اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ يبدأ الخلق ثم يعيده ثم إليه ترجعون۔ ويوم تقوم الساعة يبلس المجرمون۔ ولم يكن لهم من شركائهم شفعاء وكانوا بشركائهم كافرين۔ اللہ يبدأ الخلق، اللہ ابتدا کرتے ہیں پیدائش کی، ثم يعيده، پھر اسے دہرائیں گے، ثم إليه ترجعون، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ اللہ پیدائش کی ابتدا کرتے ہیں پھر اس کو دہرائیں گے اور پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ یعنی پہلی مرتبہ اپ دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں دنیا کے اندر اللہ طرح طرح کی مخلوقات جو ہیں ان کی نسلیں چل رہی ہیں ان کی پیدائش ہوتی رہتی ہے پہلی مرتبہ، آگے اللہ فرما رہے ہیں پھر اللہ جس طرح اب پیدا کرتے ہیں اور اس پر قادر ہیں، اسی طرح اسی پیدائش کو آخرت میں پھر دہرائیں گے اور پھر حساب کتاب کا وہ نظام قائم ہوگا جس کے بعد جنت یا جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ويوم تقوم الساعة يبلس المجرمون، اور جس دن قائم ہوگی قیامت، يبلس المجرمون، تو ناامید ہوں گے مجرم۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو ناامید ہوں گے مجرم، ناامید ہوں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اب وہاں نہ ایمان لانے کی کوئی صورت اور نہ نیک عمل کرنے کی کوئی صورت، تو وہ اللہ کی رحمت سے پوری طرح ناامید ہو کر رہ جائیں گے بھئی۔ ويوم تقوم الساعة يبلس المجرمون، اور جس دن قائم ہوگی قیامت ناامید ہو جائیں گے مجرم۔ اَبْلَسَ يُبْلِسُ اِبلَاس کے معنی ہیں خیر سے پوری طرح ناامید ہو جانا بھئی، خیر خیر سے مکمل طور پر ناامید ہو جانا۔ امام راغب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اِبلَاس کہتے ہیں وہ سخت غم جو کسی کو لاحق ہو جائے مکمل ناامید ہونے پر، اسے کیا کہتے ہیں؟ اِبلَاس بھئی۔ تو بہرحال آپ یہی کر لیں ناامید ہونا جو پہلے میں نے کروایا آسان ترجمہ۔ ترجمہ آپ کو بس اچھی طرح آنا چاہیے ایک ایک لفظ کا بھئی۔ تو اسی سے ابلیس بھی ہے مولانا، اسی مادے سے ابلیس بھی ہے۔ ولم يكن لهم من شركائهم شفعاء وكانوا بشركائهم كافرين، اور نہیں ہوگا ان کے لیے من شركائهم ان کے شریکوں میں سے شفعاء کوئی سفارشی بھئی، سفارش کرنے والے۔ اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے سفارش کرنے والے، وكانوا بشركائهم كافرين، اور وہ ہوں گے اپنے شریکوں کا انکار کرنے والے۔ بھئی جن کو یہ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں بتوں وغیرہ کو، تو ان بتوں وغیرہ میں سے کوئی ان کی قیامت کے روز سفارش کرنے والا نہیں ہوگا اور یہ بھی جب دیکھیں گے کہ یہ تو ہماری کوئی کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتے تو پھر ان کے شریک ٹھہرانے سے ہی انکار کر دیں گے کہ ہم تو ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہی نہیں تھے بھئی۔ تو یہ معنی ہے وكانوا بشركائهم كافرين، اور وہ بھی اپنے شریکوں کا انکار کرنے والے ہوں گے۔ ويوم تقوم الساعة يومئذ يتفرقون، اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے، متفرق ہوں گے جدا جدا ہوں گے، مومنوں کے مومنوں کا الگ گروہ ہوگا اور کافروں کا الگ گروہ ہوگا بھئی۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے، اس دن لوگ متفرق ہوں گے۔ فأما الذين آمنوا وعملوا الصالحات، پس باقی وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، فهم في روضة يحبرون، تو وہ باغ میں خوش کیے جائیں گے۔ روضہ باغ بھئی، زمین کا وہ ٹکڑا جس کے اندر درخت بھی ہوں اور پانی بھی ہو بھئی پانی بھی ہو بھئی، تو مراد جنت ہے بھئی، جنت کے اندر بھی اسی طرح ہوگا، درخت بھی ہوں گے اور نہریں بھی بہتی ہوں گی بھئی۔ تو وہ باغا باغ میں یعنی جنت میں خوش کیے جائیں گے بھئی، یہ ترجمہ کر لیں۔ بعضوں نے کہا لکھا کہ يحبرون کا معنی ہے اکرام کیا جائے گا۔ فهم في روضة يحبرون، پس جنت میں ان کا اکرام کیا جائے گا، یعنی ان کی آؤ بھگت ہوگی۔ فهم في روضة يحبرون، پس جنت میں ان کی آؤ بھگت ہوگی۔ وأما الذين كفروا وكذبوا بآياتنا ولقاء الآخرة فأولئك في العذاب محضرون، اور باقی وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وکذبوا بآياتنا اور جھٹلایا انہوں نے ہماری آیتوں کو ولقاء الآخرة اور آخرت کی ملاقات کو یعنی قیامت کے دن کا، فأولئك في العذاب محضرون، پس یہی لوگ ہیں جو عذاب میں محضرون حاضر کیے جائیں گے۔ پس یہی لوگ ہیں جو عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔ بھئی پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ويوم تقوم الساعة يومئذ يتفرقون، جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے، اور آگے تفصیل بیان کر دی کہ جو نیک لوگ ہوں گے، اچھے عمل کرنے والے ہوں گے، باغات میں، جنت میں ان کی آؤ بھگت ہوگی، ان کا اکرام ہوگا، اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور قیامت کے دن کو جھٹلاتے رہے تو ان کو وہ عذاب دیے جائیں گے، وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔ فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، فسبحان الله، یہ مصدر ہے، مفعول مطلق ہے، اسی لیے منصوب ہے بھئی۔ تو اور اس کے لیے یہاں امر فعل محذوف نکالیں گے، اَی سَبِّحُوْا سُبْحَانَ اللہِ۔ سَبِّحُوْا سُبْحَانَ، یعنی تم لوگ اللہ کی پاکی بیان کرو۔ فسبحان الله، پس تم لوگ اللہ کی پاکی بیان کرو، حين تمسون، جب تم شام کرتے ہو، وحين تصبحون، اور جس وقت تم صبح کرتے ہو۔ ولله الحمد، اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے، في السماوات والأرض، آسمانوں میں اور زمین میں، وعشيا، اور سہ پہر کے وقت، سہ پہر کے وقت بھئی۔ عشِیّ زوال کے بعد سے لے کر شام تک کا وقت یہ عشِیّ کہلاتا ہے، اسی طرح سہ پہر کا وقت، پچھلا وقت جو ہے، وہ بھی اسے بھی عشِیّ کہتے ہیں۔ اور وعشيا، اور سہ پہر کے وقت، یا یوں کر لیں پچھلے وقت، وعشيا، اور پچھلے وقت، وحين تظهرون، اور جس وقت تم ظہر کرتے ہو۔ حين تمسون، اَمْسٰى يُمْسِیْ، مسا شام کو کہتے ہیں، اَمْسٰى يُمْسِیْ، جس وقت تم شام کے وقت میں داخل ہو گئے۔ اسی طرح اَصْبَحَ يُصْبِحُ کے معنی ہوتے ہیں صبح کے وقت میں داخل ہونا۔ اَظْهَرَ يُظْهِرُ کے معنی ہوتے ہیں ظہر کے وقت میں داخل ہونا۔ تو ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دوبارہ دیکھیے، فسبحان الله حين تمسون، پس اللہ کی پاکی بیان کرو حين تمسون جب تم شام کرو، وحين تصبحون اور جب تم صبح کرو، ولله الحمد في السماوات والأرض اور اللہ ہی کے لیے ہیں تمام تعریفیں آسمانوں میں اور زمین میں، وعشيا اور پچھلے وقت میں، سہ پہر کے وقت میں، اس وقت بھی اللہ کی پاکی بیان کرو، وحين تظهرون اور جب تم ظہر کرو۔ تو باقیوں سے فعل ذکر کیا گیا، تمسون جب تم شام کرو، تصبحون جب تم صبح کرو، اور تظهرون جب تم ظہر کرو، اور عشيا کو اس لیے اس طرح ذکر فعل نہیں لایا گیا کیونکہ اس سے فعل آتا ہی نہیں اس طرح کا کہ جس کا معنی کہ جب تم کس میں داخل ہو عشاء کے، تو اس سے فعل آتا ہی نہیں، عربی میں ہے ہی نہیں، استعمال ہی نہیں ہوتا، تو اس لیے اس کو عشيا اسی طرح ذکر کیا گیا بھئی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ان سے کسی نے پوچھا کہ قرآن میں پانچ نمازوں کا ذکر ہے؟ قرآن میں کہیں پر پانچ نمازوں کا ذکر ہے؟ تو فرمایا کیوں نہیں، اور یہ آیت پڑھی بھئی، فسبحان الله حين تمسون، اللہ کی پاکی بیان کرو، مراد ہے نماز پڑھو بھئی، کیا پڑھو؟ نماز پڑھو، حين تمسون، جس وقت تم شام کرو، اس میں مغرب اور عشاء کی نماز آ گئی بھئی، وحين تصبحون، اور جب تم صبح کرو، اس میں فجر کی نماز آ گئی، وعشيا، اور اس میں عصر کی نماز آ گئی، وحين تظهرون، اس میں ظہر کی نماز بھئی، تو اس سے ظہر کی نماز مراد ہے۔ تو پانچوں نمازیں ذکر ہو گئیں بھئی۔ اور عشيا، عصر کے کو مقدم کیا گیا حين تظهرون پر، رعایتِ فاصلہ کے لیے، کس کے لیے؟ رعایتِ فاصلہ۔ بھئی دیکھیے، آیتیں دیکھیے ایک جیسے حروف پر، ایک جیسے وزن پر ختم ہوتی ہیں، اس کو رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں۔ آپ عام کتابوں کے اندر بھی کلام دیکھتے ہیں، مصنف بعض جگہ کیا کرتے ہیں؟ ایسے چھوٹے چھوٹے جملے لاتے ہیں کہ جن کا اختتام ایک جیسے حروف پر ہوتا ہے اور وزن ایک جیسا ہوتا ہے آخر میں، تو عام کلام میں ہو تو اس کو کہتے ہیں رعایتِ سجع۔ س ج ع، سجع، سمجھ میں آیا؟ تو رعایت اس کو رعایتِ سجع کہتے ہیں، لیکن قرآن میں اسی طرح ہے تو قرآن میں اس کو رعایتِ سجع نہیں کہیں گے بلکہ اس کو رعایتِ فاصلہ کہیں گے، ص کے ساتھ ہے فاصلہ، رعایتِ فاصلہ۔ ادب کے طور پر یہاں رعایتِ فاصلہ کہتے ہیں تو چونکہ کیونکہ سجع کا اطلاق یہاں نہیں کیا گیا کیونکہ سجع کبوتر کی آواز کو کہتے ہیں، تو اس کا اطلاق یہاں پر کرنا مناسب نہیں تھا، اس لیے مفسرین اس کے لیے لفظ کیا استعمال فرماتے ہیں؟ فاصلہ کا لفظ استعمال فرماتے ہیں، جس کی جمع فواصل آتی ہے۔ تو یہاں پر دیکھیے، کیونکہ اس سے پہلے کیا آیا؟ محضرون، اس آیت کا اختتام محضرون پر ہوا، اگلی آیت کا اختتام تصبحون پر ہوا، تو اس کا اختتام کس پر ہو رہا ہے؟ تظهرون پر، تو دیکھیے وزن ایک جیسا ہے، اگر عشيا کو مؤخر کر دیا جاتا تو پھر وزن ایک جیسا نہ رہتا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فسبحان الله، اللہ کی پاکی بیان کرو، اور آگے آیا ولله الحمد، اللہ ہی کے لیے حمد ہے، اللہ، تو پہلے پاکی کا ذکر آیا اور پھر حمد کا ذکر آیا۔ پاکی کہتے ہیں کہ اللہ سے ان صفات کی نفی کرنا جو اللہ کے لائق نہیں، ان صفات کی اللہ سے نفی کرنا جو اللہ کے لائق نہیں، اللہ مخلوقات میں سے کسی کی طرح نہیں ہے۔ تو اور حمد، کہ اللہ کے لیے جو صفاتِ کمال ہیں ان کو ثابت کرنا، ان کو تسلیم کرنا، ان کو ذکر کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ حمد کہلاتا ہے۔ تو پہلے پاکی کو ذکر کیا گیا اور پھر حمد کو بعد میں ذکر کیا گیا۔ نکتہ اس میں یہ ہے کہ ایک ہوتا ہے تخلیہ خاء کے ساتھ، تخلیہ خالی کرنا اور پھر ایک دوسرا لفظ ہے تحلیہ یعنی زیور پہنانا، مزین کرنا۔ تو پہلے تخلیہ ہوتا ہے پھر اس کے بعد تحلیہ ہوتا ہے۔ آپ کمرے کے اندر سفیدی کرنے لگے ہیں تو یہ سفیدی ہے تحلیہ، مزین کر رہے ہیں کمرے کو، لیکن اس سے پہلے تخلیہ کرنا پڑے گا، دیواروں کی صفائی کرنا پڑے گی، پھر اس کے بعد کیا کریں گے اس پر؟ سفیدی۔ تو تخلیہ پہلے ہوتا ہے اور تحلیہ بعد میں، اسی لیے پاکی کو پہلے ذکر کیا گیا اور حمد کو بعد میں ذکر کیا گیا اور یہی نکتہ ہے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کے اندر، پہلے ہے لَا إِلٰهَ سب باقی معبودوں کی سب کی نفی کر دی گئی، تخلیہ آ گیا، اس کے بعد اللہ کے لیے الوہیت کو ثابت کر دیا گیا۔ نکتہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہٰذا اسی وجہ سے سبحان اللہ کو حمد پر مقدم کیا گیا بھئی۔ فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ، پس اللہ کی پاکی بیان کرو یعنی نماز پڑھو حِينَ تُمْسُونَ جس وقت تم شام کرو وَحِينَ تُصْبِحُونَ اور جس وقت تم صبح کرو۔ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں، وَعَشِيًّا، اور سہ پہر کے وقت، وَحِينَ تُظْهِرُونَ، اور جس وقت تم ظہر کرو۔ عَشِيًّا کا عطف حِينَ تُمْسُونَ پر ہے، حِينَ تُمْسُونَ یا حِينَ تُصْبِحُونَ جس پر بھی کر لیں ٹھیک ہے۔ درمیان میں وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یہ جملہ معترضہ آیا بھئی۔ جملہ معترضہ وہ جس کا ماقبل و مابعد سے ربط نہ ہو۔ تو معطوف علیہ اور معطوف کے درمیان یہ آیا بھئی، عَشِيًّا کا عطف کس پر تھا؟ مثلاً حِينَ تُصْبِحُونَ پر، تو درمیان میں یہ آ گیا وَلَهُ الْحَمْدُ تو یہ کیا کہلائے گا؟ جملہ معترضہ۔ جیسے مثلاً آپ بھی دیکھتے رہتے ہیں اور کتابوں میں، ایک بات چل رہی ہوتی ہے جب کسی بزرگ کا نام آتا ہے تو ساتھ آ جاتا ہے رحمہ اللہ، یہ رحمہ اللہ دعا ہے یہ جملہ معترضہ ہے درمیان میں، ماقبل اور مابعد سے اس کا تعلق نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وہ اللہ نکالتا ہے زندہ کو مِنَ الْمَيِّتِ مردہ سے، وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا اور زندہ کرتا ہے زمین کو بعد اس کے مر جانے کے، وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُونَ اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے، یعنی قبروں سے تم بھی اسی طرح نکالے جاؤ گے جس طرح اللہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد پھر زندہ کر دیتے ہیں۔ بھئی زندہ کو مردہ سے نکالتے ہیں، زندہ کو کس سے؟ مردہ سے، جیسے نطفے سے انسان کی پیدائش ہوتی ہے، نطفے سے تو نطفہ اس میں بے جان چیز اس سے اللہ نے انسان کو پیدا فرما دیا اور اسی طرح انڈے سے بچے نکلتے ہیں پیدا ہوتے ہیں، تو انڈے سے پرندے کا پیدا ہونا دیکھیے انڈا بے جان چیز ہے اس سے کیا پیدا ہو گیا؟ کیا بن گیا؟ پرندے کا بچہ اس میں بن گیا اور اسی طرح يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ، مردہ یہ کیا ہے؟ مردہ کو نکالتے ہیں کس سے؟ زندہ سے۔ انسان زندہ ہے اس سے نطفہ نکالتے ہیں اور اسی طرح پرندہ زندہ ہے اس سے انڈا نکلتا ہے مردہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی جس میں جان نہیں۔ تو يُخْرِجُ تو نکالتے ہیں اللہ زندہ کو مردہ سے نیز اسی طرح زندہ سے نکالتے ہیں زندہ کو نکالتے ہیں کس سے؟ مردہ سے، یعنی کافر سے مسلمان پیدا ہوتا ہے، ماں باپ مثلاً کافر تھے بیٹا کیا ہوا؟ مسلمان، تو ان کی مثال مردوں کی طرح ہی ہے اور مسلمان کی مثال زندہ کی طرح۔ تو يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ اللہ نکالتے ہیں زندہ کو مردہ سے وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ اور اللہ نکالتے ہیں مردہ کو زندہ میں سے وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا اور زندہ کرتے ہیں زمین کو اس کے مر جانے کے بعد وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُونَ اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے، یعنی کہاں سے نکالے جاؤ گے؟ قبروں سے نکالے جاؤ گے قیامت کے دن۔ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ، اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں پیدا کیا مِّن تُرَابٍ مٹی سے، تمہیں کس سے پیدا کیا؟ مٹی سے یعنی حضرت آدم علیہ السلام ان کو مٹی سے پیدا کیا، ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ پھر اب تم انسان ہو پھیلے ہوئے، پھر اب تم انسان ہو ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ پھر اچانک إِذَا مفاجاتیہ ہے، پھر اچانک تم انسان بشر انسان کو کہتے ہیں آدمی کو کہتے ہیں، پھر اب تم آدمی ہو پھیلے ہوئے۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش مٹی سے ہوئی اور اب آپ دیکھ لیں یہ انسان پوری دنیا کے اندر پھیلا ہوا ہے اور خوب ان کی تعداد بڑھ گئی ہے بھئی۔ تو وَمِنْ آيَاتِهِ اور اللہ کی نشانیوں میں سے أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ کہ تم کو پیدا کیا مٹی سے ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ پھر اب تم انسان ہو پھیلے ہوئے۔ وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا، اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ پیدا کیا تمہارے لیے مِّنْ أَنفُسِكُمْ تمہارے ہی نفس سے، تمہارے ہی نفسوں سے أَزْوَاجًا جوڑے، اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ پیدا فرمائے تمہارے لیے تمہارے ہی نفسوں میں سے جوڑے، یعنی مرد کے لیے عورت کو بنایا اور عورت کے لیے مرد، تو تمہارے ہی نفسوں سے تمہارے لیے جوڑے بنائے، حوا جو تھیں ان کی پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے ہوئی بھئی، حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے ان کی پیدائش ہوئی، تو یہ معنی ہے کہ اس کے پیدا کیا تمہارے ہی نفسوں سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے، لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا تاکہ تم سکون پاؤ ان کے پاس، وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً اور کر دی تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی، یعنی رکھ دی تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی رکھ دی۔ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری نفسوں میں سے یا تم یوں ترجمہ کر لیں مِّنْ أَنفُسِكُمْ تمہاری ہی جنس میں سے تمہارے لیے کیا بنا دیے؟ جوڑے بنا دیے، مرد کے لیے عورت اور عورت کے لیے مرد، لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا تاکہ تم اس کے ذریعے کیا پاؤ؟ سکون پاؤ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نکاح ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان میاں اور بیوی کے درمیان محبت پیدا فرما دیتے ہیں، اگرچہ پہلے کبھی دیکھا بھی نہ ہو، کبھی ملاقات ہی نہیں ہوئی دیکھا بھی نہیں ہے، لیکن یہ اللہ کی عظیم رحمت ہے کہ ان دونوں کے درمیان کیا پیدا فرما دیتے ہیں؟ محبت پیدا فرما دیتے ہیں۔ محبت پیدا فرما دیتے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے سکون پاتے ہیں بھئی، لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا تاکہ تم سکون پاؤ اس سے، وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً اور رکھ دی تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی۔ إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ، بے شک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ایسی قوم کے لیے يَتَفَكَّرُونَ جو غور و فکر کرتے ہیں بھئی، نشانیاں ایسے لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے پیدا کرنا آسمانوں کا اور زمین کا، وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ اور مختلف ہونا تمہاری زبانوں کا اور تمہارے رنگوں کا۔ تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف ہونا اور زمین اور آسمان کا پیدا کرنا یہ سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہے بھئی۔ بھئی دیکھتے ہیں لوگوں کی مختلف زبانیں ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کوئی اردو بولنے والا ہے، کوئی فارسی بولنے والا ہے، کوئی عربی بولنے والا ہے، کوئی پشتو بولنے والا ہے، کوئی سرائیکی بولنے والا ہے، کوئی چترالی زبان ہے، کوئی ہندکو ہے، مختلف زبانیں دنیا بھر کے اندر بھئی، بہت سی زبانیں اللہ نے بنا دیں، تو یہ زبانوں کا مختلف ہونا اسی طرح رنگوں کا مختلف ہونا، کسی کا رنگ سفید ہے، کسی کا کالا ہے، کسی کا متوسط ہے، مختلف قسم کے رنگ اللہ نے بنا دیے اور عجیب عجیب بھئی، آج تک جتنے لوگ پیدا ہو رہے ہیں سیکڑوں، لاکھوں، کروڑوں، اربوں لوگ پیدا ہوئے اور پیدا ہو رہے ہیں، لیکن کوئی بھی دو افراد ایسے نہیں جن کی جن کا رنگ اور رنگ، چہرہ وغیرہ، لب و لہجہ ہر چیز ایک دوسرے جیسا ہو، دونوں میں ہمیشہ فرق ہوا کرتا ہے بھئی۔ حتیٰ کہ جڑواں بھئی یا جڑواں بہنیں بھی ہوں، ان میں بھی کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے، والدین ان کو چاہے اور کوئی نہ پہچانے تو والدین پہچان لیتے ہیں بھئی۔ تو دیکھیے کتنا بڑا اللہ کا خزانہ ہے جس میں آج تک کمی نہیں آئی، کوئی دو انسان ایک جیسے نہیں ہیں، ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے بھئی، اور نسل کے بعد نئی نسلیں آ رہی ہیں، لیکن ہر ایک رنگ میں بھی فرق ہے اور لب و لہجے کے اندر بھی فرق ہے، بات چیت زبانوں کے اندر بھی فرق وغیرہ، یہ وہ عظیم خزانہ جس میں آج تک کمی نہیں آئی، یہ اسی طرح جاری و ساری ہے۔ تو اللہ فرما رہے ہیں وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے زمین اور آسمان کا پیدا کرنا وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ اور تمہارے رنگوں اور زبانوں کا مختلف ہونا، إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ، بے شک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لیے، علم رکھنے والوں کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ زبانوں کا فرق وغیرہ یہ علم والے ہی جانتے ہیں بھئی۔ وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ تمہارا سونا رات اور دن میں، تمہارا نیند کرنا رات اور دن میں، وَابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ اور تمہارا تلاش کرنا اللہ کے فضل میں سے۔ اللہ کے فضل میں سے تلاش کرنا یعنی روزی تلاش کرنا، رات کو انسان کیا کرتا ہے؟ نیند پوری کرتا ہے اور دن میں روزی تلاش کرتا ہے، تو رات تو ہے اصل کے اندر سونے کے لیے اور دن ہے روزی تلاش کرنے کے لیے، لیکن یہ دونوں کام دن میں بھی ہوتے ہیں اور رات میں بھی ہوتے ہیں، رات کو بھی انسان سوتا ہے، دن میں بھی دوپہر کو قیلولہ وغیرہ کرتا ہے، اور دن میں اکثر لوگ روزی تلاش کرتے ہیں، لیکن کچھ لوگ کیا کرتے ہیں؟ رات کو بھی کام مختلف کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تمہارا سونا رات کو اور دن کو وَابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ اور تمہارا تلاش کرنا اللہ کے فضل میں سے، إِنَّ فِي ذٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ، بے شک اس کے اندر البتہ نشانیاں ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو سننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، ہٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ اَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔