اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. وسواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون إنما تنذر من اتبع الذكر وخشي الرحمن بالغيب فبشره بمغفرة وأجر كريم. وسواء عليهم. اور برابر ہے ان پر۔ اور برابر ہے ان پر، یعنی یہ مکہ والوں پر۔ وسواء عليهم، اور برابر ہے ان پر، أأنذرتهم کہ آپ ان کو ڈرائیں، أم لم تنذرهم یا آپ ان کو نہ ڈرائیں، لا يؤمنون یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ وسواء عليهم اور برابر ہے ان پر أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون، کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا ان کے لیے برابر ہے، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ کا علم بڑا کامل، اللہ پہلے ہی سے جانتے ہیں ہر چیز کو۔ تو اللہ جانتے ہیں کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آپ چاہیں ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، ان کے لیے دونوں چیزیں برابر ہیں۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اب آپ ان کو ڈرائیں نہ، ان کو دعوت نہ دیں۔ یہ تو اللہ ایک حقیقتِ حال بیان فرما رہے ہیں۔ البته پیغمبر کے ذمے ہے کہ وہ ان کو ڈراتا رہے، اپنی کوشش کرتا رہے۔ ڈرانے کا ان کو تو کوئی فائدہ نہیں، لیکن پیغمبر کے لیے کہ وہ اپنے فرائض پورے طریقے سے سر انجام دے رہا ہے، یقیناً پیغمبر کو اس کا اجر ملتا رہے گا بھئی۔ تو پیغمبر کا کام ہے کہ وہ ڈراتا رہے۔ لیکن بہرحال اللہ نے اللہ فرما رہے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ اپنے تکبر میں اور اپنی سرکشی میں اس حد تک پہنچے ہوئے ہیں کہ ان کو کوئی سیدھی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ پیغمبر دعوت نہ دیں۔ بلکہ معنی کیا ہے کہ یہ تو ایمان نہیں لائیں گے، یہ تو اللہ کو معلوم ہے، ہم آپ کو پہلے ہی بتا دیتے ہیں۔ البتہ پیغمبر کا کام ہے ان کو دعوت دیتا رہے، ان کو ڈراتا رہے، آخرت سے خبردار کرتا رہے، اور اس کا اسے اجر ملتا رہے گا۔ جی۔ وسواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون، اور برابر ہے ان پر کہ آپ ان کو ڈرائیں یا آپ ان کو نہ ڈرائیں، لا يؤمنون، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ أأنذرتهم بھئی! یہ ایک ہمزہ تو فعل کی ہے: أأنذرتهم۔ اور ایک ہمزہ جو ہے یہ ہمزہ استفہام ہے بھئی۔ کیا ہے ہمزہ؟ استفہام۔ اور اس کو ہمزہ تسویہ بھی کہتے ہیں، تسویہ۔ سوى يسوي تسويةً بھئی۔ تا ہے شروع میں دو نقطوں والی۔ تسویہ کے معنی ہیں برابری کرنا۔ تو یہ دو چیزوں میں برابری بیان کرنے کے لیے لائی جاتی ہے بھئی۔ یہ ہمزہ کس لیے لائی جاتی ہے؟ تو یہ ہمزہ تو ہے استفہام کے لیے۔ لیکن یہاں اس وقت یہاں اس کا معنی استفہام کے نہیں ہوگا، استفہام کے معنی سے اس کو خالی کر لیا گیا۔ تو یہ صرف دو چیزوں میں برابری بیان کرنے کے لیے آتی ہے بھئی۔ تو دو چیزوں میں برابری بیان ہو رہی ہے، کون کون سی دو چیزیں؟ ڈرانا اور نہ ڈرانا کہ یہ دونوں برابر ہیں ان کے لیے بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ہمزہ تسویہ۔ اور یہ دراصل ہمزہ استفہام ہے لیکن اس کو کیا کر لیا گیا؟ استفہام کے معنی سے خالی کر لیا گیا ہے، یہاں استفہام والا معنی نہیں کریں گے بھئی۔ وسواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون، اور برابر ہے ان پر کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، لا يؤمنون، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ انما تنذر من اتبع الذكر۔ إنما تنذر آپ تو ڈراتے ہیں انہی کو من اتبع الذكر جو اتباع کرتا ہے ذکر کی، یعنی نصیحت کی۔ آپ تو اسی کو ڈراتے ہیں جو پیروی کرتا ہے ذکر کی، یعنی نصیحت کی۔ آپ تو اسی کو ڈراتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتا ہے۔ انما حصر پیدا کر رہا ہے بھئی، انہی کو ڈراتے ہیں، انہی کو ڈراتے ہیں۔ إنما ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ إنما تنذر آپ تو ڈراتے ہیں انہی کو من اتبع الذكر، جو پیروی کرتے ہیں ذکر کی، یعنی کس چیز کی؟ نصیحت کی جو پیروی کرتے ہیں۔ تو ذکر کا معنی نصیحت۔ اور بعض مفسرین نے لکھا کہ ذکر سے مراد یہاں قرآن ہے۔ ذکر سے کیا مراد ہے؟ قرآن۔ کہ اے پیغمبر! آپ تو انہی کو ڈراتے ہیں جو قرآن کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے بتلائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔ آپ تو انہی کو ڈراتے ہیں۔ آپ تو انہی کو ڈراتے ہیں جو پیروی کرتے ہیں ذکر کی، یعنی نصیحت کی۔ وخشى الرحمن اور ڈرتے ہیں رحمان سے یعنی اللہ سے، بالغیب، بن دیکھے ہی۔ آپ تو انہی کو ڈراتے ہیں جو قرآن کی پیروی کرتے ہیں اور رحمان سے بن دیکھے ہی ڈرتے ہیں۔ فبشره بمغفرة وأجر كريم، پس آپ خوشخبری دے دیجیے ان کو مغفرت کی، وأجر كريم اور عزت والے اجر کی۔ أجر كريم، عزت والا اجر۔ پس فبشره پس آپ کیا کیجیے؟ خوشخبری دے دیجیے۔ ان کو یہ جو پیروی کرتے ہیں ذکر کی اور رحمان سے بن دیکھے ہی ڈرتے ہیں، ان کو خوشخبری دے دیجیے بمغفرة وأجر كريم، کس چیز کی خوشخبری دے دیجیے؟ مغفرت کی، کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائیں گے۔ وأجر كريم، اور عزت والے اجر کی، عزت والے ثواب کی۔ یا عزت والے اجر یعنی جنت کی، خوشخبری دے دیجیے ان کو۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کہ اے پیغمبر! آپ تو صرف انہی کو ڈراتے ہیں جو قرآن کی پیروی کرتے ہیں اور اللہ سے بن دیکھے ہی ڈرتے ہیں، پس ان کو مغفرت اور اجرِ کریم کی خوشخبری دے دیجیے۔ بھئی کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کو دعوت نہیں دیتے تھے؟ دعوت دیتے تھے سب کو، لیکن یہاں کیا آ رہا ہے؟ آپ انہی کو ڈراتے ہیں جو ذکر کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ اس لیے کیونکہ آپ! اے پیغمبر! آپ کے ڈرانے کا نفع صرف انہی کو ہوتا ہے۔ آپ ڈراتے ہیں تو نفع صرف کون اٹھاتے ہیں؟ جو پیروی، اس لیے ان کو ذکر کیا اور انما کے ساتھ حصر کہ آپ تو انہی کو ڈراتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرتے ہیں اور رحمان سے بن دیکھے ہی ڈرتے ہیں۔ ترجمہ اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگیا؟ إنا نحن نحيي الموتى۔ إنا یقیناً ہم نحيي الموتى، ہم زندہ کریں گے مردوں کو، إنا نحن نحيي الموتى، یقیناً ہم مردوں کو زندہ کریں گے قیامت کے دن۔ ونكتب اور ہم لکھتے ہیں، ونكتب اور ہم لکھتے ہیں ما وہ چیز قدمو جو انہوں نے آگے بھیجی۔ ہم لکھتے ہیں وہ جو انہوں نے آگے بھیجا، یعنی ان کے سارے اعمال، جو جو اعمال وہ کر رہے ہیں، وہ آگے بھیج رہے ہیں، ان سب کو ہم لکھ رہے ہیں، چاہے اچھے عمل ہیں، چاہے برے عمل ہیں، ہم سب کو لکھ رہے ہیں۔ مراد کیا ہے؟ وہ جو فرشتے بھئی لوح کرام کاتبیں لکھتے ہیں نامہ اعمال میں، وہ مراد ہے۔ ونكتب ما قدمو، اور ہم لکھتے ہیں وہ جو انہوں نے آگے بھیجا۔ وآثارهم، آثار کہتے ہیں نشان کو، نشان کو۔ اس کی جمع ہے آثار۔ کسی چیز کا جو پیچھے نشان رہ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اثر۔ اور اسی طرح باقی جو چیز رہ جائے اس کو بھی اثر کہتے ہیں۔ بقیہ، باقی ماندہ جو ہے، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ اثر کہتے ہیں۔ ونكتب ما قدمو وآثارهم، اور ہم لکھ رہے ہیں جو ان... ہم لکھتے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا وآثارهم اور جو پیچھے چھوڑا۔ اثر نشان کو کہتے ہیں نا باقی رہ جانے والی چیز جو پیچھے چھوڑا انہوں نے۔ وآثارهم اور ان کے جو انہوں نے پیچھے چھوڑا بھئی، ان کے۔ یعنی بھئی! جو انسان پیچھے چھوڑ جائے۔ مثلاً اگر کسی نے خیر پیچھے چھوڑی بھئی، کیسے؟ کوئی مثلاً ہسپتال بنا گیا۔ کوئی کنواں کھود گیا، لوگ اس سے نفع اٹھا رہے ہیں، تو یہ سارا جو پیچھے چھوڑ آیا، یا اسی طرح کوئی اولاد، نیک اولاد، ان کی اچھی تربیت کی، سیدھے راستے، اور سیدھا راستہ پر ان کو چلایا، تو اور یا کوئی علم کی کوئی چیز، کوئی کتاب وغیرہ پیچھے چھوڑ گیا جس سے لوگ نفع اٹھاتے ہیں، تو یہ سارا بھی اسی شخص کے نامہ اعمال میں برابر لکھا جاتا ہے، جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے چلے جاتے ہیں۔ یا جب تک وہ اولاد اس کے لیے دعا کرتی رہتی ہے بھئی۔ تو یہ سارا کیا ہے؟ اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے، یہ ہیں وہ پیچھے رہ جانے والی چیزیں۔ یہ تو ہیں خیر میں سے، امورِ خیر میں سے۔ اور اگر امورِ شر پیچھے چھوڑ کر آیا ہے، تو وہ بھی اس کے نامہ اعمال میں برابر لکھے جاتے ہیں، جب تک لوگ اس غلط راستے پر چلتے رہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ مثلاً کسی بری رسم، برے کام کی بنیاد ڈالی یا مثلاً بھئی! کوئی سینما وغیرہ پیچھے بنا گیا۔ اب جب تک لوگ اس کی وجہ سے برائی میں مبتلا ہیں، تو بنانے والے جو ہے، اس کے نامہ اعمال میں برابر اس کا گناہ لکھا جاتا رہے گا۔ یہ ہیں پیچھے چھوڑے جانے والے نشانات، پیچھے رہ جانے والے نشانات بھئی۔ معنی سب کو سمجھ میں آگیا بھئی؟ إنا نحن نحيي الموتى، یقیناً ہم زندہ کریں گے مردوں کو، ونكتب ما قدمو وآثارهم، اور ہم لکھتے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا وآثارهم، اور جو پیچھے چھوڑا۔ وكل شيء أحصيناه في إمام مبين۔ اور ہر چیز جو ہے، ہم نے اس کو شمار کر رکھا ہے۔ احصى يحصي کے معنے ہوتے ہیں شمار کرنا۔ اور ہر چیز جو ہے ہم نے اس کو شمار کر رکھا ہے فی إمام مبین، ایک واضح اصل کے اندر۔ امام کہتے ہیں اصل بھئی، اصل۔ جس کی جس کی پیروی کی جائے۔ جس کو مقتدا بنایا جائے، جس کی پیروی کی جائے، جس کی مخالفت نہ کی جائے بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ امام کہتے ہیں بھئی۔ جس کے راستے پر چلا جائے، جس کی مخالفت نہ کی جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ امام۔ اور ہر چیز ہم نے اس کو شمار کر رکھا ہے فی إمام مبین، ایک واضح، مبین واضح بھئی۔ ایک واضح اصل کے اندر بھئی، ایک واضح اصل کے اندر۔ امام کا معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ جس کی پیروی کی جائے۔ اور امام مبین سے مراد یاد رکھیے لوح محفوظ ہے۔ لوح محفوظ بھئی۔ بھئی آپ جانتے ہیں لوح محفوظ کے اندر بھئی اللہ نے جو کچھ ہونا ہے یا جو کچھ ہوا، سارا کچھ اللہ نے درج فرما دیا بھئی، سارا کچھ درج فرما دیا۔ اور اللہ کا علم بڑا کامل، اللہ کو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ اس شخص نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، وہ سارا کچھ لکھ دیا گیا۔ تو انسان جو کچھ لکھا گیا دیکھو اسی کی پیروی کر رہا ہے، اسی راستے پر چل رہا ہے۔ لیکن مجبور نہیں، یہ معنی نہیں کہ جو لکھ دیا گیا اسی ہی راستے پر چلنا پڑے گا۔ وہ چلتا تو اپنی مرضی سے ہے، لیکن اللہ کو چونکہ پہلے سے معلوم تھا کہ یہ کرے گا، کیا کیا کچھ کرے گا، وہ ہر چیز لکھ دی گئی بھئی۔ اور یہ اس ہر چیز کو اپنی مرضی سے کر رہا ہے، لیکن یہ تو چونکہ پہلے لکھا گیا تو گویا اسی کی پیروی کر رہا ہے، اسی راستے پر چل رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ معنی نہیں کہ جو لکھا گیا ہے انسان اب اسی کی پیروی کرنے پر مجبور ہے، جس کو نیک بخت لکھ دیا گیا وہ نیک بخت، اور جس کو بدبخت لکھ دیا گیا وہ اسی راستے پر چل رہا ہے وہ تو نیک بخت ہو ہی نہیں سکتا۔ تو یہ اعتراض نہ آئے آپ کے ذہن میں کہ اس بیچارے کو تو پہلے سے بدبخت لکھا گیا تھا، اس میں اس کا کیا قصور بھئی؟ بھئی جواب یہ کہ یہ سب اپنی مرضی سے کر رہا ہے، لیکن چونکہ اللہ کا علم بڑا کامل، اللہ کے سامنے زمانہ کوئی چیز نہیں، ماضی حال مستقبل یہ ہماری نسبت سے ہیں، اللہ کے سامنے تمام زمانے برابر، ہر چیز اللہ کے سامنے ہے، تو اللہ کو پہلے سے معلوم ہے کہ یہ شخص اپنی مرضی سے اسی راستے کا انتخاب کرے گا، یہ یہ عمل کرے گا، ایک ایک بات اللہ کو معلوم تھی، پہلے سے ہی معلوم ہے، اللہ نے اس کو درج فرما دیا بھئی۔ تو امام مبین سے کیا مراد ہے؟ لوح محفوظ۔ وكل شيء أحصيناه في إمام مبين، اور ہر چیز کو ہم نے شمار کر رکھا ہے لوح محفوظ میں۔ تو یہ ترجمہ کر لیجیے بھئی با محاورہ۔ اور ہر چیز کو ہم نے شمار کر رکھا ہے لوح محفوظ میں۔ بھئی دیکھیے۔ كل شيء، یہ منصوب ہے۔ كل شيء منصوب ہے۔ بھئی اس کو نصب کس نے دیا؟ یاد رکھیے یہ وہ ہے جو نحو کے اندر آپ نے پڑھا، منصوبات کے اندر ما أضمر عامله على شريطة التفصيل، وہ معمول جس کے عامل کو حذف کر دیا گیا على شريطة التفصيل۔ اس تفسیر کی شرط پر کہ آگے اس کی تفسیر آ رہی ہے۔ تو دیکھیے یہ اصل میں یوں ہے: احصینا کل شیء احصیناہ۔ احصینا یہ کیا کر رہا ہے کل شیء کو نصب دے رہا ہے، اور اس کو حذف کر لیا گیا کیونکہ آگے احصینا اسی کی تفسیر آ رہی ہے۔ اسی کی تفسیر آ رہی ہے۔ اور احصیناہ یہ ہ ضمیر جو ہے یہ مفعول کی ہے اس کے ساتھ اور یہ کل شیء کو راجع ہے۔ کس کو راجع ہے؟ کل شیء کو راجع ہے۔ جی، تو یہ والا جو مذکور احصینا ہے، یہ کل شیء کو نصب نہیں دے سکتا بھئی۔ یہ نہیں نصب دے سکتا۔ کیوں نہیں دے سکتا؟ کیونکہ اس کے لیے ایک ہی مفعول چاہیے تھا اور وہ ہ ضمیر آ گئی، اس کو اس نے نصب دے دیا۔ تو اب یہ کل شیء کو نصب نہیں دے سکتا تو اس کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ ایک اور عامل کو محذوف نکالنا پڑے گا۔ تو اصل میں عبارت گویا کس طرح ہو گئی: و احصینا کل شیء احصیناہ۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہ ضمیر کل شیء کو راجع۔ بھئی، یہ اگر کل شیء ہوتا نا، پھر تو ہم اس کو مبتدا بنا دیتے، پھر عامل نکالنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ لیکن یہ تو ہے منصوب، اب نصب کے لیے کوئی عامل تو چاہیے بھئی، کوئی عامل تو چاہیے، اور یہ والا احصینا اس کو نصب نہیں دے سکتا۔ کیونکہ اس کے لیے تو ایک مفعول چاہیے تھا جو اس کے ساتھ ہ ضمیر جڑی ہوئی ہے، تو پھر اس کو کس نے نصب دیا؟ তো مفسرین حضرات، علماء نحو کیا فرماتے ہیں کہ یہ احصینا تفسیر ہے، ما قبل میں ایک اور احصینا کیا ہے؟ محذوف ہے بھئی۔ وکل شیء احصیناہ فی امام مبین اور ہر چیز کو ہم نے شمار کر رکھا ہے لوح محفوظ میں۔ و ضرب لہم مثلا اصحاب القریہ بھئی اصحاب القریہ کے اوپر میم لکھی ہوئی آپ کو نظر آ رہی ہوگی بھئی۔ اور یہاں کنارے پر لکھا ہے وقف لازم۔ جہاں یہ میم آئے، وہاں ضرور آپ کو کنارے پر وقف لازم کا لکھا ہوا ملے گا، اس جگہ پر ضرور وقف کرنا چاہیے بھئی۔ کیا کرنا چاہیے؟ وقف کرنا چاہیے، اگلے کو اس سے جدا کر کے پڑھنا چاہیے کیونکہ اگر ساتھ ملا کر پڑھیں گے، تو معنی بدل جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معنی کچھ کا کچھ ہو جائے گا، لہذا اس کا ہمیشہ تلاوت میں خیال رکھیے بھئی جہاں یہ میم آ جائے، وہاں ضرور وقف کیجیے بھئی، ضرور۔ و ضرب لہم اور جی یہاں بھئی ضرب بمعنے بیان کرنے کے ہیں۔ ضرب کا ایک معنی تو ہے پٹائی کرنا، ایک معنی کیا ہے ضرب کا؟ بیان بھی ہے جو یہاں پر مراد ہے، و ضرب لہم اور آپ بیان کیجیے ان کے لیے یعنی مکہ والوں کے لیے۔ اے پیغمبر! آپ کیا کیجیے؟ بیان کیجیے ان مکہ والوں کے لیے، مثلا ایک مثال اصحاب القریۃ کس کی؟ بستی والوں کی۔ اصحاب القریہ، بستی والوں کی۔ و ضرب لہم مثلا اصحاب القریۃ خطب ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، ان کو حکم دیا گیا، و ضرب، و ضرب لہم مثلا اصحاب القریۃ اور اے پیغمبر آپ بیان کیجیے ان کے لیے بستی والوں کی مثال۔ اذ جاءھا المرسلُون جب آئے، ہ ضمیر راجع ہے قریہ کو۔ اذ جاءھا جب آئے اس بستی میں المرسلُون بھیجے ہوئے، جب اس بستی میں آئے بھیجے ہوئے (یعنی جن کو ہم نے بھیجا تھا) اذ ارسلنا اليهم اثنین بھئی یہ واقعہ سن لیجیے مختصراً بھئی۔ آگے بستی والوں کا ایک واقعہ آ رہا ہے۔ یہ اس واقعے میں ذکر آئے گا آگے کہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے بستی والوں کی طرف دو شخصوں کو، دو مرسل جو بھیجے ہوئے تھے، دو کو بھیجا بھئی، دو آدمیوں کو اور پھر ان دو نے انہیں دعوت و تبلیغ کی، انہیں اللہ کے دین کی طرف بلایا، لیکن بستی والوں نے انکار کیا، ان کی دعوت کو رد کر دیا تو پھر اللہ فرماتے ہیں ہم نے ایک تیسرے شخص کو بھیجا، اس نے بھی جا کر ان کی تائید کی ان پیغمبروں کی اور کہا کہ اے اللہ ایک ہی ہے، تم شرک و بت پرستی کو چھوڑ دو اور توحید کی طرف آ جاؤ، تو وہ کہنے لگے کہ بھئی تم تو ہماری طرح انسان ہو۔ تم تو کیا ہو؟ یہ نہیں ان لوگوں کا یہ خیال تھا، جیسے مکہ والوں کا خیال تھا بھئی کہ جو پیغمبر ہو، اسے تو کیا ہونا چاہیے؟ وہ انسان نہیں جسے اللہ بھیجے وہ انسان نہیں ہو سکتا، وہ یقیناً فرشتہ یا اور مخلوق ہوگی۔ انسان، یہ تو ہماری طرح ہی ہے، اس کو کیسے اللہ نے بھیج دیا؟ تو کہنے لگے تم تو ہماری طرح انسان ہو، تم جھوٹی بول رہے ہو، اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی، اللہ نے کوئی حکم نہیں دیا۔ اور اس زمانے میں بازوں نے کہا کہ کچھ قحط وغیرہ بھی آیا، بارشیں نہیں ہوئیں، قحط وغیرہ بھی آیا۔ تو وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں۔ وہ بستی والے کیا کہنے لگے ان بھیجے ہوؤں کو؟ کہ ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں، تمہاری وجہ سے یہ قحط وغیرہ آیا ہے، تو اس کی نحوست کیوں سمجھتے ہیں؟ یہ جو قحط وغیرہ آیا تھا، تو اس کی نسبت ان کی طرف کر دی کہ تمہاری وجہ سے یہ قحط آیا ہے۔ بازوں نے کہا کہ نہیں مراد، یہ آگے ذکر آئے گا آیات کے اندر منحوس سمجھنے سے مراد تھا کہ یہ جو ہمارے درمیان اختلاف پڑ گیا ہے، ایمان لے آئے ہیں لوگ، کچھ لوگ ایمان لے آئے، کچھ لوگ ایمان نہ لائے تو گھر گھر اختلاف پڑ گیا بھئی۔ ایمان لانے والے ہیں کچھ، ایمان نہ لانے والے ہیں، آپس میں اختلاف آ گیا ان کے بھئی۔ تو اس کی طرف ان کا اشارہ تھا کہ ہم تمہیں کیا سمجھتے ہیں؟ منحوس سمجھتے ہیں، تمہاری وجہ سے ہمارے درمیان یہ اختلافات آ گئے، پہلے تو یہ ہمارے درمیان اختلافات نہیں تھے۔ انہوں نے کہا بھئی تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، یہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے، تو اگر تم سب ہماری دعوت پر آ جاؤ تو پھر اختلاف ہی نہیں ہوگا اور یہ قحط وغیرہ، یہ نحوست تمہارے اپنے عمل ہیں، یہ جو تم شرک و بت پرستی کرتے ہو، یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ جی، اور پھر چنانچہ وہ ان کو دھمکیاں دینے لگے پیغمبروں کو اور قتل کرنے کا ارادہ کیا ان کو، جب ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس شہر کے ایک آ کے دور کے کنارے میں، آخری کنارے پر ایک ایمان والا آدمی تھا، ایمان جو لے آیا تھا ان پر اور اس کا نام حبیب تھا بھئی، حبیب۔ حبیب نجار۔ نجار کہتے ہیں یہ ترکھان تھا بھئی، بڑھئی۔ تو حبیب نجار اسے جب پتہ چلا کہ لوگ ان پیغمبروں کو قتل کرنے لگے ہیں تو وہ بھاگتا ہوا آیا وہاں سے تاکہ اپنی قوم کو سمجھا سکے اور آ کر کہنے لگا کہ یہ پیغمبر تمہیں سیدھا راستہ بتلا رہے ہیں، تم سے کوئی معاوضہ وغیرہ بھی نہیں مانگ رہے، تمہیں سیدھا راستہ بتلا رہے ہیں، تم خود غور کرو تو تمہیں یہ بات سمجھ میں آ جائے گی کہ یہی سیدھا راستہ ہے، تم ان پیغمبروں کو تکلیف نہ دو، انہی کے راستے پر تم لوگ بھی آ جاؤ۔ اور اس نے بڑے اچھے طریقے سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن ان لوگوں کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اور دھمکیاں دیتے دیتے، پھر بالاآخر انہوں نے اس یہ جو حبیب تھا، اس کو انہوں نے قتل کر دیا بھئی۔ کیا کیا؟ شہید کر دیا اور شہید بھی بڑے ظالمانہ طریقے سے کیا، کہتے ہیں کہ ان کو قدموں تلے روندھا ان سب نے یہاں تک کہ وہ مر گئے بھئی، شہید ہو گئے۔ اور بڑے برے طریقے سے ان کو قتل کیا اور قتل کرتے ہی ان کے جیسے ہی وہ شہید ہوئے، فورا اللہ کی طرف سے حکم ہوا اس کو جنت میں داخل کر دیا جائے۔ اسے جنت میں داخل کر دیا گیا اور وہ اپنی قوم کا اتنا خیر خواہ تھا تو وہاں جا کر بھی افسوس کر رہا افسوس کرنے لگا کہ کاش میری قوم جانتی، کاش میری قوم کو پتہ لگ جائے کہ اللہ نے دیکھو میری مغفرت کر دی ہے اور مجھے جنت میں داخل کر دیا ہے اس ایمان کی وجہ سے، کاش یہ لوگ بھی ایمان لے آئیں۔ اور پھر اس کے بعد اللہ تعالی نے اس قوم پر جنوں نے ان پیغمبروں کو اور ان کو شہید کیا، ان پر اللہ تعالی نے پھر عذاب نازل فرمایا بھئی، ان کو ان کو تباہ و برباد کیا، ہلاک کر دیا بھئی۔ تباہ کر دیا اللہ نے، حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور اس انہوں نے ایک زوردار چیخ ماری، جس سے ان سب کے کلیجے وہیں پھٹ گئے اور وہیں مر گئے سب کے سب بھئی۔ تو اس واقعے کا ذکر آگے آ رہا ہے بھئی۔ اب یہ کون لوگ تھے؟ دو بھیجے اللہ نے انہوں نے جھٹلایا بستی والوں نے، پھر اللہ نے ایک تیسرے کو بھیجا تو اس کو بھی انہوں نے جھٹلایا، یہ کون افراد تھے جن کو بھیجا گیا تھا؟ تو مفسرین باز مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری تھے بھئی۔ یعنی ان کے صحابی تھے جو ان پر ایمان لائے تھے، یہ دو جن کو بھیجا گیا یہ کون تھے؟ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری تھے، ان کے صحابی تھے، دو کو بھیجا حضرت عیسی علیہ السلام نے کہ جاؤ بھئی فلاں بستی ہے۔ اور بستی تھی کہتے ہیں انطاکیہ بستی تھی، انطاکیہ۔ حمزہ، الف ہے شروع میں، نون، ط، الف۔ انطا اور پھر کاف ہے چھوٹا، یا، ہ۔ انطاکیہ۔ تو یہ انطاکیہ بستی تھی جس کی طرف بھیجا حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے دو حواریوں کو۔ بستی والوں نے جھٹلایا تو پھر آپ نے اپنے تیسرے حواری کو بھیجا بھئی۔ معلوم ہوا یہ جو بھیجے گئے تھے یہ پیغمبر نہیں تھے بلکہ کیا تھے؟ صحابی تھے ان کے، صحابی تھے۔ یہ بات مفسرین فرماتے ہیں، اور بعض مفسرین نے اس کو اس پر بڑے اعتراضات کیے کہ نہیں بھئی یہ انطاکیہ بستی نہیں تھی اور یہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری نہیں تھے، یہ کوئی اور بستی تھی اور یہ جو دو بھیجے گئے تھے یہ جو دو بھیجے گئے تھے اور پھر تیسرا بھیجا گیا، یہ صحابی نہیں تھے، یہ پیغمبر تھے بھئی۔ کیا تھے؟ پیغمبر تھے یہ باقاعدہ۔ کیوں؟ دلیل؟ دلیل وہ دیتے ہیں کہ آگے وہ انہوں نے جھٹلانے والوں نے کہا تھا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہی ہو۔ تم تو ہماری طرح انسان ہی ہو معلوم ہوا یہ پیغمبر تھے کیونکہ ان مشرکین کا جیسے مکہ والوں کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ پیغمبر انسان نہیں ہو سکتا۔ صحابی کے انسان ہونے کے تو وہ سب قائل تھے جو جو بھی ایمان لائے گا وہ کیا ہوگا؟ صحابی، وہ تو ہے ہی انسان۔ تو صحابی کے انسانی ہونے کے وہ منکر نہیں تھے، صرف کس کے منکر تھے؟ پیغمبر کے انسان ہونے کے وہ، کہ وہ ہماری طرح انسان نہیں ہو سکتا تو یہ جو انہوں نے کہا نا کہ تم تو ہماری طرح انسان ہی ہو، یہ وہ دلیل ذکر کرتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ یہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری یا صحابی نہیں تھے بلکہ باقاعدہ پیغمبر تھے، اگر پیغمبر نہ ہوتے تو یہ بستی والے اس طرح نہ کہتے ان کو جواب میں۔ اور پھر، بھئی، پھر یہ کون سی بستی تھی اگر انطاکیہ نہیں تھی؟ کہتے ہیں کوئی پتہ نہیں، اللہ نے کچھ بھی ذکر نہیں کیا، بس ان کا واقعہ ذکر کر دیا، نہ پیغمبروں کے نام ذکر ہیں، نہ بستی کا نام ذکر ہے، بس اللہ نے صرف وہ واقعہ ذکر کر دیا اور ان کے نام وغیرہ کی تفصیل کا علم نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ و ضرب لہم مثلا اصحاب القریہ اور بیان کیجیے مثال ان کے لیے بستی والوں کی۔ اذ جاءھا المرسلُون جب آئے اس بستی میں بھیجے ہوئے، اذ ارسلنا اليهم اثنین جب بھیجے ہم نے ان کی ان لوگوں کی، ان بستی والوں کی طرف، اثنین کتنے بھیجے؟ دو پیغمبر بھیجے، فکذبُھما پس انہوں نے جھٹلایا ان دونوں کو، ان بستی والوں نے ان دونوں کو جھٹلایا۔ فَعَزَّزْنَا پس عزّزنا کے معنی ہیں قوت دینا۔ فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ پس ہم نے ان دو کو، فَعَزَّزْنَا ھُمَا بھئی، ھُما مفعول محذوف ہے یہاں پر بھئی۔ ہم نے قوت دی، کن کو قوت دی بھئی؟ ان دو کو قوت دی بِثَالِثٍ کس کے ذریعے؟ تیسرے کے ذریعے، تیسرے پیغمبر کے ذریعے۔ فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ تو ہم نے قوت دی تیسرے کے ذریعے فقالوا پس انہوں نے کہا، ان پیغمبروں نے کہا ان پیغمبروں نے، انا الیکم مرسلُون بےشک ہم تمہاری طرح بھیجے گئے ہیں۔ انا الیکم مرسلُون بےشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔ بھئی دیکھیے، وہ انکار کر رہے تھے کہ نہیں تم پیغمبر نہیں ہو اور یہ کیا کہہ رہے تھے؟ ہم پیغمبر ہیں، ہمیں بھیجا گیا ہے، اللہ نے ہمیں بھیجا ہے۔ تو چونکہ وہ انکار کر رہے تھے تو اس لیے انہوں نے بھی کلام کو تاکید کے ساتھ ذکر کیا بھئی، انا کیا ذکر کیا؟ جملہ اسمیہ ہے اور انا کے ساتھ ذکر کیا، بےشک انا بےشک ہم الیکم تمہاری طرف مرسلُون بھیجے گئے ہیں بھئی۔ اذ ارسلنا اليهم اثنین جب بھیجا ہم نے ان بستی والوں کی طرف دو کو، فکذبُھما پس ان بستی والوں نے ان دونوں کو جھٹلایا، فعززنا بِثالث پس ہم نے قوت دی انہیں تیسرے کے ذریعے، فقالوا پس ان بھیجے ہوؤں نے کہا انا الیکم مرسلُون بےشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔ چلیے، بس بھئی ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔