لیجزی الذین امنوا وعملوا الصالحات من فضله انه لا یحب الکافرین۔ ​پچھلی ایت میں اللہ فرما رہے ہیں، من کفر فعلیہ کفرہ، جس نے کفر کیا تو اسی پر اس کے کفر کا وبال ہے، ومن عمل صالحا اور جس جنہوں نے نیک عمل کیے، فلانفسہم یمہدون تو وہ اپنے ہی نفسوں کے لیے تیار کر رہے ہیں، یعنی جنت کو، اپنے ہی نفسوں کے لیے سنوار رہے ہیں۔ میں نے بتایا تھا مہد یمہد کے معنی ہوتے ہیں جو بستر کو بچھایا جاتا ہے، اس کو برابر کیا جاتا ہے۔ ​لیجزی الذین امنوا تاکہ بدلہ دے اللہ الذین ان لوگوں کو امنوا جو ایمان لائے وعملوا الصالحات اور جنہوں نے نیک عمل کیے من فضله اپنے فضل سے۔ تاکہ بدلہ دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے من فضله اپنے فضل سے۔ ​تو جو جنت اللہ عطا فرمائیں گے، یہ اللہ کا فضل ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اعمال کی وجہ سے جنت نہیں، کیونکہ اعمال تو اللہ نے اگر نعمت جتنی ہمیں نعمتیں دی ہیں، اگر ان نعمتوں کا ہی اللہ حساب لینا شروع کر دیں تو ہمارے تمام اعمال اسی میں ختم ہو جائیں، ہم ان نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتے پوری طرح بھئی۔ تو یہ اللہ کے فضل سے ہو گا۔ ​انه لا یحب الکافرین، بے شک وہ اللہ جو ہیں، لا یحب الکافرین وہ محبت نہیں رکھتے کافروں سے، پسند نہیں کرتے کافروں کو۔ ​ومن ایاته ان یرسل الرياح مبشرات، اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ان یرسل الرياح کہ وہ بھیجتا ہے ہواؤں کو مبشرات اس حال میں کہ وہ خوشخبریاں دینے والی ہیں، خوشخبریاں دینے والی ہوتی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہوائیں، خوشگوار ہوائیں بھیجتا ہے، خوشخبری دینے والی ہیں اور اس کے بعد بارش اللہ کی رحمت ہو گی، تو ہواؤں سے پہلے ہی اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ ​ومن ایاته اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ان یرسل الرياح کہ وہ بھیجتا ہے ہواؤں کو مبشرات، یہ حال ہے الرياح سے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حال، صفت نہیں ہے کیونکہ الرياح معرفہ ہے اور مبشرات نکرہ، الرياح پر الف لام داخل ہے وہ معرفہ ہے بھئی۔ تو یہ حال ہے، اور حال منصوب ہوتا ہے بھئی، تو مبشرات آپ یہ نہ سمجھیں اس وقت مجرور ہے، یہ جمع مؤنث سالم ہے اور جمع مؤنث سالم کا اعراب یعنی نصب آتا ہی کس کی صورت میں ہے؟ کسرہ کی صورت میں آتا ہے، تو یہ اس وقت نصب ہے اس کا، صورت کسرہ جیسی ہے۔ ​اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ان یرسل الرياح کہ وہ بھیجتا ہے ہواؤں کو مبشرات، اس حال میں کہ وہ خوشخبری دینے والی ہوتی ہیں۔ ​ومن ایاته اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ان یرسل الرياح مبشرات کہ وہ بھیجتا ہے خوشخبری دینے والی ہوائیں۔ تو یہ یوں بھی اس طرح ترجمہ کر لیں، کہ وہ بھیجتا ہے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھئی۔ سخت گرمی کا موسم ہو اور حبس ہو، شدید گرمی ہو، تو اس وقت جب ٹھنڈی ہوا آتی ہے تو اس کا کتنا لطف ہے بھئی! تو یہ خوشخبری سکون مل گیا اور گرمی سے راحت ہو گئی، اسی طرح ان ہواؤں کے ذریعے فصلوں پر اثر پڑتا ہے، فصلیں اچھی طرح پکتی ہیں اور انہی ہواؤں کے آگے اور بھی فائدے ہیں جو اللہ ذکر فرما رہے ہیں بھئی کہ اسی کے ذریعے سمندر میں کشتیاں چلتی ہیں، بادبانی کشتیاں، بادبانی جہاز جو ہیں ان کے ذریعے چلتے ہیں اور جو عام جہاز بھی ہوتے ہیں جو انجن وغیرہ کے ذریعے چلتے ہیں، ان میں بھی اگر ہوا مخالف ہو تو تکلیف دیتی ہے اور ہوا موافق ہو تو آسانی ہوتی ہے بھئی، تو وہاں بھی ہوا کے موافق چلنے سے آسانی ہو جاتی ہے بھئی۔ ​تو ومن ایاته اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے ان یرسل الرياح مبشرات کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے خوشخبری دینے والی، ولیذیقکم اور تاکہ چکھا دے تمہیں من رحمته اپنی رحمت میں سے، ولتجري الفلک بامرھ اور تاکہ چلیں کشتیاں بامرھ اس کے حکم سے، اور تاکہ کشتیاں چلیں اس کے حکم سے، ولتبتغوا من فضله اور تاکہ تم تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے، تاکہ تم تلاش کرو اللہ کے فضل سے، فضل میں سے۔ ​بھئی بادبانی کشتیاں، یہ ہواؤں سے کے مطابق چلتی ہیں، تو اور پھر ان کشتیوں اور جہازوں میں سوار ہو کر لوگ کیا کرتے ہیں؟ مچھلی کا شکار کرتے ہیں، تو دیکھو یہ بھی اللہ کے فضل میں سے ہے کہ اللہ مچھلی جیسی عظیم نعمت دیتے ہیں کھانے کے لیے ان کی وجہ سے، اور اسی طرح ان جہازوں کے ذریعے ہوائیں چلتی ہیں تو جہاز چلتے ہیں اور ان کے ذریعے پھر بحری تجارت لوگ کرتے ہیں، بحری تجارت۔ تو زیادہ تر تجارت ممالک کے درمیان جو ہوتی ہے وہ بحری راستوں سے ہوتی ہے بھئی، سمندر کے راستے بحری جہازوں کے ذریعے ایک ملک سے سامان دوسرے ملک پہنچتا ہے، اور ہوائی جہاز اس کے ذریعے تو بہت کم بھئی، وہ بہت مہنگا طریقہ ہے، زیادہ تر اس ہر ملک کی تجارت جو ہے یا تو زمینی راستے سے یا پھر سمندر کے راستے سے ہوتی ہے۔ ​تو یہ معنی ہے ولتبتغوا من فضله تاکہ بحری تجارت بھی کرو اور مچھلیوں وغیرہ کا شکار، مچھلیاں جیسی نعمت بھی حاصل کرو کھانے کے لیے۔ ​ولتبتغوا من فضله اور تاکہ تم تلاش کرو اللہ کے فضل میں سے، ولعلکم تشکرون اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔ ​ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الى قومہم فجاءوہم بالبینات، اور تحقیق ہم نے بھیجا من قبلک اے پیغمبر! آپ سے پہلے رسلا بہت سے رسول الى قومہم ان کی قوموں کی طرف، فجاءوہم پس وہ آئے ان کے پاس بالبینات واضح نشانیاں لے کر، ای بالایات البینات بھئی، واضح نشانیاں لے کر۔ ​فانتقمنا من الذین اجرموا، پس ہم نے انتقام لیا من الذین ان لوگوں سے اجرموا جنہوں نے جرم کیا بھئی، جنہوں نے گناہ کیے ان سے ہم نے انتقام لیا بھئی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے بھئی، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر! اگر یہ لوگ مشرکین مکہ وغیرہ آپ کو تکلیف دیتے ہیں، آپ پر ایمان نہیں لاتے اور ایمان نہیں لاتے، تو آپ اس پر غمگین نہ ہوں، آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے اور انہوں نے ان کی تکذیب کی، تو جنہوں نے جرم کیا تھا ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان پر اپنا عذاب نازل کیا بھئی۔ ​ولقد ارسلنا من قبلک رسلا الى قومہم، اور تحقیق بھیجا ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو الى قومہم ان کی قوموں کی طرف، فجاءوہم بالبینات پس وہ آئے ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر، فانتقمنا من الذین پس ہم نے انتقام لیا ان لوگوں سے الذین اجرموا جنہوں نے جرم کیا تھا، گناہ کیے تھے۔ ​وکان حقا علینا نصر المؤمنین، اور ہم پر حق تھا مومنوں کی مدد کرنا۔ اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارے اوپر حق تھا، یعنی لازم تھا۔ ​اللہ الذی یرسل الرياح، اللہ وہ ذات ہیں جو بھیجتے ہیں ہواؤں کو۔ اللہ الذی یرسل الرياح، اللہ وہ ذات ہیں جو بھیجتے ہیں ہواؤں کو، فتثیر سحابا، اثار یثیر کے معنی ہیں اٹھانا، اوپر اٹھانا۔ فتثیر سحابا پس وہ اٹھاتی ہیں بادلوں کو، سحاب بادل کو کہتے ہیں۔ اللہ وہ ذات ہیں جو بھیجتے ہیں ہواؤں کو فتثیر سحابا پس وہ ہوائیں اٹھاتی ہیں بادل کو، فیبسطہ فی السماء پس اللہ ان کو پھیلا دیتے ہیں آسمان کے اندر کیف یشاء جیسا وہ چاہیں۔ ہوائیں بادل اٹھاتی ہیں اور اللہ پھر ان بادلوں کو جس طرح چاہتے ہیں آسمان میں پھیلا دیتے ہیں۔ ​ویجعلہ کسفا، اور اس کو، کسف کہتے ہیں ٹکڑے کو بھئی، ٹکڑے ٹکڑے۔ تو مراد ہے تہہ بہ تہہ بھئی۔ ​ویجعلہ کسفا اور اللہ کر دیتے ہیں اس بادل کو پھر تہہ بہ تہہ، تہہ بہ تہہ کر دیتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کئی تہیں بن جاتی ہیں، کئی ٹکڑے بن جاتے ہیں۔ ​ویجعلہ کسفا اور کر دیتے ہیں اللہ اس کو تہہ بہ تہہ، فتری الودق پس آپ دیکھتے ہیں بارش کو، ودق بارش بھئی۔ فتری الودق پس آپ دیکھتے ہیں بارش کو یخرج من خلالہ کہ نکلتی ہے من خلالہ اس کے بیچ میں سے، اس بادل کے بیچ میں سے کیا نکلتی ہے؟ بارش بھئی۔ ​فتری الودق یخرج من خلالہ پس آپ بارش کو دیکھتے ہیں کہ وہ نکلتی ہے اس کے بیچ میں سے، فاذا اصاب بہ من یشاء من عبادہ اذا ہم یستبشرون۔ ​فاذا اصاب بہ پس جب اس کو پہنچاتے ہیں من یشاء جسے چاہتے ہیں من عبادہ اپنے بندوں میں سے اذا ہم یستبشرون تو تب وہ خوشیاں کرنے لگتے ہیں، خوشیاں منانے لگتے ہیں۔ ​استبشر یستبشر استبشار کا معنی ہوتا ہے ایک دوسرے کو خوشخبری دینا بھئی، کسی بات کی ایک دوسرے کو خوشخبری دینا، تو یستبشرون ایک دوسرے کو خوشخبریاں دیتے ہیں، تو کیا معنی ہوا یعنی کہ؟ خوشیاں بناتے ہیں، یستبشرون خوشیاں مناتے ہیں۔ ​ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ دوبارہ اس آیت کو دیکھ لیں: اللہ الذی یرسل الرياح اللہ وہ ذات ہے جو بھیجتے ہیں ہواؤں کو، فتثیر سحابا پس وہ ہوائیں اٹھاتی ہیں بادل کو، فیبسطہ فی السماء تو ضمیر، یہ صیغوں پہ نظر رکھنا، فتثیر، یہ ضمیر کس کو راجع؟ ہواؤں کو بھئی، اور آگے فیبسطہ، یہ ضمیر اللہ کو راجع۔ فتثیر سحابا پس اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں بادل کو، فیبسطہ فی السماء کیف یشاء پھر تو اللہ پھر پھیلا دیتے ہیں فی السماء اس بادل کو، فیبسطہ سحاب کو ھا ضمیر راجع، پس اللہ اس بادل کو پھیلا دیتے ہیں آسمان میں کیف یشاء جیسے وہ چاہے، ویجعلہ کسفا اور اللہ کر دیتے ہیں اسے تہہ بہ تہہ، فتری الودق پس آپ دیکھتے ہیں بارش کو یخرج من خلالہ کہ نکل رہی ہے اس کے بیچ میں سے، فاذا اصاب بہ پس جب پہنچاتے ہیں اس کو اللہ من یشاء جسے چاہتے ہیں من عبادہ اپنے بندوں میں سے اذا ہم یستبشرون تو اچانک وہ خوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ ​وان کانوا من قبل ان ینزل علیہم من قبلہ لمبلسین۔ ​وان کانوا، وان کانوا، یاد رکھیے یہ ان اصل میں ہے ان، ان۔ تو کبھی کبھار ان اور ان میں سے ایک نون کو حذف کر دیا جاتا ہے، ان میں دو نون ہیں نہ، مشدد ہے نون، تو کبھی ان اور ان سے ایک نون کو حذف کر دیا جاتا ہے، تو پھر اس کو کہتے ہیں مخففہ، اور جو شد جس پہ ہو اس کو کہتے ہیں مثقلہ، مثقلہ۔ تو یہ کیا ہوا؟ ان مخففہ من المثقلہ، مثقلہ سے مخففہ کیا ہوا بھئی۔ ​اور اس کا اسم، بھئی ان کس پر داخل ہوتا ہے؟ مبتدا اور خبر پر، اور آگے تو کانوا فعل آ رہا ہے، فعل پر تو یہ داخل نہیں ہوتا، تو اس کے لیے اس کا اسم محذوف ہے ھا ضمیر، انہ بھئی، انہ کانوا، ھا ضمیر۔ اور یہ ھا ضمیر، یہ ضمیر شان ہے بھئی، ضمیر شان۔ ​ضمیر شان یا ضمیر قصہ، آپ نے ہدایت النحو میں پڑھا ہو گا کہ بعض اوقات کلام میں ایک ضمیر لائی جاتی ہے اور پیچھے جس کا کوئی مرجع نہیں ہوتا، اور آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر بیان کرتا ہے کہ اس ضمیر سے کیا مراد ہے۔ آگے آنے والا جملہ کیا کرتا ہے؟ اس کی تفسیر بیان کرتا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔ تو یہ جو ضمیر جس کی تفسیر آگے آنے والا جملہ کرتا ہے، یہ اگر مذکر کی ہو تو اسے ضمیر شان کہتے ہیں، شان کا معنی حال، حال۔ شان کا کیا معنی ہے؟ حال، حالت بھئی۔ تو اور اگر یہی ضمیر مؤنث کی ہو تو اسی کو پھر ضمیر قصہ کہتے ہیں بھئی۔ تو مذکر کا بس نام الگ، مؤنث کا نام الگ، ورنہ ایک ہی چیز ہے کہ آگے آنے والا جملہ کیا کرتا ہے ان کی؟ تفسیر کرتا ہے۔ مذکر تب لاتے ہیں جب آگے آنے والے جملے میں مسند الیہ جو ہے جو اعلیٰ اور عمدہ ہے، وہ اگر مذکر ہو تو ضمیر بھی کیا لاتے ہیں؟ مذکر، اور اگر مؤنث ہو مسند الیہ تو پھر ضمیر بھی کون سی لاتے ہیں؟ مؤنث کی، تو اسے ضمیر شان کہتے ہیں مذکر ہو تو، اور مؤنث ہو تو ضمیر قصہ کہتے ہیں کہ قصہ یہ ہے، شان یہ ہے۔ ​اور بعض کہتے ہیں کہ یہ ان بمعنی قد کے ہے بھئی، انہ کی طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے بھئی، بعضوں نے کیا کہا؟ بعض مفسرین کیا فرماتے ہیں؟ یہ ان بمعنی قد کے ہیں اور انمعنی قد کے استعمال ہوتا ہے بھئی عربی میں۔ ای قد کانو من قبلی، تحقیق تھے اس سے پہلے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اگر انہو ضمیر شان بنائیں اس کو مخففہ من المثقلہ بنائیں تو وان ہو کانو، اور بےشک شان یہ ہے، کیا شان ہے؟ کیا حال یہ ہے، کیا حال ہے؟ آگے خود آرہا ہے کہ اس سے پہلے جو ان پر کہ یہ بارش نازل ہوتی اس سے پہلے یہ البتہ ناامید تھے بھئی۔ یہ حال ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ ضمیر شان۔ جیسے بھئی، قل ہو اللہ احد۔ اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے، ہو، شان یہ ہے، یہ ضمیر شان ہے۔ حال یہ ہے۔ کیا حال ہے؟ اللہ احد، اللہ یکتا ہیں، سمجھ میں، اللہ ایک ہیں۔ وان کانو من قبل ان ینزل علیہم من قبلہ لمبلسین، اور تو قد کے ساتھ آپ ترجمہ کر لیں آسان ہو جائے گا آپ کے لیے۔ ای وقد کانو، اور تحقیق وہ تھے من قبلی، قبل اس کے کہ ان ینزل علیہم، کہ بارش ان پر نازل کی جائے، بارش ان پر نازل کرنے سے پہلے، قبل اس کے کہ بارش ان پر نازل کی جاتی، من قبلہ، اس سے پہلے، یہ اسی پہلے جو من قبل، من قبل ان ینزل علیہم آیا، یہ اسی کی تاکید ہے بھئی۔ کیا ہے؟ اسی کی تاکید ہے، وہی لفظ جو پہلے آیا اور دوبارہ اسی کو ذکر کیا جائے تو اسے کیا کہتے ہیں بھئی؟ تاکید کہتے ہیں۔ تو من قبل ان ینزل علیہم پہلے آیا، تو یہاں بھی من قبل دوبارہ، تو یہ اس کی تاکید۔ اور یہ ہا ضمیر من قبلہ، یہ کس کو راجع ہے؟ یہ ہا ضمیر راجع ہے بھئی ان ینزل کے جو مصدر ہے، مصدر۔ تنزیل بھئی، نزل ینزل تنزیلا۔ ای من قبل التنزیلی، اس کے نازل کرنے سے پہلے بھئی۔ ماقبل کا بھی یہی ترجمہ ہے من قبل ان ینزل علیہم، ان پر نازل کیے جانے سے پہلے۔ لمبلسین، البتہ مایوس تھے۔ البتہ دیکھیے دوبارہ ترجمہ، وان کانو من قبل ان ینزل علیہم من قبلہ لمبلسین، اور تحقیق وہ تھے اس سے پہلے کہ بارش ان پر نازل کی جائے، مایوس۔ وہ اس سے پہلے کیا تھے؟ وہ اس سے بارش کے ان پر نازل کیے جانے سے پہلے یہ لوگ مایوس تھے بھئی۔ اور من قبلہ تاکید لائی گئی کہ یہ مایوسی کوئی بارش سے کافی پہلے نہیں تھی، عین بارش تک یہ کیا تھے؟ بارش سے پہلے تک، اس وقت تک کیا تھے؟ مایوس تھے، یہاں تک کہ بارش شروع ہو گئی۔ تو اس سے تاکید کہ یعنی یہ بتلانے کے لیے کہ یہ مایوسی اور بارش کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں تھا کہ پہلے مایوسی تھی اور پھر وہ ختم ہو گئی اور پھر کچھ دیر بعد کیا ہوئی؟ بارش، بلکہ بارش کے بالکل بارش کے شروع ہونے تک یہ کیا تھے؟ مایوس تھے۔ وان کانو من قبل ان ینزل علیہم من قبلہ لمبلسین، اور بےشک وہ بارش کے ان پر نازل کیے جانے سے پہلے تک مایوس تھے۔ فانظر الی آثار رحمت اللہ، پس اے، آپ دیکھیے الی آثار رحمت اللہ، اللہ کی رحمت کے نشانات کی طرف، اللہ کی رحمت کے آثار کی طرف۔ کیف یحی الارض بعد موتہا، کیسے اللہ زندہ کرتے ہیں زمین کو بعد اس کے مر جانے کے؟ ان ذلک لمحی الموتی وہو علی کل شیء قدیر، بےشک وہی اللہ جو ہے البتہ لمحی الموتی، زندہ کرنے والا ہے مردوں کو۔ پس آپ اپنے رب کی رحمت کے آثار کو دیکھیے کیسے وہ زمین کو مر جانے کے بعد یعنی اس کے خشک ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرتے ہیں، اس کو ہرا بھرا کر دیتے ہیں، یہی وہ، یہی اللہ جو زمین کو ہرا بھرا کرتے ہیں یہی اللہ کیا کریں گے؟ مردوں کو زندہ کریں گے، اس کے لیے کوئی کام مشکل نہیں، جو زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کر سکتا ہے تو وہ مردوں کو بھی مرنے کے لوگوں کے مرنے کے بعد بھی انہیں کیا کر سکتا ہے؟ زندہ کر سکتا ہے۔ وہو علی کل شیء قدیر، وہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ولئن ارسلنا ریحا فرأوہ مصفرا لظلو من بعدہ یکفرون، اور اگر ہم بھیجیں ہوا، اگر ہم بھیجیں ایک ہوا، فرأوہ، پس وہ دیکھیں کھیتی، ہا ضمیر راجع ہے کھیتی کو بھئی۔ فرأوہ، تو وہ دیکھیں اس کھیتی کو مصفرا، زرد ہے۔ اسفر یصفر اصفرار کے معنی ہیں زرد ہونا۔ پس وہ دیکھیں اس کھیتی کو کہ وہ زرد ہو گئی ہے، لظلو، تو البتہ ہو جائیں من بعدہ، اس کے بعد، یکفرون، انکار کرنا، انکار کرنے والے یا ناشکری کرنے والے، ناشکری کرنے والے۔ اس کے بعد وہ کیا ہو جائیں؟ ناشکری کرنے والے ہو جائیں، ہو جاتے ہیں۔ ولئن ارسلنا ریحا، اور اگر ہم بھیجیں ایک ہوا، فرأوہ مصفرا، پس دیکھیں وہ کھیتی کو زرد ہوتا، وہ کھیتی کو کیا دیکھیں؟ زرد ہوتا دیکھیں، زرد ہو گئی ہے، یعنی خراب ہو گئی۔ تو فرأوہ کی ہا ضمیر راجع ہے کھیتی کو بھئی، زرع کو زرع۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیچھے تو کہیں زرع کا ذکر نہیں آیا بھئی، کھیتی کا ذکر ہی نہیں ہے، اور ضمیر کے لیے تو کیا ضروری ہے؟ پہلے اس کا مرجع گزرا ہو بھئی۔ جواب یہ کہ ہاں لفظوں کے اندر اگرچہ کھیتی کا ذکر نہیں آیا لیکن سیاقِ کلام اس پر دلالت کر رہا ہے بھئی۔ پیچھے اللہ نے کیسے ذکر فرمایا کہ اللہ ہواؤں کو بھیجتا ہے، بارش برساتی ہیں وہ پھر بادلوں کو اٹھاتی ہیں، وہ آتے ہیں اور پھر بارش برساتی ہیں اور پھر اللہ کیا کرتے ہیں؟ مردہ زمین کو زندہ کر دیتے ہیں، سرسبز کر دیتے ہیں، ہرا بھرا کر دیتے ہیں، اس پر درخت اگاتے ہیں، جھاڑیاں اگاتے ہیں، فصلیں اگاتے ہیں، تو دیکھو سیاقِ کلام دلالت کر رہا ہے اس پہ بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ تو یہ ہا ضمیر کس کو راجع؟ زرع یعنی کھیتی کو راجع اور اس پر سیاقِ کلام دلالت کر رہا ہے، اس سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ولئن ارسلنا ریحا، اور اگر ہم بھیجیں ایک ہوا کو، فرأوہ، پس دیکھیں وہ کھیتی کو مصفرا، زرد ہوتا ہوا، لظلو، تو البتہ وہ ہو جائیں من بعدہ، اس کے بعد، یکفرون، ناشکری کرنے والے۔ اس کے بعد وہ ناشکری کرنے والے ہو جائیں بھئی۔ یعنی اللہ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کی ساری جو ہے چیزیں ان کی ہر غرض دنیاوی نفع کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، ہر غرض۔ دنیا میں ہم نفع دے دیتے ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں اور کوئی تکلیف آ جائے تو پھر فوراً ہی ناامید ہو جاتے ہیں، ناشکری کرنے لگتے ہیں، ہر چیز ان کے دنیاوی اغراض کے تابع ہے بھئی، حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ ہر آن میں اللہ کی طرف توجہ ہونی چاہیے، کوئی خوشی کی خوشی بھی آتی ہے، وہ خوشی دینے والے بھی اللہ ہیں، کوئی تکلیف آتی ہے، تکلیف دینے والے بھی اللہ ہی ہیں، تو خوشی آئے، خوشیاں آئیں یہ بھی اللہ کی طرف سے امتحان کہ بندہ میرا شکر کرتا ہے یا نہیں، غم آئے تو یہ بھی اللہ کی طرف سے امتحان کہ میرے اس غم پر یہ صبر کرتا ہے یا صبر نہیں کرتا، میں نے تو اسے صبر کرنے کا کہا ہے، یہ میرے حکم پر عمل کرتا ہے یا نہیں کرتا، اس کی توجہ میری طرف رہتی ہے یا نہیں رہتی؟ تو یہ سب اللہ کے امتحانات ہیں۔ اچھا بھئی، دیکھیے ولئن ارسلنا ریحا۔ ریح یہاں ہوا کا ذکر آیا اور اس ہوا کا کیا اثر ہوا؟ کھیتی زرد ہو گئی، خراب ہو گئی بھئی۔ تو جو عذاب اور تکلیف جو ہے اس کے لیے جو ہوا آئے اس کے لیے ریح کا لفظ عموماً استعمال ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جو عذاب والی آندھی وغیرہ ہے اس کے لیے کیا لفظ استعمال ہوتا ہے عربی میں عموماً؟ ریح کا، دیکھیے یہاں پر ولئن ارسلنا ریحا آیا بھئی اور اس سے وہ کھیتیاں کیا ہو گئیں؟ تباہ ہو گئیں، مطلب اس سے ان کی کھیتیاں تباہ ہو جائیں ذکر ہو رہا ہے۔ جبکہ جو خوشگوار ہوا ہو اس کے لیے عموماً عربی میں ریاح کا لفظ آتا ہے بھئی، ریاح کا۔ جیسے پیچھے آیا تھا ومن آیاتہ ان یرسل الرياح مبشرات بھئی، تو خوشگوار ہوا کے لیے کیا لفظ عموماً استعمال ہوتا ہے؟ ریاح کا، اور جو عذاب والی ہو اس کے لیے؟ ریح کا لفظ عموماً استعمال ہوتا ہے بھئی عموماً۔ فانک لا تسمع الموتی، پس بےشک آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو۔ ولا جی موتی، مردے۔ فانک، پس بےشک اے پیغمبر! آپ لا تسمع الموتی، نہیں سنا سکتے مردوں کو ولا تسمع الصم الدعاء، اور نہیں سنا سکتے بہروں کو الدعاء، پکار۔ بہروں کو اپنی پکار نہیں سنا سکتے۔ تو صم، موتی جمع ہے میت کی بھئی، موتی جمع ہے میت۔ اور صم، یہ جمع ہے اصم کی، اصم، اصم کہتے ہیں بہرے کو بھئی، تو یہ اس کی جمع ہے۔ اور ولا تسمع الصم الدعاء، اور آپ بہروں کو پکار نہیں سنا سکتے اذا ولو مدبرین، جب وہ اذا ولو، جب وہ پلٹ جائیں مدبرین، پشت پھیرتے ہوئے۔ جب وہ پلٹ جائیں پشت پھیرتے ہوئے، آپ بہروں کو اپنی پکار نہیں سنا سکتے۔ بھئی ایک تو بہرا ہے، وہ ویسے ہی آپ کی بات نہیں سنتا اور پھر اگر رخ آپ کی طرف ہو تو پھر بھی شاید کچھ نہ کچھ ہونٹوں کے اشاروں وغیرہ سے کوئی بات سمجھ جائے، اگر وہ بالکل پشت پھیر کر رخ ہی دوسری طرف کر لے تو پھر تو اب سمجھنے کی کوئی بھی صورت نہیں ہے بھئی، یہ معنی اذاولو، جب وہ پلٹ جائیں، مدبرین، پشت پھیرتے ہوئے۔ فان، تو یہاں دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے، یہاں مردوں کا سننا اور نہ سننا بھئی، اس پہ علماء کا آپس میں اختلاف ہے بھئی۔ بعض کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں بھئی اور بعض کیا کہتے ہیں کہ مردے نہیں سنتے۔ یاد رکھیے یہ اختلاف صحابہ کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ بعض صحابہ کیا فرماتے تھے کہ مردے سنتے ہیں اور بعض کیا فرماتے تھے کہ مردے نہیں سنتے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا وہ بھی فرماتی تھیں کہ مردے نہیں سنتے۔ ہر ایک کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں مولانا، ہاں زیادہ علماء اسی طرف گئے ہیں کہ مردے سنتے ہیں بھئی، زیادہ علماء کس طرف گئے ہیں؟ اور یہی ہمارا بھی یہی مذہب ہے، ہمارے نزدیک بھی مردے سنتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ مردے سنتے ہیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی کہ غزوہ بدر کے دن جب غزوہ بدر کے دن لڑائی ختم ہو گئی، کفار کو عبرتناک شکست ہوئی اور پھر کفار کے جو بڑے بڑے سردار تھے 20-25 ان کو ایک بدر کے ساتھ ہی ایک کنواں تھا اس مقام پر، اس کنویں کے اندر ان کو ڈال دیا گیا بھئی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے پاس تشریف لائے، صحابہ ساتھ ہیں بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان مردوں کی طرف سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ابو جہل! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! کیا تم نے اللہ کے وعدے کو سچا پایا کہ نہیں؟ کیا تم نے اللہ کے وعدے کو سچا پایا؟ میں نے تو اپنے پروردگار کے وعدے کو سچا پایا، اللہ نے میری مدد کی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! آپ مردوں سے بات کر رہے ہیں یہ تو مر چکے ہیں اب، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے اس وقت، یہ بھی اسی طرح سن رہے ہیں جس طرح تم سن رہے ہو، ہاں یہ ہے کہ اس وقت جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے، جواب نہیں دے سکتے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جواب نہیں دے سکتے۔ اسی طرح روایات میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی قبر کے پاس جاتا ہے تو وہ قبر والا اس کے قدموں جوتوں کی آواز بھی سنتا ہے، قدموں کی آواز بھی سنتا ہے اور قدموں کی آواز بھی سنتا ہے اور اگر دنیا میں اس کو پہچانتا تھا تو اس وقت بھی اس کو پہچان لیتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے یا یہ میرا بیٹا ہے یا فلاں ہے، پہچان لیتا ہے بھئی۔ تو بہرحال ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ مردے سنتے ہیں، باقی تفصیلی دلائل جو ہیں آپ اگلی کتابوں میں پڑھ لیں گے، ہمارا یہی عقیدہ ہے بھئی۔ اچھا جی، اب دیکھیے اب آیت کے اندر دیکھیے، فانک، یہ وہ دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں یہ آیت بھئی کہ اللہ کیا فرما رہے ہیں انک لا تسمع الموتی، آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ ہم کہتے ہیں یہاں ایک ہے سننا، ایک ہے سنانا، دونوں الگ چیزیں ہیں۔ ہاں انسان میں واقعی یہ قدرت نہیں ہے، ایک مردہ ہے اس کو کیسے سنائے گا؟ اللہ سناتے ہیں اپنی قدرت سے بھئی، انسان نہیں سنا سکتا۔ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے، کون سناتا ہے؟ اللہ سناتے ہیں۔ چلیے بس بھئی باقی پھر کریں گے، آپ کے استاد آ گئے ہیں، چلیے بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔