اچھا لکھئیے بھئی۔ چند ضروری باتیں ہیں بھئی، وہ لکھ لیجئے۔ تمام طلباء لکھیں بھئی، کوئی ویسے بیٹھا نہ ہو۔ اچھا یہ کتاب جو ہم پڑھنے لگے ہیں، شروع کرنے والے ہیں بھئی، یہ علم فقہ کے اندر ہے، تو علم فقہ کی تعریف لکھ لیجئے۔ هو علم بالأحكام الشرعية الفرعية هو علم بالأحكام الشرعية الفرعية هو علم بالأحكام الشرعية الفرعية من أدلتها من أدلتها التفصيلية. جی تعریف لکھ لی بھئی؟ هو علم بالأحكام الشرعية الفرعية من أدلتها التفصيلية، التفصيلية. یاد رکھو احکام شرعیہ فرعیہ وہ ہیں جن کا تعلق عمل سے ہوتا ہے۔ وہ ہیں جن کا تعلق عمل سے ہوتا ہے۔ احکام فرعیہ وہ ہیں جن کا تعلق عمل سے ہوتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کچھ احکام وہ ہیں جن کا تعلق عقیدے سے ہوتا ہے بھئی، عقیدے سے ہوتا ہے۔ انہیں احکام اصلیہ کہتے ہیں، انہیں احکام اصلیہ کہتے ہیں۔ مثلاً دیکھیے بھئی! خدا ایک ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغمبر ہیں، اللہ کے پیغمبر ہیں، جنت ہے، جہنم ہے، قیامت قائم ہو گی۔ ان سب کا تعلق عقیدے سے ہے، کوئی عمل کرنا پڑتا ہے بھئی؟ نہیں، بس عقیدہ یہ رکھنا پڑتا ہے بھئی، عقیدے سے تعلق ہے کہ اللہ ایک ہے وغیرہ۔ تو یہ احکام اصلیہ ہیں۔ اور باقی جن کا تعلق فعل عمل سے ہو وہ احکام فرعیہ کہلاتے ہیں؛ جیسے نماز کا پڑھنا، زکوۃ کا ادا کرنا وغیرہ، دیکھو اس میں عمل کرنا پڑتا ہے، یہ احکام فرعیہ ہیں۔ تو اس علم کے اندر ہم احکام فرعیہ کے بارے میں پڑھیں گے بھئی، جن کا تعلق عمل سے ہے۔ جبکہ احکام اصلیہ سے بحث، یا یوں کہیے، عقیدے کی جو بحث ہے وہ علم کلام میں ہوتی ہے۔ عقیدے کی بحث علم کلام میں ہوتی ہے، جس کی تفصیل آپ شرح عقائد میں پڑھیں گے بھئی، انشاءاللہ۔ درجہ سادِسَہ میں پڑھائی جاتی ہے آج کل بھئی۔ درجہ سادسہ میں شرح عقائد بھئی، اس کے اندر عقیدے کی بحث ہوتی ہے، اسے علم کلام کہتے ہیں۔ اور یہ عمل سے متعلق ہے، اسے علم فقہ کہتے ہیں۔ اور ادلہ تفصیلیہ سے مراد ادلہ اربعہ ہیں۔ اور ادلہ تفصیلیہ سے مراد ادلہ اربعہ ہیں؛ یعنی قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ یعنی قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس میں ہر ہر مسئلے کی دلیل قرآن، حدیث، اجماع، قیاس سے آئے گی۔ مثلاً نماز فرض ہے، یا سنت ہے، یا مستحب ہے، اس کے لیے دلیل لائیں گے ہم قرآن اور حدیث وغیرہ سے۔ تو قرآن میں آتا ہے: وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ، اس سے کیا پتہ چلا کہ نماز فرض ہے، فرض ہے۔ تو ہر ہر مسئلے کی دلیلیں ذکر ہوتی ہیں، انہی چار میں سے ہوں گی بھئی وہ۔ بھئی جو چھینکنے والا ہو الحمد للہ بلند آواز سے کہا کرے اور باقی طلباء اس کو جواب دیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ سنت ہے اور تقریباً علماء کے ہاں بھی اب تو تقریباً متروک ہو چکی ہے بھئی۔ تو یہاں درسگاہ میں، میرے سبق میں خصوصاً جو چھینکے بلند آواز سے الحمد للہ کہے، سارے سنیں اور پھر سارے جواب دیں۔ اور اپنے اپنے کمرے کے اندر بھی، اپنے گھروں کے اندر بھی اس کو زندہ کریں بھئی۔ جی، تو یہ علم فقہ کی تعریف میں نے لکھوائی۔ تعریف سمجھ آ گئی بھئی؟ هو علم بالأحكام الشرعية الفرعية، وہ جاننا ہے کس چیز کا؟ احکام شرعیہ فرعیہ، یعنی وہ احکام جن کا تعلق عمل سے ہوتا ہے۔ اور کس چیز سے جاننا ہے؟ من أدلتها التفصيلية، ادلہ تفصیلیہ یعنی قرآن، حدیث، اجماع، قیاس سے ان کی دلیلوں کے ساتھ۔ اور اس علم کا موضوع ہے: فعل مکلف۔ اور اس علم کا موضوع ہے: فعل مکلف، یعنی مکلف آدمی کا فعل بھئی، مکلف آدمی کا فعل۔ اور غرض و غایت ہے اس کی سعادت دارین، سعادت دارین، دنیا اور آخرت کی کامیابی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو آخرت کا لفظ مؤنث ہے مولانا، کیونکہ اس کا موصوف جو ہے وہ مؤنث ہے، موصوفِ محذوف، أَيِ الدَّارُ الْآخِرَةُ، اس لیے اس کو آخرت کہتے ہیں۔ دار مؤنث سماعی ہے تو اس کی صفت الآخرة بھی مؤنث لائی گئی۔ احوالِ مصنف بھئی، احوالِ مصنف۔ شرح وقایہ کے مصنف کا نام شرح وقایہ کے مصنف کا نام عبید اللہ عبید اللہ ابن مسعود عبید اللہ ابن مسعود ابن محمود ابن محمود ابن احمد ابن احمد ہے۔ لکھ لیا بھئی نام؟ تو مصنف کا نام ہے عبید اللہ بھئی دیکھا، اور ان کے والد کا کیا نام ہوا؟ مسعود، اور ان کے دادا کا نام؟ محمود، اور پردادا کا نام؟ احمد۔ اور مصنف صدر الشریعہ کے لقب سے مشہور تھے بھئی۔ یعنی علم و فضل میں اتنا بلند مقام رکھتے تھے بھئی کہ اس زمانے کے علماء نے انہیں صدر الشریعہ کا لقب دیا بھئی، صدر الشریعہ کے نام سے مشہور تھے۔ اور آپ کے دادا تاج الشریعہ کے لقب سے مشہور تھے۔ اور آپ کے دادا تاج الشریعہ کے لقب سے مشہور تھے۔ اسی طرح آپ کے پردادا بھی صدر الشریعہ کے لقب سے مشہور تھے، صدر الشریعہ کے لقب سے مشہور تھے۔ تو تاج الشریعہ کا نام کیا ہے بھئی؟ تاج الشریعہ، تاج الشریعہ کون ہیں ان کے؟ دادا، ان کا کیا نام بتایا میں نے؟ محمود۔ اور صدر الشریعہ جو ہیں ان کے؟ پردادا، ان کا نام؟ احمد، احمد ہوا بھئی احمد۔ تو پردادا کا لقب بھی صدر الشریعہ ہوا اور ان کا لقب بھی صدر الشریعہ، تو دونوں میں فرق کرنے کے لیے پھر ان کو صدر الشریعہ اصغر کہتے ہیں اور ان کو صدر الشریعہ اکبر کہتے ہیں علماء بھئی۔ مصنف کو کیا کہتے ہیں؟ صدر الشریعہ اصغر کے نام سے ذکر کرتے ہیں، اور پردادا کو صدر الشریعہ اکبر کے لقب سے۔ آپ صحابی رسول، آپ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم عبادہ بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ عبادہ بن الصامت، ص کے ساتھ، عبادہ بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بہت بڑے عالم تھے۔ آپ بہت بڑے عالم تھے۔ علمِ حدیث، علمِ حدیث، علمِ فقہ، علمِ تفسیر، علمِ اصولِ فقہ، علمِ نحو و لغت، علمِ نحو و لغت، علمِ ادب، اور علمِ منطق و فلسفہ کے بڑے ماہر تھے۔ کیسا عظیم خاندان تھا مولانا دیکھیے کہ علم و فضل نسل در نسل منتقل ہوتا چلا گیا بھئی، علم و فضل نسل در نسل منتقل ہوتا چلا گیا۔ دیکھو یہ صدر الشریعہ، دادا کو کتنے بڑے عالم تھے کہ علماء نے کیا لقب دیا؟ تاج الشریعہ، اور پردادا کتنے بڑے عالم کہ ان کو بھی کیا لقب دیا اس زمانے کے علماء نے؟ صدر الشریعہ، حالانکہ وہ زمانہ جو نبوت کے زمانے کے انتہائی قریب تھا اور بڑے بڑے علماء موجود، تو کتنا علم ہوگا، کتنا مقام ہوگا کہ اس زمانے کے علماء نے یہ لقب دے رہے ہیں بھئی۔ اور آپ کی وفات ہوئی ہے 747 ہجری میں۔ آپ کی وفات ہوئی 747 ہجری میں۔ آپ کی کتاب شرح وقایہ کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا مقبولیت نصیب فرمائی۔ شرح وقایہ کو اللہ نے بے انتہا مقبولیت نصیب فرمائی، اور سینکڑوں سالوں سے علماء اس کی درس و تدریس میں مشغول ہیں، سینکڑوں سالوں سے علماء اس کی درس و تدریس میں مشغول ہیں، جس سے مصنف کے عند اللہ مقبول ہونے کا پتہ چلتا ہے، جس سے مصنف کے عند اللہ مقبول ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ علمِ اصولِ فقہ میں، علمِ اصولِ فقہ میں آپ نے تنقیح متن لکھا، تنقیح ق دو نقطوں والا ح آخر میں، تنقیح، تنقیح متن لکھا۔ اور پھر اس کی شرح توضیح بھی آپ ہی نے لکھی، اور پھر اس کی شرح توضیح بھی آپ ہی نے لکھی، توضیح ض کے ساتھ بھئی۔ جس کی شرح علامہ تفتازانی نے لکھی ہے تلویح کے نام سے، جس کی شرح علامہ تفتازانی نے تلویح کے نام سے لکھی ہے۔ آپ کی یہ کتاب بھی داخلِ درس ہے، آپ کی یہ کتاب بھی داخلِ درس ہے، اور اصولِ فقہِ حنفی کے اندر عظیم مقام رکھتی ہے، اور اصولِ فقہِ حنفی کے اندر یہ کتاب عظیم مقام رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کی بہت سی تصانیف ہیں، اس کے علاوہ بھی آپ کی بہت سی تصانیف ہیں۔ یاد رکھو، یہ شرح وقایہ میں وقایہ متن ہے اور پھر شرح ساتھ کرتے ہیں۔ تو یہ جو وقایہ متن ہے وہ آپ کے دادا تاج الشریعہ کا لکھا ہوا ہے، وقایہ متن آپ کے دادا تاج الشریعہ کا لکھا ہوا ہے، جس کی آپ شرح کرتے ہیں، جس کی آپ شرح کرتے ہیں۔ یرحمک اللہ۔ آپ نے وقایہ متن کا اختصار بھی لکھا، آپ نے وقایہ متن کا اختصار بھی لکھا، جسے نقایہ کہتے ہیں، نقایہ جس کا نام نقایہ رکھا ق دو نقطوں والا بھئی، جس کا نام نقایہ رکھا، اسے عمدہ بھی کہتے ہیں۔ اختصار بھی لکھا، آپ نے وقایہ متن کا اختصار لکھا جس کا نام نقایہ رکھا، اسے عمدہ بھی کہتے ہیں۔ آپ کا وہی زمانہ ہے، آگے تو ایک آدھ واقعات ویسے میں آپ کو سنا دیتا ہوں بھئی لکھنے میں وقت لگے گا، اشارات بے شک لکھ لیں آپ۔ تو آپ کا وہی زمانہ ہے بھئی جو مشہور منطقی قطب الدین رازی کا ہے۔ قطب الدین رازی، ز کے ساتھ۔ تو قطب الدین رازی ہرات میں رہتے تھے اور یہ رَے شہر کے اندر رہتے تھے، اور اس زمانے کے اندر علماء کے اندر بھئی مناظرے ہوا کرتے تھے۔ بڑے بڑے علمی مناظرے ہوتے جس میں جیتنے والے عالم کی عزت عوام کی نظروں میں، علماء کی نظروں میں بڑی بڑھ جاتی بھئی۔ تو قطب الدین رازی منطق کے اور فلسفے کے بڑے ماہر تھے بھئی۔ انہوں نے رَے میں آپ کی شہرت سنی تو ارادہ کیا کہ آپ سے مناظرہ کرتے ہیں اور اگر آپ کو شکست دے دی تو پھر تو میرا ہر طرف نام ہو جائے گا۔ چنانچہ اپنے ایک شاگرد مبارک شاہ کو بھیجا بھئی، ان کے شاگرد تھے بہت بڑے منطقی بھئی، بہت بڑے عالم، مبارک شاہ۔ ان کو بھیجا کہ جاؤ دیکھو ان کے درس میں بیٹھو، سنو ان کو اور پتہ چلاؤ بھئی ان کی کیا حالت ہے، کس فن میں ذرا یہ کمزور ہیں، مجھے آ کر بتلاؤ پھر میں ان سے مناظرہ کرتا ہوں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کو بھیجا۔ مبارک شاہ بہت بڑے منطقی تھے بھئی، غلام تھے، ان کو قطب الدین نے خریدا تھا اور ان کی خود ہی پرورش کی تھی اور علم وغیرہ ان کو سکھائے تھے، بعد میں آزاد کیا۔ یہ وہی زمانہ ہے مولانا جب میر سید الشریف سند جو نحو میر والے ہیں وہ بھی اس زمانے میں تھے بھئی۔ علامہ تفتازانی بہت بڑے عالم گزرے ہیں وہ بھی اسی زمانے میں۔ تو مبارک شاہ بھئی بہت بڑے عالم تھے، میر سید الشریف سند قطب الدین رازی کے پاس آئے بھئی پڑھنے کے لیے۔ قطب الدین رازی اس وقت تک، اس وقت بڑے ضعیف ہو چکے تھے۔ میر سید الشریف سند کی جانچ پڑتال پر رکھا کہ کس قسم کا طالب علم ہے، ذہانت وغیرہ کا کیا حال ہے، تو بڑے حیران ہوئے کہ یہ تو بڑا ذہین و فطین طالب علم ہے۔ تو اس سے کہا بھئی میں تو اس وقت بوڑھا ہو چکا ہوں، اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں کہ تمہیں اچھی طرح پڑھا نہیں سکوں گا، میرا شاگرد ہے فلاں شہر کے اندر مبارک شاہ بھئی، ان کا بڑا شہرہ تھا ان کا بھی، ان کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں پڑھائیں گے بھئی۔ چنانچہ ایک سفارشی رقعہ بھی لکھ دیا ان کے نام۔ میر سید الشریف سند گئے بھئی، مبارک شاہ کے پاس حاضر ہوئے کہ میں آپ کے پاس پڑھنا چاہتا ہوں، رقعہ وغیرہ بھی پیش کیا۔ تو انہوں نے درس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی کہ ہاں ٹھیک ہے، میرے درس میں بیٹھ سکتے ہو۔ لیکن بولنے کی اجازت نہیں بھئی، پوچھنے کی اجازت نہیں، خاموشی سے بیٹھ کر سنو۔ ہر ایک کو پوچھنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ تو مبارک شاہ بھئی بڑے منطقی، بڑے بڑے علماء ان کے پاس جاتے تھے پڑھنے کے لیے۔ تو میر سید الشریف سند کو بولنے، پوچھنے وغیرہ کی اجازت نہیں، بس صرف سماع کر سکتے ہو اور کچھ نہیں تم کر سکتے بھئی۔ ایک رات مبارک شاہ گھر سے نکلے، ساتھ ہی مدرسے کے طلباء وغیرہ کے کمرے ہوں گے، کہ دیکھیں بھئی کیا حال ہے طلباء کیا کر رہے ہیں ذرا۔ تو گزرتے گزرتے میر سید الشریف سند کے کمرے کے پاس پہنچے تو دیکھا اندر وہ اونچی آواز سے تکرار کر رہے ہیں بھئی۔ اور عجیب انداز تھا تکرار کا، تکرار کر رہے ہیں کہتے ہیں بھئی: اس مسئلے کی مصنفِ کتاب نے یہ تقریر کی ہے، اور شارح نے اس کی یہ تقریر کی ہے، اور میرے استادِ محترم نے اس کی یہ تقریر کی ہے، اور میں اس کی یہ تقریر کرتا ہوں بھئی۔ عجیب انداز تھا ان کا۔ مبارک شاہ نے سنا بھئی، اللہ نے اتنا پیارا شاگرد دے دیا ہے، اتنے خوش ہوئے کہ وہاں مدرسے کے صحن میں رقص شروع کر دیا بھئی خوشی کی وجہ سے۔ تو استاد کو تو اچھا شاگرد مل جائے بھئی یہ تو بڑی اللہ کی نعمت ہے۔ میں بھی ہمیشہ یہی دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نیک اور متقی اور محنتی طلباء مجھے عطا فرمائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو آپ کو بڑی دعاؤں کے بعد یہاں بلوایا ہے بھئی آپ سب کو۔ اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے بھئی۔ آمین۔ تو یہ میر سید الشریف سند، یہ مبارک شاہ بھئی، تو ان کو بھئی قطب الدین رازی نے بھیجا کہ جا کر پتہ کرو کہ یہ صدر الشریعہ منطق و فلسفے میں کیا حال ہے ان کا تاکہ پھر میں ان سے مقابلے کی تیاری کروں بھئی مناظرے کی؟ اتفاق سے مبارک شاہ جب پہنچے صدر الشریعہ کے درس میں، بڑے بڑے علماء حاضر ہوتے تھے، دور دراز سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے ان کے درس میں حاضر ہوتے تھے، بڑا مجمع ہوتا تھا۔ تو اتفاق سے ان دنوں وہ منطق اور فلسفے ہی کا درس دے رہے تھے بھئی۔ اور ان کے درس کا عجیب انداز تھا بھئی، منطق اور فلسفے کے اندر پہلے جو بڑے ائمہ گزرے تھے بھئی ان کے قول کو ذکر کرتے بھئی، ان کا طریقہ یہ تھا: فلاں مسئلے کے اندر اس منطق کے فلاں امام یوں فرماتے ہیں، اور ان کے اس قول میں یہ خرابی لازم آتی ہے، یہ یہ اعتراضات اس پر واقع ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد جو آنے والے دوسرے علماء فلاں عالم اس مسئلے میں یوں فرماتے ہیں، اور ان کے قول میں یہ خرابی اس پر یہ یہ اعتراض ہوتے ہیں۔ اس کے بعد والے فلاں عالم جو بڑے گزرے ہیں وہ اس مسئلے کے بارے میں یوں فرماتے ہیں اور ان کے قول پہ یہ یہ خرابی ہے، یہ یہ اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ اور میں اس مسئلے کے اندر یوں کہتا ہوں اور میرے قول پر ان میں سے کوئی ایک اعتراض بھی نہیں پڑتا۔ تو مبارک شاہ نے وہ درس سنا تو حیران رہ گیا، استاد کو خط لکھا کہ دیکھیے! ان کے مقابلے کو ہرگز نہ آئیں، یہ شخص تو آگ کا شعلہ ہے، اگر آپ مقابلے پر آ گئے تو بڑی شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔ تو انہوں نے پھر ارادہ ملتوی کر دیا۔ تو عجیب ان کو اللہ نے علم دیا تھا بھئی۔ اور بڑے متقی اور نیک انسان بھئی، جیسے میں نے آپ کو بتلایا، یہ کتاب سینکڑوں سال سے علماء پڑھ رہے ہیں، پڑھا رہے ہیں، اس سے نفع حاصل کر رہے ہیں، معلوم ہوا یہ کتاب عند اللہ مقبول ہے اور مصنف بھی اللہ کے محبوب بندوں میں سے اور اولیاء اللہ میں سے تھے، بڑے اولیاء اللہ۔ تو یہ تھے مولانا مصنف کے کچھ مختصر احوال۔ اور فقہ بھئی، فقہ کی کتاب ہم شروع کر رہے ہیں، تو آپ کو صاحبین، شیخین، طرفین کی اصطلاح کا تو علم ہوگا ہی؟ جی؟ دیکھیے تین ہیں، یہاں تین نام ہیں، ہمارے تین ائمہ ہیں: امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ، اور امام محمد رحمہ اللہ۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ دونوں کے استاد ہیں بھئی، امام ابو یوسف کے بھی استاد ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ کے بھی استاد ہیں۔ اور امام محمد رحمہ اللہ دونوں کے شاگرد ہیں، انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی فائدہ حاصل کیا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی، وہ بھی ان کے استاد ہیں، ان سے بھی درس۔ تو ان میں طرف، دو طرفیں بن گئیں بھئی، طرفِ اعلیٰ کیا ہوئی؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہ وہ دونوں کے استاد ہیں، اور طرفِ ادنیٰ کون سی ہوئی؟ امام محمد رحمہ اللہ کہ وہ دونوں کے شاگرد ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ دونوں کے شاگرد۔ تو لہذا جب شیخین کا لفظ آئے، تو شیخین سے کون مراد ہیں؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ، کیونکہ دونوں شیخ ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے۔ اور جب صاحبین کا ذکر آئے، تو اس سے مراد امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ، کیونکہ یہ دونوں صاحب ہیں، ساتھی ہیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے پڑھنے میں بھئی۔ اور جب طرفین کا ذکر آئے، تو اس سے مراد امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ، کیونکہ طرفِ اعلیٰ بھی آ گئی اور طرفِ ادنیٰ بھی آ گئی۔ اچھا لیجیے بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔