أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ ۖ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا. یا ایها الذین امنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، لا تدخلوا بیوت النبی، تم نہ داخل ہو پیغمبر کے گھروں میں، الا ان یوذن لكم، مگر یہ کہ تمہیں اجازت دے دی جائے، الى طعام، کھانے کے لیے، کھانے کی دعوت دے دی جائے۔ ایمان والو! تم پیغمبر کے گھروں میں داخل نہ ہو، یعنی بغیر اجازت کے اس میں داخل نہ ہو، الا ان یوذن لكم، مگر یہ کہ تمہیں اجازت دے دی جائے، الى طعام، کھانے کی، غیر ناظرین اناه، اس حال میں کہ تم انتظار کرنے والے نہ ہو اس کھانے کے پکنے کا۔ اناہ، وہ ہا ضمیر راجع ہے طعام کو، اور انا مصدر ہے بھئی۔ انا ینی انیا و إنا، اس کا معنی ہوتا ہے کھانے کا تیار ہونا، پکنا۔ اور ناظر، ناظر کے جیسے معنی آتے ہیں دیکھنے والا، اسی طرح اس کے معنی ہیں انتظار کرنے والا بھی بھئی۔ غیر ناظرین اناه، اس حال میں کہ تم انتظار کرنے والے نہ ہو اناه، اس کھانے کے پکنے کا۔ ولكن إذا دعيتم، لیکن جب تم بلائے جاؤ، فادخلوا، پس تم داخل ہو جاؤ، فإذا طعمتم، پس جب تم کھا لو، فانتشروا، تم منتشر ہو جاؤ، پھیل جاؤ، یعنی اٹھ کر چلے جاؤ، ولا مستأنسين لحديث، اور جی نہ لگ، اور جی لگا کر بیٹھے نہ رہو لحدیث، باتوں میں۔ حدیث بات کو کہتے ہیں عربی زبان میں۔ حدیث کسے کہتے ہیں عربی زبان میں؟ بات کو کہتے ہیں اور پھر یہ خاص ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کے ساتھ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو باتیں ہیں، ان کو آج آپ کیا کہتے ہیں؟ حدیث کہتے ہیں۔ ولا مستأنسين لحديث، اور نہ جی لگا کر بیٹھے رہو باتوں میں۔ إن ذلكم كان يؤذي النبي، إن ذلكم، میں نے بتایا تھا آپ کو کہ یہ ذلكم یہ کیا ہے؟ اسم اشارہ ہے اور یہ كم اس کے ساتھ كاف حرفِ خطاب ملا ہوا ہے، صرف یہ بتلانے کے لیے کہ مخاطب کیا ہیں؟ جمع مذکر ہیں بھئی، جن سے بات کی جا رہی ہے اور اس کا معنی نہیں کیا جاتا۔ تو ذلكم اور ذلك کا ایک ہی معنی ہے، لیکن ذلك آئے تو معنی کیا ہے کہ مخاطب ایک مذکر ہے۔ ذلكم آئے تو معلوم ہوا مخاطب کتنے ہیں؟ دو ہیں، اور ذلكم آئے تو معلوم ہوا مخاطب جمع مذکر ہیں۔ إن ذلكم كان يؤذي النبي، بے شک یہ بات جو ہے تکلیف دیتی ہے پیغمبر کو، فيستحيي منكم، پس وہ شرم کرتے ہیں تم سے، والله لا يستحيي من الحق، اور اللہ شرم نہیں کرتے من الحق، حق بات سے۔ اللہ حق بات کہنے سے شرم نہیں کرتے۔ جی، ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ شانِ نزول اس آیت کا سن لیجیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں، ان کے بارے میں اللہ کی طرف سے حکم نازل ہوا کہ اے پیغمبر! پیچھے گزر چکا ہے، کہ ہم نے آپ کا نکاح کر دیا زینب بنت جحش سے بھئی، اور حضرت زینب پھر اس پر فخر فرمایا کرتی تھیں کہ میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر فرمایا۔ تو اللہ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے ان کا نکاح کر دیا، اور پھر ان کا جو ولیمہ تھا بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ولیمہ ایسا فرمایا کہ اس سے پہلے کسی پر نہیں فرمایا تھا، بکری ذبح کی صحابہ کے لیے اور گوشت وغیرہ بنایا، روٹی گوشت صحابہ کو کھلایا اور اس سے پہلے اس طرح نہیں تھا بھئی۔ اس سے پہلے ازواج میں اتنے، اس طرح کا ولیمہ نہیں فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھئی، آپ کو، آپ جانتے ہیں، پڑھتے ہیں کہ جو کچھ آتا تھا، آپ اسی وقت فقراء وغیرہ میں تقسیم کر دیتے تھے، کچھ ہوتا ہی نہیں تھا، کیا کھلاتے بھئی! ہاں، ان کے ولیمے کے موقع پر پھر آپ نے بکری ذبح فرمائی اور گوشت اور روٹی کے ساتھ دعوت کی صحابہ کی. تو یہ جب دعوت کی، حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ جو خادم تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو حضرت زید کی والدہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا، جو انصار کی داناترین عورتوں میں سے تھیں، انہوں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خادم کی ضرورت ہوتی، خادم کی ضرورت ہے، ہر کام کے لیے اٹھنا آپ کے لیے مشکل ہے، آپ کو اس سے تکلیف ہوتی ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں کہ اے اللہ کے پیغمبر! میرا یہ بیٹا ہے، 10 سال عمر تھی ان کے اس وقت حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کی، میرا یہ بیٹا ہے، بڑا سمجھدار ہے، یہ آپ کی خدمت کرے گا اگر آپ اجازت دیں۔ چنانچہ پھر وہ حضور، وفات تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت فرماتے رہے، یہ عظیم شرف ان کو اللہ نے نصیب فرمایا۔ تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ یہ اسی آیت میں آگے حجاب کا بھی ذکر آ رہا ہے، کہ یہ آیتِ حجاب بھی حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کے موقع پر یہ آیت اور یہ حکم نازل ہوا۔ اور اسی طرح یہ جو آیت ہے جس میں کیا کہا گیا مومنین سے کہ اے مومنین! پیغمبر کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر یہ کہ جب تمہیں کھانے کی اجازت دے دی، کھانے کے لیے داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے، اور اس حال میں کہ تم اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو، یعنی پہلے سے جا کر نہ بیٹھ جاؤ کہ کھانا پک رہا ہے اور تم لوگ پہلے ہی جا کر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگو، تو اجازت لے کر جاؤ، اور جب کھانا تیار ہو، اور جس وقت کھانا کھا لو تو پھر وہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ، وہی بیٹھ کر باتیں نہ کرتے رہو، باتوں میں جی لگا کر وہی بیٹھے نہ رہو۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعوت فرمائی، تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجتے تھے کہ جاؤ لوگوں کو بلا کر لاؤ کھانے کے لیے، وہ ایک ایک گھر جاتے اور صحابہ کو بلاتے تھے، جو جو آتے جاتے، کھانا کھا کر اٹھتے چلے جاتے۔ آخر میں کچھ لوگ بھئی آئے، وہ کھانا کھانے بیٹھے اور پھر بیٹھے ہی رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا یہ تو ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں، چھوٹے چھوٹے آپ کے گھر تھے بھئی، تو بیٹھے ہوئے ہیں، تو آپ نے یوں اس طرح کیا جیسے اٹھنے لگے ہوں بھئی، اٹھنے کی تیاری کر رہے ہوں۔ تو اس طرح آپ نے کیا، لیکن پھر بھی وہ لوگ بیٹھے رہے، تو پھر آپ مجبور ہو کر اٹھے بھئی، جب آپ اٹھے تو پھر باقی لوگ بھی اٹھ گئے، کھانا تو وہ کھا چکے تھے، ویسے بیٹھے تھے۔ تو وہ بھی اٹھ، اٹھ گئے اور چلے گئے، لیکن تین افراد ایسے تھے، وہ پھر بھی بیٹھے رہے۔ اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اندر گھر میں تشریف لے جانا چاہتے ہیں اور یہ بیٹھے ہوئے اندر بیٹھے باتیں کر رہے ہیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر باہر نکل گئے بھئی، باہر نکلے اور پھر کچھ دیر بعد آئے تو پھر بھی اس وقت تک بھی وہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ پھر باہر تشریف لے گئے۔ پھر کہتے ہیں حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ پھر اس کے بعد وہ آدمی اٹھ کر چلے گئے، تو میں نے آپ کو جا کر اطلاع دی، تو آپ تشریف لائے اور گھر کے اندر داخل ہوئے، میں بھی آپ کے پیچھے داخل ہونا چاہتا تھا آپ کے ساتھ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے بھئی، چھوٹے تھے، میں بھی داخل ہونا چاہتا تھا، تو آپ نے پردہ لٹکا دیا، یعنی اشارہ فرما دیا، میرے، منع، مجھے منع فرما دیا گویا کہ، تو پردہ لٹکا دیا آپ نے۔ اور پھر اسی میں وہ آیتِ حجاب بھی نازل ہوئی جو آگے اسی آیت میں آ رہا ہے، یہ حکم بھی نازل ہوا۔ تو دیکھیے، ان صحابہ کے بیٹھے رہنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی بھئی، تو فوراً اللہ کی طرف سے حکم نازل ہو گیا۔ جی، دیکھیے دوبارہ، اب واقعہ آپ کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھیے بھئی، يا أيها الذين آمنوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، لا تدخلوا بيوت النبي، تم نہ داخل ہو پیغمبر کے گھروں میں، یعنی بغیر اجازت کے داخل نہ ہو، إلا أن يؤذن لكم إلى طعام، مگر یہ کہ تمہیں کہ اجازت دی جائے تمہیں إلى طعام، کھانے کی، غير ناظرين إناه، اس حال میں کہ تم انتظار کرنے والے نہ ہو اس کھانے کے پکنے کا، یعنی پہلے سے جا کر نہ بیٹھو، جب پک جائے، تیار ہو جائے، تو پھر اجازت کے ساتھ جاؤ اور کھانا کھاؤ، اور جی، پھر اٹھ کر چلے جاؤ، دیکھیے آگے یہی اللہ فرما رہے ہیں، ولكن إذا دعيتم، لیکن جب تم بلائے جاؤ، فادخلوا، تو تم داخل ہو جاؤ، فإذا طعمتم، پس جب تم کھانا کھا لو، فانتشروا، تو منتشر ہو جاؤ، یعنی اٹھ کر چلے جاؤ، ولا مستأنسين لحديث، اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھے رہو، ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ غير ناظرين إناه، یہ غیر ناظرین یہ حال واقع ہو رہا ہے بھئی، اور حال منصوب ہوتا ہے، اسی لیے غیر ناظرین آیا بھئی، غیر پر کیا پڑھ رہے ہیں آپ؟ فتحہ پڑھ رہے ہیں، نصب پڑھ رہے ہیں، یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ يؤذن لكم، یہ جو لكم ضمیر ہے، اس سے یہ حال واقع ہو رہا ہے، اس حال میں کہ تم انتظار کرنے والے نہ ہو اس کھانے کے پکنے کا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بیٹھے رہنے سے تکلیف ہوئی بھئی، آپ اب گھر کے اندر جانا چاہتے ہیں اور وہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں بھئی، تو اللہ نے حکم دے دیا۔ ولا مستأنسين لحديث، اور تم جی لگا کر نہ بیٹھے رہو باتوں میں، بھئی! یہ، یہ بھی حال ہے، مستأنسين بھی کیا ہے؟ یہ حال واقع ہو رہا ہے، اس کا عطف اسی ماقبل میں جو حال آیا تھا، اس پر عطف ہے، یعنی ناظرین پر عطف ہے۔ غير ناظرين إناه وغير مستأنسين لحديث بھئی، تو یہ غیر کے تحت ہے، تو مستأنسين کا عطف کس پر ہوا؟ ناظرین پر، اور ناظرین غیر کے تحت ہے، تو یہ بھی کس کے تحت ہوا؟ غیر کے تحت ہوا، اور یہ جو اس کے ساتھ لا آیا، یہ لا زائد ہے بھئی، یہ لا کیا ہے؟ وہ کیوں؟ بھئی، وہ یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کہ غیر نفی کا فائدہ دے رہا ہے، اگر اس لا کو زائد نہ Mana جائے تو نفی پر نفی داخل ہوگی اور وہ کس چیز کا فائدہ دے گی؟ اثبات کا، تو اس کا معنی تو یہ ہو جائے گا باتوں میں جی لگا کر بیٹھے رہو بھئی۔ نفی پر نفی کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات کا، جیسے میں نے مثال بھی ذکر کی تھی، میں آپ سے کہتا ہوں زید نہیں آئے گا۔ زید نہیں آئے گا، دیکھو نفی کر رہا ہوں اس کے آنے کی، اس پر ایک اور نفی داخل کرو، ایسا نہیں ہے کہ زید نہ آئے، کیا معنی؟ وہ آئے گا، تو دیکھو نفی پر نفی داخل ہوئی تو وہ کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ اثبات، تو اس لیے یہاں لا زائد ہے اور اس کا عطف اسی پر ہے، یا یوں کر لیں۔ دوسری ترکیب یہ کہ یہی پر فعل کو محذوف نکال لیں بھئی، کس طرح؟ ولا تمكثوا مستأنسين لحديث، مکث کے معنی ٹھہرنے کے ہوتے ہیں، ثاء کے ساتھ ہے، ولا تمكثوا، اور تم نہ ٹھہرو، مستأنسين لحديث، اس حال میں کہ جی لگانے والے ہو تم باتوں میں، یعنی تم نہ ٹھہرو باتوں میں۔ جی لگاتے ہوئے، تم نہ ٹھہرو باتوں میں جی لگاتے ہوئے یعنی یعنی تم باتوں میں جی لگاتے ہوئے بیٹھے نہ رہو۔ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ, بے شک یہ بات جو ہے تکلیف دیتی ہے پیغمبر کو, فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ, پس وہ تم سے شرم کرتے ہیں۔ حضور علیہ السلام شرم فرماتے, حیا فرماتے تھے کہ صحابہ کو کہیں اب تم اٹھ کر چلے جاؤ بھئی۔ لیکن اللہ آگے فرماتے ہیں: وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ, اللہ حق بات کہنے سے شرم نہیں فرماتے۔ جی, یہاں تک مفہوم واضح ہو گیا اچھی طرح؟ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا, اور اے مومنو! وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ, جب تم مانگو ان عورتوں, ان ازواج سے, حضور علیہ السلام کی ازواج سے, مَتَاعًا, کوئی سامان۔ متاع کہتے ہیں سامان بھئی, کوئی چیز۔ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا, اور جب تم ان ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگو, فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ, تو تم ان سے مانگو پردے کے پیچھے سے۔ پردے کے باہر سے ان سے چیز مانگو۔ دیکھو یہ حجاب کا حکم آ گیا بھئی۔ اس سے پہلے پردے کا حکم نہیں تھا بھئی۔ یہ حکم کس موقع پر نازل ہوا؟ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح کے موقع پر یہ حکم نازل ہوا۔ تو اللہ فرماتے ہیں: وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا, جب تم مانگو ان ازواج سے کوئی سامان, فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ, تو تم ان سے وہ سامان مانگو مِن وَرَاءِ حِجَابٍ, پردے کے پیچھے سے۔ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ, یہ بات جو ہے زیادہ پاکیزہ ہے لِقُلُوبِكُمْ, تمہارے دلوں کے لیے, وَقُلُوبِهِنَّ, اور ان کے دلوں کے لیے۔ اس میں زیادہ پاکیزگی ہے کہ ان سے جب بھی کوئی چیز مانگو, پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ ہے آیت حجاب بھئی, یہ حکم حجاب ہے بھئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کرتے تھے کہ یا رسول اللہ! آپ کے پاس نیک و بد ہر قسم کے لوگ آتے ہیں, تو آپ اپنی ازواج کو حجاب کا حکم دے دیں کہ وہ ان سے پردہ کیا کریں۔ ہر قسم کے لوگ آپ کے پاس آتے ہیں, ان کا آنا مناسب نہیں ہے بھئی۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے تھے, کیونکہ آپ بغیر وحی کے کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ہمیشہ یہ تمنا رہتی تھی اور کئی, کئی بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا, لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے تھے۔ یرحمک اللہ۔ یہاں تک کہ پھر یہ حکم نازل ہوا بھئی اللہ کی طرف سے۔ تو کئی چیزیں ایسی, کئی باتیں جن میں جیسے ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے ہوتی تھی, اللہ ویسے ہی وحی نازل فرما دیتے تھے۔ یہ اللہ کے وہ بندے تھے جو, جنہیں, جنہیں اللہ نے ایسا ایمان دیا, ایسے انوارات اور ایسا نور نصیب فرمایا تھا کہ وہ بہت سی ایسی چیزوں کو ان کے واقع ہونے سے پہلے ہی اس نور کے ذریعے دیکھ لیا کرتے تھے اور اس کو محسوس کر لیا کرتے تھے۔ چنانچہ جیسے انہوں نے بار بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے, فرماتے تھے اور اللہ نے بھی پھر وہی حکم نازل فرما دیا۔ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ, یہ بات زیادہ پاکیزہ ہے تمہارے دلوں کے لیے اور ان ازواج مطہرات کے دلوں کے لیے۔ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ, اور نہیں ہے یہ تمہارے لیے, وَمَا كَانَ لَكُمْ, اور نہیں ہے یہ تمہارے لیے, یعنی یہ تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ وَمَا كَانَ لَكُمْ, اور نہیں جائز تمہارے لیے, أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ, کہ تم تکلیف دو رسول اللہ کو, وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ, اور نہ یہ کہ تم نکاح کرو ان کی بیویوں سے, مِن بَعْدِهِ, ان کے بعد, أَبَدًا, ہمیشہ۔ ابد ہمیشہ کے لیے آتا ہے بھئی, ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ ابد کا معنی کیا ہے؟ ہمیشہ کے لیے۔ اور نفی کے اندر پھر اردو میں اس کا ترجمہ "کبھی بھی" کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا, اور نہ یہ کہ تم کبھی بھی نکاح کرو ان کی بیویوں کے ساتھ ان پیغمبر کے بعد, یعنی ان کی وفات کے بعد تمہارے لیے یہ کبھی بھی جائز نہیں ہے کہ تم کیا کرو؟ ان کی بیویوں سے نکاح کرو, وہ تم سب کی مائیں ہیں بھئی۔ جس طرح وہ امت کی مائیں ہیں, پیغمبر روحانی باپ ہے, وہ روحانی مائیں ہیں, تو جب وہ ماؤں کی طرح ہیں تو پیغمبر کی وفات کے بعد ان سے نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ وَمَا كَانَ لَكُمْ, اور تمہارے لیے جائز نہیں ہے, أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ, کہ تم تکلیف دو اللہ کے رسول کو, وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ, اور نہ یہ کہ تم نکاح کرو ان کی بیویوں کے ساتھ, مِن بَعْدِهِ أَبَدًا, ان کے بعد کبھی بھی۔ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا, یقینا یہ جو ہے اللہ کے نزدیک بڑی, بہت بڑی بات ہے۔ بہت بڑی بات ہے کہ کیا کرو؟ پیغمبر کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو, اللہ کے نزدیک یہ عظیم گناہ ہے بھئی۔ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا, یقینا یہ بات جو ہے, یعنی پیغمبر کی بیویوں سے نکاح جو ہے, اللہ کے نزدیک عظیما, بہت بڑی بات ہے, یعنی بہت عظیم گناہ ہے۔ یہ ایک صحابی تھے, انہوں نے یہ بات کی تھی کہ حضور علیہ السلام کے بعد, حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد, بعض ازواج کے بارے میں, کسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ان سے نکاح کر لوں گا۔ تو اللہ کی طرف سے یہ حکم آ گیا: وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ, اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ تم پیغمبر کو اذیت دو۔ اس بات سے کیا ہوئی پیغمبر کو علیہ السلام کو؟ تکلیف ہوئی بھئی۔ اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اذیت دو اللہ کے رسول کو, وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ, اور نہ یہ کہ تم نکاح کرو ان کی بیویوں سے, مِن بَعْدِهِ أَبَدًا, ان کے بعد کبھی بھی۔ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمًا, یقینا یہ اللہ کے نزدیک بہت عظیم بات ہے, بہت بڑی بات ہے۔ تو وہ صحابی پھر اپنے اس قول پر بڑے نادم ہوئے اور کہتے ہیں انہوں نے غلام آزاد کیا, 10 اونٹ اللہ کے راستے میں انہوں نے دیے اور پیدل حج کیا بھئی, پیدل حج کیا۔ إِن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ, اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ, فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا, پس یقینا اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ تم کوئی چیز ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ, اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ یعنی یہ پیغمبر کی بیویوں سے نکاح کی بات زبان پر لاؤ یا دل میں چھپا کر رکھو, ہر چیز کو اللہ جاننے والے ہیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی کہ ایک عورت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا۔ نکاح کے بعد جب پہلی مرتبہ ان کے پاس تشریف لے گئے, تو کسی نے ان کو سکھا دیا کہ بھئی, جب پیغمبر آئیں تو تم یہ کہنا کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اس سے وہ بڑے خوش ہوتے ہیں اس بات سے۔ جب پیغمبر آپ کے پاس آئیں تو کیا کہنا؟ میں اللہ سے آپ کی پناہ چاہتی ہوں۔ چنانچہ نکاح ہو گیا, حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس خلوت میں تشریف لے گئے, تو وہ کہنے لگیں: میں آپ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دم رک گئے, فرمایا کہ تم نے ایک بہت بڑی ذات کی پناہ پکڑ لی ہے, اور ان کو آزاد کر دیا, چھوڑ دیا بھئی۔ وہ حیران ہوئیں, حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں, اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ وہ عمر بھر اس پر افسوس کرتی تھیں۔ اور پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں کسی سے انہوں نے نکاح کیا بھئی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ جن سے نکاح کیا, ان کو رجم کرنے کا ارادہ کیا۔ کیونکہ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ پیغمبر کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کرنے کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔ تو حضرت عمر نے بھی اس شخص کو رجم کرنے کا ارادہ کیا, لیکن پھر انہیں دوسرے صحابہ نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کا اگرچہ ان سے نکاح تو ہوا تھا, لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صحبت نہیں فرمائی تھی, اس سے پہلے ہی چھوڑ دیا تھا۔ تو پھر آپ بھی رک گئے اور اس کو رجم نہیں فرمایا اس شخص کو بھئی۔ لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ, لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ, نہیں کوئی حرج ان عورتوں پر, فِي آبَائِهِنَّ, ان کے باپوں کے بارے میں, یعنی ان سے پر, باقیوں سے تو پردے کا حکم آ گیا بھئی کہ جب بھی کوئی چیز مانگو, کوئی بات کرو, پردے کے پیچھے سے کرو, لیکن ان کے یہ جو قریبی محرم رشتے دار ہیں, ان میں ان پر کوئی حرج نہیں ہے, یہ ان کے لیے حجاب کے پیچھے سے بات کرنے کی انہیں ضرورت نہیں, یہ بغیر حجاب کے بھی بات کر سکتے ہیں۔ لَّاجُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ, کوئی حرج نہیں ہے ان ازواج مطہرات پر فِي آبَائِهِنَّ, ان کے باپوں کے بارے میں, وَلَا أَبْنَائِهِنَّ, اور نہ ان کے بیٹوں کے بارے میں, وَلَا إِخْوَانِهِنَّ, اور نہ ان کے بھائیوں کے بارے میں, وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ, اور نہ ان کے بھائیوں کے بیٹوں کے بارے میں, یعنی بھتیجوں کے بارے میں۔ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ, اور کوئی حرج نہیں ان پر ان کے بھتیجوں کے بارے میں, وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ, اور نہ ان کی بہنوں کے بیٹوں کے بارے میں, یعنی بھانجوں کے بارے میں۔ ان کے بارے میں بھی ان پر کوئی حرج نہیں ہے۔ وَلَا نِسَائِهِنَّ, اور نہ ان کی عورتوں کے بارے میں, نہ اپنی عورتوں کے بارے میں, مراد عام مسلمان عورتیں ہیں۔ تو ان کی اضافت ان کی طرف کی, ان کی اپنی عورتیں, کیونکہ وہ بھی مسلمان ہیں, وہ بھی اسی دین پر ہیں, یہ بھی اسی دین پر ہیں, اس لیے ان کی طرف اضافت کر دی گئی۔ اور کوئی حرج نہیں ہے ان پر ان کی اپنی عورتوں کے بارے میں, وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ, اور نہ وہ جس کے مالک ہیں ان کے داہنے ہاتھ, یعنی وہ جو ان کی مملوکہ باندیاں ہیں, ان کے بارے میں بھی ان پر کوئی حرج نہیں ہے۔ یعنی یہ جو جن کا ذکر ہوا, ان کے باپ ہیں, ان کے بھئی ہیں, ان کے بیٹے ہیں, ان کے بھتیجے ہیں, ان کے بھانجے ہیں, اور مسلمان عورتیں ہیں, اور جو باندیاں ہیں, ان کے بارے میں ان پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے لیے یہ پردے کے پیچھے سے بات کرنے کا حکم نہیں ہے, ان کے ساتھ بغیر حجاب کے بھی بات ہو سکتی ہے۔ جی, تو وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ, اس میں غلام اور ملکیت ایمانہن میں داخل تو دونوں ہو جاتے ہیں, غلام بھی اور باندیاں بھی, لیکن مراد اس سے صرف باندیاں ہیں بھئی, کیونکہ عند الاحناف ہمارے نزدیک عورت کو اپنے غلام سے بھی پردہ کرنا پڑتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اس کا اپنے غلام سے بھی پردہ ہوگا۔ وَاتَّقِينَ اللَّهَ, اور اللہ سے تم ڈرتی رہو, امر کا صیغہ ہے بھئی۔ وَاتَّقِينَ اللَّهَ, اور تم اللہ سے ڈرتی رہو, إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا, بے شک اللہ تعالی ہر چیز پر گواہ ہیں, یعنی ہر چیز کو دیکھنے والے ہیں۔ اللہ تعالی ہر چیز کو دیکھنے والے ہیں۔ لَّاجُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ, کوئی حرج نہیں ہے ان ازواج مطہرات پر فِي آبَائِهِنَّ, ان کے باپوں کے بارے میں, وَلَا أَبْنَائِهِنَّ, اور نہ ان کے بیٹوں کے بارے میں, وَلَا إِخْوَانِهِنَّ, اور نہ ان کے بھائیوں کے بارے میں, وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ, اور نہ ان کے بھتیجوں کے بارے میں, وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ, اور نہ ان کے بھانجوں کے بارے میں, وَلَا نِسَائِهِنَّ, اور نہ اپنی عورتوں کے بارے میں, وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ, اور نہ ان کی باندیوں کے بارے میں۔ وَاتَّقِينَ اللَّهَ, اور تم اللہ سے ڈرتی رہو, إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا, یقینا اللہ ہر چیز پر کیا ہیں؟ گواہ ہیں, ہر چیز کو دیکھنے والے ہیں۔ جی, ترجمہ سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی, هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔