اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ ۗ وَإِلَى اللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ. وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُ ۚ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ. نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ. وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ. اسلم، يسلم، اسلاماً۔ اس کے معنی فرمانبردار ہونے کے ہیں بھئی۔ وَمَن يُسْلِمْ، اور جو کوئی فرمانبردار کرتا ہے یعنی تابع کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ تابع کرتا ہے، مطیع کرتا ہے یا فرمانبردار کرتا ہے، جو بھی ترجمہ آپ کرنا چاہیں۔ اور جو کوئی مطیع کرتا ہے یا فرمانبردار— وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ، اور جو کوئی فرمانبردار کرتا ہے اپنے چہرے کو اللہ کی طرف وَهُوَ مُحْسِنٌ، یہ حال واقع ہو رہا ہے بھئی۔ کیا ہے؟ یہ حال واقع ہو رہا ہے يسلم کے اندر جو 'ہو' ضمیر ہے اس سے۔ اور جو کوئی مطیع کرتا ہے اپنے منہ کو اللہ کی طرف اس حال میں کہ وہ محسن یعنی نیکی کرنے والا ہو۔ احسن، يحسن، احسان کے کیا معنی ہیں؟ نیکی کرنا۔ وَهُوَ مُحْسِنٌ، اس حال میں کہ وہ نیکی کرنے والا ہو۔ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ۔ استمساک کے معنی ہوتے ہیں تھام لینا، پکڑ لینا۔ عروہ، عروہ کہتے ہیں کڑے کو بھئی، لوہے کا حلقہ بھئی، مضبوط حلقہ۔ وثقیٰ، مضبوط بھئی، مضبوط۔ تو عروہ کا معنی کڑا اور حلقہ۔ اور وثقیٰ کا کیا معنی؟ مضبوط بھئی۔ اور جو کوئی فرمانبردار کرتا ہے اپنے چہرے کو اللہ کی طرف وَهُوَ مُحْسِنٌ اس حال میں کہ وہ نیکی کرنے والا ہے فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ تو تحقیق اس نے تھام لیا مضبوط کڑا، تو تحقیق اس نے تھام لیا مضبوط حلقہ۔ سمجھ میں آئی بات؟ مضبوط حلقے کو تھام لیا اللہ کی طرف سے ہے جو اور جو اسے اللہ تک پہنچانے والا ہے، یعنی اور اب اسے گرنے وغیرہ کا کوئی خطرہ نہیں۔ جیسے ایک شخص پہاڑ پر چڑھ رہا ہو یا پہاڑ سے اتر رہا ہو تو اسے خوف لاحق ہوگا، لیکن اگر کوئی مضبوط حلقہ وہ تھام لے جو مضبوط رسی سے باندھا ہوا ہے اور مضبوط حلقہ ہے، تو پھر اس کو کسی قسم کا خوف نہیں رہتا۔ تو اسی طرح جو اللہ کے راستے پر چلتا ہے اور اپنے رخ کو اللہ کے تابع کر دیتا ہے، اللہ کے احکامات پر عمل کرتا ہے اور نیکی کرنے والا ہے یعنی کہ ایمان والا ہے، تو اب پھر اسے کسی قسم کا خوف نہیں رہتا بھئی۔ تو کہتے ہیں وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ، اور جو کوئی تابع کر دے اپنے رخ کو اللہ کی طرف۔ چہرے کے بجائے رخ کر لیں بے شک معنی۔ اور جو کوئی تابع کر دے اپنے رخ کو اللہ کی طرف وَهُوَ مُحْسِنٌ اس حال میں کہ وہ نیکی کرنے والا ہے فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ تو تحقیق اس نے تھام لیا مضبوط حلقہ وَإِلَى اللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ اور اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کا انجام ہے۔ عاقبت، انجام۔ اور اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کا انجام ہے یعنی تمام کام، تمام افعال اللہ ہی کی طرف بالآخر لوٹتے ہیں بھئی۔ وہیں پر پھر نیک و بد اعمال کا بدلہ ملے گا۔ وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُ، اور جو شخص کفر کرتا ہے فَلَا يَحْزُنكَ پس آپ کو غمگین نہ کرے۔ حزن، يحزن کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ غمگین ہونے کے۔ فَلَا يَحْزُنكَ، نہی آئی بھئی۔ غمگین نہ کرے کا، کاف ضمیر مخاطب کی، آپ کو یعنی اے پیغمبر! آپ کو غمگین نہ کرے کُفْرُهُ، یہ فاعل ہے يحزن کے لیے بھئی، اس کا کفر۔ وَمَن كَفَرَ، اور جو شخص کفر کرتا ہے فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُ پس اے پیغمبر! آپ کو غمگین نہ کرے ان کا کفر، یعنی آپ ان کے کفر پر غمگین نہ ہوں، غم نہ کریں۔ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ، ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹنا فَنُنَبِّئُهُم، تو ہم انہیں خبر دے دیں گے بِمَا عَمِلُوا، اس چیز کی جو عمل کیا کرتے تھے۔ پھر ہم انہیں خبر دے دیں گے وہ جو عمل کیا کرتے تھے، ہم سب کچھ اپنے پاس محفوظ کر رہے ہیں اور ہر عمل کا اس کے مطابق ہم بدلہ دیں گے۔ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ، ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے فَنُنَبِّئُهُم، پس ہم ان کو خبر دے دیں گے بِمَا عَمِلُوا، وہ جو عمل کیا کرتے تھے۔ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ، یقیناً اللہ جو ہیں وہ جاننے والے ہیں دلوں کی باتوں کو۔ ذات الصدور کا کیا معنی؟ دلوں کی باتیں، دلوں کے راز، دلوں کے بھید۔ یقیناً اللہ جو ہیں وہ جاننے والے ہیں دلوں کی باتوں کو۔ جو اللہ دل کی باتیں جانتا ہے تو کسی کا عمل اس سے کیسے پوشیدہ رہ سکتا ہے؟ نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا، متع، یمتع کے معنی نفع دینا۔ نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا، نفع دیں گے ہم ان کو تھوڑا سا، یعنی اس دنیا کے اندر تھوڑا سا ہم ان کو مہلت دیں گے، نفع اٹھا لیں، زندگی گزار لیں ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ، پھر مجبور کر دیں گے ہم ان کو ایک سخت عذاب کی طرف۔ غلیظ، سخت بھئی۔ ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ، پھر ہم مجبور کر دیں گے ان کو إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ، ایک سخت عذاب کی طرف یعنی جہنم میں ان کو داخل کر دیں گے، جہنم کی طرف ان کو لے جائیں گے۔ وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ، اور اگر آپ پوچھیں ان سے مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، کس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو؟ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ، تو البتہ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔ تو وہ ضرور کیا کہیں گے؟ اللہ نے پیدا کیا۔ اگر آپ ان سے پوچھیں، یہ مشرکین شرک کرتے ہیں اللہ کے ساتھ، انہوں نے معبودانِ باطلہ کو بنا رکھا ہے اور معبودانِ باطلہ کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ آپ ذرا ان، اگر ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو اس کا یہ بھی اقرار کہیں گے کہ زمین اور آسمان کو پیدا کس نے کیا ہے؟ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ، تو آپ کہہ دیجیے الحمد للہ۔ یعنی تم نے خود کیا کر لیا اپنے منہ سے اقرار کر لیا، تو خود ہی تمہارے خلاف حجت قائم ہو گئی کہ جب وہ زمین اور آسمان کو پیدا کرنے والی ذات ہے تو تمہیں اس کی عبادت کرنی چاہیے لیکن تم اس کو چھوڑ کر بڑی ہی ادنیٰ اور گھٹیا چیزوں کی عبادت کر رہے ہو۔ تو چونکہ ان کے اپنے منہ سے وہ ایک بات تسلیم کروا لی ہے، وہ خود مان گئے ہیں ایک چیز کو، قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ، آپ کیا کہہ دیجیے؟ الحمد للہ کہہ دیجیے، اللہ کا شکر ادا کیجیے۔ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، اللہ ہی کے لیے ہے وہ جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں۔ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ، یقیناً اللہ جو ہیں، یقیناً اللہ وہ بے نیاز ہیں، الحمید، قابلِ تعریف ہیں۔ یقیناً اللہ بے نیاز ہیں، قابلِ تعریف ہیں۔ اللہ بے نیاز ہیں بھئی، اللہ کو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے لیکن اللہ کو ان چیزوں کی کوئی حاجت نہیں ہے، کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ ان چیزوں سے بے نیاز ہیں، بے پروا ہیں۔ وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ، وَلَوْ أَنَّ مَا، اور اگر ہو وہ جو زمین میں ہے— وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ، اور اگر وہ جو فِي الْأَرْضِ زمین میں ہے مِن شَجَرَةٍ، درخت بھئی، درختوں سے، درختوں میں سے۔ اور وہ جو زمین میں درخت ہیں، یہ 'من' بیان ہے 'ما' کا بھئی۔ وہ جو زمین میں ہے، بھئی وہ کیا چیز زمین میں ہے؟ مِن شَجَرَةٍ، یعنی کہ درخت بھئی۔ یعنی کہ درخت بھئی۔ تو یہ 'من' کا ترجمہ 'یعنی کہ' کے ساتھ کرتے ہیں کیونکہ یہ 'من' بیانیہ ہے۔ اسی ماقبل میں ایک چیز گزری تھی، مبہم تھی، اس کا پتہ نہیں تھا، اس کو آ کر اس نے بیان کر دیا۔ مَا فِي الْأَرْضِ، وہ جو زمین میں ہے، کیا چیز ہے؟ مبہم تھی، بھام تھا، مِن شَجَرَةٍ نے اس کو کیا کر دیا؟ بیان کر دیا۔ تو ترجمہ کس سے کرتے ہیں؟ 'یعنی' سے، یعنی کہ درخت بھئی۔ بامحاورہ ترجمہ پھر یوں کر لیتے ہیں کہ یہ جو بیان ہے اس کو اس مبہم کی جگہ پر لے جاتے ہیں۔ 'ما' کی جگہ پر کیا لے آئیں؟ شجرہ لے آئیں۔ 'ما' سے کیا مراد ہے؟ شجرہ ہی تو مراد ہے، تو اسی کی جگہ پر لے جائیں۔ وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ، اور اگر وہ درخت جو زمین میں ہیں، اگر وہ یعنی وہ تمام درخت جو زمین کے اندر ہیں أَقْلَامٌ، وہ قلم ہوں۔ اقلام جمع ہے قلم کی۔ وہ تمام قلم ہوں وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ، اور سمندر يَمُدُّهُ، مد، یمد کے معنی ہیں بڑھانے کے بھئی۔ مد، یمد کے معنی ہیں بڑھانے کے بھئی۔ آیت میں اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر زمین کے اندر جتنے درخت ہیں مشرق و مغرب میں، شمال سے لے کر جنوب تک پوری زمین میں جتنے درخت ہیں ان سب سے قلم بنا لیے جائیں اور سمندر جو ہے یہ سیاہی ہو جائے اور پھر اس میں اور بھی بہت سارے سمندر، اتنے ہی بڑے بڑے سمندروں کا اضافہ کر دیا جائے تو وہ قلم لکھتے لکھتے گھس جائیں گے، وہ سیاہی استعمال ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گی لیکن اللہ کی عظمت اور اللہ کی جلال و کبریا اور اللہ کی جو صفات ہیں وہ کبھی ختم ان کا وہ ختم ہونے والی، اللہ کی عظمت اور جلال کی جو باتیں ہیں، اللہ کی صفات کی جو باتیں ہیں وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو دیکھیے اللہ کیا فرما رہے ہیں: اگر وہ جو زمین میں درخت ہیں وہ قلم ہوں وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ، اور سمندر جو ہیں، سمندر يَمُدُّهُ، مد، یمد کا کیا معنی میں نے بتلایا؟ بڑھانا، اضافہ کرنا۔ اور اسی سے لفظ ہے 'مداد' بھئی، مداد۔ مدادٌ کہتے ہیں سیاہی کو بھئی، روشنائی کو۔ سیاہی اور روشنائی جس کے ذریعے پھر لکھا جاتا ہے بھئی۔ تو عربی میں کہتے ہیں 'مد الدواۃ'، یعنی دواۃ میں سیاہی یعنی روشنائی بڑھا دی، مد الدواۃ۔ دواۃ وہ جس چیز کے اندر روشنائی ہوتی ہے، مد الدواۃ، دواۃ کو بڑھایا یعنی اس کے اندر روشنائی کو بڑھا دیا۔ تو یہاں پر اللہ تعالیٰ، ہونا تو یوں چاہیے تھا: وہ جو درخت ہیں، جتنے درخت ہیں زمین کے اندر وہ قلم ہوں وَالْبَحْرُ مِدَادٌ، اور سمندر کیا ہوں؟ سیاہی ہوں۔ لیکن کیا طریقہ اختیار کیا گیا؟ 'یمد' فعل استعمال کیا گیا تاکہ مد الدواۃ کا کیا معنی تھا؟ دواۃ کو بڑھانا، کیسے بڑھانا؟ یعنی اس میں اور روشنائی ڈالنا۔ تو دیکھو، ایسا لفظ استعمال کیا گیا جس میں اس بڑھانے کے معنی پر بھی دلالت ہو گئی اور سیاہی پر بھی دلالت ہو گئی، کیونکہ سیاہی کو کیا کہتے ہیں؟ مدادٌ۔ کیا کہتے ہیں؟ مدادٌ، اور اس کا بھی یہی مادہ ہے میم دال دال بھئی، جو یمد کا مادہ ہے میم دال دال۔ تو یہاں ایسا فعل ذکر کیا گیا جس نے دونوں کام کر دیے۔ اس کی سیاہی بڑھا دیں، اس کی اس کی سیاہی اس کی روشنائی بڑھا دیں۔ وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ، اور اگر جو درخت ہیں زمین کے اندر أَقْلَامٌ، وہ قلم ہوں وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ، اور سمندر جو ہیں يَمُدُّهُ، 'ہا' ضمیر بحر ہی کو راجع ہے۔ اس سمندر کو بڑھا، اس سمندر کی سیاہی کو بڑھا دیں، اس سمندر کی یعنی یہ سارے یہ سارا سمندر کیا ہو؟ سیاہی اور روشنائی ہو اور اس کی روش، اس کو بڑھا دیں مِن بَعْدِهِ، یہ 'ہا' ضمیر پھر بحر ہی کو راجع، اس کے، اس سمندر کے بعد۔ بائی، یاد رکھیے! زمین جو ہے، زمین پر چار حصے زمین کے کریں، تقریباً تقریباً ایک حصہ خشکی ہے اور تین حصے پانی، سمندر ہیں دنیا پر بائی۔ اور یہ ایک حصہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے اندر اربوں انسان بستے ہیں اور ان کی تمام ضروریات اس کے اندر پوری ہوتی ہیں اور اس کے باوجود کتنی جگہ وسیع پڑی ہوئی ہے۔ ایک بستی سے دوسری بستی تک اتنا فاصلہ ہوتا ہے، ایک شہر سے دوسرے شہر تک کتنا زیادہ فاصلہ ہوتا ہے۔ تو اتنی وسیع زمین ہے، لیکن سمندر جو ہیں یہ دنیا میں، یہ اس سے کے مقابلے میں تین گنا ہیں بائی، تقریباً تقریباً بائی۔ تو اتنا، سمندر پھر کتنے وسیع ہیں اور پھر ایک ایک سمندر بائی اس کی گہرائی، سینکڑوں فٹ میں نہیں، ہزاروں فٹ میں ہے، میلوں میں میلوں میں ایک ایک سمندر گہرا ہے۔ میل کا آپ سوچیں تو صحیح بائی! سر کے اوپر ایک، دو، تین میل تک پانی ہو، یہ کتنا اونچا ہوگا بائی! سمجھ میں آئی بات؟ اور اتنا پانی اور یہ جو آپ دیکھتے ہیں تالاب وغیرہ یا کوئی چیز ہو، تھوڑا پانی کھڑا ہو، یہ روشنی گزرتی ہے اس کی تہہ تک پہنچ جاتی ہے، آپ کو اس کی تہہ بھی دکھائی دیتی ہے۔ اور یہ اگر زیادہ جوں جوں گہرائی میں چلتے جائیں روشنی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ سمندر میں بھی تین چار سو میٹر تک روشنی جاتی ہے اور کم ہوتے ہوتے تین چار سو میٹر پر بالکل ختم ہو جاتی ہے، اس سے آگے پھر روشنی نہیں گزرتی بائی۔ اور پھر اس کے نیچے تاریکی ہی تاریکی ہے، بالکل سیاہی نیچے تک بائی۔ تو اتنے بڑے بڑے سمندر، اتنے بڑے سمندر اور اتنے گہرے! اس سارے کو کیا کر لو؟ سیاہی ذرا فرض کر لیں آپ بائی۔ سیاہی فرض کر لیں۔ اور پھر اللہ فرما رہے ہیں وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ، اس سمندر کی جو ہے، بڑھا دیں اس کی سیاہی کو مِن بَعْدِهِ، اس سمندر کے بعد سَبْعَةُ أَبْحُرٍ، سات اور سمندر بائی۔ یہ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ یہ فاعل ہے 'یمدہ' کا بائی، بڑھا دیں اس سمندر کو، کون بڑھا دیں؟ سات سمندر اور بڑھا دیں، یعنی ان کا اس میں اضافہ ہو جائے، معنی یہ ہے۔ مِن بَعْدِهِ، اس سمندر کے بعد، اس کے پیچھے یعنی یہ بھی ہو اور اس کے ساتھ سات اور سمندر بھی اس کی سیاہی کو بڑھا دیں۔ اور یاد رکھیے، سات کا عدد ذکر کیا گیا لیکن عدد یہاں مراد نہیں، کثرت مراد ہے۔ سات کا عدد کثرت کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسی طرح سبعین ستر کا عدد بھی کثرت کے لیے عربی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک شخص مثلاً کہتا ہے، میں نے یہ کام ستر مرتبہ کیا، تو اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ میں نے پورے ستر دفعہ کیا ہے بلکہ مراد عربی میں اس سے کثرت ہوتی ہے کہ میں نے بہت زیادہ مرتبہ یہ کام کیا۔ سورت سمجھ میں آ گئی بائی؟ جی۔ تو یہاں کثرت مراد ہے، یہ سو کو بھی شامل ہے یعنی 100 کو بھی، الف یعنی ہزار کو بھی شامل ہے، یعنی خوب کثرت مراد ہے۔ اس سمندر کے پیچھے اور یہ سمندر اس کی سیاہی کو بڑھا دیں اس کے پیچھے اور بہت سارے سمندر اتنے ہی بڑے بڑے، تو مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ، نفد ینفد، نفد ینفد کے معنی ہوتے ہیں ختم ہونا۔ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ، نہیں ختم ہوں گے اللہ، نہیں ختم ہوں گے اللہ کے کلمات، اللہ کی باتیں۔ تو ختم نہیں ہوں گی اللہ کی باتیں، یعنی اللہ کی عظمت اور جلال اور ان کی باتیں کبھی بھی ختم ہونے والی نہیں، کیونکہ یہ جتنے بھی سمندر آ جائیں، جتنے بھی قلم آ جائیں، یہ محدود ہیں اور اللہ کی ذات لامحدود ہے، وہ کبھی بھی ان کا، ان کا احاطہ یہ چیزیں نہیں کر سکتیں بائی۔ وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ، اور اگر وہ جو زمین میں درخت ہیں وہ قلم ہوں وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ، اور سمندر جو کہ بڑھا دیں اس کی، سمندر کی سیاہی کو اس کے پیچھے اور بہت سے سمندر مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ، نہیں ختم ہوں گے اللہ، نہیں ختم ہوں گی اللہ کی باتیں۔ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ، یقیناً اللہ زبردست ہیں، حکمتوں والے ہیں۔ مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ، نہیں ہے خلقکم تمہارا پیدا کرنا وَلَا بَعْثُكُمْ اور نہ تمہارا اٹھانا، یعنی جو قیامت میں دوبارہ اٹھایا جائے گا، دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ نہیں ہے تمہارا پیدا کرنا اور نہ تمہارا اٹھانا إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ مگر ایک ہی نفس کی طرح، ایک ہی جان کی طرح۔ اللہ کے لیے ایک کو ان تمام لوگوں کو زندہ کرنا بھی کس کی طرح ہے؟ ایک نفس کو زندہ کرنے کی طرح ہے، یعنی یہ کام کوئی اللہ کے لیے مشکل نہیں ہے کسی بھی درجے میں۔ مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ، نہیں ہے تمہارا پیدا کرنا اور نہ تمہارا اٹھانا، یعنی قیامت کے دن إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ مگر جیسے کہ ایک ہی نفس ہو۔ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ، یقیناً اللہ سننے، ہر چیز سننے والا ہے، بصیر ہر چیز دیکھنے والا ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ اے مخاطب! کیا تو نے دیکھا نہیں؟ أَلَمْ تَرَ، کیا تو نے دیکھا نہیں؟ أَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ، کہ اللہ جو ہیں وہ داخل کرتے ہیں رات کو فِي النَّهَارِ دن میں۔ اولج یولج ایلاج کے معنی داخل کرنا۔ اللہ جو ہیں وہ کیا تو نے اے مخاطب! کیا تو نے دیکھا نہیں؟ اللہ داخل کرتے ہیں رات کو فِي النَّهَارِ دن میں وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ، اور داخل کرتے ہیں دن کو رات میں۔ بائی، رات کو دن میں داخل کرنا اور دن کو رات میں داخل کرنا، کیا معنی؟ معنی یہ، بائی دیکھیے! گرمیوں کے اندر دن لمبا ہوتا ہے اور رات چھوٹی سی ہوتی ہے۔ مثلاً غروب ہو رہا ہے مثلاً تقریباً سوا سات بجے سورج غروب ہوتا ہے، مغرب کتنے بجے ہوتی ہے؟ سوا سات بجے ہوتی ہے۔ اور سردیوں کے اندر رات لمبی ہو جاتی ہے اور دن چھوٹا ہو جاتا ہے، تو اب سورج سردیوں میں مثلاً غروب ہوتا ہے تقریباً سوا پانچ بجے۔ تو دیکھیے! اب سورج غروب ہو رہا ہے سوا پانچ بجے اور گرمیوں میں کس وقت غروب ہو رہا تھا؟ سوا سات، تو یہ سوا پانچ سے سوا سات بجے کا جو وقت ہے، یہ دن کا حصہ تھا لیکن اب اس کو اللہ نے کس میں داخل کر دیا؟ رات میں داخل کر دیا، رات کا حصہ بنا دیا، یہ ہے رات کو دن میں داخل کرنا۔ دن، یہ دن کو، دن کو کس میں داخل کر دیا اللہ نے؟ رات میں داخل کر دیا اور پھر گرمیاں آئیں گی تو پھر اس رات کو کس میں داخل کر دیں گے؟ دن میں، اسی طرح صبح کے وقت میں بھی اسی طرح ہوتا ہے بائی۔ گرمیوں کے اندر سورج جلدی طلوع ہوتا ہے، فجر جلدی ہوتی ہے اور سردیوں میں دیر سے، تو دیکھو وہ وقت جو رات کا تھا، وہ گرمیوں میں وہ وقت کس کا بن جاتا ہے؟ دن کا حصہ بن جاتا ہے، تو یہ معنی ہے دن کو رات میں داخل کر دیتے ہیں اور رات کو دن میں داخل کرتے ہیں۔ مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ أَلَمْ تَرَ، اے مخاطب! کیا تو نے دیکھا نہیں أَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ کہ اللہ تعالیٰ داخل کرتے ہیں رات کو دن میں وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ اور داخل کرتے ہیں دن کو رات میں وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اور کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو۔ كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى، ہر ایک چل رہا ہے إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى، اجل وقت بائی اور مسمیٰ مقررہ۔ كُلٌّ يَجْرِي، ہر ایک جو ہے وہ چل رہا ہے إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ایک وقتِ مقررہ تک یعنی قیامت کے دن تک بائی۔ سورج کی اپنی حرکت ہے، چاند کی اپنی حرکت ہے بائی۔ تو دیکھیے، اس میں آیت میں کتنا واضح اشارہ صریح لفظوں ہی میں بتلا دیا گیا کہ سورج بھی حرکت کر رہا ہے اور چاند بھی حرکت کر رہا ہے بائی، چاند بھی حرکت کر رہا ہے۔ تو چاند حرکت، چاند کی حرکت تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اور اسی طرح بائی، سورج کی بھی کئی حرکتیں ہیں بائی۔ سورج اپنے محور پر بھی گھومتا ہے جیسے پنکھا اپنے محور پر گھومتا ہے، اسی طرح سورج اپنی جگہ پر گھوم رہا ہے، جس طرح لٹو اپنی جگہ پر گھوم رہا ہوتا ہے۔ سورج اپنی جگہ پر گھوم رہا ہے اور یہ تو اب باقاعدہ تجربات کے ذریعے ثابت ہوا۔ نیز سورج کے گرد نو یا 9، 10 سیارے جو ہیں جن میں زمین بھی ہے، یہ سورج کے گرد گھوم رہے ہیں اور پھر سورج ان سیاروں کے ساتھ کہکشاں کا حصہ ہے بائی۔ کہکشاں، سورج ایک ستارہ ہے، جس کی اپنی روشنی ہو اسے ستارہ کہتے ہیں اور جس کی اپنی روشنی نہ ہو اسے سیارہ کہتے ہیں۔ زمین کی اپنی روشنی نہیں، یہ سورج سے روشنی حاصل کرتی ہے، تو یہ سیارہ ہے اور سورج کی اپنی روشنی، تو یہ کیا ہے؟ ستارہ۔ تو باقی جیسے رات کو ہمیں ستارے دکھائی دیتے ہیں سورج بھی انہی میں سے ایک ہے، فرق صرف اتنا کہ سورج ہمارے بہت قریب ہے اور باقی ستارے ہم سے بہت دور ہیں بائی، اس لیے وہ چھوٹے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں اور سورج ہمیں بڑا دکھائی دیتا ہے۔ ورنہ یہ ستارے ان کے سامنے سورج کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اتنے بڑے بڑے ستارے اللہ نے بنائے ہیں کہ انسان حیران ہوتا ہے جو ان کے بارے میں آج سائنس کے ذریعے پتہ چلتا ہے بائی۔ یہ زمین کتنی بڑی ہے بائی! میں نے ابھی جیسے آپ کے سامنے بیان کیا، اربوں لوگ اس کے اندر بستے ہیں اور پھر بھی آپ کو یوں لگے گا کہ یہ شہر کے اندر تو آبادی ہے، شہر کے ارد گرد ساری کھلی جگہ پڑی ہوتی ہے میلوں تک بائی۔ اور ہر طرف جنگل، اسی طرح دنیا میں جنگل بھی ہیں، ریگستان بھی ہیں اور پہاڑ بھی ہیں اور تھوڑی سی آبادی، باقی ساری جگہ خالی پڑی ہوئی ہیں، اتنی وسیع دنیا ہے۔ اور سورج جو ہے یہ زمین سے 13 لاکھ گنا بڑا ہے بائی۔ 13 لاکھ کا تصور تو کریں بائی! اور پھر یہ جو ستارے ہیں، سورج ایک درمیانے درجے کا ستارہ ہے، اتنے بڑے بڑے ستارے ہیں کہ وہ سورج سے پھر لاکھوں گنا بڑے ہیں بائی، انسان حیران ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو پھر کسی وقت انشاءاللہ موقع ملا تو میں ذرا تفصیل بتلاؤں گا کہ یہ کائنات کتنی وسیع ہے اور انسان کی اس میں کیا حیثیت ہے، اللہ کی قدرت کتنی عظیم ہے۔ انسان جوں جوں ترقی کر رہا ہے اللہ کی مزید قدرت اور قدرتیں سامنے آ رہی ہیں اور انسان حیران رہتا ہے کہ ہماری کیا حیثیت رہ جاتی ہے اس کائنات کے اندر بائی! تو كُلٌّ يَجْرِي إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى، ہر ایک چل رہا ہے ایک وقتِ مقررہ تک۔ تو سورج بھی پھر ان سیاروں کو لے کر کہکشاں کے اندر حرکت کر رہا ہے، کہکشاں بھی اپنی جگہ پر پہیے کی طرح گھوم رہی ہے تو سورج بھی اس کے ساتھ ساتھ گھوم رہا ہے تو اس کی وہ حرکت بھی ہے بائی۔ وَأَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ، اور اللہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اس سے باخبر ہیں۔ جو تم عمل کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہیں، جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بائی۔ ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بالحقیقۃ الکلام۔