اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. يا ايها الناس انتم الفقراء الى الله والله هو الغني الحميد. ان يشأ يذهبكم ويأت بخلق جديد. وما ذلك على الله بعزيز. يا ايها الناس، اے لوگو! انتم الفقراء الى الله، تم محتاج ہو اللہ کی طرف، یعنی تم اللہ کے محتاج ہو۔ والله هو الغني الحميد، اور اللہ وہ بے نیاز ہے، قابل تعریف ہے۔ یا ايها الناس، اے لوگو! انتم الفقراء الى الله، تم محتاج ہو اللہ کے۔ والله هو الغني الحميد، اور اللہ وہ بے نیاز ہیں، قابل تعریف ہیں۔ ان يشأ يذهبكم ويأت بخلق جديد، ان يشأ، اگر وہ چاہے، يذهبكم، تمہیں لے جائے، ويأت، اور لے آئے، بخلق جديد، نئی مخلوق کو۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں لے جائے، یعنی تمہیں ختم کر دے اور نئی مخلوق کو لے آئے، یعنی نئی مخلوق کو پیدا کر دے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، اللہ کی قدرت بڑی زبردست۔ اللہ فرماتے ہیں، اگر اللہ چاہیں تو تمہیں ختم کر دیں اور نئی مخلوق کو لے آئیں۔ یعنی اللہ کے راستے پر چلو اور اللہ کے راستے پر چلو گے تو اجر ملے گا، اور اگر اللہ کے راستے، بتلائے ہوئے راستے پر نہیں چلو گے تو تمہیں آخرت میں سخت سزا کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور اللہ کی قدرت بڑی وسیع ہے، اگر وہ چاہے تو تم سب کو ختم کر دے اور تمہاری جگہ نئی مخلوق کو لے آئے، وما ذلك على الله بعزيز، اور نہیں ہے یہ اللہ پر عزیز، مشکل، یہ اللہ پر کچھ مشکل نہیں ہے یہ بات۔ اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ وما ذلك على الله بعزيز، اور نہیں ہے یہ اللہ پر مشکل، یعنی یہ اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے۔ ولا تزر وازرة وزر اخرى، وزر يزر کے معنی ہوتے ہیں بوجھ اٹھانا۔ وازرة، بوجھ اٹھانے والا، بوجھ اٹھانے والا، یہ صفت ہے نفس کی، اي نفس وازرة، اور نفس کا لفظ عربی میں مؤنث ہے تو صفت وازرة بھی کیا لائی گئی؟ مؤنث لائی گئی۔ اور وزر، وزر کہتے ہیں بوجھ کو بھئی، بوجھ کو۔ ولا تزر، اور نہیں بوجھ اٹھائے گی، وازرة، اي نفس وازرة، کوئی بوجھ اٹھانے والی جان، وزر اخرى، کسی دوسرے کا بوجھ۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان وہ بوجھ نہیں اٹھائے گی کسی دوسرے کا، یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ نہیں اٹھا سکے گا، ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ولا تزر وازرة وزر اخرى، اور نہیں بوجھ اٹھائے گی کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری کا بوجھ بھئی۔ ہر ایک کو اپنے اپنے گناہ اٹھانے ہوں گے، کوئی دوسرے کا گناہ نہیں اٹھائے گا۔ بھئی، اس آیت سے تو یہ معلوم ہوا کہ کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، لیکن دیگر آیات سے، بعض سے پتہ چلتا ہے کہ بعض کفار جو ہوں گے وہ اپنا بھی بوجھ اٹھائیں گے اور دوسروں کا بھی انہیں بوجھ اٹھانا پڑے گا، دوسروں کا بوجھ بھی انہیں اٹھانا پڑے گا۔ تو جواب یہ بھئی، کہ بھئی اس سے مراد وہ کفار ہیں جو گمراہی کو پھیلانے والے ہیں۔ ایک تو خود ہے گمراہ ہونا، ایک ہے دوسرے کو گمراہ کرنا۔ تو جہاں ذکر ہے کہ اپنے بوجھ کے ساتھ دوسرے کا بوجھ بھی اٹھائیں گے تو مراد اس کا بوجھ ہے جس کو اس شخص نے گمراہ کیا ہوگا، اپنا بھی بوجھ اٹھائے گا اور جس جس کو گمراہ کیا ہے اس کا بھی بوجھ اٹھائے گا۔ اور وہ بوجھ بھی دراصل ان کا بوجھ نہیں ہے، وہ اس کا اپنا ہی بوجھ ہے کیونکہ یہ گناہ اسی کا تھا، اسی نے کیا کیا تھا؟ گمراہ کیا تھا۔ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ جو گمراہ ہوئے ان پر بوجھ نہیں ہوگا، ان پر اپنا بوجھ تو ہوگا ہی ہوگا، لیکن ان کی گمراہی کا چونکہ یہ سبب بنا تھا، تو یہ اس کا اپنا عمل ہی ہے۔ لہٰذا ان کے گناہ ان پر بھی ہوں گے اور اس پر بھی اسی کے بقدر گناہ ہوں گے کیونکہ یہ ان کی گمراہی کا سبب تھا بھئی۔ سورت سمجھ میں آگئی؟ تو وہ بھی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا رہا بلکہ اپنا ہی بوجھ ہے، اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے، اس نے لوگوں کو گمراہ کیا تھا تو جو جو وہ گناہ کرتے چلے گئے، اسی کے بقدر اس کے نامۂ اعمال میں بھی لکھا جاتا ہے، اور پھر یہ سارا اس کو اپنے گناہ بھی اٹھانے پڑیں گے اور جن جن کی گمراہی کا باعث بنا ان کے گناہ بھی اٹھانے پڑیں گے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر پھر گناہ نہیں ہوگا، ان کو بھی ان کے اپنے عمل کا پورا پورا گناہ ہوگا اور وہ ان کو اٹھانا پڑے گا بھئی۔ معنى سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو اس سے مراد جو ہے کوئی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی دوسرے سے بوجھ ختم ہو جائے اور یہ اٹھا لے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ولا تزر وازرة وزر اخرى، اور نہیں اٹھا سکتا کوئی بوجھ اٹھانے والا وزر اخرى، کسی دوسرے کا بوجھ۔ وان تدع مثقلة الى حملها لا يحمل منه شيء ولو كان ذا قربى، وان تدع، اور اگر پکارے، مثقلة، مثقلہ ثقل سے ہے، بوجھ سے، مثقلہ بوجھل بھئی، جس پر بوجھ لادا گیا ہو۔ اثقل یثقل کے معنی بوجھ لادنے کے، تو اسی سے اس میں مفعول ہے مثقلة، اور یہ بھی صفت ہے نفس کی، اس لیے مؤنث لائی گئی۔ وان تدع نفس مثقلة، اور اگر پکارے کوئی ایسی جان جس پر بوجھ لادا گیا ہو، الى حملها، پکارے کس چیز کی طرف پکارے؟ الى حملها، اپنے بوجھ کی طرف بھئی، اس کے اٹھانے کی طرف، کہ کوئی اور اس بوجھ کو اٹھا لے، لا يحمل، تو نہ اٹھایا جائے، منه، اس سے، شيء، کچھ بھی۔ یعنی اگر بھئی قیامت کے دن ہر شخص اپنے اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوگا اور اگر کوئی بوجھ والا پکارے گا کسی دوسرے کو الى حملها اپنے بوجھ کی طرف، اس کے اٹھانے کی طرف، اپنے بوجھ کی طرف کسی کو پکارے کہ بھئی میرے سے یہ کچھ بوجھ اٹھا لو گناہوں کا، تو لا يحمل منه شيء، تو نہ اٹھایا جائے اس سے کچھ بھی، اس سے معمولی سا بوجھ بھی کوئی دوسرا نہیں اٹھا سکے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن باپ اپنے بیٹے کو پکارے گا کہ بیٹا، یہ بوجھ مجھ سے کچھ کم کر دو، اس میں سے کچھ تم اٹھا لو، بیٹا صاف انکار کر دے گا بھئی۔ اس دن ہر شخص کو اپنے اپنے جان کی فکر پڑی ہوگی، اتنا سخت منظر ہوگا کہ جسے کہتے ہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، تو وہ بیٹا صاف انکار کر دے گا باپ کے بوجھ کو اٹھانے سے۔ تو یہی اللہ فرما رہے ہیں، ولو كان ذا قربى، اگرچہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہو، رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ ولا تزر وازرة وزر اخرى، اور نہ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا وزر اخرى، کسی دوسرے کا بوجھ۔ وان تدع مثقلة، اور اگر پکارے کوئی بوجھل، کوئی بوجھ والا جس پر بوجھ لادا گیا ہے، الى حملها، اپنے بوجھ کی طرف، کہ اگر پکارے کسی کو، لا يحمل منه، تو نہ اٹھایا جائے اس سے، شيء، کچھ بھی، کچھ بھی اس سے نہیں اٹھایا جا سکے گا۔ ولو كان ذا قربى، اگرچہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہو، اگرچہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ انما تنذر الذين يخشون ربهم، انما تنذر، آپ تو ڈراتے ہیں، الذين، انہی کو، يخشون ربهم، جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے، بالغيب، بن دیکھے ہی، واقاموا الصلاة، اور قائم کرتے ہیں نماز۔ اے پیغمبر! آپ تو انہی لوگوں کو ڈراتے ہیں جو ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے بن دیکھے ہی اور نماز قائم کرتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اے پیغمبر! آپ تو صرف انہی کو ڈراتے ہیں جو اپنے پروردگار سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ بھئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر ایک کو ڈرانے والے تھے، ہر ایک جہنم کے عذاب سے، کفار کو، مشرکین وغیرہ، تو یہاں تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ تو صرف انہی کو ڈراتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں بن دیکھے ہی۔ یعنی دیکھے بغیر ہی ڈرتے ہیں۔ تو معنی یہ ہے کہ بھئی چونکہ آپ کے اس انذار سے، آپ کے اس ڈرانے سے صرف یہی لوگ نفع اٹھاتے ہیں، تو گویا صرف انہی کو ڈراتے ہیں، کیونکہ باقی تو نفع ہی نہیں اٹھاتے آپ کے ڈرانے سے، یہ نفع اٹھاتے ہیں، فائدہ اٹھاتے ہیں، اور اور زیادہ آخرت کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، یرحمک اللہ، اور زیادہ یہ آخرت کی طرف، یہ پہلے ہی ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے، نماز قائم کرتے ہیں، دین کے احکامات پر چلتے ہیں، پھر آپ کی طرف سے جب جنت کی نعمتوں کا سنتے ہیں اور آپ کی طرف سے جب جہنم کے عذاب کی باتیں سنتے ہیں تو ان کا خوف اور بڑھ جاتا ہے، ان کی عبادت اور اعمال کے اندر اور بہتری آ جاتی ہے، اور زیادہ یہ کوشش کرنے لگتے ہیں، تو آپ کے ڈرانے سے صرف یہی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں چونکہ، تو اس لیے صرف انہی کو ذکر کیا گیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ انما تنذر الذين، آپ تو انہی لوگوں کو ڈراتے ہیں، انما کا ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی حصر؟ انہی لوگوں کو ڈراتے ہیں، الذين يخشون ربهم، جو ڈرتے ہیں ربہم، اپنے پروردگار سے، بالغيب، بن دیکھے ہی، بغیر دیکھے ہی، انہوں نے دیکھا نہیں اپنے پروردگار کو لیکن بغیر دیکھے ہی ڈرتے ہیں، واقاموا الصلاة، اور نماز قائم کرتے ہیں۔ ومن تزكى، اور جو پاک ہوتا ہے، فانما يتزكى لنفسه، تو وہ اپنے ہی نفس کے لیے پاک ہوتا ہے۔ جو پاکی کو اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے پاک ہوتا ہے، اپنے ہی لیے، نفس ہی کے لیے پاکی کو اختیار کرتا ہے، یعنی اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا، کسی دوسرے کو نہیں پہنچے گا، تو جو بھی اپنے آپ کو پاک کرتا ہے، یعنی گناہوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتا ہے، تو اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا، تو وہ اپنے نفس ہی کے لیے پاک ہو رہا ہے، کسی دوسرے کو اس کا فائدہ، وہ دوسروں کے لیے نہیں ہے بھئی، وہ اپنا ہی فائدہ کر رہا ہے۔ ومن تزكى، اور جو پاک ہوتا ہے، فانما يتزكى لنفسه، تو وہ اپنے نفس ہی کے لیے پاک ہوتا ہے، وإلى الله المصير، اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، یعنی اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ‏وما يستوي الاعمى والبصير، اور برابر نہیں ہو ہو سکتے الاعمى والبصير، اندھا اور بینا بصیر دیکھنے والا، آنکھوں والا۔ وما يستوي الاعمى والبصير، اور برابر نہیں ہیں اندھا اور آنکھوں والے۔ اندھے، اندھا ایک شخص اندھا ہے ایک آنکھوں والا ہے، یہ دونوں برابر نہیں ہیں بھئی۔ تو مومن کی مثال ہے دیکھنے والے کی طرح، آنکھوں والا جو ہو، اور کافر کی مثال اندھے کی طرح ہے اور یقیناً اندھا اور دیکھنے، دیکھنے والے دونوں برابر نہیں ہیں۔ ولا الظلمات ولا النور، اور نہ تاریکیاں اور نہ نور، تاریکیاں اور نور برابر نہیں ہیں۔ تاریکیاں اور نور برابر، تاریکیاں اور روشنی برابر نہیں ہیں۔ کفر جو ہے وہ تاریکیوں کی طرح ہے اور ایمان جو ہے وہ نور کی طرح ہے اور یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ ولا الظل ولا الحرور، اور نہ سایا اور نہ دھوپ، حرور سورج کی تپش اور گرمی بھئی، حرارت سے ہے، یہ سورج کی تپش اور گرمی یعنی وہ دھوپ مراد ہے بھئی، تو ولا الظل ولا الحرور اور سایا اور دھوپ یہ برابر نہیں ہیں بھئی سایا اور دھوپ۔ یعنی جنت اور جہنم برابر نہیں ہیں بھئی، ظل کیا مراد ہے اس سے؟ جنت مراد ہے، حرور سے کیا مراد ہے؟ جہنم مراد ہے، یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ وما يستوي الاحياء ولا الاموات، اور برابر نہیں ہیں زندہ ولا الاموات اور نہ مردہ، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہیں۔ مومنین جو ہیں وہ زندہ ہیں اور کفار کس کی طرح ہیں؟ مردوں کی طرح ہیں۔ ان الله يسمع من يشاء، یقیناً اللہ سنواتے ہیں من يشاء جسے چاہتے ہیں۔ اللہ جسے چاہتے ہیں سنواتے ہیں۔ وما انت بمسمع من في القبور، اور نہیں ہیں اے پیغمبر آپ سنانے والے من ان کو فی القبور جو قبروں میں ہیں۔ اے پیغمبر جو قبروں میں ہیں آپ ان کو سنانے والے نہیں ہیں، یہاں پھر دیکھیے اسماع کی نفی ہو رہی ہے ساع کی نفی نہیں ہو رہی، کیونکہ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ واقعی جب ایک شخص مردہ ہے وہ تو سن ہی نہیں سکتا تو کوئی شخص اسے نہیں سنا سکتا، مگر کون سنواتے ہیں؟ اللہ سنواتے ہیں۔ تو اللہ فرما رہے ہیں وما انت بمسمع من في القبور اے پیغمبر آپ نہیں سنا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں، یعنی ان کو سنانا ہمارا کام ہے آپ کا کام نہیں۔ یہ دراصل تشبیہ ہے کفار کو کہ کفار کو نہیں سنوا سکتے، اللہ جس کو چاہتے ہیں سنواتے ہیں یعنی ہدایت دیتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں اللہ؟ جس کو چاہتے ہیں، پیغمبر آپ کا کام ہدایت دینا نہیں آپ کا کام صرف بتلانا ہے، ہدایت دینا اور نہ دینا یہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ تو آپ کیا معنی؟ اللہ کہ اللہ کیا فرما رہے ہیں آپ اللہ جسے چاہتے ہیں سنواتے ہیں، کیا مراد ہے اس سے؟ ہدایت دیتے ہیں اللہ جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں، اور آپ نہیں سنوا سکتے اس کو جو قبروں میں ہیں، کون مراد ہیں؟ کفار مراد ہیں یعنی آپ ان کفار کو ہدایت نہیں دے سکتے، آپ بلکہ ہدایت دینے والی ذات کون سی ہے؟ صرف اللہ کی ہے، تو کفار کو مردہ کہا اور مردے بھی وہ جو قبر کے اندر ہو، بالکل بند ہے، تو یہ ان کے ہدایت کو قبول نہ کرنے کو بتلایا کہ ان کی مثال مردوں کی طرح ہے اور مردے بھی عام مردے نہیں بلکہ جو کس میں ہوں؟ قبر میں ہوں، تو گویا دہری رکاوٹ آ گئی ان کے سننے میں اور ہدایت کے قبول کرنے میں کیا ہے؟ دہری رکاوٹ ہے، یہ سننا ہی نہیں چاہتے بات کو۔ وما يستوي الاعمى والبصير، اور برابر نہیں ہیں اندھا اور دیکھنے والا، ولا الظلمات ولا النور، اور نہ تاریکیاں اور روشنی، ولا الظل ولا الحرور، اور نہ سایا اور دھوپ، وما يستوي الاحياء ولا الاموات، اور برابر نہیں ہیں زندہ اور نہ مردہ، ان الله يسمع من يشاء، یقیناً اللہ سنواتے ہیں جسے چاہتے ہیں، اللہ سناتے ہیں جسے چاہتے ہیں، وما انت بمسمع من في القبور، اور آپ نہیں سنوا سکتے ان کو جو قبروں میں ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو کفار کس کی طرح ہیں مردوں کی طرح، اور مردے بھی وہ جو کس کے اندر بند ہوں؟ قبروں میں، قبر میں ہوں، تو دہری رکاوٹ ہے، یہ سننا ہی نہیں چاہتے، حق کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتے، آپ تو ہر طریقے سے دعوت دے دے کر تھک گئے، لیکن یہ کسی بھی درجے میں سننا نہیں چاہتے بھئی۔ ان انت إلا نذير، ان نفی کے لیے ہے۔ ان انت، نہیں ہیں آپ، إلا نذير، مگر ڈرانے والے، یعنی اے پیغمبر آپ کا کام صرف ڈرانا ہے ان کو آخرت سے، آخرت کا بتلانا ہے ان کو، جہنم کے عذاب سے ان کو باخبر کرنا ہے آپ کا کام، باقی ہدایت دینا اور نہ دینا یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان انت إلا نذير، نہیں ہیں آپ مگر ڈرانے والے ہی۔ انا ار، یعنی اب یہ تو نہیں ہیں آپ مگر ڈرانے والے، با محاورہ ترجمہ کیسے کریں گے؟ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں، یا آپ تو ڈرانے والے ہی ہیں۔ إنا ارسلناك بالحق بشيرا ونذيرا، یقیناً ہم نے بھیجا آپ کو حق کے ساتھ یعنی دین حق کے ساتھ، بے شک ہم نے آپ کو بھیجا دین حق کے ساتھ بشيرا ونذيرا اس حال میں کہ آپ خوشخبری دینے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں، خوشخبری دینے والے ہیں مومنین کو، اور ڈرانے والے ہیں کفار کو۔ إنا ارسلناك بالحق بشيرا ونذيرا، بے شک ہم نے آپ کو دین حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ وإن من امة إلا خلا فيها نذير، یہ بھی ان نفی کے لیے ہے، وإن من امة، اور نہیں ہے کسی امت میں سے، نہیں ہے کوئی امت، إلا خلا فيها مگر یہ کہ گزرا ان میں، نذير، ڈرانے والا۔ کوئی بھی امت نہیں ہے مگر یہ کہ اس میں ڈرانے والے گزرے ہیں بھئی، ان میں ڈرانے والا کون کیا مراد ہے؟ انبیاء، پیغمبر مراد ہیں، یا اسی طرح کوئی عالم دین بھئی، کوئی نہ کوئی ڈرانے والا گزرا ہے ہر ایک میں، ہر امت میں۔ وإن من امة، اور نہیں ہے کوئی امت، إلا خلا فيها نذير، مگر گزرا ہے ان میں ڈرانے والا۔ وإن يكذبوك فقد كذب الذين من قبلهم، وإن يكذبوك، اور اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ کو، فقد كذب الذين من قبلهم، تو تحقیق جھٹلایا ہے ان لوگوں نے من قبلہم جو ان سے پہلے تھے۔ اے پیغمبر آپ ان کے جھٹلانے پر رنجیدہ اور غمزدہ نہ ہوں، یہ ہمیشہ سے اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے، ہم نے جب بھی کسی پیغمبر کو کسی قوم میں بھیجا انہوں نے ہمیشہ کیا کی اس کی؟ تکذیب کی۔ وإن يكذبوك، اور اگر یہ لوگ جھٹلاتے ہیں آپ کو اے پیغمبر، فقد كذب الذين من قبلهم، تو تحقیق جھٹلایا ہے ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ جاءتهم رسلهم بالبينات، آئے ان کے پاس ان کے رسول، بالبينات، واضح نشانیوں کے ساتھ، یعنی معجزات وغیرہ لے کر آئے بھئی، ہر پیغمبر کو ہم نے کیا دیے؟ پیغمبروں کو ہم نے معجزات دیے تھے، وہ معجزات ہی کافی تھیں ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے، لیکن وہ ان معجزات کو بھی پھر جادو قرار دے دیتے تھے۔ جاءتهم رسلهم بالبينات، آئے ان کے پاس ان کے پیغمبر، بالبينات، واضح نشانیاں لے کر، وبالزبر، اور صحیفوں کے ساتھ، وبالكتاب المنير، اور روشن کتاب کے ساتھ۔ زبر جمع ہے زبور کی، زبور صحیفے کو کہتے ہیں بھئی، صحیفے کو، چھوٹی کتاب۔ اور تو بعض انبیاء کو صحیفے دیے گئے، بعض رسولوں کو صحیفے دیے گئے، اور بعض کو کتابیں دی گئیں، اور بڑی کتابیں آپ جانتے ہیں چار ہیں بھئی، تورات، زبور، انجیل، اور اور قرآن بھئی۔ تو انبیاء، کل رسل جو گزرے ہیں، رسول بھئی، کہتے ہیں 313 رسول گزرے ہیں کل بھئی، کل کتنے رسول گزرے ہیں؟ 313 رسول گزرے ہیں، باقی انبیاء تھے۔ اور کل صحیفے اور کتابیں جو ہیں ان کی تعداد 104 ہے بھئی، کل صحیفے اور کتابیں کتنی ہیں؟ 104 ہیں بھئی۔ تو رسول اسے کہتے ہیں جسے نبوت بھی ملی ہے اور کتاب بھی ساتھ ملی ہے بھئی، کتاب۔ تو اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ 313 رسول ہیں اور ہر ایک کو کتاب ملی تو کتابیں بھی 313 ہونی چاہئیں، لیکن کتابیں کتنی لکھتے ہیں علماء؟ 104۔ جواب یہ مولانا، کہ نئی کتاب کا نازل ہونا ضروری نہیں، وہی کتاب دوبارہ نازل ہو جائے تو وہ بھی رسول شمار ہوگا، اور یہ کتابیں یہی 104 جن میں کچھ صحیفے اور کچھ بڑی کتابیں ہیں، اور انہی کو بعض پیغمبروں پر دوبارہ نازل کیا گیا بھئی، تو اس اعتبار سے ان کی کتنی تعداد ہے؟ 313 بھئی، جو رسولوں کی تعداد ہے بھئی۔ تو وہ جاءتهم رسلهم بالبينات آئے ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر، وبالزبر اور صحیفوں کے ساتھ، وبالكتاب المنير اور روشن کتاب کے ساتھ۔ ثم اخذت الذين كفروا فكيف كان نكير، آگے اللہ فرماتے ہیں ثم اخذت الذين كفروا پھر پکڑ لیا میں نے ان لوگوں کو ان کو، كفروا جنہوں نے کفر کیا، پھر میں نے پکڑ لیا ان کو جنہوں نے کفر کیا، فكيف كان نكير، فكيف كان نكيري، یہاں یا جو ہے مضاف علیہ وہ محذوف ہے، اور اس پر نکیر میں جو را پر کسرہ آ رہا ہے وہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ تو کبھی کبھار آخر سے را کو حذف، آخر سے یا متکلم کو حذف کر لیا جاتا ہے اور مضاف کی آخری حرف پر جو کسرہ ہے وہ اس کے حذف پر دلالت کر رہا ہوتا ہے۔ فكيف كان نكيري، پس کیسا تھا میرا ان پر انکار؟ پس کیسا تھا میرا ان پر؟ یعنی کیسا تھا میرا ان پر عذاب؟ کیسے میں نے ان کو پکڑا، کیسے ان پر عذاب نازل کیا۔ ثم اخذت الذين كفروا فكيف كان نكير، پھر پکڑ لیا میں نے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا تھا، فكيف كان نكير، پس کیسا تھا میرا ان پر انکار؟ یعنی کیسا تھا میرا ان پر عذاب، کس طرح میں نے ان پر عذاب نازل کیا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔