اعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔ الف لام ميم۔ تنزیل الکتاب لا ریب فیہ من رب العالمین۔ ام یقولون افراہ، بل ہو الحق من ربک لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک لعلہم یہتدون۔ اللہ الذی خلق السماوات والارض وما بینہما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش، ما لکم من دونہ من ولی ولا شفیع، افلا تتذکرون۔ اچھا بھئی، آج ہم سورہ سجدہ شروع کریں گے۔ یہ سورہ سجدہ ہے اور اس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک رات کو نہیں سوتے تھے جب تک سورہ سجدہ اور سورہ سورہ ملک کی تلاوت نہ فرما لیتے تھے، سورہ ملک تبارک الذی بیدہ الملک۔ تو جب تک سورہ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت نہیں فرما لیتے تھے۔ اور احادیث میں آتا ہے جو شخص رات کو سورہ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کر لے تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جس طرح لیلۃ القدر کی میں عبادت کرنے کا ثواب ہوتا ہے۔ اور لیلۃ القدر کی فضیلت آپ جانتے ہیں کہ وہ رات ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے بھئی، ہزار مہینوں سے اور اس کی عبادت کی بہت زیادہ فضیلت ہے اور لوگ اس کے پانے کے متمنی رہتے ہیں کہ کسی طرح اللہ ہمیں بھی وہ رات نصیب فرما دیں، ہمیں پتہ لگ جائے اور اس کی عبادت کر کے عظیم اجر و ثواب کما لیں۔ اور یہاں پر حدیث میں کتنا واضح طور پر آ رہا ہے کہ جو شخص جس رات کو سورہ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کر لے اسے لیلۃ القدر کی عبادت کا ثواب ملتا ہے بھئی۔ جیسے پوری لیلۃ القدر اس نے عبادت میں گزاری ہو بھئی۔ تو اس کو اپنا معمول بنائیں بھئی۔ بہت بہت زیادہ عظیم اجر و ثواب جو شخص روزانہ اپنا معمول بنا لے گا، اس کے اجر و ثواب کا اندازہ آپ لگائیں کتنا عظیم اجر و ثواب وہ اکٹھا کر لے گا بھئی۔ تو دعا کرو اللہ ہم سب کو اس سنت پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے استقامت کے ساتھ بھئی۔ الف لام ميم۔ جی اس کا ماترسی بارے میں پہلے میں بیان کر چکا ہوں، یہ حروف مقطعات میں سے ہیں اور ان کا معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں۔ تنزیل الکتاب یہ اتارنا ہے کتاب کا لا ریب فیہ اس میں کوئی اس میں کوئی شک نہیں، فیہ یعنی اس کتاب کے اتارنے میں من رب العالمین آپ کے تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے۔ تو تنزیل بمانی تنزیل بمانی منزّل کے ہے بھئی منزّل، اتاری ہوئی اتاری ہوئی۔ مصدر کبھی اس میں فاعل کے معنی میں آتا ہے اور کبھی اس میں مفعول کے معنی میں۔ تو یہاں یہ اس میں مفعول کے معنی میں ہوگا تنزیل الکتاب تو تنزیل کس معنی میں ہوا؟ منزّل اتاری ہوئی اور یہ صفت کی اضافت ہے موصوف کی طرف، عربی میں کبھی کبھار صفت کو اٹھا کر موصوف کی طرف اس کی اضافت کر دی جاتی ہے۔ تو تنزیل الکتاب کس معنی میں ہوا؟ الکتاب المنزّل بھئی وہ کتاب جو نازل کی گئی ہے اور یہ خبر ہے مبتداء محذوف ھازا کے لیے، ھازا کے لیے۔ تو ھازالکتاب المنزّل یہ معنی ہوا اس کا بھئی۔ یہ اتاری ہوئی کتاب ہے لا ریب فیہ کوئی شک نہیں ہے اس میں۔ اس میں یعنی اس کے اتارنے میں من رب العالمین آپ کے پر تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے۔ یعنی تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے اس یہ اتاری گئی ہے اور اس کے اتارنے میں کسی قسم کا شک نہیں ہے، یہ کفار جو آگے ذکر بھی آ رہا ہے، کفار کہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے یہ کلام بنا کر لے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھ پر یہ وحی نازل ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ یہ کتاب تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور اس کے نازل ہونے میں پروردگار کی طرف سے نازل ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک اور شبہ نہیں ہے بھئی یہ خود بھی غور کر لیں یہ اس جیسی آیات نہیں بنا سکتے یہی دلیل ہے اس بات کی کہ معلوم ہوا یہ انسانی کلام نہیں ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے۔ تو ترجمہ کیا ہوگا تنزیل الکتاب یہ اتاری ہوئی کتاب ہے لا ریب فیہ اس میں کوئی شک نہیں ہے من رب العالمین تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ من رب العالمین یہ خبر ہے مبتداء محذوف ھازا کی بھئی۔ آئے ھازا من رب العالمین یہ کتاب تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ تو تنزیل الکتاب لا ریب فیہ من رب العالمین یہ اتاری ہوئی کتاب ہے لا ریب فیہ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ھا ضمیر کتاب کو راجح کر لیں یا تنزیل کو راجح کر لیں تو اگر کتاب کو راجح کریں تو معنی کیا ہوگا لا ریب فیہ اس کتاب میں کوئی شک نہیں ہے۔ یا تنزیل کو راجح کریں تو اس کتاب کے اتارا ہوا ہونے میں کوئی شک نہیں اس کتاب کے اتارنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ تو یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی یہ اتاری ہوئی کتاب ہے لا ریب فیہ اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ ام یقولون افراہ کیا وہ کہتے ہیں افراہو افراہ کے معنی اپنی طرف سے بنا لینا اپنی طرف سے گھڑ لینا۔ ھا ضمیر راجح ہے کتاب کو ام یقولون افراہ کیا وہ لوگ کہتے ہیں افراہو کہ انہوں نے اس کتاب کو گھڑ لیا ہے اپنی طرف سے بنا لیا ہے یعنی یہ پیغمبر نے یہ کتاب اپنی طرف سے بنا لی ہے۔ ام یقولون افراہ کیا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کتاب کو اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے بل ہو الحق من ربک بلکہ یہ تو سچی کتاب ہے آپ کے پروردگار کی طرف سے۔ ہو ضمیر کس کو راجح؟ کتاب کو۔ بل ہو الحق بلکہ یہ کتاب تو حق ہے (یعنی سچی ہے)۔ بلکہ یہ تو سچی کتاب ہے من ربک آپ کے پروردگار کی طرف سے لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر من قبلک تاکہ ڈرائیں آپ۔ أنذر ینذر انذار کے معنی ڈرانے کے لتنذر قوما تاکہ ڈرائیں آپ ایسی قوم کو ما اتاہم من نذیر کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا من قبلک آپ سے پہلے۔ تاکہ آپ ڈرائیں ایسی قوم کو جن کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا آپ سے پہلے۔ نذیر سے مراد ڈرانے والا یعنی پیغمبر بھئی۔ سمجھ میں آیا ڈرانے والے سے کیا مراد ہے؟ پیغمبر ہے جو لوگوں کو دین کی طرف بلائے اللہ کے دین کی طرف اور اللہ کی پکڑ سے اور جہنم کے عذاب سے انہیں ڈرائے بھئی۔ تو یہ پر بلکہ یہ تو ایک سچی کتاب ہے آپ کے پروردگار کی طرف سے لتنذر قوما ما اتاہم من نذیر تاکہ آپ ڈرائیں ایک ایسی قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا من قبلک آپ سے پہلے۔ یہ قوم یعنی عرب مراد ہیں یا قریش مراد ہیں۔ تو عرب کی طرف کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا عرب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے بھئی حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے یہ عرب ہیں بھئی۔ عرب کس میں سے ہیں؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں۔ جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں سے چار ہزار انبیاء اللہ تعالی نے بھیجے بھئی۔ تو ان کو یہ فضیلت دی کہ چار ہزار انبیاء ان کی نسل میں پیدا کیے جبکہ ان کے مقابلے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یہ فضیلت دے دی گئی کہ خاتم النبین، سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی نسل میں سے بھیجا بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں یہ ہم نے کتاب نازل کی ہے سچی کتاب تاکہ آپ ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے نہیں آیا۔ بھئی عرب میں اس سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا وہی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کام کے شریعت کے ان کو مکلف بنایا گیا تھا کہ اس پر عمل کریں لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے ان کی ساری باتیں فراموش کر دیں اور بت پرستی میں مبتلا ہو گئے اور ان میں سب سے پہلا شخص جس نے عرب میں بت پرستی کو رواج دیا وہ عمرو ابن لحیی خزاعی تھا بھئی عمرو ابن لحیی خزاعی اس نے سب سے پہلے عرب کے اندر بت پرستی کو شروع کیا بھئی اور پھر رفتہ رفتہ سارے ہی بت پرستی میں مبتلا ہو گئے بھئی تو ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا یعنی کوئی اللہ کا پیغمبر نہیں آیا جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انبیاء آتے تو رہے لیکن وہ اپنی اپنی قوم کی طرف تھے بھئی اپنی اپنی جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تو وہ اپنی اپنی قوموں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے یہ عرب کی طرف کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا بھئی تو یہ ان پر وہی شریعت لازم تھی جو حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام والی تھی۔ تو چنانچہ یہ کئی ہزار برس کی مدت بنتی ہے اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا تو اسی بات کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں لتدير قوما ما اتاهم تاکہ ڈرائیں آپ ایک ایسی قوم کو کہ نہیں آیا ان کے پاس من نذیر کوئی ڈرانے والا من قبلک آپ سے پہلے لعلهم یهتدون تاکہ یہ ہدایت پا لیں تاکہ یہ سیدھی راہ پر آجائیں لعلهم یهتدون تاکہ یہ ہدایت پر آجائیں سیدھی راہ پر آجائیں اللہ الذی خلق السماوات والارض اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو وما بینهما اور وہ جو ان دونوں کے درمیان ہے یعنی آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے فی ستة ایام چھ دنوں میں اللہ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا بھئی چھ دنوں میں مراد چھ دن کے برابر وقت ہے بھئی مراد کیا ہے چھ دن کے برابر وقت ہے اس لیے کہ دن تو بنتا ہے سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے اور اس وقت تو سورج تھا ہی نہیں تو مراد کیا ہے جتنا وقت مراد ہے چھ دن کے برابر بھئی چھ دن کے تو اللہ تعالی نے چھ دن میں پیدا فرمایا تو پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ یہ چھ دن جو ہیں اس عالم شہادت کے چھ دن مراد ہیں یا عالم غیب کے بھئی یہ جو آپ کے سامنے ہے یہ عالم شہادت ہے بھئی جو حاضر ہے سامنے ہے آپ کے اور دوسرا عالم غیب ہے تو چھ دن یہ عالم شہادت کے مراد ہیں یا چھ دن عالم غیب کے بھئی عالم غیب میں ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے بھئی سمجھ میں آیا قرآن میں اللہ فرماتے ہیں ان یوم عند ربک كالف سنة مما تعدون ان یوم عند ربک كالف سنة مما تعدون کہ دن جو ہے آپ کے پروردگار کے نزدیک کا الف سنة ایک ہزار برس کی مثل ہے مما تعدون اس میں سے جس کو تم شمار کرتے ہو تو اللہ کے نزدیک ایک دن ہمارے کتنے سالوں کے برابر ایک ہزار سالوں کے برابر ہے بھئی تو علماء نے اس بارے میں اختلاف کیا بعضوں نے کہا یہ عالم شہادت ہی کے چھ دن مراد ہیں اتنا وقت مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عالم غیب کے چھ دن مراد ہیں تو وہ چھ ہزار سال کی مقدار بنتی ہے بھئی چھ ہزار سال ہمارے اعتبار سے چھ ہزار سال کی مقدار بنتی ہے تو اللہ تعالی تو اس پر بھی قادر ہیں کہ ایک چیز کو ایک دم ایک اسی طرح پیدا فرما دیں جس طرح وہ چاہتے ہیں لیکن یہ اللہ کی عادت ہے اللہ کی سنت ہے اللہ کا طریقہ ہے کہ وہ ہر چیز کو بتدریج پیدا کرتے ہیں اور اس کے حالت تک پہنچاتے ہیں جیسے اس دنیا میں بھی اللہ اسی طرح نظام کو چلاتے ہیں کسی قوم کو عروج دیتے ہیں تو اس کے لیے بتدریج انتظامات کیے جاتے ہیں اور کسی قوم کو زوال دیا جاتا ہے تو بتدریج اس کے انتظامات ہوتے ہیں کسی کو حکومت دی جا رہی ہے تو بتدریج انتظامات ہوتے ہیں تو اللہ تعالی اس پر قادر تھے کہ ایک دم اسے پیدا فرما دیں لیکن اللہ نے اپنی عادت کے مطابق بتدریج اس کو کتنے عرصے میں پیدا کیا چھ دن کی مدت میں مختلف صورتوں سے گزارتے ہوئے بالاخر اسے یہ صورت دے دی جو اس وقت مرتب ہمارے سامنے موجود موجود ہے بھئی۔ یہ نظام جس طرح چل رہا ہے سورج طلوع ہو رہا ہے سورج ہے، چاند ہے ستارے ہیں آسمان وغیرہ تو یہ چھ دن کے عرصے میں اللہ نے ان کو اس صورت پر بنا دیا بھئی۔ اگرچہ اللہ کن فرما دیں تو فوراً چیز ہو جاتی ہے لیکن اللہ کن سے یہاں کن سے مراد یعنی ان کا مادہ وغیرہ پیدا فرما دیا اور پھر بتدریج اسے اس صورت تک لے آئے اللہ۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ اللہ الذی خلق السماوات والارض وما بینهما فی ستة ایام اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے فی ستة ایام چھ دن میں ثم استوی علی العرش پھر بلند ہوئے عرش پر، پھر قائم ہوئے عرش پر بھئی۔ پھر قائم ہوئے علی العرش عرش پر۔ بھئی عربی میں استوی عرش تخت بھئی استوی علی الکرسی اس کے معنی ہوتے ہیں کرسی پر بیٹھنا۔ استوی علی الکرسی کا کیا معنی ہوگا؟ کرسی پر بیٹھنا۔ تو یہاں پر اب استوی علی العرش کا کیا معنی ہے؟ کیا اللہ عرش پر بیٹھے؟ نہیں بھئی یہ معنی نہیں کرنا بھئی یہ کفریہ مانع ہے یاد رکھنا بھئی۔ اسی لیے میں نے ترجمہ کیا کیا اللہ عرش پر بلند ہوئے، اللہ عرش پر قائم ہوئے بھئی۔ وجہ یہ کہ اگر اللہ کے لیے بیٹھنا ثابت کریں گے تو اللہ کے لیے جسم ماننا پڑے گا اور اللہ کے لیے جسم مانیں گے تو جسم ہوگا وہ مرکب ہوتا ہے اور جو مرکب ہو وہ حادث ہوا کرتا ہے حالانکہ اللہ کی ذات قدیم ہے بھئی۔ حادث یعنی حادث جس کا جس پر عدم آیا ہو ایک وقت ہو جس کا وجود نہ ہو اسے حادث کہتے ہیں اور قدیم جس پر کبھی بھی عدم نہ آیا ہو ہمیشہ سے ہو اور قدیم صرف اللہ کی ذات اور صفات ہیں بھئی۔ باقی جہان کی تمام چیزیں جو ہیں وہ حادث ہیں تو اگر اللہ کے لیے بیٹھنا تسلیم کریں گے تو اس کا معنی یہ اللہ کے لیے جسم ماننا پڑے گا اور اللہ کے لیے جسم مانیں گے تو جسم ہوتا ہے مرکب اور جو چیز مرکب ہو وہ حادث ہوا کرتی ہے بھئی۔ تو معنی سمجھ میں آیا اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ اللہ عرش پر بلند ہوئے یا اللہ عرش پر قائم ہوئے۔ استوی علی العرش کا معنی تو ہمیں معلوم ہے لیکن کیفیت مجہول ہے بھئی۔ استوی علی العرش کا معنی تو ہمیں معلوم ہے لیکن کیفیت مجہول ہے اللہ ہی جانتے ہیں بھئی۔ تو یہ ترجمہ آپ کر رہے ہیں اللہ عرش پر بلند ہوئے۔ اللہ کی ذات، اللہ کی صفات وغیرہ وہ اس طرح نہیں ہیں جس طرح انسانوں کی ہیں لیس کمثلہ شیء اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ تو بس ہم اتنا عقیدہ رکھیں کہ ہمیں معنی تو معلوم ہے کیفیت کیا ہے؟ مجہول ہے اللہ ہی جانتے ہیں۔ بعضوں نے کہا استوی علی العرش کا معنی ہے کہ جیسے کہتے ہیں تخت نشین ہونا یعنی سلطنت اور سلطنت کو سنبھالنا بھئی۔ کیا کیا؟ سلطنت کا سنبھالنا وغیرہ یعنی یہ تمام چیزیں اللہ نے جب بنا لیں ثم استوی علی العرش پھر اس سلطنت کو سنبھال لیا بھئی۔ کیا کیا اس سلطنت کو سنبھال لیا اس طریقے پر کہ کوئی یعنی کہ اس کا انتظام نظام صحیح چلتا رہے کوئی خلل وغیرہ اس میں نہ آئے بھئی۔ سلطنت کو سنبھال لیا۔ تو اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو اور جو ان کے درمیان ہے فی ستة ایام چھ دن میں ثم استوی علی العرش پھر اللہ قائم ہوئے عرش پر ما لكم من دونه من ولی ولا شفیع نہیں ہے تمہارے لیے من دونه اس اللہ کے علاوہ من ولی ولا شفیع نہ کوئی دوست اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا۔ اللہ کے علاوہ نہ کوئی تمہارا دوست ہے اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہے یعنی شفاعت قیامت کے دن ہوگی لیکن اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے جسے اللہ اجازت دیں گے وہی سفارش کر سکے گا۔ ما لكم من دونه من ولی ولا شفیع نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے علاوہ کوئی دوست اور نہ کوئی سفارش کرنے والا نہ کوئی شفاعت کرنے والا افلا تتذكرون۔ پس کیا تم سمجھتے نہیں؟ کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے؟ حمزہ استفہام کے لیے سوال کے لیے کیا جس کا معنی کیا ہوتا ہے؟ کیا اور یہ فا فا عاطفہ ہے یہاں عبارت محذوف پر عطف ہو رہا ہے لا تذکرون کا بھئی اور وہ کیا عبارت بھئی موقع محل کے مطابق مفسرین بیان کر دیتے ہیں کوئی اس کے مطابق کلام بھئی کہ یہاں پر جیسے کہتے ہیں یہ مناسب ہے یہ نکال لیں ألا تسمعون فلا تذکرون ألا تسمعون فلا تذکرون تو لا تسمعون جو ہے اس سے ما قبل محذوف ہے اور یہ فا ہے عاطفہ تو لا تذکرون کا اسی پر عطف ہے ألا تسمعون کیا تم سنتے نہیں ہو فلا تذکرون پس نصیحت قبول نہیں کرتے؟ أفلا تذکرون تو جب بھی ہمزہ کے بعد فا یا واو آئے تو یہ فا اور واو کیا ہوں گے عاطفہ ہوں گے اور ماقبل عبارت محذوف ہو گی بھئی۔ جی یہ ایک ترکیب باز باز اور بھی تراکیب کرتے ہیں آپ یہی ایک یاد رکھیے أفلا تذکرون پس کیا تم پس کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے؟ یدبر الأمر من السماء إلی الأرض اللہ تدبیر کرتے ہیں ہر کام کی من السماء إلی الأرض آسمان سے زمین کی طرف اللہ تدبیر کرتے ہیں ہر کام کی آسمان سے زمین کی طرف یعنی زمین کے جو معاملات ہیں امور ہیں ان کی اللہ تدبیر کرتے ہیں آسمان سے۔ ایک تو یہ معنی بھئی۔ بعضوں نے اور ترجمہ کیا اللہ تدبیر کرتے ہیں ہر معاملے کی من السماء إلی الأرض آسمان سے لے کر زمین تک یعنی آسمان سے لے کر زمین تک ہر معاملہ جو ہے اس کی اللہ تدبیر کرتے ہیں۔ تو اس ترجمے کے مطابق پھر صرف زمین کے امور مراد نہ ہوئے بلکہ زمین اور آسمان دونوں کے اور ان کے بیچ کے تمام امور آ گئے تو پہلا ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تدبیر کرتے ہیں ہر کام کی من السماء إلی الأرض آسمان سے زمین کی طرف تو زمین کے امور مراد ہوئے۔ ثم یعرج إلیه پھر وہ کام اللہ ہی کی طرف بلند ہوتے ہیں اللہ ہی کی طرف اٹھتے ہیں فی یوم ایک ایسے دن میں کان مقداره ألف سنة مما تعدون کہ اس کی مقدار جو ہے ایک ہزار سال ہے مما تعدون ان میں سے جن کو تم شمار کرتے ہو۔ پھر وہ کام اسی کی طرف بلند اٹھ جاتے ہیں ایک ایسے دن کے اندر جس کی مقدار جو ہے ایک ہزار سال ہے اس میں سے جن کو تم شمار کرتے ہو۔ بھئی اس آیت کے اندر اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ ہی تدبیر کرتے ہیں ہر معاملے کی آسمان سے زمین کی طرف اور پھر وہ ہر کام اللہ ہی کی طرف اٹھ جاتا ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے ہاں کتنی ہے؟ ایک ہزار سال ہے بھئی ایک ہزار سال بعضوں نے لکھا یہ آیت متشابہات میں سے ہے بھئی اس سے کیا مراد ہے حقیقی معنی معلوم نہیں اور دیگر مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کو دنیا میں جو چیز منظور ہوتی ہے مثلا کسی قوم کو عروج دے رہے ہیں کسی کو زوال دے رہے ہیں اور کبھی کسی پیغمبر کو بھیجا جاتا جس کی زمانہ صدیوں پر مشتمل جس کی شریعت کا زمانہ صدیوں پر مشتمل ہوتا وغیرہ تو اس طرح کے جو بڑے بڑے امور ہوتے ہیں اللہ تعالی ان کا القاء کرتے ہیں فرشتوں کی طرف اور ایک ہزار سال کے امور ان کے سپرد کر دیے جاتے ہیں ایک ہزار سال کے امور جو ہیں اور کام وغیرہ فرشتوں کو القاء کر دیے جاتے ہیں اور پھر وہ فرشتے ان کاموں کے اندر لگ جاتے ہیں جو تدریجاً بھئی تدریجاً اس کے انتظامات کیے جاتے ہیں مثلا کسی قوم کو عروج دینا ہے تدریجاً اس کے انتظامات کیے جاتے ہیں بھئی تو ایک ہزار سال کے جو بڑے بڑے کام ہوتے ہیں اللہ فرشتوں کی طرف القاء فرما دیتے ہیں اور پھر جب اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو وہ کام اللہ ہی کی طرف اٹھ جاتا ہے اور پھر ہزار سال کے بعد دوسرے کام کے دوسرے اگلے ہزار سالوں کے امور جو ہیں فرشتوں کی طرف القا کر دیے جاتے ہیں۔ اور یہ ایک ہزار سال ہمارے اعتبار سے ہیں، اللہ کے اعتبار سے عالم غیب میں یہ ایک دن شمار ہوتا ہے۔ تو ہر دن کے امور جو ہیں اللہ فرشتوں کی طرف القا کرتے ہیں اور پھر تمام چیزیں جو ہیں اس کے انتظام و انصرام میں لگ جاتی ہیں اور انتظام وغیرہ کیا جاتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے کہ اللہ ہزار سال کے انتظامات فرشتوں کو القا کرتے ہیں کہ اس طرح کرنا ہے بھئی دنیا میں اب۔ اور اللہ ہی کی طرف پھر وہ اٹھ جاتے ہیں۔ تو اللہ ہی کی طرف اٹھنے کا کیا معنی؟ بازوں نے لکھا کہ یعنی کہ فرشتے جو ہیں وہ اللہ کے حضور جو کچھ ہوا ہوتا ہے اس کی خبر لے کر اللہ کے ہاں حاضر ہوتے ہیں۔ اور اللہ پھر اللہ کو پوچھتے ہیں، اگرچہ اللہ سب کچھ جاننے والے ہیں لیکن اللہ نے ایک نظام بنایا اور اس طرح اس کو چلایا اور پھر فرشتے لے کر حاضر ہوتے ہیں تاکہ اللہ کی سلطنت، حکومت اور قدرت کا اظہار ہو سکے بھئی۔ اللہ پوچھتے ہیں اور فرشتے عرض کرتے ہیں کہ جیسا آپ کا حکم تھا اس کے مطابق ہم نے کر دیا۔ تو یہ اللہ نے اپنی سلطنت اور اپنی عظمت کے اظہار کے لیے، اپنی قدرت کی نیرنگیاں دکھانے کے لیے یہ ایک نظام چلا رکھا ہے بھئی کہ فرشتے باقاعدہ کیا کرتے ہیں؟ جو انتظام و انصرام کیا ہوتا ہے اس کی پھر خبر لے کر اللہ کے حضور میں پیش ہوتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اگرچہ اللہ ہر چیز سے واقف ہیں لیکن میں نے بتایا صرف اپنی عظمت اور سلطنت اور اپنے قدرت کے اظہار کے لیے بھئی۔ تو فرشتے اللہ کے حضور میں لے کر پیش ہوتے ہیں۔ دیکھیے اللہ تدبیر کرتے ہیں آسمانوں سے زمین کی طرف ہر معاملے کی۔ ثم یعرج الیہ پھر وہ ہر تمام کام کیا ہے؟ اللہ کی طرف اٹھ بلند ہو جاتے ہیں، اٹھ جاتے ہیں فی یومین ایسے دن کے اندر جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے۔ اب یہ فی یومین کس سے متعلق ہے؟ فی یومین بعض کہتے ہیں یہ یدبر سے متعلق ہے، ایدبر فی یومین اللہ تدبیر فرماتے ہیں ایک دن میں۔ اللہ تدبیر فرماتے ہیں ایک دن میں یعنی وہی جو میں نے ابھی بیان کیا ایک ہزار سال کے جو احکام ہوتے ہیں ان کی تدبیر ہر ہزار سال بھئی ہر دن میں اللہ کیا کرتے ہیں؟ تدبیر کرتے ہیں یعنی ہر ہزار سال کے احکامات فرشتوں کو القا کر دیتے ہیں بھئی۔ تو یدبر فی الامر کا کیا معنی ہوا؟ تدبیر کرتے ہیں ہر دن میں یعنی وہی اور ہر دن کتنا ہے؟ ایک ہزار سال یعنی ایک ہزار سال کے معاملات کی تدبیر کرتے ہیں یعنی اس کے احکامات فرشتوں کو القا کرتے ہیں یہ معنی۔ اور اگر یہ متعلق ہو یعرج سے ثم یعرج الیہ فی یومین پھر وہ کام اٹھتے ہیں اللہ کی طرف یعنی فرشتے لے کر جاتے ہیں فی یومین ایک ایسے دن میں جس کی مقدار کتنی ہے؟ ایک ہزار سال بھئی۔ یعنی فرشتے لے کر جاتے ہیں فرشتے۔ اور یہ جو فاصلہ ہے وہ اتنا ہے کہ انسان چلے تو ایک ہزار سال میں اس کو طے کرے بھئی۔ کتنے میں؟ ایک ہزار سال۔ یہ کام اٹھتے ہیں اللہ کی طرف یعنی فرشتے لے کر جاتے ہیں اور کتنی دیر میں؟ فی یومین ایک دن میں اور اس ایک دن کی مقدار کتنی ہے؟ ایک ہزار سال۔ تو مفسرین لکھتے ہیں جو پہلا آسمان ہے اس کے محدب جو ہے وہاں پر یہ امور لے کر حاضر جاتے ہیں بھئی۔ پہلے آسمان کے محدب پر جو اعمال کا رجسٹر ہے اس میں درج کرنے کے لیے اوپر جاتے ہیں بھئی۔ اس میں درج کرنے کے لیے اوپر جاتے ہیں اور اس کو درج کرتے ہیں تو ایک ہزار پھر ان کو نئے احکامات اللہ کی طرف سے ملتے ہیں۔ پہلا آسمان کا محدب محدب کہتے ہیں اوپر والی جانب، بھئی یہ کمرہ ہے اس کی چھت، چھت یہ ایک نیچے والی جانب جس میں پنکھا لگا ہوا ہے اور ایک اوپر والی جانب اوپر والی طرف، تو اسی طرح آسمان کا جو اوپر کی طرف پہلا آسمان ہے اس کی اوپر والی جانب جو ہے وہ کیا ہے؟ محدب بھئی۔ تو اس پہلے آسمان کے محدب پر یہ امور لے کر پیش ہوتے ہیں، حاضر ہوتے ہیں اور محد وہ اس کی مسافت یہاں سے ایک ہزار سال ہے بھئی۔ تو وہ اعمال کا رجسٹر جو ہے پہلے آسمان کے محدب پر واقع ہے، محدب بھئی۔ پہلے آسمان کا اوپر والا حصہ بھئی۔ حدبہ کے معنی ہوتے ہیں بھئی، کبڑا بنانا۔ تو جیسے ایک شخص کبڑا ہو، اس کی کمر پیچھے گولائی میں اوپر کو نکلی ہوتی ہے، اسی طرح آسمان گول ہے، تو اس کا بھی وہ جو گولائی اوپر کی طرف نکلی ہوئی ہے تو اوپر والا حصہ مراد ہے۔ اوپر والا حصہ جو گولائی کی صورت میں ہے، وہ مراد ہے اور وہاں پر اعمال کا رجسٹر ہے، فرشتے اس میں درج کرنے کے لیے اوپر چڑھتے ہیں اور اس کا فاصلہ کتنا ہے؟ ایک ہزار سال کی مسافت ہے، انسانی رفتار سے۔ فرشتے چڑھتے ہیں ایک دن میں۔ اور وہ کتنا ہے؟ ہمارے اعتبار سے ایک ہزار سال یعنی انسان چلے تو ایک ہزار سال میں وہاں پہنچے بھئی، ایک ہزار سال۔ تو انسان کے اعتبار سے یہ ہے، فرشتے تو آن کی آن میں اس فاصلے کو طے کر لیتے ہیں بھئی۔ تو یہ معنی نہیں کہ فرشتے اس کو پھر ہزار سال میں طے کرتے ہیں۔ انسان کے اعتبار سے کہ انسان چلے تو کتنے عرصے میں طے کرے اس کو؟ ایک ہزار سال میں طے کرے، ہاں! فرشتے اس کو جلدی طے کر لیتے ہیں۔ تو ایک معنی یہ ہوا کہ یعرج الیہ کہ فرشتے ان کاموں کو جو ہیں لے کر پھر کس کی طرف چڑھتے ہیں؟ اللہ کی طرف، اللہ کے حضور میں پیش ہوتے ہیں۔ اور دوسرا معنی کہ فرشتے چڑھتے ہیں ان کاموں کو لے کر پہلے آسمان کے محدب پر جو اعمال کا رجسٹر ہے اس میں درج کرنے کے لیے اوپر جاتے ہیں بھئی۔ تو لہذا فی یومین کا تعلق ہو یدبر سے تو معنی کیا ہوا؟ تدبیر کرتے ہیں اللہ ہر ہزار برس کی۔ اور یعرج سے تعلق ہو تو معنی کیا ہے؟ چڑھتے ہیں فرشتے ایک ایسے ایک دن میں اور جو ہمارے اعتبار سے کتنا ہے؟ ایک ہزار سال تو یہ ہمارے اعتبار سے بیان ہوا، فرشتے اگرچہ اس کو جلدی طے کر لیتے ہیں بھئی۔ اور تو بعضوں نے کہا یہ فی یومین کا تعلق یدبر سے ہے، بعضوں نے کہا فی یومین کا تعلق یعرج سے ہے، اور بعضوں نے کہا یہاں تنازعہ فعلین ہے، دونوں فعلوں سے تعلق ہوگا، دونوں فعل جھگڑ رہے ہیں، ایک چاہتا ہے میرے ساتھ یہ متعلق ہو جائے، دوسرا کیا چاہتا ہے؟ مجھ سے متعلق ہو جائے، تو گویا کہ اس مدت کا تعلق دونوں سے ہے، فی یومین کا تعلق دونوں سے ہے یعنی یہ تدبیر امر بھی یوم میں ہے اور عروج الی اللہ جو ہے وہ بھی کتنا ہے؟ ایک دن میں ہے بھئی۔ یہ تو ایک تفسیر ہوئی بھئی۔ فرشتے ان کو لے کر چلتے ہیں اور پھر اگلے ہزار برس کے احکامات ان کے سپرد کیے جاتے ہیں بھئی، اگلے ہزار برس کے۔ بعضوں نے کہا یوم سے مراد ہے قیامت کا دن بھئی، ثم یعرج الیہ کا معنی ہے اللہ کی طرف بلند ہوتے ہیں، یعنی اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے قیامت کے دن بھئی۔ یہ تمام معاملات کیا ہیں؟ اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے فی یومین اس دن کے اندر، ایک دن کے اندر جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے اور وہ قیامت کا دن ہے بھئی۔ قیامت کا دن۔ تو دوسرا ترجمہ سمجھ میں آگیا، پہلے کے مطابق وہ اوپر تدبیر کا مراد ہے، ایک دن میں تدبیر، ایک دن کی تدبیر اللہ فرماتے ہیں یعنی اس کے احکامات نازل فرماتے ہیں۔ اور یا عروج الی اللہ جو ہوتا ہے وہ ایک دن میں ہے اور اس کی مقدار کتنی ہے؟ ایک ہزار سال اور بعضوں نے کیا کہا کہ فی یومین سے کیا مراد ہے؟ قیامت کا دن مراد ہے، کہ یہ چیزیں یعرج ثم یعرج الیہ، پھر اللہ کے حضور میں یہ سب چیزیں پیش ہوں گی فی یومین ایک ایسے دن میں کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون، کہ جس کی مقدار ایک ہزار برس ہے اس میں سے جس کو تم شمار کرتے ہو۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ یہ تو معلوم ہوا قیامت کا دن کتنا ہوگا؟ ایک ہمارے اعتبار سے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، ایک ہزار سال کے برابر۔ اور بعض آیتوں میں ذکر ہے کہ اس دن کی مقدار پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔ وہ دن کتنا لمبا ہے؟ پچاس ہزار سال بھئی۔ تو بظاہر تعارض محسوس ہوتا ہے کہ یہاں آیا ایک ہزار سال کے برابر ہے اور وہاں کیا ذکر ہے؟ پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ جواب یہ کہ یہ لوگوں کے اعتبار سے بھئی۔ اصل تو اس دن کی مقدار قیامت کے دن کی وہ ایک ہزار برس ہی ہے لیکن کفار کے لیے چونکہ وہ سخت تکلیف میں ہوں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا جیسے کہ یہ پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ جیسے آپ بھی دیکھ لیجئے۔ آپ کی طبیعت ٹھیک ہو، صحت کی حالت میں ہوں، تو آپ رات کو سوتے ہیں اور یوں صبح بیدار ہوتے ہیں، یوں معلوم ہوتا ہے کہ چند لمحوں میں رات گزر گئی، پتہ ہی نہیں چلا کیسے گزری۔ اور ایک شخص شدید بیمار ہو، بخار ہو یا کوئی سخت تکلیف ہو، تو وہ کروٹیں بدلتا رہتا ہے اور صبح پوچھیں دونوں سے، ایک کہے گا رات پتہ ہی نہیں کیسے گزر گئی، سمجھ سمجھ ہی نہیں آئی، اتنی جلدی گزر گئی رات اور دوسرا جو تکلیف میں تھا وہ کہے گا رات تو اتنی لمبی تھی، گزر ہی نہیں رہی تھی کسی طرح بھی۔ تو کفار چونکہ تکلیف میں ہوں گے، تو ان کے لیے یہ سال، قیامت کا دن انہیں کس طرح معلوم ہوگا؟ جیسے پچاس ہزار سال کا ہے، ختم ہی نہیں ہو رہا تو اصل مقدار ہے اس کی کتنی؟ ایک ہزار سال۔ جب کہ مومنوں کے لیے یہ دن حدیث میں آتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مومنوں کے لیے یہ قیامت کا دن اس اس طرح گزر جائے گا، جیسے ایک فرضی نماز کا وقت ہوتا ہے بھئی، جیسے ظہر کی نماز یا عصر کی نماز کا وقت ہے بھئی۔ جس طرح یہ وقت جلدی سے گزر جاتا ہے، اسی طرح قیامت کا دن بھی گزر جائے گا، انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا بھئی۔ یا ایک فرضی نماز کا جو وقت ہے، یعنی فرضی نماز کے ادا کرنے میں جتنا وقت لگتا ہے، جیسے ظہر کے چار رکعت پڑھنے میں جس طرح وقت لگتا ہے، مختصر سا پتہ ہی نہیں چلتا بھئی، اس طرح یہ وقت کیا ہے، آسانی سے مومنوں پر گزر جائے گا بھئی۔ تو اتنی آسانی سے مومنوں پر گزرے گا کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلے گا جتنی دیر میں وہ ظہر، عصر یا مغرب کی فرض پڑھتے ہیں، بڑے مختصر سے چند منٹوں میں وہ وقت گزر جاتا ہے، مختصر وقت ہوتا ہے، اسی طرح اس طویل وقت کو بھی اللہ مومنوں کے لیے اتنا آسان بنا دیں گے کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلے گا اور گزر جائے گا۔ بھئی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی انہی مومنین میں سے بنائے، جن کے لیے یہ دن اتنی آسانی سے گزرے بھئی۔ پہلی تفسیر میں نے کیا کی؟ کہ فرشتے چڑھتے ہیں اس کی طرف ایک ایسے دن میں، جس کی مقدار کتنی ہے؟ ایک ہزار سال، یہ پہلی تفسیر ہوئی بھئی۔ ایک ہزار سال۔ اس پر بھی اشکال آئے گا آپ کے ذہن میں کہ قرآن میں اللہ دوسری جگہ فرماتے ہیں، و تعرج الملائکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔ کہ فرشتے اور اور روح یعنی جبریل امین جو ہیں چڑھتے ہیں اللہ کی طرف، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ یہاں آیا ایک ہزار سال ہے اور وہاں آیا پچاس ہزار تو مفسرین لکھتے ہیں بعضوں نے کہا کہ یہ رفتار کے اعتبار سے فرق۔ اگر تیز رفتار ہو، تو یہ فاصلہ ایک ہزار برس میں طے ہو، اور اگر آہستہ رفتار ہو، تو کتنی میں؟ پچاس ہزار برس میں، اور بعضوں نے کہا کہ نہیں، یہ جو ایک ہزار سال کا ذکر آیا، اس سے مراد ہے یہاں سے محدب تک، جو پہلے آسمان کے محدب تک کا فاصلہ ہے، اور وہ مقدار ہے ایک ہزار برس، اور وہاں پر جو ذکر آیا کہ فرشتے اور جبریل امین جاتے ہیں، وہ ساتویں آسمان سے اوپر سدرۃ المنتہیٰ تک، عرش تک کا فاصلہ ہے، اور وہ کتنا ہے؟ پچاس ہزار برس کے برابر مسافت ہے اس کی بھئی۔ جی تو، فرق سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو کہتے ہیں یدبر الامر من السماء الی الارض اللہ تدبیر کرتے ہیں ہر معاملے کی، آسمان سے زمین کی طرف، ثم یعرج الیہ پھر ہر الیہ ہا ضمیر، امر کو راجع ہے، پھر اٹھ جاتا ہے اللہ ہی کی طرف ہر کام فی یومین، ایک ایسے دن میں کان مقدارہ کہ اس کی مقدار جو ہے الف سنۃ مما تعدون، ایک ہزار سال ہے، مما تعدون، اس میں سے جن کو تم شمار کرتے ہو۔ چلیے بس، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام