے ہلاک کر دیے ان سے پہلے من القرون قرون قرن بھئی زمانے کو بھی کہتے ہیں اور اہل زمانہ کو بھی کہتے ہیں ایک زمانے والے بھئی۔ مراد امتیں ہیں کیا مراد ہیں؟ ایک زمانے والے ان کو بھی قرن کہا جاتا ہے اس کی جمع قرون ہے۔ اولم یہدی لہم کیا انہیں کیا ہدایت نہ ہوئی لہم ان کو کہ اس بات سے کہ کم أهلکنا من قبلہم کتنے ہی ہم نے ہلاک کر دیں ان سے پہلے من القرون امتیں یمشون فی مساکنہم یہ چلتے ہیں ان کے رہنے کی جگہوں میں۔ یہ کفار مکہ کیا ہیں کیا ان کو ہدایت نہ ہوئی کہ اس بات سے کہ ہم نے کتنی ہی امتیں اس سے پہلے ہلاک کی ہیں یمشون فی مساکنہم اور یہ لوگ چلتے ہیں ان کے رہنے کی جگہوں میں یعنی شام کی طرف تجارت وغیرہ کی غرض سے جاتے ہیں تو وہ عاد و ثمود کی بستیوں پر باقاعدہ گزرتے ہیں ان کے کھنڈرات دیکھتے ہیں تو اس سے کیا ان کو نصیحت نہیں ہوتی کہ جو ہمارے راستے پر نہیں چلتا ہم اسے تباہ کر دیتے ہیں کیا اس سے ان کو عبرت حاصل نہیں ہوئی؟ اولم یہدی لہم کیا ہدایت نہ ہوئی ان کو یہدی یہدی ہے بھئی لہم لام جار رہا ہے اور ہم ضمیر ہے اور یہدی ہدا یہدی فعل ہے جس کے آخر سے یا گر گئی لم کی وجہ سے بھئی لم نے جزم دیا۔ اولم یہدی لہم اولم یہدی کیا ہدایت نہیں ہوئی لہم انہیں اس بات سے کہ کم أهلکنا کتنی ہی ہلاک کی من قبلہم ان سے پہلے من القرون امتیں ہم کتنی ہم نے ہلاک کی اس سے پہلے امتیں یمشون فی مساکنہم یہ چلتے ہیں ان کے رہنے کی جگہوں میں یعنی آتے جاتے ہیں۔ یہ ان کے رہنے کی جگہوں میں ان کے رہنے کی جگہوں میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ إن فی ذلک لآیات بے شک اس کے اندر البتہ بہت سی نشانیاں ہیں أفلا یسمعون پس کیا وہ سنتے نہیں ہیں؟ اولم یروا أنا نسوق الماء إلى الأرض الجرز اولم یروا کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں أنا نسوق الماء ساق یسوق کے معنی ہانکنا لے جانا۔ اولم یروا کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں أنا نسوق الماء ہم لے جاتے ہیں پانی کو إلى الأرض الجرز خشک زمین کی طرف۔ ارض جرز بھئی جرز وہ زمین جس میں پانی اور درخت پودے وغیرہ نہ ہوں بھئی اسے کیا کہتے ہیں؟ جرز بھئی پانی بھی نہیں اور درخت پودے وغیرہ نہیں بھئی۔ تو بے آب و گیاہ زمین بے آب و گیاہ آپ پانی گیاہ جو ہے سبزے کو کہتے ہیں بے آب و گیاہ زمین بھئی۔ یا چٹیل زمین کے کر لیں چٹیل زمین جس میں درخت وغیرہ نہیں ہوتے بھئی خشک زمین۔ اولم یروا کیا انہوں نے دیکھا نہیں أنا نسوق الماء إلى الأرض الجرز کہ ہم لے جاتے ہیں پانی کو خشک زمین کی طرف، چٹیل زمین کی طرف فنوخرج به زرعا پس نکالتے ہیں ہم اس پانی کے ذریعے فصل تاکل منہ أنعامہم کھاتے ہیں اس میں سے أنعامہم ان کے مویشی وانفوسہم اور یہ خود بھئی اس فصلیں ہم اس سے پانی کے ذریعے نکالتے ہیں اور اس سے یہ ان کے مویشی بھی کھاتے ہیں پتے وغیرہ اس کے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں اس کے دانے وغیرہ بھئی۔ تو انعام مویشی بھئی چوپائے۔ تاکل منہ أنعامہم وانفوسہم کھاتے ہیں اس میں سے ان کے مویشی اور وہ خود أفلا یبصرون کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں؟ ویقولون متی هذا الفتح إن كنتم صادقين اور وہ کہتے ہیں متی هذا الفتح کہ فیصلہ کب ہوگا؟ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ (یعنی وہ قیامت کے دن مراد ہے بھئی قیامت کے دن کا فیصلہ) یہ ہے راجع ایک اور بعضوں نے اور تفسیر بھی اس کی کی ہے وہ بھی یاد رکھنا لیکن یہی پہلی تفسیر جو ہے راجع ہے بہتر ہے۔ بعضوں نے فتح سے مراد بدر کی فتح یا فتح مکہ مراد لی ہے۔ لیکن اس سے کیا مراد ہے؟ راجع تفسیر کیا ہے؟ اس سے قیامت کے دن کا دن مراد ہے اس دن کی فتح یعنی اس دن کا فیصلہ مراد ہے۔ ویقولون متی هذا الفتح اور وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا إن كنتم صادقين اگر تم سچے ہو تو وہ کفار بطور مذاق کے پوچھا کرتے تھے مذاق اڑایا کرتے تھے کہ بھئی یہ فیصلہ کب ہوگا بھئی سچے ہو بھئی किस وقت ہوگا ہمیں بتاؤ تو سہی ہم بھی انتظار کر رہے ہیں اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ قل اے پیغمبر آپ فرما دیجیے یوم الفتح لا ینفع الذین كفروا إيمانهم کہ فیصلے کا دن وہ نفع نہیں دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا۔ نفع نہیں دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا۔ کیا نفع نہیں دے گا؟ إيمانهم یہ فاعل ہے ینفع کا۔ لا ینفع الذین كفروا إيمانهم نہیں نفع دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ان کا ایمان۔ کفر کرنے والوں کا ایمان انہیں نفع نہیں دے گا۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجیے کہ فیصلے کے دن نفع نہیں دے گا ان ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ان کا ایمان۔ ولا هم ینظرون اور نہ ہی وہ مہلت دیے جائیں گے۔ اور نہ ہی وہ مہلت دیے جائیں گے بھئی۔ بھئی اگر فتح کا معنی وہ قیامت کے دن کا فیصلہ ہو تو پھر تو بات واضح ہے کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کہ قیامت کے دن کفر کرنے والوں کا ایمان انہیں کوئی نفع نہیں دے گا اس وقت ایمان لاتے بھی ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ اور اگر اس کا معنی وہ جو بعض نے تفسیر کی کہ اس سے کیا مراد ہے فتح بدر یا فتح مکہ کا موقع مراد ہے ان پر اشکال ہوتا ہے۔ کہ بھئی فتح مکہ کے بعد بھی تو بہت لوگ مسلمان ہوئے تھے فتح بدر کے بعد بھی بہت لوگ مسلمان ہوئے تھے اور یہاں اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ فتح کے دن جو ہے اس دن پھر کسی کافر کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا بھئی۔ تو اس کے بعد بھی تو بہت سے لوگ مسلمان ہوئے تھے بھئی۔ تو جواب وہ پھر یہ دیتے ہیں کہ جو اس دن مارے گئے بھئی جو اس دن مارے گئے اور قتل کر دیے گئے قتل کے بعد جب سب کچھ انہوں نے اپنے دیکھ لیا تو اب اس کے بعد وہ فرشتوں وغیرہ کو دیکھ لیا اب وہ ایمان لانا چاہیں گے بھی تو ان کا ایمان انہیں نفع نہیں دے گا لیکن میں نے بتلایا پہلی تفسیر راجع ہے بھئی۔ قل یوم الفتح اے پیغمبر آپ فرما دیجیے یوم الفتح فیصلے کے دن لا ینفع الذین كفروا إيمانهم نہیں نفع دے گا کفر کرنے والوں کو ان کا ایمان ولا هم ینظرون اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے (یعنی انہیں مہلت نہیں ملے گی پھر) فأعرض عنهم پس اے پیغمبر آپ ان سے اعراض کیجیے۔ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے ان کا خیال نہ کیجیے۔ فأعرض عنهم پس اے پیغمبر آپ ان سے اعراض کیجیے وانتظر اور آپ انتظار کیجیے انهم منتظرون بے شک یہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ بے شک یہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ اے پیغمبر آپ بھی انتظار کیجیے یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔ فأعرض عنهم وانتظر إنهم منتظرون پس آپ ان سے اعراض کیجیے۔ آپ ان سے اعراض کیجیے۔ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے ان کا خیال نہ کیجیے۔ یہ معنی نہیں کہ انہیں تبلیغ نہ کیجیے ان سے منہ بلکہ کیا معنی ہے فأعرض عنهم ان کی پروا نہ کیجیے ان کا خیال نہ کیجیے وانتظر اور انتظار کیجیے۔ إنهم منتظرون یقینا وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔ آپ بھی انتظار کیجیے۔ ان پر عذاب کے نازل ہونے کا ان کی پکڑ کا اور یہ بھی انتظار کر رہے ہیں مسلمانوں پر تکلیف اور مصیبت کے آنے کا اور ان کے تباہ و برباد ہونے کا۔ فأعرض عنهم پس آپ ان سے اعراض کیجیے ان کی کچھ پروا نہ کیجیے وانتظر اور آپ انتظار کیجیے انهم منتظرون بے شک یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔ جی چلیے بس بھئی هذا هو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام