اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ ۖ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ. قل، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے، یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے۔ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ، أَعِظُكُم، میں نصیحت کرتا ہوں، بِوَاحِدَةٍ، ایک چیز کی، ایک بات کی۔ اور إِنَّمَا آیا حصر کا فائدہ دیتا ہے، تو إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ، میں تو تمہیں ایک ہی چیز کی نصیحت کرتا ہوں۔ میں تو تمہیں ایک ہی چیز کی نصیحت کرتا ہوں۔ یہ 'ہی' جو لفظ آیا حصر کے لیے، یہ کس کا ترجمہ ہو رہا ہے؟ إِنَّمَا کا، بھئی۔ یہ إِنَّمَا نے یہ فائدہ دیا۔ قل، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے: إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ، میں تو تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں، أَن تَقُومُوا لِلَّهِ، یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے، مَثْنَىٰ، دو دو، وَفُرَادَىٰ، اور ایک ایک، ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا، پھر غور و فکر کرو۔ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ، نہیں ہے تمہارے ساتھی کو جنون۔ مَا بِصَاحِبِكُم، نہیں ہے تمہارے ساتھی کو، مِّن جِنَّةٍ، جنون۔ تمہارے ساتھی کو جنون نہیں ہے۔ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ، إِنْ نفی کے لیے ہے یہاں، حرف نفی ہے۔ إِنْ هُوَ، نہیں ہے وہ، إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم، مگر تمہیں ڈرانے والا، بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ، ایک سخت عذاب کے سامنے۔ نہیں ہے مگر وہ تمہیں ڈرانے والا ایک سخت عذاب کے سامنے، یعنی اس کے آنے سے پہلے، بھئی۔ ایک سخت عذاب جو آنے والا ہے، اس کے آنے سے پہلے ہی تمہیں ڈرانے والا ہے وہ۔ مشرکین کیا کہتے تھے؟ اور تو کسی طرح مقابلہ کر نہیں سکتے تھے تو پھر باتیں بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ جو شخص ہے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتے، یہ ان کو جنون ہے، جنون ہے۔ پہلے بھی ایک آیت میں ذکر ہو چکا، بھئی۔ کون سی آیت تھی؟ أَفْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ ۗ. کہ شخص یا تو اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کو جنون ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں کہ آپ پیغمبر! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ دو دو کر کے اور ایک ایک کر کے اور پھر غور و فکر کرو۔ کھڑے ہونے سے مراد کھڑا ہونا ہی نہیں ہے، مطلب تنہائی میں ذرا اکیلے غور کرو یا دو دو ساتھی مل کر غور کریں۔ زیادہ ہوں گے تو پھر تو ذہن کی تو یکسوئی کامل طور پر نہ رہے گی۔ ایک ایک دو دو وغیرہ یہ مل کر ذرا تنہائی میں غور کرو۔ اللہ کے لیے تنہائی میں جاؤ اور غور کرو پھر اس بارے میں کہ تمہارے ساتھی کو جنون نہیں ہے۔ جس کو جنون ہوتا ہے، وہ کوئی چھپا نہیں رہتا۔ یہ شخص جس نے کبھی ایسی کوئی بات کی نہیں اور جب تمہیں دعوتِ حق دینے لگا تو اب تم کہنے لگے ہو اس کو جنون ہے۔ آج تک تو تم اس کو صادق اور امین کہتے رہے ہو۔ سمجھ میں آیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور امانت داری دعوتِ نبوت سے پہلے ہی پورے مکہ کے اندر مشہور تھی، بھئی، اور وہ آپ کو صادق اور امین کہا کرتے تھے، بھئی، صادق اور امین۔ تو یہ شخص جس کو تم لوگ صادق اور امین کہتے تھے، ساری زندگی اس نے تم لوگوں کے درمیان گزاری اور کبھی اس سے پہلے تو تم نے ان کو مجنون نہیں کہا۔ مجنون تو کوئی چھپا نہیں رہتا، بھئی، جس کو جنون ہوتا ہے، وہ تو سب کو پتہ چل جاتا ہے۔ تو آج تک تم نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی اور اب جب تمہیں یہ دعوت دینے لگے ہیں، دینِ حق کی طرف بلانے لگے ہیں، شرک سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور تمہیں توحید کی طرف بلاتے ہیں تو اب تم کہتے ہو کہ ان کو جنون ہے؟ تم خود تنہائی میں ذرا جا کر غور و فکر کرو، یہ تم پر خود آشکارا ہو جائے گا اور پھر ان کی دعوت میں غور کرو۔ ترجمہ و مفہوم سمجھ میں آ گیا؟ یہ تو تمہیں ایک سامنے جو آنے والا عذاب ہے، اس کے آنے سے پہلے ہی تمہیں اس سے خبردار کر رہا ہے اور اس سے ڈرا رہا ہے کہ دیکھو، ایک سخت عذاب آنے والا ہے اور تم غلط راستوں کو چھوڑ کر صحیح راستے پر آ جاؤ، دینِ حق کی طرف آ جاؤ، تم اس عذاب سے بچ جاؤ گے۔ بلکہ اتنا انعام ملے گا، اتنا انعام ملے گا کہ تمہارے تصور سے بھی بالا ہے۔ قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے کہ میں تو تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں، أَن تَقُومُوا لِلَّهِ، کہ یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے، مَثْنَىٰ، دو دو۔ مَثْنَىٰ کا معنی دو نہیں صرف، دو دو۔ نحو میں پڑھا ہے یا نہیں، بھئی؟ مَثْنَىٰ، ثُلَاثَ، وَرُبَاعَ وغیرہ۔ مَثْنَىٰ، دو دو، وَفُرَادَىٰ، اور ایک ایک، ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا، پھر غور و فکر کرو۔ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ، نہیں ہے تمہارے ساتھی کو کوئی جنون، إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ، نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا، نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا۔ یہ تو میں لفظی ترجمہ کر رہا ہوں اور جگہ جگہ اس قسم کے نفی کے بعد إِلَّا آتا ہے تو با محاورہ پھر کیسے کریں گے؟ حصر کا معنی ہو، بھئی، ایسا جملہ لاؤ۔ إِنْ هُوَ، نہیں ہے وہ، إِلَّا نَذِيرٌ، مگر ڈرانے والا۔ ہاں، شاباش! وہ تو، وہ تو ڈرانے ہی والا ہے، وہ تو ڈرانے والا ہی ہے۔ وہ تو تمہیں ڈرانے ہی، وہ تو تمہیں ڈرانے ہی والا ہے، بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ، ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے۔ قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے، ان سے کہہ دیجیے: مَا سَأَلْتُكُم، وہ جو، یہ 'مَا' نفی کے لیے نہیں ہے، بھئی، یہ 'مَا' موصولہ ہے۔ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ، مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ، جو کچھ میں نے مانگا ہو تم سے، مِّنْ أَجْرٍ، کوئی اجر، میں نے اگر کوئی اجر تم سے مانگا ہو، فَهُوَ لَكُمْ، تو وہ تمہارا ہی ہوا، تمہارا ہی رہا۔ قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ. ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے، بھئی؟ کہ اے پیغمبر! ان سے کہہ دیجیے، اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہو، کوئی معاوضہ وغیرہ مانگا ہو، میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں، دینِ حق کی طرف بلا رہا ہوں اور تم اس کو قبول ہی نہیں کرتے۔ کیا میں نے تم سے کوئی معاوضہ مانگا ہے اس بات پر کہ تم اس کی طرف آتے ہی نہیں ہو؟ تو اور تم تم اس کی طرف آتے ہی نہیں ہو جیسے تمہاری جیب سے کچھ جا رہا ہو۔ اگر میں نے بالفرض کوئی معاوضہ مانگا بھی ہے تم سے تو وہ تمہارا ہی رہا، تم اپنے پاس ہی اس کو رکھو۔ قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے: مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ، وہ جو جو کچھ میں نے مانگا ہو تم سے کوئی معاوضہ، فَهُوَ لَكُمْ، تو وہ تمہارا ہی رہا۔ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ، نہیں میرے اجر مگر اللہ پر۔ میرا اجر دینے والی ذات تو اللہ ہی کی ہے جو آخرت میں بہترین اجر نصیب فرمائیں گے۔ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ، اور وہ ہر چیز پر حاضر ہے۔ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ، اور وہ اللہ ہر چیز پر حاضر ہے، ہر چیز پر گواہ ہے، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے، جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ شَهِيدٌ کے معنی گواہ کے بھی، شَهِيدٌ کے معنی حاضر کے بھی، شَهِيدٌ کے معنی دیکھنے والا، جو گواہ ہے تو وہ دیکھنے والا ہے۔ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ، اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے، وہ ہر چیز پر حاضر ہے یا وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ قُلْ إِنَّ رَبِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ یقیناً میرا پروردگار، وہ حق کو پھینک رہا ہے۔ قَذَفَ یَقْذِفُ کے معنی ہوتے ہیں زور سے پھینکنا کسی چیز کو۔ تو اللہ حق کو پھینک رہے ہیں باطل پر اور حق اس پر غالب آ رہا ہے، باطل کو مٹاتا جا رہا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ يَقْذِفُ بِالْحَقِّ، حق کو پھینک رہا ہے، یعنی کس پر؟ باطل پر۔ یعنی کیا مراد ہے؟ اس پر غالب کر رہے ہیں، اللہ حق کو باطل پر غالب کر رہے ہیں۔ قُلْ إِنَّ رَبِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ یقیناً میرا پروردگار حق کو پھینک رہا ہے باطل پر۔ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، خوب جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کو۔ یا دوسرا ترجمہ یوں کر لیں، ایک تو یہ ترجمہ کیا: حق کو پھینک رہا ہے باطل پر۔ دوسرا، کہ یقیناً میرا پروردگار يَقْذِفُ بِالْحَقِّ، حق کو برسا رہا ہے۔ حق کو پھینکنا یعنی کہ وہی برسانا، حق کو برسا رہا ہے۔ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، خوب جاننے والا ہے، الْغُيُوبِ، پوشیدہ چیزوں کو۔ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے، حق آ گیا، یعنی دینِ حق آ گیا، وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ، أَبْدَأَ یُبْدِئُ، شروع کرنا۔ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ، اور نہ تو باطل شروع کرتا ہے کسی چیز کو، وَمَا يُعِيدُ، اور نہ اس کو دہرا سکتا ہے۔ نہ تو باطل کسی چیز کو شروع کرتا ہے اور نہ اس کو دہرا سکتا ہے۔ یہ کنایہ ہے اس کے ہلاک ہونے سے۔ جیسے، بھئی، جو شخص ہلاک ہو جائے، مر جائے، وہ کوئی کام شروع بھی نہیں کر سکتا، اس کو دوبارہ دوبارہ بھی نہیں کر سکتا، تو اسی طرح باطل بھی کسی کام کو شروع نہیں کر سکتا اور دوبارہ نہیں کر سکتا، یعنی ہلاک ہو چکا، ہلاک ہو رہا ہے۔ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ، اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے، حق آ گیا، وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ، اور باطل نہ پہلی مرتبہ شروع کرنے والا ہے اور نہ اس کو دہرانے والا، یعنی باطل ہلاک ہونے والا ہے، ختم ہونے والا ہے۔ یعنی حق آ گیا اور باطل ہلاک ہو گیا۔ قُلْ إِن ضَلَلْتُ فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي. اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے۔ إِن ضَلَلْتُ، اگر میں گمراہ ہوں، اگر میں گمراہ ہوں، فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي، تو فَإِنَّمَا أَضِلُّ، تو میں تو گمراہ ہوتا ہوں عَلَىٰ نَفْسِي، اپنے ہی نفس پر۔ اپنے ہی، اے پیغمبر! ان مشرکین سے کہہ دیجیے۔ یہ مشرکین یہ کہتے ہیں نا کہ یہ شخص گمراہ ہو گیا ہے، یہ باپ دادا کے دین کو چھوڑ کر نئی چیزوں کی طرف ہمیں دعوت دیتا ہے، تو آپ ان سے کہہ دیجیے: إِن ضَلَلْتُ، اگر میں گمراہ ہوں، اگر یا اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں، فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي، تو میں اپنے ہی نفس پر گمراہ ہوتا ہوں، یعنی اس کا نقصان مجھی کو ہے، اس کا نقصان مجھی کو ہے، تم لوگوں کو تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔ تو فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي، تو میں گمراہ ہوتا ہوں عَلَىٰ نَفْسِي، اپنے ہی نفس پر، یہ تو لفظی ترجمہ۔ مراد کیا ہے؟ یعنی اس کا نقصان مجھے ہی ہے، تو ترجمہ یوں کر لیں: فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي، تو میں گمراہ ہوتا ہوں اپنے ہی نقصان کو۔ سمجھ میں آیا؟ ہمارے بعض علماء نے یہ بڑا پیارا ترجمہ کیا: فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي، کہ میں اپنے ہی نقصان کو گمراہ ہوتا ہوں۔ وَإِنِ اهْتَدَيْتُ، اور اگر میں ہدایت پر ہوں، فَبِمَا يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي، تو بوجہ اس کے، وہ جو وحی کرتا ہے إِلَيَّ، میری طرف، رَبِّي، میرا پروردگار۔ رَبِّي، یہ فاعل ہے يُوحِي کے لیے، أَوْحَىٰ يُوحِي، وحی کرنا۔ فَبِمَا يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي، پس بوجہ اس کے جو وحی کرتا ہے میری طرف میرا پروردگار۔ اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وجہ سے ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی کرتا ہے۔ إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ، یقیناً وہ سننے والا ہے، قریب ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا، بھئی؟ جی، قُلْ إِن ضَلَلْتُ فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي، اے پیغمبر! آپ ان سے کہہ دیجیے: إِن ضَلَلْتُ، اگر میں گمراہ ہوا ہوں تو فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي، تو اس، تو میں گمراہ ہوں اپنے ہی نقصان کو، وَإِنِ اهْتَدَيْتُ، اور اگر میں ہدایت پر ہوں، فَبِمَا يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي، تو یہ اس وجہ سے ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے، إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ، یقیناً وہ سننے والا ہے ہر بات کو، قَرِيبٌ، قریب ہے۔ وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ فَزِعُوا فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ. وَلَوْ تَرَىٰ، اور اگر آپ دیکھیں، إِذْ فَزِعُوا، جب وہ گھبرائیں گے۔ اے پیغمبر! اگر آپ دیکھیں جس وقت قیامت کے دن یہ مجرم لوگ گھبرائیں گے۔ إِذْ فَزِعُوا، جب وہ گھبرا جائیں گے، فَلَا فَوْتَ، تو چھٹکارا نہیں ہوگا، پھر وہ چھوٹ نہیں سکیں گے، گھبرا جائیں گے لیکن کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں ہوگی، اللہ کی پکڑ سے چھوٹ نہیں سکیں گے۔ فوت ہو جانا، چھوٹ جانا، رہ جانا۔ فَلَا فَوْتَ، تو پھر چھوٹنا نہیں ہوگا ان کے لیے، وَأُخِذُوا، اور پکڑے جائیں گے وہ، مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ، قریب کی جگہ سے ہی۔ کہ اے پیغمبر! اگر آپ دیکھیں تو بڑا ہی ہولناک منظر دیکھیں۔ جس وقت یہ مجرم لوگ گھبرا جائیں گے اور پھر کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں ہوگی اور قریب کی جگہ سے ہی پکڑ لیے جائیں گے، یعنی وہی پاس ہی پاس سے پکڑ لیے جائیں گے اور جہنم میں پھر ڈال دیے جائیں گے، بھاگ نہیں سکیں گے۔ وَلَوْ تَرَىٰ، اور اگر آپ دیکھیں، إِذْ فَزِعُوا، جب وہ گھبرا جائیں گے، فَلَا فَوْتَ، تو پھر بھاگنا نہیں ہوگا یا پھر چھٹکارا نہیں ہوگا، وَأُخِذُوا، اور وہ پکڑے جائیں گے، مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ، قریب کی جگہ سے ہی۔ وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ، اور وہ کہیں گے: ہم ایمان لے آئے اس پر۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، اس دینِ حق پر یا اس قرآن پر یا اس پیغمبر پر۔ ہم اس پر ایمان لے آئے۔ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ، اور کہاں سے ہوگا ان کے لیے التَّنَاوُشُ، پکڑ لینا؟ تناوش، یعنی کا معنی ہے تناول۔ تناول کہتے ہیں ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز پکڑنا۔ آپ کے سامنے ایک کتاب پڑی ہے، بھئی، آپ ہاتھ بڑھا کر اس کو اٹھا لیتے ہیں، اس کو کیا کہیں گے؟ تناول کہیں گے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: وہ اس وقت جب پکڑ لیے جائیں گے، جہنم سامنے ہے، بھاگ نہیں سکیں گے، کوئی چھٹکارے کی صورت نہیں ہوگی، زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور پکڑ لیے جائیں گے تو وہ کہیں گے: آمَنَّا بِهِ، ہم کیا کرتے ہیں، اس پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں، وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ، اور کہاں سے ہوگا ان کے لیے پکڑ لینا، یعنی اب کہاں سے ہوگا ان کے لیے پکڑ لے، ایمان کو یعنی پکڑ لینا، مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، دور کی جگہ سے؟ دور کی جگہ سے وہ کہاں پکڑ سکتے ہیں؟ بھئی، دیکھیے، آپ سے ایک چیز دور پڑی ہے اور آپ یہاں سے ہاتھ بڑھا کر اس کو پکڑنا چاہتے ہیں، سارا دن بھی لگے رہیں، جب ہاتھ ہی نہیں پہنچتا تو کبھی بھی نہیں پکڑ سکتے، بھئی، دور کی چیز کو۔ تو اللہ بھی فرما رہے ہیں کہ اب دور کی جگہ سے وہ ایمان کو پکڑنا چاہتے ہیں، ایمان کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ کہاں سے حاصل ہو سکتا ہے؟ ایمان لانے کی جگہ تو دنیا تھی، دنیا تو وہ پیچھے چھوڑ آئے، یہ تو آخرت ہے، یہاں تو جزا و سزا کا معاملہ ہوگا، یہاں وہ کہتے ہیں: آمَنَّا بِهِ، ہم کیا کرتے ہیں، اس پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں، کہاں سے یہاں ایمان ان کے ہاتھ آ سکتا ہے؟ معنی سمجھ میں آ گیا؟ وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ، اور وہ کہیں گے: ہم اس پیغمبر پر ایمان لے آئے، وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ، اور کہاں سے ہوگا ان کے لیے ہاتھ ہاتھ سے پکڑنا، مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، دور کی جگہ سے؟ یا وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، اور کہاں سے ہو ان کے لیے پکڑنا دور کی جگہ سے؟ ہاتھ کا لفظ پھر ترجمے میں رہنے دیں، میں نے معنی بیان کر دیا۔ تو تناوش کا معنی پکڑنا۔ تو وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، کہاں سے ہو ان کے لیے دور کی جگہ سے پکڑنا؟ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، اور کہاں سے ان کے ہاتھ آئے گا دور کی جگہ سے؟ کہاں سے ان کے ہاتھ لگے دور کی جگہ سے؟ تناوش کا معنی میں نے بتلا دیا ہاتھ سے پکڑنا۔ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، اور کہاں سے ان کے ہاتھ آئے دور کی جگہ سے؟ وَقَدْ كَفَرُوا بِهِ مِن قَبْلُ، اور تحقیق وہ انکار کر چکے ہیں اس کا، مِن قَبْلُ، اس سے پہلے۔ اب ایمان لاتے ہیں اور پہلے کیا کیا تھا؟ اس کا انکار کر چکے۔ وَقَدْ كَفَرُوا بِهِ مِن قَبْلُ، اور تحقیق وہ انکار کر چکے ہیں اس کا اس سے پہلے، وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، اور وہ پھینکتے تھے بِالْغَيْبِ، بن دیکھے، مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، دور کی جگہ سے۔ بھئی، کبھی کہتے تھے: یہ شخص جادوگر ہے، کبھی کہتے تھے پیغمبر کے بارے میں یہ جادوگر ہے، کبھی کہتے تھے یہ کاہن ہے، کبھی کہتے تھے یہ مجنون ہے، قرآن کے بارے میں بھی کبھی کہتے کہ یہ کیا ہے؟ جادو ہے۔ تو ایک چیز کا پتہ ہی نہیں تھا، دور سے ویسے ہی تیر چلایا کرتے تھے۔ تیر چلایا کرتے تھے۔ تو یہی بات اللہ بیان فرما رہے ہیں: وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ، اور وہ پھینکتے تھے بِالْغَيْبِ، بن دیکھے ہی۔ غیب یعنی پوشیدہ چیز، مراد کیا ہے؟ بن دیکھے، یعنی کہ جو چیز نظر نہیں آ رہی اور اس کو مار رہے ہیں کیسے؟ بغیر جانے پہچانے۔ وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، اور پھینکتے تھے بن دیکھے ہی مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، دور کی جگہ سے، یعنی بن دیکھے یعنی حقیقتِ حال کا علم نہیں ان کو اور بغیر، یعنی بغیر جانے ہی دور کی جگہ سے بس باتیں کرتے تھے، کبھی کہتے تھے یہ شخص کیا ہے؟ جادوگر ہے، کبھی کہتے تھے یہ شخص کاہن ہے، کبھی کہتے تھے کہ یہ شخص جو ہے یہ اس کو جنون ہے، وغیرہ، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ معنی ہے دور سے بن دیکھے پھینکتے تھے، یعنی بغیر حقیقت کو جانے یہ باتیں کیا کرتے تھے، باتوں کے یہ جو پھینکنا مراد ہے، وہ باتیں جو یہ کرتے تھے وہ مراد ہیں، بھئی، بغیر علم کے یہ کرتے تھے باتیں، طرح طرح کی، کبھی کچھ کہتے، کبھی کچھ کہتے، حقیقت کا پتہ نہیں ہے، جیسے ایک شخص بن دیکھے کوئی چیز نظر نہیں آ رہی اور اس کو اس پر تیر چلائے تو وہ تیر تو کبھی بھی نہیں لگے گا نشانے پر، تو یہ بھی اسی طرح بن دیکھے، بغیر حقیقتِ حال سے واقف ہوئے طرح طرح کی باتیں، طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ، اور پھینکتے تھے بن دیکھے ہی، مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ، دور کی جگہ سے، وَحِيلَ بَيْنَهُمْ، اور آڑ کر دی جائے گی ان کے درمیان، وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ، اور اس چیز کے درمیان، يَشْتَهُونَ، جسے وہ چاہتے ہوں گے۔ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ، اور آڑ کر دی جائے گی، رکاوٹ کر دی جائے گی ان کے درمیان اور اس چیز کے درمیان جس کو وہ چاہیں گے یا پردہ کر دیا جائے گا ان کے درمیان اور اس چیز کے درمیان جس کو وہ چاہتے ہوں گے، یعنی ایمان، بھئی، یا دنیا میں واپس آنا، وہ کیا چاہتے ہوں گے کہ اللہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج دے، اب ہم کیا کریں گے؟ ایمان لے آئیں گے۔ تو رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ، اور رکاوٹ ڈال دی جائے گی ان کے درمیان اور اس چیز کے درمیان جس کو وہ چاہتے ہوں گے، كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ، جیسے کہ کیا گیا بِأَشْيَاعِهِم، ان کے مشابہ لوگوں کے ساتھ، ان کے طریقے والوں کے ساتھ۔ اشیاع جو ان کے مشابہ تھے، جو ان کے طریقے والے تھے۔ جیسے کہ کیا گیا ان کے طریقے والوں کے ساتھ، مِن قَبْلُ، اس سے پہلے، یعنی جیسے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان آڑ ڈال دی گئی یا دنیا میں واپس جانے کے لیے، اس طرف جو ان کی خواہش تھی، اس میں آڑ ڈال دی گئی، اسی طرح ان کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ، یقیناً وہ ایسے شک میں تھے مُّرِيبٍ، جو تردد میں ڈالنے والا ہو، جو چین نہ لینے دیتا ہو۔ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ، یقیناً یہ لوگ جو تھے ایسے شک میں تھے جو چین نہ لینے دے۔ معنی سمجھ میں آ گیا، بھئی؟ چلیے، بس، بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔