اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم يس والقرآن الحكيم إنك لمن المرسلين على صراط مستقيم تنزيل العزيز الرحيم لتنذر قوما ما أنذر آباؤهم فهم غافلون آج ہم سورۃ یاسین شروع کریں گے سورہ یاسین کو قرآن کا دل کہا جاتا ہے بھئی قرآن کا دل حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ سورہ یاسین پڑھ لے اسے اللہ تعالی دس قرآن پڑھنے کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں بھئی یاسین یہ حروف مقطعات میں سے ہے بھئی اس کا حقیقی معنی اللہ اور اس کے رسول ہی جانتے ہیں والقرآن الحکیم قسم ہے قرآن حکیم کی واو قسمیہ جارہ ہے بھئی والقرآن الحکیم قسم ہے قرآن حکیم کی قسم ہے حکمت والے قرآن کی إنك لمن المرسلين يقیناً آپ البتہ بھیجے ہوؤں میں سے ہیں پیغمبروں میں سے ہیں إنك لمن المرسلين بلاشبہ آپ البتہ پیغمبروں میں سے ہیں على صراط مستقیم سیدھے راستے پر ہیں سیدھے راستے پر ہیں تنزيل العزيز الرحيم تنزيل یہ مفعول مطلق ہے اور فعل اس کا محذوف مفعول مطلق آپ جانتے ہیں وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہوتا ہے تو تنزيل العزيز الرحيم تو یہ تنزيل مفعول مطلق ہے اور منصوب ہے اور مفعول مطلق آپ جانتے ہیں وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہوا کرتا ہے ضربت ضرباً بھئی ضربت ضرباً جیسے یہاں ضرباً مفعول مطلق ہے تو یہاں فعل محذوف جو ہے وہ نزّل ہے نزّل تنزيل العزيز الرحيم اور ہوا ضمیر جو نزّل کے اندر نائب الفاعل ہے وہ راجع ہے قرآن حکیم کو بھئی نزّلا نازل کیا گیا ہے یہ قرآن تنزيل العزيز الرحيم زبردست مہربان کا نازل کرنا العزيز زبردست الرحيم رحم کرنے والا لفظی ترجمہ کیا ہوا تنزيل العزيز الرحيم یہ قرآن نازل کیا گیا ہے تنزيل العزيز الرحيم نازل کرنا زبردست رحم کرنے والے کا تو بامحاورہ ترجمہ کیا ہوگا کہ یہ قرآن زبردست رحم کرنے والے کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تو یہ قرآن زبردست رحم کرنے والے اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے لتنذر قوماً تاکہ آپ ڈرائیں ایک ایسی قوم کو ما أنذر آباؤهم أنذر يندر کے معنی ڈرانا بھئی لتنذر قوماً تاکہ آپ ڈرائیں ایک ایسی قوم کو ما أنذر آباؤهم کہ نہیں ڈرایا گیا ان کے آباؤ اجداد کو فہم غافلون پس وہ غفلت میں پڑے ہیں اللہ فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر یہ قرآن آپ پر زبردست رحم کرنے والے اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ ڈرائیں ایک ایسی قوم کو کہ ان کے آباؤ اجداد کو نہیں ڈرایا گیا پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں یہ جو مشرکین مکہ تھے قریش یہ عرب والے عرب ان کی طرف حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا بھئی حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کے جد اعلیٰ ہیں اور یہ انہی کی نسل میں سے تو ان کے بعد ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آیا بھئی بنی اسرائیل کے بارے میں تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے تھے حضرت اسحاق علیہ السلام اور انہی کی نسل میں آگے بنی اسرائیل قوم پیدا ہوئی اور بنی اسرائیل اور ان کی طرف بہت پیغمبر بھیجے گئے بلکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں کتنے پیغمبر میں پہلے بتلا چکا ہوں آپ کو بھئی چار ہزار پیغمبر ان کی طرف بھیجے گئے بھئی چار ہزار جبکہ عرب کی طرف حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد اور کوئی پیغمبر نہیں آیا تو وہی اللہ ذکر فرما رہے ہیں کہ آپ تاکہ آپ ڈرائیں ایک ایسی قوم کو ما أنذر آباؤهم کہ ان کے آباؤ اجداد کو نہیں ڈرایا گیا یعنی ان کے پاس کوئی ڈرانے والا یعنی کوئی پیغمبر نہیں آیا آپ سے پہلے فہم غافلون پس یہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں تو یہ جو ہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پاس بھیجا گیا بھئی یہ اہل مکہ کے پاس بھئی اس سے پہلے اور کوئی پیغمبر ان میں نہیں آیا حضرت اسماعیل علیہ السلام آئے تھے لیکن وہ بہت زمانے پہلے تھے بھئی اور یہ جو درمیان کا زمانہ ہے یہ زمانہ فترت کہلاتا ہے بھئی کیا کہلاتا ہے زمانہ فترت بھئی فا ہے تا دو نقطوں والی را اور تا بھئی گول تا فترت تو یہ جو دو پیغمبروں کا درمیانی زمانہ ہے جس میں کوئی پیغمبر نہیں اس کو زمانہ فترت کہا جاتا ہے بھئی زمانہ فترت تو ان کے آباؤ اجداد کے پاس اور کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا فہم غافلون تو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں لقد حق القول على أكثرهم البته تحقیق ثابت ہو چکی ہے بات حق القول ثابت ہو چکی ہے بات على أكثرهم ان میں سے اکثر پر فہم لا يؤمنون پس یہ ایمان نہیں لانے والے یعنی یہ ایمان نہیں لائیں گے تحقیق بات سچ ثابت ہو چکی ہے ان میں سے اکثر پر پس یہ ایمان نہیں لائیں گے कौन सी बात इन पर साबित हो चुकी है بھئی جب شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ نے اسے سزا دینے کا ارادہ کیا تو اس نے مہلت طلب کی کہ اے اللہ مجھے قیامت تک مہلت دے دیجیے تو اللہ تعالی نے مہلت دے دی تو کہنے لگا کہ میں یہ جو انسان ہے جس کی وجہ سے میرا یہ انجام ہوا میں ان کو سب کو گمراہ کروں گا ہاں جو آپ کے نیک اور مخلص بندے ہوں گے وہ تو بچ جائیں گے باقی سب کو میں کیا کروں گا گمراہ کروں گا تو اللہ نے جواب میں فرمایا کہ میں بھی جہنم کو جنوں اور انس جنات اور انسانوں سے بھر دوں گا جو جو میری نافرمانی کرے گا ان سب کو میں جہنم میں داخل کر دوں گا تو جواب میں اللہ نے فرمایا لاملأن جہنم من الجنة والناس أجمعين البتہ میں ضرور بضرور بھر دوں گا جہنم کو جن و انس دونوں سے تو یہ بات جو یہ جو اللہ نے فرمایا لاملأن جہنم من الجنة والناس أجمعين کہ البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو جن و انس سے تو یہ قول ان پر ثابت ہو چکا ہے یہ بھی کن میں سے ہیں جہنمیوں میں سے ہیں تو یہ ایمان نہیں لے کر آئیں گے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی قول سے کون سا مراد قول مراد ہے لاملأن جہنم من الجنة والناس أجمعين بھئی لقد حق القول على أكثرهم البتہ تحقیق ثابت ہو چکا ہے ثابت ہو چکی ہے بات ان میں سے اکثر پر فہم لا يؤمنون پس یہ ایمان نہیں لانے والے إنا جعلنا في أعناقهم أغلالا بے شک ہم نے بنایا بلاشبہ ہم نے کر دیا فی أعناقهم ان کی گردنوں میں اعناق جمع ہے عنق کی گردن کو کہتے ہیں أغلال جمع ہے غل کی بھئی غل اور غل وہ طوق اور وہ بیڑیاں جو گردن میں ڈالی جائیں بھئی ان اسے غل کہتے ہیں بھئی اور مفسرین حضرات لکھتے ہیں کہ صرف وہ طوق جو گردن میں ڈالا جائے وہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک ہاتھ کو یا دونوں ہاتھوں کو بھی باندھا گیا ہو وہ طوق جو گردن میں ڈالا جائے اور اس کے ساتھ اس شخص کا اس مجرم کا ایک ہاتھ باندھ دیا جائے یا پھر دونوں ہاتھوں کو اس کے ساتھ باندھ دیا جائے تو اسے غل کہتے ہیں بھئی غل اور اس کی جمع کیا آتی ہے اغلال آتی ہے تو غل وہ طوق ہے جس جو گردن میں ڈالا جاتا ہے یا وہ بیڑیاں ہیں جو گردن میں ڈالی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ اس شخص اس مجرم کا ایک ہاتھ یا دونوں ہاتھ باندھے جاتے ہیں فہی إلى الأذقان اذقان جمع ہے ذقن کی ذقن ذقن کہتے ہیں ٹھوڑی کو بھئی ٹھوڑی فهم مقمعون أقمع يقمع کے معنی ہوتے ہیں سر کا اوپر کو اٹھنا بھئی سر کا اوپر کو ہونا سر کا اوپر کو ہونا اللہ کیا فرما رہے ہیں إنا جعلنا في أعناقهم أغلالا ہم نے ڈال دیے ہیں ان کی گردنوں میں طوق جس کے ساتھ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں فہی إلى الأذقان تو یہ طوق کہاں تک ہیں ٹھوڑیوں تک ہیں ٹھوڑیوں تک ہیں ان کی تو بھئی جب وہ طوق گردن میں ڈالا گیا اگر طوق باریک ہو تو پھر تو انسان گردن نیچے کر سکتا ہے سر کو نیچے کر سکتا ہے اور اپنے سامنے اور اپنے نیچے کی طرف دیکھ سکتا ہے لیکن اگر طوق کے ساتھ ایک ہاتھ یا دونوں ہاتھوں کو باندھ دیا جائے گردن کے ساتھ تو اب ہاتھوں کی وجہ سے گردن کا نیچے جھکانا ممکن نہیں بھئی چہرہ اوپر ہی کی طرف رہے گا یا وہ طوق کی چوڑائی زیادہ ہو تو چہرہ اوپر ہی کی طرف رہے گا نیچے کی طرف دیکھنا ممکن نہیں کیونکہ وہ طوق کہاں تک پہنچے ہوئے ہیں ٹھوڑیوں تک ٹھوڑیوں پر لگ رہے ہیں وہ یا ان کے جو ہاتھ نیچے باندھے ہوئے ہیں ان ہاتھوں کی وجہ سے تو وہ ٹھوڑیوں تک لگ رہے ہیں اور اب چہرے ان کے اوپر یعنی آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ہیں اور یہ نیچے کی طرف دیکھ ہی نہیں سکتے تو ان کو راہ حق نظر ہی نہیں آتی نیچے کی طرف دیکھ سکیں تو پھر ان کو اپنا پتہ چلے یا آگے سامنے راستہ وغیرہ ان کو دکھائی دے لیکن ان کے تو طوق اس طرح ہیں کہ ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچیں اور سر نیچے کو یہ جھکا ہی نہیں سکتے سر ان کے اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں بھئی تو یہ معنی ہے فہی إلى الأذقان تو ہیا ضمیر کس کو راجع اغلال کو راجع بھئی تو یہ طوق جو ہیں ٹھوڑیوں تک ہیں ٹھوڑیوں تک ہیں فهم مقمعون أقمع يقمح کے معنی ہیں سر اوپر کو ہونا بھئی تو ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں ان طوقوں کی وجہ سے یہ جو ہاتھ ان کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اس کی وجہ سے إنا جعلنا في أعناقهم أغلالا فهي إلى الأذقان فهم مقمعون یقیناً ہم نے ڈال دیے ہیں ان کی گردنوں کے اندر طوق فہی إلى الأذقان پس یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں فهم مقمعون پس ان کے سر اوپر کی طرف اٹھے ہوئے ہیں اللہ فرما رہے ہیں إنا جعلنا في أعناقهم أغلالا بے شک ہم نے ڈال دیے ان کی گردنوں میں طوق ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں فہی إلى الأذقان پس یہ جو طوق ہیں ہیا ضمیر اغلال کو راجع پس یہ جو طوق ہیں الی الاذقان یہ ٹھوڑیوں تک ہیں بھئی ٹھوڑیوں تک ہیں تو اغلال جمع ہے غل کی غل مذکر ہے لیکن یہ اغلال اس کی جب جمع ہے اور جمع بتاویل جماعت کس کے حکم میں ہوتی ہے واحد مؤنث کے حکم میں تو اس کی طرف عموماً عربی میں آپ دیکھیں گے کہ جمع کی صفت بھی بہت جگہ واحد مؤنث لائی جاتی ہے ضمیر بھی اس کی طرف واحد مؤنث کی راجع کی جاتی ہے جیسے یہاں ہیا کی ضمیر اغلال کو راجع بھئی فهم مقمعون پس ان کے سر اوپر اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں ان کے سر اوپر کو اٹھائے گئے ہیں۔ بھئی! گردن میں طوق ڈالا جائے طوق باریک ہوگا تو گردن انسان نیچے کر سکتا ہے۔ اور اگر طوق بڑا ہو خوب چوڑا ہو تو وہ ٹھوڑی کے ساتھ لگے گا اور ٹھوڑی اوپر کو اٹھ جائے گی سر نیچے کی طرف چہرہ نیچے کی طرف نہیں جھکا سکتا پھر انسان بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ معنی یہ ہے کہ طوق ان کی ٹھوڑی تک پہنچے میں جن سے ان کے سر یہ اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں بھئی، اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں نیچے کی طرف یہ نہیں جھکا سکتے سر کو۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ انا جعلنا فی اعناقہم اغلالا ہم نے ڈال دیے ہیں ان کی گردنوں میں طوق فہی الی الأذقان پس یہ طوق ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں فہم مقمحون تو یہ کیا ہیں؟ ان کے سر اوپر کو اٹھ رہے ہیں، اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں۔ وجعلنا من بین ایدیہم سدا۔ سد کہتے ہیں سدّن آڑ کو رکاوٹ کو۔ وجعلنا من بین ایدیہم سدا اور بنا دیے ہیں ہم نے ان کے سامنے بنا دی ہیں ہم نے ان کے سامنے آڑ رکاوٹ۔ ومن خلفہم سدا اور ان کے پیچھے ایک آڑ فغشینہم۔ غشی یغشا۔ غشی یغشا کا کیا معنی ہوتا ہے؟ ڈھانپ لینا۔ فغشینہم پس ہم نے ان کو ڈھانپ لیا ہے۔ فہم لا یبصرون پس یہ لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ فہم لا یبصرون پس یہ لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ وجعلنا من بین ایدیہم سدا اور ہم نے بنا دیے ہیں ہم نے بنا دی ہے ان کے سامنے آڑ ومن خلفہم سدا اور ان کے پیچھے آڑ فغشینہم پس ہم نے ان کو ڈھانپ لیا ہے فہم لا یبصرون پس یہ لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ بھئی! شان نزول انا جعلنا فی اعناقہم اغلالا۔ شان نزول یہ ہے کہ ابوجہل نے اور اسی طرح اس کا کوئی ایک ساتھی تھا قبیلہ بنو مخزوم کا انہوں نے قسم اٹھائی کہ اگر ہمیں محمد نظر آیا ہمیں محمد ملا تو ہم اس کو ضرور قتل کر دیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ کے پاس نماز میں مشغول ہیں تلاوت اونچی آواز سے فرما رہے ہیں بیت اللہ کے پاس تو لوگوں نے ابوجہل سے کہا کہ محمد بیت اللہ کے پاس قرآن پڑھ رہے ہیں۔ چنانچه ابوجہل آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ایک بڑا سا پتھر اٹھایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی نیت سے لیکن پتھر اٹھایا تو اس کے اس کا اپنا ہاتھ اس کی گردن سے جا کر چپک گیا اور وہ پتھر اس کے اپنے ہی ہاتھ پر گرا۔ اور وہ وہاں سے گھبرا کر نکل گیا بھئی فورا۔ گھبرا کر نکل گیا اور جا کر لوگوں کے سامنے یہ ان لوگ جن لوگوں نے بھیجا تھا ان کو جا سامنے جا کر یہ بات بیان کی اور پھر کہتے ہیں بات بیان کرنے کے بعد وہاں پھر گر پڑا بھئی۔ تو وہ جو دوسرا شخص تھا جس نے قسم اٹھائی تھی اس نے کہا میں جاتا ہوں میں جا کر قتل کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ آیا اور تو اللہ نے اس کی آنکھوں کے آگے پردے کر دیے بھئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز تو اس کو سنائی دے رہی تھی لیکن وہ دکھائی نہیں دے رہے تھے بھئی۔ وہ نہیں دکھائی دے رہے تھے۔ تو وہ نہیں دکھائی دیے تو واپس چلا گیا اپنے ساتھی بھی اس کو پھر دکھائی نہ دیے بھئی۔ ساتھیوں کے پاس سے بھی گزر گیا انہوں نے آواز دی تو واپس آیا اور پھر بیان کیا کہ میں ان کو قتل کرنے کے لیے گیا تھا لیکن وہ مجھے دکھائی ہی نہیں دیے پتہ نہیں کدھر تھے ان کی آواز تو مجھے سنائی دے رہی تھی لیکن وہ نہیں دکھائی دے رہے تھے۔ تو کہتے ہیں ان کے ساتھی بھی گئے سارے اور وہ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انہیں آواز سنائی دے رہی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ آواز کی سمت میں وہ آگے ہوتے تو آواز پیچھے کی طرف سے آنا شروع ہو جاتی۔ پیچھے کی طرف پلٹتے تو آواز آگے کی طرف پھر سنائی دینا شروع ہو جاتی۔ تو اس طرح وہ ناکام ہو کر واپس آ گئے بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ قتل کرنے کے لیے گئے اور سب ناکام واپس آ گئے۔ اس موقع پر یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی انا جعلنا فی اعناقہم اغلالا فہی الی الأذقان فہم مقمحون وجعلنا من بین ایدیہم بھئی۔ تو اس موقع پر یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی۔ اسی کو اللہ ذکر فرما رہے ہیں کہ انا جعلنا فی اعناقہم اغلالا ہم نے کر دیے ان کی گردنوں کے اندر طوق فہی الی الأذقان تو ان کی گردنیں وہ طوق جو ہیں الی الأذقان ٹھوڑیوں تک ہیں فہم مقمحون ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں۔ وجعلنا من بین ایدیہم سدا اور ہم نے ان کے سامنے ایک آڑ بنا دی اور ومن خلفہم سدا اور ان کے پیچھے ایک آڑ بنا دی فغشینہم پس ہم نے ان کو ڈھانپ لیا۔ یعنی آگے پیچھے ہر طرف سے بھی آڑ کر دی گئی اور اوپر کی طرف سے بھی ان کو ڈھانپ لیا گیا فہم لا یبصرون پس یہ لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ نہیں دیکھ سکتے۔ تو یہ ان کی وہ حالت بیان ہو رہی ہے یا مراد یہ ہے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اتنا تکبر کرنے والے ہیں اتنا تکبر کرنے والے ہیں کہ اس تکبر کی وجہ سے گویا ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں نیچے کی طرف یہ دیکھ ہی نہیں سکتے نیچے کی طرف دیکھیں گے تو ان کو راہ حق نظر آئے گی صراط مستقیم نظر آئے گی سامنے کی طرف لیکن تکبر کی وجہ سے اتنے زیادہ تکبر میں مبتلا ہیں کہ راہ حق کی طرف یہ دیکھ ہی نہیں پاتے بھئی۔ جیسے طوق ہوتا ہے کسی شخص کے گلے میں اور اس کا سر اوپر کو اٹھا ہوا ہو تو وہ سامنے کی طرف نیچے کی طرف بالکل نہیں دیکھ سکتا یہ لوگ بھی اسی طرح راہ حق کو نہیں دیکھ سکتے حد سے زیادہ تکبر کی وجہ سے۔ یا یہ مراد ہے کہ قیامت کے دن ان کو ایسے طوق پہنائے جائیں گے کہ جس سے ان کی جو کہ وہ طوق ان کی ٹھوڑیوں کو لگ رہے ہوں گے اور وہ سر نیچے کو جھکا ہی نہیں سکیں گے بھئی سر نیچے کو نہیں جھکا سکیں گے۔ اور آگے اللہ فرما رہے ہیں اور ہم نے ان کے سامنے ایک آڑ بنا دی ہے اور پیچھے ایک آڑ بنا دی ہے پس ہم نے ان کو ڈھانپ لیا ہے پس یہ لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ ایک تو وہ جب وہ گئے اللہ نے آڑ بنا دی ان کے آگے پیچھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دکھائی ہی نہیں دے رہے تھے۔ یا مراد یہ ہے کہ ہم نے ان کے آگے پیچھے اوپر ہر طرف آڑ کر دی ہے ان کو ڈھانپ لیا ہے اب یہ راہ حق کی طرف آ ہی نہیں سکتے ہم نے رکاوٹیں ڈال دیں ان کے راہ حق میں آنے کی طرف بھئی۔ اور رکاوٹیں کیوں ڈالیں؟ کیونکہ یہ خود ہی اس گمراہی اور شرک کو پسند کرنے والے ہیں یہ خود ہی اسی کو چاہتے ہیں حق کی طرف آنا ہی نہیں چاہتے کسی صورت میں تو ہم نے بھی کیا کر دی ان کے آگے پیچھے اور اوپر ہر طرف کیا کر دیں رکاوٹیں ڈال دیں پردے ڈال دیے اب ان کو سیدھا راستہ دکھائی ہی نہیں دیتا دکھائی دے گا تو اس پر چلیں گے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔ وجعلنا من بین ایدیہم سدا اور بنا دی ہم بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک آڑ ومن خلفہم سدا اور ان کے پیچھے ایک آڑ فغشینہم پس ہم نے ان کو ڈھانپ دیا فہم لا یبصرون پس یہ لوگ دیکھ نہیں سکتے۔ ان کے تین معنی میں نے بیان کیے۔ انا جعلنا فی اعناقہم بھئی اس کے کتنے معنی بیان کیے؟ تین معنی بیان کیے ایک معنی تو یہ کہ یا تو اس سے یا تو یہ کہ کنایہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ نے حفاظت فرمائی ان سے بھئی۔ کیا کیا اللہ تعالی نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی تو یہ یا تو کنایہ ہے جو اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی۔ یا یہ بطور مثال کے ہے بھئی کہ یہ لوگ اس قدر تکبر میں مبتلا ہیں کہ تکبر کی وجہ سے گویا کہ ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں نیچے کی طرف یہ دیکھ ہی نہیں سکتے ان کو راہ حق دکھائی ہی نہیں دیتی تو تکبر کی وجہ سے ان کے سر اتنے اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں یہ جس طرح ایک شخص کے گلے میں طوق وغیرہ ڈال دیے جائیں اور پھر اس کا سر اوپر کو اٹھ جاتا ہے نیچے کی طرف وہ دیکھ ہی نہیں سکتا تو ان کو راہ حق دکھائی ہی نہیں دیتی اس تکبر کی وجہ سے ان کے سر اتنے اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں کہ یہ حق کو حق سمجھتے ہی نہیں حق کی طرف یہ آتے ہی نہیں وہ ان کو اس تکبر کی وجہ سے گویا انہیں حق دکھائی ہی نہیں دیتا۔ یہ دوسرا معنی بیان ہوا۔ اور تیسرا معنی کہ کہ قیامت کے دن کی ان کی یا قیامت کے دن کی ان کی حالت بیان ہو رہی ہے بھئی کہ ہم ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے تو وہ ان کی ٹھوڑیوں تک ہوں گے تو ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوں گے نیچے کو کر ہی نہیں سکیں گے۔ جس طرح دنیا کے اندر تکبر کی وجہ سے ان کے سر اٹھے ہوتے تھے اسی طرح قیامت میں ہم ان کو بیڑیاں بھی اسی طرح پہنائیں گے کہ یہ سر نیچے کو جھکا ہی نہ سکیں۔ تو تینوں معنی سمجھ میں آ گئے تو تیسرا معنی کیا ہوا؟ کہ قیامت کے دن ان کا یہ حال ہوگا۔ اور اس کو ماضی کے صیغے کے ساتھ تعبیر کیا گیا انا جعلنا کیونکہ اس کا وقوع نہایت یقینی ہے بھئی۔ بات تو مستقبل کی ہے لیکن چونکہ اس کا وقوع نہایت یقینی ہے تو اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر کر دیا گیا ماضی کے ساتھ اس کو ذکر کر دیا گیا کیونکہ جس طرح ماضی جو ایک گزری ہوئی بات ہوتی ہے اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوتا اسی طرح اس کے ہونے میں بھی کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے بھئی۔ وجعلنا من بین ایدیہم سدا اور بنا دیا ہم نے ان کے سامنے ہم بنا دی ہم نے ان کے سامنے ایک آڑ ومن خلفہم سدا اور ان کے پیچھے ایک آڑ فغش جی سامنے آڑ اور پیچھے آڑ بھئی یہ کنایہ ہے ہر طرف سے آڑ ہے بھئی صرف آگے پیچھے ہے دائیں بائیں نہیں ہے یہ معنی نہیں ہے بلکہ یہ کنایہ ہے ہر طرف سے ان کی آڑ کر دی گئی ہے۔ فغشینہم پس ہم نے ان کو ڈھانپ لیا ہے ڈھانپ لیا ہے۔ فہم لا یبصرون پس یہ دیکھ نہیں سکتے۔ تو ہر طرف سے ان کے آڑ کر دی گئی ہے فغشینہم پس ہم نے ان کو ڈھانپ لیا ہے یعنی اوپر کی طرف سے بھی آڑ کر دی گئی ہے فہم لا یبصرون پس یہ لوگ دیکھ نہیں سکتے۔ تو اس کے بھی تین معنی بیان ہوئے بھئی تین معنی بیان ہوئے۔ ایک معنی تو کیا کہ یہ کنایہ ہے وہ جو اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے گئے لیکن اللہ نے ان کے آگے پیچھے اوپر نیچے ہر طرف پردے ڈال دیے گئے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دکھائی ہی نہیں دیے تو وہ کنایہ ہے جو اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی۔ یا یا یہ بطور مثال کے ذکر کیا گیا بھئی بطور مثال کے کہ یہ لوگ جو ہیں ان کے جیسے ایک شخص کے آگے پیچھے اوپر نیچے ہر طرف آڑ کر دی جائے رکاوٹ کر دی جائے اور پھر اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا اسی طرح ان لوگوں کے بھی آگے یہ لوگ بھی اسی طرح ہیں جیسے کسی کے آگے پیچھے اوپر نیچے ہر طرف آڑ کر دی گئی ہو تو ان کو راہ حق دکھائی ہی نہیں دیتی دکھائی دے تو پھر چلیں اس پر۔ لیکن یہ اتنے تکبر میں مبتلا ہیں اس پیغمبر کی دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھے ہوئے ہیں کہ گویا کہ ان کے ہر طرف یہ اسی گویا یہ اسی طرح ہے جیسے کسی کے ہر طرف کیا کر دی گئی ہو آڑ کر دی گئی ہو اور اسے پھر کچھ نظر ہی نہ آ رہا ہو تو ان لوگوں کو بھی گویا کہ راہ حق نظر ہی نہیں آ رہی بھئی۔ یہ اپنی دشمنی میں اور اپنے تکبر میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ دوسرا معنی اور تیسرا معنی کہ یہ بطور یہ قیامت کے دن کا حال بیان ہو رہا ہے۔ جب ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا بھئی تو ان کے آگے پیچھے اوپر نیچے ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی اور آگ ہی آگ ہوگی۔ اور آگ کی دیواریں ہوں گی ہر طرف آگ کی رکاوٹیں ہوں گی آگ ہر طرف بھئی تو ان کو کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا ارد گرد بھئی ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی جو ان کو ڈھانپ لے گی ہر طرف سے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی یہی هو المرام واللہ أعلم بحقیقة الکلام۔